میرٹھ26؍ اگست2022
شعبۂ اردو، چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی ، میرٹھ کے پریم چند سیمینار ہال میںآج یعنی27؍ اگست، بروز ہفتہ کو شام 3:00؍ بجے سیدہ مریم الٰہی کی پہلی تنقیدی و تحقیقی کاوش’’تذکرہ نگاری کی روا یت اور تذکرۃ الخیل‘‘ کی رسم اجرائ پروفیسر سنگیتا شکلا(شیخ الجامعہ،چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی ، میرٹھ) اور دیگر مہمانان کے ہاتھوں عمل میں آئے گا۔ پروگرام کی صدارت کے فرا ئض معروف افسانہ نگار و ناقد، صدر شعبۂ اردو پرو فیسر اسلم جمشید پوری انجام دیں گے جب کہ مہمانان خصوصی کے بطور پرو فیسر وائی وملا(سابق نائب شیخ الجامعہ،چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی ، میرٹھ)، پروفیسر شہپر رسول(عالمی شہرت یافتہ معروف شاعرسابق صدر شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ،نئی دہلی)، پروفیسر زین الساجدین (شہر قاضی، میرٹھ) اور مہمانانِ اعزازی کے بطور ڈاکٹر معراج الدین احمد(سابق وزیر حکومت اتر پردیش)، معروف نقاد و دانشور پروفیسر خواجہ اکرام الدین(جواہر لال نہرو یونیورسٹی، دہلی) شر کت کریں گے۔ مقررین کے بطور معروف ڈراما نگار پرو فیسر محمد کا ظم( دہلی یو نیورسٹی)، ڈاکٹر ہما مسعود (اسماعیل ڈگری کالج، میرٹھ)، ڈاکٹر شاداب علیم(شعبۂ اردو، چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی ، میرٹھ) ، مولانا مشہود الرحمن (مہتمم مدرسہ امداد الاسلام، میرٹھ)، مفتی یاد الٰہی قاسمی(دار العلوم، دیوبند) اور مفتی راحت علی صدیقی،(کھتولی) شریک ہوں گے۔
واضح ہو کہ ’’تذکرہ نگاری کی روایت اور تذکرۃ الخلیل‘‘ سیدہ مریم الٰہی کا ایم فل کا مقا لہ ہے۔اردو میں تذکرہ نگاری کی روا یت قدیم اور مستحکم رہی ہے۔ تذکروں سے ہی اردو تنقید کی راہ نکلی ہے، اس کتاب میں اردو میں تذکرہ نگاری کی روایت کا تفصیلی ذکر کیا گیا ہے حالا نکہ اس تذکرے کی روح خالص ادبی نہیں ہے۔ چونکہ یہ کتاب مولانا عاشق الٰہی میرٹھی کے تذکرۃ الخلیل کے مطالعے پر مشتمل ہے، اس لیے کتاب کی مصنفہ محترمہ سیدہ مریم الٰہی نے حضرت مولانا کے سوانحی کوائف بھی پیش کیے ہیں تا کہ اس بات کا بھی اندازہ ہوسکے کہ مولا نا خلیل احمد سہارنپوری کی حیات کو اور ان کے کار ناموں کو جمع کرنے والے مصنف کی زندگی اور احوال زندگی کیسے رہے ہیں۔
یہ کتاب سیدہ مریم الٰہی کی محنت شاقہ کا ثمرہ ہے۔ انہوں نے واقعی تحقیقی و تنقیدی نظر سے کام لیتے ہوئے’تذکرۃ الخلیل‘ کا جائزہ لیاہے۔ ان کا طرزِ استدلال اور طرزِ نگارش متاثر کن ہے اور قارئین کتاب کے مطالعے پرضرورمتوجہ ہوجائیں گے۔ اس نوع کے کاموں کی اہمیت و معنویت یوں بھی بڑھ جاتی ہیکہ اکابرین اور زعمائے قوم کے کوا ئف اور کارناموں کو محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

