بندۂ مومن / اویس سنبھلی – زیبا خان
کورونا کال میں جن علمی و ادبی شخصیات نے داعی اجل کو لبیک کہا ان کی بھرپائی سالہا سال تک ممکن نہیں۔ مگر ان ادبی و علمی چراغوں سے نکلنے والی روشنی برسوں تلک آنے والی نسلوں کو روشن کرتی رہے گی۔ اسی فہرست میں شامل حضرت مولانا عبد المومن ندوی نقشبندی نور اللہ مرقدہ کی حیات و خدمات اور اوصاف و کمالات پر مبنی مضامین کا مجموعہ مرتب کرکے محمد اویس سنبھلی نے انہیں جو خراج عقیدت پیش کیا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ محمد اویس سنبھلی ،سنبھل سے تعلق رکھنے والی ایک ایسی شخصیت جو کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔ علمی ادبی اور صحافت کے میدان میں متحرک اس نوجوان ادیب کی دس سے زائد تصانیف و مرتب کردہ کتابیں منظر عام پر آ چکی ہیں۔ جن میں حفیظ نعمانی ایک عہد ایک تاریخ، باغ سنبھلی کی شعری کائنات، نذر شارب، افسانوی ادب اور حیات اللہ انصاری وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ یہ کتاب ” بندۂ مومن” اردو زبان و ادب کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا چکے اویس سنبھلی کی اسی کڑی کی ایک اہم کتاب ہے۔ کتاب کی فہرست میں پیش لفظ حضرت مولانا محمد زکریا سنبھلی ندوی کا درج ہے۔ تعزیتی مراسلات میں مولانا محمد سعد کاندھلوی ، مولانا محمود اسعد مدنی اور مولانا محمد میاں قاسمی صاحب کے تعزیت نامے ہیں۔ عرض مرتب میں محمد اویس سنبھلی لکھتے ہیں،
” مولانا کو جن لوگوں نے نہیں دیکھا ہے ان کے لئے اس اتنا بتا دیں کہ کھلا ہوا رنگ ، نورانی چہرہ، شگفتہ پیشانی ، بڑی بڑی روشن آنکھیں، جواں عزم، بیدار دماغ ، روشن خیال، عالی فکر، بحیثیت انسان متواضع ، خلیق ، منکسر المزاج ، خوردنواز، نہ نحیف نہ نزار اور نہ لحیم شحیم بلکہ متوسط قد و قامت ، سفید لباس میں ملبوس ، المختصر اس دور ریاکاری میں بے ریا انسان ۔” گویا ان چار لائنوں میں مولانا کو نہ دیکھنے والے بھی انہیں پوری طرح دیکھ لیتے ہیں۔ مولانا کے اوصاف بیان کرتے ہوئے مزید لکھتے ہیں،
” اشاعت اسلام ان کی زندگی کا مقصد تھا اور زمانے میں پھیلی ہوئی بدعات اور مشرکانہ رسوم کا خاتمہ، حقیقی معنوں میں سماج کی اصلاح ان کی زندگی کا نصب العین تھا۔ اس سلسلے میں انہوں نے بے شمار کوششیں کی، جس میں انہیں خوب خوب کامیابی نصیب ہوئی ۔ وہ اپنی زندگی کے آخری لمحے تک معاشرے کی اصلاح کی فکر کرتے رہے یہاں تک کہ جان جان آفریں کے سپرد کر دی ۔ حق تو یہ ہے کہ خاک دان سنبھل کو ان پر اسی لیے ناز بھی ہے کہ دینی اعتبار سے سنبھل جیسی اجڑی ہوئی زمین کو انھوں نے ایک نئی زندگی عطا کی۔ ”
