معروف سماجی کارکن محمد فضیل کا انتقال پر ملال، علاقے میں غم کی لہر
سمستی پور ( نامہ نگار ): تاج پور بلاک کی پنچایت شاہ پور بگھونی ، فاضل پور باشندہ و معروف سماجی کارکن محمد فضیل (۶۹) کا اتوار کی شام پٹنہ کے ایک پرائیویٹ ہسپتال میں علاج کے دوران انتقال ہو گیا ۔پیر کی شام ساڑھے پانچ بجے مولانا نعمت اللہ ندوی نے نماز جنازہ پڑھائی اور پر نم آنکھوں سے آبائی قبرستان فاضل پور میں سپرد خاک ہوئے۔ مرحوم محمد فضیل انتہائی ملنسار، عمدہ اخلاق کی وجہ سے لوگوں میں منفرد شناخت رکھتے تھے۔ سیل کمپنی سے سبکدوش ہونے کے گاؤں واپس آ گئے اور سماجی سرگرمیوں میں لگ گئے۔ انہوں نے فیڈ این جی او کا قیام کیا ۔ فیڈ (FEED) ایک غیر سرکاری تنظیم ہے جو شاہ پور بگھونی کے گرد و نواح میں عوامی فلاح و بہبود کے لیے کام کرتی ہے، آپ نے اس تنظیم سے نوجوانوں کو جوڑ کر عوامی خدمت کے لئے بیدار کیا ۔ فیڈ کی سرپرستی کرتے ہوئے انہوں نے غریب مسکین، محتاج اور ضرورت مندوں کی جو مدد کی ہے اس کی کم مثال ملتی ہے۔ ان کی خوبی یہ تھی کہ وہ اس کار خیرکو انتہائی خاموشی سے انجام دیتے تھے ۔ ان کی سماجی خدمات کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ رات کے اندھیرے میں یہ اپنے کارکنوں کو ضرورت مندوں کے گھر کھانے پینے اور دیگر ضرورت کی چیزیں لے کر بھجتے تھے تاکہ محلہ میں ضرورت مندوں کو کسی قسم کی پشیمانی کا سامنا کرنا نہ پڑے ۔ مرحوم کی رحلت پر اپنے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کانگریس اقلیتی سیل سمستی پور کے کارگزار صدر اور مرحوم کے داماد غضنفر شکیل نے کہا کہ محمد فضیل نے فیڈ این جی او کے ذریعے عوام کی خدمت کی جو مثال قائم کی ہے اسے زمانہ یاد رکھے گا، انھوں نے مزید کہا کہ فیڈ محض ایک این جی او نہیں بلکہ ایک تحریک ہے جس کی ابتدا محمد فضیل صاحب کی ذاتی کوششوں سے ہوئی۔ غضنفر شکیل نے اپنے عزم کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا کہ محمد فضیل صاحب نے عوام کی خدمت کا جو خواب دیکھا تھا اسے شرمندۂ تعبیر کرنا ہم پر فرض ہے۔اور اسے یقینا پورا کیا جائے گا۔

جنازے کی نماز سے قبل کی تصویر۔ تصویر – محمد سرفراز فاضل پوری
مرحوم کی موت پر رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کے بڑے بھائی الحاج ماسٹر شکیل نے کہا کہ محمد فضیل میرے بھائی کے ساتھ ساتھ اچھے دوست بھی تھے ۔ ان کی موت سے مجھے شدید صدمہ پہنچا ہے ۔ موت برحق ہے اِس کے مصداق ہر کسی کو موت کا مزہ چکھنا ہے فضیل اپنے ملک حقیقی سے جا ملے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت کرے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا کرے ۔ صحافی سرفراز فاضل پوری نے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کا نگریس اقلیتی سیل کارگزار صدر غضنفر شکیل کے گھر پر سیاسی اور سماجی پروگراموں کی رپورٹنگ کرتے وقت فضیل چچا سے اکثر مُلاقات ہو تی تھی۔ وہ انتہائی شفقت سے ملتے اور میرے کام کی حوصلہ افزائی کیاکرتے تھے۔ کسی بھی موضوع پر جب مرحوم سے بات ہوتی تھی تو اِنتہائی دلیل کے ساتھ اپنی بات رکھتے تھے۔ مسٹر سرفراز نے مزید کہا کہ فضیل صاحب تعلیم کے فروغ کے لئے کافی فکر مند رہا کرتے تھے۔ بچّوں کو بنیادی تعلیم کو مضبوط کرنے اور بچوں کو تعلیم جیسی زیور سے جوڑنا ان کی ترجیحات میں شامل تھا۔ میڈیا اور بے جا بحث و مباحثہ سے دور رہتے تھے ۔ مرحوم کی موت سے مجھے کافی دکھ ہے۔ غم کے اس گھڑی اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت كرے اور مرحوم کے پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ اور مرحوم کی موت پر ڈاکٹر حذیف ، محمد ظہیر ، پروفیسرمحمد سوید ، کانگریس اقلیتی سیل کے سابق ضلع صدر مشیر عالم صدیقی ، آر جے ڈی یوتھ سیل کے ریاستی سکریٹری نور الضحی آفو ، فرخ حذیف، فراز علی نجمی ، ماسٹر مسیح الزماں ، شہزاد منظر، ڈاکٹر نوشاد منظر، سجّاد منظر، عباد منظر،نازش زماں، ایہاب مبین ، احشام مبین، سماجی کارکن معابد پروانہ ، مولانا اسلام سلفی کے علاوہ ڈاکٹر توحید اقبالی، اورمولانا رحمت اللہ مدنی نے رنج و غم کا اظہار کیا ہے ۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

