یونانی طب میں تاریخِ قرابادین نویسی: ایک علمی و تنقیدی جائزہ – حکیم مصباح الدین اظہرؔ
حکیم مصباح الدین اظہرؔ
ریسرچ آفیسر سائنٹسٹ-4 ( یونانی)
علاقائی تحقیقاتی ادارہ برائے طب یونانی، علی گڑھ
ای میل: ccrum619@gmail.com
موبائل نمبر : 83830 96715
حکیم فخر عالم عہد حاضر کے ان اہلِ علم میں شمار ہوتے ہیں، جن کی شخصیت میں طب یونانی، تحقیق، ادب اور تہذیبی شعور ایک حسین امتزاج کی صورت جلوہ میںگر ہیں۔ وہ صرف ایک معالج نہیں بلکہ ایک صاحبِ فکر محقق، صاحبِ طرز قلم کار اور علم و حکمت کی روایت کے امین بھی ہیں۔ان کی علمی زندگی مسلسل جستجو، مطالعہ اور تحقیق سے عبارت ہے۔ طبِ یونانی کے دقیق مباحث ہوں یا جدید طبّی تحقیقات کے تقاضے، حکیم فخر عالم نے ہمیشہ دونوں کے درمیان ایک متوازن اور بصیرت افروز ربط قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کی نگاہ محض علاج تک محدود نہیں، بلکہ انسان اور معاشرے کی مجموعی فلاح پر مرکوز رہتی ہے۔
تحقیق کے میدان میں ان کی کاوشیں سنجیدگی، استدلال اور علمی دیانت کی آئینہ دار ہیں۔وہ طبِ یونانی کو عصرِ حاضر کے سائنسی معیار کے مطابق مستحکم بنیادیں فراہم کرنا چاہتے ہیں۔ فارماکوویجیلنس(Pharmacovigilance) اور ادویاتی تحفظ جیسے اہم موضوعات پر ان کی سرگرمیاں ان کے وسیع تر طبّی شعور کی غماز ہیں۔ادبی اعتبار سے بھی حکیم فخر عالم ایک حساس اور صاحبِ ذوق شخصیت ہیں۔ ان کی تحریروں میں علمی وقار، فکری پختگی اور ادبی لطافت بیک وقت محسوس ہوتی ہے۔ اردو زبان سے ان کی محبت، ان کے اسلوبِ نگارش میں نمایاں طور پر جھلکتی ہے۔ وہ علم کو محض معلومات کا ذخیرہ نہیں بلکہ تہذیبی شعور اور انسانی خدمت کا وسیلہ تصور کرتے ہیں۔
خطابت اور تدریس میں بھی ان کا انداز نہایت مؤثر اور شائستہ ہے۔ عوامی بیداری پروگراموں، علمی نشستوں اور طبی سیمیناروں میں ان کی گفتگو سامعین کو نہ صرف معلومات فراہم کرتی ہے بلکہ فکر و احساس کی نئی جہتوں سے بھی روشناس کراتی ہے۔حکیم فخر عالم کی شخصیت دراصل اُس روایت کی نمائندہ ہے جس میں علم، اخلاق، خدمت اور تحقیق ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوتے۔ وہ طبِ یونانی کے اُن مخلص خادموں میں شامل ہیں جو روایت کی روح کو برقرار رکھتے ہوئے جدید دنیا کے علمی تقاضوں سے ہم آہنگی پیدا کرنے کی سنجیدہ کوشش کر رہے ہیں۔ ان کی علمی و ادبی خدمات آنے والی نسلوں کے لیے یقیناً مشعلِ راہ ثابت ہوں گی۔حکیم فخر عالم کی تحریروں کا خاصہ یہ ہے کہ وہ جس موضوع کا انتخاب کرتے ہیں وہ منفردتو ہوتا ہی ہے ،ساتھ ہی ان کا یہ بھی وصف ہے کہ وہ مضمون کا حق ادا کرنا جانتے ہیں، ان کی تمام تحریریں اس بات کی شہادت پیش کرتی ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ طب یونانی اور اردو ادب کے نامور اشخاص ان کی تحریروں کو شوق سے پڑھنا پسند کرتے آئے ہیں۔
