Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      جولائی 15, 2026

      کتاب کی بات

      جولائی 15, 2026

      کتاب کی بات

      جون 6, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      کلیاتِ فراقؔ گورکھپوری کے چند نسخوں کا تنقیدی…

      اگست 21, 2026

      تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      سنت ابراہیمی کی حقیقی روح اور اس کا…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      آبِ زمزم کے طبی ، روحانی اور سائنسی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قربانی صرف رسم نہیں، اللہ کے حکم کی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      جیسا گمان ویسا انسان: مترجم ڈاکٹر عثمان غنی…

      جولائی 31, 2026

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      چنار بک فیسٹول نہایت مختصر وقت میں علم،…

      جولائی 18, 2026

      خبر نامہ

      ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کو شاہ ولی اللہ  ایوارڈ سے…

      جولائی 2, 2026

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام بشیر بدر،…

      جون 7, 2026

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خصوصی مضامین

      حاجی شفیع اللہ شفیعؔ بہرائچی: حیات اور ادبی…

      جولائی 18, 2026

      خصوصی مضامین

      آٹزم : خاندان کا سفر ، قبولیت اور…

      جولائی 16, 2026

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      مُحَرَّم اور اسلامی اخوت کا تصور – فیض…

      اگست 8, 2026

      سماجی اور سیاسی مضامین

      تعلیمی اداروں کا زوال اور سوشل میڈیا- نازش…

      جولائی 16, 2026

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      مُحَرَّم اور اسلامی اخوت کا تصور – فیض…

      اگست 8, 2026

      متفرقات

      جیسا گمان ویسا انسان: مترجم ڈاکٹر عثمان غنی…

      جولائی 31, 2026

      متفرقات

      چنار بک فیسٹول نہایت مختصر وقت میں علم،…

      جولائی 18, 2026

      متفرقات

      حاجی شفیع اللہ شفیعؔ بہرائچی: حیات اور ادبی…

      جولائی 18, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      جولائی 15, 2026

      کتاب کی بات

      جولائی 15, 2026

      کتاب کی بات

      جون 6, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      کلیاتِ فراقؔ گورکھپوری کے چند نسخوں کا تنقیدی…

      اگست 21, 2026

      تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      سنت ابراہیمی کی حقیقی روح اور اس کا…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      آبِ زمزم کے طبی ، روحانی اور سائنسی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قربانی صرف رسم نہیں، اللہ کے حکم کی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      جیسا گمان ویسا انسان: مترجم ڈاکٹر عثمان غنی…

      جولائی 31, 2026

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      چنار بک فیسٹول نہایت مختصر وقت میں علم،…

      جولائی 18, 2026

      خبر نامہ

      ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کو شاہ ولی اللہ  ایوارڈ سے…

      جولائی 2, 2026

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام بشیر بدر،…

      جون 7, 2026

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خصوصی مضامین

      حاجی شفیع اللہ شفیعؔ بہرائچی: حیات اور ادبی…

      جولائی 18, 2026

      خصوصی مضامین

      آٹزم : خاندان کا سفر ، قبولیت اور…

      جولائی 16, 2026

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      مُحَرَّم اور اسلامی اخوت کا تصور – فیض…

      اگست 8, 2026

      سماجی اور سیاسی مضامین

      تعلیمی اداروں کا زوال اور سوشل میڈیا- نازش…

      جولائی 16, 2026

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      مُحَرَّم اور اسلامی اخوت کا تصور – فیض…

      اگست 8, 2026

      متفرقات

      جیسا گمان ویسا انسان: مترجم ڈاکٹر عثمان غنی…

      جولائی 31, 2026

      متفرقات

      چنار بک فیسٹول نہایت مختصر وقت میں علم،…

      جولائی 18, 2026

      متفرقات

      حاجی شفیع اللہ شفیعؔ بہرائچی: حیات اور ادبی…

      جولائی 18, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
تحقیق و تنقید

کلیاتِ فراقؔ گورکھپوری کے چند نسخوں کا تنقیدی جائزہ – امام الدین امامؔ

by adbimiras اگست 21, 2026
by adbimiras اگست 21, 2026 0 comment

امام الدین امامؔ

رابطہ:6206143783

 

تحقیق کی بنیاد ہی شکوک پرہوتی ہے جس سے کرید اور تجسس کا جذبہ پیدا ہوتا ہے اور رفتہ رفتہ مغالطے کی راہ سے گزر کر یقین کی منزلوں پر پہنچناہی تحقیق ہے۔

