منو بھنڈاری ہندی افسانوی ادب کا ہی نہیں بلکہ ہندی فکشن کا بے حد مقبول نام رہا ہے ۔مگر یہاں گفتگو عنوان کے تحت ہی پیش کرنے کی سعی کی جائے گی۔نئی کہانی آندولن کے تحت جن ہندی خواتین افسانہ نگاروں کا نام سر فہرست رہا ہے ان میں کرشنا سوبتی اور اوشا پریمود کے ساتھ منو بھنڈاری ایک خاص توجہ کی حامل رہی ہیں ،اور پچھلی کئی دہائیوں سے ان کی کہانیاںنہ صرف دلچسپی سے پڑھی جاتی ہیں بلکہ ملک کی بیشتر جامعات میں آج نصاب کا حصہ بھی ہیں ۔منو بھنڈاری کی پیدائش ۳ ؍اپریل ۱۹۳۱ء کو ریاست مدھیہ پردیش کے بھان پورہ گائوں میں ہوئی ۔اور ۱۵؍نومبر ۲۰۲۱ء میں اس دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ ان کا اصل نام مہندر کماری تھا لیکن ادبی دنیامیں اپنے قلمی نام منو بھنڈاری کے نام سے مقبول ہوئیں ۔منو بھنڈاری کی تعلیم کا باضابطہ آغاز ان کے آبائی گائوں بھان پورہ میں ہی ہوا ۔بعدہ کلکتہ یونیورسٹی سے بی ۔اے اور پھر بنارس ہندو یونیورسٹی سے ہندی میں ایم ۔اے کیا ۔تدریسی سفر میں بالی گنج شکچھا سدن،کولکاتا رانی برلا کالج ،کولکاتااور دہلی کے میرانڈا ہائوس سے وابستہ رہیں ۔منو بھنڈاری کے تخلیقی سفر کا باضابطہ آغاز ۱۹۵۶ء میںہوتا ہے ۔جب ان کی کہانی ’میں ہار گئی ‘ بھیرو پرساد گپت کے زیر ادارت شائع ہونے والا ماہنامہ ’ کہانی ‘ میں شائع ہوئی ۔’’میں ہار گئی ‘‘ تین نگاہوں کی ایک تصویر ‘’ یہی سچ ہے ‘ ایک پلیٹ سیلاب ‘‘ اور ترشنکو ‘‘ ان کے قابل ذکر افسانوی مجموعے ہیں۔منو بھنڈاری کی شناخت اس حوالے سے بھی مستحکم رہی ہے کہ وہ ہندی کے مقبول ترین فکشن نگار ،صحافی ،دانشور اورنئی ہندی کہانی کے بنیاد گزار راجندر یادو کی اہلیہ تھیں ۔دونوں نے مشترکہ طور پر ایک ناول ’ایک انچ مسکان ‘ بھی لکھا جو ۱۹۶۲ء میں شائع ہوا ۔ ’ایک انچ مسکان ‘ کے علاوہ منو بھنڈاری نے تین اور ناول تخلیق کیے جو بالترتیب ’’آپ کا بنٹی ‘۱۹۷۱ء’’’مہابھوج‘‘ ۱۹۷۹ء اور ’’سوامی ‘‘ ۲۰۰۴ء میں منظر عام پر آئے ۔ان کے متعدد افسانوں اور ناولوں پر فیچر فلم ،ٹیلی فلم اور سیریل بھی بن چکے ہیں۔علاوہ ازیں ان کے افسانوں اور ناولوں کے تراجم مراٹھی ،بنگالی ،جاپانی ،اردو ،انگریزی ،جرمن اور فرنچ میں بھی شائع ہو چکے ہیں ۔منو بھنڈ اری کو ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں ہندوستا ن کے مختلف اداروںکی جانب سے انعامات و اعزازات سے نوازا گیا۔
