’’ابو۔۔۔۔۔ابو۔۔۔آنکھیں کھولیں۔۔۔ابو‘‘۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امی دیکھیں نا ابو کو کیا ہوا ہے۔ رات تک بالکل صحیح تھے۔ ابو سانس کیوں نہیں لے رہے ہیں۔تبسم تیز آواز سے روتے ہوئے اپنی امی سے یہ سوال کر رہی تھی اور امی خاموشی سے کھڑی ہوئی صرف ابو کے چہرے کو تکے جارہی تھیں اور پاس میں ان کے دو نوں بیٹے بھی آنکھوں میں آ نسو لیے بیٹھے ہوئے تھے۔صبح کا وقت تھا۔ 7بج رہے تھے۔باہر لوگ فکر معاش کے لیے سڑک پر ادھر سے اُدھر بھاگ رہے تھے۔موٹر گاڑیوں کی آواز بھی تبسم کے کانوں میں زہر گھول رہی تھیں۔تبسم جو ایک لاڈلی، بے فکر، دنیا کی باتوں سے انجان، معصوم اور پیاری سی بچی تھی جس کو گھر میں سب پیار سے چھٹکی کہہ کر بلا یا کرتے تھے۔ گھر میں سب سے چھوٹی ہو نے کی وجہ سے اس نے کبھی کوئی ایسا وقت یا کوئی ایسی بات نہ دیکھی تھی جو اس کو بڑا بناتی۔لیکن شاید آج کا یہ دن اس کی زندگی میں بہت سی تبدیلیاں لے کر آ گیا تھا۔
’’امی کیا ابو ہمیں چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے چلے گئے ہیں؟ کیا کبھی اب وہ واپس نہیں آ ئیں گے؟‘‘تبسم نے جب معصوم لہجے میں یہ بات اپنی امی سے کہی تو انہوں نے تڑپ کر اسے اپنی بانہوں میں بھرتے ہوئے کہا
’’ نہیں بیٹی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
فاطمہ ایک نہایت ہی شریف، ملنسار، ہمدر اور باوقار عورت تھیں اور مذہبی لحاظ سے بھی ان کا کوئی مقابلہ نہ تھا۔ با پردہ، پڑھی لکھی اور سمجھدار خاتون ہونے کے ناطے سب لوگ ان سے نیک مشورات لینے آ یا کرتے تھے۔ اپنی زند گی میں انہوں نے بھی کئی پریشا نیوں کا سامنا کیا تھا اور اپنی ازدواجی زندگی صبر اور خوش حال طریقے سے گزاری تھی۔
پو را گھر آ ج سراج صاحب کی موت پر آ نسو بہا رہا تھا۔ خود سراج صاحب سر کاری ملازم تھے۔ معاشرے میں ان کا ایک مقام تھا۔ سراج صا حب اور فاطمہ کو دیکھ کر سب یہی کہا کرتے تھے کہ دو نوں ایک دوسرے کے لیے بنے ہیں۔لیکن آج اس بے رحم دنیا میں اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کو چھوڑ کر سراج صاحب اپنے مالک حقیقی سے جاملے۔انہوں نے دو بیٹے ، ایک بیٹی اور ایک گھر اپنی یادگار چھوڑا تھا۔
پورا شہر اکٹھا ہوا۔ پڑوسی، رشتہ دار، گھر وا لے، دفتر والے سبھی لوگ سراج صا حب کی شرافت کی تعریف کررہے تھے اور سراج صاحب کی معصوم چھوٹی بیٹی گھر کے ایک کونے میں خاموش سوچوں میں گم تھی۔کیو نکہ اسے تو سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کرے۔
جنازہ اٹھنے کا وقت آ گیا۔ خاندان کی کچھ بزرگ خوا تین تبسم کے پاس آئیں اور کہا۔
’’ بیٹی اٹھو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دیکھو ابو جارہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاؤ آ خری بار اپنے ابو کی شکل دیکھ لو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
یہ سنتے ہی تبسم کو نہ جانے کیا ہوا۔ وہ بو ل اٹھی
’’ کیا ممانی جان۔۔۔۔۔کیا کہا آپ نے۔۔۔۔آخری بار؟‘‘
’’ ہاں ۔۔۔۔۔۔بیٹی۔ اب تمہارے ابو دو بارہ اس دنیا میں نہ آ سکیں گے۔ مما نی نے اس کو پیار سے نہارتے ہوئے کہا۔ تبسم نے ان کا ہاتھ جھٹک دیا اور بھاگتے ہوئے اپنے ابو کے جنازے پر آئی اور اپنے ابو کی چھاتی سے لپٹ کر زارو قطار روتے ہوئے کہنے لگی
’’ابو دیکھیں نا یہ سب لو گ کیا کہہ رہے ہیں کہ آپ نہیں آ ئیں گے۔۔۔۔۔دیکھیں ابو ان سے بولیں کہ آپ ابھی ڈا کٹر کو دکھا کر واپس آ جائیں گے اور پھر ہم شام میں بیٹھ کر ایسے ہی چائے پیا کریں گے جیسے روز پیتے تھے۔۔۔۔۔۔۔‘‘
تبسم کو دو چار خوا تین نے ہٹا نا چا ہا۔لیکن آج تبسم کو سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا۔ وہ تو پاگلوں کی طرح صرف اپنے ابو سے باتیں کرتی جارہی تھی۔ اس کی حالت دیکھ کر سبھی کا کلیجہ منہ کو آ رہا تھا۔
مولانا صاحب آئے اور لا الہ الا اللہ کی صدا گو نجی تو تبسم نے پلٹ کر دیکھا کہ اس کے دو نوں بھائی اور چچا سراج صا حب کا جنازہ اٹھانے کے لیے تیار کھڑے ہیں۔تبسم روتے ہوئے بھائی سے بولی
’’ بھائی ڈا کٹر صا حب سے یہ پوچھ لینا کہ یہ آنکھ کب کھو لیں گے۔‘‘بھائی نے روتے ہوئے اس کو پیچھے ہٹنے کا اشارہ کیا اور کہا ۔ ’’ ہاں، ٹھیک ہے۔‘‘
جنازہ اٹھا اور تبسم کے منہ سے ابو ابو کی صدائیں تیز سے تیزتر ہوتی چلی گئیں اور نہ جانے کب وہ کھڑی کھڑی زمین پر گر گئی پتہ ہی نہ چلا۔ تبسم کو فاطمہ نے سنبھالا اور بڑے صبر کے ساتھ اس کو اندر لا کر ہوش میں لانے کی کوشش کی،لیکن تبسم کو ہوش نہ آ یا۔ ڈا کٹر کو بلوایا گیا اور تبسم کو بڑی مشکل سے ہوش میں لایا گیا۔ ہو ش میں آتے ہی اس نے سب سے پہلے یہی سوال کیا
’’ امی ۔ابو کو قبر میں اتار آ ئے کیا؟‘‘
یہ سننا تھا کہ فاطمہ کا بھی صبر کا باند ھ ٹوٹ گیا۔ وہ زار و قطار رونے لگیں اور کہنے لگیں
’’ ہائے اللہ۔ یہ معصوم بچے میں اب کس طرح پا لوں گی۔ یہ میری معصوم بچی اسے تو یہ بھی نہیں معلوم کہ مرنا کیا ہو تا ہے۔یہ درد کیسے برداشت کرے گی۔تبسم نے جب یہ دیکھا کہ اس کی امی زارو قطار رو رہی ہیں تو اس نے اپنی امی کو پیار سے ماتھے پر بوسہ دیتے ہوئے کہا
’’ امی کیوں پریشان ہو تی ہو۔ ابو تو واپس آئیں گے ناپھر ہم سب مل کر دو بارہ سے ہنسی خو شی زندگی گزاریں گے۔ میں ہوں نا۔‘‘
رات ہو چکی تھی اور آج تبسم کی نیند نہ جانے کہاں چلی گئی تھی۔ آج وہ ٹوٹے خواب کا منظر دیکھ کر حیران تھی۔ کیونکہ کسی بھی بیٹی کے لیے اس کے باپ کا سایہ سر سے اٹھ جانا زندگی کا سب سے بڑا خواب ٹوٹنے کی مانند ہو تا ہے اور یہ پو ری زندگی کا ایک ایسا غم ہو تا ہے جس کی کمی کبھی کوئی پوری نہیں کرسکتا۔ سراج صا حب نے بھی اپنی بیٹی کو شہزادی کی طرح پالا تھا ۔گھر میں کسی کو بھی تبسم کو کچھ کہنے کی اجازت نہ تھی ۔حتیٰ کہ سراج صاحب اور فاطمہ کی لڑا ئی کاسبب صرف تبسم ہوتی تھی۔ کیونکہ فاطمہ کبھی کبھار گھر کے کاموں کو لے کر تبسم کو ڈانٹ دیا کرتی تھی تو سراج صاحب کہتے تھے۔
’’میری بیٹی سے کوئی کام نہ کروا یا جائے، نوکرا نی ڈھونڈ لو۔لیکن اس سے کوئی کام نہ کرا نا۔ پرا ئے گھر جاکر بھی بیٹیاں کام کرتی ہیں کم سے کم اس کو اپنے گھر میں اپنی زندگی کو جی لینے دو۔‘‘
محبت تو تبسم سے فاطمہ بھی بہت کرتی تھیں لیکن ماں ہو نے کے ناطے تھو ڑی سختی ضرور کرتی تھیں کہ آگے چل کر اسے کوئی پریشا نی نہ ہو۔
اگلا دن ہوا اور رشتے دار، پڑوسی صبح فجر کے بعد قرآن خوا نی میں شامل ہو نے کے لیے آئے اور تبسم جو کبھی کبھار ہی فجر کی نماز ادا کرتی تھی آج صبح سے ہی اٹھ کر نماز کے بعد تلاوت قرآن میں مصروف تھی اور اپنے ابو کے لیے دس سپارے پڑھ چکی تھی۔ بہت چھوٹی عمر میں ہی فاطمہ نے اسے قرآن پڑھا دیا تھا۔ بزرگ عورتیں تبسم کو بڑے پیار سے نہار رہی تھیں اور دل ہی دل میں اس کے لیے غم زدہ بھی تھیں کہ پھول سی بچی کیسی مرجھا سی گئی ہے۔
فاطمہ کی عدت شروع ہو چکی تھی اور اب چار مہینے تک تبسم کو ہی اپنا گھر سنبھالنا تھا۔آخر کار ایک ہفتہ،دو ہفتے یوں ہی بیت گئے اور آہستہ آہستہ نہ جانے کب گھر کی تمام ذمہ داری تبسم پر آ چکی تھی۔ کیونکہ اس کے دو نوں بھائی آفتاب اور سہیل کمپنی میں جاب کیا کرتے تھے۔ دونوں اپنی اپنی ملازمت پر نکل چکے تھے۔کہتے ہیں نا کہ بیٹی ہے تو جہاں ہے۔ کوئی بھی انسان اس حقیقت سے انکا ر نہیں کرسکتا کہ ماں کے بڑھاپے کا سہارا ایک بیٹی ہی بنتی ہے ۔یہاں تک کہ سسرال جانے کے باوجود لڑ کیوں کو اپنی ماں کی فکر لگی رہتی ہے۔ مرد تو فکر معاش کے سلسلے میں گھر سے با ہر ہی رہتا ہے اور بوڑھے والدین کے لیے پیسے سے ہی ان کی خد مت کرسکتا ہے یا پھر دن بھر کا تھکا ہارا رات یا پھر تعطیلات میں اپنے والدین کو وقت دے پاتا ہے اور اس میں مرد کا بھی کوئی قصور نہیں کیونکہ خدا نے مرد کو ہی فکر معاش کی ذمہ داری سونپی ہے۔ لیکن ایک لڑ کی اپنے والدین کی دل و جان سے عزت کرتی ہے اور اس کے خواب تمام تر والدین سے منسوب ہوتے ہیں۔ ہر طرح کے مشورے کے لیے بھی لڑ کی ماں باپ سے ہی رجوع کرتی ہے۔
تبسم جیسا کہ نام سے ہی ظا ہر ہے ہمیشہ ہنستی کھیلتی اور ادھر ادھر موج مستی میں مصروف رہنے والی لڑ کی کی دنیا ہی بدل چکی تھی۔ تبسم نے پورے گھر کی ذمہ داری اپنے نا تواں کندھوں پر ڈال لی تھی اور فاطمہ بھی اس لیے خوش تھی کیو نکہ چھوٹی عمر میں اس نے اپنی امی کا خیال رکھنا شروع کردیا تھا۔تبسم کا کالج بھی شروع ہو چکا تھا۔ گھر کے تمام کام نپٹا کر وہ کالج جاتی تھیں اور دوپہرکو آکر اپنی امی کے ساتھ کھا نا کھاتی اور دیگر کاموں میں مصروف ہو جاتی تھی۔ تبسم کے بھائی ہر ہفتے گھر آتے تو ان کی پسند کا خاص خیال رکھتی اور لذیذ کھانے بنا کر انہیں کھلا تی۔ بھا ئی بھی اپنی بہن پر ناز کرتے تھے۔
وقت گذرتا گیا اور فاطمہ کی عدت ختم ہو گئی۔ اب گھر کا سا را کام ماں بیٹی مل کر کرتیں۔ تبسم بھی پو ری طرح اپنی پڑھائی میں مصروف ہوگئی تھی۔وقت گزرتا رہا اور یوں سالوں بیت گئے۔
آج تبسم کی ماں اور اس کے بھائیوں کی خوشیوں کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ آج ان کی معصوم سی بہن نے بہت اچھے نمبروں سے بی اے ڈگری حا صل کی تھی۔تبسم شور مچاتی ہوئی گھر میں داخل ہو ئی۔
’’ امی، آج میں گریجویٹ ہوگئی ہوں۔ امی کہاں ہیں آپ، جلدی آئیں۔ میرے نمبر دیکھیں، ٹاپ کیا ہے میں نے۔‘‘
وہی تبسم جو اپنے والد کے جانے سے بہت اداس رہنے لگی تھی، آج کھلی جارہی تھی، خوشی سے امی کے گلے لگ گئی۔
’’ شا باش میری بچی، تم نے واقعی کمال کردیا اور آج تمہارے والد کی روح بھی بہت خوش ہو رہی ہو گی۔ اللہ تم کو اسی طرح کامیابی کی منزلیں طے کراتا رہے۔‘‘فاطمہ نے اپنی بیٹی کو گلے لگا کر اس کے ماتھے پر بو سہ دیا اور اسے بہت سی دعائیں دیتی رہیں۔دونوں بھائی بھی بے حد خوش تھے۔ دو نوں نے ہی تبسم کو تحفے دیے اور سہیل نے تبسم کو چھیڑتے ہوئے کہا۔
’’ امی، آج چھٹکی نے بی اے پاس کرلیا۔ اب یہ چھٹکی سے چھٹنکی بن گئی ہے۔‘‘
’’ امی۔ دیکھیں نا بھائی کو۔ اب میں بڑی ہو گئی ہوں۔مجھے چھٹکی نام سے پکارنا بند کریں سب لوگ۔‘‘
تبسم نے امی سے شکایت کرتے ہوئے کہا اور دونوں بہن بھائی آپس میں ہنسی مذاق کرنے لگے اور فاطمہ بھی اپنے بچوں کی خوشی میں شامل ہو کر ایسے ڈو ب گئی مانو اس کا کوئی غم با قی نہ رہا۔
ایک سال اور گزر گیا۔ فا طمہ کو اپنے بچوں کی شادی کی فکر ستا نے لگی اور وہ اکیلے کچھ بھی کر نے سے ڈرتی تھیں۔ان کا بڑا بیٹا سرکاری کمپنی میں ملازم تھا۔اس نے بھی شادی کے لیے کہا،زور و شور سے لڑ کی کی تلاش شروع ہوگئی اور جلد ہی آفتاب کے لیے فاطمہ نے ایک لڑ کی پسند کرلی اور شادی کا دن بھی قریب آ گیا۔
آج فاطمہ اور تبسم بے حد خوش تھیں۔ ایک ماں اور بہن کے لیے اس سے بڑی خوشی اور کیا ہو سکتی ہے جب ان کا بیٹا اور بھائی نکاح جیسے پاک رشتے سے منسوب ہو نے جا رہا ہو۔ خوب دھوم دھام سے شادی ہوئی اور آفتاب اپنی دلہن ماہین کو لے کر گھر آ گئے اوراگلے روز ولیمے کی سنت پو ری ہوئی۔ رشتہ داروں اور پڑوسیوں نے فاطمہ کو بیٹے کی شادی کی مبارک باد دی کیونکہ ایک بیوہ ہو نے کے بعد بھی فاطمہ نے آفتاب کی شادی میں کسی طرح کی کمی کا احساس نہ ہو نے دیا۔ سب کو ساتھ لے کر اور سب کی پسند کا خیال کرتے ہوئے یہ شادی تکمیل کو پہنچی۔فاطمہ ایک بچے کی شادی سے تو فارغ ہوگئیں۔ اب سہیل اور تبسم رہ گئے تھے۔ سہیل کی ملا زمت ابھی مستقل نہیں تھی اور فاطمہ ابھی چھوٹی تھی اور وہ آگے پڑھائی کرنا چاہتی تھی۔
