Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
خصوصی مضامین

 مرقعِ کوثر مظہری – ڈاکٹر عادل حیات

by adbimiras مارچ 21, 2024
by adbimiras مارچ 21, 2024 0 comment

جہانِ رنگ و بو میں سانس لینا دراصل مختلف حادثوں اور واقعوں سے دوچار ہونا ہے۔ یہ سلسلہ انسان کی پیدائش سے لے کر اس کی آخری ہچکی تک چلتا ہے۔ ان حادثوں اور واقعوں سے تفکر کی بعض ایسی گہری لکیریں ابھرتی ہیں، جو چہرے کو کھردرا بنا دیتی ہیں اور کچھ خوشی و مسرت کا ایسا احساس دلاتی ہیں کہ انسانی وجود گنگنا اٹھتا ہے۔ میں بھی سانس لیتا ہوا اپنی جیسی مخلوق کی طرح مختلف حادثوں اور واقعوں سے دوچار ہوتا رہتا ہوں، ان ہی نت نئے حادثوں اور واقعوں سے جگمگاتا ہوا غالباً وہ 1993 کا سال تھا، جو میرے لیے کافی اہمیت رکھتا ہے کہ اسی سال ایک طالبِ علم کی حیثیت سے مجھے جامعہ ملیہ اسلامیہ کی سرزمین کو بوسہ دینے کا شرف حاصل ہوا۔ اسی سال پروفیسر عنوان چشتی، پروفیسر عظیم الشان صدیقی، پروفیسر صغرا مہدی ، پروفیسر محمد ذاکر، پروفیسر شمیم حنفی، پروفیسر خالد محمود اور پرفیسر شہپر رسول سے قریب ہونے کا موقع ملا۔ اردو کی سربرآوردہ فکشن نگار قرۃ العین حیدر اور بعد ازاں تنقید و تحقیق اور نثر و نظم کے بے مثال قلمکار شمس الرحمن فاروقی کے قدموں میں بیٹھنے اور ان سے کچھ سیکھنے کا شوق بھی دل کی اتھاہ گہرائیوں میں ٹھاٹھیں مارنے لگا۔ شعبۂ اردو کے ریسرچ اسکالروں اور طالب علموں میں کوثر مظہری اور اسلم جمشید پوری کے علاوہ دیگر طلبہ و طالبات سے بھی ملاقاتیں ہوئیں۔ میرے لیے ان میں سے کئی ایک ماضی کا حصہ ہوگئے، لیکن محمد احسان الحق نے زندگی کے نشیب و فراز کا پامردی کے ساتھ مقابلہ کیا اور "ہائی اسکول” کی لگی لگائی سرکاری نوکری کو چھوڑ کر واپس دہلی آگئے۔ ایک کرم فرما کا ساتھ جو کہ زمانے کی گردشوں میں کہیں گم ہوگیا تھا، ان کے دہلی لوٹ آنے کے بعد ایسا مضبوط ہوا کہ مہ و سال گزر نے کے بعد آج بھی طمانیت کا احساس دلاتا ہے۔

کوثر مظہری کے گھر کا ماحول مولویانہ سے زیادہ شاعرانہ تھا۔ ان کے والد محمد مظہرالحق ایک مولوی اور منجھے ہوئے مقرر کے ساتھ کہنہ مشق شاعر تھے۔ برادرانِ حقیقی و نسبتی میں کئی اشخاص کو شاعری کا شوق تھا۔ ان کی دیکھا دیکھی کوثر مظہری کبھی بھینس کی پیٹھ پر بیٹھ کر اور کبھی اندھیری رات میں لالٹین کی ملگجی روشنی میں کیڑے مکوڑوں سے جوجھتے ہوئے شاعری فرمانے لگے۔ یہ زمانہ تقریباً 1979-80 کا تھا۔ پتا نہیں کسی پری چہرہ نے ان پر جادو کیا تھا یا وہ اپنے خیال و خواب میں کوئی حسین پیکر تراش بیٹھے تھے کہ اس زمانے کی شاعری حسن و عشق کی جلوہ سامانیوں سے روشن ہے ۔ چند شعر ملاحظہ کیجیے:

یوں بڑھاؤ رفعتِ شوقِ مقامِ عاشقی

روزنِ جاناں سے ہر دم عکس جلوہ بار ہو

قمریاں بھی باغ میں خاموش ہیں

جاچکے شاید گل افشانی کے دن

اردو میںشاعری کرنا اپنے اصل نام کو سرٹیفکٹ اور دیگر سرکاری کاغذات تک محدود کرنا ہوتا ہے، ان کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا کہ شعر و ادب کی دنیا میں قدم رکھتے ہی والدین کا دیا ہوا نام محمد احسان الحق پسِ پشت چلاگیا اور اب وہ کوثرمظہری کے نام سے پہچانے جانے لگے۔ ہمارے ادبی منظر نامے میں 13اربیع الاول 1384 بمطابق 5 اگست 1964 ایک خاص اہمیت کا حامل ہے کہ اسی تاریخ کو کوثر مظہری مشرقی چمپارن کے ایک مردم خیزگاؤں چندن بارہ میں پیدا ہوئے اور ابرِ باراں کی طرح پھیلتے ہوئے اپنی شعری و نثری تخلیقات سے ادبی دنیا کو سیراب کرنے لگے ۔

کوثر مظہری کی ابتدائی تعلیم روایتی انداز میں ہوئی۔ حروفِ تہجی سے روشناسی کے بعد گاؤں کے مڈل اسکول سے ساتویں تک کی تعلیم حاصل کی اور مولانا آزاد اردو ہائی اسکول، خیروا سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ انہیں کاشت کاری کا شوق تھا، چنانچہ نظیر اکبرآبادی کا یہ مصرعہ "سرسبز رکھیو کشت کو اے چشم تر مری” کا ورد کرتے ہوئے زراعتی کاموں میں والدِ بزرگوار کا ہاتھ بٹانا اپنا فرضِ اولیں سمجھا۔ انہیں کدال چلاتے ہوئے پسینے سے شرابور ہوجا نا اچھا لگتا تھا۔وہ بوائی اور روپائی میں بھی دلچسپی لیتے تھے۔ اردو کی عشقیہ شاعری میں "چارہ” کا استعمال مجازاً کسی کو پھنسانے یا بہلانے کے لیے کیا جاتا ہے، لیکن اصطلاح کے طور پر چارہ زندگی کا ضامن بھی ہے کہ اسے کھاکر مویشی زندہ رہتے ہیں۔ کوثر مظہری کاشتکار گھرانے کے چشم و چراغ تھے، چنانچہ انہیں کبھی ہری بھری دوب تو کبھی بانس کے دھاردار پتوں سے نبرد آزما ہونا پڑتا تھا۔ روز مرہ کی مصروفیات ان کے تعلیمی اور تربیتی ارتقا میں حائل نہیں ہوئیں۔ وہ سنہرے مستقبل کا سپنا سجائے موتیہاری پہنچے اور ایم ایس کالج میں انٹرمیڈیٹ کے طالبِ علم ہوئے۔ والد فالج کے سبب دو سال سے علیل تھے۔ انٹرمیڈیٹ کے امتحاں سے تین مہینے پہلے وہ 14 فروری 1982 کو مالکِ حقیقی سے جاملے۔والد کی وفات کے بعد انہوں نے کسی طرح امتحان دیا اور کامیابی کے بعد اسی کالج سے بی ایس سی کیا اور پھر کچھ دنوں پڑھائی لکھائی کا سلسلہ منقطع ہوگیا۔ وہ اب عملی زندگی میں قدم رکھنا چاہتے تھے، چنانچہ پٹنہ جاکر  مسابقتی امتحانات کی تیاریوں میں مصروف ہوگئے، لیکن "کیا لکھا ہے ہماری قسمت میں” ہر کوئی سمجھ جاتا تو غیر ضروری تگ و دو کی حاجت ہی نہیں ہوتی۔ کوثرمظہری بھی اپنی تقدیر کی لکیروں کو پڑھ نہیں پائے اور سعیِ لاحاصل کی طرح کچھ دنوں تک پیچیدہ گتھیوں کو سلجھانے میں لگے رہے۔ ان کے جی میں پتہ نہیں کیا آیا کہ بہار یونیورسٹی سے اردو آنرز کا امتحان دے دیا اور ٹاپ بھی کرگئے۔ اس فتح یابی سے مسرور ہوکر انہوں نے پٹنہ یونیورسٹی سے اردو میں ایم اے کیا اور جے آر ایف کے امتحان میں کامیابی حاصل کی۔ ایم اے کا ریزلٹ تاخیر سے آنے کے سبب پی ایچ ڈی میں داخلہ 1992 کے بجائے 1993 میں جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی میں ہوا اور اسی سال کوثرمظہری کی شادی گاؤں ہی میں حاجی منشی عبدالمعبود صاحب کی چھوٹی بیتی سیارہ خاتون سے ہوگئی۔

پروفیسر شمیم حنفی ان کے نگراں متعین ہوئے۔ اسی زمانے میں ہماری روشناسی ہوئی تھی۔ اس وقت کوثر مظہری کا چہرہ کیل کانٹوں سے محفوظ بہت ہی دل کش تھا۔ شاہی نظامِ اوزان کے تحت فٹ اور انچ میں انسان کی لمبائی کا جو معیار قائم کیا گیا ہے، اس کو کوثرمظہری کے قد و قامت سے کوئی علاقہ نہیں، لیکن ان کا تن و توش قد کے بالکل مناسب معلوم ہوتا ہے۔ان کے دونوں پاؤں صحیح و سلامت اور اتنے پھرتیلے کہ پلک جھپکتے ہی پرستان کی سیر کرالائیں۔ وہ خور و نوش کے معاملے میں قناعت پسند ہیں، اس لیے پیٹ توند کی شکل اختیارنہیں کرسکا ہے۔ شانے مضبوط اور سخت نظر آتے ہیں، جس کی خوبصورتی میں دونوں ہاتھ چار چاند لگاتے ہیں۔ ان کے گردن کی لمبائی اور چوڑائی جسم سے مناسبت رکھتی ہے۔ ارض و سما کے مخفی اسرار سے بھرپور سوچتے ہوئے دماغ کا بار پچپن ساٹھ کیلو کا ان کا ناتواں جسم پتا نہیں کیسے برداشت کرتا ہے۔ ان کے چہرے پر مختلف اجزاکا غیر معمولی تناسب کسی فنکار کے شاہکار سے کم نہیں۔

کوثرمظہری کا مقناطیسی انداز ہی تھا کہ شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ میں داخلہ لینے کے بعد دوست داری کا سلسلہ دراز ہوتا چلا گیا۔ کسی سے ملنے جلنے اور رسم و راہ بڑھانے کے معاملے میں کوثر مظہری کی اپنی کوئی پسند نہیں، وہ چھوٹے بڑے کا امتیاز کیے بغیر سب کے ساتھ خلوص سے ملتے ہیں، چنانچہ ان کے دوست احباب میں زندگی کے مختلف طبقوں اور شعبوں سے تعلق رکھنے والے افرد شامل میں۔ دہلی آنے کے بعد ان کے حلقۂ احباب میں شہپررسول، اسلم جمشیدپوری، عطا عابدی اور کئی دوسرے اشخاص کے ساتھ شاہ عالم، تحسین عثمانی اور ابولکلام کا نام بھی شامل ہے۔ ان میں شہپررسول بحیثیت لکچرر شعبۂ اردو میں پڑھاتے تھے۔ وہ ایک شاعر کی حیثیت سے ہند و پاک کے علاوہ اردو کی دیگر بستیوں میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ اسلم جمشید پوری شعبے میں ایم اے کے طالبِ علم تھے اور افسانہ نگاری سے شغف تھا۔ عطا عابدی "افکارِ ملی” میں سب ایڈیٹر تھے، جس کا دفتر ذاکر نگر کی میں واقع تھا۔ انہیں شاعری کے علاوہ نثر نگاری سے بھی خاص دلچسپی تھی۔ کوثر مظہری کا قیام ذاکر نگر میں ہی تھا، اس لیے ان دونوں کی ملاقات” افکارِ ملی” کے دفتر کے علاوہ ان کے کمرے پر بھی ہوا کرتی تھی۔ شاہ عالم، تحسین عثمانی اور ابوالکلام چونکہ اسلم جمشید پوری کے ہم جماعت تھے، اس لیے کوثر مظہری کو اپنا بڑا بھائی مانتے تھے۔ مکتبہ جامعہ کا دفتر کوثر مظہری کے لیے جائے سکون سے کم نہیں تھا کہ وہ فرصت کے لمحوں کو لغو اور بے مقصد چیزوں میں گنوانے کے بجائے مکتبہ کے جنرل منیجر اور”کتاب نما” کے ایڈیٹر شاہد علی خاں کے ساتھ گزارنے اور ان کی گفتگو سے فیضیاب ہونے کو ترجیح دیتے تھے۔ مکتبہ جامعہ میں ہندو پاک کے طول و عرض اور دیگر ممالک کے اکابرینِ شعر و ادب سے ملاقات کا شرف بھی حاصل ہوتا تھا۔ شاہد علی خاں نے ” کتاب نما” کے کئی خصوصی شمارے شائع کیے تھے، جن کو معنوی اور صوری دونوں لحاظ سے اردو کی ادبی بستیوں میں ہاتھوں ہاتھ لیا گیا۔ حامدی کاشمیری پر "کتاب نما” کا خصوصی نمبر آیا تو اس کی ترتیب و تدوین کوثر مظہری کے ذمے ہوئی، جسے انہوں نے عرق ریزی کے ساتھ انجام دیا۔ اس کے علاوہ "استعارہ” کا دفتر تھا، جہاں صلاح الدین پرویز اور حقانی القاسمی کے علاوہ محمودہاشمی اور دیگر لوگوں سے ملاقات ہوجایا کرتی تھی۔ میں بھی کبھی کبھار کوثر مظہری کے ہمراہ استعارے کے دفتر چلا جاتا اور شعر و ادب کے علاوہ کئی دوسرے موضوعات پر سیرحاصل گفتگو میں شامل ہوجاتا تھا۔ اسی دفتر میں محمد اکرام ڈیسک ٹاپ آپریٹر تھے، انہوں نے کوثر مظہری کی تخلیق و تنقید کی ابتدائی عبارت کو ٹائپ شروع کیا، جس کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔

شب و روزِ زیست کا تقریباً چار سال کا عرصہ ہی دہلی میں گزرا تھا کہ کوثرمظہری کا تقرر "بلور ہائی اسکول” منی گاچھی، دربھنگہ میں ہوگیا اور وہ پی ایچ ڈی کا مقالہ ادھورا چھوڑ کر برسرِ روزگار ہوگئے۔ یہ 1997 کا سال تھا۔ مئی کی تپتی گرمی سے جھوجھتا ہوا میں بلور ہائی اسکول پہنچا تو معلوم ہوا کہ کوثر مظہری کئی دنوں کی رخصت پر ہیں۔ میں بے نیل و مرام کفِ افسوس ملتا ہوا واپس چلا آیا۔ دہلی آنے کے بعد پتا چلا کہ انہیں اپنے دو بیٹوں فرحان اور القاب کی پے در پے رحلت سے شدید صدمہ ہوا تھا، جس سے کوثر مظہری تقریباً بکھر سے گئے۔ انہیں اپنی چاروں دشاؤں میں تاریکیاں اور زندگی کرنے کی تمام راہیں مسدود دکھائی دینے لگیں، لیکن اسی تاریکی میں امکان کے چراغ چلاتا اور نئی زندگی کی راہ کو روشن کرتا ہوا شہپررسول کا ایک خط موصول ہوا، جس میں لکھا تھا کہ” شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ میں Adhoc کی جگہ آئی ہے، اس لیے آپ کو بھی اپلائی کرنا چاہیے” اس چھوٹی سی عبارت نے امید کی کرن جگائی اور کوثرمظہری ہائی اسکول کی نوکری چھوڑ کر دہلی آگئے۔ ان کا دہلی آنا خوش قسمتی کی علامت بن گیا اور وہ شعبۂ اردو میں اڈہاک لکچرر کی حیثیت سے درس و تدریس کے فرائض انجام دینے لگے۔یہ زمانہ اکتوبر 1997 کا تھا، اس کے تقریباً ایک سال بعد اگست 1998 میں مستقل لکچرر ہوگئے۔ کوثر مظہری نے بارگاہِ الٰہی میں سجدۂ شکر ادا کیا اور ان کی زبان جہانِ فانی کی قصیدہ خواں بھی ہوئی کہ اس کے بدولت ہی بگڑکر ان کی حالت سنبھل گئی تھی۔ ان کا ہی ایک شعر ہے:

یہ غم ہی مداوائے غم ہے مرا

مجھے غم سے باہر نکالو نہیں

معاش کا مسئلہ تو حل ہوگیا اور انہیں یک گونہ سکون بھی میسر ہوا، لیکن شخصیت کے خمیر میں شامل بعض مرکبات نے راحت کدے کو بھی ان کے لیے خار زار بنائے رکھا۔ ان کی شخصیت کے خمیر سے "ادب” کے جز کو نکال دیا جائے تو باقی بچے اجزا میں رنج و الم، صاف اور بے باکانہ رویہ، معصومانہ سادگی اور مذہبی رجحان کو کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ رنج و الم سے کوثر مظہری کا ایسا ساتھ ہوا کہ اس کے بغیر لمحۂ موجود کا گزارنا ایک طرح سے دشوار ہوگیا، جو کہ شوق خواندگی کی ابتدا سے نمو پاکر جگر گوشوں کے سانحۂ ناگہانی سے گزرتی ہوئی مختلف بیماریوں کی شکل میں ان کے ساتھ گھر کے دوسرے افراد کو جکڑے ہوئے رہی۔ کبھی راحت خیزی کی صورت نظر آنے لگتی ہے تو انہیں بے چینی و بے سکونی کا احساس آرضے میں مبتلا کردیتا ہے۔ ان کے لیے ہی شاید غالبِ خستہ نے اپنا یہ شعر کہا تھا:

رنج سے خوگر ہوا انساں تو مٹ جاتا ہے رنج

مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہوگئیں

یہ سچ ہے کہ رنج و الم سے ان کا ایسا یارانہ ہوا کہ کوثر مظہری اس کے خوگر ہوکر رہ گئے، جس سے زندگی کرنا ان کے لیے آسان ہوگیا۔ اس لیے ان کی شاعری میں غم و یاس پر مبنی اشعار کثرت سے آئے ہیں۔ ایک شعر دیکھ لیجئے:

بادۂ غم سے ہے سرشار مرا باطن بھی

اور اسی غم سے اجالا ہے یہ باہر سارا

ان کی دوست داری کا ذکر پہلے بھی آچکا ہے، زمانے کی تغیر پذیری کے ساتھ دوستوں کے خال و خط میں بھی تبدیلی آئی۔ دہلی آنے کے بعد دوستانِ موافق کا جو حلقہ بنا تھا، وقت نے اسے دھندلا کردیا اور اس کی جگہ نئے نقوش واضح ہونے لگے کہ زندگی کی اصل حقیقت بھی یہی ہے۔ ان دنوں ان کے دوستوں کی فہرست میں شہزاد انجم، خالد جاوید اور کسی حد تک سرورالہدیٰ کے علاوہ قرب و جوار میں رہنے والے دیگر چہرے شامل ہوئے ہیں، ان میں شہزاد انجم خود کو افسانہ اور تنقید نگار کہتے ہیں۔ ان کے افسانے میری نظروں سے نہیں گزرے، البتہ کبھی کبھار تنقیدی مضامین رسائل و جرائد میں دیکھے ہیں۔ خالد جاوید بنیادی طور پر فکشن رائٹر ہیں، لیکن انہیں تنقید بالخصوص مغربی افکار و نظریات سے خاص دلچسپی ہے۔ اس موضوع پر ان کی کئی کتابیں منظرِ عام پر آچکی ہیں۔ ان کے ناول فنی و فکری طور پر ایک نئی آواز کا حکم رکھتے ہیں، جن کی پہچان دیگر ناولوں کے ہجوم میں آسانی سے کی جاسکتی ہے۔ "نعمت خانہ” پر Litreature JCB ایوارڈ 2022  کا علان ہوا تو کئی چہرے فق ہوئے تو کتنے ہی نقوش شاداں و خنداں نظر آنے لگے۔ انہیں دیگر سرکاری اور نیم سرکاری اداروں سے بھی انعامات مل چکے ہیں۔ سروالہدیٰ ایم اے میں میرے ہم جماعت تھے۔ انہیں جنون کی حد تک پڑھنے لکھنے کا شوق ہے، چنانچہ وہ صحبتِ دوستاں پر یقین نہیں رکھتے بلکہ اپنا وقت تنقید و تحقیق میں صرف کرتے ہیں، اس کے باوجود کوثر مظہری کی مقناطیسی شخصیت نے انہیں اپنا گرویدہ بنالیا ہے۔ سرورالہدی کی متعدد تنقیدی و تحقیقی اور ترتیب و تالیف کی ہوئی کتابیں ادبی دنیا میں ذوق و شوق کے ساتھ پڑھی جاتی ہیں۔ ان کے علاوہ کوثر مظہری کے حلقۂ احباب میں مولابخش اور مشتاق صدف کا نام شامل ہے۔ مولا بخش دیال سنگھ کالج، دہلی میں اردو کے لکچرر تھے۔ بعد میں شعبۂ اردو، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں پروفیسر ہوگئے۔ہندوستان میں دوسری مرتبہ کرونا کی وبا آئی تو اس کا شکار ہوکر مولا بخش بھی دنیا سے رخصت ہوگئے۔ مشتاق صدف ایک طویل عرصہ ساہتیہ اکادمی میں گزارنے کے بعد علی گڑھ میں لکچرر ہوگئے۔ ان دنوں تاجکستان میں اردو پڑھاتے ہیں۔

کوثر مظہری کی شخصیت کے خمیر کا واضح اور توانا جز ان کا صاف اور بے باکانہ رویہ ہے، جو ان کے سنِ شعور میں آنے کے بعد سے ہی شروع ہوگیا تھا اور جس کی ابتدائی جھلک گاؤں کی زندگی اور اس کے واضح نقوش پٹنہ میں گزارے ہوئے شب روز میں دکھائی دیتی ہے۔ انہیں چونکہ غلط باتیں کرنا اور سننا پسند نہیں۔ وہ کسی جاہ و منصب کے بھی طلبگار نہیں۔ چنانچہ ایسی باتیں کرتا اور ٹیڑھی چالیں چلتا ہوا کوئی نظر آجاتا ہے تو نفع و نقصان کی پروا کیے بغیر اسے دو ٹوک سنا دیتے ہیں۔ ان کی ایسی عادتوں سے اپنے پرائے خوب واقف ہیں بلکہ انہیں اس چیز کا تجربہ بھی ہوچکا ہے۔ ان کے سامنے ایسی باتیں کرتے ہوئے احتیاط برتتے ہیں ، لیکن پیٹھ پیچھے کوثر مظہری کی برائی کرنے سے بھی نہیں چوکتے۔کوثر مظہری کے نشانے پر پتہ نہیں کتنی شخصیتیں اور کتنے ہی سرکاری و نیم سرکاری ادارے آچکے ہیں۔ بادی النظر میں ان کے حرکات و سکنات غیر فطری لگتی ہیں، اگر بہ نظرِ غائر دیکھیں تو ان کے ترکش کے تیر کبھی غلط حدف کا شکار نہیں کرتے۔ ایک تو جاہ و حشم اور منصب داری سے بے اعتنائی اور دوسرے ان کا صاف اور بے باکانہ رویہ انہیں کسی اضافی عہدے پر فائز نہیں ہو نے دیتا۔ اس لیے لکچرر بننے کے بعد ترقی کرتے ہوئے انہیں ریڈر اور بعد ازاں پروفیسر کے عہدے پر ہی اکتفا کرنا پڑا ہے۔اس راہ میں ان کے تیور کو دیکھ کر ضیا جالندھری کا یہ شعر یاد آتا ہے:

برا نہ مان ضیا اس کی صاف گوئی کا

جو دردمند بھی ہے اور بے ادب بھی نہیں

یہ شعر کوثر مظہری کی شخصیت کا آئینہ ہے کہ وہ صاف گو ہونے کے باوجود درد مند اور ادب و احترام کے ہنر سے بخوبی واقف ہیں اور یہی چیز ان کی شخصیت کے خمیر میں معصومانہ سادگی کی خصوصیت کی دلالت کرتی ہے۔” مصومانہ سادگی” ان کی شخصیت کو سنوارنے اور نکھارنے کے علاوہ کر و فر کی خصوصیات سے مسجع کرتی تو ہے،لیکن بسا اوقات نقصان بھی پہنچاتی ہے۔ اس خصوصیت کا فائدہ اٹھا کر لوگ انہیں آسانی کے ساتھ پھانس کر اپنا بڑے سے بڑا کام پلک جھپکتے ہی نکلوا لیتے ہیں۔ میرے خیال سے کوثر مظہری کا مذہبی ہونا ان کا ذاتی عمل ہے، لیکن اس کسوٹی پر کسی شخص کو پرکھنے سے مثبت نتیجہ ضرور نکل سکتا ہے۔ کوثر مظہری روزہ نماز اور اسلام کے تمام ارکان کی پابندی کرتے ہیں اور اس کی تبلیغ میں بھی حصہ لیتے ہیں۔ان کی شخصیت کے خمیر میں مذہبی رنگ شامل ہونے کے ساتھ اس کے اثرات تخلیق و تنقید پر بھی جابجا نظر آتے ہیں۔

ادب کے عصری منظر نامے پر کوثر مظہری اپنی شعری و نثری تخلیقات کے ذریعے مختلف جرائد و رسائل کی زینت بنتے ہیں۔ سیمیناروں اور مشاعروں میں واہ واہی لوٹتے ہیں، یعنی ان کی حیثیت بیک وقت شاعر اور نثر نگار کی ہے۔ وہ غزل نگار کی حیثیت سے جانے پہچانے جاتے ہیں، لیکن ان کی نظمیں بھی خاص اہمیت کی حامل ہیں ۔ نثر کی متعدد جہتوں کی آبیاری کرتے ہوئے انہوں نے ناول لکھا، تنقید نگار کے طور پر اپنی پہچان بنائی اور ترجمہ نگاری میں اپنی انفرادیت قائم کی۔حسن و عشق کبھی ان کی غزلوں کا حاوی رنگ تھا، لیکن اس میں تبدیلی آتی گئی اور انہوں نے اپنے غزل کینوس پرایک ایسی تصویر بناڈالی، جس پر مختلف تجربات و احساسات کو دیکھا جاسکتا ہے۔ چنانچہ ان کی غزلیں کسی مخصوص رنگ کی عکاس نہیں بلکہ موضوع و مواد کے مختلف رنگوں کی کہکشاں نظر آتی ہیں۔ انہوں نے غزل کے تقاضوں کا خیال رکھتے ہوئے شعر کہے ہیں۔ ان کے یہاں لفظ اور معنی کا متوازن رشتہ اور صنعتِ لفظی و معنوی کا تخلیقی استعمال دیکھنے کو ملتا ہے۔ ان کی شاعری کا دوسرا مجموعہ "ماضی کا آئندہ” 2008 میں طباعت کے مراحل سے گزرا تھا، جس میں غزلوں کے علاوہ نظمیں بھی شامل تھیں۔ اس مجموعے سے بغیر کسی کدوکاوش کے چند اشعار پیش ہیں:

یہ جو ہر لمحہ مری سانس ہے آتی جاتی

ایک طوفان ہے سینے میں اٹھاتی جاتی

کون سی دنیا میں ہوں، کس کی نگہبانی میں ہوں

زندگی ہے سخت مشکل پھر بھی آسانی میں ہوں

زندگی کا ماحصل ہے کیا؟ کوئی بتلائے تو

ہے فنا کے ماسوا بھی اور کچھ، سمجھائے تو

اذاں تو ہوتی ہے صحرا میں آج بھی لیکن

یہ دیکھنا ہے کہ روحِ بلال ہے کہ نہیں

تماشا دیکھنا چاہو تو دیکھو میری آنکھوں سے

کہ ان آنکھوں میں ان دیکھے جہاں کا خواب پلتا ہے

وہ دمِ رخصت کسی کا مڑ کے پیہم دیکھنا

جان پگھلانے کا باعث بس وہی اک پل ہوا

ان اشعار میں ہر لمحہ آتی جاتی سانس کے ساتھ سینے میں طوفان کا اٹھنا، زندگی کی سخت مشکلوں کو آسانی سے تشبیہ دینا، سوالیہ انداز میں فنا کے ماسوا زندگی کاماحصل دریافت کرنا،مسجد کو صحرا سے تشبیہ دیتے ہوئے، اس میں گونجنے والی اذان میں بلال کی روح تلاش کرنا، اپنی آنکھوں سے ان دیکھے جہان کا خواب دیکھنے کی دعوت دینا اور جاں کنی کے وقت کسی کے مڑ کر دیکھنے سے جان کے پگھلنے کا احساس ہونا، دراصل موضوعات کے کئی ابعاد کو واضح کرتا ہے۔ اس میں کوثر مظہری کا حسن کی تپش سے پگھلتا ہوا دل اور عصری آگہی سے مملو ان کا ذہن بھی ہے۔ ان کی غزلوں میں ایک ایسا کردار بھی نظر آتا جو دنیا جہان کے مظاہر کومذہب کی آنکھوں سے دیکھتا اور روحِ ایمانی کو جِلا بخشتا ہے۔ یہ سارے اسباب و عناصر چونکہ کوثر مظہری کی شخصیت سازی میں اہم رول ادا کرتے ہیں، اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ ان کی غزلیہ شاعری فطرت کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ غزل کے ساتھ کوثر مظہری نے حمد و نعت کے علاوہ تاثراتی اور موضوعاتی نظمیں بھی لکھی ہیں۔ حمد و نعت پر مشتمل ان کا مجموعہ "عرش و طیبہ” 1998 میں منظرِ عام پر آیا تھا۔ اندراگاندھی پر ایک تاثراتی نظم لکھی جو "جانِ چمن اندرا” کے عنوان سے 1987 میں شائع ہوئی، لیکن ان کا اصل رنگ موضوعاتی نظموں میں نکھر کر سامنے آتا ہے۔ انہوں نے موضوعاتی نظمیں پابند، مُعرّا اور آزاد ہئیتوں میں لکھی ہیں۔ ان کی آزاد نظموں کے مقابلے میں معرا اور پابند نظمیں نسبتاً زیادہ سلیس اور رواں دواں ہیں۔ مجاز کی نظم "آوارہ” کو پڑھ کر انہوں نے مخمس کی ہیئت میں ایک نظم "سوچتا ہوں کیا کروں” لکھی تھی، جو کہ مجموعے میں شامل نہیں ہے۔ اس نظم میں سلاست و روانی اپنی انتہا کو پہنچ کر سحر انگیزی کی کیفیت کو دوبالا کردیتی ہے۔ نظم کے پہلے بند سے آپ بھی لطف اٹھائیں:

تم یہ کہتے ہو کہ لالہ رخ کا افسانہ لکھوں

اور دل کہتا ہے مفلس کی کہانی پیش کر

تم یہ کہتے ہو شباب باکرہ لکھا کروں

جاں سسکتی ہے کہ بیوہ کی جوانی پیش کر

سوچتا ہوں کیا کروں اب یہ لکھوں یا وہ لکھوں

"ماضی کے آئندہ” میں شامل نظمیں عصری آگہی کے ساتھ کلاسیکی ضبط کی حامل ہیں، ان میں موضوع و مواد کی نوعیت عموماً شاعر کے تجربہ و احساس پر مبنی ہیں، جس میں حسن و عشق اور عصری مسائل و معاملات کی گونج کے علاوہ اسلامی افکار و نظریات خصوصاً قرآن کی مخصوص آیتوں کو فنی تقاضوں اور اسلامی فکر و آہنگ کے ساتھ نظم کا پیراہن عطا کیا گیا ہے۔ "ماضی کا آئندہ” کے بعد کی نظمیوں میں بھی یہ خصوصیات بدرجۂ اتم پائی جاتی ہیں، لیکن ان میں تجربہ و احساس سے زیادہ ہنگامی موضوعات کو ترجیح دی گئی ہے۔ اس قبیل کی نظموں میں شکیل جہانگیری کی یاد میں لکھی گئی چار نظمیں،سنو بیوقوفو!، غیر مرئی طاقت، ہمیں گھر اپنے جانے دو، ہولی فیملی ہاسپیٹل میں، فقیر بے بدل اور جانِ عالم شامل ہیں۔ "ماضی کا آئندہ” میں شامل ایک نثری نظم "سراب” میں شاعر نے محرومی و حرماں نصیبی کی تخلیقی عکاسی خوبصورت انداز میں کی ہے۔ اس نظم کا مطالعہ کیجئے ، جس کے اندورن میں چھپے معنی انسانی بے بسی کی دلخراش کہانی بیان کرتے ہیں:

دیکھی ہیں میں نے بھی لہلہاتی کھیتیاں /ریت میں

موجیں مارتے سمندر کو بھی دیکھا ہے/ریت میں

مگر/جب پاس گیا تو ہاتھ آئی /تشنہ لبی

جب فصلوں کو چھوا تو /دامن میں راکھ اتر آئی

شاعری کوثر مظہری کے شریانوں میں خون بن کر دوڑتی ہے، لیکن انہوں نے "آنکھ جو سوچتی ہے” جیسا ناول بھی 2000 میں لکھا تھا، جس کا دوسرا اڈیشن 2020 میں منظرِ عام پر آیا۔ اس ناول میں سیتا مڑھی کے قصباتی علاقوں کو موضوع بنایا گیا ہے۔ یہ علاقہ چونکہ فسادات کی آگ میں جھلس کر راکھ ہوگیا تھا، اس لیے ناول کی فضا دھوئیں سے اٹی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔ کرۂ ارض پر فسادات، قتل و غارت گری، سماجی و سیاسی اتھل پتھل ، نفرتوں کے کاروبار اور سیاست کے مکروہ چہروں کے درمیان رضوان جیسا حساس کردار جب تک اپنی موجودگی کا احساس دلاتا رہے گا، میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت تک "آنکھ جو سوچتی ہے” کی معنویت قائم رہے گی۔

ایک زمانے میں کوثرمظہری کا رجحان ترجمہ نگاری کی طرف بھی تھا۔ انہوں نے خلیل جبران کے ناول "الاجنحۃ المتکسرۃ” کے انگریری نسخے”The Broken Wings” کا اردو میں "شکستہ پر” کے نام سے رواں دواں اور سادہ و سلیس ترجمہ کیا تھا، جسے اردو حلقوں میں ہاتھوں ہاتھ لیا گیا اور اس کی تحسین و تعریف بھی کی گئی۔ وہ اپنی دیگر مصروفیات کے ساتھ ترجمہ نگاری کو ترجیح دیتے تو اس میدان میں بھی ان کی شناخت قائم ہوتی۔

ادب کے عصری منظر نامے پر کوثر مظہری کی شناخت تنقید نگار کی ہے، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اگر وہ مولانا الطاف حسین حالی، خلیل الرحمن اعظمی، کلیم الدین احمد ، محمد حسن اور شمس الرحمن فاروقی کی طرح بنیادی طور پر شاعر نہیں ہوتے تو تنقید کی طرف بھی نہیں آتے۔ ان کا ذہن اسلامی تعلیمات سے بہرہ ور، مشرقی شعریات و افکار سے مزیّن اور تنقید کے مغربی نظریات و خیالات سے ہم آہنگ ہے، چنانچہ ان کی تنقید میں تینوں جہتوں کی خوشگوار آمیزش دیکھنے کو ملتی ہے، لیکن ان کا مطمحِ نظرچونکہ مشرقی شعریات و افکار کی طرف ہے، اس لیے ادب پاروں کو اسی تناظر میں دیکھتے ہیںاور اس کے تحت ہی ادب کے حسن و قبح کی جانچ پرکھ کرتے ہیں۔ کوثر مظہری کی تنقیدی کتابوں میں جرأتِ افکار، قرأت و مکالمہ اور ارتسام کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ یہ مفروضہ کہ اچھا تنقید نگار بننے کے لیے تبصرے نگاری کے خارزاروں سے گزرنا نہایت ضروری ہے، اس مفروضے پر کوثرمظہری بھی عمل پیرا نظر آتے ہیں۔ انہوں نے دلجمعی کے ساتھ ادب کے مختلف اصناف و موضوعات پر مبنی کتابوں پر تبصرے کیے ہیں، جن کا ایک جامع انتخاب "بازدید اور تبصرے”کے نام سے 1913 میں شائع ہوا۔ ان کی مختلف موضوعات پر ترتیب و تالیف اور انتخاب کی ہوئی متعدد کتابیں شائع ہوئی ہیں، جن میںجواز و انتخاب، منٹو شناسی اور شکیل الرحمن، انتخابِ کلامِ جمیل مظہری، مظہرِ جمیل اور نیا ناول نیا تناظر خاص اہمیت کی حامل ہیں۔ کوثر مظہری نے مختلف اکادمیوں اور سرکاری اداروں کے لیے اکابرینِ شعر و ادب پر کئی مونوگراف لکھے ہیں، جن میں وحید اختر ، فائز دہلوی، شیخ ابراہیم ذوق ، شکیل الرحمن، جمیل جالبی اور سردارجعفری پر لکھے گئے مونوگراف اہمیت کے حامل ہیں۔

کوثر مظہری کی مرقع سازی میں ان کی شخصیت کے مختلف اور متضاد پہلوؤں کے علاوہ شعر و ادب کے روشن ابعاد خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ ان میں سے کسی ایک جز کو نکال دیا جائے تو ان کی مکمل اور واضح شبیہ نہیں بنتی اور انہیں پوری طرح سمجھنے سے ہم قاصر رہتے ہیں۔ شعر و ادب کے تئیں کوثر صاحب کا جنون ان کی افتادِ طبع کو آئینہ کرکے ایک ایسے فنکار کا ہیولا ابھارتا ہے،جو اپنے ہم عصروں سے کئی معنوں میں مختلف نظر آتا ہے۔ یہ مرقع کوثر مظہری کی بیٹی اور بیٹوں کے ذکر کے بغیر ادھورا رہ جائے گا۔ ان کی بیٹی صبانگار اردو میں ماسٹر کرنے کے بعد بے ایڈ بھی کرچکی ہیں۔ وہ ان دنوں اپنے سسرال میں ہیں۔ بیٹوں میں عبداللہ احسان اندراگاندھی اوپن یونیورسٹی سے سوشیولوجی میں ایم اے کرچکے ہیں اور جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ماسٹر آف سوشل ورک کے طالبِ علم ہیں۔ حافظ سعداللہ احسان ندوۃ العلما، لکھنؤ سے فضیلت کررہے ہیں۔ ان کے تنیوں بچے بہت ہی لائق و فائق، ملنسار اور انسانی ہمدردی کی خصوصیات سے بہرہ مند ہیں، یعنی کوثر مظہری کی زندگی ہر لحاظ سے خوبصورت اور خوس آیند نظر آتی ہے۔

 

 

 

(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں    https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

 

adabi meerasadabi miraasadabi mirasadil hayatkausar mazhariادبی میراث
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
شاعری اور عریانی – عبادت بریلوی
اگلی پوسٹ
ڈاؤن سنڈروم سے متاثربچوں کوٹریننگ کے ذریعے اہل بنانے کی ضرورت: وائس چانسلر پروفیسراقبال حسین

یہ بھی پڑھیں

گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

جولائی 26, 2025

نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا...

فروری 1, 2025

لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا...

جنوری 21, 2025

بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست...

جنوری 21, 2025

بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو –...

جنوری 21, 2025

اردو کی زبوں حالی – ماریہ غزال

جنوری 18, 2025

مظفر فہمی “پر ایک طائرانہ نظر- ڈاکٹر منصور...

جنوری 6, 2025

دار المصنفین – ڈاکٹر ظفرالاسلام خان

اکتوبر 8, 2024

دارالمصنفین کی مالیات کا مسئلہ : کیا کوئی...

اکتوبر 7, 2024

سچ، عدم تشدد اور مہاتما گاندھی – سید...

اکتوبر 3, 2024

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں