ڈاکٹر محمد صغیرخان کی تصنیف "پونچھ کی تہذیب و ثقافت ” کا مختصر تعارف – ہاجرہ ریاض
ڈاکٹر محمد صغیرخان کشمیر کے خطے میں ایک ایسی ادبی شخصیت کے طور پہ متعارف ہوئے ہیں،جنہوں نے اپنے تخلیقی اظہار کے لیے مادری زبان (پہاڑی )کو چنا ہے۔ مادری زبان میں تخلیق اگر کسی علمی یا ادبی سطح پہ زیادہ بااثر نہ بھی ہو تو اس کے سمجھنے اور بولنے والوں کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں ہوتی۔ مادری زبان میں اظہار سے انہوں نے جہاں پہاڑی زبان و ادب کو فروغ دیا ہے وہیں عاجزانہ طبیعت اور انکساری نے انہیں عوام میں ہر دلعزیز شخصیت بنا دیا ہے۔ڈاکٹر محمد صغیرخان بہ یک وقت اردو و پہاڑی شاعر،افسانہ نگار،کہانی نویس، مترجم اور کالم نگار ہیں۔ آزاد کشمیر کے ادبی منظر نامے میں محمد صغیر خان ایک منفرد مقام رکھتے ہیں۔آپ کی ولادت آزاد کشمیر کے ضلع پونچھ کے شہر راولاکوٹ میں ہوئی۔ہنوز اسی سرزمین میں رہائش پذیر ہیں۔آپ کو شروع سے ہی ادب سے گہرا شغف تھا ۔ہر آنے والا لمحہ ان کی ادب سے وابستگی کا اظہار کرتا گیا۔محمد صغیر خان نے اردو ادبیات میں ایم اے کر رکھا ہے۔علاوہ ازیں آپ نے ”کشمیر کی جد و جہد آزادی اور اردو ادب‘‘ کے موضوع پر مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے ۔اسی کے ساتھ ساتھ قانون کی ڈگری بھی حاصل کر رکھی ہے۔
اپنی عملی زندگی کا آغاز بہ حیثیت اُستاد کیا ،لمحہ موجود تک پیشہ معلمی سے منسلک ہیں۔ہنوز آپ گورنمنٹ سائنس ماڈل کالج راولاکوٹ میں بہ حیثیت پرنسپل خدمات سر انجام دیے ہوئے ہیں۔علمی و ادبی نوعیت کی درجنوں کانفرنسسز میں شرکت کر چکے ہیں۔علاوہ ازیں ان کانفرنسوں اور ادبی محفلوں میں متعدد تحقیقی و تنقیدی مضامین و مقالات پیش کرنے کا اعزاز بھی رکھتے ہیں۔
اردو زبان و ادب کے ساتھ ساتھ پہاڑی ادب میں بھی مہارت تامہ رکھتے ہیں۔آپ بہ یک وقت متعدد اردو اور پہاڑی مجموعہ کلام کے خالق ہیں۔آپ کی اردو تصانیف میں ’’پونچھ کی تہذیب و ثقافت‘‘،’’چیدہ چیدہ (ادبی مضامین و خاکے)‘‘،دھند میں لپٹا سفر (سفرنامہ کشمیر) ،کے علاوہ کشمیری اہل قلم کے خاکوں کا مجموعہ ’’نقش برزمین‘‘ ادبی حلقوں میں پذیرائی حاصل کر چکی ہیں۔جب کہ پہاڑی تصانیف میں ’’پہاڑی لوک کہانیاں‘‘،پہاڑی شاعری کا مجموعہ کلام ’’دیوا بلنار‘‘ ،کھٹی بٹی (افسانوی مجموعہ)،’’کیدوں سویل ہوسی ‘‘ کے نام سے پہاڑی غزلوں کا مجموعہ اور اردو تراجم کے ساتھ ’’پہاڑی لوک گیت‘‘ اور ’’پہاڑی آخان‘‘ منصہ شہود پر آچکے ہیں۔مزید براں ’’ست برگ نال پھل (پہاڑی افسانوی مجموعہ) ‘‘،‘‘میرا راولاکوٹ‘‘آزاد کشمیر کے آثار قدیمہ ‘‘ اور ’’آزاد کشمیر کی ادبی تاریخ‘‘ بھی زیر طبع کتب ہیں۔
ان کی اردو تصنیف "پونچھ کی تہذیب و ثقافت” جو کہ ۲۰۰۱ میں منظر عام پر آئی اور ۲۴ مضامین کا احاطہ کیے ہوئے ہےجس میں انہوں نے پونچھ کی تاریخ سے لے کر جنگ وجدل اور وہاں کے رہنے والے قبائل کی جدوجہد اور عملی کوششوں کو بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔گو کہ آج بھی کہیں ان حقائق کو پس پشت ڈالا جاتا ہے لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کہ وسیع القلب افراد چاہے وہ کسی بھی خاندان یا علاقے سے تعلق رکھتے ہیں ان صداقتوں سے منہ نہیں پھیرتے بلکہ معترف ہیں کہ آزادی کی جدوجہد میں خون بہا کر سرخرو ہونے میں پونچھ کے لوگوں کا کردار رہا ہے۔ڈاکٹر محمد صغیر نے سیاسی حالات و محرکات کو منظر عام پر لایا ہے، اس کے ساتھ پونچھ کی تہذیب ثقافت کو عمدہ اور انتہائی تحقیق سے انہوں نے صفحہ قرطاس پہ بکھیرا ہے ۔فن کار کا کما ل یہ ہے کہ انہوں نے کوئی بھی بات محض خیالی یا سنی سنائی باتوں سے اخذ نہیں کی بلکہ ہر بات کے ساتھ ایک مکمل حوالہ موجود ہے یہ حوالہ جات جہاں مختلف کتب سے استفادہ کی صورت میں موجود ہیں وہیں پڑھتے ہوئے یہ احساس ہوتا ہے کہ مصنف نے خود ان جگہوں کا تفصیلی دورہ کیا ہےاور ہر اس فرد تک رسائی حاصل کی جو تاریخ اور خاص کر قبائل کے حوالے سے معلومات رکھتا تھا۔مصنف کا کمال شوق اس احساس سے پوری طرح عیاں ہوتا ہے۔بذات خود مطالعہ کے دوران مجھے ایسے کئی الفا ظ و تراکیب سے واقفیت ملی جو کہ ہم روزمرہ میں استعمال کرتے آئے ہیں یا کچھ الفاظ سننے کو ملے ہیں لیکن ان کے مطالیب اور تہذیبی یا ثقافتی پس منظر سے واقفیت نہیں تھی۔اس کے ساتھ صغیر صاحب کی اپنی دھرتی اور اس کی ثقافت سے محبت کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ انہوں نے دیگر اس خطے کے متعلق لکھنے والوں کی تصانیف کا ذکر بھی کیا ہے جو کہ صرف اردو زبان ہی نہیں بلکہ اس خطے سے بھی تعلق نہیں رکھتے۔ اور اس کے ساتھ یہ کہ پونچھ کے اندر موجود تاریخی مقامات ، کھنڈرات زیارت مندر غرض جو بھی ایسی کوئی باقیات جس کے آثار موجود ہیں اور جس مقام پر موجود ہیں اس تصنیف میں ملتے ہیں ۔صغیر صاحب نے ہر ایک پہلو مثلاً کھیل،بیماری،ذریعہ روزگار،خوشی و غمی کی رسومات،لوک گیت،کھانے،لباس کو نہ صرف بیان کیا ہے بلکہ ان کے مندرجات و مشمولات کا بھی تفصیلاً ذکر کیا ہے۔اس کے علاوہ انہوں نے کتاب کے آخر میں زبان اور قبائل کا ذکر بھی کیا ہے جو اپنی جگہ بہترین معلومات بھی فراہم کرتا ہے۔ ایک اہم بات جو اس تصنیف کو پڑھنے کے بعد واضح ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ تفصیل سے کشمیر کی تاریخ ،یہاں کی زبان ،ثقافت اور قبائل کے متعلق اگر کوئی معلومات حاصل کرنا چاہے تو اس کتاب میں ذکر کئے گئے دیگر محققین کی کتب سے فیض لے سکتا ہے۔
ڈاکٹر صغیر صاحب کی یہ تصنیف جہاں پونچھ کی تاریخ و ثقافت کا احاطہ کیے ہوئے ہے وہیں زبان کے حوالے سے بھی اہمیت کی حامل ہے۔اپنی ثقافت اور تاریخ کو بیان کرنے میں وہ اس بات سے ہرگز نہیں ہچکچائے کہ جہاں ضرورت محسوس کی "پہاڑی” زبان کے الفاظ کو انہوں نےدلیری سے استعمال کیا ہے۔بلکہ یہ عمل چاشنی دار ہے کہ واضح طور پر پڑھنے والا اور خاص کر جس کا تعلق اس خطے سے ہو حظ لے سکتا ہے۔ ثقافت کے بیان میں خاص اس علاقے کی زبان یا لب و لہجہ کو بیان کیا جائے تو ان افراد کے لیے بھی اپنی روایات کو سمجھنا آسان ہو جاتا ہے جو عصری تقاضوں کے باعث کہیں بہت پہلے اس علاقے اور ثقافت سے دور ہو جاتے ہیں۔گو کہ موجودہ وقت میں ثقافتی لحاظ سے کئی سرگرمیاں منہدم ہو چکی ہیں لیکن صغیر صاحب کی یہ تصنیف یقیناً علمی و ادبی سطح پر پہلی کاوش ہے جو کہ تاریخی حثیت رکھتی ہے اور جس کو قلم بند کرنے میں انہوں نے عمیق نظری سے مطالعہ و تحقیق کی جس کے بارے میں یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ خطہ پونچھ کی تاریخ اور ثقافت و تہذیب کو سمجھنے کے لیے صغیر صاحب کی یہ تصنیف باب اول کی سی حثیت رکھتی ہے۔خطہ پونچھ کا مطالعہ کرنے میں ” پونچھ کی تہذیب و ثقافت” کو انسائیکلوپیڈیا کا درجہ دیا جا سکتا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں کے لوگوں کی جغرافیائی حدود،روایات،ثقافت کے متعلق معلومات فراہم کرنے میں یہ تصنیف بہترین ماخذ ہے۔
(ہاجرہ ریاض)
ایم فل اردو۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

