( پریس ریلیز)
مولانا وحید الدین خاں کے متعلق شاہ عمران حسن یہ دوسری کتاب ہے۔ یہ کتاب مولانا کی وفات کے پس منظر میں تیار کی گئی ہے، جب کہ ان کی پہلی ‘اوراقِ حیات‘ مولانا کی زندگی میں ہی مرتب ہوگئی تھی۔
:مولاناوحیدالدین خاں کو اللہ تعالیٰ نے لمبی عمر دی، انھوں نے دنیا کو قدیم دور سے نکل کر جدید دور میں داخل ہوتے ہوئے براہ راست دیکھا۔اس سے تجربات حاصل کئے اور لوگوں کے لیے رہنمائی کا مواد فراہم کیا۔مولاناوحیدالدین خاںکی ایک اہم شناخت ان کا ماہنامہ ’الرسالہ‘ رہا ہے، جسے علمی حلقوںمیںہمیشہ پذیرائی ملتی رہی۔ ماہنامہ الرسالہ کا پہلا شمارہ اکتوبر1976ءمیں شائع ہوا اور ماہنامہ الرسالہ کا آخری شمارہ مولانا کی زندگی میں ہی اپریل 2021ءمیں ان کی وفات سے قبل منظرعام پر آیا ۔ مولانا کی زندگی میں ماہنامہ الرسالہ کے کل 530 شمارے شائع ہوئے۔
مولاناوحیدالدین خاں کی زندگی ایک طویل جدوجہد پر مشتمل ہے، جو”اوراقِ حیات“میں بخوبی درج ہے۔ یہ حسن اتفاق ہے کہ اوراقِ حیات میں نے ان کی زندگی میں مرتب کی اور ان کی زندگی میں ہی شائع ہوگئی تھی۔یہ دوسرا بڑا عجیب اتفاق ہے کہ مولانا کے انتقال کے بعد ان کی زندگی کے زندگی نامہ کو دوبارہ ترتیب دینے کی خوشنودی بھی میرے حصہ میں آئی ہے۔ ان خیالات کا اظہار ایک پریس بیانیہ میں معروف سوانح نگار شاہ عمران حسن نے کیا ہے۔
شاہ عمران حسن نے مزید کہا کہ میں مولاناوحیدالدین خاں کی وفات کے بعد ان کی حیات و خدمات پر جو کتاب مرتب رہا تھا وہ الحمدللہ مکمل ہوگئی ہے۔ یہ کتاب496صفحات پر مشتمل ہے۔ کتاب کی قیمت 500 روپئے ہے، جسے نئی دہلی کے اشاعتی ادارہ رہبر بک سروس سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ سیکڑوں اچھے مضامین میں سے انتخاب کے بعد کچھ مضامین یکجا کئے گئے ہیں اور یہ کوشش کی گئی ہے کہ ایسے مضامین قارئین کے پاس پہنچیں جو مطالعہ کی غرض سے بہترین ہوں۔وہیں اس کتاب میں رسمی مضامین کو یکجا کرنے سے گریز کیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ اس مرتبہ کردہ کتاب جان خاص لوگوں کے مضامین و تاثرات شامل ہیں۔ ان میں شیخ الاسلام ڈاکٹر طاہر القادری، استاذ محترم جاوید احمد غامدی، پروفیسر اخترالواسع، جماعت اسلامی ہند کے امیرسید سعادت اللہ حسینی،ڈاکٹر ظفرالاسلام خان، مولانا محمد ذکوان ندوی، پروفیسر ظہیرالدین خواجہ،ڈاکٹر محی الدین غازی، فاروق ارگلی، نایاب حسن، مولاناعمران احمد اصلاحی، مولانا سالم فاروق ندوی، مولاناآصف تنویری تمیمی،مولاناعبدالمعید ندوی، حقانی القاسمی، ڈاکٹر محمداکرم ندوی، مولانارضی الاسلام ندوی، اوریامقبول جان، سید منصور آغاز، مولاناغلام قادر بانڈے، مولاناسیداقبال عمری، مولانامحمد نظام الدین قاسمی، شاہ نواز ظفر، مولانا مفتی منظورالحسن وانی رحیمی،نعیم احمد بلوچ، مالک اشتر، شیخ محمد سلیمان القائد، مولانا عابد حسین رحمانی، ڈاکٹر وارث مظہری، عبدالسلام عاصم، مراق مرزا، مولاناعبیداللہ چترویدی، مولانا انس ملک ندوی، مولاناسلطان احمد اصلاحی، محمد عارف اقبال ، پروفیسر محسن عثمانی ندوی، مولانا اخلاق حسین قاسمی دہلوی جیسے نامور قلم کاروں کے مضامین شامل کئے گئے ہیں۔
شاہ عمران حسن نے بتایا کہ ان کی مرتب کردہ زیر طبع کتاب’ مولاناوحیدالدین خاں: اہلِ قلم کی تحریروں کے آئینے میں“میں ان کے آٹھ مضامین شامل ہیں۔
