Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
غزل شناسی

عشق و حکمت کا مقامِ اتّصال(اشفاق احمد کی غزل گوئی)-انوارالحق

by adbimiras اگست 14, 2020
by adbimiras اگست 14, 2020 1 comment

ہماری روز بدلتی ہوئی اس ترقی یافتہ دنیا میں خیال کی قہط سالی ہے، دماغ کی فراوانی ہے اور جذبات عقل کی غلامی کر رہے ہیں ، ایسے حالات میں دل سے نکلنے والی وہ شگفتہ آوازیں جن کو ہم غزل کہتے ہیں، دھماکوں کی دلخراش اصوات کی نظر ہو گئی ہیں۔ ہم اتفاق سے ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جس میں آنکھوں سے آنسو کی جگہ خون بہتے ہیں ، کسی کا دکھ درد سمجھنا تو دور، کسی کی موت پر بھی میکانکی الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں۔ صرف جذبات ہی نہیں الفاظ کی بھی خشک سالی ہے۔ زمانے کے اس جبر پر اگر کوئی شاعر یہ کہتا ہے

جتنی ہم چاہتے تھے اتنی محبت نہیں دی

خواب تو دے دیے اس نے ، ہمیں مہلت نہیں دی

تو یہ اس کی تشنگی کا بیان نہیں بلکہ اس کی فن پر دسترس کا غماز ہے ۔ اچھی شاعری کی نہیں جاتی  بلکہ دل سے ہوا کرتی ہے۔ پہلے مصرعہ میں ’جتنی ہم چاہتے تھے‘ کا تکملہ دوسرے مصرعہ کا آخری حصہ’ہمیں مہلت نہیںدی‘ میں موجود ہے۔ اسی خواب اور مہلت کے درمیان ،احمد اشفاق کی شاعری کا پورا سمندر موجزن ہے۔کہا جاتا ہے کہ نامساعد حالات میں اچھی شاعری ہوتی ہے۔  میر و غالب اس کی عمدہ مثال ہیں، اور اردو کے مثالی شعرا ہیں۔ نامساعد حالات سے میری مراد وہ عوامل ہیں جو اندرونِ دل کی سرخی کو مزید خونی بنا دیتے ہیں۔ جب وہی خونِ جگر جسم کے تمام رگوں سے گذرتا ہے تو احساسات کی دنیا میں ایک تلاطم سا مچ جاتا ہے جس کا ماحصل شعر کہلاتا ہے۔ ہماری اور آپ کی نظروں سے سیکڑوں ہزاروں اشعار گزرتے ہیں لیکن ایسے اشعار کم ہی ہوتے ہیں جن کو پڑھتے ہوئے ہمارے دل و دماغ میں کئی کہانیاں پھر جاتی ہوں۔ اور ہم اس شعر کو بار بار پڑھتے ہیں۔ مندرجہ بالا شعر اس کی ایک عمدہ مثال ہے۔

جتنی ہم چاہتے تھے۔۔۔۔

اس طرح کے ایسے بہت سے اشعار احمد اشفاق کے مجموعہ دسترس کی زینت ہیں۔

کشمکش میں کاٹ دی اشفاق یونہی زندگی

پائوں کو ڈھانپا تو سر چادر سے باہر آ گیا

 

ہر فرد کی یہی کہانی ہے ہر شخص کی یہی آپ بیتی ہے اور ہر کسی کی زندگی کا ماحصل یہی ہے۔

احمد اشفاق کی شاعری دل سے دل تک گذرر رکھنے والی شاعری ہے۔ مہجری ادب کی ہم بات کرتے ہیں ، ہم محسوس نہیں کرتے ۔ جب کوئی اپنا ملک اپنا وطن چھوڑ کر دور دراز دیارِ غیر میں وقت گذارتا ہے تو اس پر جو گذرتی ہے اس کو وہ بیان نہیں کر پاتا۔ یہ وہ جذبات ہیں جن کا ترجمہ لفظوں میں نہیں ہو سکتا۔ مگر ان اشعار میں احمد اشفاق نے جو احساسات بیان کیے ہیں اس کے سحر سے باہر نکلنا کسی بھی مہاجر کے لیے کارِ محال ہوگا۔ملاحظہ فرمائیں:

جب بھی میرے سامنے ہجرت کا منظر آ گیا

یوں ہوا محسوس دل سینے سے باہر آ گیا

نام تیرا آ گیا تھا درمیانِ گفتگو

میری آنکھوں کے جزیرے میں سمندر آ گیا

ہجرت کا درد اور اس کا تجربہ عموماََ نا قابل بیان ہوتا ہے۔ وہی سمجھتا ہے جس پر گذرتی ہے۔

ایک اچھا شاعر وہی ہوتا ہے جو نہ صرف درد کا بیان کرے بلکہ احساسات کی ترجمانی کرے۔ جب بھی مرے سامنے ہجرت کا منظر آ گیا، اس مصرعہ میں ’ہجرت کامنظر‘ اپنے اندر ایک قیامت لیے ہوئے ہے۔ یہ ہجرت وہ بھی ہے جو ہندوستان کی آزادی کے بعد ہوئی تھی جس میں لاکھوں لوگوں نے اپنے گھر بار چھوڑ کر ایک مقامِ نا شناسا کا رخ کیا تھا۔ جس جگہ زندگی گذری تھی ، بچپن گذرا تھا وہ سب چھوڑ کر ، تمام احباب و اقارب کو چھوڑ کر جب کوئی دیارِ غیر میں پہنچتا ہے تواس شخص کا درد ایک شاعر ہی بیان کر سکتا ہے۔ اپنی پوری زندگی میں جب بھی وہ کسی کو ہجرت کرتے دیکھتا ہے تو اس کے خود کے ہجرت کا واقعہ اور اس کی یاد اس کو رلا دیتی ہے۔

اچھی شاعری کیا ہوتی ، اس میں وہ کون کون سی خصوصیات ہونی چاہیے، جس سے کہ وہ اچھی شاعری کہی جاسکے اس سلسلے میں عبادت بریلوی کی ، شاعری کی یہ تعریف قابل غور ہے، وہ اپنی کتاب ’شاعری اور شاعری کی تنقید ‘ میں لکھتے ہیں:

’’شاعری جذبات کی دلآویز موسیقی ہے۔احساسات کی حسین مصوری ہے، تخیل کا ایک رقصِ دلفریب ہے۔وہ جنت نگاہ بھی ہے اور فردوس گوش بھی۔ اس کا اثر دل و دماغ دونوں پر ہوتا ہے۔ وہ جو اس کے تاروں کو چھیڑتی ہے اور روح پر خوشی بن کر چھا جاتی ہے۔وہ جذب و شوق کی ایک لغزشِ مستانہ ہے۔ عقل و شعور کا ایک حسین ارتعاش ہے۔ حسن و جمال کی ایک دل موہ لینے والی اور لطیف تھر تھراہٹ ہے۔ہمارے ایک شاعرنے اس کو عقل و جنون کی ایک مشترک بزمِ جمال اور عشق و حکمت کا مقامِ اتصال کہا ہے۔ یہ محض شاعرانہ خیال نہیں ہے، ایک حقیقت ہے۔ ‘‘

اگر عبادت بریلوی کی یہ بات کہ’ شاعری عشق و حکمت کا مقامِ اتصال ہے ‘ کو شاعری کی تعریف مان لیا جائے تو احمد اشفاق کی شاعری واقعتاََ عشق و حکمت کا مقامِ اتصال ہے۔

ؔاس دعوے کی دلیل کے طور پرموصوف کے یہ اشعار ملاحظہ فرمائیں:

جز ترے دوسرا نہیں موجود

ساتھ تو ہے تو کیا نہیں موجود

ہم نے دیکھی ہے وسعتِ صحرا

اس کا کوئی سرا نہیں موجود

شاعری بچوں کا کھیل نہیں صاحب!

