Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
افسانہ کی تفہیم

قاضی عبدالستار کے افسانوں میں تہذیبی کشمکش کی عکاسی-محمد غالب نشتر

by adbimiras اگست 19, 2020
by adbimiras اگست 19, 2020 0 comment

قاضی عبدالستار کا شمار اردو فکشن کے معدودے چند تخلیق کاروں میں ہوتا ہے جن کی شناخت زبان وبیان کے ایک خاص طرز ادا کے باعث قائم ہے ۔ زبا ن وبیان کی وہ دل کشی جو قاری کے ذہن کو اپنی جانب کشید کرتی ہے ۔ ایک طرف تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ زبان فارسی آمیز ہے تو دوسری جانب دیہی زبان کا ایسا استعمال ہے کہ قاری عالم تحیر میں غوطہ زن ہوجا تا ہے اور رفتہ رفتہ ان کی نثر کا اسیر ہوجاتا ہے ۔ ناو ل وافسانہ دونوں اصناف پر ان کی شہرت مسلم ہے ۔ اردو ادب میں ایسا کم ہی ہوا ہے کہ کوئی فن کار مذکورہ دونوں اصناف پر یکساں قدرت رکھتا ہو۔ کیوں کہ افسانہ ، اختصار کا متقاضی ہوتا ہے اور ناول طوالت کا ۔ قاضی عبدالستار کا شمار معدودے چند تخلیق کاروں میں اسی باعث ہے کہ انہوں نے ناول وافسانہ ، دونوں اصناف میں یکساں مہارت کا ثبوت دیا ہے ۔ اگر ناولوں کا ذکر کیا جائے تو ’’ شب گزیدہ‘‘ (۱۹۶۲ء)،’’صلاح الدین ایوبی‘‘(۱۹۶۴ء) ،’’داراشکوہ‘‘(۱۹۶۸ء)، ’’غالب ‘‘(۱۹۸۶ء)اور ’’خالدبن ولید‘‘ (۱۹۹۵ء)وغیرہ کو کسی بھی طرح نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اور تاریخی ناول میں تو کوئی ان کا ثانی نہیں ۔ ناولوں کے حوالے سے قرۃ العین حیدر کا یہ قول ’’کہ شب گذیدہ سے بہتر ناول قاضی عبدالستار ہی لکھ سکتے ہیں۔ ‘‘  ممتاز شیریں کے بہ قول کہ ’’ داراشکوہ اردو کا پہلا ناول ہے جسے ہم دنیا کے بڑے ناولوں کے ساتھ رکھ سکتے ہیں ‘‘۔ اور احسن فاروقی کے اس خیال کوکہ ’’ قاضی عبدالستار کے ناولوں سے عالمی معیاروں کی بو آتی ہے ‘‘ جیسے آراکو یکسر فراموش نہیں کیا جا سکتا ۔

اردو ادب میں افسانہ اور صنف افسانہ کا ذکر خیر تو ’’ پیتل کا گھنٹہ ‘‘ ،’’ رضّو باجی‘‘ ، ’’مالکن ‘‘، ’’بھولے بسرے‘‘، ’’ سات سلام‘‘ او ر ’’غادرہ‘‘ وغیرہ کا شمار اردو ادب کے نمائندہ افسانوں میں ہوگا اور صنف افسانہ کے متعلق یہ قول کہ’’ افسانہ، چاول پر’’قل ہواللہ‘‘ لکھنے کا عمل ہے ‘‘یا’’ نثرپیغامبری ہے اور تخلیقی نثر پیغمبری ہے ‘‘ جیسے جملے ہمیشہ اپنی معنویت برقرار رکھیں گے۔

قاضی عبدالستار سیتاپور(اَودھ) کے ایک گاؤں مچھر یٹہ میں۹؍فروری ۱۹۳۳ء کو پیدا ہوئے۔ ۱۹۴۸ء میں ہائی اسکول،۱۹۵۰ء میں انٹرمیڈیٹ، ۱۹۵۳ء میں بی اے اور ۱۹۵۴ء میں ایم اے پاس کیا ۔ ۱۹۵۷ء میں مسلم یونی ورسٹی ، علی گڑھ سے رشید احمد صدیقی کے زیر نگرانی’’ اردو شاعری میں قنوطیت ‘‘pessimism in urdu poertyکے موضوع پر پی ایچ ڈی کی ڈگری لی۔ ۱۹۵۶ء میں شعبہء اردو، مسلم یونی ورسٹی ، علی گڑھ میں بہ حیثیت لکچرر تقرر ہوا اور ۱۹۹۳ء میں یہیں سے پروفیسر وصدر شعبہ ہونے کے بعد سبک دوش ہوئے۔ قاضی صاحب کو ادبی خدمات کے صلے میں بہت سے اعزازات سے سرفراز کیا گیا جن میں غالب ایوارڈ ۱۹۷۳ء ،پدم شری ۱۹۷۴ء ، عالمی ایوارڈ۱۹۸۷ء ، بہادر شاہ ظفر ایوارڈ ۲۰۰۲ء ، عالمی اردو ایوارڈ ، قطر ۲۰۰۵ء اور اقبال سمّان۲۰۰۶ء وغیرہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں ۔

