زینب محمد الغزالی الحبیلی عربی الاصل ہیں۔والد کی طرف سے ان کا سلسلسہ نسب عمر بن خطاب تک اور والدہ کی طرف سے حضرت علی تک پہنچتا ہے۔وہ مصر میںجنوری ۱۹۱۷ء میں بحیرہ کے ایک گائوں میں پیدا ہوئیں ۔اور اپنے والدین کے سایئہ عاطفت میں اسلامی ماحول میں پرورش پائی۔ان کے والد جامعہ ازہر کے علماء میں سے تھے ۔ان کی تربیت میں ان کے والد کا اثر بہت زیادہ ہے۔وہ زینب غزالی کی مکمل اسلامی تربیت کرنا چاہتے تھے ۔والد کے انتقال کے بعد زینب غزالی اپنی والدہ کے ہمراہ اپنے بھائیوں کے پاس قاہرہ چلی گئیں ۔جو وہاں پڑھتے اور کام بھی کرتے تھے۔ زینب غزالی کو بچپن سے ہی حصول علم سے خصوصی دل چسپی تھی لہذا انھوں نے علم کے حصول کی طرف خاص توجہ کی ان کے بڑے بھائی محمد ان کی تعلیم کے لیے رضامند نہیں تھے لیکن،ان کے دوسرے بھائی نے ان کی حمایت کی جس کی بنا پر سر وہ کاری اسکول میںاپنی تعلیم جاری رکھ سکیں ۔انھوں نے بس اسی پر اکتفاء نہیں کیا بلکہ تفسیر اور فقہ کا علم جامعہ ازہر کے علماء سے حاصل کیا۔ان کے اساتذہ میں شیخ عبدالمجید اللبان وکیل الازہر،شیخ محمد سلیمان النجار رئیس قسم الوعظ والارشاد الازہر اور شیخ علی محفوظ رکن ھیئۃ کبار العلماء الازہر قابل ذکر ہیں۔
زینب غزالی فطری طور پر متحرک خاتون تھیں۔ابتداء میں زینب غزالی ھدی شعراوی کی تنظیم الاتحاد النسائی سے منسوب تھیں جو اس وقت مصر میں آزادی نسواں کے حق میں آواز بلند کررہی تھی۔اس تنظیم کے دفاع کے لیے انھوں نے علمائے ازہر سے کافی مناظرے اور مباحثے بھی کیے۔ ایک بار انھوں نے ایک اخبار میں پڑھا کہ عورتوں کی وہ تنظیم جس کی سربراہی ھدی شعراوی کر رہی تھیں۔وہ تین طالبات کو اعلی تعلیم کے حصول کے لیے فرانس بھیج رہی تھیں۔زینب غزالی کو اس تعلیمی وفد کا حصہ بننے کا شوق ہوا۔وہ تنظیم کے دفتر گئیں اور اپنی خواہش کا اظہار کیا اور ھدی الشعراوی نے ان کو بھی اس وفد میں شامل کرلیا۔لیکن ایک رات انھوں نے خواب میں دیکھا کہ ان کے والد انھیں فرانس کے سفر پر جانے سے منع کر رہے ہیں۔لہذا زینب غزالی نے اس سفر پر جانے سے معذرت کرلی۔لیکن مصرمیں رہتے ہوئے وہ ھدی شعراوی کی تنظیم سے جڑی رہیں ، اور اس کی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی رہیں،لیکن کچھ عرصہ کے بعدزینب غزالی کی زندگی میں ایک حادثہ پیش آیا جس نے ان کی زندگی کا رخ بدل دیا۔ ہوا یہ کہ گھر میں کھانا بناتے ہوئے سلنڈر پھٹ گیا جس سے ان کا جسم پوری طرح جھلس گیا۔ڈاکٹر بھی ان کی شفایابی سے مایوس ہوگئے۔وہ تیمم کرکے نماز پڑھتی تھیں اور دعا کرتی تھیں۔ اے اللہ اگر یہ ھدی شعراوی کی تنظیم سے وابستہ ہونے کی سزا ہے تو میں آئندہ اس سے استعفی دے دوں گی۔اور اگر یہ تیری سزا ہے اس بات پر کہ میں نے حجاب نہیں اختیا رکیا ہے تو میں آئندہ حجاب اختیار کرلوں گی۔اور میں تجھ سے عہد کرتی ہوں کہ اگر میں پہلے کی طرح صحتیاب ہو گئی تو میں اسلامی دعوت کی نشرواشاعت کے لیے عورتوں کی ایک علیحدہ جماعت کی بنیاد ڈالوں گی ۔مسلمان عورتوں کو صحابیات کا اسوہ اختیار کرنے کی دعوت دوں گی۔اور بقدر استطاعت جہاد کروں گی۔اللہ تعالی نے ان کی دعا قبول فرمائی اور معجزاتی طور پر انھیں مکمل شفا حاصل ہوئی۔(۱)
زینب غزالی نے بیس سال کی عمر میں۱۹۳۷ء میں جمیعۃ السیدات المسلمات کے نام سے عورتوں کی تنظیم کی بنیاد ڈالی۔اور مصر کے گوشے گوشے میں اسے فروغ دیا ۔اس تنظیم کے تحت وہ مختلف علاقوں میں دینی اجتماعات منعقد کرتی تھیں ۔وزارت اوقاف میں اس کا رجسٹریشن ہوگیا۔ اسے پندرہ مساجد تعمیر کرانے کی اجازت بھی مل گئی۔سال میں اس تنظیم کے متعدداجتماعات ہوتے تھے۔السیدات المسلمات کے نام سے اس کا ایک مجلۃ بھی نکلتا تھا۔انھوں نے بہت سے مسلم اور عربی ممالک کا سفر کیا اور وہاں دینی موضوعات پر لیکچر دیے۔ خواتین کے اندر وعظ و تقریر کی صلاحیت پیدا کرنے کی غرض سے انھوں نے ایک مستقل ادارہ بھی قائم کیا ۔وہ حسن البناء کی فکر سے بہت متاثر تھیں جس کے نتیجہ میں انھوں نے اپنی تنظیم کو ان کی جماعت الاخوان المسلمون میں ضم کردیا تھا۔(۲)
۱۹۶۵ء میں سیاسی پارٹیوں اور حکومت کے درمیان ٹکرائو شروع ہوا جس نے سنگین صورت اختیار کر لی۔زینب غزالی کو جمال عبد الناصر سے ملاقات سے انکار کے نتیجہ میں گرفتار کر لیا گیا ۔اس موقع پر انھوں نے پوری جرات سے کہا کہ میں ایسے شخص سے ملاقات نہیںکرسکتی جس کے ہاتھ شہید عبدالقادر کے خون سے رنگے ہوئے ہوں۔وہ ۱۹۷۱ء تک جیل میں بند رہیں ۔اس عرصہ میں انھیں شدید جسمانی اذیتوں سے دوچار ہونا پڑا۔ایام من حیاتی کے عنوان سے انھوں نے اپنی ایک جیل ڈائری لکھی ہے۔یہ ایک تاریخی دستاویز بھی ہے اور ادبی رنگ بھی لیے ہوئے ہے۔زینب غزالی نے اسلامی کانفرنسوں اور دینی پروگراموں میں شرکت کے لیے یورپ،ریاست ہائے متحدہ امریکا، افریقہ اور ایشیا کا سفر کیا۔وہ روزانہ دس بارہ گھنٹے پڑھنے لکھنے میں صرف کرتی تھیں۔ وہ عالم اسلامی کے مسائل سے جڑی رہتی تھیں ۔دینی معاملات میں ٹیلی فون سے رہنمائی حاصل کرتی تھیں ۔وہ مسلمان عورت کے مستقبل کے سلسلہ میں پر امید تھیں۔زینب غزالی کے پاس ایک بڑی لا ئبریری تھی جو تفسیر اور فقہ کی کتابوں کے علاوہ جدید علوم اور دعوتی و تحریکی کتب پر مشتمل تھی۔بہت سی کتابیں سو سال پرانی تھیں ۔خود انھوں نے متعدد کتابیں تصنیف کی ہیں۔ان کی اہم کتابیں درج ذیل ہیں۔
ابنتی (۲جلدوں میں)،مشکلات الشباب و الفتیات فی مرحلۃ المراھقۃ(۲ جلدوں میں)،نحو و بعث جدید،ایام من حیاتی،(یہ کتاب ان کی خود نوشت ہے جس میں انھوں نے خاص طور سے اپنی زمانہ اسیری کی داستان قلم بند کی ہے)نظرات فی الدین و الحیاۃ، شرح الاربعین النوویۃ، ملک و آمال شعب اور نظرات فی کتاب اللہ خاص طور سے قابل ذکر ہیں ۔ ان کی بعض کتابوں کا مختلف زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔نظرات فی کتاب اللہ درحقیقت زینب الغزالی کی تفسیر ہے۔ اس میں انھوں نے سورۃ ابراہیم تک کی تفسیر کی ہے۔وہ جیل میں قرآن پڑھتی تھیں۔تو مصحف کے حاشیہ پر ضروری تشریحات نوٹ کر لیتی تھیں۔جیل سے رہائی پر یہ مصحف انھیں نہیں مل سکا۔ بعد میں انھوں نے اپنی یاد داشت سے دوبارہ اس کام کو شروع کیا۔(۳) اور یہ تفسیر منظر عام پرآئی۔اس کی پہلی جلد ۱۹۹۴ء میں شائع ہوئی ہے۔اس پر ڈاکٹر الفرماوی نے نظر ثانی کی ہے۔دوسری جلد بھی چھپ چکی ہے۔نظرات فی کتاب اللہ کی پہلی جلد ۷۱۱صفحات پر مشتمل ہے ۔اس میں انھوں نے سورہ ابراہیم تک کی تفسیر بیان کی ہے۔یہ تفسیر ۱۹۹۴ میں دار الشروق قاہرہ سے شائع ہوئی ہے۔اس پر جامعہ ازہر کے استاد تفسیر شیخ عبدالحسن فرماوی نے نظرثانی کی ہے۔(۴)
تفسیر نظرات فی کتاب اللہ اور اس کا منہج
یہ تفسیر جب شائع ہوئی تو اس کا علمی حلقوں میں بہترین انداز میں استقبال کیا گیا۔اس تفسیر کی خصوصیات کو درج ذیل نکات کی صورت میں بیان کیا جا سکتا ہے۔
اول
وہ کسی سورہ کی تفسیر کرتے ہوئے اس کی ابتداء میں بتاتی ہیں کہ وہ مکی ہے کہ مدنی،اس میں آیات کی تعداد کتنی ہے؟ اس کے فضائل کیا ہیں اور اس کے سبب نزول میں کون کون سی صحیح روایتیں مروی ہیں ؟ جیسا کہ مثال کے طور پرانھوں نے سورہ آل عمران کی ابتداء میں بیان کیا ہے کہ مدینہ میں ۹ھ میں نجران سے ایک وفد آیا۔جس نے نبی ﷺسےمناظرہکیاتھا۔آپﷺنےانھیںمباھلہکیدعوتدی،لیکنانھوںنےاسسےانکارکردیاتھااورجزیہپراپنیرضاظاہرکی۔اسسےوہغیرمسلموںکواسلامکیدعوتکےوجوباوراسلامپرسابقہشریعتوںکےنسخپراستدلالکرتیہیں۔(۵)
دوم
وہ اپنی تفسیر میں ماثور پر اعتماد کرتی ہیں ۔چنانچہ تفسیر میں قرآن کی دیگر آیات ،اسی طرح صحیح احادیث، صحابہ تابعین اور علمائے اسلاف کے اقوال سے استدلال کرتی ہیں ۔مثال کے طور پر سورہ بقرہ کی ابتداء میں تقوی کی تشریح کرتے ہوئے وہ سورہ آل عمران کی آیت،حدیث نبوی اور حضرت عمرؓ، حضرت علیؓ ، اور حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کے اقوال پیش کرتی ہیں۔(۶)
سوم
زینب غزالی کے یہاں دیگر مفسرین کی تفاسیر سے استفادہ بھی ملتا ہے۔۔مثلا تفسیر ابن کثیر اور تفسیر قرطبی۔ اسی طرح جدید تفسیروں میں سید قطب کی تفسیر فی ظلال القرآن سے بھی انھوں نے کافی فئض اٹھایا ہے اور اپنی تفسیر میں جا بجا اس کے حوالے بھی دیے ہیں۔اسی لیے دعوتی اور ادبی پہلئوں سے دونوں میں یکسانیت ہے۔اسی طرح وہ بعض اوقات تفسیر رازی سے بھی استفادہ کرتی ہیں۔اس کے ساتھ ہی زینب غزالی نے اپنے زمانے کے مشایخ ازہر سے بھی استفادہ کیا ہے۔اور اپنی تفسیر میں ان کے حوالے بھی دیے ہیں۔(۷)
چہارم
حروف مقطعات کو زینب غزالی قرآن کریم کا عجاز بیان کرتی ہیںاور تقریب معنی کے لیے مثالیں دی ہیں اور تشبیہات بھی پیش کرتی ہیں۔چنانچہ انھوں نے حروف مقطعات کے سلسلہ میں علماء کے مختلف اقوال بیان کرنے کے بعد سید قطب کا قول قبول کیا ہے کہ یہ تحدی اور اعجاز کے لیے آئے ہیں۔چنانچہ ان کا ماننا ہے کہ اس سے اس بات کی طرف اشارہ ملتا ہے کہ یہ کتاب ایسے ہی حروف سے مرکب ہے جو عرب مخاطبین کی دست رس میں تھے۔اس میں ایسا ہی اعجاز ہے جیسا اللہ کی دیگر مخلوقات کے معاملے میں ہے۔مٹی مختلف ذرات کا مجموعہ ہوتی ہے۔ان سے لوگ کچی یا پکی اینٹ بناتے ہیں ۔لیکن اللہ تعالی نے ان سے انسانوں کو پیدا کیا ہے جو ایک زندہ مخلوق ہے۔اسی طرح قرآن حروف اور کلمات کا مجموعہ ہے۔انسان ان حروف اور کلمات سے اپنے کلام بناتے ہیں ۔اور اللہ تعالی نے ان سے قرآن اور فرقان بنایا ہے۔(۸)
پنجم
زینب غزالی نے عورتوں کے حقوق کے لیے بھی آواز بلند کی ہے اور اپنی تفسیر میں ان کے حقوق کا دفاع بھی کیا ہے۔اور غلط رسوم و روایات کو ترک کرنے کی دعوت دی ہے۔وہ کہتی ہیں کہ عورتوں کوقرآن میں مذکور ان کے شرعی حقوق ملنے چاہییں۔مثلا جس عورت کے شوہر کا انتقال ہو گیا ہو اس کی عدت قرآن نے چار ماہ دس دن بیان کی ہے۔لیکن حاملہ کی عدت وضع حمل ہے۔چنانچہ وہ لکھتی ہیں کہ اگر بیوی حاملہ ہو اور شوہر کی وفات کے چند دن بعد ہی اس کے یہاں ولادت ہو جائے۔تو اسے یہ حق ملنا چاہیے کہ اگر وہ چاہے تو اس کے فورا بعد اپنا دوسرا نکاح کر سکتی ہے۔ اور اس کے لیے جائز ہے کہ وہ غم و حزن کا لباس اتار کر زیب و زینت اختیار کرے۔جیسا کہ سورہ بقرہ کی آیت ۲۳۴ میں مذکور ہے۔ اس کے بعد وہ حضرت سبیعہ الاسلمیہ کے واقعہ سے استدلال کرتی ہیں۔جنھیں رسولﷺنےاجازت دی تھی کہ وضع حمل کے بعد دوسرا نکاح کر سکتی ہیں۔ آخر میں لکھتی ہیں کہ کوئی عورت چاہے تو سال دو سال یا عمر بھر صبر کرے۔ اور دوسرا نکاح نہ کرے۔لیکن ضابطہ یہ ہے کہ وہ وضع حمل کے بعد فورا دوسرا نکاح کر سکتی ہے۔اللہ اور اس کے رسول نے اس کی اجازت دی ہے۔(۹)
ششم
زینب غزالی کی تفسیر عام فہم اور سادہ ہے ۔انھوں نے اپنی تفسیر میںعام طور سے لغوی مسائل سے صرف نظر کیا ہے،فقہی اور مسلکی اختلافات سے بھی گریز کیا ہے۔ دعوتی پہلئوں پر خصوصی توجہ دی ہے۔احکام کے سلسلہ میں وہ عام معنی بیان کرنے پر اکتفا کرتی ہیں۔مثلا حافظوا علی الصلوات و الصلاۃالوسطی (البقرۃ:۲۳۸) کی تشریح کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ الصلاۃ الوسطی سے مراد کون سی نماز ہے؟اس سلسلہ میں مختلف اقوال ہیں ۔یہاں اختلافات کو بیان کر نے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔اللہ تعالی نے اسے متعین طور سے اس لیے نہیں بیان فرمایا،تاکہ مسلمان تمام نمازوں کی حفاظت کریں۔(۱۰)چنانچہ اسی طرح کا رویہ دیگر اختلافی مسائل میں بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔
ہفتم
وہ آیات قرآن کا سیاق بیان کرتی ہیں۔اور انھیں حالات حاضرہ سے جوڑتی ہیں۔مثلا آیین ربا کے بعد ایک آیت ہے وآتو الزکوۃ(البقرۃ:۲۷۷) اس کی تشریح میں لکھتی ہیں کہ سودی نظام اب عام ہو گیا ہے۔اور زکوۃ سے لوگوں نے دوری اختیار کر لی ہے۔گویا کہ یہ صرف انفرادی مسئلہ ہے۔اب زکوۃ کی ادائیگی صرف نیک لوگ ہی کرتے ہیں۔اعلانیہ بھی اور چھپ کر بھی ۔اس کے برعکس سودی نظام تیزی سے فروغ پارہا ہے۔(۱۱)
زینب غزالی کی تفسیر کا اصل رنگ دعوتی ہے۔وہ آیات کی تشریح و توضیح میں دعوتی پہلو کو نمایاں کرتی ہیں۔
قرآن کریم کے احکام و معنی کو موجودہ حالات سے مربوط کرتی ہیں۔تاکہ ان کے ذریعہ معاشرہ کے امراض کا علاج ہو سکے۔مثلا آیت اِنَّ اللّٰہَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَومٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوا مَا بِاَنفُسِھِم(الرعد:۱۱)کی تفسیر میں لکھتی ہیں۔امت مسلمہ سچائی کے ساتھ اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت پر عمل کر رہی تھی۔لیکن جب اس کا رویہ بدل گیا ۔وہ کتاب و سنت کے بغیر اپنے فیصلے کر نے لگی ۔اس نے کفار کی اتباع کی اور ان کی روش اختیار کی تو اللہ تعالی نے اسے ذلیل و خوار کر دیا۔اور اسے ایسا بنا دیا کہ وہ ذلت بھری غلامی کی زندگی گزارنے لگے۔اس نے اپنے معاملات دوسروں کے ہاتھ میں دے دیے۔اگر وہ توبہ کرتے،اپنے رب کی طرف رجوع کرتے،اس کے دین کو قائم کرتے اپنے آپ پر اعتماد کرتے،اللہ کی کتاب کو اپنے درمیان حکم بناتے اور اس کے رسول کی سنت کی پیروی کرتے تو اللہ انھیں ان کا کھویا ہوا وقار لوٹا دیتا اور ان کی عزت و شرف کی حفاظت کرتا۔(۱۲)
زینب غزالی اسلام کے عملی پہلئوں پر بہت زور دیتی ہیں۔چنانچہ وہ قرآن کی ان تعلیمات کو خوب نمایاں کرتی ہیں ،جو مسلم فرد،مسلم معاشرہ،اور مسلم امت کی تشکیل سے متعلق مذکور ہیں ۔مثلا ویقیمون الصلاۃ کی تشریح کرتے ہوئے ،،وہ نفس کی تربیت میں نماز کی اہمیت کو واضح کرتی ہیں۔لکھتی ہیں کہ : اقامت الصلاۃ کے معنی یہ ہے کہ مصلی تکبیر کہنے کے ساتھ ہی اپنے نفس اور دنیا سے خود کو الگ کر لے۔اور جو کچھ قرآن میں پڑھتا ہے اس ماحول میں رہنے لگے۔ اس کے رکوع و سجود قلب و روح کے خشوع و خضوع کے ساتھ ہوں۔یہاں تک کہ وہ اس درجہ تک پہنچ جائے کہ اللہ کو دیکھ رہا ہے۔ نماز سے نفس کی تربیت و تقویت حاصل ہوتی ہے۔ اس میں عزیمت پیدا ہوتی ہے۔بدن و روح دونوں کی طہارت ہوتی ہے۔حسی نظافت ترقی کرکے ذکر اور تسبیح و تہلیل کے ساتھ قلب کی طہارت تک پہنچ جاتی ہے۔(۱۳)
ایک مسلم خاندان کو عقیدہ اور اخلاق کے کس معیار پر فائز ہونا چاہیے، اس کی وضاحت کرتے ہوئے آیت ولا تنکحوا المشرکات (البقرہ: ۲۲۱)کی تشریح کے تحت لکھتی ہیں : کہ ایک مسلم کے لیے حرام ہے کہ وہ بتوں کی پرستش کرنے والے مشرکین سے نکاح کرے۔اس کا اطلاق مسلمان مرد اور مسلمان عورت دونوں پر ہوتا ہے۔اگرچہ مسلمان مرد کے لیے کتابیہ عورت سے نکاح جائز ہے۔لیکن مجھے تعجب ہے ایسے مسلمان مردوں پر جو دین کے دشمن پر اپنی عزیز ترین اولاد کے لیے بھروسہ ،مسلمان کتابیہ (یہودی یا عیسائی) عورت سے نکاح کرکے اپنی اولاد کو شدید فکری آزمائش سے دوچار کرتے ہیں ، جب وہ دیکھے گا کہ اس کی والدہ چرچ اور والد مسجد کا رخ کرتے ہیں۔(۱۴)
سماجی مسائل ،سماج میں پروردہ خرابیوں پر وہ افسردہ بھی دکھائی دیتی ہیں اور ان کی اصلاح کی طرف تفسیر کے ذریعہ رہ نمائی بھی کرتی ہیں۔زینب غزالی ان اسلامی فرائض کے احیاء کی طرف پر زور طریقے سے دعوت دیتی ہیں ، جو امت کے درمیان سے غائب ہو چکے ہیں ۔ مثلا آیت ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الکافرون (المائدہ: ۴۴) کے سلسلہ میں فرماتی ہیں : یہاں یہ آیت بنی اسرائیل کے سیاق میں ہے۔ یہاں ہمیں تھوڑی دیر رک کر سوچنا چاہیے کہ
بنی اسرائیل کیلیے اللہ تعالی نے جو احکام نازل کئے تھے ۔ ان پر عمل نہ کرنے کی صورت میں اللہ تعالی نے ان پر کفر کا حکم لگایا تھا۔ تو امت مسلمہ اگر ان احکام پر عمل نہیں کرے گی تو کیا اس کے بارے میں یہ حکم نہ ہوگا۔(۱۵)
اسی طرح آیت وقاتلوا فی سبیل اللہ الذین یقاتلون ولا تعتدوا ان اللہ یھب المعتدین (البقرۃ: ۱۹۰)کی تفسیر میں لکھتی ہیں کہ: اللہ تعالی نے واضح انداز میں فرمایا ہے کہ مسلمانوں کے جو حقوق ان کے دشمنوں کے ذریعہ غصب کیے جا رہے ہیں ۔ان کے دیار اور اموال کو غصب کیا جا رہا ہے ۔اس کا ازالہ صرف اس صورت میں ممکن ہے کہ ا للہ کی راہ میں جہاد کیا جائے اور ان تمام قوتوں کا مقابلہ کیا جائے جو اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ برائی کا ارادہ رکھتی ہیں ۔آج مسلمان دین کے معاملہ میں جس آزمائش میں مبتلاء ہیں ۔اور ان کے معاملات انتشار کا شکار ہیں۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ انھوں نے اس فریضہ کو ترک کر دیا ہے۔(۱۶)
زینب غزالی کے تفسیری منہج کی ایک جامع مثال یہ ہے کہ انھوں نے آیت مثل الذین ینفقون اموالھم فی سبیل اللہ کمثل حبۃ انبتت سبع سنابل فی کل سنبلۃ مئۃ حبۃ واللہ یضاعف لمن یشاء واللہ واسع علیم (البقرۃ:۲۶۱) میں لکھا ہے کہ:اس آیت سے لے کر سورہ کے اختتام تک جومضامین بیان کئے گئے ہیں ان کے درمیان ایک عمدہ ربط پایا جاتا ہے۔سب سے پہلے انفاق فی سبیل اللہ کا حکم دیا گیا ہے۔پھر سود سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے ۔پھر قرض کے لین دین اور اس سے متعلق معاملات مثلاگواہی، کتابت،رہن وغیرہ کا حکم دیا گیا ہے۔اس طرح قرآن واضح کرتا ہے کہ مال انسانی زندگی کا سہارا اور اس کی زینت ہے اور انسان کا اس سے بنیادی تعلق ہے۔اس لیے مال سے اس کے ربط کو اعتدال و توازن پر قائم کرنے کی ہدایت دی گئی ہیں۔(۱۷)
مصادرومراجع:
(۱) زینب غزالی کے حالات زندگی کی تفصیل جاننے کے لیے دیکھیے،ایام من حیاتی،زینب غزالی،اردو ترجمہ زنداں کے شب و روز ازخلیل احمد حامدی،نیو کریسنٹ پبلشنگ کمپنی،نئی دہلی،۲۰۰۹
(۲) مرجان عثمانی ،مصر کی بیٹی زینب غزالی،مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز،نئی دہلی،۲۰۱۶
(۳) زینب غزالی،نظرات فی کتاب اللہ ،دار الشروق،القاہرہ،۱۹۹۴،جلداول،مقدمہ،ص۱۱۔۱۲،ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی،زینب غزالی۔مفسرۂ قرآن،ماہ نامہ زندگیٔ نو،نئی دہلی،نومبر۲۰۱۳
(۴) زینب غزالی،نظرات فی کتاب اللہ ،جلد اول،دارالشروق،القاہرہ،۱۹۹۴
(۵) زینب غزالی،نظرات فی کتاب اللہ،ص۱۸۹۔۱۹۰
(۶) ایضاً،ص۲۰۔۲۱
(۷) ایضاً،ص۱۱۰،۱۷۱،۲۰۶،۳۰۹،۳۷۸،۴۶۱
(۸) ایضاً،ص۱۹۔۲۰
(۹) ایضاً،ص ۱۴۵۔۱۴۷
(۱۰) ایضاً،ص۱۴۵۔۱۴۷
(۱۱) ایضاً،ص۱۷۸
(۱۲) ایضاً،ص۲۸۴
(۱۳) ایضاً،ص۲۲
(۱۴) ایضاً،ص۱۳۳۔۱۳۴
(۱۵) ایضاً،ص ۳۸۱
(۱۶) ایضاً،ص ۱۱۴۔۱۱۵
(۱۷) ایضاً،ص۱۶۳

