اسماعیل میرٹھی کی نظمیں تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت بھی کرتی ہیـ: ڈاکٹر عبیداللہ چودھری
شعبۂ اردو، چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی میں’’ یوم اسماعیل ‘‘کا انعقاد
میرٹھ12؍ نومبر2022ء
اسماعیل میرٹھی بچوں کے ساتھ ساتھ عوام کے شاعر تھے۔لیکن آج ہما ری نئی نسل ان کی شاعری اور ان کے کارناموں سے نابلد ہے اور بہت تکلیف ہو تی ہے جب ایسے لوگوں کو نظر انداز کردیا جاتا ہے جو کہ ہمارے ادب کی بنیاد ہیں۔ اسماعیل میرٹھی نے نہ صرف یہ کہ عمدہ شا عری کی بلکہ ان کی شاعری میں تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت بھی موجود ہے۔ یہ الفاظ تھے لکھنؤ سے تشریف لائے ڈا کٹر عبید اللہ چودھری کے جوشعبۂ اردو، چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی،میرٹھ کے پریم چند سیمینار ہال میں منعقدہ پروگرام’’یوم اسماعیل‘‘ کے مو قع پر مہمان خصوصی کی حیثیت سے ادا کر رہے تھے۔ اس موقع پر ڈاکٹر عبید اللہ چودھری کی کتاب’’ یادوں کے خزانے سے‘‘ کا اجراء بھی عمل میں آ یا۔
اس سے قبل پرو گرام کا آ غاز سعید احمد سہارنپوری نے غزل سنا کر کیا۔پرو گرام کی صدارت کے فرائض صدر شعبۂ اردو پروفیسر اسلم جمشید پوری نے انجام دیے۔ مہمانوں کا استقبال ڈا کٹر آصف علی، نظا مت ڈا کٹر ارشاد سیانوی اور شکریے کی رسم محمد شمشاد نے انجام دی۔
اس مو قع پر ڈا کٹر شاداب علیم نے’’ جدید ذہن کا قدیم شاعر: اسماعیل میرٹھی‘‘ موضوع پر اپنا مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہاسماعیل میرٹھی کو اللہ رب العزت نے فطرت کا شاعر بنا کر بھیجا تھا۔ ان کی شاعری سے یہ امر واضح ہو جاتا ہے کہ بنی نوع انسان کی حر کات و سکنات ، اعمال و خصا ئل، فلسفہ و نفسیات،دیہی مناظر ،قدرت کی رنگینی، موسموں کی ترنگ، بچوں کی امنگ اور ان کی اخلا قی تربیت وغیرہ ان کی نظموں کے اہم مو ضو عات ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اسماعیل میرٹھی وہ شخص ہے جنہوں نے بہت پہلے یہ محسوس کر لیا تھا کہ اگر ہم چا ہتے ہیں کہ مسلم قوم ترقی کے منازل پر پہنچے تو ہم کو نو نہالان قوم کی تعلیم و تربیت کی طرف توجہ کر نا ہوگی۔ مولانا ایک عملی انسان تھے۔ قول وفعل میں انسلاک رکھتے تھے۔انہوں نے مسلم طلبہ کے لیے نصا بی کتب تا لیف کیں جو درجہ ایک سے درجہ پانچ تک تھیں۔ان کتابوں میں انہوں نے معلوما تی مضا مین کے ساتھ ساتھ اپنی متعدد نظمیں بھی شامل کیں ۔سادہ اور سلیس زبان میں کہی گئی یہ نظمیں اس دور کے تعلیم یافتہ اشخاص کے ذہنوں میں آج بھی محفوظ ہیں۔بچوں کے لیے کہی جانے والی نظموں کا اصل مقصد بچوں میں اعلیٰ اخلا قی اقدار پیدا کر نا تھا۔ جانور بچوں کے لیے شروع ہی سے خاص دلچسپی کا ذریعہ ہو تے ہیں۔گھر میں پلے کتے اور بلی بچوں کے لیے کھلو نا اور ایک دوست کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مولا نا نے اس نفسیاتی حقیقت کو مد نظر رکھتے ہوئے ’’اسلم کی بلی‘‘،’’ ہمارا کتا ٹیپو‘‘،’’ ہماری گائے‘‘ اور’’ چھو ٹی چیو نٹی‘‘ جیسی معروف نظمیں کہیں۔
آخر میں اپنا صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر اسلم جمشید پوری نے کہاکہ مولانا اسماعیل میرٹھی ان معدودے چند ادیبوں میں سے ہیں جنہوں نے اپنے ادب کے ذریعے ملک و قوم کی تعمیر میںنمایاں حصہ لیا ہے اورجب کو ئی ادیب مفکر، دانشور،شاعر اور ساتھ ہی ماہر تعلیم بھی ہو تا ہے تو اس ادب کی تو دنیا ہی بدل جاتی ہے اور وہ ادب آفاقیت کا حامل ہوجاتا ہے۔اسماعیل میرٹھی نے بھی اپنی تخلیقات سے نہ صر ف قوم کی اصلاح کا کام اوراتحاد و اتفاق کی فضا قائم کرنے کی کوشش کی بلکہ قوم کے نو نہالوں کے مستقبل کو سنوارنے وا لا ادب پیش کر کے انسانیت کے تن مردہ کی جڑوں کو سینچنے کا فریضہ انجام دیا اور یہ ان کا عظیم کارنا مہ ہے۔لیکن آج بہت افسوس ہوتا ہے کہ جس شاعر نے ہمیں اتنا کچھ دیا آج ہم انہیں ہی بھلا بیٹھے۔اسماعیل میرٹھی کی شاعری دل سے نکلتی ہے اور دل پر اثر کرتی ہے۔انہوں نے اردو ریڈر تیار کر کے جو کار نامہ انجام دیا ہے وہ نا قابل فرا موش ہے۔ اسما عیل میرٹھی کے ابھی بہت سے پہلو ایسے ہیں جن پر تحقیق کی ضرورت ہے۔ذہین طلبہ آ گے آئیں اور ان کے پو شیدہ گوشوں کو منظر عام پر لائیں اور عوام ان سے مزید استفادہ حاصل کریں۔
پروگرام میں استاتذہ کے علاوہ طلبہ و طالبات موجود رہے۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