قاضی صاحب کے افسانوں پر گفت گو سے قبل یہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ چند نکات کی طرف اشارہ کردیا جائے اور آزادی سے قبل کے ہندوستان کی منظر کشی کردی جائے کیوں کہ ہر فن کار کا اپنی مٹی سے گہراربط ہوتا ہے ۔ یہا ں قاضی صاحب سے متعلق دوتین غلط فہمیوں کا ازالہ بھی ضروری ہے ۔ اول یہ کہ کچھ حضرات ان پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ جب انہیں شاعری میں خاطر خواہ کام یابی نہیں ملی تب وہ نثر کی طرف راجع ہوئے ۔ دوم یہ کہ وہ ترقی پسند نظریات کی نفی کرتے ہیں اور سوم یہ کہ وہ پریم چند کی نقالی کرتے ہیں ۔

اس ضمن میں پہلا اعتراض تو بے معنی وبے بنیاد ہے ۔ کیوں کہ یہ اس عہد کی بات ہے جب وہ طالب علم تھے اور ہر ذہین طالب علم کی خواہش ہوتی ہے کہ لوگ اُسے جانیں ، اس کی پذیرائی ہو اور کسی بھی طرح اس کی شناخت قائم ہوجائے ۔ اس کے لیے وہ ہر صنف میں طبع آزمائی کرتا ہے اور جب صحیح راستے پر آتا ہے تو بقیہ اصناف کو ترک کرکے بس ایک کا ہو کررہ جاتا ہے تاکہ اپنی بات کو مؤثر انداز میں کہہ سکے ۔ یہ الگ بات ہے کہ قاضی صاحب نے ادبی زندگی کا آغاز شاعری سے کیا اور صہباؔتخلص اختیار کیا لیکن جلد ہی یہ خمار اترگیا اور نثر کی طرف راجع ہوئے اور انہوں نے نثر میں خوب نام بھی پیدا کیا ۔اردو میں اس حوالے سے کئی مثالیں موجود ہیں۔ دوسرے اعتراض میں اختلاف کی کچھ گنجائش ہے ۔ وہ اس لیے کہ ہر بڑافن کار کسی نظریے میں بندھ کراچھی تخلیقات پیش نہیں کرسکتا اور ہر فن کار کو یہ حق ہے کہ وہ کسی بھی نظریے پر اعتراض کرے ، اس کے اصول وضوابط کی پابندی نہ کرے اور آزادانہ طور پر فن پارہ تخلیق کرے ۔ قاضی عبدالستار بنیادی طور پر ترقی پسند ہیں ۔ انہوں نے افلاس زدہ اور مفلوک الحال اشخاص کو قریب سے دیکھا اور اپنے فن میں سمودیا لیکن بنیادی بات یہ ہے کہ ترقی پسند جس طبقے کی شدید طور پر مخالفت کرتے ہیں ، اسی طبقے سے قاضی صاحب کا تعلق ہے ۔ انہوں نے آزادی کے بعد جاگیر دارانہ نظام کو لٹتے، برباد ہوتے اور غربت کے جہنم میں جاتے ہوئے دیکھا ہے ۔ جس کا انہیں افسوس ہے اورفطری ہم دردی بھی ۔اسی طبقے کی عکاسی انہوں نے اپنے افسانوں میں کی ہے ۔ ایک لحاظ سے دیکھا جائے تو انہوں نے ترقی پسند نظریات کی توسیع کی ہے ۔

قاضی صاحب پرتیسرا اعتراض یہ ہے کہ انہوں نے پریم چند کی نقالی کی ہے ،جو بے بنیاد ہے ۔ اس کا جواب تو دوسرے ہی اعتراض پر دیا جاچکا ہے پھر بھی یہاں یہ بات وضاحت طلب ہے کہ دونوں افسانہ نگاروں کا کوئی موازنہ نہیں ہے ۔ یہ ضرورہے کہ پریم چند نے دیہی مسائل کی عکاسی کی ہے بل کہ انہوں نے اپنے آپ کو دیہی زندگی کی عکاسی کے لیے وقف کردیا تھا جب کہ قاضی صاحب کا دائرہ وسیع ہے ۔ دونوں کے اسلوب میں بھی نمایاں فرق ہے ۔ پریم چند نے دبے کچلے لوگوں کی حمایت کی ہے تو قاضی صاحب سراپا سرمایہ داروں کے علم بردار رہے ہیں ۔سرمایہ داروں کے ساتھ ان کا رویہ کسی حدتک درست بھی ہے ۔ جس کی بنیادی وجہ تو یہی ہوسکتی ہے کہ انہوں نے سرمایہ داروں کی شکست وریخت کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا ۔ انہوں نے ایسے زمین داروں کو بھی دیکھا جو دوپہر کے وقت کسی دولت مند کسان کے دروازے پر ، جن کوا نہوں نے ہی زمین دی تھی ، اس امید سے جاکر بیٹھ جایا کرتے تھے کہ جب وہ کھانا کھائے گا تو ان سے بھی پوچھ لے گا اور جب وہ پوچھتے تھے تو وہ پورا پیٹ بھر کر اس لیے کھالیا کرتے تھے کہ شاید رات کو کھانا نہ ملے ۔ انہوں نے ایسے زمین داروں کو بھی دیکھا تھا جن کی سالانہ آمدنی ایک لاکھ سے زائد تھی لیکن ان پر ایسا وقت بھی آیا کہ وہ گھر سے باہر نہیں نکلتے تھے صرف اس لیے کہ ان کے پاس اچھے کپڑے نہیں ہوتے تھے ۔ ان کے بدن پر صرف لنگی اور بنیائن ہوتی تھی۔ جب بھی کوئی کلکٹر اس تعلق دار کو دیکھنا چاہتا ، جس کا ڈنکا بجا کرتا تھا تو اس سے یہ کہہ کر صاحب کی طبیعت خراب ہے ، بہانہ کردیا جاتا تھا ۔ اگر وہ پھربھی نہیں مانتا اور دیکھنے کے لیے بہ ضدہوتا تو زمین دار صاحب کو لٹاکر ، ان کے جسم پر چادر ڈال دی جاتی تھی کہ مفلسی کا پردہ پڑا رہے ۔ انہی وجوہات کی بنا پر قاضی صاحب نے ان افراد کے قصے کو رقم کیا ہے اور یہ بات بلا تردد کہی جاسکتی ہے کہ اودھ کے جاگیر داروں کی ذبوں حالی کا نقشا جتنی خو ب صورتی اور فنی چابک دستی کے ساتھ قاضی عبدالستار نے کھینچا ہے کسی دوسرے ادیب نے نہیں ۔

آزادی کے بعد اردو فکشن کو بام عروج تک پہنچانے اور اعتبار دلانے میں قاضی عبدالستار کا نام کافی اہمیت کا حامل ہے ۔ ان کی زبان اور ان کا اسلوب انہیں دوسرے فن کاروں سے ممیز کراتا ہے ۔ ان کا ایک امتیاز یہ بھی ہے کہ انہوں نے اودھ کے جاگیردارانہ نظام وتہذیب کو اپنا موضوع خاص بنایا ہے ۔ اودھ کے سرمایہ داروں کے طرز معاشرت ، تقسیم کے بعد ان کی مٹتی ہوئی تہذیب اور زبوں حالی الغرض ایسے تمام نشانات جن سے ان کی شناخت تھی ، تمام زاویوں کو انہوں نے اپنے افسانوں کا موضوع بنایا ہے ۔

سر دست قاضی صاحب کے افسانوں کی درجہ بندی بھی کردی جائے تاکہ افسانوں کی تفہیم صحیح طور پر ہوسکے ۔ قاضی صاحب نے تین درجن کے قریب افسانے لکھے جو ہندوپاک موقررسائل وجرائد کی زینت بنے ہوئے ہیں ۔ انہی افسانوں میں منتخب اٹھائیس افسانوں کو ڈاکٹر محمد غیاث الدین نے ’’آئینہ ایام ‘‘ کے نام سے ۱۹۹۵ء میں ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس ، نئی دہلی سے نہایت اہتمام کے ساتھ شائع کیا۔

قاضی عبدالستار کے افسانوںکو تین ابواب میں تقسیم کرسکتے ہیں ۔ اول وہ افسانے جو انہوں نے شہری زندگی اور وہاں کی تہذیب کو بنیاد بناکر تحریر کیے ہیں یاجن افسانوں میں شہری زندگی کی چمک دمک، ریاکاری اور عیاری کا بازار گرم ہے ۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ان افسانوں کا ماحول تو شہری ہوتا ہے لیکن ایسے معصوم کردار بھی نظر آتے ہیں جو دیہی زندگی کے نمائندے ہوں ۔ ’’ماڈل ٹاؤن‘‘،’’کتابیں ‘‘، ’’سوچ‘‘ اور ’’تحریک‘‘ وغیرہ اسی قبیل کے افسانے ہیں ۔

دوسری قسم کے وہ افسانے ہیں جو انہوں نے تاریخی نوعیت کے لکھے ہیں اور جن میں تاریخ کے حقائق کی بازیافت ملتی ہے۔ تاریخ کے حوالے سے انہوں نے کئی عمدہ ناول بھی لکھے ہیں۔ ناول نگار عبدلحلیم شرر ؔکی روایت کو آگے بڑھانے والوں میں قاضی صاحب کا نام سب سے مقدم ہے ۔ اگر افسانے کی بات کریں تو ’’سات سلام‘‘ ’’نیاقانون‘‘ اور’’بھولے بسرے‘‘ وغیرہ جیسے افسانوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا ۔

قاضی صاحب کے ان افسانوں کا ذکر نہایت ضروری ہے جو انہیں ممتاز افسانہ نگاروں کی فہرست میں لاکھڑا کرتا ہے ۔ یہاں اشارہ اُن افسانوں کی جانب ہے جو دیہی مسائل کی عکاسی کرتے ہیں یاجن افسانوں میں دیہی مناظر کا بیان خوش اسلوبی سے بیش کیا گیا ہے اور گاؤں کے مکھیا ، سر پنچ اور سرمایہ داروں کے شان وشوکت اور بعد میں زوال آمادہ تہذیب کی بُو باس آتی ہے ۔ ایسے افسانوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے ۔’’پیتل کا گھنٹہ ‘‘، ’’ ٹھاکر دوارہ‘‘ ، ’’رضوباجی‘‘ ،’’مالکن ‘‘ اور’’ کھاکھا ‘‘ ایسے افسانے ہیں جو سرمایہ داروں کی زوال کے دال ہیں اور جہاں قصابی ودیہی زندگی کے مناظر کا بھی بیان ہے ۔ڈاکٹر محمد غیاث الدین اُن کی افسانہ نگاری پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

’’قاضی عبدالستار کے افسانوں کی سب سے بڑی خوبی اس کی Authenticityہے ۔ ان کی ہر کہانی کسی نہ کسی سچے واقعات پر مبنی ہوتی ہے ۔ انہوں نے جو کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اسی پر افسانہ لکھا ہے ۔ ان کا تعلق سیتاپور کے زمین دار گھرانے سے رہا ہے اس لیے زمین داروں کی زندگی کا تجربہ اور مشاہدہ انہوں نے بہت قریب سے کیا ہے ۔ ان کے زیادہ تر افسانوں میں ز مین داروں اور تعلق داروں کا کردار ہی بنیادی ہوتا ہے‘‘۔(1)

ڈاکٹر محمد غیاث الدین کے مندرجہ بالا بیانات سے مکمل طور اتفاق کیا جاسکتا ہے کہ انہوں نے اودھ کے زمین دار گھرانوں کا نقشا اپنے افسانوں میں کھینچا ہے ۔ اودھ کی دیہی زبان میں تو وہ ید طولی رکھتے ہیں ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ قاضی صاحب کو اودھ کی زبان وتہذیب سے بے حد لگاؤ اور مٹتی ہوئی تہذیب کا شدید غم ہے اور وہی کچھ ان کے افسانوں میں ظاہر ہوا ہے ۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ان کے چند نمائندہ افسانوں پر گفت گو کی جائے تاکہ حقیقت حال کی مکمل آگہی ہو سکے ۔

اس ضمن میں پہلا اہم افسانہ’’پیتل کا گھنٹہ‘‘ ہے ۔ یوں تو قاضی صاحب نے افسانہ نگاری کی ابتدا۱۹۴۶ء میں کردی تھی جب ان کا افسانہ ’’ اندھا‘‘ لکھنؤ کے جریدے ’’جواب ‘‘ میں شارب ردولوی کے ادارتی نوٹ کے ساتھ شائع ہوا تھا لیکن ان کو شہرت ’’ پیتل کے گھنٹہ ‘‘ سے ملی اور اس کا زمانہ ۱۹۶۴ء کا ہے ۔ یہ افسانہ تقسیم کے بعد زمین داروں پر نازل ہونے والی مصیبت کا نوحہ ہے ۔ یہاں راوی کا بیانیہ اس وقت شدت اختیار کر جاتا ہے جب وہ پیتل کے گھنٹے کا ذکر کرتا ہے۔ یہاں پیتل کا گھنٹہ مٹتی ہوئی تہذیب کی علامت ہے کہ سرمایہ داروں پروہ ہیبت ناک غریبی نازل ہوئی ہے کہ وہ مفلسی کی زندگی گذارنے پر مجبور ہیں لیکن جہاں مہمان نوازی کی بات آتی ہے تو ضیافت کا یہ عالم ہے کہ اپنی آخری نشانی بھی اس کے ہاتھ فروخت کرتے ہیں جو کبھی ان کا غلام ہوا کرتا تھا اور ان کے تلوے چاٹتا تھا ۔ گھر کے منظر سے یہ بات تو واضح ہورہی ہے کہ ان کی صورت حال دگر گوں ہے لیکن وضاحت اس وقت ہوتی ہے جب دادی اماں نے ایک بڑے سے پلیٹ میں دواُبلے ہوئے انڈے کاٹ کر پھیلادیے تھے ۔ اس مفلسی کے باوجودانہوں نے مہمان نوازی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور راوی کے بیان کے مطابق اُس نے آج تک اتنا نفیس کھانا نہیں کھایا تھا ۔ صبح کو رخصت کرنے وقت دادی کے جذبات ملاحظہ ہوں:

’’دادی نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے میرے بازو پر امام ضامن باندھا ، ان کے چہرے پر چونا پتاہوا تھا ۔ آنکھیں آنسوؤں سے چھلک رہی تھیں ۔ انہوں نے رندھی ہوئی آواز میں کہا۔’’یہ اکاون روپے تمہاری مٹھائی کے ہیں اور دس کرایے کے‘‘۔

’’ارے ……دادی…… آپ کیا کررہی ہیں؟ ‘‘اپنی جیب میں جاتے ہوئے روپیوں کو میں نے پکڑلیے۔

’’چپ رہو تم ……تمہاری دادی سے اچھے تو ایسے ویسے لوگ ہیں جو جس کا حق ہوتا ہے وہ دے تو دیتے ہیں ……غضب خدا کا تم زندگی میں پہلی بار میرے گھر آؤ، میں تم کو جوڑے کے نام پر ایک چٹ بھی نہ دے سکوں …… میں ……بھیا…… تیری دادی تو فقیرن ہوگئی …… بھکارن ہوگئی‘‘۔(2)

ان جملوں میںد ادی کے جذبات کو قاری اچھی طرح محسوس کرسکتا ہے ۔ راوی پر رازآ شکار اس وقت ہوتا ہے جب وہ بھسول سے سدھولی کے لیے تانگے پر سوار ہے اور شاہ جی بھی اس کے ساتھ سفر کرتے ہیں جو اِن دنوں ساہوکار ہیں اور ان کے ہاتھ میں پیتل کا وہی گھنٹہ ہے جس پر ’’ قاضی انعام حسین آف بھسول اسٹیٹ اودھ ‘‘ کندہ ہے اور راوی اس گھنٹے کو حیرت زدہ دیکھ رہا ہے ، شاہ جی راوی کو دیکھ رہے ہیں اور یکے والا ان دونوں کو دیکھ رہا ہے اور یہ سوال بھی پوچھ بیٹھتا ہے:

’’کاشاہ جی گھنٹہ بھی خرید لایو؟‘‘

’’ہاں کل شام معلوم نائی، کا وقت پڑا ہے میاں پر کہ گھنٹہ دے دیہن بلائے کے ایی۔‘‘

’’ہاںوقت وقت کی بات ہے ……شاہ جی ناہیں تو ایی گھنٹہ……‘‘  (3)

یہاںراوی کو اس بات کا شدیداحساس ہے۔ اسی لیے وہ خون کے گھونٹ پی کر رہ جاتا ہے اور ان کے باہم مکالمے میں کوئی دخل اندازی نہیں کرتا ۔

اس افسانے میں قاضی صاحب نے اودھ کے سرمایہ داروں کی پوری تہذیب لکھ دی ہے ۔ اس افسانے کے ہرہر لفظ ، ہر ہر جملے سے اس کی وضاحت ہوتی ہے ۔ اس کے علاوہ قاضی عبدالستار نے ترقی پسند تحریک کے نظریات کی بھی توسیع کی ہے ۔

اس تسلسل کا دوسرا افسانہ ’’ٹھاکر دوارہ‘‘ ہے ۔ اس افسانے میں براہ راست زمین داری کے ختم ہونے اور ساتھ ہی ایسے لوگوں کے ہاتھ میں اقتدار آنے کا نوحہ ہے جو اس کے حق دار ہیں ہی نہیں ۔ پتمبرپاسی جسے نہ جینے کا شعور ہے نہ مرنے کا سلیقہ اور ایسے حالات میں اس کی تقدیر بدل جائے تو اسے کیسے نیند آسکتی ہے۔ جو زندگی بھر پہرے داری کرتا آیا ہو اور عمر کے آخرپڑاؤ میں گاؤں کی پردھانی مل جائے تو اس کی ذہنی نفسیات کا کیا عالم ہوگا۔ اس کا اندازہ درج زیل اقتباس سے لگایا جاسکتا ہے جب وہ دریا پور کا پردھان چن لیا گیا ہے ۔ اس کے گھر کے باہر لوگ خوشی کے مارے بندوق چھوڑرہے ہیں اور گولے داغ رہے ہیں ۔ دالان پر پہرہ کھڑا ہوچکا ہے اور ہال کے پردوں سے آواز آتی ہے کہ پتمبر کو اندر بھیج دو۔ دونوں کے مابین گفت گو ملاحظہ ہو:

’’ ٹھاکر کے سامنے خالی گلاس اور بھری بوتل رکھی تھی۔

’’مبارک ہو!‘‘

’’سرکار!‘‘اس کے منھ سے اور کچھ نکلا ہی نہیں ۔

’’آج سے تمہاری پہرے داری موقوف ‘‘۔

’’سرکار!‘‘

’’پلنگ کا پہرے دار گاؤں کی پردھانتا نہیں کرسکتا ؟‘‘

’’سرکار !‘‘

’’اور تم پردھانتا چھوڑبھی نہیں سکتے کہ اگر ہم پراس سے براوقت آگیا تو کم ازکم ایک پردھان تو ہمارے ساتھ ہوگا‘‘۔(4)