میرے سامنے فراقؔ گورکھپوری کی چار مختلف کلیات موجودہیں۔یہ چاروں کلیات اُردو شعر و ادب کی نامور شخصیات کی ترتیب دی ہوئی ہیں۔پہلی شخصیت الٰہ آباد یونیورسٹی کے سابق استاد پروفیسر جعفر رضا مرحوم ہیں۔ دوسری شخصیت کالی داس گپتا رضا کی ہے۔ تیسری شخصیت مُطرِب نظامی ہیں۔چوتھی اور آخری شخصیت ڈاکٹر سیّد تقی عابدی صاحب کی ہے۔یہ چاروں شخصیات اردو شعرو ادب میں ممتاز مقام و مرتبہ رکھتی ہیں۔چنانچہ ان میں سے کسی کے متعلق گفتگوکی ضرورت نہیں سرِدست ان کی مرتبہ کلیاتِ فراقؔ گورکھپوری پر گفتگو مقصود ہے۔پہلے میں مطرِب نظامی صاحب کے کلیات پر بحث کرتا ہوں۔اس میں کُل ۴۸۱؍صفحات ہیں۔یہ فرید بُک ڈِپو ،دہلی  ۲۰۱۱ کا شائع شدہ نسخہ ہے۔ شروع میں مطرِب نظامی کی تحریرفراقؔ کے بارے میں ہے اور ساتھ ہی فراقؔپر جگن ناتھ آزاد اور وامق جونپوری وغیرہ کے اعتراضات کا جواب ہے۔اسی میں دیگر اہلِ علم جنہوں نے فراقؔ کی عظمت کو تسلیم کیا ہے۔ ان کی آراء بھی شامل ہیں۔ مُطرِب نظامی صاحب نے اس کلیات میں فراق کے حوالے سے شمس الرحمن فاروقی مرحوم کانام تک نہیں لیا ہے گرچہ فاروقی مرحوم نے بھی فراقؔکی شاعری پرسخت تنقیدیں کی ہیں۔مطرِب نظامی صاحب نے اس کتاب کا نام کلیاتِ فراق گور کھپوری کیوں رکھا یہ بات بھی میری سمجھ میں نہیں آئی کیونکہ اس میں نہ تو فراقؔکی پوری نظمیں ہیں نہ پوری غزلیں اور نہ تمام رباعیاں۔ ظاہر ہے ۴۸۱؍صفحات میں تمام کو لاناممکن بھی نہیں ہے۔کیونکہ اکیلے ’’روپ‘‘ میں ساڑھے تین سو سے زیادہ رباعیاں شامل ہیں اور صرف ’’شعلۂ ساز‘‘کی غزلوں کو لیاجائے تو اپریل ۱۹۴۵؁ء کے ایڈیشن میں ۱۳۸؍غزلیں ہیں جن میں کچھ غزلیں تین اور چار صفحات پر محیط ہیںجن میںکچھ غزلوں کے اشعاکی تعدادتیس(۳۰)ہیں۔لیکن مطرِب نظامی کی کلیات کو دیکھ کر اندازہ ہوا کہ ممکن ہے اس میں فراقؔکی وہ نظمیں،غزلیں اور رباعیاں شامل ہوں گی جو اب تک اُن کے سابقہ کسی مجموعے میں شامل نہیں ہیں ان کو یکجا کرکے محترم نے باقیات(کلیات)بنایا ہو۔ لیکن ایسا بھی نہیں ہے ۔کچھ غزلیں اس میں ایسی ضرور شامل ہیں جو سابقہ کسی مجموعے میں نہیں ہیں لیکن اکثر وہی غزلیں نظمیں ہیں جو پہلے فراقؔ کی زندگی میں ہی شائع شدہ مجموعوں میں شامل ہیں۔ مثلاً ایک غزل’آنکھوں سے جوبات ہوگئی ہے‘‘اس کو مطرِب نظامی نے ص۔ ۶۲؍پرنقل کیا ہے یہ پہلے بھی گلِ نغمہ،ص۔۲۳، پچھلی رات،ص۔۱۱۴،گلِ بانگ،ص۔۲۱۸،نغمہ نما،ص۔۹،اور بزمِ زندگی اور رنگِ شاعری(ہندی)ص۔۹،پر موجود ہے ساتھ ہی رسالہ ’’آج کل‘‘ دہلی کے نومبر ۱۹۵۵ ،ص۔۲؍پربھی یہ غزل موجود ہے۔ دوسری غزل کا پہلا مصرع’’بھنورمیں ازل سے ہیں دل کھوئے کھوئے‘‘گلِ نغمہ،ص۔۵۹، بزمِ زندگی اور رنگِ شاعری (ہندی) ص۔ ۱۲۳ ، اوررسالہ ’’آج کل‘‘دہلی ،جولائی ۱۹۴۹؁ء،ص۔۶ پر بھی موجود ہے۔’’سرمیں سودابھی نہیں دل میں تمنا بھی نہیں‘‘مطرِب نظامی کی کلیات ، ص۔ ۱۲۳؍ پر ہے جبکہ یہ پہلے تمام مجموعوں میں پچھلی رات، ص۔۷۶، شبنمستان،ص۔۱۰۲،گلِ نغمہ،ص۔۹۰،شعلۂ ساز، ص۔ ۲۱۱،گل بانگ، ص۔ ۲۵۱،نغمہ نما،ص۔۴۴، بزمِ زندگی اور رنگِ شاعری (ہندی) ص۔۹۷پرموجود ہے۔’’یہ نکہتوں کی نرم روی یہ ہوا یہ رات‘‘ (کلیات، مرتب:مطرِب نظامی،ص۔۶۵)جبکہ یہ غزل ’گلِ نغمہ، ص۔۷۴، پچھلی رات،ص۔۲۶،نغمہ نما،ص۔۳۶،گل بانگ، ص۔ ۲۴۲؍ اور شبنمستان ص۔۲۹‘پر پہلے سے موجود ہے۔ ایک اور آخری غزل کا مصرعۂ اولیٰ دیکھیے’یہ سرمئی فضا کی کچھ کنمناہٹیں‘ (کلیات، مرتب: مطرِب نظامی،ص۔۶۴)پرہے جبکہ یہ بھی( شعرستان، ص۔ ۶۶، گل بانگ، ص۔ ۳۰۳،پچھلی رات،ص۔۶۶،بزم زندگی، ص۔۱۲۹، اور گلِ نغمہ،ص۔۲۴)میں موجود ہے۔ایک اور غزل کا پہلا مصرع’’نگاہِ ناز پر دے اٹھائے ہیں کیاکیا‘‘یہ بھی پہلے سے مجموعے میں شامل ہیں۔مرتب نے کچھ غزلیں نئی بھی تلاش کیے ہیں لیکن ان کا منبع و مأخذانہوں نے بتانے کی زحمت نہیں کی۔میں نے جستجوکے بعد پتہ لگایا کہ ایک غزل جس کا پہلا مصرع’’اے لالۂ وادیٔ محبت‘‘ مطرِب نظامی نے صفحہ :۵۴، پر نقل کیا ہے یہ ’’نقوش‘‘ لاہور ، ۱۹۶۳؁ء، ص۔ ۸۴پر ہے۔دوسری غزل’’یہ نرم نرم ہوا جھملارہے ہیں چراغ‘‘ مطرِب نظامی ص۔۹۴؍اس کا مأخذ رسالہ ’’نقوش‘‘غزل نمبر فروری ۱۹۶۰، ص۔۱۶۹پر ہے۔’’ہم نوا کوئی نہیں ہے وہ چمن مجھ کو دیا‘‘کلیات مرتب:مطرِب نظامی، ص۔۹۸، رسالہ ’’نقوش ‘‘لاہور،جون ۱۹۵۷، ص۔۱۴۹؍پرہے۔

اسی طرح نظموں کے معاملے میں بھی مطرِب نظامی نے اپنی مرتبہ:کلیات میں کوئی اہم کارنامہ انجام نہیں دیا ہے بلکہ وہی تمام نظمیں شامل کی ہیں جو پہلے مجموعوں میں شامل تھیں۔مثلاً’’تلاش حیات،پرچھائیاں،آدھی رات،لسان العصر اکبرالٰہ آبادی،دھڑتی کی کروٹ، نغمۂ حقیقت،ہنڈولہ‘‘وغیرہ یہ فراقؔ کی تمام مشہور نظمیں ہیں اور اکثر ان کا ذکر آتا ہے۔ اس میں مطرِب نظامی کاکوئی تحقیقی کارنامہ نہیں ہے۔ ہاں ’’فراق کی پتنگ بازی‘‘ اور ’’فراقؔ اور برسات‘‘ وغیرہ کچھ نظمیں ضرور ایسی شامل ہیں جو میرے مطالعے میں نئی معلوم ہوتی ہیں جو ان کی تلاش کا نتیجہ ہے۔رباعیوں میں بھی وہی حال ہے صفحہ:۳۹۲ پر ’روپ‘ کے سرِ ورق کی تصویر ہے۔جس میں روپ کی اور اس کے علاوہ کچھ رباعیوں کو شامل کیا گیا ہے۔جس میں فراق کی وہ مشہور رباعی بھی شامل ہے۔رباعی دیکھئے   ؎

وہ چہرہ کہ برق طور آنکھیں جھپکائے

وہ ماتھا چندر لوک جس سے شرمائے

ناف کہ کوثر میں بھنور پڑ جائے

وہ ران کہ خورشید کو آئینہ دکھائے

مجموعی طور پر مطرِب نظامی کی مرتب کتاب کسی بھی زاویے سے کلیات کہلانے کے لائق نہیں ہے کیونکہ نہ تو اس میں تمام ،غزلیں ہیں نہ تو تمام نظمیں اور ناہی تمام رباعیات، بلکہ مجموعوں میںجو بہ آسانی دستیاب غزلیں اورنظمیں ہیں ان میں سے آدھی کو بھی انہوں نے اکٹھاکرنے کی زحمت نہیں کی اور نہیں اس میں باقیات ہیں بلکہ اکثر غزلیں اور نظمیں وہی ہیں جوسابقہ مجموعوں میں موجود ہیں۔

دوسری کلیات پروفیسر جعفر رضا مرحوم کی مرتب ہے ۔یہ کلیات دوجلدوں پرمشتمل ہے اور قومی کونسل برائے فروغ اردوزبان، نئی دہلی سے ۲۰۱۸؁ء میں شائع ہوئی ہے۔بہ ظاہر ان دونوں جلدوں کوسرسری دیکھنے پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ فاضل مرتب نے بہت ہی محنت و ریاضت سے اس کو ترتیب دیا ہے کیونکہ تمام غزلوں کے اخیر میں اس کی تخلیق کا سن بھی لکھا ہوا اور ساتھ ہی مذکورہ غزلیں فراقؔکے سابقہ کن کن مجموعوں اور رسالوں میں شامل ہیں ان تمام کااندراج ہے۔کلیات کے مقدمے میں وہ جگہ جگہ اس بات کا بھی ذکر کرتے ہیں کہ ان سے فراقؔکے بہت ہی گہرے مراسم تھے اور اس کی سب سے بڑی مثال یہ ہے کہ خود فراقؔکی زندگی میں انہوں نے گلِ نغمہ ۱۹۷۷ کو بھی ترتیب دیا تھا۔گلبانگ کے حوالے سے بھی لکھتے ہیں کہ  :

’’راقم السطور’گلبانگ‘کی اشاعت میں فراق کا معاون تھا۔‘‘

(کلیات فراق،جلد اوّل،۲۰۱۸،ص۔xxi)

ایک اورمثال سے مرتب کی فراق سے قربت کا اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں (جعفر رضا)نے فراق کی زندگی میں ہی’’بزم زندگی رنگِ شاعری‘‘کو ترتیب دیا تھا۔مگر اس کے باوجود بھی جعفر رضا مرحوم نے جو دعویٰ کیاتھااس پر پورے نہیں اترے۔اس کی سب سے بڑی مثال یہ ہے کہ انہوں جلد اوّل کے مقدمے میں فراقؔ کے مجموعوں میں شامل غزلوں کی جو تعداد بتائی ہے۔وہ۱۰۷۹؍(ایک ہزار اُناسی) ہے لیکن انہیں مجموعوں کی غزلوں کو میں نے جب پھر سے شمار کیاتو (۱۰۷۵)ایک ہزار پچہتّر ہی ہوئیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ غزلستان جس کا انہوں نے حوالہ دیا ہے اسی ۱۹۶۵ کے ایڈیشن میں صرف ۱۱۴؍غزلیں ہیں اور موصوف نے ۱۱۹؍لکھا ہے وغیرہ۔اس کے علاوہ مرتب نے مختلف رسائل اور مسودات اورمشاعرئہ زنداں مرتبہ:محمود الٰہی سے ۶۷؍مزید غزلیں تلاش کیے ہیں۔لیکن اس تلاش و جستجو میں بھی انہوں نے تساہلی سے کام لیتے ہوئے طفیل احمدکے’’نقوش‘‘لاہور،سے استفادہ نہیں کیا۔ جس میں فراقؔ کے ’’من آنم ‘‘ کے خطوط شائع ہوئے تھے۔رسالہ’’آج کل‘‘دہلی سے بھی تلاش و جستجو میں انہوں نے سرسری ہی کام لیاہے۔ اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ رسالہ ’’آج کل ‘‘یکم جنوری ۱۹۴۷ کے جس صفحے (۲۳) کی ایک غزل کاانہوں نے حوالہ دیا ہے ۔رسالے کے اسی صفحے پر ایک دوسری غزل ہے جو مذکوہ غزل سے پہلے ہے ۔اس کا پہلا مصرع’’کب خوش ہوں کب رنجیدہ محفل والے کیا جانے ‘‘رسالہ ’’آج کل ‘‘کے حوالے سے اس کا ذکر پوری کلیات میں کہیںنہیں ہوا ہے۔یہی حال ’’مرقع‘‘ لکھنؤ،جنوری ۱۹۲۶ کا ہے اس میں فراق کی ایک غزل ’’دل مرحوم کے اٹھ جانے سے فریاد کرتے ہیں‘‘اس کو جعفر رضا نے کہیںشامل نہیں کیا۔اس طرح کی کئی درجن مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں مگر یہاں رسائل کے حوالے انہیں باتوں پر اکتفا کیاجاتاہے۔

غزلوں کی سِنین کے حوالے سے جعفر رضا لکھتے ہیں  :

’’فراق کی غزلوں سے متعلق سنین کے معاملے میں خود فراق کی تسامحات بھی ہماری تحقیق و تدقیق میں سامنے آئے۔‘‘

(کلیات فراق،جلد اوّل،۲۰۱۸،ص۔xxix)

مزید آگے بڑھتے ہیں تو ’’شعلۂ ساز‘‘مطبوعہ اپریل ۱۹۴۵ میں ۱۳۸؍غزلیں شامل ہیں۔جس کی تمام غزلیں اپریل ۱۹۴۴ سے پہلے کی ہیں۔دلیل خودیوسف ظفر عرضِ مرتب میں فرماتے ہیں  :

’’یہی بہت ہے کہ آج سے تقریباً ایک سال پہلے جب شعلۂ سازکا مسودہ میرے ہاتھوں میں آیاتو مجھے ایک گونہ فخر کے ساتھ ایک بھاری ذمہ داری کا احساس ہوا۔‘‘

(شعلۂ ساز،عرضِ مرتب:ص۔۱،۱۹۴۵)

اس مجموعے میں ۱۳۸؍غزلیں شامل ہیں ان میں سے صرف ۴۶؍غزلوں کو انہوں نے ۱۹۴۵ سے پہلے کا تسلیم کیا ہے بقیہ تمام ۹۲؍ غزلوں کو انہوں نے ۱۹۴۵ سے منسوب کیا ہے بلکہ حد توتب ہوگئی ہے کہ ایک غزل ’’پچھلے پہر شبِ فراق کون یہ مجھ سے کہہ گیا‘‘ کو ۱۹۴۶ میں شمار کرگئے اور دلیل صرف شعلۂ ساز کو بنایا ۔اس کے علاوہ انہوں نے عرضِ مرتب جو شعلۂ ساز کا ہے کو بھی انہوں نے پڑھنا گوارہ نہیں کیا کیونکہ اس میں کچھ غزلوں کے سن دے کر عہد بہ عہد فراقؔ کی شعری بالیدگی کو دکھانے کی کوشش کی گئی ہے ۔ اس کوبھی محترم نے دوسرے مجموعوں سے ملاکرجو شعلۂ ساز کے بعد چھپی ہیں۔اسی سن سے منسوب کر دیا ہے۔کچھ مثالیں دیکھیں  :

۱؎       ’’دھوکاکھایا ہوگا نظر ، دل کو وہم ہوا ہوگا‘‘دوسری غزل’’دل کا چھالا پھوٹ چلاتھاہجر کی گھڑیاں آخر تھیں‘‘ان کے بارے میں ’’شعلۂ ساز‘‘میں ۱۹۲۵ لکھا ہوا ہے ۔ اس کے باوجود جعفر رضا نے اس کو کلیات(جلددوم) میں ۱۹۴۵ کی غزلوں میں شمار کیا ہے۔

۲؎       ’’چھڑگئی اُن آنکھوں کی بات‘‘،’’جینے والے جی لیں گے‘‘اس کو یوسف ظفر نے ۱۹۴۰ کا بتایا ہے اور جعفر رضا (جلد اوّل) نے دوسرے مجموعوں کی سِنین کو بغیر دیکھے ہوئے ۱۹۴۱ سے منسوب کر دیا۔اس طرح کی درجنوں مثالیں میں پیش کر سکتا ہوں لیکن یہاں یہاں انہیں چارمثالوں پرقناعت کرتے ہیں۔

اسی طرح غزل نمبر ۴۸۵؍’’بھنور میں ازل سے ہیں دل کھوئے کھوئے‘‘اس کا مأخذجعفر رضا نے’’ گلِ نغمہ‘‘اور’’بزم زندگی رنگِ شاعری‘‘کو بتاکرسال ۱۹۵۹ بتایا ہے۔ جبکہ یہ غزل رسالہ ’’آج کل‘‘ جولائی ۱۹۴۹،ص۔۶)پرہے۔اسی طرح غزل نمبر۴۹۸ ’’آنکھوں میں جوبات ہوگئی ہے‘‘ اس کومختلف مجموعوں کی مدد سے ۱۹۵۹؁ء بتایا ہے۔جبکہ یہ بھی ’’آج کل‘‘ نومبر ۱۹۵۵، ص۔۲؍ پر موجود ہے۔ مزید غزل نمبر ۵۸۹’’دل کیفیتِ عشق کے باوصف حزیں ہے‘‘پچھلی رات میں ۱۹۶۹ لکھاہے اسی کوصحیح مانتے ہوئے جعفر رضانے نقل کردیا ہے جبکہ یہ غزل بھی رسالہ ’’آج کل‘‘اپریل نظم نمبر ۱۹۵۸ میں ص۔۱۹؍پرہے۔ایک اورغزل ۵۹۴نمبر’’ہر اِک سینۂ دنیائے نور و نارے‘‘پچھلی رات میں ۱۹۶۹ کو ہی ٹھیک مانا ہے جبکہ رسالہ’’نقوش‘‘لاہور،جون ۱۹۵۷،ص۔۱۴۶؍پرموجود ہے۔  مرتب نے غزل نمبر۶۱۶؍’’مری نواسے جل اٹھتے تھے بحر و برپہ چراغ‘‘کے آخری شعر کے بارے میں لکھا ہے کہ ’’یہ شعرسرکاری جریدہ ’’نیادور‘‘کے لیے ناقابلِ اشاعت تھا لیکن مسودات فراق میں ہے۔‘‘اوراس کو مرتب موصوف نے ۱۹۸۰ لکھا ہے جبکہ یہ غزل رسالہ ’’آج کل ‘‘جنوری ۱۹۷۷،ص۔۶؍پر چھپ چکی ہے۔

کلیات فراق جلد اوّل کی غزل نمبر ۱۰؍کاجعفر رضا نے جو حوالہ دیا ہے۔ وہ ’رمز و کنایات‘اور ’غزلستان ‘کا ہے مجموعہ رمز و کنایات اور ایک رسالہ کے حوالے سے انہوں نے باتیں تفصیل سے بیان کی ہیں لیکن ’غزلستان ص۔۲۰؍پربھی وہی عبارت لکھی ہے کہ ’’یہ غزل آگرہ جیل کے مشاعرے میں پڑھی گئی ۔‘‘اسی طرح غزل نمبر ۲۶؍کاماخذغزلستان اور رمز و کنایات ہے وہاںبھی عبارت ’’دائمی جدائی ہونے سے پہلے آخری ملاقات کی یادگار ہے یہ شعر‘‘کوہضم کر گئے ہیں۔اسی طرح کا کھیل غزل نمبر ۵۹؍میں ہوا ہے،اس کو مرتب ہضم کر جاتے ہیں ۔’’کبھی عزلت گہہِ جاناں دلِ ویراںنہ ہوا‘‘یہ غزل آگرہ ڈکسٹرٹ جیل کے دوسرے مشاعرے میں پڑھی گئی تھی۔ جس کو سننے کے بعد صدر مشاعرہ مولانا عارف ہنسوی نے اپنی غزل سچ مچ پھاڑ ڈالی تھی۔(مشاعرئہ زنداں،ص۔۱۳تا۱۴)اسی طرح کئی مقامات پر دونوں جلدوں میں ایسا ہوا ہے کہ جعفر رضا نے کلیات میں جس غزل کو پیش کرکے اس کا مأخذ جس صفحے پر بتایا ہے غزل اس کے بعد یا پہلے والے صفحے پرملتی ہے اور کبھی کبھی پانچ اور دس صفحات بھی آگے پیچھے ہوتے ہیںاورکبھی اس مجموعے میں ہی غزل نہیں ملتی۔ اس کی مثالیں کلیات کی غزل نمبر۱۴، ۲۰، ۳۲،۳۷،۶۵،۳۰۰،۳۲۴اور۳۸۸وغیرہ ہیں۔ ’’مشاعرئہ زنداں‘‘ میںفراقؔکی جتنی غزلیں شامل ہیں ان تمام کا مأخذمحمود الٰہی صاحب نے ’’زمیندار‘‘لاہور کو بتایا ہے اور اسی کو فاضل مرتب نے نقل کر دیا ہے بلکہ زمیندار کاسال ، صفحہ نمبر اورشمارہ وغیرہ کچھ تلاش کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔

بعض جگہوں پر جعفر رضا صرف رسالہ کا نام لے کر غزل نقل کر جاتے ہیں سال،شمارہ،صفحہ وغیرہ کچھ نہیں بتاتے مثلا کلیات جلد اوّل کی غزل نمبر ۵۳؍اور۵۴؍کا ہے۔غزل نمبر ۵۴کامأخذ ’زمانہ‘دسمبر ۱۹۲۹ بتایا گیا ہے۔جبکہ میں دسمبر ۱۹۲۹؁ء کے شمارے کے تمام صفحات کو کئی بار دیکھ چکا اس میں ایک جگہ انتخاب آل انڈیا مشاعرہ کے عنوان سے ’سراج لکھنوی،وصل بلگرامی،صفی لکھنوی،فرخ بنارسی، وغیرہ کے اشعار اور نظمیں ہیں۔ دوسری جگہ ص۔۳۴۲؍پرعلی گڑھ انٹرمیڈیٹ کالج کے آل انڈیا مشاعرہ کی روداد شامل ہے۔جس میں حسرتؔ ، جگرؔ،ریاض خیرآبادی وغیرہ کانام ہے لیکن فراق ؔکے حوالے سے مذکورہ شمارے میں اس طرح کی کوئی معلومات موجود نہیں ہے۔ چنانچہ یہ غزل’’کوئی روتا ہے سر گورِ غریباں ہائے ہائے‘‘ میری نظرمیں مشکوک ہے ۔

سِنین کے اعتبار سے (جوجعفررضا نے پیش کیے ہیں ان کو صحیح مانتے ہوئے)فراقؔ کی غزلوں کودیکھاجائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ فراقؔایک غزل کہنے کے بعد پھر دوبارہ اسی زمین میں غزلیں قصداًکہتے تھے۔اسی لیے ایک غزل کے اشعار دوسری غزلوں میں اکثر دیکھنے کو ملتے ہیں جو اسی زمین کی ہوتی ہیں۔ اس حوالے سے جعفر رضا لکھتے ہیں  :

’’کئی جگہوں پر ایک ہی غزل کے چند اشعار ادنیٰ سی ترمیم کے ساتھ دوسری غزل میں بھی نظرآتے ہیں۔…زیرِ نظر کلیات میں اس طرح کی تکرار کے اشعار حذف کر دیے گئے ہیں۔‘‘

(کلیات فراق،جلد اوّل،۲۰۱۸،ص۔liiiاورliv)

کیاواقعی ایسا کرنے میں جعفر رضا کامیاب رہے ہیں بالکل بھی نہیں ۔بلکہ فراق کی مشہور غزل ’’سرمیں سودا بھی نہیں دل میں تمنا بھی نہیں‘‘جو زیر بحث کلیات کی غزل نمبر ۶۶؍ہے اسی کے بعد والی غزل نمبر ۶۷؍بھی اسی زمین میں ہے۔دونوں غزلوں میں چار اشعار کی تکرار ہے۔بلکہ غزل نمبر ۶۶؍کی یہ اخیرسے مسلسل چار شعر ہیں جبکہ ۶۷؍نمبر غزل کے اخیر کے دو اور درمیان کے دو الگ الگ ہیں۔یہی حال غزل نمبر ۱۰۱؍اور۱۰۲؍ کاہے اس میں بھی چاراشعارکی تکرار ہے۔

آگے چلتے ہیں تو غزل نمبر ۸۷؍میں شعرہی بے معنی ہو گیا ہے کیونکہ جس مصرع کے بعد جس مصرعے کو ہونا چاہیے وہ نہیں ہے اسی غزل کے اخیر کے دو اشعارکے دو مصرعے غائب ہیں۔یہی معاملہ غزل نمبر ۳۳۰کا ہے جس مصرعے کے بعد مصرع ہونا چاہئے وہ مصرع ہے ہی نہیں ایسادواشعار میں ہوا ہے۔

اسی طرح فاضل مرتب نے ایک غزل’’کچھ کر لیا نتیجہ تدبیر دیکھ کر‘‘غزل نمبر ۳۱۶؍کا اصل ماخذ’’شعلۂ ساز‘‘ کو بتایا ہے۔ اس میں صرف پانچ اشعار ہیں اور مرتب نے یہاں دس اشعار نقل کر دیے ہیں بقیہ اشعار کہاں سے آئے کوئی خبر نہیں ۔

غزل نمبر ۴۰۹؍کے بارے میں رسالہ’’آج کل‘‘ یکم نومبر ۱۹۴۹ لکھا ہے لیکن رسالہ’’ آج کل‘‘ کو دیکھنے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ ایک شعر اس میں سے بھی کم لکھا ہو گیا ہے ۔وہ شعر ہے  ؎

گردوں کاآج کے انساں سے گرمیِٔ عمل کا تقاضہ ہے

اب سوز نوائے شبِ غم سے تاروں نے پگھلنا چھوڑ دیا

جعفر رضاکی مرتبہ کلیات میں بے شمار ایسی غلطیاں ہیں جیسے کہ حروف بدل جانا،نون کی جگہ نون غنہ،’اب کو‘ ’لب‘مطلع اور مقطع میں تبدیلی کردینا۔ مثلالفظ ’زندگیٔ‘سے (ء)ہمزہ غائب ہونا۔اس طرح کی ہزار سے زائد غلطیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ان کی تفصیل کا یہاں موقع نہیں ہے۔

تیسری کلیات ہے ڈاکٹر سیّد تقی عابدی صاحب کی مرتبہ ہے۔یہ کلیات دسمبر ۲۰۲۱ میں شائع ہوئی ہے۔ اس کانام کلیات فراقؔ گورکھپوری اورقوسین میں (کامل)ہے۔ واضح رہے کہ اس سے پہلے موصوف کی کتاب’’مطالعۂ رباعیات فراق ؔگورکھپوری‘‘ (مع روپ) ۲۰۲۱ میں شائع ہوچکی ہے۔اس رباعی والی کتاب میں فاضل مرتب نے جو باتیں فراقؔ کی رباعیوں کی تعداد کے بارے میں بیان کی ہیں وہی باتیں کلیات میں بھی کہی ہیں۔ رباعی والی کتاب میں لکھتے ہیں  :

’’ہماری تحقیق کے مطابق رباعیات کی تعدادسات سو سے کچھ کم ہے۔‘‘

(مطالعۂ رباعیات فراقؔ گورکھپوری(مع روپ)ص۔۳۲)

من و عن اسی بات کو کلیات میں دہرایا ہے  :

’’ہماری تحقیق کے مطابق رباعیات کی تعداد سات سو سے کچھ کم ہے۔‘‘

(کلیاتِ فراق گورکھپوری (کامل)ص۔۷۴)

مگر موصوف اپنی دونوں کتب میں وہی ۵۹۲؍رباعیاں ہی پیش کرسکے سات سو سے کچھ کم کا صرف زبانی دعویٰ کیا ہے۔بلکہ چھ سوبھی پیش کرنے سے قاصر رہے ہیں۔چنانچہ تقی عابدی کی یہ بات بغیر دلیل کی ہے اس لیے یہ قابلِ قبول نہیں ہوسکتی۔

اس کے علاوہ ڈاکٹر سیّدتقی عابدی نے جو عناوین رباعی والی کتاب میں قائم کیے تھے وہی عنوانات کلیات میں بھی ’’ زندگی  نامہ‘‘ ، (رباعی والی کتاب کاص۔۹)اور(کلیات۔ص۔۴۵) ’’رباعیات فراق کا سرسری مطالعہ ‘‘(مطالعۂ رباعیات فراقؔ گورکھپوری(مع روپ) ص۔ ۳۲)اورکلیات فراق گورکھپوری (کامل)ص۔۷۴،اور فراقؔ مشاہیر اور مصاحبین کی نظر میں(مطالعۂ رباعیات فراقؔ گورکھپوری(مع روپ)ص۔۸۹)کلیات فراق گورکھپوری (کامل)ص۔۱۹؍ساتھ ہی میں یہ بھی بیان کرتاچلوں کہ ان تینوں ابواب میں دونوں کتاب میں وہی باتیں بغیرکسی اعراب تک کی تبدیلی کی دہرائی گئی ہیں جو پہلی کتاب میں تھیں۔یعنی من و عن Copy pasteہے۔

فراقؔ کی غزلوں کے حوالے سے کلیات جو بقول خود مرتب کے کامل ہے اس کے صفحہ:۶۰سے ۷۳؍تک فراقؔ کی غزلوں پر بحث کی گئی ہے لیکن اس بحث میں کوئی گہرائی اورمفید گفتگو نہیں ہے مبتدیانہ گفتگو ہے۔ جس کے پہلے پیراگراف کو فراقؔ کا تعارف کہہ سکتے ہیں اس کے بعد مسلسل ۷؍اشعار پیش کرکے مشاہیر کی آراء جو فراقؔ کی غزلوں کے بارے میں ہیں ان کو پیش کیا ہے۔اخیرمیں فراقؔ کے نشتر کے عنوان سے تقریباً آٹھ درجن مختلف اشعارپیش کیے ہیں۔ نہ تو غزلوں کی تعداد بتائی ہے نہ ان کا مأخذاور ناہی فراقؔ کی غزل گوئی پر کوئی پرمغزتحریرہی لکھ سکے ہیں۔

رباعیوں کی تعداد کے حوالے سے پچھلے سطور میں جس کا ذکر ہو چکا ہے۔ وہیں پرڈاکٹر سیّد تقی عابدی نے یہ کہہ کر قناعت کر لیا ہے کہ :

’’مزید فراقؔ نے اپنی غزلوں کی تعداد بھی ایک ہزار کے لگ بھگ بتائی ہے۔جبکہ اتنی تعداد میں غزلیں موجود نہیں۔‘‘

(کلیاتِ فراق گورکھپوری (کامل)ص۔۷۴)

اور

(مطالعۂ رباعیات فراقؔگورکھپوری(مع روپ)ص۔۳۳)

ڈاکٹرسیّدتقی عابدی کی کلیات میں مَیں نے ردیف وار غزلوں کو شمارکیا جواس طرح ہے ردیف (الف:۸۰، ب:۲،پ:۲، ٹ:۱، ت: ۱۵، ج:۳،چ:۲،د:۲،:ر:۱،ز:۳، س:۳،ش:۱، غ:۲، ق:۱، ک:۵، گ:۵، ل:۲، م: ۱۲،ن:۱۴۵،و:۲۶، ھ:۱۰، ی:۶۵، ے: ۱۷۴ ) ان کی تعداد۵۷۹ہوتی ہیں۔جبکہ اس سے پہلے پروفیسر جعفر رضا کی مرتب کلیات جو۲۰۱۸؁ء میں چھپی۔ اس میں ۶۲۷؍ غزلیں ہیں فاضل مرتب کو اپنے سے پہلے والی کلیات کو ضرور دیکھنا چاہئے تھا۔ مگر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ موصوف نے صرف مجموعوں پر ہی قناعت کی ہے اور جو غزلیں بہ آسانی دستیاب ہوگئیں ہیں انہیں پر اکتفا کیا ہے۔

نظموں کے حوالے سے تقی عابدی صاحب دیگر مرتبین پر سبقت لے گیے ہیں کیونکہ انہوں نے کل ۷۹؍نظموں کو اپنی مرتبہ کلیات میں شامل کیا ہے۔لیکن ان میں سے صرف ۳۵؍کی سنِ تخلیق بتائی ہے،نہ تو نظموں کے حسن و قبح پر بات کی ہے اور ناہی نظموں کے مأخذکیا ہیں کہاں سے انہوں نے تلاش کیے اس کا ذکر کرنا مناسب سمجھا بس ۷۹؍نظمیں پیش کردی ہیں۔ اس لیے اس پر مزید تلاش و جستجو کی ضرورت ہے۔دوہوں کے حوالے سے ڈاکٹر تقی عابدی صاحب نے ان کی جوتعداد(۵۰) بتائی ہے۔ ابھی اس تعداد کو قبول کرلینے میں کوئی پرہیز نہیں۔

چوتھی اور آخری کلیات’کالی داس گپتا رضا‘کی مرتبہ ہے۔ یہ اُسی سلسلے کی کڑی ہے ۔جس میں جعفر رضا صاحب والی کلیات تھی کیونکہ یہ تینوں(دوغزلوں کاجعفررضا)اورایک یہ(نظموں اور رباعیوں) کی ہے۔اس میں موصوف نے فراقؔکی رباعیوں کی تعداد ۵۹۵؍ بتائی ہے۔کالی داس گپتا رضا لکھتے ہیں :

’’پانچ سو پچانوے(۵۹۵)رباعیوں میں سے پورازور لگا کر پانچ سات رباعیوں میں عیب تلاش کرلینے سے تو یہ ثابت نہیں ہوتا کہ فراقؔرباعی کے آہنگ یا اس کے عروضی بھول بھلیوں سے واقف نہ تھے۔‘‘

(کلیات فراق،جلد سوم،مقدمہ،ص۔xvi)

’’…روحِ کائنات(مشعل کی باقی ماندہ رباعیوں سمیت)اڑسٹھ(۶۸)رباعیوں میں سے (۵۹۵)سے مِنہاکرکے دیکھ لیجیے۔‘‘

(کلیات فراق،جلد سوم،مقدمہ،ص۔xxi)

مذکورہ دونوں عبارت کی روشنی میں فراق ؔ کی رباعیوں کی تعداد ۵۹۵؍پہنچتی ہیں۔ابھی اس تعداد کو قبول کرنے میں کوئی دقت نہیں کیونکہ اب تک مجھے اس سے زیادہ رباعی کا سراغ کہیں نہیں مل سکا ہے۔

نظموں کے حوالے سے محترم کالی داس گپتا رضا نے ۵۹؍نظمیں پیش کیں ہیں۔کالی داس گپتارضانے بھی کچھ نظموں کے سِنین بتائیںہیں اور کچھ کے نہیں ۔کالی داس گپتارضا نے فراقؔ کے دوہوں کی تعداد ۵۰؍بتائی ہے۔

کالی داس گپتا رضا صاحب بہترین اسکالراور محقق تھے یہاں اس بات کی وضاحت کرتا چلوں کہ کالی داس گپتا رضا کا انتقال  ۲۰۰۱ میں ہوگیا تھا۔اوریہ کلیات ان کی زندگی میں مکمل نہیں ہوسکی تھی۔ اس کی وضاحت مذکورہ کلیات میں شمیم طارق صاحب نے کی ہے۔چنانچہ مَیں ان کی زیرِ بحث کلیات پرزیادہ گفتگو کرکے ناانصافی نہیں کرسکتا۔

میں فراقؔ کے اس دعوے کو سرے سے خارج نہیں کرتا کہ انہوں نے اپنی غزلوں اور رباعیوں کی تعدادایک ہزار سے کچھ زیادہ بتائی ہیں۔کیونکہ میری اب تک کی تحقیق کے مطابق ۲۰؍غزلیں اور۱۲؍نظمیں اورمزید مجھے ملی ہیں جو نہ تو ان کے کسی مجموعے میں شامل ہیں اور ناہی بعد کی کسی کلیات میں ان کا ذکر ہے۔فراقؔ کی زندگی کے آخری ایام میں ان کے گھر میں چوری کا معاملہ بھی مشہور ہے اس میں بھی ممکن ہے کچھ سو دو سو غزلیں ،نظمیں اور رباعیاں چوری ہو گئی ہوں۔

مجموعی طور پر مذکورہ تمام کلیات کے نسخوں کو دیکھنے کے بعد یہ بات بلاخوف تردید کہی جا سکتی ہے کہ ان چاروں میں سے جعفر رضا کی دوجلدیں کلیات کے اصول و ضوابط پرکھرا اترتے ہیں کیونکہ انہوں نے پورے تندہی سے فراق کی غزلوں کی تعداد اور مختلف غزلوں کے اشعاروں کا اشاریہ اورمأخذبتانے میں کچھ حد تک کامیاب رہے ہیں۔ بقیہ تین نسخوں میں کچھ حد تک کالی داس گپتا رضا رباعی کے حوالے سے کامیاب نظر آتے ہیں۔مطرِب نظامی اورسیّدتقی عابدی صاحب اس حوالے سے کوئی اہم کارنامہ انجام نہیں دے پائے ہیں۔ساتھ ہی افسوس کے ساتھ یہ بات کہنی پڑ رہی ہے کہ ان تینوں مرتبین میں سے کسی نے بھی ’’کالی داس گپتا رضا‘‘کی کتاب ’’انتخابِ غزلیاتِ فراقؔ‘‘۱۹۹۸(تاریخی ترتیب سے)کو دیکھنے کی زحمت گوارہ نہیں کی اور ناہی اس کا حوالہ پوری کلیات میں کہیں پر موجود ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ فی زمانہ اکثرحضرات تدوین و ترتیب کے کام کو پروف ریڈنگ سے زیادہ کچھ نہیں سمجھتے ۔ اس لیے ہزاروں کی تعداد میں مرتبہ کتب منظرِ عام پر آرہی ہیں۔ نئی نسل تو خیرنئی نسل ہے لیکن مذکورہ مطالعے کی روشنی میں یہ بات کہی جاسکتی ے کہ ہمارے بعض جیّد حضرات نے بھی اس کام کو محض جمع آوری سے زیادہ نہیں سمجھا۔ اس تحقیقی مقالے کی تیاری کے وقت’’خطائے بزرگاں گرفتن خطااست‘‘بھی ذہن میں تھا۔لیکن تحقیق و تنقید میں خطائے بزرگاں کی بھی گرفت کی جاتی ہے اور اس کی سب سے بڑی مثال شمس الرحمن فاروقی کی فراق پر تنقیدیں ہیں ۔ اورآبِ حیات کے مختلف قصوں کی تردید وغیرہ،چنانچہ تمام بزرگوں کی قابلیت،علمیت اور احترام اپنی جگہ مسلم لیکن تحقیق میں رورعایت سے کام نہیں لیاجاسکتا۔

IMAMUDDIN IMAM

Research Scholar

Faculty of Arts

Deptt. of Urdu

University of Delhi

Delhi

Mob.- 62061 43783

 

(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں    https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

 

adabi meerasadabi miraasadabi mirasادبی میراث
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
مُحَرَّم اور اسلامی اخوت کا تصور – فیض الرحمن اقدس

یہ بھی پڑھیں

تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

مئی 20, 2026

کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس...

مئی 5, 2026

تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –...

جنوری 10, 2026

دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –...

جولائی 10, 2025

جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

جون 20, 2025

شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

دسمبر 5, 2024

کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –...

نومبر 19, 2024

کوثرمظہری کے نصف درجن مونوگراف پر ایک نظر...

نومبر 17, 2024

کوثرمظہری کا زاویۂ تنقید – محمد اکرام

نومبر 3, 2024

علامت کی پہچان – شمس الرحمن فاروقی

مئی 27, 2024

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (61)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (186)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (121)
  • تخلیقی ادب (602)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (203)
    • انشائیہ (20)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (145)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,055)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (540)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (220)
      • غزل شناسی (207)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (47)
    • طب (20)
    • فکشن (407)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (218)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (25)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (13)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (480)
  • گوشہ خواتین و اطفال (100)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,143)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (35)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (901)
    • خصوصی مضامین (128)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (230)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں