شہر کلکتہ سے تقریباً سینتالیس کلومیٹر کے فاصلے پر ایک قصباتی علاقہ ہے حاجی نگر / مارواڑی کل۔ یہ حلقہ نئی ہٹی میونسی پلٹی کے ماتحت ہے۔ اس جگہ کی انفرادی شناخت مجذوب صوفی حضرت یوسف جمال شاہ المعروف چشمہ بابا کی نسبت سے طشت از بام ہے۔ حاجی نگر/ مارواڑی کل حلقے میں تعلیم اور تَعَلّۡم کے حوالے سے ڈاکٹر ناصرؔ علی انصاری امینی ؔ کو کئی معاملے میں اولیت حاصل ہے۔ سرزمین ِ حاجی نگر اردو ادب میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کر نے والی پہلی شخصیت ڈاکٹر ناصرؔ علی نصاری ہیں ۔ پہلا گورنمنٹ جاب حاصل کرنے والوں میں بھی موصوف کا نام سرفہرست ہے۔ آپ حاجی نگر اور مارواڑی کل کی اردو آبادی کے پہلے تعلیم یافتہ شخص ہیں جو کسی گورنمنٹ ہائی اسکول میں مدرسِ اعلیٰ کے عہدے پر فائز ہوئے۔ لہٰذا ڈاکٹر ناصرؔ علی انصاری کا نام مغربی بنگال کی تعلیمی و علمی افق پر نمایاں و محترم ہے۔ کسی شخص کا نام لینے سے اس کی شخصیت تمام تر کارناموں کے ساتھ سامنے آ جاتی ہے، یہ اس کا تعارف ہوتا ہے۔ معاملہ اس کے برعکس ہونے پر اس شخص کو تعارف کا محتاج سمجھا جاتا ہے۔ کام کاج سے پہچانا جانے والا شخص امتیازی حیثیت کا حامل ہوتا ہے، خواہ اس کا نام کوئی بھی ہو۔ اس تناظر میں اگر ڈاکٹر ناصرؔ علی انصاری کی شخصیت کا جائزہ لیں تو ہم پاتے ہیں کہ ان کی حیثیت بھی امتیازی ہے اور یہ امتیازی حیثیت کسی واحد شعبہ کا مردِ میدان ہونے کے سبب نہیں بلکہ بیک وقت کئی شعبوں میں امتیاز حاصل ہونے کے باعث ہے۔ آپ محنتی مدرس، منتظم، معلم، مصنف، مدرسِ اعلیٰ، مدیر، ادیب اور عالم بھی تھے۔ غرض کہ ڈاکٹر ناصرؔ علی انصاری میں ایک سے زائد آدمی کی موجودگی ہے۔ لہٰذ انہیں کئی بار ہی نہیں، کئی زاویوں سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔30ستمبر 1953ئ کو تحصیل بانس ڈیہہ ضلع بلیا، اتر پردیش میں امانت اللہ انصاری اور بشیرن بی بی کے گھر ایک ننھے بچہ نے آنکھیں کھولیں۔ اس کا نام ناصرؔ علی انصاری رکھا گیا۔ والدین نے بڑی شفقت و محبت سے بچے کی پرورش و پرداخت کی۔ ناصرؔ علی انصاری نے اپنی والدہ سے حروف کی پہچان سیکھی اور اردو کا قاعدہ پڑھا اور پھر ماں کی دعاؤں کی برکتوں سے یہاں تک پہنچے کہ وہ کتنوں کے ماں باپ بن گئے۔ ماں باپ ان معنی میں کہ استاذ کا شمار بھی والدین میں ہوتا ہے۔ واضح ہو کہ آٹھ سالہ ناصرؔ علی انصاری نے کچی عمر میں والدین کے ساتھ اتر پردیش سے ہجرت کرکے ریاست مغربی بنگال کے ضلع شمالی 24 پرگنہ کے تھانہ نئی ہٹی کے حاجی نگر میں مستقل سکونت اختیار کی۔ بعد ازیں سال 1963ئ میں اسلامیہ فری پرائمری اسکول میں درجہ چہارم میں ناصرؔ علی انصاری کا داخلہ ہوا۔ 1964ئ میں پرائمری فائنل مکمل کیا۔ 1971 میں ہائر سکنڈری کیا۔ مزید 1974 میں بی اے، 1977 میں ایم اے، 1984 میں ایل ایل بی اور 1985 میں بی ایڈ کی اسناد بالترتیب کلکتہ یونیورسٹی سے حاصل کیا۔ نیز 1999ئ میں بابا بھیم راؤ امبیڈکر یونیورسٹی،بہار نے انہیں پی ایچ ڈی کی ڈگری تفویض کی۔ مزید برآں راشٹر بھاشا کوبید، ادیب کامل اور فاضلِ دینیات کی ڈگریاں دیوبند سے بھی حاصل کی۔ وہ جید علمائ اکرام جن سے ناصر صاحب نے مدرسہ و اسکول کی تعلیم حاصل کی، ان مشفق اساتذۂ کرام میں مولانا محمد حنیف ؒ، مولانا نثار احمد انصاری، مولانا سراج انوار الحسینی، مولانا عبدالحکیمؒ جو مفسر قرآن حضرت مولانا زماں حسینی کے رشتہ دار ہوا کرتے تھے، اور مولانا اخترالحسن ندوی قابل ذکر ہیں۔ ہائر ایجوکیشن اور یونیورسٹی کے دورانِ حصول تعلیم انھوں نے ڈاکٹر پروفیسر عبدالرؤف مرحوم، ڈاکٹر محی الدین ظفر اوگانوی، پروفیسر شاہ مقبول احمد، پروفیسر ڈاکٹر جاوید نہال ہاشمی، ڈاکٹر پروفیسر منصور عالم اور پروفیسر خواجہ وحیدالحق المعروف وحید عرشی جیسے نامور اساتذہ سے کسبِ فیض کیا۔ ان کے معاصرین میں پروفیسر ڈاکٹر شاہد اختر، صوفیہ بیگم، خورشید عالم (خلش امتیازی)، ڈاکٹر شہناز نبی، ڈاکٹر ایم اے نصر، حیدر صفت، ڈاکٹر ابو بکر جیلانی، جمشیدہ بیگم، نیلوفر امین، پروفیسر ڈاکٹر دبیر احمد اور پروفیسر عاصم شہنواز شبلی کے اسم گرامی ہیں۔
ڈاکٹر ناصرؔ علی انصاری کی بنیادی حیثیت اردو کے استاد کی ہے۔ ان کی پہلی تقرری 2/اپریل 1979کو بنیا پوکھر پرائمری اسکول، کلکتہ میں بحیثیت معاون استاذ ہوئی۔ یہاں 31 دسمبر1979 تک رہے۔ ٹرانسفر آرڈر کے مطابق 2/جنوری 1980 تا 10/ مئی 1982 تک انگس ادبی سوسائٹی ہائی مدرسہ میں مدرس رہے۔ 11/ مئی 1982 سے پرولیا ضلع ہائر سکنڈری اسکول میں بطور ٹیچر 18 مئی 1987 تک تدریسی فرائض انجام دیئے۔ اس کے بعد 19/مئی 1987 سے 6/جون 2006تک ہگلی گورنمنٹ مدرسہ ہائر سکنڈری میںاسسٹنٹ ٹیچر تھے۔ پھر7جون 2006 کو ان کا ٹرانسفر ضلع کوچ بہار کے جینکِنس گورنمنٹ اسکول میں بحیثیت معاون استاذ ہوا۔ بالاآخر 15/ستمبر 2008 کو ہگلی گورنمنٹ مدرسہ میں ہیڈ ماسٹر بنے اور یہیں سے 30/ستمبر 2013 کو بحیثیت مدرسِ اعلیٰ سبکدوش ہوئے۔ تھکاوٹ سے شکست نہ ماننے والے اللہ کے اس بندے نے ریٹائرمنٹ کے بعد ازسرنو ایل ایل بی کی پریکٹس شروع کردی۔ دیگر سرگرمیوں میں 1980ئ سے 1990ئ تک جامعہ اردو علی گڑھ سنٹر حاجی نگر شمالی 24 پرگنہ کے مہتمم رہے، جہاں ان کی نگرانی میں ادیب، ادیب ماہر، ادیب کامل اور معلم اردو کے امتحانات ہر سال منعقد ہوا کرتے تھے۔ انتظامی امور کے نظریے سے دیکھیں تو جمیعت اہل حدیث پیپر مل حاجی نگر شمالی 24/ پرگنہ کے نائب سکریٹری،فاؤنڈر اینڈ سکریٹری مدرسہ قاسمیہ مادھیامک شکھشا کیندر ہائی اسکول، فاؤنڈر ٹیچر انچارج حاجی نگر اردو میڈیم جونیئر ہائی اسکول اور نائب مدرس دارالعلوم رحمانیہ کولن اسٹریٹ، کلکتہ قابلِ بیان ہیں۔ علاوہ اذیں مدرسہ ربانیہ رشڑا ہگلی اور مدرسہ غوثیہ پرائمری اسکول حاجی نگر میں بھی صدر مدرس رہے۔ بتاتا چلوں کہ راقم المضمون (علی شاہد دلکش) کی شناسائی ڈاکٹر ناصرؔ صاحب سے اُس وقت ہوئی جب کانکی نارہ حمایت الغربائ ہائی اسکول کے کمپیوٹر سنٹر میں انکی دختر نیک غزالہ تبسّم میری شاگردی میں آئیں۔ اس کے بعد توقع سے زائد ملاقاتوں میں ان کے شخصی و تعلیمی پہلو مزید انکی علمی و ادبی خدمات کے بارے میں واقفیت ہوتی چلی گئی۔ تاہم مخصوص مضمون رقم کرنے سے قبل خاکسار نے حاجی نگر و مارواڑی کل کے کئی اہل نظر اشخاص سے موصوف کے متعلق رابطہ کیا۔ نیز کانکی نارہ تا بارکپور بھی کئی لوگوں سے بات کی۔ ان میں دو چند نے مرحوم سے جڑی یادوں کو حوالے کے ساتھ بتا کرمیری معلومات میں قدرے اضافہ کیا۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ مختصر وقفے کے لیے ناصرؔ صاحب نے شاعری بھی کی تو قلمی نام ناصر بلیاوی (آبائی وطن بلیا کی وجہ کر) 1976 سے 1980 تک پھر ناصر امینیؔ(والد محترم امانت اللہ کی نسبت سے) 1980 تا وقت ِ مرگ استعمال کرتے رہے۔ میرے بزرگ دوست فیاض انور صبا نے محترم قیوم بدر کی ادارت نیز اپنی معاون ادارت میں شائع شدہ سالانہ ‘صدف’ کے دو شمارے 1987 اور 1986 کے ذریعہ ڈاکٹر ناصرؔ علی انصاری کی ادبی نگارشات سے روشناس کرایا۔ 1986سال کے شمارے میں مضمون بعنوان "شاعری زندگی کے آئینے میں” بقلم ناصر ؔ علی انصاری پڑھنے کو ملا۔ اس میں وہ رقمطراز ہیں "سینکڑوں اشعار ایسے ہیں جو مبالغہ سے پۡر ہیں یا ان میں ایسے مضمون ادا کیے گئے ہیں جو بالکل بیکار اور مہمل یا فطرت کے خلاف ہیں۔ لیکن ہم مطلق شاعری سے بحث کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ شاعری زندگی کا آئینہ ہے”۔ اسی مضمون کے اختتام پر موصوف نے شاعری زندگی کے آئینے کی وکالت میں دو زیر نظر اشعار کو بھی شاملِ مضمون کیا ہے:
خدایا تو مجھے تھوڑی سی زندگی دے دے
اداس میرے جنازے سے جا رہا ہے کوئی
شرم و حیا سے بوجھل پلکیں من کی بات بتا دیتی ہیں
اِک اقرار چھپا رہتا ہے آپ کے ہر انکار کے پیچھے
