یہ مشیت ایزدی ہے کہ رب ذوالجلال جب کسی کے ذکر کو بلند و برتر کرنا چاہتا ہے تو فریق مخالف کے ناپاک دلوں کو وسوسوں سے بھر دیتا ہے جس کے منفی و مثبت دونوں نتائج سامنے ابھر کر آتے ہیں۔ لہذا ہم دیکھتے ہیں کہ اس کے خلاف جس قدر زہر افشانی کی جاتی ہے اسی قدر ممدوح کے عاشقین اس کی شخصیت کے ہر پہلو کو منظر عام پر لانے کی سر توڑ کوشش کرتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ فریق مخالف کے بعض افراد بھی اس کی شخصیت کا از سر نو جائزہ لینے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔
ایک ایسی شخصیت جس کا مقابلہ آج تک کوئی فرد نہ کر سکا وہ اسم گرامی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہے جسے اقوام عالم نے جب جب زیر کرنے اور اس پر کیچڑ اچھالنے کی کوشش کی تب تب اسے وہ رفعت و عظمت میسر ہوئی جسے تاریخ رقم کئے بنا نہ رہ سکی۔
سیرت مصطفی کے مطالعہ سے یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ جب بھی مشرکین مکہ نے ان کی شخصیت کو داغدار کرنے کی جدوجہد کی، خود انہی کے سرکردہ افراد ان کی سیرت مطہرہ کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوئے۔ چنانچہ انہی کفار قریش کی جانب سے امین و صادق کے لقب سے نوازنا اس بات کی اعلی دلیل ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ شخصیت جس کی مدح سرائی خود خالق کائنات کرے اور ” انک لعلى خلق عظيم ” کا اعلان کرتے ہوئے اس کی شخصیت کو چار چاند لگائے تو اسے پھر کسی اور کی ستائش کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔
وہ اعلی شخصیت جس کے اخلاق کا باریک بینی سے مشاہدہ کرنے والی ان کی چہیتی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا ” کان خلقہ القرآن ” ( مسند أحمد ) سے تعبیر کرنا ہی اس کی بلند و برتر شان کی دلیل ہے۔ طائف و غزوہ احد میں بے شمار ظلم وستم کا شکار ہونے کے باوجود دشمنان دین کے لئے ہدایت کی دعا مانگتے ہوئے ان الفاظ کی ادائیگی ” اللھم اھد قومی فانھم لا یعلمون ” آپ کی اعلی ظرفی کی شہادت دیتی ہے کہ اس کے بعد آپ کی عظیم الشان شخصیت کو سمجھنے میں کسی بھی قسم کے شک و شبہ کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔
” انک لعلى خلق عظيم ” سورہ قلم ( آیت: 4) کی وہ عظیم آیت ہے جو رب کائنات نے اپنے حبیب پر ساحر و کاہن و مجنون جیسے لگائے گئے بیجا الزامات کی تردید میں نازل فرمائی۔ یہی وجہ ہے کہ ہر دور میں مستشرقین نے ان پر اعتراضات کئے مگر انہی میں سے کچھ منصفین نے جب منصفانہ رویہ اختیار کیا تو آپ کو سب سے اعلی مقام پر رکھا۔ لہذا عیسائی سائنسدان میخائیل ایچ ہارٹ نے اپنی کتاب the 100 a ranking of the most influential persons in history تصنیف کی تو پہلے نمبر پر آپ کی شخصیت کو رکھے بنا نہ رہ سکا۔ اس سلسلے ميں وہ رقم طراز ہے۔ :”
My choice of Mohammed to lead the list of world’s most influential persons may surprise some readers and may be questioned by others, but he was the only man in history who was supremely successful on both secular and religion levels… it is this unparalleled combination of secular and religious influence which I feel entities Mohammad to be considered the most influential figure in human history ".
https://www.goodread.comqoutes
ترجمہ: دنیا کے سب سے زیادہ بااثر افراد کی فہرست میں سرفہرست رکھنے کے لئے محمد کا میرا انتخاب کچھ قارئین کو حیران کر سکتا ہے اور دوسرے اس پر سوال کر سکتے ہیں، لیکن وہ تاریخ میں واحد انسان تھے جو سیکولر اور مذہب دونوں سطحوں پر انتہائی کامیاب رہے… یہ سیکولر اور مذہبی اثر و رسوخ کا بے مثال امتزاج ہے جس کے بارے میں میں محسوس کرتا ہوں کہ محمد کو انسانی تاریخ کی سب سے بااثر شخصیت سمجھا جائے۔”
حالیہ کچھ دنوں سے شر پسند عناصر اور گستاخان رسول اللہﷺ نوپور شرما اور نوین کمار جندال نے توہین آمیز کلمات کے ذریعہ اس ذات مبارکہ پر کیچڑ اچھالنے کی ناکام کوشش کی تو اقوام عالم میں کہرام مچ گیا جس کا مثبت نتیجہ یہ نکلا کہ نہ صرف امت مسلمہ سیرت مطہرہ کو پوری دنیا میں عام کرنے کی جانب متوجہ ہوئی بلکہ غیر مسلم اقوام بھی ان کی تعریف و توصیف سے منھ موڑ نہ سکیں۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ رب ذوالجلال نے ان کے ذکر کو بلند کرنے توثیق خود قرآن کریم میں کی۔ ارشاد باری تعالی ہے۔” و رفعنا لک ذکرک”( الم نشرح : 4)
قرآن مجید کی اس بابرکت آیت کا جو اثر ہمیں دیکھنے کو ملتا ہے وہ یہ کہ نبی کریم کی حیات کے ہر پہلو پر روشنی ڈالنے میں نہ صرف برسوں سے غافل امت محمدیہ مصروف ہوئی بلکہ دشمنان دین بھی تمام پہلوؤں کو کھنگالنے پر مجبور ہوئے اور بالآخر آپ کے بلند اخلاق کے معترف ہوئے جس کی تائید خود حدیث رسول سے ہوتی ہے۔” انما بعثت لاتمم مکارم الاخلاق "۔( الأدب المفرد ، بخاری ، باب حسن الخلق)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعدد ازدواج کی حکمت اقوام عالم کے سامنے روز روشن کی طرح عیاں ہوگئی کہ وہ طریقہ کار جسے لے کر آپ کی شخصیت کو تار تار کرنے کی کوشش کی گئی وہ کوئی آپ کا ایجاد کردہ انوکھا طریقہ کار نہیں تھا بلکہ زمانے قدیم سے یہ رواج عام تھا اور تمام الہامی اور غیر الہامی مذاہب میں اس کا رواج پایا جاتا ہے چنانچہ یہودیت میں بھی تعدد ازدواج کی اجازت بغیر کسی قید و بند کے ملتی ہے البتہ تلمود میں چار کی حد بندی کی گئی ہے۔عیسائیت میں بھی 1750ء تک اس پر عمل ہوتا رہا اس کے بعد پابندی عائد کردی گئی۔ ہندو مت میں اس کے شواہد بکثرت ملتے ہیں جیسا کہ ان کے مذہبی خدا سری کرشن کی ہزاروں گوپیاں اور متعدد بیویاں ملتی ہیں۔
ہندو دھرم کے ماننے والے ’’رام چندر جی‘‘ کو اپنا بھگوان مانتے ہیں ان کے والد راجہ دشرتھ کی متعدد بیویاں تھیں ۔ (1) رانی کوشلیا۔ رام چندر جی کی والدہ (2) رانی سمترا۔ والدہ لکشمن جی (3) رانی کیتکی۔ والدہ بھرت جی۔
معروف مسلمان مورخ ابو ریحان البیرونی نے اپنی کتاب ’’الہند‘‘ میں لکھا ہے کہ”اہل ہند میں بعض کی نظر میں طبقاتی اعتبار سے متعدد عورتیں ہوسکتی ہیں چنانچہ برہمن کے لیے چار _ کشتری کے لیے تین, ویش کے لیے دو, اور شودر کے لیے ایک بیوی ہوگی‘‘
