ترجمے میں زبان سے زیادہ لسانی تہذیب کی منتقلی اہم
نیشنل بک ٹرسٹ ،انڈیاکے زیراہتمام ’ترجمہ ورکشاپ برائے ادب اطفال‘ میں ملند سدھاکر مراٹھے کا اظہار خیال
نئی دہلی (پریس ریلیز):
نیشنل بک ٹرسٹ، انڈیامیں آج دیگر زبانوں سے اردو میں بچوں کی کتابوں کے اردو ترجمے کے لیے سہ روزہ ’ترجمہ ورکشاپ‘ شروع ہوا۔ اس میں پورے ہندوستان سے اردو کے شہرت یافتہ، منجھے ہوئے اور کئی کتابوں کیمترجمین اور مصنّفین شرکت کر رہے ہیں۔ اس موقع پر نیشنل بک ٹرسٹ، انڈیاکے چیئرمین ملند سدھاکر مراٹھے نے کہا کہ ’ترجمہ کرتے وقت ایک زبان سے دوسری زبان کے الفاظ کی منتقلی سے زیادہ لسانی تہذیب کی منتقلی اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ ترجمے کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ دنیا بھر میں زبانوں میں بڑا تنوع پایا جاتا ہے۔ ایک زبان کی جو خاص تخلیق ہوتی ہے، وہ ترجمے کے ذریعے دیگر زبانوں تک پہنچتی ہے۔ ‘ملند سدھاکر مراٹھے نے کہا کہ ’آج بھارت میں ہی نہیں، دنیا بھر میں پڑھنے کے لیے بچے موبائل کا استعمال زیادہ کرنے لگے ہیں لیکن انہیں الیکٹرانک ریڈنگ کے بجائے چھپی ہوئی کتابوں کو پڑھنے کی عادت ہونی چاہیے۔ بنگال میں بچوں کی کتابوں کو کتنی اہمیت دی جاتی ہے، اس کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ وہاں کے بڑے سے بڑے رائٹر بچوں کے لیے کچھ نہ کچھ ضرور لکھتے ہیں۔‘ این بی ٹی، انڈیاکے چیئرمین ملند سدھاکر مراٹھے کے مطابق، ’دنیا بھر میں کتابوں کی فروخت سے جو پیسہ آتا ہے، اس میں 50 سے 60 فیصد رقم بچوں کی کتابوں کی فروخت سے آتی ہے۔‘
’ترجمہ ورکشاپ برائے ادب اطفال‘کے مہمان خصوصی اور مشہور فکشن نگار غضنفر علی نے ترجمے کی اہمیت، ترجمہ نگاری کے فن پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ترجمہ کرتے وقت الفاظ کے ترجمے سے زیادہ اس بات پر توجہ دی جائے کہ رائٹر کہنا کیا چاہتا ہے۔ اسی لیے ترجمہ کرتے وقت کئی بار موضوع و محل کے اعتبار سے اپنی طرف سے بھی اصطلاحات بنانی پڑتی ہیں۔ 12 ناولوں اور 25سے زیادہ کتابوں کے مصنف غضنفر علی نے این بی ٹی، انڈیا کے اردو ایڈیٹر شمس اقبال کی اس بات کے لیے تعریف کی کہ انہوں نے اردو کے مختلف شعبہ جات کے ماہرین اور ترجمہ نگاروں کو یکجا کرکے اس ترجمہ ورکشاب کی اہمیت بڑھا دی ہے۔ اس موقع پر ناول نگار، ڈرامہ نگار، اسکرین رائٹر، بچوں کی مصنفہ اور فرانسیسی و انگریزی کی مشہور قلم کار مریم کریم اہلاوت نے کہا کہ ’بچوں کی کہانی محبت سے لکھی جاتی ہے۔ بچوں کی کہانی ان کی مادری زبان میں لکھنا ضروری ہے، کیونکہ یہ اس زبان کے ادب کی بنیاد ہوتی ہے۔ بچوں کی کہانیوں میں ایک تہذیبی پیغام ہوتا ہے جو براہ راست بھی ہوتا ہے اور بالواسطہ بھی لیکن بچوں کی کہانیوں میں لفظوں کی مٹھاس کا خیال رکھا جاتا ہے۔ سخت الفاظ استعمال نہیں کیے جاتے۔‘ اس موقع پر این بی ٹی، انڈیا کے اردو ایڈیٹر، شمس اقبال نے کہا کہ ’ یہ اردو کے لیے اعزاز کی بات ہے کہ نیشنل بک ٹرسٹ، انڈیا نے جواردو کتابیں شائع کی ہیں، ان کے ترجمے دیگر زبانوں میں بھی ہورہے ہیں۔اس ادارے نے اردو میں ان موضوعات پر کئی کتابیں شائع کی ہیں جس کی اردو قارئین کو سخت ضرورت ہے۔‘ اس موقع پر اردو کی دو کتابوں ، ذکیہ مشہدی کی ’گڑیوں کی نانی‘ اور مریم کریم اہلاوت کی کتاب ’نئی ماں‘ کے اردو اور ہندی ترجمے کا اجرا ہوا۔ انگریزی سے اردو ترجمہ شمس اقبال نے کیا ہے۔ اس ورکشاپ میں جو اہم شخصیات حصہ لے رہی ہیں، ان میں خورشید اکرم،محمدعلیم،پرویز شہریار، رخشندہ روحی،زین شمسی ، نہاں رُباب، نثار احمد، شہنازرحمن، احسن ایوبی، توصیف بریلوی، جاوید عالم، نوشاد عالم، خان محمد رضوان، عشرت ظہیر، نوشاد منظر، سعدیہ رحمن، خاورحسن، شاہ عالم، عذرا انجم ،افضل حسین کے نام قابل ذکر ہیں۔
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