یہ تھی اودھ کے زمین داروں کی صور ت حال ۔ ایک شخص جو صحیح طریقے سے بات کرنے پر قادر نہیں ہے، وہ آج ہمارے معاشرے کا نمائندہ ہے ۔ پتمبر پاسی کے رگ وپے میں لجاحت اور تکلف سرایت کیے ہوئے ہے اور یہ لحاجب اور تکلف رؤ ساسے قدرے مختلف ہے ۔ اس میں نہ تہذیب کا رکھ رکھاؤ ہے نہ زندگی گذارنے کا سلیقہ ۔ آزادی کے بعد یہی وہ اودھ ہے جس کی مٹتی تہذیب کا قاضی عبدالستار نے نقشا ہمارے سامنے بیان کردیا ہے ۔

تہذیبی رکھ رکھاؤ کے حوالے سے افسانہ ’’نیا قانون ‘‘ بھی کافی اہمیت کا حامل ہے ۔ اس افسانے میں زمین داروں کا تو نہیں البتہ زمین داروں کے سر براہ یعنی بادشاہوں کی زبوں حالی کا نوحہ ہے ۔ یہ افسانہ سیتاپور کا نہیں بل کہ لکھنؤ کی مٹتی ہوئی تہذیب اور وہاں کے نوابین کے قلع قمع ہونے کا تذکرہ ہے ۔ پہلی ناکام جنگ آزادی کے بعد پورے ہندوستان خصوصاً دہلی، رام پور اور لکھنؤ کی سلطنت کا جو حشر ہوا وہ کسی سے اوجھل نہیںہے ۔ قاضی صاحب کا یہ افسانہ بھی اسی زبوں حالی کا نوحہ ہے ۔ سلطنتیں مٹ جاتی ہیں ، ان کی تہذیب آہستہ آہستہ تاریخ کے دھند لکے میں گم ہوجاتی ہے لیکن اس  کے آثار تاریخ کے صفحات میں باقی رہتے ہیں ۔

قاضی صاحب کا نام ذہن پر آتے ہی کچھ افسانوں کے عنوان فوراً ذہن میں گردش کرنے لگتے ہیں ۔ انہی افسانوں میں ایک افسانہ ’’ مالکن‘‘ بھی ہے ۔ سابقہ افسانوں کی طرح یہ افسانہ بھی سرمایہ داروں کا مٹتی تہذیب کا نوحہ ہے ۔ ہندوستان تقسیم ہوچکا ہے ۔ میرمحمد علی بیگ انتقال فرماچکے ہیں اور ان کی بیوہ رونق پور کی ’’ مالکن ‘‘پرکسٹوڈین پر مصیبت نازل ہوچکی ہیں ۔ ان کی کوئی اولاد نرینہ نہیں ہے ۔ مالکن کا یہ حال ہے کہ مقدمے ان کے ساتھ جونک کی طرح چمٹ گئے ہیں اور خون کا ایک ایک قطرہ چوس رہے ہیں ۔ ان کے دور کے رشتے دار یہ خواہش بھی ظاہر کرتے ہیں کہ وہ ان لوگوں کے ساتھ پاکستان چلی جائیں لیکن ان کو اپنی عزت نفس اور غیریت کا اتنا پاس ہے کہ مالکن ان کے ساتھ جانے سے منع کردیتی ہیں ۔ ان کے گھر کاکھانے کا کچھ بھی نہیں ہے اور رام پرساد اپنی دکان سے سودسلف بھی بند کرددیتا ہے ۔ ایسے عالم میں مالکن چودھری گلاب سے ایک راز کی بات کرتی ہے ۔ اقتباس ملاحظہ ہو:

’’ہاں میں تم سے ایک بات کہنے والی تھی ‘‘۔

’’حکم !‘‘

’’یہاں رونق پورمیں…… کسی اور گاؤں میں کوئی ……۔ـــ‘‘

’’میں نے کہا سرکارمیں سمجھا نہیں ‘‘۔

’’کوئی کرتے پہنتاہے ‘‘۔

مالکن نے ایسی بھرائی ہوئی……چیخ مارتی ہوئی آواز میں کہا جیسے کوئی ماں اپنے اکلوتے بیٹے کی خبرسن کر پھٹ پڑی ہو۔ بوڑھا چودھری گلاب سوال کی تہہ تک پہنچ چکا تھا ۔

’’ہاں تم سے کیا چھپانا چودھری گلاب ۔ تم تو اس حویلی کے تنکے تنکے سے واقف ہو۔تم تو حویلی کی دائی گری کرچکے ہو اور دائی سے کیا پیٹ چرانا ۔ آدمی حق سب چلے گئے ۔ عورتیں اِدھر اُدھر ہوگئیں ۔ اتنے بڑے گھر میں اکیلی بیٹھی کوّے ہنکایا کرتی ہوں ۔ رات تو روتے گذرجاتی ہے مگر یہ پہاڑ ایسے دن چھاتی پر سوار رہتے ہیں ۔ ٹالے نہیں ٹلتے۔ کوئی کرتا اُرتا ہو تو سینے پرونے میں دل اٹک جاتا‘‘۔(5)

پردے کا یہ عالم ہے کہ مالکن نے اپنی مفلسی کا کہیں تذکرہ نہیں کیا اور چودھری گلاب کو یہاں تک تنبیہ کردی کہ میرا نام کسی سے نہ بتانا ۔ چودھری گلاب ، مالکن کا بہی خواہ ہے ۔ وہ ذکرتو یہ کرتا ہے کہ اس نے ٹھاکر گھنشیام کے گھر سے کرتے کا کپڑا لایا ہے لیکن اصل ماجرا کچھ اور ہی ہے ۔ چودھری ہی کپڑالے آتا ہے تاکہ مالکن کی مفلسی کا پردہ پڑا رہے ۔ اِدھر چودھری گلاب کو مالکن سے ہم دردی ہے تو اُدھر گھر والے چودھری گلاب پر شک کررہے ہیںکہ اس کا مالکن سے چکر ہے ۔ اسی لیے مالکن کے پیچھے دیوانہ ہوگیا ہے ۔اس غم کو برداشت نہ کرکے وہ چل بستا ہے اور مالکن کا اب کوئی بہی خواہ نہیں ہے ۔ اب وہ نوکرانی کو اس بات پر راضی کرلیتی ہے کہ جیت پور جاکر ٹھاکر گھنشیام سے کپڑے کے متعلق بات کرآئے کہ اچانک وہ خود ہی آجاتے ہیں اور مالکن ڈیوڑھی پر کھڑے ہوکر ٹھاکر سے کہہ رہی ہوتی ہے کہ ’’ اپنے کرتوں کی تنزیب تو آپ بھیجتے رہئے گا لیکن پہلے یہ میرے چاروں کرتے بکوادیجئے ‘‘۔

ایک ٹھاکر کے سامنے مالکن کے ان جملوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ حالات بدل چکے ہیں اور ایک شخص اپنی عزت اور شناخت برقرار رکھنے کے لیے اس طرح کے جتن کررہا ہے ورنہ قصہ یوں بھی تمام ہوجاتا کہ مالکن ان بکھیڑوں سے نجات پانے کے لیے خودکشی کی طرف مائل ہولیکن یہ ایک زمین دار کا شیوہ نہیں ہے اس لیے وہ عزت نفس کے لیے ہر کچھ کرنے کو تیار ہے ۔

اس ضمن میں آخری اور اہم افسانہ ’’رضو باجی ‘‘ ہے ۔ یوں تو اس افسانے کا نبیادی موضوع ایک لڑکی کی داخلی نفسیات ہے اور ایک زمین دار گھرانے کی شریف النفس لڑکی کی نفسیات کو بنیادی حوالہ بنایا گیا ہے لیکن اس کے پس پشت وہ عوامل بھی کار فرماہیں جو اسے بہانہ بازی کرنے پر اکسارہی ہیں ۔ افسانے میں رضو باجی پر کبھی جن سوار نہیں ہوتے البتہ انہوں نے اس کی تشہیراس لیے کردی ہے تاکہ گھروالے ان کی شادی ہر ایرے غیرے سے نہ کردے بل کہ اس میں رضو باجی کی مرضی بھی شامل ہو۔ ایک حسین لڑکی کے حسن کا تقاضا بھی یہی ہے کہ شوہر کے انتخاب میں اس کا بھی اختیار ہو۔ افسانے میں نفسیات کی ہلکی سی پرت کو محسوس کرتے ہوئے ممتاز مفتی کے ’’ آپا ‘‘ کی یاد شدت سے آتی ہے ۔ وہاں بھی صورت حال تقریبا ًیکساں ہے بس ماحول اور علاقے کا فرق ہے ۔

افسانہ کے آغاز میں سرمایہ دارانہ نظام کا موازنہ آج کے معاشرے سے کیا گیا ہے اور بیان کنندہ اس بات کی بھی توضیح کررہا ہے کہ سارنگ پورسے رضو باجی محرّم دیکھنے اس کے گاؤں آرہی ہیں اور وہ ان کے حسن کا شہرہ کئی برسوں سے سن چکا ہے ۔ رضو باجی کو دیکھ کر لوگوں کی تعریفیں ہیچ معلوم ہوتی ہیں اور رضو باجی کا چہر ہ اور بھی بھلا معلوم ہوتا ہے ۔ پہلی ہی ملاقات میں رضو باجی کو راوی(اجّن) بھی پسند آجاتا ہے اور دونوں ایک دوسرے کے ساتھ محرم دیکھنے جاتے ہیں اور ایک کنویں کے پاس کھڑے ہوجاتے ہیں ۔ اس دوران ان کی ملاقات کا ایک منظر ملاحظہ ہو:

’’انہوں نے میرے منھ پر ہاتھ رکھ دیا ۔ چادر اُن کے شانوں سے ڈھلک گئی ۔ گھٹی گھٹی آواز میں بڑے کرب سے بولیں‘‘۔

’’چلو یہاں سے بھاگ چلو‘‘۔

ان کا سر میرے شانے پر ڈھلک آیا اور میں نے سرخ بالوںکی ریشمی لپٹوں میں اپنے ہاتھ جلالیے جن کے داغ آج بھی جلد کے نیچے محفوظ ہیں ۔

’’محرم کی اس رات کے آخری حصے میں جو شخص اس کنویں سے اپنے دل کی ایک مراد مانگتا ہے وہ پوری ہوجاتی ہے‘‘۔

وہ مجھ کو مضبوطی سے پکڑے ہوئے تھیں اور میں اس دنیا میں تھا جو پہلی بار میرے حواس نے دریافت کی تھی ۔ آپ ذرا دیر کے لیے مجھے چھوڑدیجیے میں ایک دعا مانگ لوں……۔آج کے بعد پھر کبھی اس کنویں سے کوئی دعا نہ مانگوں گا۔‘‘(6)

اجّن کا رضو باجی کے سامنے کنویں پر دعا مانگنا باجی کے دل میں کھٹکا پیداکرتا ہے۔ اور وہ غلط فہمی میں مبتلا ہوجاتی ہیں اور یہی غلط فہمی انہیں تنہا رہنے پر مجبور کرتی ہے جس کا انکشاف افسانے کے آخر میں ہوتا ہے ۔

یہاں یہ بات وضاحت طلب ہے کہ قاضی عبدالستار کے اس نوع کے افسانے بکھرے پڑے ہیں جن میں سرمایہ دارانہ نظام کی زبوں حالی کاذکر بار بارآتاہے ۔ یہی ان کا اختصاص ہے کہ انہوں نے ان زمین داروں کی مٹتی تہذیب کو افسانوںکی شکل میں رقم کرکے محفوظ کردیا ہے ۔ ان کی زبان ایک خاص قسم کی ہے جن میںتبدیلی کرداروں کے بدلنے سے ہوتی رہتی ہے ۔ وہ تشبیہات کا استعمال خوب صورتی سے کرتے ہیں لیکن کبھی کبھی اس کا استعمال اتنی کثرت سے ہوتا ہے کہ قاری ان متون میں بوجھل پن کو صاف طور پر محسوس کرسکتا ہے ۔ آخر میں کلی طور پر یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ قاضی عبدالستار کی شناخت منفرد لب ولہجے کی بہ دولت قائم ہے ۔

 

حوالہ جات:

1۔ محمد غیاث الدین (مرتب) ۔’’آئینۂ ایام‘‘ ۔ ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس ، نئی دہلی۔1995ء صفحہ نمبر 12

2۔ قاضی عبدالستار۔ افسانہ ’’ پیتل کا گھنٹہ‘‘۔ مشمولہ’’آئینۂ ایام‘‘ ۔ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس ، نئی دہلی۔1995ء صفحہ نمبر55

3۔قاضی عبدالستار۔ افسانہ ’’ پیتل کا گھنٹہ‘‘ ۔مشمولہ ’’آئینۂ ایام ‘‘۔ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس ، نئی دہلی۔1995ء صفحہ نمبر56

4 ۔ قاضی عبدالستار ۔افسانہ’’ٹھاکردوارہ‘‘۔ مشمولہ ’’آئینۂ ایام ‘‘ ۔ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس ، نئی دہلی۔1995ء صفحہ نمبر25

5۔ قاضی عبدالستار ۔افسانہ ’’مالکن‘‘۔ مشمولہ ’’آئینۂ ایام ‘‘۔ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس ، نئی دہلی۔1995ء صفحہ نمبر102

6۔ قاضی عبدالستار ۔افسانہ ’’رضّوباجی‘‘۔ مشمولہ ’’آئینۂ ایام ‘‘۔ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس ، نئی دہلی۔1995ء صفحہ نمبر33

٭٭٭

بھولے بسرےپیتل کا گھنٹہرضّو باجیسات سلاممالکن
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
نئے افسانے میں موضوعاتی تنوع-محمد غالب نشتر
اگلی پوسٹ
غزل-کلیم عاجز

یہ بھی پڑھیں

آج کی اردو کہانی: زبان اور ساخت –...

فروری 2, 2026

شموئل احمد کا افسانہ ’’سنگھار دان‘‘ – طارق...

فروری 1, 2026

منٹو اور نیا افسانہ – پروفیسر شمیم حنفی

اکتوبر 11, 2025

عزیز احمد کی افسانہ نگاری! وارث علوی

اپریل 12, 2025

اکیسویں صدی کی افسانہ نگارخواتین اور عصری مسائل...

مارچ 21, 2025

ہمہ جہت افسانہ نگار: نسیم اشک – یوسف...

جنوری 15, 2025

ڈاکٹر رُوحی قاضی : ایک فراموش کردہ افسانہ...

نومبر 25, 2024

اکیسویں صدی کے افسانے – ڈاکٹر عظیم اللہ...

ستمبر 15, 2024

افسانہ ‘ عید گاہ’ اور ‘عید گاہ سے...

اگست 7, 2024

اندھیری آنکھوں کے سامنے سورج اُگانے والا افسانہ...

اگست 4, 2024

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں