ہماری روز بدلتی ہوئی اس ترقی یافتہ دنیا میں خیال کی قہط سالی ہے، دماغ کی فراوانی ہے اور جذبات عقل کی غلامی کر رہے ہیں ، ایسے حالات میں دل سے نکلنے والی وہ شگفتہ آوازیں جن کو ہم غزل کہتے ہیں، دھماکوں کی دلخراش اصوات کی نظر ہو گئی ہیں۔ ہم اتفاق سے ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جس میں آنکھوں سے آنسو کی جگہ خون بہتے ہیں ، کسی کا دکھ درد سمجھنا تو دور، کسی کی موت پر بھی میکانکی الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں۔ صرف جذبات ہی نہیں الفاظ کی بھی خشک سالی ہے۔ زمانے کے اس جبر پر اگر کوئی شاعر یہ کہتا ہے
جتنی ہم چاہتے تھے اتنی محبت نہیں دی
خواب تو دے دیے اس نے ، ہمیں مہلت نہیں دی
تو یہ اس کی تشنگی کا بیان نہیں بلکہ اس کی فن پر دسترس کا غماز ہے ۔ اچھی شاعری کی نہیں جاتی بلکہ دل سے ہوا کرتی ہے۔ پہلے مصرعہ میں ’جتنی ہم چاہتے تھے‘ کا تکملہ دوسرے مصرعہ کا آخری حصہ’ہمیں مہلت نہیںدی‘ میں موجود ہے۔ اسی خواب اور مہلت کے درمیان ،احمد اشفاق کی شاعری کا پورا سمندر موجزن ہے۔کہا جاتا ہے کہ نامساعد حالات میں اچھی شاعری ہوتی ہے۔ میر و غالب اس کی عمدہ مثال ہیں، اور اردو کے مثالی شعرا ہیں۔ نامساعد حالات سے میری مراد وہ عوامل ہیں جو اندرونِ دل کی سرخی کو مزید خونی بنا دیتے ہیں۔ جب وہی خونِ جگر جسم کے تمام رگوں سے گذرتا ہے تو احساسات کی دنیا میں ایک تلاطم سا مچ جاتا ہے جس کا ماحصل شعر کہلاتا ہے۔ ہماری اور آپ کی نظروں سے سیکڑوں ہزاروں اشعار گزرتے ہیں لیکن ایسے اشعار کم ہی ہوتے ہیں جن کو پڑھتے ہوئے ہمارے دل و دماغ میں کئی کہانیاں پھر جاتی ہوں۔ اور ہم اس شعر کو بار بار پڑھتے ہیں۔ مندرجہ بالا شعر اس کی ایک عمدہ مثال ہے۔
جتنی ہم چاہتے تھے۔۔۔۔
اس طرح کے ایسے بہت سے اشعار احمد اشفاق کے مجموعہ دسترس کی زینت ہیں۔
کشمکش میں کاٹ دی اشفاق یونہی زندگی
پائوں کو ڈھانپا تو سر چادر سے باہر آ گیا
ہر فرد کی یہی کہانی ہے ہر شخص کی یہی آپ بیتی ہے اور ہر کسی کی زندگی کا ماحصل یہی ہے۔
احمد اشفاق کی شاعری دل سے دل تک گذرر رکھنے والی شاعری ہے۔ مہجری ادب کی ہم بات کرتے ہیں ، ہم محسوس نہیں کرتے ۔ جب کوئی اپنا ملک اپنا وطن چھوڑ کر دور دراز دیارِ غیر میں وقت گذارتا ہے تو اس پر جو گذرتی ہے اس کو وہ بیان نہیں کر پاتا۔ یہ وہ جذبات ہیں جن کا ترجمہ لفظوں میں نہیں ہو سکتا۔ مگر ان اشعار میں احمد اشفاق نے جو احساسات بیان کیے ہیں اس کے سحر سے باہر نکلنا کسی بھی مہاجر کے لیے کارِ محال ہوگا۔ملاحظہ فرمائیں:
جب بھی میرے سامنے ہجرت کا منظر آ گیا
یوں ہوا محسوس دل سینے سے باہر آ گیا
نام تیرا آ گیا تھا درمیانِ گفتگو
میری آنکھوں کے جزیرے میں سمندر آ گیا
ہجرت کا درد اور اس کا تجربہ عموماََ نا قابل بیان ہوتا ہے۔ وہی سمجھتا ہے جس پر گذرتی ہے۔
ایک اچھا شاعر وہی ہوتا ہے جو نہ صرف درد کا بیان کرے بلکہ احساسات کی ترجمانی کرے۔ جب بھی مرے سامنے ہجرت کا منظر آ گیا، اس مصرعہ میں ’ہجرت کامنظر‘ اپنے اندر ایک قیامت لیے ہوئے ہے۔ یہ ہجرت وہ بھی ہے جو ہندوستان کی آزادی کے بعد ہوئی تھی جس میں لاکھوں لوگوں نے اپنے گھر بار چھوڑ کر ایک مقامِ نا شناسا کا رخ کیا تھا۔ جس جگہ زندگی گذری تھی ، بچپن گذرا تھا وہ سب چھوڑ کر ، تمام احباب و اقارب کو چھوڑ کر جب کوئی دیارِ غیر میں پہنچتا ہے تواس شخص کا درد ایک شاعر ہی بیان کر سکتا ہے۔ اپنی پوری زندگی میں جب بھی وہ کسی کو ہجرت کرتے دیکھتا ہے تو اس کے خود کے ہجرت کا واقعہ اور اس کی یاد اس کو رلا دیتی ہے۔
اچھی شاعری کیا ہوتی ، اس میں وہ کون کون سی خصوصیات ہونی چاہیے، جس سے کہ وہ اچھی شاعری کہی جاسکے اس سلسلے میں عبادت بریلوی کی ، شاعری کی یہ تعریف قابل غور ہے، وہ اپنی کتاب ’شاعری اور شاعری کی تنقید ‘ میں لکھتے ہیں:
’’شاعری جذبات کی دلآویز موسیقی ہے۔احساسات کی حسین مصوری ہے، تخیل کا ایک رقصِ دلفریب ہے۔وہ جنت نگاہ بھی ہے اور فردوس گوش بھی۔ اس کا اثر دل و دماغ دونوں پر ہوتا ہے۔ وہ جو اس کے تاروں کو چھیڑتی ہے اور روح پر خوشی بن کر چھا جاتی ہے۔وہ جذب و شوق کی ایک لغزشِ مستانہ ہے۔ عقل و شعور کا ایک حسین ارتعاش ہے۔ حسن و جمال کی ایک دل موہ لینے والی اور لطیف تھر تھراہٹ ہے۔ہمارے ایک شاعرنے اس کو عقل و جنون کی ایک مشترک بزمِ جمال اور عشق و حکمت کا مقامِ اتصال کہا ہے۔ یہ محض شاعرانہ خیال نہیں ہے، ایک حقیقت ہے۔ ‘‘
اگر عبادت بریلوی کی یہ بات کہ’ شاعری عشق و حکمت کا مقامِ اتصال ہے ‘ کو شاعری کی تعریف مان لیا جائے تو احمد اشفاق کی شاعری واقعتاََ عشق و حکمت کا مقامِ اتصال ہے۔
ؔاس دعوے کی دلیل کے طور پرموصوف کے یہ اشعار ملاحظہ فرمائیں:
جز ترے دوسرا نہیں موجود
ساتھ تو ہے تو کیا نہیں موجود
ہم نے دیکھی ہے وسعتِ صحرا
اس کا کوئی سرا نہیں موجود
شاعری بچوں کا کھیل نہیں صاحب!
ایک شاعر اپنے دل میں موجزن طوفان کو الفاظ کے کوزے میں بھر نے کی کوشش کرتا ہے تو الفاظ دامن چھڑا کر بھاگتے ہیں ، لطافت اور شیرینی، خیالات کا بوجھ اٹھانے سے منع کر دیتی ہے اور تب شاعر کی جو حالت ہوتی ہے اس کا بیان بھی ایک شاعر ہی کر سکتا ہے۔ شاعر الفاظ میں جو کچھ بھی بیان کرتا ہے وہ خیالات جو اس کے ذہن میں ہوتے ہیں اس کی دس فی صد بھی سچی ترجمانی نہیں کر پاتے۔ وجہ اس کی یہ ہوتی ہے کہ خیال ایک لامحدود شئے ہے اور شعر کی بساط ہی کیا ہوتی ہے؟ چند الفاظ بس اور کیا؟ پھر بھی شاعر جو کچھ کہہ گذرتا ہے وہ ایک عام آدمی کے خیال سے کہیں بڑھ کر ہوتا ہے۔ بات یہ شاعری کی توصیف کی نہیں ہے، اصل کرب تو وہ ہے جب شاعر کہنا بہت کچھ چاہتا ہے اور جو کہہ پاتا ہے اس کو وہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ تو بہت کم ہے تو اس تشنگی اور کرب کا بیان وہ کر ہی نہیں سکتا ۔ یہ کرب در اصل نتیجہ ہوتی ہے اس صوتی جمال کے تقاضے کی وجہ سے خیالات سے سمجھوتہ کرنے کا، بلکہ خیالات کے قتل کی تکلیف کا۔ اسی تکلیف کی شدت میں جب کہنے کو بہت کچھ ہوتا ہے لیکن صوتی جمال کو برقرار رکھنے کے لیے شاعر کو سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے تو اس نا زک خیال کو آپ دیکھیں کہ اس شعر میں کس خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے:
لب پہ الفاظ جم گئے آ کر
ور نہ دل میں تھا کیا نہیں موجود
احمداشفاق کی شاعری کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ ان کے یہاں Cacophony نہیں ملتی، یعنی کھردرے لفظ کا استعمال نہیں ہے۔ ان کی شاعری میں الفاظ کا استعمال احتیاط کے ساتھ ملتا ہے۔ اور اسی وجہ سے الفاظ میں لطافت ہے۔ شاعری میں لطافت صوتی آہنگ سے پیدا ہوتی ہے۔ صوتی جمال شاعری کا اصل حسن ہوا کرتا ہے۔ معنیاتی محاسن تو دوسرے پائدان پر آتے ہیں۔ البتہ اس دوسرے پائدان کا معاملہ کچھ یوں ہے کہ پہلا پائدان اسی پر ٹکا ہوتا ہے۔ آخر ایک اچھے شعر کے لیے کیا ضروری ہے صوتی جمال یا معنیاتی نظام تو اس سلسلے میں نفسیاتی ماہرین کی آرا پر اگر غور کیا جائے تو ارسطو سے لے کر فرائڈ تک سب معنیاتی تہوں کے مضبوط ہونے پر صوتی جمال کو فوقیت دیتے ہیں۔ لفظ و معانی کے تال میل میں کسی کی بھی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن یہاں بات اہمیت کی نہیں فوقیت کی ہے تو اس پر تمام ائمہ علمِ نفسیات کا تقریباََ اتفاق ہے کہ صوتی جمال ہی فوقیت کا حقدار ہے، (اگر ہم ترقی پسند دور کے چند ناقدین کی آرا کو نظر انداز کر سکیں تو)۔ معنیات کا معاملہ تو یہ ہے کہ یہ قاری کی فراست اور ذہنی افق پر منحصر کرتا ہے کہ کون معانی کی کتنی گہرائی میں شنائی کر پاتا ہے۔ لیکن صوتی جمال کو محسوس کرنے کے لیے کسی بھی طرح کی ذہانت یا فراست کی ضرورت نہیں پڑتی۔ جب کوئی شاعر یہ کمال کر دکھائے کہ اس کے یہاںمعنی کی کار فرمائی کے ساتھ ساتھ صوتی جمال بھی ہوا کے دوش پر ہو تو وہ شاعر ایک بڑا شاعر ہوتا ہے اور اس کی شاعری زمان و مکان سے بالاتر ہو جاتی ہے۔ ایسی ہی شاعری کا نمونہ یہ شعر ہے:
زمیں والوں کی بستی میں سکونت چاہتی ہے
مری فطرت ستاروں سے اجازت چاہتی ہے
یا پھر یہ شعر دیکھیں کہ
میں تجھکو لکھتے لکھتے تھک چکا ہوں مری دنیا
مری تحریر اب ہر پل محبت چاہتی ہے
تمام تر نا مساعد حالات اور اس کے بیانات کے باوجود ان کی شاعری میں یاس کا گذر نہیں۔ وہ یاسیت کو پسند نہیں کرتے کم از کم ان کے کلام سے تو یہی اندازہ ہوتا ہے۔ رشتوں کا کھوکھلا پن، ماحول کا سونا پن، فضا میں خامشی، زندگی کی نا پائداری، احساسات کا قحط، اخلاق کا بحران، ہجرت کا درد، شاعر کی فکری کائنات، دنیا داری، لوگوں کی چابک دستی وغیرہ احمداشفاق ی شاعری کے موضوعات ہیں۔ شاعری کو بیان کے اعتبار سے دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، ایک ظاہری تجربہ اور دوسرا اندرونی کشمکش۔ ان کی تمام شاعری کو اس نظریہ سے دیکھیں تو معلوم یہ ہوتا ہے کہ ان کے یہاںخارجی معاملات کا بیان نہیں کے برابر ہے یعنی شاعری میں حالات کی منظر کشی Visualization کم ملتا ہے ۔ البتہ جہاں جہاں اندرونی جذبات کا بیان ہے اس کی شدت اتنی زیادہ ہے کہ شاعر کی آپ بیتی جگ بیتی بن جاتی ہے ۔ مثال کے طور پر یہ شعر دیکھیں:
ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی
ہو دیکھنا تو دیدۂ دل وا کرے کوئی
اب آئیے وہ وجہ جاننے کی کوشش کریں اشفاق کی شاعری میں احساس کی اتنی شدت کیوں ہے؟
در اصل خیالات شاعر کے دماغ میں کب پیدا ہوتے ہیں اور کس شکل میں پیدا ہوتے ہیں؟ کیا زبان یا الفاظ کا وجود پہلے ہوتا ہے اور خیالات کی شربت اس میں بعد میں ڈالی جاتی ہے یا خیال ایک ایسا سیال مادہ ہے جو انسانی ذہن میں پہلے سے موجود ہوتا ہے اورجب ان خیالات کو شاعر الفاظ کے ظروف میں سجا کر باہر نکالتا ہے تو وہ شاعری کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ شاعر الفاظ کہاں سے لاتا ہے؟ کیا وہ جوالفاظ جو وہ سنتا اور پڑھتا ہے وہی اس کا ڈکشن ہوتے ہیں۔ کچھ شاعر تو ایسے بھی ہوتے ہیں جو نئے الفاظ گڑھتے بھی ہیں۔ بہر حال یہ اتنا اہم سوال نہیں ہے۔ اہم سوال یہ ہے کہ جو خیالات شاعر کے ذہن میں ابھرتے ہیں وہ کہاں سے آتے ہیں ؟ اور اپنی افزائش کے وقت ان خیالات کی شکل کیا ہوتی ہے؟ کیا اس میں الہام کا کوئی عنصر بھی ہوتا ہے یا تجربات و مشاہدات لفظ بنتے جاتے ہیں اور اس طرح شعر وجود میں آتا جاتا ہے۔
تو جو لوگ قوتِ گویائی اور قوتِ سمع سے محروم ہوتے ہیں ان کے خیالات آخر کس ہیئت میں وجود پاتے ہیں؟
اس قضیہ کا حل جو بھی ہو مگر ایک بات تو مسلم ہے کہ انسانی تجربات و مشاہدات انسان کے اندرون میں ہلچل پیدا کر دیتے ہیں اور اگر وہ شخص حساس ہوتا ہے تو وہی ہلچل طوفان کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ یہ طوفان صرف خیالات کا نہیں ہوتا، صرف تجربات و مشاہدات کا نہیں ہوتا بلکہ ان تمام سیال مادوں میں دل کے جذبات کی گرمی بھی شامل ہوتی ہے اور وہ جب پھوٹتی ہے تو شاعری کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔
احمداشفاق قطر میں مقیم ہیں ۔ ان کی ہجرت جو ہندوستان سے ہوئی وہ ہمارے اور آپ کے لیے ایک چھوٹے سے سفر کی حیثیت رکھتی ہے۔ لیکن ان کے لیے ایک بہت بڑا واقعہ ہے، حادثہ ہے۔ جب وہ قطر میں لوگوں کے چہرے اور زبان پر غور کرتے ہونگے تو ان کو اپنی زمین پر بسنے والے لوگوں کا لہجہ یاد آتا ہوگا۔ جب وہ وہاں کے لوگوں سے بات کرتے ہونگے تو اپنے گائوں کے لوگوں کی بولی کی مٹھاس دل کو تڑپا جاتی ہوگی، جب وہ وہاں اپنے دوستوں سے ملتے ہونگے تو اپنے بچپن کے ان دوستوں کا خلوص ذہن میں دوڑ جاتا ہوگا۔ یہ تمام تر تجربات الفاظ کا جامہ پہن کر شعر بن جاتے ہیں اور جذبات ان کی روح ہوتی ہے۔ یہ شعر دیکھیں جس میں اشفاق نے ہجرت کا درد بیان کیا ہے :
لگتا ہے کہ اس دل میںکوئی قید ہے اشفاق
رونے کی صدا آتی ہے یادوں کے کھنڈر سے
دل میں کسی کا قید ہونا اور یادوں کے کھنڈر سے صدا آنا ، یہ ایک ایسی منظر کشی ہے جو ظاہر کی نہیں بلکہ اندرونی جذبات کی منظر کشی ہے۔ سچ پوچھیے تو غزل کی صنف اور ہیئت دونوں کا تقاضا داخلی جذبات ہوتے ہیں۔ غزل میں عموماََ شاعر اپنے جذبات کا اظہار، علائم، اشارے اور کنایہ کہ ذریعہ سے کرتا ہے۔ ایسے میں داخلی جذبات اس صنف کے لیے موزوں ترین ہے۔
