صدف مرزا کے علمی و ادبی کارنامے کئی دہائیوں کی جانفشانی کا ثمرہ ہیں: عارف نقوی
شعبۂ اردو،سی سی ایس یو میں ’’صدف مرزا سے ادبی گفتگو‘‘ پرآن لائن پروگرام کا انعقاد
میرٹھ30؍جون2022
ہم لوگوں کو تانیثیت کو سمجھنے کی ضرورت ہے خصوصاً اردو زبان پڑھنے والوں کو تحقیق کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ خوا تین کا جو پس منظر ہے وہ نسلوں کے ذریعے نہیں بتا سکتے بلکہ ہمیں ان کی جڑوں تک تحقیق کرنا چاہئے۔ لسانیات کے ساتھ ساتھ تانیثیت پر بھی غور و فکر کر نے کی ضرورت ہے۔ نئی نسل کو اس طرف توجہ دینا ضروری ہے۔یہ الفاظ تھے ڈنمارک کی معروف اسکالرز اور شاعرہ صدف مرزا کے جو آیو سا اور شعبۂ اردو کے زیر اہتمام منعقد ادب نما کے تحت ’’صدف مرزا سے ادبی گفتگو‘‘ موضوع پراپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ادا کررہی تھیں۔انہوں نے مزید کہاکہ تا نیثیت کا اصل مقصد یہ ہو نا چاہئے کہ اگر خدا نے ہمیں زیادہ پریشا نیاں برداشت کرنے کی قوت دی ہے تو یہ خدا کی جانب سے ایک انعام ہے۔ کیو نکہ تانیثیت کی وجہ سے ہی چاند پر جانے والا شخص وجود میں آ تا ہے۔ہمارے طلبہ و طالبات کو خوا تین کے مسائل کو سامنے لا نا چاہئے۔
اس سے قبل پرو گرام کا آغازسعید احمد سہارنپوری نے تلاوت کلام پاک سے کیا۔بعد ازاں سیدہ مریم الٰہی نے ہدیۂ نعت پیش کیا۔صدارت کے فرا ئض آیو سا کے سر پرست عارف نقوی ،جرمنی نے انجام دیے۔ استقبالیہ کلمات ڈاکٹر ارشاد سیانوی۔شکریہ ڈاکٹر آصف علی اور تعارف و نظا مت کے فرا ئض ڈا کٹر شاداب علیم نے انجام دیے۔
ڈا کٹر شاداب علیم نے صدف مرزا کا تعارف پیش کرتے ہوئے کہا کہ صدف مرزا نے اپنا تعلیمی سفر پنجاب یو نیورسٹی کی علمی و ادبی فضا سے کیا۔ بعد ازاں درس و تدریس سے وا بستہ ہو گئیں۔ موجودہ وقت میں مکمل طور پر تصنیف و تالیف سے منسلک ہیں اور چار زبانوں اردو، پنجابی، انگریزی اور ڈینش پر پو را عبور رکھتی ہیں۔ آپ کی ادبی فتو حات میں تقریباً دو درجن کتابیں مختلف مو ضو عات پر شامل ہے۔آپ کے زیر نگرا نی ادب کی بہت سی اصناف نمو پا رہی ہیں۔آپ کی شخصیت کے بہت سے پہلو ہیں اور ہر پہلو روشن اور دلنواز ہے۔
اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہو ئے صدر شعبۂ اردو پرو فیسر اسلم جمشید پو ری نے کہا کہ صدف مرزا نے بڑی خو بصورتی اورمدلل طریقے سے اپنے خیالات و نظریات کو پیش کیا کیو نکہ اختصار کے ساتھ کسی چیز کو پیش کرنا اپنے آپ میں ایک ہنر ہے۔ ہنستے مسکراتے ادبی گفتگو میں سوالوں کے جواب دینا اپنے آپ میں ایک صدف ہے۔ تانیثیت کے مو ضوع کو جس انداز میں آپ نے پیش کیا وہ واقعی قابل تعریف ہے۔
اپنی صدارتی تقریر میں عارف نقوی نے کہا کہ صدف مرزا کی ایک بہت بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ جوبھی بات کرتی ہیں بڑی صاف گوئی سے اور نڈر ہو کر کرتی ہیں۔ اسی طرح وہ اپنی تحریروں کو بھی خوب سوچ سمجھ کر اور پر جوش انداز میں لکھتی ہیں۔وہ مصنفہ ہو نے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین شاعرہ بھی ہیں۔ یو روپی لٹریری سر کل کے علاوہ بھی دیگر تنظیموں کے ساتھ مل کر اعلی پیمانے پر کام کررہی ہیں۔صدف مرزا کے علمی و ادبی کارنامے کئی دہائیوں کی جانفشانی کا ثمرہ ہیں۔
اس موقع پر ڈاکٹر ریاض توحیدی،ڈاکٹر عامر نظیر ڈار،فیضان ظفر، محمد شمشاد، روضہ خان وغیرہ اورکثیر تعداد میں طلبہ و طالبات موجود رہے۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

