انسان کی فکری تطہیر اورعملی ہدایت کے لیے جو نسخہ سب سے اہم ہے، وہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی کتاب یعنی قرآن مجید ہے۔ اسے اللہ رب العزت نے رہتی دنیا تک کے تمام انسانوں کی ہدایت کے لیے اپنے پیارے حبیب حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمایا۔ یہ انسان کو ہر قسم کی فکری بے راہ روی مثلاً کفر، شرک، نفاق، فسق و فجور وغیرہ سے بچاتا ہے اور ایمان، اسلام، اور احسان کی راہ پر گامزن کرتا ہے بشرطیکہ لوگ اس کی نصیحتوں کو قبول کریں، اس پر کماحقہ ایمان لائیں اور اس کی ہدایتوں پر عمل کریں۔ علاوہ ازیں یہ ان قلبی امراض کے لیے بھی شفا ہے جو انسان کے دل کو سخت بنا دیتے ہیں ہے اور اسے حق کی پیروی سے منحرف کرکے نفس و شیطان کی اطاعت و بندگی میں لگادیتے ہیں جس سے اس کی دنیوی و اخروی تباہی و بربادی یقینی ہوجاتی ہے، جیسے حب دنیا، حب جاہ،حب مال،تکبر، بغض و عناد، حسد، کینہ، بخل، خود پسندی، شہرت طلبی، ریا، بزدلی وغیرہ ۔ اللہ رب العزت کاارشاد ہے: {یٰٓأََٔیُّہَا النَّاسُ قَدْ جَآئَ تْکُمْ مَّوْعِظَۃٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَشِفَآئُ لِّمَا فِیْ الصُّدُوْرِ وَہُدًی وَّرَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ} ’’ اے لوگو! بلاشبہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت اور دلوں کی بیماریوں کے لیے شفا اور مومنوں کے لیے ہدایت اور رحمت آچکی ہے۔ ‘‘ (یونس:۵۷)۔
اس لیے ہر مومن کو چاہیے کہ قرآن سے اپنا رشتہ جوڑے ، اس کی آیتوں میں غور و فکر کرے، اور اس کی نصیحتوں پر عمل پیرا ہو تاکہ مطلوبہ فوائد اسے حاصل ہوں۔ لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت نے قرآن سے اپنا ناتا توڑ لیا ہے، قرآن ان کے نزدیک اب صرف مُردوں کو بخشنے والی کتاب ہے جو کسی کے انتقال پر ہی نکالی اور پڑھی جاتی ہے۔ جن لوگوں نے اس کتاب سے کسی قدر تعلق بنا رکھا ہے، وہ بھی اسے صرف نیکی کے حصول کی غرض سے ہی پڑھتے ہیں، اس سے ہدایت طلب نہیں کرتے۔ قرآن سے ہدایت تو تب ہی ملے گی جب اسے معنی و مطالب سمیت سمجھ بوجھ کر اور غور و فکر کے ساتھ طلب ہدایت کی نیت سے پڑھا جائے۔ اس کے پڑھنے میں جب ہدایت کی نیت ہی نہیں کرتے تو ہدایت کہاں سے ملے؟ ہاںنیکی اور ثواب ضرور مل جائے گا کیوں کہ ارادہ اسی کا کیا گیا ہوتا ہے۔ یہاںسمجھنے کی بات یہ ہے کہ قرآن کی خصوصیت کتاب ثواب ہونے کی حیثیت سے نہیں بلکہ کتاب ہدایت ہونے کی حیثیت سے ہے جیسا کہ سورۃ یونس کی مذکورہ بالا آیت ۵۷؍ میں بھی ذکر ہوا اور اس نے اپنے نزول کا بنیادی مقصد دوسری آیت میںواضح طور پر تدبر و تذکر کو ہی بتایا ہے: {کِتٰبٌ أَنْزَلْنٰہُ إِلَیْْکَ مُبَارَکٌ لِّیَدَّبَّرُوْٓا اٰیٰتِہِ وَلِیَتَذَکَّرَ أُوْلُوا الْأَلْبَابِ} ’’ یہ ایک بابرکت کتاب ہے جسے ہم نے آپ کی طرف اس لیے نازل کیا ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں پر غور وفکر کریں اور تاکہ عقل والے اس سے نصیحت حاصل کریں۔‘‘ (صٓ:۲۹)۔ ایک جگہ قرآن کی آیتوں پر غور و فکر نہیں کرنے والوں کی مذمت ان الفاظ میں کی گئی ہے: {أَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلٰی قُلُوبٍ أَقْفَالُہَا} ’’تو کیا وہ لوگ قرآن میں غور و فکر نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر تالے پڑے ہوئے ہیں؟‘‘ (محمد:۲۴)۔ مشہور مفسر قرآن امام محمد بن احمد بن ابوبکرقرطبیؒ کی رائے میں یہ دونوں آیتیں قرآن میں غور و فکر کے وجوب پر دلالت کرتی ہیں تاکہ اس کے معنی کو جان لیا جائے یعنی ان کے نزدیک قرآن کی آیتوں میں غور و فکر کرنا ہرمسلمان پر واجب ہے۔ (الجامع الأحکام القرآن للقرطبيؒ، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت – لبنان، الطبعۃ الأولیٰ ۲۰۰۶م، الجزء سادس، صفحہ ۴۷۷)۔
قرآن کریم کی اتنی واضح دعوت فکر کے باوجود لوگ اس کی طرف مائل نہیں ہوتے اور نہ ہی علمائے کرام بالعموم مسلمانوں کو قرآن سمجھ کر پڑھنے کی ترغیب دیتے ہیں، الا ماشاء اللہ! بلکہ احقر کا یہ مشاہدہ ہے کہ ان کا ایک بڑا طبقہ عام مسلمانو ںکے درمیان یہ غلط تصور پھیلانے کی کوشش کرتا ہے کہ قرآن کو سمجھنا بس علما کا کام ہے، تم اسے نہیں سمجھ سکتے اور اگر تم نے اسے سمجھنے کی کوشش کی تو گمراہ بھی ہوسکتے ہو یعنی ایک طرح کا خوف ان کے درمیان پیدا کیا جاتا ہے۔ اس کے پیچھے ان کی کیا منشا اور فکر ہوتی ہے، اس پر کچھ لکھنے کا یہ موقع نہیں البتہ اتنا ضرور کہنا چاہتا ہوں کہ یہ کتاب صرف علما کے لیے نازل نہیں ہوئی بلکہ عام انسانوں کی ہدایت کے لیے نازل ہوئی ہے، اور اسے پڑھ کر اور سمجھ کر ہی لوگ عالم بن جاتے ہیں، کوئی بھی شخص ماں کے پیٹ سے عالم بن کر پیدا نہیں ہوتا بلکہ تحصیل علم کی مسلسل کوششوں سے رفتہ رفتہ عالم بن جاتا ہے۔ اگر یہ سعی و جدوجہد نہ ہو تو کسی کے عالم بننے کی توقع ہی مفقود ہوجائے گی۔ پھر یہ بھی کہ قرآن کریم میں صرف فقہی مسائل اور حدود ہی بیان نہیں کیے گئے ہیں جن کے بارے میں کوئی یہ کہہ سکتا ہو کہ انھیں علما ہی بہتر سمجھ سکتے ہیں بلکہ اس میں ایسی بہت سی باتیں ہیں جن کا سمجھنا ایک عام سمجھ بوجھ والے انسان کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں ہے، مثلاً اس میں اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی وحدانیت کے دلائل ہیں جو کائنات میں موجود اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کو بنیاد بنا کر پیش گئی ہیں جن کا ایک انسان روز مرہ مشاہدہ کرتا ہے، نیز اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے دلائل ہیں، ان کی اطاعت و اتباع کا حکم ہے، کفر ، شرک ، نفاق اور فسق و فجور کی مذمتیں ہیں، دنیا کی بے ثباتی اور آخرت کی حقیقت و پائیداری کے بیانات ہیں، انسان کی زندگی کے حقیقی مقاصد کی وضاحتیں ہیں، اخلاق حسنہ کو اختیار کرنے کی تعلیم ہے اور اخلاق رذیلہ سے بچنے کی نصیحتیں ہیں، اعمال صالحہ کی ترغیبات اور ان سے متعلق بشارتیں ہیں، اعمال قبیحہ یعنی برائیوں سے بچنے کی ہدایات ہیں اور ان سے متعلق وعیدیں ہیں، متعدد قصص و واقعات ہیں جن سے انسان عبرت حاصل کرسکتا ہے۔ الغرض ایسی بہت سی باتیں ہیں جو بالکل عام فہم ہیں، بس توجہ سے اسے پڑھنے کی ضرورت ہے جو کہ ایک تعلیم یافتہ انسان بہ آسانی کرسکتا ہے۔
ہاں اس سلسلے میں جو سب سے بڑی رکاوٹ بتائی جاتی ہے، وہ عربی زبان کا نہیں جاننا ہے، تو اس کے متعلق یہ عرض ہے کہ عربی زبان کا جاننا یقیناً قرآن فہمی میں بہت معاون ہے لیکن جو لوگ عربی زبان کسی وجہ سے نہیں پڑھ سکے، ان کے لیے بھی قرآن فہمی کی راہ بالکل مسدود نہیں ہے، مخلص علمائے کرام نے ترجموں اور تفسیروں کے ذریعے ان کے لیے بھی بہت آسانیاں پیدا کردی ہیںجن کی مدد سے قرآن کریم کا سمجھنا اب پہلے کے مقابلے میں اور بھی آسان ہوگیا ہے۔ اردو، ہندی، انگریزی ہر زبان میں قرآن کے ترجمے اور معتبر علما کی تفسیریں اب موجود ہیں جن کی مدد لی جاسکتی ہے اور قرآن کو سمجھا جاسکتا ہے، شرط یہ ہے کہ ان زبانوں سے واقفیت ہو اور عام سمجھ بوجھ بھی ہوجو کہ کالج یونیورسٹی اور دینی درسگاہوںکے فارغین کو عام طور پر ہوتی ہے۔ اس لیے علما کے اس طبقے کو جو عام تعلیم یافتہ مسلمانوں سے یہ کہتا ہے کہ تم قرآن نہیں سمجھ سکتے، اب یہ کہنا چھوڑ دینا چاہیے کیوں کہ اس طرح وہ اپنے اکابر کی عوام کے لیے کی گئی کاوشوں پر پانی پھیر رہے ہوتے ہیں اور لوگوں کو قرآن فہمی سے دور کرنے کے مرتکب بھی ہورہے ہوتے ہیں جس پر ان سے بازپرس بھی ہوسکتی ہے۔ اس حوصلہ شکنی کے بجائے انھیں عوام کو آسان اور عام فہم ترجموں اور تفسیروں کی طرف رہنمائی کرنی چاہیے اور انھیں پڑھنے کی ترغیب دینی چاہیے تاکہ لوگ قرآن کی طرف متوجہ ہوں اور ان کی فکری اور اخلاقی اصلاح رو بہ عمل آئے اور سماج میں مثبت تبدیلیاں واقع ہوں۔
اس لیے احقر ہر پڑھے لکھے مسلمان کو یہ دعوت دیتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے پیغامات کو سمجھنے کے لیے کوششیں کرے اور اسے اپنے لیے ضروری سمجھے کیوں کہ یہ تزکیہ نفس کی راہ میں ایک بڑی اہمیت کی حامل چیز ہے۔ بہتر تو یہی ہے کہ ہر مسلمان خود بھی عربی سیکھے اور اپنے بچوں کو بھی عربی زبان کی تعلیم دے لیکن اگر وہ خود نہیں سیکھ سکا ہے تو کم از کم قرآن کے ترجموں کا سہارا لے۔ ایسا بالکل نہ سوچے کہ قرآن اسے سمجھ میں نہیں آئے گا، جب وہ عصری علوم کے مشکل ترین موضوعات کو سمجھ لیتا ہے تو دین جس کا تعلق عملی زندگی (Practical Life) سے ہے، اسے کیوں نہیں سمجھ میں آئے گا؟ میں تو کہتا ہوں کہ اگر عصری علوم سے وابستہ طبقہ دین کو سمجھنے پر آجائے تو روایتی طبقے سے بہتر دین کو سمجھ سکتا ہے اور اس کی بہترین تشریح بھی کرسکتا ہے۔ اب تو اس کی کئی مثالیں عوام الناس کے سامنے آبھی چکی ہیں۔ اصل چیز ارادہ کرلینے اور ٹھان لینے کی ہے، جب آپ ٹھان لیں گے کہ قرآن کو سمجھنا ہے اور مطالعہ شروع کردیں گے تو ان شاء اللہ آپ کی ہدایت کے راستے کھل جائیں گے اور قرآن سمجھ میں بھی آئے گا۔ علم و ہدایت دراصل اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، جو اس راہ میں صدق دل سے قدم بڑھاتا ہے اور مشقتیں اٹھاتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے اس سے ضرور نوا زتے ہیں اورکامیابی سے ضرور ہم کنار کرتے ہیں کیوں کہ اس کا وعدہ ہے: {وَالَّذِیْنَ جَاہَدُوْا فِیْنَا لَنَہْدِیَنَّہُمْ سُبُلَنَا} ’’اورجن لوگوں نے ہماری راہ میں کوشش کی ، ہم ان کو ضرور اپنے راستے دکھا دیں گے۔‘‘ (العنکبوت: ۶۹)۔
اس لیے آج ہی قرآن کو سمجھنے کا عزم مصمم کرلیجیے۔ میں یہاں چند اردو تراجم و مختصر تفاسیر قرآن کی طرف رہنمائی کردیتا ہوں، آپ ان میں سے کسی ایک کا انتخاب کر لیجیے اور مطالعہ شروع کردیجیے۔ مطالعہ گو تھوڑا ہی کیجیے لیکن مسلسل پابندی کے ساتھ کیجیے۔ چند دنوں میں ہی آپ اس کی افادیت محسوس کریں گے۔ مطالعہ کا بہتر وقت فجر کی نماز کے بعد کا ہے، میں طلبا سے اکثر کہتا ہوں کہ دن کی شروعات اللہ کی کتاب سے کرو، پھر کوئی اور کتاب پڑھو، پھر تم اس کی برکتیں بھی دیکھو گے۔ لیکن ہر انسان کے اپنے معمولات ہوتے ہیں، اگر کسی کو صبح کے وقت اپنے کام پر جانے کی جلدی ہو اور وہ اس وقت سکون سے مطالعہ نہ کرسکتا ہو تو سونے سے قبل یا جس وقت اسے سکون حاصل ہو کم از کم ایک رکوع معنی اور مختصر تفسیر کے ساتھ ضرور پڑھ لے اور اسے کبھی ناغہ نہ ہونے دے۔ عمل پر استقامت کرامت سے بڑھ کر ہے، اللہ تعالیٰ کو بھی پسند ہے اور انسان کی زندگی پر اس کے اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں۔ کسی ایک ترجمے کو بھی اگر آپ شروع سے آخر تک پڑھ لیں گے تو دین کی بنیادی سمجھ آپ کے اندر پیدا ہوجائے گی اور مطالعہ کا یہ سلسلہ اگر جاری رکھیں گے تو اس میں اضافہ بھی ہوتا جائے گا اور مزید مطالعے کی راہیں کھلیں گی۔ اور قرآن فہمی کی اس کوشش میں لگے لگے اگر آپ اس دنیا سے چلے گئے تو ان شاء اللہ حشر کے دن اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کی نیت کی وجہ سے عالموں کی صف میں اٹھائے گا اور اپنے انعامات سے بھی نوازے گا۔
اس سلسلے کی پہلی کتاب جو احقر تجویز کرنا چاہے گا، مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کی ’’توضیح القرآن – آسان ترجمۂ قرآن‘‘ ہے۔ یہ قرآن کریم کی نہایت آسان ترجمانی ہے۔ اسے معمولی پڑھے لکھے عام مسلمانوں کی سمجھ کو مدنظر رکھتے ہوئے تحریر کیا گیا ہے۔ متن کے نیچے ترجمہ اور حاشیہ پر تشریحی نوٹس لکھے گئے ہیں جو کہ نہایت آسان لفظوں میں ہیں، تفسیری مباحث اور فقہی موشگافیوں سے گریز کیا گیا ہے۔ بندے کی نظر میں ایک عام مسلمان کے لیے اس سے بہتر کوئی اور ترجمۂ قرآن نہیں ہے۔ ہندوستان میں اسے ادارہ الصدیق، ڈابھیل، گجرات نے ایک ہی جلد میں شائع کیا ہے جو کل ۱۳۲۸؍ صفحات پر مشتمل ہے۔ پاکستان میں اسے مکتبہ معارف القرآن، کراچی نے فروری ۲۰۱۱ء میں شائع کیا جو ۱۹۷۶؍ صفحات پر مشتمل ہے۔ یہ نسخہ https://archive.org/ پر موجود ہے اور آسانی سے ڈاؤنلوڈ کیا جاسکتا ہے۔ اس کے بعض نسخے تین جلدوں میں بھی نظر وںسے گزرے تو اسے دیکھ کر مغالطے میں نہ آئیں، تمام باتیں یکساں ہیں صرف انھیں ایک کے بجائے تین جلدوں میں منقسم کردیا گیا ہے۔
دوسری تفسیر جو احقر تجویز کرنا چاہے گا، وہ ہے ’’تفسیر احسن البیان (اردو) – صحیح احادیث کی روشنی میں‘‘۔ اس میں ترجمہ مولانا محمد جوناگڑھیؒ کاہے اور حاشیہ میں دی گئی تفسیر مولانا صلاح الدین یوسفؒ کی ہے۔ یہ صحیح احادیث کی روشنی میں ضروری حوالوں کے ساتھ ایک بہترین مختصر تفسیر ہے اور ایک ہی جلد میں دستیاب ہے، البتہ اس کی اردو جابجا تھوڑی ثقیل ہے اور ایک عام اردو داں کو کبھی کبھی لغت سے رجوع کرنا پڑسکتا ہے جو کہ اسمارٹ فون کے زمانے میں کچھ مشکل نہیں، ریختہ کی اردو ڈکشنری کے ایپ کو ڈاؤنلوڈ کرکے وقتاً فوقتاً اس سے رجوع کیا جاسکتا ہے۔ اس ترجمہ و تفسیر کووزارت اسلامی امور، اوقاف، دعوت و ارشاد مملکت سعودی عرب، شاہ فہد قرآن کریم پرنٹنگ کمپلیکس، مدینہ منورہ سے ’’قرآن کریم مع اردو ترجمہ و تفسیر‘‘ کے نام سے شائع کراکر حجاج کے درمیان مفت تقسیم کرواتا ہے۔ یہ نسخہ کل ۱۷۷۶؍ صفحات پر مشتمل ہے اور https://archive.org/ پر اس کا پی ڈی ایف ورژن دستیاب ہے جو بہ آسانی ڈاؤنلوڈ کیا جاسکتا ہے۔
تیسری تفسیر جو احقر کو عام لوگوں کے لیے بہت پسند ہے، مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب کی ’’آسان تفسیر قرآن مجید ‘‘ہے۔ یہ تفسیر بھی نہایت آسان اور سلیس زبان میں ہے اوردو جلدوں پر مشتمل ہے۔ اسے کتب خانہ نعیمیہ دیوبند، یوپی، انڈیا نے شائع کیا ہے۔ پہلی جلد کل ۸۶۷؍ صفحات پر مشتمل ہے جس میں سورۃ الفاتحہ سے الکہف تک اور دوسری جلد کل ۱۰۰۲؍ صفحات پر مشتمل ہے جس میں سورۂ مریم سے سورۂ الناس تک کی تفسیر پیش کی گئی ہے۔ پہلی جلد کا سنہ اشاعت جنوری ۲۰۱۵ء اور دوسری جلد کا ۲۰۱۶ء ہے۔ یہ تفسیر بھی مستند احادیث کی روشنی میں کی گئی ہے، انبیا اور ان کی قوموں کے واقعات کے ذیل میں دعوتی نکات اور سبق آموز پہلوؤں کو واضح کیا گیا ہے، شرعی احکام بالخصوص جدید مسائل پر روشنی ڈالی گئی ہے، اہل مغرب کی جانب سے پھیلائی گئی غلط فہمیوں کا ازالہ کیا گیا ہے اور عصر حاضر کے غلط افکار و نظریات کے تعلق سے قرآنی موقف کی وضاحت بھی کی گئی۔ الغرض جس مقصد یعنی ’’فکری و عملی تطہیر‘‘کے لیے احقر نے مطالعہ قرآن کی سفارش کی ہے، وہ اس تفسیر کے مطالعے سے کماحقہ پوری ہوسکتی ہے۔ اس تفسیر کی دونوں جلدیں پی ڈی ایف فائلوںکی شکل میں https://archive.org/ پر دستیاب ہیں جہاں سے بہ آسانی ڈاؤنلوڈ کی جاسکتی ہیں۔
جیسا کہ احقر نے پہلے عرض کیا ہے، ان میں سے کسی تفسیر کا انتخاب کر لیجیے اور اس کا مطالعہ شروع کردیجیے۔ جب ایک ختم ہو تو دوسری اور اس کے بعد تیسری کا مطالعہ پھر ان کا اعادہ کرتے رہیے۔ بس یہ سلسلہ قائم رہنا چاہیے۔ جب یہ تفاسیر آپ پڑھ لیں گے تو ضخیم تفسیروں کو پڑھنے کی صلاحیت بھی آپ کے اندر پیدا ہوجائے گی اور ان کو پڑھنے کا شوق بھی آپ کے اندر بیدار ہوجائے گا۔ بس اپنی نیت کو طلب ہدایت اور رضائے الٰہی کے لیے خالص کرلیجیے، پھر اللہ تعالیٰ کے انعامات و برکات کا خود مشاہدہ کیجیے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!
٭٭٭٭٭
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