ایک شاعر اپنے دل میں موجزن طوفان کو الفاظ کے کوزے میں بھر نے کی کوشش کرتا ہے تو الفاظ دامن چھڑا کر بھاگتے ہیں ، لطافت اور شیرینی، خیالات کا بوجھ اٹھانے سے منع کر دیتی ہے اور تب شاعر کی جو حالت ہوتی ہے اس کا بیان بھی ایک شاعر ہی کر سکتا ہے۔ شاعر الفاظ میں جو کچھ بھی بیان کرتا ہے وہ خیالات جو اس کے ذہن میں ہوتے ہیں اس کی دس فی صد بھی سچی ترجمانی نہیں کر پاتے۔ وجہ اس کی یہ ہوتی ہے کہ خیال ایک لامحدود شئے ہے اور شعر کی بساط ہی کیا ہوتی ہے؟ چند الفاظ بس اور کیا؟  پھر بھی شاعر جو کچھ کہہ گذرتا ہے وہ ایک عام آدمی کے خیال سے کہیں بڑھ کر ہوتا ہے۔ بات یہ شاعری کی توصیف کی نہیں ہے، اصل کرب تو وہ ہے جب شاعر کہنا بہت کچھ چاہتا ہے اور جو کہہ پاتا ہے اس کو وہ  یہ سمجھتا ہے کہ یہ تو بہت کم ہے تو اس تشنگی اور کرب کا بیان وہ کر ہی نہیں سکتا ۔ یہ کرب در اصل نتیجہ ہوتی ہے اس صوتی جمال کے تقاضے کی وجہ سے خیالات سے سمجھوتہ کرنے کا، بلکہ خیالات کے قتل کی تکلیف کا۔ اسی تکلیف کی شدت میں  جب کہنے کو بہت کچھ ہوتا ہے لیکن صوتی جمال کو برقرار رکھنے کے لیے شاعر کو سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے تو اس نا زک خیال کو آپ دیکھیں کہ اس شعر میں کس خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے:

لب پہ الفاظ جم گئے آ کر

ور نہ دل میں تھا کیا نہیں موجود

احمداشفاق کی شاعری کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ ان کے یہاں Cacophony نہیں ملتی، یعنی کھردرے لفظ کا استعمال نہیں ہے۔ ان کی شاعری میں الفاظ کا استعمال احتیاط کے ساتھ ملتا ہے۔ اور اسی وجہ سے الفاظ میں لطافت ہے۔ شاعری میں لطافت صوتی آہنگ سے پیدا ہوتی ہے۔ صوتی جمال شاعری کا اصل حسن ہوا کرتا ہے۔ معنیاتی محاسن تو دوسرے پائدان پر آتے ہیں۔ البتہ اس دوسرے پائدان کا معاملہ کچھ یوں ہے کہ پہلا پائدان اسی پر ٹکا ہوتا ہے۔ آخر ایک اچھے شعر کے لیے کیا ضروری ہے صوتی جمال یا معنیاتی نظام تو اس سلسلے میں نفسیاتی ماہرین کی آرا پر اگر غور کیا جائے تو ارسطو سے لے کر فرائڈ تک سب معنیاتی تہوں کے مضبوط ہونے پر صوتی جمال کو فوقیت دیتے ہیں۔ لفظ و معانی کے تال میل میں کسی کی بھی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن یہاں بات اہمیت کی نہیں فوقیت کی ہے تو اس پر تمام ائمہ علمِ نفسیات کا تقریباََ اتفاق ہے کہ صوتی جمال ہی فوقیت کا حقدار ہے، (اگر ہم ترقی پسند دور کے چند ناقدین کی آرا کو نظر انداز کر سکیں تو)۔ معنیات کا معاملہ تو یہ ہے کہ یہ قاری کی فراست اور ذہنی افق پر منحصر کرتا ہے کہ کون معانی کی کتنی گہرائی میں شنائی کر پاتا ہے۔ لیکن صوتی جمال کو محسوس کرنے کے لیے کسی بھی طرح کی ذہانت یا فراست کی ضرورت نہیں پڑتی۔ جب کوئی شاعر یہ کمال کر دکھائے کہ اس کے یہاںمعنی کی کار فرمائی کے ساتھ ساتھ صوتی جمال بھی ہوا کے دوش پر ہو تو وہ شاعر ایک بڑا شاعر ہوتا ہے اور اس کی شاعری زمان و مکان سے بالاتر ہو جاتی ہے۔ ایسی ہی شاعری کا نمونہ یہ شعر ہے:

زمیں والوں کی بستی میں سکونت چاہتی ہے

مری فطرت ستاروں سے اجازت چاہتی ہے

یا پھر یہ شعر دیکھیں کہ

میں تجھکو لکھتے لکھتے تھک چکا ہوں مری دنیا

مری تحریر اب ہر پل محبت چاہتی ہے

تمام تر نا مساعد حالات اور اس کے بیانات کے باوجود ان کی شاعری میں یاس کا گذر نہیں۔ وہ یاسیت کو پسند نہیں کرتے کم از کم ان کے کلام سے تو یہی اندازہ ہوتا ہے۔  رشتوں کا کھوکھلا پن، ماحول کا سونا پن، فضا میں خامشی، زندگی کی نا پائداری، احساسات کا قحط، اخلاق کا بحران، ہجرت کا درد، شاعر کی فکری کائنات، دنیا داری، لوگوں کی چابک دستی وغیرہ  احمداشفاق  ی شاعری کے موضوعات ہیں۔  شاعری کو بیان کے اعتبار سے دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، ایک ظاہری تجربہ  اور دوسرا  اندرونی کشمکش۔ ان کی تمام شاعری کو اس نظریہ سے دیکھیں تو معلوم یہ ہوتا ہے کہ ان کے یہاںخارجی معاملات کا بیان نہیں کے برابر ہے یعنی شاعری میں حالات کی منظر کشی  Visualization  کم ملتا ہے ۔ البتہ جہاں جہاں اندرونی جذبات کا بیان ہے اس کی شدت اتنی زیادہ ہے کہ شاعر کی آپ بیتی جگ بیتی بن جاتی ہے ۔ مثال کے طور پر یہ شعر دیکھیں:

ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی

ہو دیکھنا تو دیدۂ دل وا کرے کوئی

اب آئیے وہ وجہ جاننے کی کوشش کریں اشفاق کی شاعری میں احساس کی اتنی شدت کیوں ہے؟

در اصل خیالات شاعر کے دماغ میں کب پیدا ہوتے ہیں اور کس شکل میں پیدا ہوتے ہیں؟ کیا زبان یا الفاظ کا وجود پہلے ہوتا ہے اور خیالات کی شربت اس میں بعد میں ڈالی جاتی ہے یا خیال ایک ایسا سیال مادہ ہے جو انسانی ذہن میں پہلے سے موجود ہوتا ہے اورجب ان خیالات کو شاعر الفاظ کے ظروف میں سجا کر باہر نکالتا ہے تو وہ شاعری کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ شاعر الفاظ کہاں سے لاتا ہے؟ کیا وہ جوالفاظ جو وہ سنتا اور پڑھتا ہے وہی اس کا ڈکشن ہوتے ہیں۔ کچھ شاعر تو ایسے بھی ہوتے ہیں جو نئے الفاظ گڑھتے بھی ہیں۔ بہر حال یہ اتنا اہم سوال نہیں ہے۔ اہم سوال یہ ہے کہ جو خیالات شاعر کے ذہن میں ابھرتے ہیں وہ کہاں سے آتے ہیں ؟ اور اپنی افزائش کے وقت ان خیالات کی شکل کیا ہوتی ہے؟ کیا اس میں الہام کا کوئی عنصر بھی ہوتا ہے یا تجربات و مشاہدات لفظ بنتے جاتے ہیں اور اس طرح شعر وجود میں آتا جاتا ہے۔

تو جو لوگ قوتِ گویائی اور قوتِ سمع سے محروم ہوتے ہیں ان کے خیالات آخر کس ہیئت میں وجود پاتے ہیں؟

اس قضیہ کا حل جو بھی ہو مگر ایک بات تو مسلم ہے کہ انسانی تجربات و مشاہدات انسان کے اندرون میں ہلچل پیدا کر دیتے ہیں اور اگر وہ شخص حساس ہوتا ہے تو وہی ہلچل طوفان کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ یہ طوفان صرف خیالات کا نہیں ہوتا، صرف تجربات و مشاہدات کا نہیں ہوتا بلکہ ان تمام سیال مادوں میں دل کے جذبات کی گرمی بھی شامل ہوتی ہے اور وہ جب پھوٹتی ہے تو شاعری کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔

احمداشفاق  قطر میں مقیم ہیں ۔ ان کی ہجرت جو ہندوستان سے ہوئی وہ ہمارے اور آپ کے لیے ایک چھوٹے سے سفر کی حیثیت رکھتی ہے۔ لیکن ان کے لیے ایک بہت بڑا واقعہ ہے، حادثہ ہے۔ جب وہ قطر میں لوگوں کے چہرے اور زبان پر غور کرتے ہونگے تو ان کو اپنی زمین پر بسنے والے لوگوں کا لہجہ یاد آتا ہوگا۔ جب وہ وہاں کے لوگوں سے بات کرتے ہونگے تو اپنے گائوں کے لوگوں کی بولی کی مٹھاس دل کو تڑپا جاتی ہوگی، جب وہ وہاں اپنے دوستوں سے ملتے ہونگے تو اپنے بچپن کے ان دوستوں کا خلوص ذہن میں دوڑ جاتا ہوگا۔ یہ تمام تر تجربات الفاظ کا جامہ پہن کر شعر بن جاتے ہیں اور جذبات ان کی روح ہوتی ہے۔ یہ شعر دیکھیں جس میں اشفاق نے ہجرت کا درد بیان کیا ہے :

لگتا ہے کہ اس دل میںکوئی قید ہے اشفاق

رونے کی صدا آتی ہے یادوں کے کھنڈر سے

دل میں کسی کا قید ہونا اور یادوں کے کھنڈر سے صدا آنا ، یہ ایک ایسی منظر کشی ہے جو ظاہر کی نہیں بلکہ اندرونی جذبات کی منظر کشی ہے۔ سچ پوچھیے تو غزل کی صنف اور ہیئت دونوں کا تقاضا داخلی جذبات ہوتے ہیں۔ غزل میں عموماََ شاعر اپنے جذبات کا اظہار، علائم، اشارے اور کنایہ کہ ذریعہ سے کرتا ہے۔ ایسے میں داخلی جذبات اس صنف کے لیے موزوں ترین ہے۔

در اصل شاعری کے ناقدین کا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ ان میں سے بیشتر اشعار کا مقام متعین کرتے ہوئے ان ہی آلات کا استعمال کرتے ہیں جو پچھلے کئی برسوں سے چلے آ رہے ہیں مگر معاملہ یہ ہے کہ ہرزمانے میں قوم مختلف ہوتی ہے اس کے سوچنے سمجھنے کا انداز مختلف ہوتا ہے اس کے مسائل مختلف ہوتے ہیں تو ظاہر ہے کہ ان کی تنقید کے طریقے اور آلہ کار مختلف ہونا چاہیے۔ مشہورِ زمانہ کتاب مقدمہ ابنِ خلدون کا یہ حصہ مجھے پریکٹیکل معلوم ہوتا ہے ملاحظہ فرمائیں:

’’یاد رکھیے بدلے ہوئے زمانوں میں اقوامِ عالم کے حالات بھی بدلتے رہتے ہیں اور ان کے اخلاق و عادات، طور طریقے اور تہذیب و تمدن ایک حالت پر اور ایک راہ پر باقی نہیں رہتے  بلکہ زمانے کے ساتھ ساتھ بدلتے رہتے ہیں پھر جس طرح یہ تغیرات لوگوں میں، اوقات میں، اور شہروں میں، رونما ہوتے ہیں، اسی طرح دنیا کے ہر گوشے میں ، ہر زمانے میں اور ہر حکومت میں بھی رونماہوتے ہیں یہ اللہ کا ایک طریقہ ہے جو اس کے بندوں میں کارفرما رہتا چلا آتا ہے۔ دیکھیے پرانے زمانے میں پارسی، سریانی، نبطی، یمنی، اور اسرائلی اور قبطی قومیں آباد تھیں اور حکومت ملک، سیاست، صنعت و حرفت ، نعمت، اصطلاحات اور بین الاقوامی تمام شرکت والی چیزوں میں اپنااپنا ایک خاص مقام رکھتی تھیں، دنیا میں ان کے عمرانی حالات پر ان کے آثارگواہ ہیں، پھر ان کے بعد والیپارسی، روم و عرب آتے ہیں۔ لا محالہ سابقہ حالات میں تغیر آتا ہے اور ان کے ساتھ عادات و اخلاق میں بھی ۔‘‘

(مقدمہ ابنِ خلدون حصہ اول صفحہ ۱۳۸)

ظاہر ہے کہ زمانہ تغیر پزیر ہے حالات ہر دور میں الگ ہوتے ہیں تو شاعری بھی مختلف ہوگی، تو ناقدین کو چاہیے کہ اشعار کو پرھنے کا پیمانہ بھی نیا پیدا کریں ۔ ایک ہی پیمانہ ہر دور میں کارگر نہیں ہوتا۔ ہر دور کا مہجری ادب مختلف یوں ہوتا ہے کہ ہر دور کے ہجرت کا محرک مختلف ہوتا ہے۔ کسی ملک میں جنگ چھڑی ہو اور وہ پناہ گزیں ہو کر دوسرے ملک ہجرت کر جائے تو اس کے حالات، ان مہاجرین سے مختلف ہونگے جو اپنے بال بچوں کی پرورش کی خاطر نوکری پانے کی غرض سے دوسرے ملک کا سفر کرتے ہیں یا پھر وہ لوگ جو مذہب کی تبلیغ کی غرض سے ہجرت کرتے ہیں اور ان مہاجرین کا ہم موازنہ تقسیم ملک کے بعد ہونے والی ہجرتوں سے نہیں کر سکتے تو ان ہجرتوں کے باعث جو احساسات پیدا ہوتے ہیں وہ اور ان کا بیان بھی مختلف ہوتا ہے تو ان کی شدت بھی ظاہر ہے کہ جدا ہوگی۔

احمداشفاق کی زندگی کے جو حالات رہے ، یا جو ان کے داخلی جذبات ہیں ان کا بیان بالکل نرالے ڈھنگ سے ملتا ہے اور اس بیان کی شدت نہ صرف احساسات کی خوبصورتی کی وجہ سے ہے بلکہ ان کے شعری محاسن اور قدرتِ طرزِ بیان کی وجہ

سے بھی ہے۔ بقول احمد اشفاق :

زبانیں گنگ ، لب خاموش ہو جائیں تو اے اشفاق

کسی با ظرف شاعر کے قلم کی دھار چلتی ہے

٭٭٭

 

 

احمد اشفاقانوار الحقغزل
1 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
معاصرغزل میں اسلامی افکارواقدار- پروفیسر کوثر مظہری
اگلی پوسٹ
تین بتی کے راما کے کرداروں کا تجزیاتی مطالعہ-عرفان احمد

یہ بھی پڑھیں

برگِ سخن کی بات ہے دل تھام لیجیے...

جنوری 31, 2026

نوجوان شعراء کی نئی نسل: سفر، سفیر اور...

اکتوبر 11, 2025

صاحب ذوق قاری اور شعر کی سمجھ –...

مئی 5, 2025

 ایک اسلوب ساز شاعر اور نثر نگار شمیم...

جنوری 20, 2025

حسرت کی سیاسی شاعری – پروفیسر شمیم حنفی

جنوری 15, 2025

غالب اور تشکیک – باقر مہدی

جنوری 15, 2025

غالب: شخصیت اور شاعری: نئے مطالعے کے امکانات...

دسمبر 17, 2024

غالب اور جدید فکر – پروفیسر شمیم حنفی

دسمبر 9, 2024

اردو شاعری میں تصوف کی روایت – آل...

دسمبر 5, 2024

غالب کی شاعری کی معنویت – آل احمد...

دسمبر 5, 2024

1 comment

Khadim Ali مئی 7, 2023 - 10:05 شام

ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی
ہو دیکھنا تو دیدۂ دل وا کرے کوئی

یہ اشفاق احمد کا نہیں، علامہ اقبال کا شعر ہے 😀

Reply

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (120)
  • تخلیقی ادب (596)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (20)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,049)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (537)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (219)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (407)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (218)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (25)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,135)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (34)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں