جے این یو کے طلبا کی رو شن خیالی کا احترام پوری دنیا کرتی ہے: عارف نقوی
شعبۂ اردو سی سی ایس یومیں’’جے این یو کی اردو خدمات ‘‘ پر آن لائن پرو گرام کا انعقاد
میرٹھ7؍جون2022
جواہر لعل نہرو یونیورسٹی ہندو ستان میں منفر شناخت کی حامل ہے۔ اس یو نیورسٹی کے قیام کے دوران ہی یہ محسوس ہو نے لگا تھا کہ یو نیورسٹی عالمی پہچان بنانے میں کامیاب ہو گی۔جنگلات، پیڑ پودے، پہاڑیاں وغیرہ نے بھی اس کی خو بصورتی میں اضا فہ کیا ہے۔تعلیم کے میدان میں بھی اس کا نظام مختلف رہا ہے۔ یہاں پر شروع سے ہی سیمسٹر سسٹم قائم ہے۔ جے این یو کا بنیادی مقصد طلبا کی ایسی جماعت تیار کرنا ہوتاہے جو عالمی سطح پر ملک کو پہچان دلا سکے۔یہ الفاظ تھے اردو کے معروف نقاد جے این یو میں شعبۂ اردو میںپروفیسر انور پاشا کے جو شعبۂ اردو، چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی،میرٹھ اور بین الاقوامی نوجوان اردو اسکالرز انجمن(آیوسا) کے زیر اہتمام منعقد ’’جے این یو کی اردو خدمات‘‘ موضوع پر مہمان خصوصی کی حیثیت سے اپنی تقریر کے دوران ادا کررہے تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ اردو میں ماس میڈیاکی تعلیم پہلی بار جے این یونے شروع کی۔ سائنس، فزکس، کیمسٹری ہو یا جغرافیہ ہویا دیگر مضامین لیکن اردو کو ہمیشہ اولیت حاصل رہی ہے۔
اس سے قبل پرو گرام کا آغاز سعید احمد سہارنپوری نے تلاوت کلام پاک سے کیا۔ہدیہ نعت عظمیٰ پروین نے پیش کیا۔ اس ادب نما پروگرام کی سر پرستی معروف ادیب اور صدر شعبۂ اردو پروفیسر اسلم جمشید پوری اور عارف نقوی (جرمنی) نے فرمائی اور صدارت کے فرائض آیوسا کی صدر ڈاکٹر ریشما پروین نے انجام دیے۔مہمان مقرر کے بطور پروفیسر محمد کاظم نے شرکت کی۔استقبالیہ کلمات ڈاکٹر شاداب علیم،نظامت ڈاکٹر آصف علی ، تعارف ڈاکٹر ارشاد سیانوی اور شکریے کی رسم ڈاکٹر الکا وششٹھ نے ادا کی۔
اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہو ئے پروفیسر اسلم جمشید پوری نے کہا کہ جے این یو کے جو اساتذہ ہیں ان کا مقا بلہ دنیا کی بڑی سے بڑی یو نیورسٹی کے اساتذہ سے کر سکتے ہیں۔ کوئی بھی یو نیورسٹی اپنے کورسز سے پہچانی جا تی ہے۔ جے این یو میں آپ کو ایسے کورسز ملیں گے جو دیگر یو نیورسٹیز میں نہیں ملیں گے۔ ملک کی سر گرم سیاست میں بھی جے این یو کا بڑا مقام ہے۔ پڑھائی کے علاوہ تربیت میں بھی اس ادارہ کا بڑا رول ہے۔ جے این یو نے ہماری زندگی کو کا فی متاثر کیا ہے۔ کسی بھی مو ضوع پر بحث کر نے کا جذبہ وہاں پر عام ہے۔
پرو فیسر محمد کاظم نے کہا کہ جے این یو نے ایک سے بڑھ کر ایک ذی استعداد طا لب علم دیے ہیں۔ جے این یو نے اپنے طالب علموں کی ایسی شاندار تربیت کی ہے جس کا اثر یہاں کے طلبا کی زبان سے محسوس ہو جاتا ہے۔ وہاں کے استاذہ کی محنت اور کوششوں سے طلبا آج پوری دنیا میں تعلیم کو عام کررہے ہیں۔
لکھنؤ سے آ یو سا کی صدر ڈا کٹر ریشما نے کہا کہ جے این یو ایسی یو نیورسٹی ہے جہاں پر تعلیم کے ساتھ ساتھ طلبا کی پرسنالٹی پر بھی زور دیا جاتا ہے۔ میں شعبۂ اردو، چو دھری چرن سنگھ یو نیورسٹی، میرٹھ اور آ یو سا کے تمام ممبران کو مبارک باد دیتی ہوں کہ آپ طلبا کی رہنمائی اس پروگرام کے ذریعے کررہے ہیں۔ ادب نما کے پرو گرام کی ریکارڈنگ کے ذریعے تعلیمی معلومات حاصل کرسکتے ہیں۔ ہر ہفتے اس طرح کے پرو گرام کا انعقاد کرنا اپنے آپ میں ایک بڑا کام ہے۔
جرمنی سے معروف ادیب عارف نقوی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جے این یو ایک بہترین تعلیم ادا رہ ہے جو اپنی ابتدا سے ہی نما یاں خدمات انجام دے رہا ہے۔ اور جے این یو کی ایک بڑی خوبی یہ بھی ہے کہ وہاں مختلف مضامین کے ساتھ ساتھ وہاں کے لوگوں میں روشن خیالی بھی ہو تی ہے جس کا احترام پوری دنیا کرتی ہے۔ کومبرگ یو نیورسٹی اورJNU کے درمیان اگر لٖغت تیار ہو جائے تو اردو کو بڑا فائدہ ہو سکتا ہے۔ اردو اور جرمن لغت تیار کرنے میں دو نوں یونیورسٹیز کی محنت، وکاوش اور قربا نی کو کبھی فرا موش نہیں کیا جائے گا۔اس موقع پر جے این یو کی سابق طالبہ اور معروف شاعرہ فرحین اقبال نے اپنی مترنم آ واز میں غزل پیش کی۔
پروگرام سے ڈاکٹر ولا جمال العسیلی،مصر،پرو گرام میں سعدیہ سلیم شمسی، آگرہ،راحت صدیقی،غلام نبی کمار، کشمیر، اسلم پرویز، نیاز جیراج پوری، محمد شعیب خان، ڈا کٹر امرین، شہاب اختر، زرینہ بیگم،ڈا کٹر فریدہ بیگم، خو رشید عالم،غیاث الرحمن سید، نصر بدایونی، محمد شمشاد، سیدہ مریم الٰہی،گلناز، فرح ناز،فیضان ظفر وغیرہ سے جڑے رہے۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