در اصل شاعری کے ناقدین کا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ ان میں سے بیشتر اشعار کا مقام متعین کرتے ہوئے ان ہی آلات کا استعمال کرتے ہیں جو پچھلے کئی برسوں سے چلے آ رہے ہیں مگر معاملہ یہ ہے کہ ہرزمانے میں قوم مختلف ہوتی ہے اس کے سوچنے سمجھنے کا انداز مختلف ہوتا ہے اس کے مسائل مختلف ہوتے ہیں تو ظاہر ہے کہ ان کی تنقید کے طریقے اور آلہ کار مختلف ہونا چاہیے۔ مشہورِ زمانہ کتاب مقدمہ ابنِ خلدون کا یہ حصہ مجھے پریکٹیکل معلوم ہوتا ہے ملاحظہ فرمائیں:
’’یاد رکھیے بدلے ہوئے زمانوں میں اقوامِ عالم کے حالات بھی بدلتے رہتے ہیں اور ان کے اخلاق و عادات، طور طریقے اور تہذیب و تمدن ایک حالت پر اور ایک راہ پر باقی نہیں رہتے بلکہ زمانے کے ساتھ ساتھ بدلتے رہتے ہیں پھر جس طرح یہ تغیرات لوگوں میں، اوقات میں، اور شہروں میں، رونما ہوتے ہیں، اسی طرح دنیا کے ہر گوشے میں ، ہر زمانے میں اور ہر حکومت میں بھی رونماہوتے ہیں یہ اللہ کا ایک طریقہ ہے جو اس کے بندوں میں کارفرما رہتا چلا آتا ہے۔ دیکھیے پرانے زمانے میں پارسی، سریانی، نبطی، یمنی، اور اسرائلی اور قبطی قومیں آباد تھیں اور حکومت ملک، سیاست، صنعت و حرفت ، نعمت، اصطلاحات اور بین الاقوامی تمام شرکت والی چیزوں میں اپنااپنا ایک خاص مقام رکھتی تھیں، دنیا میں ان کے عمرانی حالات پر ان کے آثارگواہ ہیں، پھر ان کے بعد والیپارسی، روم و عرب آتے ہیں۔ لا محالہ سابقہ حالات میں تغیر آتا ہے اور ان کے ساتھ عادات و اخلاق میں بھی ۔‘‘
(مقدمہ ابنِ خلدون حصہ اول صفحہ ۱۳۸)
ظاہر ہے کہ زمانہ تغیر پزیر ہے حالات ہر دور میں الگ ہوتے ہیں تو شاعری بھی مختلف ہوگی، تو ناقدین کو چاہیے کہ اشعار کو پرھنے کا پیمانہ بھی نیا پیدا کریں ۔ ایک ہی پیمانہ ہر دور میں کارگر نہیں ہوتا۔ ہر دور کا مہجری ادب مختلف یوں ہوتا ہے کہ ہر دور کے ہجرت کا محرک مختلف ہوتا ہے۔ کسی ملک میں جنگ چھڑی ہو اور وہ پناہ گزیں ہو کر دوسرے ملک ہجرت کر جائے تو اس کے حالات، ان مہاجرین سے مختلف ہونگے جو اپنے بال بچوں کی پرورش کی خاطر نوکری پانے کی غرض سے دوسرے ملک کا سفر کرتے ہیں یا پھر وہ لوگ جو مذہب کی تبلیغ کی غرض سے ہجرت کرتے ہیں اور ان مہاجرین کا ہم موازنہ تقسیم ملک کے بعد ہونے والی ہجرتوں سے نہیں کر سکتے تو ان ہجرتوں کے باعث جو احساسات پیدا ہوتے ہیں وہ اور ان کا بیان بھی مختلف ہوتا ہے تو ان کی شدت بھی ظاہر ہے کہ جدا ہوگی۔
احمداشفاق کی زندگی کے جو حالات رہے ، یا جو ان کے داخلی جذبات ہیں ان کا بیان بالکل نرالے ڈھنگ سے ملتا ہے اور اس بیان کی شدت نہ صرف احساسات کی خوبصورتی کی وجہ سے ہے بلکہ ان کے شعری محاسن اور قدرتِ طرزِ بیان کی وجہ
سے بھی ہے۔ بقول احمد اشفاق :
زبانیں گنگ ، لب خاموش ہو جائیں تو اے اشفاق
کسی با ظرف شاعر کے قلم کی دھار چلتی ہے
٭٭٭


1 comment
ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی
ہو دیکھنا تو دیدۂ دل وا کرے کوئی
یہ اشفاق احمد کا نہیں، علامہ اقبال کا شعر ہے 😀