اردو کے گم شدہ قارئین تک پہنچے بغیر ہمارا ادبی اور علمی سرمایہ ضایع ہوکر رہ جائے گا۔
اردو زبان کی طویل تاریخ اور وقیع ادبی سرمایے کے باوجود فی زمانہ ہر طرف سے یہ آواز گونجتی رہتی ہے کہ اردو پڑھنے والوں کا حلقہ سکڑ رہا ہے اور یہ زبان طرح طرح کے مسئلوں سے گھر کر اپنی ترقی کے مدارج میں کسی معکوسی راستے کی طرف جارہی ہے۔ برصغیر میں پچھلے دو سو برسوں کی تاریخ نے ایک طرف اردو کی مقبولیت کے راستے دکھائے تھے تو دوسری طرف یہ بھی ہوا کہ برطانوی حکمرانوں کی سیاست اور ان کے اثر میں ہندستانی ماحول کے بدلنے سے اردو پر رفتہ رفتہ ایک مشکل وقت آتا گیا۔ جہاں تعلیمی ادارے اپنے نصاب میں اردو کے لیے کم سے کم مواقع مقرر کرنے لگے وہیں یہ بھی ہوا کہ سماجی اور مذہبی دائوں پیچ میں الجھ کر برادرانِ وطن نے اردو سے اغماز برتنے کا ایک سلسلہ قائم کردیا۔ اس صورت حال کا حقیقی نتیجہ یہ ہوا کہ اردو زبان اپنی مقبولیت اور ہمہ گیریت کھونے کی راہ پر چل نکلی۔ یہ ڈھلان اس زبان کو کہاں تک لے جائے گی ، آسانی سے اس کا پتا نہیں چلتا۔
اردو کے ہزاروں مسائل ہیں اور ان کے سینکڑوں اسباب ہیں۔ بعض امور تاریخی ہیں تو چند تہذیبی اور سماجی۔ یہاں تک کہ مذہبی اسباب بھی اس میں پنہاں ہیں۔ حکومتِ وقت کی طویل مدت سے بے انصافیاں اور کج رویاں بھی اردو کی مشکلات کے خاص اسباب ہیں مگر ان سب سے بڑھ کر جو بات شاہ سرخیوں میں خون کے آنسو رلانے والی لکھی جائے گی، وہ یہ ہے کہ اس زبان کو اس کی فطری آبادی نے ہی رفتہ رفتہ آزمانا چھوڑ دیا۔ ایسے میں غیروں سے شکوہ سنجی کیوںکر مناسب ہو سکتی ہے؟ اردو آبادی میں لاکھوں گھر ایسے ہیں جن کے اسلاف تو اس زبان کے شیدا تھے مگرانھوںنے اس زبان سے غفلت کا شیوہ اختیار کرلیا۔ ایک ہوش مند طبقہ وہ بھی ہے جسے لگتا ہے کہ روزگار اور ترقی کے راستے اس زبان کے سہارے حاصل نہیں کیے جاسکتے ہیں۔ وہ طبقہ ہوشیار اور پروفیشنل ہے، اس نے اردو پڑھی بھی تو دور تک اس زبان کے ساتھ چلنے کے لیے روادار نہیں۔ بیچ راستے میں ہی وہ اپنی مادری زبان کو چھوڑ کر نکل جاتا ہے۔
یہ ایک بڑا مسئلہ یہ بھی سامنے آیا کہ اردو زبان میں مختلف فیہ موضوعات پر کام کرنے والے اور فکر و نظر کے اظہارات تلاش کرنے والے کم ہوتے چلے گئے۔ انیسویں صدی میں سرسید احمد خاں، بیسویں صدی کے آغاز سے جامعہ عثمانیہ اور انجمن ترقی اردو نے جس بڑے پیمانے پر کاروباری اور تکنیکی ضرورتوں کے اعتبار سے مضامین اور کتابوں کا سلسلہ شروع کیا، وہ عالم کاری کے اس دور میں افسوس ناک حد تک ہمارے لیے بھولا ہوا سبق ہے۔ کتابوں کی رنگا رنگی اور موضوعاتی بوقلمونی میں ہماری زبان پچھڑتی ہی چلی گئی۔ کسی کو یہ یاد ہی نہیں رہا کہ تکنیکی ترقیوں سے لیس نئی دنیا کے بچیوںاور نوجوانوں کے لیے کیسا تحریری مواد تیار کیا جانا چاہیے؟ نتیجہ یہ ہوا کہ ہماری نئی نسل اس زبان کی تحریروں یا مطبوعات سے بے رُخ ہونے لگی۔ گھوم پھر کر ہم ادب ، کلاسیک اور تنقید کے رٹے رٹائے موضوعات کے جال میں کچھ اس طرح سے گھر گئے کہ ہمیں اس بات کا بھی دھیان نہیں رہا کہ اس باسی دنیا کے طلب گار آخر کتنے لوگ اس زمانے میں موجود ہیں؟ ہماری زبان کے بڑے بڑے ادارے اور ان میں بیٹھے مشیران فرض ناشناسی اور غفلت شعاری میں کروڑوں روپے ادھر سے ادھر کیے جاتے ہیں مگر لکیر پیٹنے کے علاوہ ان کے پاس ہے کیا؟
رسائل پانچ سو سے ہزار کاپیاں چھاپ کر ادارے تقسیم کردیتے ہیں، کتابیں تو اب سو دو سو چھاپ کر مفت دوستوں کے گھروں تک پہنچانے کے مقصد سے ہی شایع کی جاتی ہیں۔ کتب فروش اپنی کتابیں سرکاری اداروں میں بیچ کر اس بات کو یقینی بنا دیتا ہے کہ انھیں کبھی کوئی قاری شاید ہی ملے گا۔ آن لائن بازار میں اردو کتابوں کا حال دیکھ کر شرمندہ ہونے کے علاوہ اور کچھ نہیں بچتا۔ جب کہ انیسویں صدی کا منظرنامہ اپنے پیشِ نظر ہو تو یہ یاد کرلینا چاہیے کہ ’مراۃ العروس‘ کی پہلی اشاعت تین ہزار کاپیوں کی تھی، ’آبِ حیات‘ بھی پہلی بار تین ہزار کی تعداد میں شایع ہوئی۔ ان دونوں کتابوں کی اگلی اشاعت زیادہ سے زیادہ ایک سال کے وقفے سے ہوئی اور مجموعی تعداد لاکھوں تک پہنچ گئی جب کہ آج کے مقابلے اس دور کی آبادی دس فی صد سے کم تھی۔
حقیقی مسئلہ یہ ہے کہ اردو زبان کے سرمایے کو نئے زمانوں کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے نہ کوئی تنظیمی کوشش ہوئی اور نہ ہی انفرادی طور پر اس پیمانے پر تصنیف و تالیف کا کام ہوا۔ آج یہ کام ہماری ترجیحات میں سب سے اوپر ہونا ہی چاہیے مگر ایک طویل عرصے کی کوتاہی نے ایک اور بڑا مسئلہ کھڑا کردیا جسے ریڈرشپ کا فقدان کہنا چاہیے۔ کسی کتاب میلے میں چلے جائیے، اردوکتابوں کی دکانیں کسی اندھے کنارے پر نظر آئیں گی جہاں کتب فروش کو گاہکوں کا انتظار رہے گا۔ اس کے برخلاف ہندی اور انگریزی کتابوں کی دکانوں کے سامنے ہر عمر اور ہر مزاج کے افراد باآسانی نظر آتے ہیں۔ اقبال نے قیادت کے سوال پر کہا تھا: کہ امیرِ کارواں میں نہیں خوئے دل نوازی! ایسا لگتا ہے کہ اردو مطبوعات کی دنیا اپنے قارئین سے بہ تدریج دور ہوتی گئی ہے۔ مصنفین، اساتذہ، تحقیق کار اور آنرس یا ایم۔اے۔ میں پڑھنے والے طلبا کو چھوڑ دیجیے تو چراغ لے کر ہمیں اپنے قارئین کی تلاش کرنی ہوگی۔ سو برس میں آبادی کے فروغ کے برعکس ہماری زبان کے دائرۂ کار میں جو تنگی آئی، اس سے ہمارا قاری منظرنامے سے غائب ہوگیا۔
