زیل فاؤنڈیشن کے آن لائن قرآن کورس کی تکمیل پر مفتی ثناء الہدی قاسمی کا خطاب
مظفرپور: پریس ریلیز
06 اگست 2022
قرآن کو درست تلفظ کے ساتھ پڑھنا اور اس کے معنی و مفہوم کو سمجھنا ہم سب کی ذمہ داری ہے لیکن بدقسمتی سے ہم میں سے بیشتر لوگ قرات قرآن کے تقاضوں سے واقف نہیں ہیں. مدارس کے فارغین کو چھوڑ دیا جائے تو عام لوگوں کی ایک بڑی تعداد قرآن کو اس کے تقاضے کے مطابق پڑھنا نہیں جانتی. ان خیالات کا اظہار معروف عالم دین امارت شرعیہ پٹنہ کے نائب ناظم مفتی محمد ثناء الہدی قاسمی نے زیل ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر فاؤنڈیشن کی طرف سے چلائے جانے والے آن لائن قرآن کلاس برائے خواتین کی تکمیل پر منعقد آن لائن دعائیہ نشست سے خطاب کرتے ہوئے کیا. انہوں نے کورس انچارج حافظہ صالحہ فردوس کو مبارکباد پیش کی جن کی نگرانی میں قرآن کلاسز کا چوتھا بیچ کامیابی کے ساتھ مکمل ہوا. انہوں نے کہا کہ آج جب مردوں کی اکثریت قرآن درست طریقے سے نہیں پڑھ پاتی ہے تو عورتوں کے ساتھ تو مختلف قسم کے مسائل اور گھریلو ذمہ داریاں ہیں. ان مسائل اور ذمہ داریوں کے باوجود انہیں قرآن کے لیے کچھ وقت فارغ کرنا چاہیے. مفتی ثناء الہدی قاسمی نے کہا کہ مرد حضرات کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے گھر کی خواتین اور بچیوں کو قرآن پڑھنے اور سیکھنے کے لیے راغب کریں. انہیں وقت دیں. مفتی ثناء الہدی قاسمی نے مختلف مثالوں کے ذریعہ بتایا قرآن پڑھتے ہوئے مخرج کی ذرا سی لغزش سے مفہوم کچھ سے سے کچھ ہو جاتا ہے. ہم غیر دانستہ طور پر بسا اوقات گناہ کے مرتکب ہو سکتے ہیں. انہوں نے کہا کہ یہ کام تحریکی سطح پر کیا جانا چاہیے. مختلف مساجد اور مکاتب میں حلقے لگا کر، مختلف اداروں کی طرف سے قلیل مدت کا کورس چلا کر عوام میں قرآن کو درست مخرج کے ساتھ پڑھنے کی مہم چلانے کی ضرورت ہے. انہوں نے زیل فاؤنڈیشن کے ذمہ داران کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ آن لائن قرآن تدریس کا یہ سلسلہ چلتے رہنا چاہیے اس سے خاص طور پر گھریلو خواتین کو بہت فائدہ ہوگا. پروگرام کا آغاز اسلم رحمانی کی تلاوت سے ہوا. اسامہ غنی نے ماہر القادری کی مشہور نظم قرآن کی فریاد پیش کی. نظامت کا فریضہ کامران غنی صبا نے انجام دیا. مفتی ثناء الہدی قاسمی کی دعا پر اس ان لائن پروگرام کا اختتام ہوا. پروگرام میں قرآن کلاسز کی انچارج صالحہ فردوس کے علاوہ انور آفاقی، مولانا مکرم حسین ندوی، مظہر وسطوی، مولانا نظر الہدی قاسمی،حسن امام قاسمی،ڈاکٹر عفت بلال، رقیہ پروین، رابعہ خاتون، آسیہ خاتون، فائحہ فرید، ترنم پروین، سعدیہ ثنا، خالدہ پروین، رافعہ فردوس، تابش نقی، نصرت سید، ڈاکٹر فیضان غنی، ڈاکٹر نور الصباح، انظار احمد صادق، عصمت آرا، نصر بلخی، ادیبہ قیوم، مدیحہ رحمانی، عظمی خلیق، مولانا نظام الدین ندوی سمیت کثیر تعداد میں سامعین موجود تھے.
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

