نئی دہلی۔
اردو اکادمی، دہلی کی جانب سے منعقد ہونے والا دہلی کے بزرگ اور جواں عمر قلمکاروں کامقبول ترین پانچ روزہ ادبی اجتماع ’’نئے پرانے چراغ‘‘ جاری ہے۔افتتاحی اجلاس کے فوراً بعد آڈیٹوریم فیکلٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ’’محفل شعر وسخن‘‘ کا انعقادعمل میں آیا۔ جس میں تقریباً 55 شعرائے کرام نے اپنا کلام پیش کیا اور سامعین کومحظوظ کیا۔ مشاعرے کا باضابطہ آغاز شمع روشن کرکے کیا گیا۔ مشاعرے کی صدارت بزرگ شاعر ڈاکٹر جی۔آر۔کنول نے کی جب کہ پروفیسر رحمٰن مصور نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔
قارئین کے ذوق وشوق کی تسکین کے لیے منتخب اشعار پیش خدمت ہیں:
قلم ہر دم روانی مانگتا ہے
کوئی تازہ کہانی مانگتا ہے
ڈاکٹر جی ۔آر۔ کنول
تعلق کو ہوا دیتی ہیں اب بھی
وہ آنکھیں مسکرا دیتی ہیں اب بھی
فصیح اکمل
فرشتہ بن کے جینے میں کوئی لذت نہیں ملتی
یہ انساں ہی سمجھتا ہے گناہوں کا مزا کیا ہے
حسن فتح پوری
یہاں اتنا ٹھکانہ رہ گیا ہے
کہ جتنا آب و دانہ رہ گیا ہے
رئیس اعظم خاں
تعصبات کا نشہ اتر بھی سکتا ہے
بلندیوں کا نشہ ہے اتر بھی سکتا ہے
خمارؔ دہلوی
یہ کس کا شہر تھا بازار تو بہت تھے وہاں
مگر کفن کے علاوہ کچھ اور تھا ہی نہیں
معین شاداب
شہزادیوں کا رنگ ہے پیلا پڑا ہوا
چھت پرکسی نے رات میں ہلدی گرائی تھی
رحمٰن مصور
ہم دونو ںزندگی کے اس موڑ پہ کھڑے تھے
میں انہیں نہ دیکھ پائی وہ مجھے نہ دیکھ پائے
انا دہلوی
دولت ملی مزاج ہی تبدیل ہوگیا
کوے نے وہ اڑان بھری چیل ہوگیا
درد ؔ دہلوی
بعد میں اشعار کہنا عشق پر
پہلے آنکھوں سے لہو جاری کرو
شاہد انجم
خواب ٹوٹ ہیں میرے بس
میں ابھی ٹوٹا نہیں ہوں
ڈاکٹر سنجے جین
آج سمجھ میں آیا میری جب وہ میرے ساتھ چلے
کم اپنی رفتار کو کرکے چلنا باپ سکھاتا ہے
ارشاد احمد ارشاد
اپنے ہونٹوں کو ذرا جنبش تو دے
میرے کانوں میں بھنور پیدا تو کر
محبوب امین ؔ
سرکو رکھا ہے سرِ دار کہوں یا نہ کہوں
زندگی بن گئی تلوار کہوں یا نہ کہوں
شہلا نواب
چراغ آرزو راہی
بجھا اپنے بھی دیتے ہیں
عرفان راہی
تم اس کے پاس ہو جس کو تمھاری چاہ نہ تھی
کہاں یہ پیاس تھی دریا کہاں بنایا گیا
یاسر خاں
دل جگر جاں نثار کرتی ہوں
پیار کرتی تھی پیار کرتی ہوں
عابدہ خانم
ہے دنیا گول تو بس یہ سجھ لو
جوکھویا ہے وہ دوبارہ ملے گا
فروغ احسن
کہانی زندگی کی مختصر ہے
مگر انسان اس سے بے خبرہے
ہدایت حسین
کرم کر ، کر م اے خدائے محبت
کہ مجھ سے ہوئی ہے خطائے محبت
سرفراز احمد فراز دہلوی
تمہارے رحم و کر م پر کبھی کے مر جاتے
ہمارے ہاتھوں گرچہ ہنر نہیں ہوتا
آصف نظر
دل میں جھانکا تو بہت زخم پرانے نکلے
اک فسانے سے کئی اور فسانے نکلے
رضا امروہوی
خدا کرے یہ تغیر ہی راس آجائے
کہ اس سے پہلے بہت انقلاب دیکھے ہیں
آفتاب آذر
کبھی ہم نے بھی بوئے تھے یہاں امید کے پودے
شجر وہ ہوگئے لیکن نہ ان شاخوں سے پھل نکلے
نزاکت امروہوی
کتنا میرا وقت لگا ہے اس کو یہ سمجھانے میں
تیرے بھی ہاتھ جلیں گے گھر کو آگ لگانے میں
شہادت علی نظامی
پسینہ جسم سے بہنا بھی اچھا ہے ترے حق میں
کبھی مزدو ر کو شوگر کی بیماری نہیں ہوتی
حبیب سیفی
غیر کی چھت پہ برس جاتا ہے بادل اکثر
میری چھت سے تو بنا برسے گزرجاتا ہے
جگدیش راؤتانی
جسے سر پر سجانے کو ہزاروں سر نکل آئے
ہم ایسے تاج کو بھی مار کر ٹھوکر نکل آئے
شکیل بریلوی
عشق کرکے تو نے اے دل خاک اچھا کر لیا
غم کیا مد مقابل خاک اچھا کرلیا
نورالدین ثانی
پرندوں کو شجر سے جب اجڑتے دیکھ لیتی ہوں
بظاہر بے زبانوں کو سسکتے دیکھ لیتی ہوں
زرین صدیقی
پوچھ لو موجود تھے احباب بھی اغیار بھی
میں نے دیکھا ہو اسے نظر بھر کر ایک بار بھی
نو شاد ثمر
آخری سانس لے رہی تھی رات
جب چرا غ آفتاب سے ہارا
سندیپ شجر
ہے وہم زندگی کی رنگینی
ساری دنیا فنا ، خدا موجود
نسیم بیگم
سوچتا ہوں کہ کیا کیا ہوگا
اس نے جب میرا خط پڑھا ہوگا
صاحب خاں
کائنات اپنی تو یارت خوب سنبھال
آدمی تو مست ہیں شاہ مات میں
رچنا نرمل
تو مجاہد ہے جہاں میں تیری مثال کہاں
تو نے طوفانوں کو روکا یہ تیری چال کہاں
عمران احمد
عشق کا بھوت تیرے سر سے اتر جائے گا
بے نقاب اس کو اگر دیکھ لے ڈر جائے گا
عمران دھام پوری
توشہ احسن کا لے کر ہی جائیں گے ہم
ساری دولت یہیںچھوڑ جانا بھی ہے
زاہد احسن
کیوں جیوں اہل زمانہ کا سہارا لے کر
ماں جو بیٹھی ہے دعاؤں کا سہارا لے کر
سید مہدی عباس زیدی
دل کا ہر زخم مرا خون کے آنسو رویا
جب مسیحاؤں کے ہاتھوں بھی خنجر دیکھے
آفتاب آذر
دلوں سے گرد کدورت بھی دور ہو تی سہی
یہ کیا کہ صرف ترا پیرہن نیا ہوگا
محمد اویس
پرندہ کیوں نہ اڑتا روح کا جب
بدن زندان ہونے لگ گیا تھا
احتساب انشا
مشاعرے کی شمع روشن کرتے ہوئے ڈاکٹر جی آر کنول و دیگر شعرائے کرام
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

