زمین و آسمان کی ہر چیز اس بات کی گواہی دے رہی تھی کہ اس کائنات کا خالق بس ایک ہی رب ہے ،آسمان میں گردش کرنے والے چاند سورج ستارے و سیارے بھی گواہی دے رہے تھے کہ ہمیں بس ایک ہی رب نے پیدا کیا ہے ۔ بے نمونہ و بے ستون کھڑا آسمان جس میں کوئی شگاف نہیں اور لہلہاتی ہوائیں شور مچارہی تھیں کہ اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو!
جو ستارے اس کائنات کے واحد رب کی شہادت دے رہے تھے ان کے بارے میں تو کچھ اور ہی سرگوشیاں ہونے لگی تھیں!!
زمین کے کسی گوشے میں ایک دربار لگا تھا!
جس کا بادشاہ اپنی خدائ کا زعم لیے رعایا کے ہر فرد پر جلال بناہوا تھا ۔ بادشاہ نمرود!
انتہائ سنگ دل ! ظالم جابر و متکبر بادشاہ!
لیکن یہ کیا کہ آج اس کے دربار میں نجومی غمناک اور سرجھکائے بیٹھے ہیں !
نمرود ذرا پریشاں سا ہوگیا، سوال کیا ۔۔۔
"اے نجومیوں کیا بات ہے کہ تم آج ہراساں نظر آتے ہو؟
نجومی بھلا کس طرح ظالم بادشاہ کو اس کی ہلاکت کی خبر سناتے ۔۔۔ چنانچہ ڈرتے ڈرتے کہنے لگے ۔۔
"اے نمرود! آسمان میں ایک ستارہ نمودار ہوا ہے اور آج سے پہلے ایسا ستارہ کبھی نمودار نہیں ہوا۔ اے نمرود! یہ ستارہ تیری حکومت کے زوال کی خبر دیتا ہے ،تیری رعایا میں ایک لڑکا پیدا ہوگا جو تیری حکومت کا تختہ پلٹ دیگا!”
یہ سن کر تو پہلے نمرود پریشان ہوا اور پھر حکم جاری کر دیا!
"اے مردوں! تم اپنی عورتوں سے الگ رہو اور اس دن کے بعد جو بھی بچہ پیدا ہو اسے قتل کر دیا جائے ۔” ( سورہ الانعام آیت 74 تفسیر ابن کثیر)
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ولادت انہی دنوں میں ہوئی لیکن اللہ پاک نے آپ علیہ السلام کو ظالموں سے محفوظ رکھا۔
ابراہیمؑ کے والد آزر نے نمرود کے ڈر سے آپ کو ایک غار میں چھپا دیا تھا جہاں آپ جوان ہوئے آزر کے دو بیٹے اور تھے ہاران اور ناحور۔ لوط علیہ السلام ہاران کے بیٹے اور ابراہیمؑ کے بھتیجے تھے۔
آپؑ جب جوان ہوئے تو آزر انھیں گھر واپس لے آیا اور اور آپؑ کا نکاح سارہ علیہ السلام سے ہواتھا ۔
ابراہیم علیہ السلام دیکھتے کہ ان کا باپ آزر پتھر کو تراش کر مورتیاں بناتا ہے چنانچہ اپنے باپ سے سوال کرنے لگے،
"اباجان ! یہ کیا ہیں؟”
والد نے کہا ’’ یہ ہمارے خدا ہیں۔‘‘
حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے تعجّب سے کہا’’ یہ کیسے خدا ہیں کہ جن کو آپ پتھر کے ٹکڑوں سے تراش رہے ہیں۔‘‘
پتھروں کو تراش تراش کر ان کے دل خود پتھر ہوچکے تھے پھر یہ لوگ کہاں سے اس بات کو سمجھتے!
لیکن ابراہیمؑ کو اللہ تعالی نے رشدوہدایت سے نوازا تھا آپ انتہائ بردبار اور سلیم الفطرت انسان تھے اللہ ایسے ہی لوگوں سے محبت کرتا ہے جو تدبر و تفکر سے کام لیتے ہیں۔
قرآن میں بارہا افلاتتدبرون اور افلا تتفکرون” افلا یعقلون کے الفاظ گردش کرتے ہیں۔
چنانچہ ابراہیمؑ ان خداوں سے بیزار آسمان پر نظریں جمائے تدبر کرنے لگے تھے، چاند سورج ستاروں کی ہیئت و ساخت اور ان کی روشنی کو دیکھ کر کہنے لگے کہ "یہ میرے خدا ہیں!” لیکن زیادہ دیر نہ گزری کہ ان کا دل مایوس ہوچکا تھا اور کہتا جاتا یہ "کیسے خدا ہیں جو غروب ہوجاتے ہیں غروب ہونے والے میرے خدا نہیں ہوسکتے !”
نفس لوامہ نے آواز دی اور نفس مطمئنہ لبیک کہہ کر پکار اٹھا ۔۔
( انی وجھت وجھی للذی فطرالمسوات۔۔۔۔الخ)
مَیں نے سب سے یک سُو ہو کر اپنی ذات کو اُس کی طرف متوجّہ کر لیا ہے،جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اور مَیں ہرگز مُشرکوں میں سے نہیں ہوں۔‘‘(سورۂ انعام :79)
لیکن والد کو دعوت حق کی طرف بلانا سب سے بڑا چیلنج تھا چنانچہ ایک دن ابراہیم علیہ السلام نے اپنے والد سے کہنے لگے”
اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ يٰۤـاَبَتِ لِمَ تَعۡبُدُ مَا لَا يَسۡمَعُ وَلَا يُبۡصِرُ وَ لَا يُغۡنِىۡ عَنۡكَ شَيۡـئًـا
” ابّا آپ ایسی چیزوں کو کیوں پوجتے ہیں جو نہ سنیں اور نہ دیکھیں اور نہ آپ کے کچھ کام آسکیں_ (سورہ مریم 42)
لیکن ہائے بدبختی کہ ان کے باپ کا جواب "لارجمنک واھجرنی” کے سوا کچھ نہ تھا!
باپ اور بیٹے میں زبردست گفتگو ہونے لگی جس کا تفصیلی ذکر سورہ مریم41 تا 48 میں کیا گیا ہے۔
بیٹے نے باپ کو بہترین اور عمدہ طریقے سے دعوت حق دی لیکن باپ نے سوائے سنگسار کردینے کی دھمکی کہ کوئی جواب نہ دیا۔ یہ آپ کی رحم دلی و محبت تھی کہ آپ اپنے والد کو مغفرت کی دعا کی تسلی دیتے رہے لیکن رب ذوالجلال کو ایک مشرک کی مغفرت بالکل ناگوار تھی اور ابراہیم ع کو ان کے لیے دعائے مغفرت کرنے سے منع کردیا گیا چنانچہ
حدیث شریف میں ہے کہ قیامت کے دن حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے والد آ…
عالیہ خانم حافظ نذراللہ خان
(ممبر جی آئ او، اردھاپور )
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