دنیا میں کئی بار انسانی تاریخ میں عروج کے بعد زوال اور پھر زوال کے بعد عروج کے حقائق ہماری آنکھوں کے سامنے آتے رہے ہیں۔ اقوام اور زبان، تاریخ کے جبر اور مہربانیوں سے نشیب و فراز میں مبتلا ہوتی رہی ہیں۔ اس لیے اس موڑ پر مایوس ہوکر بیٹھ جانے کے بجاے قریب و بعید مستقبل کے تقاضوں کے پیش نظر لائحۂ عمل تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ کام کرنے کے کئی پہلو ہیں مگر رہ رہ کر یہ سوال ہمارے سامنے آتا ہے کہ اردو پڑھنے والے اب کہاں ہیں؟ نئی نسل اور بچے تو سب سے دور ہیں۔ عالم کاری کی ہوا نے پورا ماحول بگاڑ دیا ہے۔ کیا اس کھوئی ہوئی ریڈرشپ کی ہم تلاش نہیں کرسکتے؟ کیا اس کی بازآفرینی ناممکن ہے؟زمین میں گم ہو گئی ندیوں کی تلاش کرکے انھیں پھر سے زندہ ندی کے طور پر آج ہم سامنے لے آرہے ہیں تو کیا اس کھوئی ہوئی وراثت کے لیے کچھ تیاریاں نہیں کرلی جائیں؟ ہم اکثر اس لیے ناکام ہوتے ہیں کہ اردو کے سلسلے سے ہر پالیسی فوری ضرورت اور فوری نتیجہ کے تابع ہوتی ہے۔ حکومت سے بھی اسی انداز کے کام کی ہم طلب کرتے ہیں۔ ہم میں سے کون ہے جو اردو زبان و ادب کے تناظر میں دس، بیس اور پچاس سال کا منصوبہ بنائے اور اس کے حساب سے اجتماعی طور پر کوششیں شروع ہوں۔ ہمارے ادارے بھی اجتماعی کے مقابلے انفرادی خدمات میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں اور اسی لیے وہ مالِ غنیمت کی طرح ہمارے عمائدین کے کام آتے ہیں۔
ابھی محترمہ گیتانجلی شری کو ان کے ہندی ناول ’ریت سمادھی‘کے انگریزی ترجمے پر جب بُکر انعام ملا تو لوگوں کی توجہ گئی کہ چار برس گزر جانے کے باوجود یہ ناول ہندستان ہی نہیں پاکستان میں بھی اردو زبان میں ترجمہ نہیں ہوسکا تھا۔ حالیہ دنوں میں ایسی سینکڑوں کتابوں کی فہرست تیار کی جاسکتی ہے جو دنیا بھر میں غور و فکر کا محور بنی ہیں مگر اردو کے کسی مترجم کو ان کے ترجمے میں کوئی خاص دلچسپی پیدا نہ ہو سکی۔ پاکستان میں عالمی سطح کی مشہور کتابوں کے کچھ تراجم ہو بھی جاتے ہیں مگر ہندستان میں نقلی کاموں کی اتنی بہتات ہے کہ کون ان ضروری کاموں کی طرف توجہ دے گا۔ گیتانجلی شری کے ایک پرانے ناول کا ’ماں‘کے عنوان سے جو اردو ترجمہ سامنے آیا تھا، وہ ہندستان میں نہیں بلکہ پاکستان میں ہوا تھا۔ ہندی زبان میں بھی کتابوں کی فروخت کا تناسب انگریزی کے مقابلے معمولی ہے مگر راج کمل پرکاشن ، جس نے ’ریت سمادھی‘ شایع کی تھی، اس نے اپنے اعلانیے میں بتایا کہ بُکر انعام ملنے کے تین دنوں کے اندر ’ریت سمادھی‘ کی چونتیس ہزار کاپیاں فروخت ہوگئی تھیں۔ پتا نہیں اردو کے سارے ساہتیہ اکادمی انعام یافتہ مصنفین کی تمام کتابیں بھی اس تعداد میں اب تک فروخت ہوسکیں یا نہیں؟
