حضرت جی اپنے مرید کے گھر کی طرف جاتے ہوئے ایک قبرستان سے گزرے. انہیں اپنے مرید علی جان کی یاد آئی تو سائکل اسٹنڈ پر کھڑی کی اور چھتری اور جھولا ایک ہاتھ میں اور دوسرے ہاتھ میں تسبیح سنبھالے علی جان کو یاد کرتے ہوئے فاتحہ پڑھنے کی غرض سے آگے بڑھنے لگے. علی جان کو یاد کر آنکھیں بھیگ گئیں. انہیں اب بھی یاد ہے جب علی جان چھوٹے تھے حضرت جی کی سائکل آتے دیکھ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر بھاگتے ہو آتے ان کی چھتری ان کا جھولا ہاتھ میں لے صحن میں تخت پر رکھ کر پھر بھاگتے اور دوڑ کر حضرت جی کا ہاتھ چومتے اور بڑی محبت سے اپنی آنکھوں سے لگاتے. جب تک حضرت جی گھر پر موجود رہتے علی جانی ایک پل چین سے نا بیٹھتے، جیسے ان کے پیروں میں پہیا لگ گیا ہو. کبھی وضو کے. لیے بدھنا لے کر بھاگتے اور کبھی اسٹیل کے گلاس میں پانی لے کر کھڑے رہتے. دوڑ کر چوراہے سے پان لاتے. ادھر صحن میں بیٹھے ابا میاں اپنے بیٹے کو حضرت جی کی خدمت کرتے دیکھ سینا پھلا کر کہتے "میاں صاحب! آخر بیٹا کس کا ہے”
علی جان خود ہی کتابیں لے کر آتے اور حضرت جی کو اپنی علمی فتوحات سے آگاہ کراتے.
"میں نے آنکم بانکم تک پورا یاد کر لیا، سناوں؟”
حضرت جی کو تنگ مت کرو، آرام کرنے دو. دور سے آئے ہیں. جاو ان کے لیے کچھ کھانے پینے کا انتظام کر نے کو امی سے بولو، اور ہاں تم بھی امی کی مدد کرنا. دیکھنا، کسی چیز کی ضرورت نہ ہو.
"جی ابا”
علی جان کے ابا گاؤں کے امرا میں شمار ہوتے تھے. اللہ نے کسی چیز کی کمی نہیں دی تھی. اکلوتا بیٹا علی جان. جس کو دیکھ کر وہ خوشی سے پھولتے رہتے تھے. آج برسوں بعد حضرت جی اس گانوں کی طرف نکلے تھے.
حالانکہ ان بیتے برسوں نے بہت کچھ بدل دیا تھا. گاوں کی طرف جانے والی کچی سڑک اب پکی ہو چکی تھی. اس سڑک پر دوڑنے والی گاڑیوں کا بوجھ بھی تو بڑھ گیا تھا. گاوں کی پوری شکل بدل چکی تھی. بڑے سے گھر کے سامنے بڑی سی خالی جگہ سامنے بیڑیاں، اور بیل. بھینس، گائیں. اور سامنے صحن میں بیٹھ کر گپیں ہانکتے دس بارہ لو گ. یہ سب پرانی باتیں ہیں. اب سب کچھ بدل چکا تھا. گاوں ترقی کر گیا. ہر گھر کا رقبہ چھوٹا ہو گیا تھا. مکان پکے ہو گئے تھے ہر گھر کے دروازے پر ایک شخص کرسی لگاے اکیلا بیٹھا تھا. اب بیس پچیس بچے ایک ساتھ میدان. میں کھیلتے ہوئے نظر نہیں آیے. اب سب کچھ بدل چکا تھا.
کسی بوڑھے شخص کی نظر پڑتی تو وہ دوڑ کر حضرت جی کو دیکھ کر ان کی طرف لپکتا ان کے ہاتھ چومتا اپنے گھر کی طرف بلاتا. کوئی کرسی لے کر ان کی طرف دوڑتا تو کوئی کھانے پینے کو پوچھتا. جب کہ نوجوان اور بچے اس منظر کو دیکھ کر ہنستے اور سوچتے کہ آخر یہ فقیر کون ہے جس کے لیے گاوں کے سارے بوڑھے بزرگ بچھے جا رہے ہیں.
حضرت جی نے پتہ پوچھ کر علی جان مرحوم کا گھر بالآخر ڈھونڈ ہی لیا.،
گھر کی شکل بدل چکی تھی. جہاں بیڑیاں تھیں وہاں لوہے کا برا سا دروازہ تھا. جس طرف بیل، بھینس اور گاییں ہوتیں وہاں پر گملے میں پھول لگاے قرینے سے سجے تھے.
سائیکل کھڑی کی. جھولا سنبھالا چھتری نکالی.
سامنے صحن میں دو بچے موبائل-فون ہاتھ میں لیے مصروف تھے. حضرت جی چھاتا ٹیکتے لڑکھڑاتے ہوے اندر آئے.
بیٹے. علی جان کے ابا ہیں کیا؟
ایک منٹ دادا جی، آپ سے ملنے آپ ہی جیسا کوئی پاگل آیا ہے.”
” بد تمیز، نالائق، نامعقول… ”
ان بچوں کے لیے یہ الفاظ بے معنی تھے وہ ہنستے ہوئے اندر چلے گئے.
” جاو، حضرت جی کے لیے چائے بنانی ہے، دودھ لے کر آ جاو. ”
میں کولڈ درنک اور پزا آرڈر کر دیتا ہوں. پندرہ منٹ میں آ جائے گا. کہاں اب آپ اپنا سیریل چھوڑ کر چائے بنانے میں لگ جائینگی.”
حضرت جی کی نگاہیں گھر کی دہلیز پر تھیں. گویا ان کو ابھی بھی علی جان کے دوڑ کر آ نے کی امید ہو. شاید وہ بھاگ کر جاے اور بدھنا میں پانی لے کر آئے. اسی تصور میں انہوں نے آواز لگائی. بدھنا لاو وضو کرنا ہے.
حضرت جی بیسن پر وضو بنا لیں. سامنے بوتل رکھی ہے. پاوں دھونے میں کام آئے گی.
میرا ایک لیول تو فینش ہو گیا. بچہ فون کو چارج میں لگاتے ہوے بولا. وہ موبائل میں گیم کی بات کر رہا تھا. اسے کیا پتہ تھا تہزیب کے کتنے لیول فینش ہو چکے ہیں.
دادا جی ادھر حجرے میں کھلکھلا کر ہنسے. اپنی ہنسی میں بہت کچھ چھپا تے ہوے بولے. آج کل کے بچے…
بھکاری مہنگو آ یا. میاں صاحب کے بستر ٹھیک کر دیے. کمرے میں جھاڑو لگایا. جوتے پالش کر دیے. تھوڑی دیر میاں صاحب کے پیر دباے. پورے گاوں کی خبر میاں صاحب کو دی اور پھر بنا کچھ بولے چلا گیا.
میان صاحب کا چمچہ، بچے جل کر کہتے.
"کیسا بھکاری ہے، دادا جی اس کو کچھ بھی تو نہیں دیتے پھر بھی روز آ جاتا ہے. دادا جی سے گپیں لڑانے.
” بالکل ٹھیک کہا تم نے. ایک تو دادا جی کو کوئی کام ہے نہیں یہ مہنگو تو اتنے دیر میں بھیک مانگ کر کتنا پیسہ بنا لیتا.
ان لوگوں کے اندر کوئی سنس آف پروفیٹیبلی ٹی ہے ہی نہیں.
” بدتمیز، ایسے نہیں بولتے. مہنگو دادا جی سے پیار کرتا ہے ان کی عزت کرتا ہے. ” ماں نے اندر سے ڈانٹا.
مہنگو میاں صاحب کے پیر دباتا اور جب میاں صاحب سو جاتے تو چلا جاتا.
بادل چھا رہا تھا. اندھیرا… چاروں طرف اندھیرا. اس دفعہ بارش سب کچھ بہا کر لے جائے گی.
ایک گدھ کھڑکی پر آ کر بیٹھ گیا.
"گدھ، یہ تو عنقا ہو گئے ہیں نا”
دادا جی یہ عنقا کیا ہوتا ہے.
عنقا. مطلب وہ اب اس دنیا میں نہیں.
یو مین اکسٹنکٹ.
آج کل کے بچے بھی نا… پھر دادا جی ہنسے…
یہ گدھ نہیں اشارہ ہے کسی مردار کےآس پاس ہونے کا.
یہ تلمیح ہے پرانے قصے کا.
یہ استعارہ مردہ تہزیب کا.
حضرت جی نے بڑی حسرت سے دروازے کی طرف دیکھا جہاں سناٹا تھا. ان بچوں کی آنکھوں میں حضرت جی کے آنے کی خوشی نہیں ان کے جانے کا انتظار تھا. وہی انتظار جو ایک گدھ کرتا ہے. زندہ کے مردہ ہونے کا.
اب ہوا تیز چلنے لگی تھی.
میاں صاحب آخر علی جان کو ہوا کیا تھا.
ہونا کیا تھا. شہر سے دنگے کی وبا گاوں تک پہنچ چکی ہے. علی جان دودھ لانے بازار گیا تھا. راستے میں دنگائیوں کی گولی کا شکار ہو گیا.
اللہ مغفرت فرمائے. آمین.
آپ اس کے بچوں کا خیال رکھیے.
اب ضرورت نہیں. سب کچھ ہوم ڈلیوری ہو جاتی ہے.
یعنی، ہم سب شترمرغ ہو گئے ہیں. باہر کے حالات ٹھیک کرنے کے بجائے اپنا سر ریت میں ڈال کر یہ سمجھ لیتے ہیں کہ اب کوئی خطرہ نہیں.
"شتر مرغ” حضرت جی مسکراے.
حضرت جی نے بچے کو اشارہ کر کے بلایا.
کیا نام ہے آپ کا.
"ٹنکو”
حضرت جی اور میاں صاحب دونوں کھلکھلا کر ہنس پڑے.
"پڑھتے ہو”
"جی”
کیا پڑھتے ہو؟ ”
” کوڈنگ”
کوڈنگ؟ یہ کیا ہوتا ہے؟
” چھوڑیے نا مسٹر حضرت آپ نہیں سمجھ پائنگے.
مسٹر حضرت…!!! ایک دفعہ پھر میاں صاحب اور حضرت جی دونوں کھلکھلا کر ہنسے.
"اچھا چلو، آنکم با نکم سناو.”
اس بار ہنسنے کی باری بچے کی تھی.
گدھ اب اس کھڑکی سے اڑ کر سامنے والی کھڑکی پر بیٹھ گیا تھا. بارش شروع ہونے ہی والی تھی.
حضرت جی نے اپنی چھتری سنبھالی سائکل نکالی، چلتے ہوئے خیال آیا بچوں کو تو کچھ دیا ہی نہیں. بلا کر پیسے دیے. بچوں نے پیسے پکڑے اور خوش ہو کر کہا
پھر آئیے گا مسٹر حضرت.
میاں صاحب اداس ہو کر پھر دراز ہو گئے.
سامنے کولڈ ڈرنک کا گلاس رکھا تھا.
حضرت جی نے ایک چسکی بھی نہیں لی تھی.
"اس منحوس گدھ کو بھگاو کوئی”
یہ پھر آ گیا.
"مما، گدھ سے ہم اتنی نفرت کیوں کرتے ہیں. اٹ از جسٹ اے برڈ.
گدھ استعارہ ہے موت کا
علامت ہے مردنی کی
اعلان ہے زندہ کے مردہ ہو جانے کا.
خوبصورت وادی کے کشمیر ہو جانے کا
ایک ہنستی کھیلتی دنیا کے فلسطین ہو جانے کا.
مسٹر حضرت اب جا چکے ہیں!
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