چنانچہ یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ہر مذہب میں اس کا رواج عام تھا خود اہل عرب میں بھی یہ ایک رائج رسم تھی جہاں کسی قسم کی کوئی قید و بند نہیں تھی البتہ اسلام نے اس کی حد بندی کرتے ہوئے عدل و مساوات کے پیمانے سے مشروط کردیا۔ لہذا اسے محض نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات تک منسوب کرنا محض جہالت اور کوتاہ عقلی کی دلیل ہے۔
اور سیرت طیبہ کے مطالعے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ آپ کا متعدد خواتین سے نکاح کرنے کا مقصد محض اسلام کا فروغ، عداوت کا خاتمہ، اسلامی تعلیمات بالخصوص خواتین سے متعلق مسائل کی ترویج، بے رجا رسومات کی بیخ کنی ، حسب و نسب پر بے جا فخر و مباہات کا خاتمہ ، بیواؤں اور مطلقہ عورتوں کو سہارا دینا تھا ۔
اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کم سنی میں شادی کوئی انوکھی چیز نہیں بلکہ عربوں میں عام رواج کے مطابق تھی یہی وجہ ہے کہ کفار مکہ نے کبھی اس کو قابل اعتراض نہ سمجھا کیونکہ عرب کی گرم آب و ہوا کی باعث کم سنی میں ہی عرب دوشیزائیں بلوغت کی عمر کو پہنچ جاتی تھیں لہذا کم عمری میں نکاح ایک عام کلچر تھا لہذا اسے موضوع بحث بنانا محض تعصب و فرقہ وارانہ فکر کی پیداوار ہے جس کے خطرناک نتائج انسانی روح کو نہ صرف گدلہ کرتے ہیں بلکہ پرامن اور بقائے باہم ماحول کے بگاڑ کا سبب بھی بنتے ہیں۔
مذکورہ بالا اعتراضات کے تناظر میں رحمت دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کا اگر جائزہ لیا جائے تو یہ کہنا بے جا نہ ہوگا :
تم جتنا مٹاؤ گے اتنا ہی وہ ابھرے گا
باطل کے اندھیروں میں وہ شمع فروزاں ہے
یہ شعر ” و رفعنا لک ذکرک ” کا سچا مصداق ہے ۔ لہذا جیسے ہی گستاخان رسول نے اپنی ناپاک زبانوں سے زہر اگلنا شروع کیا ویسے ہی کائنات کے ہر ذرے نے یہ نظارہ بھی دیکھا کہ جانثاران رسول اور دشمنان اسلام نبی کی شان مبارک میں قصیدہ گوئی کے لئے کمربستہ ہوگئے لہذا کہیں شان نبوت میں عالمی کانفرنس کا انعقاد عمل میں آیا تو کہیں تعدد ازدواج کی حکمت سے متعلق مضامین اخبارات و رسائل کی زینت بنے۔ کہیں شاہراہوں پر نبی کی شان عظیم میں نعرے بازی کی گئی تو کہیں نبی کی ہمہ جہت شخصیت پر کتابیں تصنیف کی گئیں۔ کہیں حیات رسول ٹی وی چینلز کا موضوع بحث بنا تو کہیں شعراء نے اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائے۔ غرض یہ کہ رب کریم کے کئے گئے وعدے ” ورفعنا لک ذکرک ” کے مطابق نبی کی عظمت چہار سو چھا گئی کیونکہ:
اس شخص کی شان کا کیا کہنا ! مداح ہی جس کا خالق ہو
وہ ذات تو برتر ہوگی ہی قرآن ہی جس کا ناطق ہو
وہ صدق و صفا کا پیکر ہے تم اس کی حقیقت کیا جانو؟
مرعوب ہوئے دشمن یہ بھی کہ جس کا لقب ہی صادق ہو
اللہ تعالٰی سے دعا ہے کہ وہ ہمیں سنت رسول پر عمل کرنے اور اس کے احیاء کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