واضح ہو کہ2012ءمیں شاہ عمران حسن نے ہندوستان کے معروف عالم دین اورآل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ کے بانی مولانا منت اللہ رحمانی کی مفصل سوانحِ عمری بعنوان ”حیاتِ رحمانی“لکھی تھی، اہلِ علم کے درمیان اس کتاب پر بڑی چرچا ہوئی اور اُنھیں بہاراُردو اکادمی کی جانب سے ایوارڈدیاگیا ۔
حیاتِ رحمانی کی کامیابی کے بعد انھوں نے2015ءمیں عالم اسلام کے معروف عالم دین و تخلیقی مفکر مولاناوحیدالدین خاں پر ایک ہزار صفحات پر مشتمل کتاب”اوراقِ حیات“ تیار کی ؛وہ کتاب بھی بہت کامیاب ہے اور پورے ہندوستان میں اس کتاب کی دھوم مچی ہوئی ہے ۔اوراقِ حیات کو پڑھے یا سمجھے بغیر مولاناوحیدالدین خاں کو سمجھنامشکل ہی نہیں ناممکن ہے ۔ موجودہ صورت ِ حال میں’اوراقِ حیات‘ مولاناوحیدالدین خاں کو سمجھنے کاواحدذریعہ ہے ۔اس کتاب کی خوبصورتی اور اس کا استناد یہ ہے کہ مولانا کے افکار و تصورات اور زندگی کے مہ وسال کو ان کی ہی تحریروں کی مددسے مرتب کیا گیا ہے۔
سنہ 2016ءمیں امارت شرعیہ بہار کے امیر شریعت و معروف عالم دین مولانامحمدولی رحمانی پر تحریر کردہ کتاب”حیات ولی“ ،شاہ عمران حسن کی قلم سے نکلنے والی تیسری سوانحی کتاب ہے ، جو بہت کامیاب رہی اور پورے ملک ہندوستان میںاس کتاب کو مقبولیت اور شہرت ملی ۔اس کا ہندی ایڈیشن بھی شائع ہوکر مقبول ہو چکا ہے۔
شاہ عمران حسن کی چوتھی سوانحی کتاب ”حیاتِ غامدی“ ہے جو کہ دراصل”مکتبہ فراہی“ کے ایک اہم عالم دین اور محقق جاویداحمد غامدی کی علمی اور تحریکی زندگی کے ذیل میں تیار کی گئی ہے ،یہ 160صفحات پر مشتمل ہے ، اس کی اشاعت 2017ءمیں عمل میں آئی اوراس کو اہلِ علم نے قدر کی نگاہ سے دیکھا ۔ ہندوستان کے اندراورباہر اِس کتاب کا مسلسل مطالعہ کیا جارہاہے ۔
اس کے علاوہ ان کا افسانوی مجموعہ ”ادھورے خواب “ 2018ءمیں منظر عام پر آ چکا ہے۔اس افسانوی مجموعہ پر انہیں بہار اردو اکادمی جانب سے ایوراڈ بھی مل چکا ہے۔
شاہ عمران حسن نے مدرسے کی تعلیم سے قطعاً لا تعلق ہونے کے باوجود عالم اسلام کی چار اہم مذہبی شخصیتوں کا انتخاب کیااور جس سلیقے، توازن اور غیر جانبداری کے ساتھ ان کے حالاتِ زندگی اور کارناموں کو بیانیے کی صورت دی ایسی روش فی زمانہ دیکھنے کو شاذ و ناد ر ہی ملتی ہے ، کہ سوانحی تحریروں میں عقیدت و عصبیت کسی نہ کسی طور اپنی جھلک دکھلا ہی جاتی ہیں۔
شاہ عمران حسن ہندوستان بھر میں سوانحی ادب میں بلا تفریق ایک ممتاز مقام رکھتے ہیں ۔اُنھوں نے مختلف مکتب ِ فکر کے اہلِ علم پر کام کیا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ وہ ہر مسلک اور ہر حلقے میں پڑھے جاتے ہیں ۔
کتاب ھٰذا کی خصوصیت یہ ہے کہ عام فہم اور سلیس زبان میں تحریر گئی ہے، جس سے نہ صرف دینی مدارس سے ووابستہ افراد بلکہ دیگر شعبہ جات کے افراد بھی استفادہ کرسکتے ہیں۔
امید کی جانی چاہئے کہ شاہ عمران حسن کی پانچویں اور نئی سوانحی کتاب” مولاناوحیدالدین خاں: اہلِ قلم کی تحریروں کے آئینے میں“ بھی ایک اہم دستاویزی کتاب ثابت ہوگی اور مولاناوحیدالدین خاںجیسی عبقری شخصیت کو جاننے میں معاون ثابت ہوگی نیز اسلامی کتب خانوں میں ایک اضافہ بنے گی۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