کتاب کو تین ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلا باب ‘ مولانا عبد المومن ندوی :اپنے گھر والوں کی نظر میں ‘ ، جس میں گیارہ مضامیں شامل ہیں ۔ جو عم زاد ، چچیرے بھائی، بھتیجے بھتیجیوں کے قلم سے نکلے ہوئے سچے جذبات کی ترجمانی ہیں۔ مضمون ” چچا جان” میں ایمن حبیب نعمانی لکھتے ہیں ،
” اللہ رب العزت نے انہیں بے شمار خصوصیات سے نوازا تھا، وہ ہمارے خاندان کے ایک محسن و مربی انسان تھے۔ جنہیں ہر وقت خاندان کے ہر بچے کی فکر دامن گیر رہتی تھی وہ تمام ہی بچوں کے حق میں ایک مشفق و مربی کی حیثیت رکھتے اور بچوں کے لئے بہت دعائیں کرتے تھے ، جب میرے امتحان قریب ہوتے تو میں چچا جان سے دعاؤں کی گزارش کر کے اتنا مطمئن ہو جاتا تھا کہ خود دعا کرنا بھول جاتا تھا ۔”
دوسرا باب "نقش ہائے رنگ رنگ” ہے، جس میں مولانا سے محبت و عقیدت رکھنے والے افراد کے سولہ مضامین شامل ہیں ۔ ‘ ڈھونڈو گے ہمیں ملکوں ملکوں ۔۔۔’ مولانا راحت مظاہری قاسمی، ‘ اب انہیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کر’ مولانا محمد خیر الدین ، ‘ مشت اسلامیہ کا ایک مخلص کھیون ہار۔۔’ مولانا محمد اشرف علی، ‘ ہمارے روحانی والد’ محمد فروغ یوسف وغیرہ قابلِ ذکر ہیں جن میں مولانا اپنی تمام تر صفات سے ساتھ اعلی درجے پر فائز ہیں۔
تیسرا باب ” شاگردوں کا نذرانہ” ہے۔ جس مولانا عبد المومن ندوی کے شاگردان رشید کے چودہ مضامین ‘ ایک شجر سایہ دار تھا ، نہ رہا ‘ ڈاکٹر عنایت اللہ وانی ندوی ، ‘ ایک انسان کئی کردار ‘ ڈاکٹر عبد الواسع ندوی، ‘ مدتوں رویا کریں گے جام و پیمانہ تجھے’ مولانا محمد داؤد ندوی سنبھلی ، ‘ ذکر ایک بےمثال ہستی کا’ مولانا صدام حسین ندوی وغیرہ شامل ہیں۔ جن میں مولانا عبد المومن ندوی کے شاگردوں نے مولانا کی اپنے شاگردوں سے بے لوث محبت، مخلص طبیعت ، مشفق باپ کی طرح شاگردوں کی تربیت کا ان کی رہنمائی و حوصلہ افزائی غرض مولانا عبد المومن ندوی کی شخصیت کے کئی ان کہے پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے۔ڈاکٹر عبدالواسع ندوی اپنے مضمون ” ایک انسان کئی کردار ” میں لکھتے ہیں،
” تربیت کے باب میں مولانا کا اخلاقیات پر بہت زور رہتا تھا۔ ہمیشہ اعلیٰ اخلاق کی تعلیم دیتے تھے، اور اس سلسلے میں ادنی کوتاہی بھی برداشت نہیں کرتے تھے، یہی وجہ تھی کہ طلبہ کے لیے صرف ولیمہ یا عقیقے کی ہی دعوت قابل قبول تھی۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی شادی کے موقع پر کسی بھی طرح کے لین دین کی شدت سے مخالفت تھی۔ مولانا طلباء کو سختی سے تلقین کرتے تھے کہ اس سے بڑھ کر ڈوب مرنے کی کوئی بات نہیں کہ ایک دینی علم و شعور رکھنے والا جہیز جیسی لعنت میں مبتلا ہو۔ ”
مجموعی طور پر اس کتاب میں مولانا عبد المومن ندوی کی شخصیت پوری آب و تاب کے ساتھ ہمارے سامنے موجود ہے ،اور یہ کتاب اویس سنبھلی کی بہترین کتابوں میں شمار ہوگی۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