منو بھنڈاری کا تخلیقی سفر نصف صدی پر محیط ہے ۔ان کی پہلی کہانی ’’میں ہار گئی ‘‘ ۱۹۵۶ء میں ماہنامہ ’’کہانی ‘‘ میں شائع ہوئی تھی اور آخری کہانی ’’ گوپال کو کس نے مارا ‘‘ ۲۰۱۳ء میں مجلہ ’’گیان دیو ‘‘میں منظر عام پر آئی ۔نوے سالہ زندگی میں پچاس سال کا عرصہ ان کے تخلیقی سفر کا بے حد متحرک دور رہا ہے کسی بھی تخلیق کا ر کے لیے یہ وقت کم نہیں ہو ا کرتے ۔اس لیے ایک کامیا ب اور ذہین رائٹر اپنے وقت کا مثبت استعمال کرتے ہوئے کچھ ایسا کر جاتاہے جس سے اس کی شناخت مکمل ہو جاتی ہے ۔اپنی پہلی کہانی کی اشاعت کے احساسات کو بیان کرتے ہوئے منو بھنڈاری لکھتی ہیں :
’’ آج جب سوچتی ہوں تو حیرت ہوتی ہے کہ ایک کہانی جب تک کاغذ پر اترتی رہتی ہے جانے کتنی الجھنیں ،تذبذب ،
جھجھک اور وسوسے دل کو پریشان کیے رہتے تھے ۔یقین ہی نہیں آتا کہ جو کچھ لکھا ہے وہ کسی قابل بھی ہے ۔لیکن اشاعتی
مراحل سے گزرتے ہی دل اعتماد سے بھر اٹھا ۔مجھے لگا جیسے صرف کہانی ہی قبول نہیں ہوئی بلکہ میرا وجود بھی قبول کر لیا گیا ہے ۔‘‘
۱؎
یہی اعتماد منو بھنڈاری کے تخلیقی سفر میں شدت کے ساتھ رچا ہوا تھا اور یہ مسلسل جاری بھی رہا ۔سدھا اروڑا رقم طراز ہیں :
’’ کہانی لکھنا ان کی رگ رگ میں بسا تھا ،لکھنا ان کے لیے ایک دوا تھی ،ایک تھیرپی تھی ۔
اپنے لکھنے میں ہی وہ اپنی راحت ،اپنا سکون ،اپنا علاج اور اپنی دوا تلاشتی رہیں۔‘‘ ۲؎
منو بھنڈاری نے اپنی کہانیوں میں صنف نازک کے مسائل پر خاص نظر رکھی ہے ۔جیسے عنفوان شباب کی جنسی اور نفسیاتی پیچیدگیا ں ،نسوانی فطرت،عورتوں کی نفسیات ،جنسی خواہشات اور ان کے مساویانہ حقوق کو عورت ہی کے زاویہ نگاہ سے دیکھا اور محسوس کیا ہے ۔جس کی مثالیں ان کی بیشتر کہانیوں سے پیش کی جا سکتی ہیں ۔آئیے نگاہ ڈالتے ہیں نسائی حسیت سے لبریز ایک اہم کہانی ’’یہی سچ ہے ‘‘ پر ۔مغربی تہذیب کے زیر اثر جدید عہد میں عورتوں کی طرز زندگی نے جسمانی اور روحانی طور پر جو آ زادانہ روی اختیار کی ہے اس کی تصویر کہانی ’’یہی سچ ہے ‘‘ میں نمایاں ہے ۔اس کہانی میں ایک تعلیم حاصل کرنے والی لڑکی کا آزادانہ کردار ہمارے سامنے آ تاہے ۔وہ بیک وقت دو لڑکوں سے عشق کرتی ہے اور دونوں کے ساتھ گزارے ہوئے لمحات اسے سکون بخشتے ہیں۔جب وہ کانپور میں رہتی ہے تو سنجے میں ہی اسے زندگی کے ہر رنگ نظر آ تے ہیں اور جب کلکتہ کا سفر کرتی ہے تو قدیم ہم جماعت نشیتھ میں کشش محسوس کرنے لگتی ہے ۔کہانی میں دیپا کا کردار عصری مسائل کی بھرپور ترجمانی کرتا ہے اور یہ احساس دلاتا ہے کہ آج کے عہد میں ہمارے آس پاس کئی ایسے معاملات پیش آتے ہیں جب ایک لڑکی دو لڑکوں سے وابستہ پائی جاتی ہے ۔دیپا گھریلوبندشوںسے پوری طرح آزاد ہے ۔زندگی کے شب و روز میں وہ پیار کے نئے رنگ سے متعارف ہوتی ہے ۔وہ محبت اور رشتوں کی نزاکتوں سے اچھی طرح واقف ہے ۔محبوب خواہ پہلا ہو یا دوسر،ا محبت اس کی کمزوری ہے ۔اپنے پہلے پیار سے رسوا ہو کر محبت کے لیے ساری دنیا کی نفرت ،تحقیر و تذلیل اور طنز سہنے کے بعد وہ سنجے کے ساتھ ایک نئی زندگی کا آغاز کرتی ہے ۔مگر یہ نئی شروعات اتنی آ سان نہیں ہے۔کہانی میں ایک مقام پر دیپا نہایت اہم بات کہتی ہے :
’’ جسیے ہی زندگی کو دوسرا سہارا نصیب ہوتاہے ،ان سب کو بھول جانے میں ایک دن بھی نہیں لگتا ۔پھر وہ سب
کچھ اتنا بے معنی لگنے لگتا ہے کہ جسے یاد کر کے گھنٹوں بیٹھ کر ہنسنے کو جی چاہتا ہے ۔تب یکا یک اس بات کا احساس
ہوتا ہے کہ یہ سارے آنسو ،یہ ساری آہیں اس محبوب کے لیے نہ تھیں ،بلکہ زندگی کی اس ویرانی کے لیے تھیں جس نے
زندگی کو بے کیف سا بنا کر بوجھل کر دیا تھا ۔‘‘ ۳؎
درج بالا اقتباس میں مصنفہ نے پہلے اور دوسرے عشق کے درمیان پیدا ہونے والے خلا کو پر کرنے کی فطری کیفیت کو اجاگر کیاہے ۔دیپا خود یہ قبول کرتی ہے کہ سنجے کے قریب آتے ہی میں نشیتھ کو بھول گئی اور وہ یہ بھی کہتی ہے کہ سنجے کے ساتھ اس کے عشق کو وقار اور پختگی نصیب ہوئی ہے ۔دیپا کا کردار تذبذب کا شکار تو ہے ہی لیکن مصنفہ نے جس دور اور جس پس منظر میں اسے پیش کیا ہے وہ اس کی بہترین عکاس ہے۔نئی کہانی آندولن پر تنقیدی اور تحقیقی نگاہ رکھنے والی مصنفہ میرا سیکری دیپا کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتی ہیں :
’’ ’’یہی سچ ہے ‘‘ کی دیپا روایتی عورت سے مختلف ہے ۔نہ وہ مکمل طور پر نچھاور ہونے والی ہی ہے اور
نہ سطحی رومانٹک جذبات سے پر ۔وہ ایک ساتھ سنجے اورنشیتھ سے پیار کرتی ہے اور دونوں کے ساتھ پیار کے لمحے
اسے سچ لگتے ہیں ۔اس کی اس کشمکش کو مصنفہ نے بے باکی سے ابھارا ہے ۔اس صورت حال میں کئی نئے عنصر ہیں ۔دیپا کی کشمکش میں کہانی کار نے محض نئے پن کا ہی نہیں ،جدید خیا لات کے اظہار کے لیے بھی راستہ کھولا ہے۔‘‘ ۴؎
منو بھنڈاری کی کہانیوں کے کردار اپنے اندرون میں ہونے والے نشیب و فراز سے اکتاہٹ محسوس نہیں کرتے ۔بلکہ وہ اپنا راستہ تلاش کرتے ہیں ،اور اس تلاش میں خود کو کمزور نہیں ہونے دیتے بلکہ وہ اپنی زندگی کا فیصلہ خود کرنے پر آمادہ ہیں ۔’’سنکھیا کے پار ‘‘ مجبوری ‘‘اونچائی ْ‘‘ اور رانی ماں کا چبوترا جیسی بار بار پڑھی جانے والی کہانیوں کے کردار خود مختار نظر آتے ہیں ۔ساتھ ہی اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ منو بھنڈاری کی رومانی کہانیوں میں عورت اور مرد ،دونوں کے د لی کیفیات و جذبات کو بخوبی پیش کیا گیا ہے ۔مصنفہ کی کہانیوں کی یہ ایسی خوبیاں ہیں جو ان کے معاصرین کے یہاں کم دیکھنے کو ملتی ہیں ۔
کہانی ’’اکیلی ‘‘ اور ’’سیانی بوا ‘‘ کی قرات عصمت چغتائی کی بے حد مشہور کہانی ’’بچھو پھوپھی ‘‘ کی یاد دلاتی ہے ۔منو بھنڈاری کی دونوں کہانیوں کے مرکزی کردار میں بھی بوا ہے ۔ عصمت چغتائی کی کہانی میں ان کی سگی پھوپھی بادشاہی خانم کا کردار ہے ۔وہ ہر وقت بات بات پر اپنے بھائی اور بھابھی کو طعنے دیتی ہیں جس سے بظاہر نفرت اور بیگانگی کا اظہار ہوتا ہے ۔لیکن افسانے کا کلائمکس یہ احساس دلاتا ہے کہ وہ اپنے بھائی کو دل و جان سے چاہتی ہیں۔اس کا اندازہ قاری کو اس وقت ہوتا ہے جب وہ بستر مرگ پر پڑے ہوئے بھائی کے سرہانے کھڑے ہو کر بے تحاشا آنسو بہاتی ہیں اور بھائی کی درازی عمر کے لیے دعائیں مانگتی ہیں ۔کردار کے اس رو یے سے یہاں قاری کی ہمدردی جھلک اٹھتی ہے ۔وہیں منو بھنڈاری کی دونوں کہانیوں میں بوا کا کردار بچھو پھوپی سے یکسر مختلف ہے ۔کہانی ’اکیلی ‘ میں سوما بوا کی زندگی کا سب سے بڑا واقعہ جوان بیٹے کی موت ہے جو کہانی شروع ہونے سے برسوں قبل ہی پیش آ چکا ہے ۔یہ حادثہ سوما بوا اور اس کے شوہر کے لیے بہت بڑا صدمہ ہے لیکن دونو ں نے اس صدمے کا سامنا مختلف انداز سے کیا ہے ۔بیٹے کی جدائی کو برداشت نہ کر پانے کے باعث شوہر سنیاسی ہو گیا ہے اور سال کے گیارہ مہینے وہ تیرتھ یاترا پر رہتاہے ۔سومابوا اپنے شوہر کی جانب سے ترک کر دی گئی ہے ،اور تنہائی کا شکار ہے وہ کہتی ہے :
’’ میں تو ان سے کہتی ہوں کہ جب ہاتھ تھا ما ہے تو آ خر ی وقت میں بھی ساتھ رکھو ،سو تو ان سے ہوتا نہیں ۔سارا دھرم کرم انہیں ہی لوٹنا ہے۔۔۔۔۔میں یہاں اکیلی پڑی پڑی بس ان کے نام کو رویا کروں ۔‘‘ ۵؎
بیٹے کی موت کا صدمہ اور شوہر کے اس رویے کے بعد بھی وہ اجنبیت اور تنہائی کے عالم میں لوگوں سے تعلقات قائم کرنے پر آمادہ ہے ،اس لیے وہ بغیر کسی کی آواز پر گھرو ں میں جا کر کام کرتی ہے ،راتوں کو جاگ کر بیماروں کی خدمت کیا کرتی ہے اور سماج میں جینے کا سہارا ڈھونڈ لیتی ہے، پر در حقیقت وہ بالکل اکیلی ہے اور وہ اس لیے کہ وہ ان سب کے بیچ ہو کر بھی کسی ایک کی بھی نہیں ہو پاتی۔ساٹھ اور ستر کی دہائی کی کہانیوں میں بدلا ہوا ماحول تو تھا ہی لیکن اس کا سب سے زیادہ اثر تعلقات پر دیکھا گیا ۔وہ تعلقات خاندانی سطح کے ہوں یا فرد اور سماجی اور سیاسی نظام کے ہوں لیکن اس کی جھلک سب سے زیادہ عورت اور مرد کے رشتوں میں محسوس کی گئی ۔عورت کی خود انحصاری اور اپنے آزاد وجود کے لیے اس کے شعور کی بیداری نے اس کے سامنے نئے نئے سوالات کھڑے کیے ۔لہذا جدید عورت نئی ہندی کہانی میں پوری آب و تاب کے ساتھ آزاد خیالی کا مظاہر کرتی ہے ،اور یہی آزاد خیالی منو بھنڈاری کی کہانیوں میں بھی بدرجہ اتم موجود ہے ۔منو بھنڈاری کی نسائی حسیت پر تبصرہ کرتے ہوئے جے شری سنگھ لکھتی ہیں:
’’ منو جی کی کہانیوں کی عورت ایک مکمل عورت ہے ۔اندر سے باہر تک پوری مکمل ۔منو جی نے کسی بھی نسائی کردار کے دل کا کوئی بھی ٹکڑا کبھی بھی کسی کہانی میں چھپایا نہیں ہے۔انہوں نے اپنی رومانی کہانیوں میں عورت کے کسی بھی کردار کو ابھارا ہے ،اسے اندر اور باہر سے اس کے سارے شیڈس اور موڈ کے ساتھ مکمل طور پر پیش کیا ہے ۔‘‘ ۶؎
صنف نازک کے تمام تر مسائل و معاملات پر گہری نظررکھنے کے ساتھ ساتھ منو بھنڈاری نے مرد معاشرے کے ان مسائل پر بھی نگاہ رکھی ہے جہاں وہ استحصال کا شکار ہوا بیٹھا ہے ۔’’ریت کی دیوار ‘‘ اور ’’ سزا ‘‘ جیسی کہانیاں اس کی بہترین عکاس ہیں ۔کہانی ’’ سزا ‘‘ کا مرکزی کردار عدالتی سسٹم سے پریشان ہے ۔اس پر دفتر کے بیس ہزار روپے غبن کرنے کا الزام ہے ۔طویل عرصے کے بعد بحث کی تاریخ مقرر کی جاتی ہے ۔نتیجتاً کورٹ کو یہ فیصلہ سنانے میں چار سال سے زائد کا عرصہ گزر جاتا ہے کہ ملزم مجرم نہیں ہے ،اس لیے اسے با عزت بری کیا جائے ۔منو بھنڈاری عدالتی نظام کے اس المیے پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتی ہیں :
’’ سزا کا مجرم ایک عجیب سی کیفیت میں مبتلا ہے ۔وہ سزا کی اذیت برداشت کرنے پر مجبور تھا اور جب رہائی کا فیصلہ ہوا تو وہ اتنا ٹوٹ چکا تھا کہ اس خوشی کو محسوس کرنے کی اس میں ہمت بھی باقی نہیں رہ گئی تھی ۔‘‘ ۷؎
منو بھنڈاری اپنی کہانیوں میں کسی جادوئی دنیا کی سیر نہیں کراتیں بلکہ وہ عام انسانوں کے حقیقی سکھ دکھ اور سچے کرداروں کی کہانیاں پیش کرتی ہیں ۔ان کی ہمدردی سماج کے پریشان حال انسانوں کے ساتھ ہمیشہ رہی ہے۔ انہوں نے فنکارانہ ہنر مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نازک سے نازک مسائل کو بھی غیر معمولی انداز میں قاری تک پہنچا دیا ہے ۔ ان کا بیانیہ نہ بناوٹی ہے اور نہ ہی پیچیدہ، اس لیے قاری ان کی کہانیوں کو پڑھتا چلا جاتا ہے اور کسی قسم کی اکتاہٹ محسوس نہیں کرتا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات
۱۔ طوطا اور مینا کی کہانی ،مدھوریش،وانی پرکاشن،پٹنہ،۲۰۲۴ء ص۔۱۱۳
۲ ؎سنگھرشوں کا الائو: آخروں کی آنچ،سدھا اروڑا،اکچھر پرکاشن،نئی دہلی،۲۰۲۲ء ص۔۶
۳۔پرتینیدھی کہانیاں،منو بھنڈاری،راجکمل پرکاشن،۲۰۱۵ء ص۔۲۴
۴۔جدید افسانہ :اردو ہندی،طارق چھتاری،ایڈیشن ۲۰۱۵ء ص۔ ۱۶۵
۵۔پرتینیدھی کہانیاں،منو بھنڈاری،راجکمل پرکاشن،۲۰۱۵ء ص۔۲۴
۶۔سنگھرشوں کا الائو: آخروں کی آنچ،سدھا اروڑا،اکچھر پرکاشن،نئی دہلی،۲۰۲۲ء ص۔۲۷۲
۷۔میری پیریہ کہانیاں،منو بھنڈاری،راجپال پرکاشن۔۲۰۲۲ء ص۔۹۵
Dr. Faizan Hasan Zeyai
Dr. Ram Manohar Lohia College
Diwan Road, Muzaffarpur(Bihar)
Pin-842001
E-mail: faizanzeyai.ssm@gmail.com
Mob:7631887356
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

