’’پانچ روزہ بین الا قوامی کثیر لسانی نوجوان اردو اسکالرس فیسٹیول سے متعلق تاثرات کا اظہار‘‘موضوع پر آن لائن پروگرام کا انعقاد
میرٹھ3؍ نومبر
شعبۂ اردو، چو دھری چرن سنگھ یونیورسٹی میں منعقدہ یہ سیمینار دوسرے ممالک یں بھی دیکھا اور سنا جارہا ہے اور چہار سو اسی کے چر چے ہیں۔ہندوستان اور ہندوستان سے باہر اردو کے فروغ کے لیے ایسے سیمینار کی اشد ضرورت ہے۔میری نظر سے اس طرح کے بہت کم پروگرام گزرے ہیں۔ جن میں بڑی تعداد میں پروفیسرز ،ڈاکٹرز،ناقدین اور محققین اور فکشن نگار شامل رہے۔ یہ الفاظ تھے معروف ادیب و شاعر عارف نقوی ،جرمنی کے جو ادب نما پروگرام کے تحت ’’پانچ روزہ بین الا قوامی کثیر لسانی نوجوان اردو اسکالرس فیسٹیول سے متعلق تاثرات کا اظہار‘‘موضوع پر آن لائن پروگرام کے دوران اپنے تاثرات میں ادا کررہے تھے۔
اس سے قبل پرو گرام کا آغازسعید احمد سہارنپوری نے تلاوت کلام پاک سے کیا۔عظمیٰ پروین نے پروگرام کا تعارف پیش کیا ۔پروگرام کی صدارت کے فرائض معروف ادیب و ناقد اور صدر شعبۂ اردو پروفیسر اسلم جمشید پوری نے انجام دیے۔ ڈاکٹر آصف علی اور ڈاکٹر شاداب علیم نے پانچ روزہ بین الا قوامی کثیر لسانی نوجوان اردو اسکالرس فیسٹیول کے تمام پروگراموں شامِ غزل، محفل افسانہ،میجک شو، آرٹ گیلری،بک فیئر،عالمی مشاعرہ،ڈراما اوراردو،ہندی،فارسی،انگلش،سنسکرت کے اجلاس کے علاوہ بنات کے مختلف اجلاس پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ نظا مت کے فرائض ڈاکٹر ار شاد سیانوی نے انجام دیے۔
عالمی فیسٹیول کے تعلق سے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے عذرا نقوی نے کہا کہ پروفیسر اسلم جمشید پوری نے اردو کی پو ری کہکشاں میرٹھ میں اس طرح سے سجائی تھی کہ بنات کی ہر بہن اس کا تاثر لے کر گئی۔ ایسا لگ رہا تھا کہ اردو کی ہرع ایک صنف پر دل جمعی کے ساتھ طبع آزمائی کی جا رہی ہو۔
اپنے تاثرات میں پروفیسر صالحہ رشید نے کہا کہ کہ پروگرام تو نہا یت کامیاب ہوا ہی لیکن اس کے پیچھے شعبۂ اردو کے تمام اساتذہ اور غیر تدریسی عملے نے نہایت فعال ہونے کا ثبوت فراہم کرتے ہوئے اس فیسٹیول کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔اور پروفیسر اسلم جمشید پوری کی نگرا نی میں ان کی پوری ٹیم نے اس پرو گرام میں چار چاند لگانے کا اہم کار نامہ انجام دیا ہے پوری ہی ٹیم کو مبارک باد!
ڈاکٹر ریحانہ سلطانہ نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پروفیسر اسلم جمشید پوری نے اس پروگرام کے ذریعے اردو دنیا کو ایک جگہ اکٹھا کر نے منفرد کار نامہ انجام دیا ہے جسے برسوں تک یاد رکھا جائے گا۔حالانکہ میں بہت کم وقت وہاں رہی لیکن پرو گرام کی کامیابی اور اسلم صاحب کی محنت کو دیکھ کر ہم میں نئی راہ اور نیا جوش و جذ بہ پیدا ہو تا ہے۔
غزل سنگر مکیش تیواری نے کہا کہ میں اکثر شعبۂ اردو میں جاتا رہتا ہوں ۔ایک ماہ گزرنے سے پہلے ہی میں اسلم صاحب کو فون کر کے ان کی خیریت لیتا ہوں اور اسلم صاحب بھی مجھے اپنے ہر پروگرام میں یاد رکھتے ہیں۔میری بھی کوشش ہوتی ہے کہ اپنی غزلوں کے ذریعے سامعین کو خوب محظوظ کروں۔
ڈاکٹر عرفان عارف نے کہا کہ خواہ شاعری ہو یا ڈراما ،اردو کے مقالات ہوں یا میجک شو،سیمینار کا ہر سیشن اپنی انفرادی حیثیت رکھتا تھا۔عالمی مشاعرے میں عذرا نقوی کی نظامت میں مجھے بھی کلام پڑھنے کا موقع دیا گیا اور میری خوش نصیبی ہے کہ میرٹھ کی خبروں میں میرے شعر کا ایک مصرع سرخی بن گیا ہے۔
صدر بنات ڈا کٹر نگار عظیم نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اتنا بڑا پروگرام پروفیسر اسلم جمشید پوری نے اپنی ٹیم کے ساتھ مل کر کامیابی کے ساتھ اختتام تک پہنچایا۔ ہما ری بنات کی بہنیں بھی دور دراز شہروں اور صوبوں سے تشریف لائی تھیں اور اب تک بھی سفر میں ہیں لیکن ہر بہن نے پروگرام کی کامیابی کو دیکھتے ہو ئے اسلم صاحب کو دعائوں سے نوازا اور میرا بھی اسلم صاحب کو مشورہ ہے کہ وہ اپنے صحت کا بھی ضرور خیال رکھیں اور پروگراموں کو کسی حد تک کم کردیں۔
آخر میں پروفیسر اسلم جمشید پوری نے کہا کہ ہم نے یہ پروگرام اپنی پو ری ٹیم کے ساتھ ملکر کامیابی تک پہنچایا۔ پرو گرام کا نظام بنانا میرا کام تھا لیکن اس کو عمل میں لانا میرے ساتھیوں کا۔میں ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے پوری جانفشانی سے اس پروگرام کو کامیابی سے ہمکنار کرایا۔
محمد شمشاد،شاہا نہ پروین، فیضان ظفر وغیرہ آن لائن موجود رہے۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