ہمیں نئی نسل پر اعتماد کرتے ہوئے اسے اردو زبان سے جوڑنے اور اردو کتابوں کی طرف رغبت پیدا کرنے کے لیے مختلف ترغیبی کاموں کی انجام دہی کے لیے میدان میں آنا ہوگا۔ بہت ہوا ، کتابیں لکھنے والوں کو اور کاغذ کے انبار کھڑے کرنے والوں کو خوب خوب سرکاری اور غیر سرکاری ریوڑیاں ملیں۔ فضول کی کتابوں کے چھاپنے کے لیے کروڑوں کی مالی معاونتیں دی گئیں۔ ان کاموں کو روک کر آج ہمیں دو کام لازمی طور پر کرنے چاہییں۔ نئے نئے میدانوں کو سر کرنے والی کتابیں، نئے ذہن اور طبیعت کے مطابق نئی تصنیفات اور طبع زاد کتابوں کے متوازی تراجم کی بھیڑ کھڑی کرنی ہوگی۔ دوسرا کام اس بھولی بسری ریڈرشپ بالخصوص نوجوان طلباکو جوڑنا ہوگا۔ اردو کتابوں کو پڑھنے کے لیے کیا ہمارے ذہن میں کبھی یہ بات آئی کہ طلبا کو کوئی انعام یا اچھی خاصی رقم انھیں حوصلہ افزائی کے لیے دی جائے؟ایسے مقابلے کیوں نہ کرائے جائیں جن میں لاکھ دو لاکھ اور پانچ لاکھ کا انعام طے ہو مگر ان افراد سے یہ توقع کی جائے کہ اردو زبان کی پچیس ، پچاس یا سو منتخب کتابوں کو انھوں نے رواں سال میں پڑھا ہو۔ ان کے پڑھنے کا ہم مرحلہ وار سخت سے سخت امتحان لیں، ان میں کامیاب طلبا کو بلا کر ان کے نتائج کا اعلان سنیں اور ان سے بحث و مباحثہ کریں۔ یہ دور مالی ترغیب کا ہے، اداروں کو آگے بڑھ کر اپنے بچوں کو اپنی زبان کی کتابوں کے پڑھنے کے لیے راغب کرنے کے لیے طرح طرح کے انعامات دینے کا سلسلہ شروع ہوگیا تو آپ یہ سمجھ لیجیے کہ سال در سال کتابیں پڑھنے کا ذوق نئی نسل میں بڑھے گا۔ نئے نئے بچے اس کام میں جڑیں گے ۔ دس بیس برس میں واقعتا یہ ماحول پیدا ہوسکتا ہے کہ وہ نئی نسل جس کے پاس صرف ہندی اور انگریزی کتابیں رہتی ہیں، اس کے پاس اردو کتابیں بھی ہوںگی اور وہ بھی اردو کے ادبی اور علمی سرمایے کے بارے میں اپنے خیالات پیش کرسکے گی۔امارتِ شرعیہ ، بہار اڑیسہ اور جھارکھنڈ کی زیرِ نگرانی قائم کردہ تنظیم ’’اردو کارواں‘‘ مستقبل قریب میں اس سلسلے میں ایک معقول پیش رفت کررہی ہے۔ خدا کرے ! اس میں انھیں کامیابی ملے۔
[مضمون نگار کالج آف کامرس، آرٹس اینڈ سائنس، پٹنہ میں اردو کے استاد ہیں]
safdarimamquadri@gmail.com
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
آپ کی ادبی میراث آج پہلی بار دیکھی ماشا اللہ بہت عمدہ کام ہو رہا ہے میں آپ کو دل سے خراج تحسین اور لائق تحسین کہتا ہوں۔ عرض ہے کہ میں اردو کتابوں کا ایک چینل پر اردو کتاب کا ویڈیو بخ ریویو بناتا ہوں اگر کوئی صاحب اپنی تخلیقات ہمیں عطا کرئے تو میں اسکی ویڈیو ریویو بنا دوں گا ۔ کوئی معاوضہ نہیں صرف اور صرف بک کلچر کے فروغ کے لیے کام کرتے ہیں فقط آپ کا ساتھ اور دعا چایئے۔ شکریہ۔ چینک کا لنک نیچے ہے۔ندیم رحمن ملک پاکستان۔