سالانہ ‘صدف’ کے 1987 کے شمارے میں مرحوم کا ایک مضمون بعنوان "اردو:قومی رہنماؤں کی نظر میں” بھی قاری کو اپنی جانب کھینچتا ہے۔ ڈاکٹر ناصرؔ نے مختصر ترین مضمون کے اختتامیہ مرحلے میں قومی رہنماؤںمہاتما گاندھی(بابائے قوم)، ڈاکٹر راجندر پرساد(سابق صدرجمہوریہ)، اشوک مہتہ(سابق مرکزی وزیر) اور اے.کے.گوپالن(کمیونسٹ رہنما) کے اردو کے تئیں دیے گئے بیانات کو اقتباسات کے طور پر نقل کیا ہے۔انکی تخلیقات، مضامین و مراسلے مختلف روزناموں میں شائع ہوتے تھے۔مرحوم کے مضامین "لمعات” میں شائع ہونے کی بابت بھی معلوم ہوا۔ تحقیق وتصدیق سے ظاہر ہواکہ موصوف کی ادارت میں جامعہ اردو علی گڑھ سنٹر( حاجی نگر) کا علمی و ادبی مجلہ ‘لمعات’ 1987 میں شائع ہوا تھا۔ ہگلی مدرسہ کا میگزین ، پرولیا ضلع اسکول میگزین اور ڈیوڈ ہیر ٹریننگ کالج بالی گنج سرکلر روڈ، کولکاتہ کے میگزین Education Todayکی ادارتی ذمہ داریاں بھی انہوں نے نبھائیں۔ نصابی کتب "اے گائیڈ ٹو ہسٹری” درجہ نہم و دہم پبلشر جاوید بک ڈپو، "تاریخ ہند پر ایک جھلک” پبلشر شمیم بک ڈپو اور درجہ پنجم تا درجہ ہشتم تاریخ کی کتابیں پبلشر اے ون بک ڈپو کانکی نارہ شمالی 24 پرگنہ کی طباعت میں مصنف ڈاکٹر ناصرؔ علی انصاری کی تصنیفات و تالیفات کے شواہد ملتے ہیں۔ ڈاکٹر ناصرؔ صاحب سے آخری ملاقات کانکی نارہ کاروانِ علم و ادب کے بینر تلے منعقدہ یادِ رفتگاں کے حوالے سے "ایک شام بیاد ڈاکٹر مظفر حنفی و ڈاکٹر راحت اندوری”کی تقریب میں ہوئی تھی۔ یہ ادبی نشست ڈاکٹر ناصرؔ صاحب کے لائق داماد ڈاکٹر وحیدالحق رشیدی (علیگ) کی رہائش گاہ پر ان ہی کے زیراہتمام تھی۔ متذکرہ ادارے کے صدر خواجہ احمد حسین و شرکائے نشست کی متفقہ رائے سے یادگار پروگرام کی صدارت ڈاکٹر ناصرؔ علی انصاری نے کی تھی جبکہ نظامت ناچیز علی شاہد دلکش کے ذمہ تھی۔ موصوف انصاری صاضب نے نہایت پر مغز صدارتی خطبہ دیا اور نشست کے اختتام پر انھوں نے مرحومین کے لئے اجتماعی دعا کی، اس طرح ان کی دعا کے ساتھ مجلس برخاست ہوئی، لیکن موصوف نے تمام شرکا و حاضرین پر اس قدرخوشگوار تاثر قائم کیا کہ اس کی رمق آج بھی میرے ذہن کے افق پر جلوہ نما ہے ۔ اس دن محترم ڈاکٹر صاحب نے تقریب کی تکمیلیت کے بعد میرے طرزِ تکلم اور نقابت کو بھی خوب سراہا تھا، دست ِشفقت رکھتے ہوئے دعائیں دیں اورمسکرتے ہوئے الوداع کہا ۔ اللہ مرحوم کو مقام ارفع عطائ کرے۔۔۔ آمین!
علی شاہد دلکش
شعبہ : کمپیوٹر سائنس اینڈ انجینئرنگ
کوچ بہار گورنمنٹ انجینئرنگ کالج، حکومت مغربی بنگال
M:8820239345, alishahiddilkash@gmail.com
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