دن یوں ہی گذرتے گئے۔ فاطمہ، تبسم اور ماہین گھر کے کام سنبھالتیں۔ تبسم اپنی پڑھائی مکمل کر نے کے لیے یو نیورسٹی جانے لگی۔لیکن وقت کہاں ایک سا رہتا ہے۔وہ تو بدلتا رہتا ہے اور نئے سے نئے رنگ دکھاتا چلا جاتا ہے۔
معاشرہ میں جتنی برا ئیاں ہو تی ہیں وہ زیادہ تر عورتوں سے منسوب ہوتی ہیں۔ سسرال میں زیادتی ہو نا یا پھر کسی اور برا ئی کا سامنا کرنا ہو۔ ہر جگہ عورت کو ہی ذمہ دار مانا جاتا ہے۔لیکن آج عورت ہی عورت کی دشمن ہو چکی ہے۔ عام طور پر عورت کی طرف سے یہ شکایت ہوتی ہے کہ مرد عورت کا استحصال کرتا ہے۔ حقوق نسواں کی تمام تنظیمیں بھی یہی رو نا روتی ہیں۔جب عورت کی مظلومیت کا تذکرہ ہوتا ہے عمومی تاثر یہی دیا جاتا ہے کہ عورت مرد کے ہاتھوں جبر کا شکار ہے۔ لیکن بہت سی مثا لیں ایسی ہیں جہاں صرف عورت ہی عورت کے جبر کا شکار ہوتی ہے۔ ایک لڑ کی کو پرا ئے گھر جا کر سسر، دیور اور جیٹھ سے زیادہ پریشا نی ساس کی طرف سے ہوتی ہے۔ لیکن ایک لڑ کی جو اپنے ماں باپ کے گھر ہوتے ہوئے بھی جبر کا شکار ہوجائے تو یہ اس کی بد نصیبی ہی ہے۔ آج کچھ ایسا ہی ہوا۔
آفتاب صبح اٹھ کر نہا دھو کر اپنے کمرے سے نکل کر ماں، بہن ،بھائی اور بیوی کے ساتھ مل کر ناشتہ کرتا تھا لیکن آج نہ جانے کیوں ماہین آ فتاب کا ناشتہ بنا کر اس کے کمرے میں لے جا رہی تھی جس کو دیکھ کر فا طمہ بول اٹھی۔
’’ دلہن کیا ہوا ۔کیا آ فتاب آج ہمارے ساتھ نہیں آ رہا۔‘‘
’’ نہیں امی۔اب ہم دو نوں الگ ہی ناشتہ کیا کریں گے ۔آخر ہمیں بھی تو کچھ پرا ئیویسی چاہئے۔ ماہین نے جھٹکتے ہوئے فاطمہ کو یہ جواب دیا۔ فاطمہ یہ جواب سن کر حیران رہ گئی اور تبسم بھی ماہین کا منہ تاکنے لگی۔ شادی کو آج پانچ مہینے کا عرصہ گذر چکا تھا۔ ایسا کبھی نہیں ہوا تھا اور نہ ہی گھر میں فاطمہ کا رویہ ماہین کے ساتھ ایسا تھا۔فاطمہ اپنی بیٹی تبسم کو ڈانٹ دیا کرتی تھیں لیکن ماہین کو کبھی کچھ نہیں کہا۔ یہ سوچ کر کہ پرائے گھر سے بیٹی آئی ہے کہیں اس کی دل آ زاری نہ ہو لیکن قسمت اور وقت دو نوں ہی فاطمہ کے خلاف تھے۔
’’ آئو بیٹا، تمہیں یو نیورسٹی کے لیے دیر ہو رہی ہے۔ بیٹھو اور ناشتہ کرو۔‘‘
لیکن تبسم تو نہ جانے آ ج اپنے ناشتے اور یونیورسٹی کا وقت بھول چکی تھی۔ اس نے ہلکا پھلکا ناشتہ کیا اور یو نیورسٹی کے لیے روا نہ ہو گئی۔ آج یو نیورسٹی میں بھی تبسم کے دماغ میں اپنی بھا بی کی کہی باتیں گردش کرتی رہیں۔ تبسم کی دوست عالیہ نے اس کو ایسے خاموش دیکھا تو پوچھ ہی لیا۔
’’ ارے تجھے آج کیا ہوا۔ روز تو چہرہ کھلا کھلا رہتا ہے ۔آج ایسی کیوں نظر آ رہی ہو۔‘‘
نہیں عالیہ۔ ایسی کوئی بات نہیں۔ رات دیر سے سو ئی تو نیند آ رہی ہے۔‘‘تبسم نے عالیہ کی بات کو ٹالتے ہوئے کہا۔دونوں سہیلیاں کلاس لینے کے بعد گھر کے لیے رخصت ہو گئیں۔
شام ہو چکی تھی ۔تبسم جب گھر پہنچی تو دیکھا اس کی امی سو رہی ہے اور ماہین کے کمرے کا دروازہ بھی بند ہے۔ ملا زمہ نے دروازہ کھولا۔ تبسم نے گھر میں داخل ہو کر زور سے سلام کیا۔
’’ اسلام علیکم۔اور فاطمہ جو بر آمدے میں ہی سو رہی تھیں اٹھ کھڑی ہوئیں۔
’’ وعلیکم السلام۔آج دیر ہو گئی آ نے میں۔‘‘ فاطمہ نے کہا۔
’’ ہاں امی۔ آج تو راستے میں بہت ٹریفک تھا۔‘‘ تبسم نے آ رام سے اپنی امی سے سلام دعا کی اور اپنے کمرے میں چلی گئی اور امی کی آ وازیں تبسم کے کان میں آ نے لگیں۔
’’ آجا ئو بیٹا کھانا لگا دیا ہے۔‘‘
لیکن تبسم کی بھوک پیاس آج نہ جانے کہاں چلی گئی تھی۔ اس کو بس اپنے بھائی کا خیال آ رہا تھا کہ بھائی اب اس سے بات بھی نہیں کریں گے۔ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔ اس کی اتنی عمر بھی نا تھی اور نہ ہی ایسا کوئی تجربہ تھا کہ وہ کچھ سمجھ پاتی۔ تبسم کمرے سے با ہر آ ئی اور بولی۔
’’امی آج بھوک نہیں ہے۔ آپ کھانا نہ پکائیں۔‘‘فاطمہ نے کہا۔
’’ کیوں پورے دن کی تھکی ہاری آ ئی ہو۔ کیا اب بھی تم کو بھوک نہیں لگی۔ میں نے بھی آج کھانا نہیں کھایا۔ چلو دو نوں کھاتے ہیں۔‘‘یہ سن کر تبسم کو بڑا تعجب ہوا اور وہ دستر خوان پر بیٹھ گئی اور بو لی۔
’’ کیوں امی ۔بھا ئی نے تو نا شتے کو منع کیا تھا۔ کیا دو پہر کو بھی آپ نے کھانا ان کے ساتھ نہیں کھایا؟‘‘
’’ ارے پگلی۔ چپ کر اور چپ چاپ کھانا کھا لو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ماہین کے کانوں میں تمہاری آ واز آ جائے اور اسے برا لگے۔ گھروں میں تو ایسی باتیں ہوتی رہتی ہیں۔ دل پر نہیں لیتے بیٹا۔‘‘ فاطمہ نے تبسم کو سمجھاتے ہوئے اور اس کو کسی بھی معاملے میں غلط بیانی نہ کر نے کی غرض سے یہ بات کہی اور دونوں ماں بیٹی کھانا کھانے لگیں۔
تبسم تو ہر بات سے انجان تھی۔ اس کو کیا معلوم تھا کہ اس کے بھائی اور بیوی اب الگ رہنے کا منصوبہ بنا چکے ہیں اور آج دن میں اس کی ماں فاطمہ کو دو نوں ہی نے نہ پو چھا اور نہ کوئی بات کی۔ آفتاب کا دفتر گھر سے قریب ہی تھا اور دو پہر کو کھانا کھانے گھر ہی آیا کرتے تھے۔ فاطمہ نے تبسم کو کچھ نہ بتایا کہ کہیں تبسم کے دل میں بھائی کے لیے غلط خیال نہ آ ئے۔
ایسے ہی کئی روز گذر چکے تھے۔ دو نوں میاں بیوی الگ کھاتے ،پکاتے اور اپنے کمرے میں رہتے اور ان کی ماں اور بہن ایک وقت کھا کر اپنا دن گذار دیتی لیکن دو نوں نے ہی کسی سے کوئی شکایت نہ کی۔
ایک دن رات کے وقت بر آ مدے میں بیٹھی تبسم چاند کا دیدار کررہی تھی اور چاند کو دیکھتے ہوئے اپنی امی سے بو لی۔
’’ امی کتنا خو بصورت ہو تا ہے نا چا ند۔‘‘
’’ ہاں بیٹی ۔ چاند تو ہو تا ہی خو بصورت ہے۔ لیکن دنیا والے اس میں بھی تو داغ بتا تے ہیں۔‘‘ فاطمہ بھی چاند کی طرف دیکھ کر بو لی۔
پھر تبسم نے کہا۔’’امی ابو بھی تو چاند تھے نا۔ مجھے ایسا لگ رہا ہے جیسے میں ابو کو دیکھ رہی ہوں۔‘‘
اور فاطمہ کی آ نکھوں میں آ نسو آ گئے اور وہ چپ چاپ بیٹھی رہی۔
تبسم کے لیے کالی رات میں خوبصورت چاند کا دیدار قسمت میں نہ تھا۔ اس نے جو خواب اپنے رشتوں میں دیکھے تھے وہ سب چکنا چور ہو تے جا رہے تھے۔ پہلے باپ کا سایہ سر سے اٹھ چکا تھا۔ اس کے بعد بڑا بھائی جو باپ کی جگہ ہو تا ہے اس نے بھی خیریت لینا نہ جانے کیوں بند کردیا تھا۔تبسم نے ایک بار پھر اپنی ماں سے سوال کیا۔
’’ امی بھائی کیوں بدل گئے؟‘‘فاطمہ نے پھر اس کو سمجھا یا۔
’’ دیکھو بیٹا جو جس حال میں خوش رہنا چا ہے رہ سکتا ہے۔ ہمیں کسی چیز کی کمی تھو ڑی ہے۔ آفتاب ایسے خوش ہے تو کیا برا ئی ہے۔ میں تو بس تم سب کی خو شیوں میں اور تم سب کے لیے زندہ رہنا چاہتی ہوں۔ اب میری زندگی کا مقصد تم بچے ہی ہو۔‘‘
فاطمہ تبسم سے بو لتی جا رہی تھی۔ ایک دم آ فتاب وہاں آ دھمکا اور بو لا۔
’’ہاں کیا مقصد رہ گیا ہے تمہارا؟ تمہارا مقصد تو بس میری بیوی کو ٹوکنے کا رہ گیا۔ ہر کسی میں برا ئیاں نکالنے کا رہ گیا۔‘‘
اتنا سننا تھا فا طمہ کی آ نکھوں سے آ نسو نکلنے لگے اور بو لی۔
’’بیٹا مان جا اب بھی میری بات غلط بیانی اور غلط فہمیاں رشتے اجاڑ دیا کرتی ہیں۔‘‘
’’ ہاں اجاڑ دیا میں نے رشتہ اور مجھے تمہاری شکل دیکھنے کا اب دل بھی نہیں کرتا۔ نہ مجھے اس لڑ کی کی محبت رہ گئی۔‘‘ آفتاب بہت ہی غصے میں پتا نہیں اپنی ماں اور بہن کے لیے کیا کیا بولتا جا رہا تھا اور اس کی بہن بیٹھ کر یہ سب تما شا دیکھ رہی تھی۔
تبسم سے برداشت نہ ہو سکا۔ کیونکہ ایک وقت میں تو وہ ایسی لڑ کی تھی جو اپنے باپ کے دم پر حاضر جوابی سے سب کو شرمندہ کردیا کرتی تھی۔ لیکن باپ کے جانے کے غم نے اس کو بہت کچھ سکھا دیا تھا۔ لیکن آج یہ سب دیکھ کر اس سے برداشت نہ ہوا اور وہ بے ساختہ بول اٹھی۔
