نئے نقاد کے نام خطوط – مبصر : ڈاکٹر معراج دین شیخ
مصنف : ناصر عباس نیّر
مبصر : ڈاکٹر معراج دین شیخ
سن اشاعت: 2023
صفحات: 272
ناشر : سنگ میل پبلی کیشنز ، لاہور
اکیسویں صدی میں اردو تنقید جن معتبر نقادانِ ادب کی سنجیدہ کاوشوں سے اپنی منزل کی اور رواں دواں ہیں ان میں ناصر عباس نیّرکا نام سرفہرست ہیں۔ پروفیسر نیّر کی خلاقانہ صلاحیتیوں اور ناقدانہ شعور و وژن سے اردو تنقید میں جو بار پیدا ہوا،اُس کا اعتراف پوری اردو دنیا کر رہی ہے۔ناصر عباس نیّر کی ایک درجن سے زائد تنقیدی کتابیں اس بات کا بین ثبوت ہے کہ ان کا قد اردو تنقید میں بہت اعلی ہے۔ ان کی تنقید تعریف و تنقیص کے محدود دائرے سے مبّرا ہے۔ آپ جدیدیت کے بعد مابعد جدیدیت سے پنپنے والے مختلف نظریات پر اپنی مجتہدانہ بصیرت سے ادب کے قاری کو سیرا ب کرتے ہیں ۔ پروفیسر ناصرعباس نیّر کا تنقیدی اختصاص مابعد نوآبادیاتی تھیوری ہے ، جس کے آپ اردو میں بنیاد گزا ر ہیں ۔
زیر تبصرہ کتاب ” نئے نقاد کے نام خطوط ” جو 2023 ء میں سنگ میل پبلیکیشنز لاہو ر سے شائع ہوئی ، اردو تنقید میں ایک خاصا اضافہ مانا جاتا ہے۔کتاب کے شائع ہونے کے بعد ہند و پاک میں اس پر مذاکرے بھی ہوئے اور اسے بہت سراہا بھی گیا ہے۔ کتاب میں کل 33 خطوط ہیں جن میں ایک بزرگ نقاد نے اپنے نئی نسل کے ناقدین کے لیے ادب خاص طور سے اردو ادب سے مکالمے کی تفہیم بتائی ہے ۔ یہ خطوط زبان ،علم،تخلیق ،تخلیق کار، تنقید ،قاری، کتاب، لفظ ، معنی ، طاقت ، نظریات ؛الغرض فن پارے سے پوری کائنات کو نقاد کا آنکھ سے دیکھنے کا زاویہ پیش کرتی ہے۔ ان تنتیس خطوط میں ناصر عباس نیّر نے تنقید کی ماہیت ااور اس کے بنیادی مباحث کی وضاحت سلیس انداز میں کی ہے۔ فاضل مصنف نے معاصر اردو تنقید کو درپیش مسائل کی طرف نہ صرف اشارہ کیا ہےبلکہ ا ن سے نبردآزما ہونے کی سبیل بھی نئے نقاد کو بتائی ہے۔ ‘نئے نقاد کے نام خطوط’ جدید اردو تنقید میں نقاد کی بازیافت کرتی ہے اور اسے لفظ سے معنی کےسفرمیں قاری کا ہاتھ تھامنے پر اسرار کرتی ہے۔ ناصر عباس کی تنقید کا خاصا اس کتاب میں جابجا دیکھا جاسکتا ہے کہ آپ اپنی بات مدلل دائل کی روشنی میں رکھتے ہیں ۔نقاد کو اصل اورنقل ، تنقید اورتاثر ،سوال اور اعتراض میں تفریق کرنے پر زور دیتے ہیں ۔ سوال کو خزانے سے تعبیر کرتے ہوئے مصنف نے نئے نقاد کو سوالات کی پرکھ سے معنی کی تلاش تک ہزاروں ایسی باتیں بتائی ہے جس سے اردو تنقید کوآگے عہدہ بر ہونا ہوگا ۔ تنقید کی یہ کتاب قاری کو متن کی گہرائی اور گیرائی سے روشناس کراتے ہوئے یہ باور کراتی ہے کہ اس دنیا میں انہیں کتابوں کو زند ہ رہنے اور سراہنے کاحق ہے جو معاصر دنیا میں عقل و وجدان کی بنیاد پر اپنا حصہ ڈال سکیں نہ کہ صارفیت کی دوڑ میں اپنا مارکیٹ بنا سکیں ۔ یہ کتاب سائنسی ، صارفی ، مواصلاتی اور پوسٹ ٹرتھ کی دنیامیں ادب کے روح کی پامالی کو زائل کرتی ہے اور یہ مژدہ سناتی ہے کہ اس دور میں انسان کو لٹریچر سے روبرو ہونے کی برابر ضرورت ہے۔اس کتاب کی خوبصورتی قاری اپنی بساط کے مطابق تلاش اور محسوس کر سکتاہے ۔ یہ کتاب اردو تنقید کی دنیا میں کافی دیر تک زندہ رہنے والی ہے ۔
ادب کی حقیقیت نیز تنقید ی اصول پر مباحثہ اس کتاب کابنیادی موضوع ہے ۔ کتاب تنقید کے حوالے سے مختلف اشکال کا ازالہ کرتی ہے اور مابعد جدید تناظر میں مختلف تنقیدی نظریات کادفاع بھی کرتی ہے۔یہ ادب کی قرات اور تفہیم میں نقاد کو قولِ محال سمجھنے کا مجاز بناتی ہے۔ اس کے مضامین صدیوں سے چلے آرہے تنقید کے نام پر جذباتی اور تاثراتی جملہ بازی کی نفی کرتے ہیں ۔ یہ کتاب ادبی نقاد کو گھڑی گئی سچائی اور حقیقیت میں پہچان کرنےاورتنقید کے اوصاف دلیل اور ثبوت کی وضاحت کرتے ہوئے مغالطوں سے بچنے کی اپیل کرتی ہے ۔فاضل مصنف نے اس میں شعر کی تفہیم کے علاوہ ادب ، لوک ادب اور عوامی ادب کا تقابل بھی پیش کیا ہے۔ معاصر دنیا میں صنف ناول کی مقبولیت پر بھی مباحثہ قائم کیا ہے ۔الغرض یہ کتاب ادب اور تنقید کے شائقین لیے کسی تبرک سے کم نہیں ہے۔ کتاب کا متن باذوق قارئین کا متقاضی ہے جو اپنی اہلیت اورذہانت سے اس کتاب سے استفادہ کر سکیں ۔
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