حکیم فخر عالم کی ماضی کی تحریروں مثلاََ ’’طبّی اخلاقیات‘‘، ’ ’رموز دواسازی‘‘، ’ ’یونانی طب کا مغل اور برطانوی عہد‘‘، ’’اردو طبّی مترجمین‘‘، ’’ہندوستان کی طبی درسگاہیں‘‘، ’’ رازی ہند: حکیم پروفیسرمحمد طیب‘‘، ’’حکیم ظل الرحمان:ایک مطالعہ‘‘نے ثابت کر دیا کہ ان کی فکر موضوعات کے انتخاب کے معاملہ میں منفرد و یکتا ہے۔ کیونکہ انھوں نے ہمیشہ زمانے کی روش سے ہٹ کر موضوعات کا صرف انتخاب ہی نہیں کیا بلکہ ان کے ساتھ حد درجہ کا انصاف کیا ہے۔اسی روش کو آگے بڑھاتے ہوئے بالفاظ دیگر ایک قدم اور آگے بڑھی ہوئی ان کی زیر نظر تصنیف ہے۔ حکیم فخر عالم کی یہ تصنیف ـ’’یونانی طب میں تاریخِ قرابادین نویسی‘‘ یونانی طب کے علمی و ادویاتی ورثے پر نہایت اہم، تحقیقی اور مستند کاوش ہے۔ یہ کتاب محض تاریخی معلومات کا مجموعہ نہیں بلکہ فن قرابادین نویسی کے ارتقاء، اصول و ضوابط، اور مختلف ادوار میں موضوع کی علمی خدمات کا ایک جامع مطالعہ پیش کرتی ہے۔
مصنف نے اس تصنیف میں قدیم یونانی اطباء سے لے کر عرب و عجم اور برصغیر کے معالجین تک قرابادین نویسی کی روایت کو نہایت مربوط اور تحقیقی انداز میں پیش کیا ہے۔ کتاب کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ مصنف نے فنِ قرابادین کی تاریخی جڑوں کی محض نشاندہی نہیں کی بلکہ اس موضوع کے مختلف ادوار، خطوں اور علمی روایتوں کو باہم مربوط کرکے ایک جامع تاریخی تسلسل بھی قائم کیا ہے۔ قدیم یونان سے شروع ہو کر وسطِ ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور برصغیر تک پھیلے ہوئے علمی و ادبی ذخیرے کو یکجا کرنا ایک دشوار کام تھا، جسے مصنف نے بڑی کامیابی سے انجام دیا ہے۔
عظیم شاعر جناب مہندر سنگھ بیدی سحرؔ نے ایک مشاعرے میں شاعرِ تغزل جناب خمارؔ بارہ بنکوی کے بارے میں کہا تھا کہ ان کا تخلص ’’خمارؔ‘‘ کے بجائے ’’سرورؔ‘‘ ہونا چاہیے تھا، اس لیے کہ خمارؔ اس کیفیت کو کہتے ہیں جب نشہ اتر رہا ہو، جبکہ سرورؔ اس کیفیت کا نام ہے جب نشہ چڑھ رہا ہو۔ اسی مناسبت سے اگر حکیم فخر عالم کو ’’حکیم فکرِ عالم‘‘ کہا جائے تو یہ ہرگز مبالغہ نہ ہوگا۔ بلکہ میں تو اس سے بھی آگے بڑھ کر یہ کہوں گا کہ حکیم فخر عالم میرے عہد کے ان اہلِ علم میں شامل ہیں جن پر آنے والی نسلیں بجا طور پر فخر کر سکیں گی۔ جس طرح فراقؔ گورکھپوری نے اپنے بارے میں کہا تھا’’ آنے والی نسلیں تم پر فخر کریں گی ہم عصرو،جب بھی اُن کو دھیان آئے گا ،تم نے فراقؔ کو دیکھا ہے‘‘، اسی طرح مجھے بھی یہ احساسِ افتخار ہے کہ حکیم فخر عالم میرے معاصرین میں ہیں۔
مجھے نہ صرف متعدد مواقع پر ان سے گفتگو اور تبادلہ خیال کا شرف حاصل ہوا ہے بلکہ مختلف علمی و ادبی تقریبات، سیمیناروں اور اسفار میں بھی ان کی رفاقت میسر آئی ہے۔ ان کے نام کی مناسبت بھی دوہری معنویت رکھتی ہے، ایک طرف ان کی شخصیت واقعی باعثِ فخر ہے اور دوسری جانب ان کی فکری وسعت اور علمی بصیرت دل کو خراجِ تحسین پیش کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں غیر معمولی ذہن، گہری فکر اور رواں قلم سے نوازا ہے۔ ان کی تحقیقی کاوشوں کو دیکھ کر کبھی کبھی رشک کی سی کیفیت پیدا ہوتی ہے، کیونکہ وہ اپنے پیشے سے وابستہ ایسے نادر، اہم اور غیر روایتی موضوعات کا انتخاب کرتے ہیں جو عام اہلِ علم کے وہم و گمان میں بھی نہیں آتے۔ یہ وصف ان کی علمی انفرادیت اور تحقیقی امتیاز کا سب سے روشن مظہر ہے۔
ان کی زیر نظر تصنیف بقراط و جالینوس کی مساعی کے ساتھ اسلامی دور کے عہد زرّیں میں قرابادین نویسی کے عروج اور ترقی کے مراحل بھی بیان کرتی ہے۔اس کے علاوہ ہندوستان میںمسلمانوں کے دور حکومت کی علمی ترقیات کی بھرپور عکاسی کرتی ہے۔اس طرح یہ تصنیف نہ صرف یونانی دواسازی بلکہ طب کے عام شائقین، تاریخ اور ثقافتی مطالعات سے دلچسپی رکھنے والے حضرات کے لئے ایک مستند حوالہ بن جاتی ہے۔ اس تالیف میں قرابادینوں سے موسوم مجموعوں کے علاوہ دیگر ذخائر جیسے کناش، فارماکوپیا اور مرکبات کے نام سے تحریر کردہ کتابوں کو یکجا کر ان کی باہمی ربط و فرق کو بھی واضح کیا ہے، اس لیے یہ تصنیف قرابادین نویسی کا زیادہ وسیع منظر پیش کرتی ہے جو صرف قرابادین نویسی کے رسمی معنٰی تک محدود نہیں بلکہ اس کے ارتقا کو وسیع تر سماجی، ثقافتی اور علمی جہتوں کے ساتھ پیش کرتی ہے۔ اس میں عربی، فارسی اور اردو میں لکھی جانے والی نہ صرف سبھی کناش، قرابادین، فارماکوپیا کو شامل کیا ہے، بلکہ ان اسماء کے تدریجی ارتقاء کو بھی بیان کیا ہے۔جس سے وقت کے ساتھ قرابادین کے مفہوم میں پیدا ہونے والی وسعت کا پتہ چلتا ہے۔مصنف نے قرابادینوں کی تاریخ کو مقدم رکھنے کی کوشش کے ساتھ ساتھ ان کے مؤلف، مدون، مترجم کی تفصیل پیش کر مضمون کو سمجھنے میںسہولت فراہم کی ہے۔مصنف نے اس بات کا خاص خیال کیا ہے کہ جن مصنفین کے حالات زندگی، علمی رجحانات دیگر تصانیف میں موجود ہیں، ان کو اختصار کے ساتھ اور جن کے بارے میں معلومات کم دستیاب ہیں ان کو تفصیل سے بیان کرنے کی کوشش کی ہے، جس سے ہر دور کے اطباء کی مساعی کا عکس بخوبی دیکھا جا سکتا ہے۔اس طرح یہ کتاب یونانی دوا سازی کی تاریخ کے ساتھ طب کے شائقین اور تاریخ ثقافت سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے ایک بیش قیمت حوالے کے طور پر کام انجام دے سکتی ہے ۔ اس زاویۂ نظر سے یہ کتاب طلبہ، محققین، اساتذہ اور معالجین سبھی کے لیے یکساں مفید بن جاتی ہے۔زبان شستہ، علمی اور رواں ہے، جس کی وجہ سے موضوع کی سنجیدگی کے باوجود مطالعہ بوجھل محسوس نہیں ہوتا۔مصنف نے قرابادین نویسی جیسے خشک مضمون کو علمی زبان دینے کے باوجود اسے رواں اور سلیس رکھا ہے اور مشکل طبّی اصطلاحات کو سہل انداز میں بیان کر کے قابل فہم بنانے کی کوشش کی ہے، جس سے قاری کو بیانیہ کا تسلسل سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے۔ خاص طور پر طلباء اور تحقیق سے وابستہ افراد کے لیے یہ کتاب ایک مفید مأخذ کی حیثیت رکھتی ہے۔تنقیدی اعتبار سے دیکھا جائے تو کتاب کو حروف تہجی کے اعتبار سے پیش نہ کرکے ادوار کے اعتبار سے لکھا جاتا تو قارئین کو علم دواسازی، قرابادین نویسی ،تاریخ حکماء اور طب یونانی کی ترقی کے منازل کو سمجھنا زیادہ آسان ہو جاتا۔ مصنف نے اس تالیف میں تقریباََ 300 کتابوں کو یکجا کر کے وہ کارہائے نمایاں پیش کیا ہے جس کو اس مضمون پر انسائیکلوپیڈیا کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔حوالہ جات اور تاریخی شواہد کی فراوانی کتاب کی استنادی حیثیت کو مضبوط بناتی ہے۔حوالہ جات کی فہرست کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ حکماء کے سوانحی حالات کو جاننے کے کیا کیا ذرائع ہو سکتے ہیں؟ مصنف نے موضوع کی افادیت کے لیے تذکرے اور تاریخ کی کتابوں کے علاوہ علم و ادب کے دیگر چشموں سے بھی بھرپور استفادہ کیا ہے، یہ مصنف کی علمی گہرائی، جستجو، تحقیق پر عمیق نگاہ کا ایک بہترین ثبوت ہے ۔ ’خود کلامی‘ میں مصنف کااس کتاب کے متعلق کہنا کہ’’ زیر نظر کتاب کا موضوع بھی روایتوں سے بہت ہٹ کر منفرد رنگ کا حامل ہے، یقین ہے کہ اس کے مطالعہ سے ارباب ذوق و نظر کے سامنے تاریخ نویسی کے نئے میدان سامنے آئیں گے‘‘ فلم مغل اعظم کے سنگتراش کے اس مکالمہ کی یاد دلاتا ہے کہ وہ ایک ایسا مجسمہ تیار کرے گا جس کو دیکھ کر سپاہی اپنی تلوار، بادشاہ اپنا تاج اور انسان اپنا دل نکال کر اس کے قدموں میں رکھ دے گا۔یقین ہے کہ یہ تصنیف طب کے طلباء، اساتذہ،تہذیب ،تاریخ اور مختلف تعلیمی شعبہ جات سے جڑے لوگوں کے لئے ایک مستند حوالہ کے طور پر دیکھی جائے گی۔
اس تصنیف میں قرابادین نویسی کی تاریخی تسلسل کے ساتھ علمی تجزیہ بھی موجود ہے، جس سے قاری کو صرف معلومات ہی نہیں ملتیں بلکہ فن دوا سازی کے فکری پس منظر کو سمجھنے میں بھی مدد ملتی ہے۔حکیم فخر عالم نے اس تصنیف میں مختلف قرابادینوں کا تعارف، ان کے مصنفین کے سوانحی حالات، ترتیب و تدوین کے اسالیب کو نہایت سادہ مگر تحقیقی انداز میں پیش کیا ہے۔ کتاب میں جہاں قدیم مخطوطات اور مراجع سے استفادہ کیا گیا ہے، وہیں جدید تحقیقی اسلوب کو بھی ملحوظ رکھا گیا ہے، جو اس کی علمی اہمیت کو مزید بڑھا دیتا ہے۔اس تصنیف کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ مصنف نے علم دوا سازی کے اب تک کے علمی سرمایہ کو تفصیل کے ساتھ پیش کیا ہے۔ مصنف نے قرابادین نویسی کو صرف ادویات کی ترکیب تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے یونانی طب کی تہذیبی، تعلیمی اور تحقیقی روایت کے طور پر پیش کیا ہے۔
حکیم اجمل خاں کی بیسویں صدی کے آغاز میں قائم کردہ ’آل انڈیا آیورویدک اینڈ یونانی طبی کانفرنس، دہلی،‘ جسے اب عموماً ’آل انڈیا یونانی طبّی کانفرنس ‘کہا جاتا ہے۔جس کا بنیادی مقصد یونانی طب کو منظم کرنا ، حکماء کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا، جدید سائنسی اصولوں کے مطابق تحقیق کی حوصلہ افزائی کرنا اور حکومت کے سامنے دیسی طب کے حقوق و مفادات کی نمائندگی کرنا ہے۔مگراس نے ابتداء ہی سے یونانی طب کی قدیم عربی، فارسی اور اردو کتابوں کی اشاعت، نادر مخطوطات کی حفاظت اور طبّی رسائل و جرائد کی ترویج واشاعت کے میدان میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ اسی روش کو آگے بڑھاتے ہوئے مرکزی کونسل برائے تحقیقات طب یونانی،وزارت آیوش، حکومت ہند کے سابق ڈائریکٹر جنرل و طبّی کانفرنس کے موجودہ سکریٹری جنرل جناب ڈاکٹر محمد خالد صدیقی نے حکیم فخر عالم کی اس تصنیف کو آل انڈیا یونانی طبّی کانرفنس کے زیر اہتمام اے آر پبلیشرکے ذریعہ ماہ مئی 2026 میں طباعت سے آراستہ کیا ہے ۔ کل صفحات کی تعداد290 اور قیمت Rs.600/- ہندوستانی روپے ہے۔
مصنف نے کتاب کو اپنی دادی محترمہ خطیب النساء صاحبہ، چچا محترم مولانا قیام الدین اصلاحی،عمری، مدنی صاحب اور بڑی اماں محترمہ اختر النساء صاحبہ کی پیار بھری محبتوں کے نام منسوب کیا ہے۔جن کی شفقتیں، محبتیں مصنف کو 2021 تک حاصل رہیں۔مصنف نے کتاب کا آغاز خود کلامی سے کیا ہے،ان میںنیازؔ جیراجپوری صاحب کی تحریر کردہ ایک نظم بعنوان ’’ فخر عالم: نظرے خوش گُزرے‘‘ بھی شامل ہے۔
مجموعی طور پر ’’یونانی طب میں تاریخِ قرابادین نویسی‘‘یونانی طب کے علمی ذخیرے میں ایک قابلِ قدر اضافہ ہے۔ یہ کتاب نہ صرف فنِّ قرابادین نویسی کی تاریخ کو محفوظ کرتی ہے بلکہ نئی نسل کے محققین کو اس میدان میں مزید تحقیق کی ترغیب بھی دیتی ہے۔ یقین ہے حکیم فخر عالم کی یہ کاوش علمی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھی جائے گی۔آخر میں،میں دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ حکیم فخر عالم صاحب کو صحتِ کاملہ، عمرِ دراز، ذہنی و علمی توانائی اور مزید تحقیقی و تصنیفی توفیقات سے نوازے۔ ان کے قلم کی جولانیاں اسی طرح علم و حکمت کے افق پر روشنی بکھیرتی رہیں، ان کی کاوشیں طبِ یونانی، اردو ادب اور علمی دنیا کے لیے مسلسل سرمایۂ افتخار ثابت ہوں اور آنے والی نسلیں ان کے علمی ذخیرے سے فیض یاب ہوتی رہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی علمی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے اور انہیں مزید ایسے گراں قدر علمی و تحقیقی کارنامے انجام دینے کی توفیق بخشے جو علم و انسانیت کے لیے نافع اور رہنمائی کا ذریعہ بنیں۔ آمین۔
٭٭٭
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