’’بھائی اپنی یہ گندی زبان ماں کے لیے استعمال نہ کرو۔ جائو اپنے کمرے میں جا کر آ رام کرو۔‘‘
آفتاب کو بس یہ سننا تھا تو وہ آ گ بگو لہ ہو گیا اور ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ وہ آ ج اپنی بہن کا خون کر دے گا۔ اس نے تبسم کے بال پکڑ لیے اور بو لا۔
’’ تو تو بالکل ہی چپ رہنا، تجھے نکالنے کا انتظام تو میں کررہا ہوں۔ تیرا منہ تو کالا جلد ہی کرا ئوں گا۔‘‘
یہ دیکھ کر فاطمہ کو بہت غصہ آیا اور اس نے آفتاب کا ہاتھ تبسم کے بالوں سے چھڑاتے ہوئے کہا۔
’’ اسی وقت گھر سے نکل جا۔ ابھی اس کا باپ مرا ہے لیکن ماں زندہ ہے۔ لیکن آ فتاب بد کلامی کرتا ہوا اپنے کمرے کی طرف لپکااور دیکھا ماہین کھڑی ہوئی رورہی ہے۔اس نے ماہین کا ہاتھ تھا ما اور اس کو پیار سے اپنے کمرے میں لے جاتے ہو ئے بو لا۔
’’ ارے کیوں پریشان ہو تی ہو۔ ہما را کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا، آئو اندر آئو۔‘‘
آج کا یہ تماشا جیسے تبسم کی زندگی کو ختم کردینے والا واقعہ تھا۔ وہ زار و قطار رو رہی تھی اور فاطمہ اپنی بیٹی کے بالوں کو پیار سے سہلا رہی تھی۔ تبسم کے منہ سے آج بھی صرف ابو ابو کی آ وازیں نکل رہی تھیں۔ اور روتے روتے وہ آ ج اسی طرح لیٹ گئی اور فاطمہ بھی اس کے ساتھ بر آمدے میں ہی لیٹ گئی۔
آج تبسم کی نیند غائب تھی۔ اس نے آ ج پہلی مرتبہ بدلتے رشتوں کو بھی دیکھ لیا تھا۔ تبسم سوچ میں ڈوبی ہو ئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’ یہ سب کیا ہو رہا ہے میرے ساتھ؟ کیا قصور ہے میرا کیا یہ کہ میں ایک لڑ کی ہوں یا پھر یہ کہ میں اپنے والد یعنی اپنی امید اور اپنا پہلا پیار کھو چکی ہوں۔ اس سے پہلے تو بھائی نے کبھی تو سے بھی مجھ سے بات نہیں کی اور آج بھا ئی نے میرے اوپر ہاتھ اٹھایا۔ یہ بات میں زندگی میں کیسے بھول پا ئوں گی۔ ایسا ہوا ہی کیوں۔ بھابھی بھی مجھ کوبچانے نہیں آئیں جب کہ میں ان سے سب کام، سب باتیں شیئر کرتی ہوں۔ کیا ایسا تو نہیں کہ بھا بھی نے ہی بھائی سے کوئی میری شکایت کردی ہو جس پر بھائی اتنا ناراض ہوئے ہیں۔‘‘
تبسم کے دماغ میں نہ جانے کیا کیا سوالات آ رہے تھے اور ایسے ہی سوچتے سوچتے صبح ہوگئی۔ تبسم نے دیکھا کہ اس کی ماں نماز پڑھ رہی ہے اس نے بھی وضو کیا اور نماز کے لیے کھڑی ہو گئی اور جب نماز سے فارغ ہو کر دعا کے لیے ہاتھ اٹھا ئے تو بے ساختہ ہی اس کی آواز بلند ہو گئی اور وہ چیخ چیخ کر رونے لگی۔ یہ دیکھ کر فاطمہ بھی گھبرا گئی اور انہوں نے اسے آ واز لگائی۔
’’ تبسم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تبسم۔۔۔کیا ہوا ۔کیو رورہی ہے۔‘‘
تبسم کے تو کانوں پر جیسے آج پردہ تھا۔ اس کو امی کی کوئی آ واز سنائی نہ دی۔ اتنے میں اس کے رونے کی آ واز سن کر آفتاب اور ماہین بھی اپنے کمرے سے نکل آئے اور ماہین بول اٹھی۔
’’سب ڈرا مے ہیں۔ یو نیورسٹی میں جاکر یہ سب ڈرا مے ہی تو سیکھے جاتے ہیں۔‘‘فاطمہ نے جب یہ سنا تو وہ بولیں۔
’’ماہین بس بہت ہوا۔ اب معلوم ہو گیا ہے کہ تم کو اس کے یو نیورسٹی جانے سے ہی پریشا نی ہے۔ پہلے معلوم ہوتا تو میں بھی اپنے بچے کے لیے پڑھی لکھی بہو کا انتخاب کرتی۔ ‘‘
آج اپنی بچی کے لیے نہ جانے فاطمہ کے اندر کہاں سے ابال آ گیا اور اس کے بدلتے تیور دیکھ کر آ فتاب پھر سے بیچ میں کود پڑا۔
’’ میری بیوی کو ایک لفظ بھی کہا نا دو نوں کو گھر سے با ہر نکال دوں گا۔ تم دو نوں ہی ڈرا مے باز عورتیں ہو۔‘‘
فاطمہ نے غصہ سے کہا تو جو اتنا اُ بل رہا ہے ۔بات کیا ہوئی پتہ تو چلے۔ میری غلطی ہو تو ہزار بار معافی مانگ لوں گی اور تبسم بھی‘‘
’’ غلطی۔۔۔۔۔۔۔غلطی تو تم دو نوں ماں بیٹی کی ہے۔ دس دن سے میری بیوی الگ کھانا کھا رہی ہے۔ اس کا خیال تک نہیں تم دو نوں کو اور اسے یونیورسٹی بھیج دیتی ہو۔ گھر کی ذمہ دار کیا صرف میری بیوی ہے؟‘‘
’’ اب اگر ایسا ہے کہ شو ہر کا کام بھی ملا زمہ کرے تو بیٹا کل سے ماہین کو تیرا بھی کوئی کام نہیں کرنے دوں گی۔ لیکن خدا کا واسطہ یہ سب تما شا نہ کر۔ میرا دل اس قابل نہیں۔‘‘فاطمہ نے اپنے بیٹے کے آگے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا۔
’’ جی ہاں، آپ یہی تو چاہتی ہیں کہ ہم میاں بیوی کے درمیان محبت پروان نہ چڑھے۔ ماہین پھر سے بول اٹھی
صبح ہی صبح یہ سب تما شا دیکھ کر تبسم بہت اداس ہوئی ۔ اس نے ماں کا ہا تھ پکڑا اور ان کو اپنے کمرے میں لے گئی۔ پیچھے سے آ فتاب کی آ واز آئی۔
’’ دو نوں اس کمرے کو اپنی قبر بنا لو۔‘‘
لیکن فا طمہ نے کو ئی جواب نہ دیا۔ وہ تو حیران تھی کہ جس بہو کے اخلاق پر وہ فدا تھیں اور جس کی سادگی پر فریفتہ ہوکر اسے اپنی بہو بنا کر لائی تھیں، اس نے آج بیٹے کے دل میں ان کے خلاف کتنا زہر بھر دیا تھا کہ بیٹا کوئی بات سننے کو ہی تیار نہ تھا۔اور بہو کی بد تمیزیاں بھی روز بروز بڑھتی چلی جارہی تھیں۔
معاشرے کے اگر دو نوں پہلو دیکھے جائیں یعنی اگر اچھی ساس نہ ملے تو بھی عورت پریشان اور اگر اچھی بہو نے ملے تو بھی عورت پریشان۔ عورت ہی عورت کی دشمن بنی ہوئی ہے اور تبسم جیسی پڑھی لکھی لڑ کی سے ایک ان پڑھ عورت کا مقابلہ ہر ذی شعور کو سمجھ میں آ سکتا ہے۔ آج کے دور میں تعلیم کی رو شنی بہت ضروری ہے ورنہ اندھیرے مقد ر ہوجائیں گے۔کیو نکہ تعلیم جینے کا سلیقہ سکھاتی ہے۔ اسی طرح تبسم اور ماہین کا مقابلہ تھا۔ ماہین جس نے صرف معمولی تعلیم ہی حاصل کی تھی اور شاید اسی وجہ سے وہ تبسم سے حسد کر نے لگی تھی اور اس احساس کم تری نے اسے اچھے بھلے خاندان کو بربادی کے راستے پر ڈال دیا تھا۔ کیونکہ تبسم خوبصورت، ملنسار اور اوپر سے اعلیٰ تعلیم حاصل کر نے والی طالبہ تھی۔ سبھی اس کو بہت زیادہ پسند کرتے تھے ۔ اسی حسد کی آگ نے ماہین کو اس کا دشمن بنا دیا تھا۔
اگلا دن ہوا تبسم نے صبح اٹھتے ہی اپنی امی سے کہا۔
’’ امی بھائی کو نا شتے پر بلا لیجئے۔‘‘
’’ کوئی ضرورت نہیں ہے جب غصہ ٹھنڈا ہوجائے گا خود آکر معافی مانگے کا تب میں اس سے بات کروں گی۔‘‘
’’ لیکن امی ماں کا ناراض ہو نا تو بہت بڑا گناہ ہو تا ہے۔ کیا میں بھائی سے کہہ آئوں‘‘
’’ نہیں ۔کوئی ضرروت نہیں۔‘‘ فاطمہ نے غصے سے جواب دیا اور سوچنے لگی کہ کیا زمانہ تھا۔ سراج صاحب اور میرے تینوں بچے کتنے خوش و خرم زندگی گزار رہے تھے۔لیکن آج ہما ری خو شیوں کو نہ جانے کس کی نظر لگ گئی۔ کیا زمانہ آگیا ہے۔ رشتوں کا تقدس پا مال ہو تا جا رہا ہے۔ بھا ئی تو ابھی سے میری بچی کا دشمن بن بیٹھا ہے۔ خدا جانے میرے بعد میری بچی کا کیا بنے گا۔یہ سب سوچتے سوچتے ان کے کا نوں میں آ واز آئی۔
’’اسلام علیکم۔۔۔۔۔۔۔امی جان!‘‘
فاطمہ نے پلٹ کر دیکھا تو ان کا چھو ٹا بیٹا سہیل سامنے موجود تھا۔
’’وعلیکم السلام بیٹا۔ جیتے رہو۔ اللہ خوش رکھے! آگیا میرے بچے۔‘‘
’’جی امی چند روز کی چھٹیاں ہیں سو چلا آ یا۔ آپ سب کی بہت یاد آ رہی تھی۔‘‘
’’ بہت اچھا کیا بیٹے۔ ہم سب بھی تجھے بہت یاد کررہے تھے۔ کا فی دن ہو گئے تھے تمہیں گئے ہو ئے۔
فاطمہ زارو قطاررو نے لگی۔
’’ ارے امی۔ کیوں رو رہی ہیں۔ میں آ تو گیا ہوں اور اب آپ کو بھی ساتھ ہی لے جائوں گا۔‘‘ سہیل نے اپنی ماں کو دلاسا دیتے ہوئے کہا۔
’’ السلام علیکم بھا ئی۔ تبسم نے اپنے کمرے سے با ہر نکل کر بھائی کو سلام کیا اور ملا زمہ کے ساتھ بھائی کے کھانے کا بندو بست کرنے چلی گئی۔باورچی خا نے میں تبسم سوچنے لگی۔ کافی دنوں کے بعد سہیل بھائی آئے ہیں۔ ان کے آنے کی اتنی خوشی ہو رہی ہے۔ نہ جانے میری خوشی کب تک قائم رہے گی۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ سہیل بھائی بھی اپنی شادی کے بعد مجھ پر ہاتھ نہ اٹھا دیں۔تبسم کے دماغ میں نہ جانے کیسے کیسے خیالات آ رہے تھے کہ اچا نک ہی سہیل با ورچی خانے میں چلا آ یا اور بولا۔
’’اور بھئی چھٹکی کیا بنا رہی ہو کھانے میں؟‘‘
’’ اب میں چھٹکی نہیں رہی بھائی۔ تمہاری بہن اب بڑی ہو گئی ہے۔ بہت بڑی۔‘‘ تبسم نے جھنجھلاتے ہو ئے جواب دیا اور سہیل اس کو چھیڑتا ہوا با ہر نکل آ یا۔
آخر کار وہ دن آ ہی گیا جب تبسم کا رشتہ طے کیا جانے لگا۔ تبسم جو ابھی اور پڑھنا چاہتی تھی اور دنیا میں اپنے ماں باپ کا نام روشن کرنا چاہتی تھی۔ اس کے سب ارمانوں پر پانی پھر گیا تھا اور اس کے خوابوں کے ٹوٹنے کا سلسلہ ہنوز جاری تھا۔فا طمہ چاہتی تھی کہ تبسم ان کی آنکھوں کے سامنے ہی اپنے گھر بار کی ہو جائے۔ لیکن تبسم کے دماغ میں شادی کو لے کر بہت الجھن تھی اور وہ کوئی فیصلہ نہیں کر پا رہی تھی۔
لیکن تبسم کا رشتہ طے کردیا گیا اور اس کی شادی کی تاریخ بھی طے ہو گئی اور فاطمہ نے اس کی شادی کی تیاریاں شروع کردی تھیں۔
شادی کا دن بھی آ گیا ۔بہت سی رسومات کے بعد رخصتی کی گھڑی بھی آن پہنچی۔ سرخ جو ڑے میں ملبوس سہمی ہوئی سی تبسم بے حد خو بصورت لگ رہی تھی۔ اس کی خو بصورتی میں آج اور اضا فہ ہو گیا تھا، کمرے میں سادگی کے ساتھ تبسم کا نکاح ہوا اور فا طمہ نے تبسم کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا۔
’’ جائو بیٹی! اللہ کی امان میں رہو۔‘‘
تبسم کے سر پر آج آفتاب نے بھی آ کر ہاتھ رکھا۔ تبسم کو ان سے مل کر رو نے کا دل تو بہت چا ہا۔ لیکن اس کے دماغ میں ایک دم سے وہ سب باتیں آنے لگیں جس دن آ فتاب نے اس کا منہ کالا کر نے کی بات کہی تھی۔ ادھر ماہین بھی آج سب سے خوشی کا اظہار کررہی تھی۔
پورا گھر تبسم کو گاڑی تک چھوڑنے آ یا اور اسے الوداع کہا۔
گھر کی رو نق کو رخصت کر کے بیٹھے ہی تھے کہ اچا نک فون کی گھنٹی بجی۔ سہیل نے فون اٹھایا اور کہا۔
’’ کیا۔۔۔۔۔۔۔۔کیا۔۔۔۔۔۔تبسم تو ٹھیک ہے نا۔۔۔۔۔۔۔آتے ہیں۔۔۔۔۔ہم لوگ آتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔فاطمہ نے پریشان ہو کر پوچھا۔
’’ کیا ہوا سہیل؟ ۔۔۔۔۔۔کہاں ہے تبسم۔‘‘
اور سہیل نے بغیر کچھ بتائے اپنی امی اور بھائی آفتاب کو ساتھ لیا اور سول ہسپتال پہنچ گئے۔ وہاں دیکھا کہ بھیڑ لگی ہوئی ہے اور تبسم کی ساس کا رو رو کر بہت برا حال ہے۔
’’ کیا ہوا ہے؟ تبسم کہاں ہے؟‘‘
’’ کار ایکسیڈنٹ میں دولہا اور دولہن دو نوں مرچکے ہیں۔‘‘ایک آدمی بھیڑ میں سے بول اٹھا۔
’’ کیا؟‘‘سہیل نے اس آدمی کا گریبان پکڑ لیا اور زور زور سے رو نے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’ میری بہن نہیں مرسکتی۔۔۔۔۔میں تجھ کو جان سے مار دوں گا۔۔۔۔۔۔‘‘
’’ہاں صاحب یہی سچ ہے‘‘ہائی وے پر ٹرک نے پیچھے سے آکر گاڑی کو ٹکر ماری اور گاڑی پلٹ تے ہوئی آگ کی لپٹوں میں گھر گئی،جس میں دولہااور دلہن اور دولہا کی بہن اور ڈرائیور نے موقعے پر ہی دم توڑ دیا‘‘۔
اس آدمی نے جب بے ساختہ یہ سب سہیل کے آگے بولا تو سہیل وہاں زمین پر ہی بیٹھ کر رونے لگا اور تبسم تبسم پکارنے لگا تمام لوگوں کی آنکھوںمیں بھی سہیل کو ایسا روتا دیکھ آنسو آگئے۔
لیکن یہی سچ تھا۔ ہنستی کھیلتی تبسم اپنے مالک حقیقی اور اپنے ابو سے جاملی تھی۔تمام خوا بوں کو دل میں دفنا کر اور تمام چیزوں کو بدلتے دیکھ کر تبسم نے اس دنیا کو ہی الوداع کہہ دیا تھا اور اس کے خواب اس کے ساتھ قبرستان میں دفن ہو گئے تھے۔آفتاب ایک کونے میں کھڑالاحاصل ندا مت کے آنسو بہا رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
٭٭٭
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

