Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      جون 6, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      سنت ابراہیمی کی حقیقی روح اور اس کا…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      آبِ زمزم کے طبی ، روحانی اور سائنسی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قربانی صرف رسم نہیں، اللہ کے حکم کی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      جون 6, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      سنت ابراہیمی کی حقیقی روح اور اس کا…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      آبِ زمزم کے طبی ، روحانی اور سائنسی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قربانی صرف رسم نہیں، اللہ کے حکم کی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
افسانہ کی تفہیم

علامتی اسلوب میں لپٹی مظہر الزماں خاں کی کہانیاں-محمد غالب نشتر

by adbimiras اگست 20, 2020
by adbimiras اگست 20, 2020 0 comment

ادبیات عالم کی تمام زبانوں کا بنیادی حوالہ سماجی حقائق کی نقاب کشائی سے وابستہ ہے۔سماج میں ہونے والے واقعات و سانحات کو جس طرح سے ادب میں بیان کیا جا سکتا ہے شایدہی دوسرے علوم کے شعبہ جات میں اس کے امکانات ہوں۔شعبۂ ادب میں فکشن کی دنیا اس معاملے میں زیادہ حسّاس ہے۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہ نثری صنف ہے اور بیانیے کا متقاضی بھی۔ فکشن کے میدان میں کسی بھی بات کو نہایت تفصیل سے بھی کہا جا سکتا ہے اور اختصار کے ساتھ بھی۔اگر کوئی واقعہ زیادہ تفصیل طلب ہو تو اُسے ناول کی شکل میں بیان کیا جائے گا لیکن کوئی واقعہ اختصار کا طالب ہو تو اُس کے لیے فن کار ’صنفِ افسانہ‘ کا سہارا لے گا۔اس صنف میں فن کار نہایت چابک دستی کے ساتھ اپنی بات کو بیان کرتا ہے تاکہ کسی کی دِل آزاری بھی نہ ہو اور وہ اپنی بات بہ آسانی کہہ بھی سکے۔سیاسی و سماجی حالات،معاشرتی طرزِ زندگی اور اقوام پر ہونے والے ظلم و ستم کو بیان کرنے کے لیے افسانہ نگار ’علامت ‘کا سہارا لیتا ہے۔یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ ادب میں علامات کا استعمال کوئی نئی چیز نہیں ہے۔فکشن کی دنیا کو بر طرف کریں تو اردو شاعری کے ابتدائی نقوش میں اس کی واضح مثالیں مل جائیں گی۔اس وصف سے کلام میں گہرائی و گیرائی بھی آتی ہے اور قاری تا دیر سوچنے پر مجبور ہوتا ہے۔کلاسیکی شعرا کے کلام میں یہ وصف زیادہ نمایاں ہے۔داستانوں اور ناولوں میں بھی ہمیں ایسے کردار ضرور مل جائیں گے جو اسمِ با مسمیٰ بھی ہوتے ہیں اور اپنے عہد یا طبقے کی نمائندگی کرتے نظر آئیں گے۔ علامت اُس عہد میں بھی سیاسی جبر کی پیداوار تھی اور یہ سلسلہ تا ہنوز بھی قائم ہے۔صنف ِ افسانہ سے متعلق بیش تر افسانہ نگاروں نے سیاسی جبر کے خلا ف علامات کو اپنے فن پاروں میں برتا ہے۔

اردو ادب میں بہت سے ایسے افسانہ نگار ہیں جنہوں نے علامات کو بروئے کا رلا کر اپنے فن پاروں کو گنجلک نہیں بنایا ہے بل کہ کثیر الجہات بنا دیا ہے جس کی واضح مثال ہمارے ہاں انتظار حسین ہیں۔انتظار حسین کے افسانوں اور ناولوں کا بنیادی حوالہ ہجرت،تقسیم کا کرب اور ماضی پرسی یعنی ناسٹیلجیا ہے لیکن ان حوالوں کو انہوں نے نئے زاویے سے دیکھنے کی کوشش کی ہے اور کام یاب بھی ہوئے ہیں۔انہوں نے قدیم دیو مالائی عناصر ،میتھا لوجی اور اساطیر کا استعمال کرکے علامت کو نئی جہت سے روشناس کرایا ہے۔ ان سے پہلے اس طرح کی علامات خال خال ہی نظر آتی ہیں۔ان نئی علامات نے انتظار حسین کو اردو افسانے کے حوالے سے نئی شناخت دی ہے ۔یوں تو انتظار حسین کے افسانے بعید از فہم نہیں ہیں۔انہوں نے جن علامات کا استعمال کیا ہے،اُسے ہم دیو مالائی عناصر ،تقسیم کے کرب اور ماضی پرستی کے حوالے سے تو سمجھ سکتے ہیں لیکن ساٹھ کے بعد علامت کے سیلاب نے بہت سے افسانہ نگاروں کو غرق کردیا۔اکثر افسانہ نگاروں نے مبہم ،فرسودہ اور غیر ضروری علائم کو اپنے افسانوں میں برتا ،نئے نئے تجربے کیے ۔جس کے نتیجے میں ان کا فن پاروں پر ابہام پسندی،اشکال پسندی اور اہمال پسندی کا لیبل چسپاں ہو گیا۔قارئین نے اُن کے فن پاروں کو پڑھنا بند کر دیا،ناقدین نے اُن کی طرف سے نظریں پھیر لیں اور نوبت یہاں تک آپہنچی کہ وہ تاریکی کے گہرے کنویں میں دفن ہوگئے۔

افسانے کی صنف میں علامت نگاروں کا ایک گروہ ایسا بھی ہے (بل کہ انہی فن کاروں کی اکثریت ہے) جو حقیقی دنیا سے ماورا ہوکر علامتوں کا استعمال کرتے ہیں۔وہ حقیقت پسندی،فطرت پسندی اور خارجی دنیا کو بروئے کار نہ لاکر داخلی زندگی اور اس کے کرب میں ڈوبنا پسند کرتے ہیں۔ایسے فن کار جب علامتوں کا استعمال کرتے ہیںتو اُن کے خیالات موہوم،الفاظ گنجلک اور معنی مبہم ہوجاتے ہیں اور اس طرح اُن کا فن پارہ قاری سے دوری اختیار کر لیتا ہے اور ترسیل و ابلاغ کی راہ میں مشکلات کا سبب بن جاتا ہے لیکن اس ضمن میں محمد مظہر الزماں خاں کا ذکر کریں تو اُن کے علامتی افسانے خارجی دنیا کا منظر نامہ پیش کرتے ہیں۔ایسا ہر گز نہیں ہے کہ انہوں نے داخلی زندگی یا فردیت کے کرب کو نہیں جھیلا ہے بل کہ اُن کے بیش تر افسانوں میں کردار انہی مسائل میں ڈوبتے ابھرتے رہتے ہیں اور خود کلامی کی کیفیت سے دوچار ہوتے ہیں لیکن بعد میں اپنا اصلی روپ ضرور اختیار کر لیتے ہیں اور اُن کا افسانہ مبہم اور گنجلک ہونے سے بچ نکلتا ہے اور یہی محمد مظہر الزماں خاں کا اختصاص ہے۔

محمد مظہر الزماں خاں کی افسانوی علامات پر قلم اٹھاتے ہوئے یہ بتا دینا ضروری ہے کہ ان کا شمار ستر کی دہائی کے معتبر افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے ۔اپنی چالیس سالہ افسانوی زندگی میں انہیں وہ شہرت نصیب ہوئی جس کے حصول کے لیے ہمارے اکثر فن کار دم توڑ دیتے ہیں لیکن شہرت انہیں نصیب نہیں ہوتی۔ اگر وہ شہرت نصیب ہوبھی جائے تو اس شہرت کی ریاکاری اس طرح سے پھسل کر اُن کو منہہ چڑھاتے ہوئے دور چلی جاتی ہے گویا وہ ان کے حصے میں کبھی رہی ہی نہ ہو۔اسی سبب کچھ لوگ اس طرح پاگل پن کا شکار ہوجاتے ہیں کہ انہیں خواہ مخواہ شہرت نصیب ہوگئی۔سستی شہرت کی مثال اس کے ماسوا ہے۔مظہر الزماں خاں کی شہرت کا سارا دار ومدار اُن کے جداگانہ اسلوب کے باعث قائم ہے جو انہی سے شروع ہوکر انہی پر ختم ہوتی ہے اور جس اسلوب پر آج تک قائم ہیں جس کی تازہ مثال’’ ناف کے اندر ‘‘کے آدھے درجن سے زائد وہ افسانے ہیں جو مختلف رسائل میں تسلسل سے شائع ہو ئے ہیں۔

مظہر الزماں خاں کی کہانیوں اور ناول کو پڑھ کر بینا قاری کی آنکھیں اور سر ڈوب جاتے ہیں کیوں کہ ان کی کہانیاں ڈوب کر ابھرنے کا تقاضا کرتی ہیں۔اُن میں افکار ،اذکار اور علائم کابڑاہجوم ہوتاہے۔ کہانیوں میں بڑی ہلچل ہوتی ہے بقول ڈاکٹر وزیر آغا ’’محمدمظہر الزماں خاں کی کہانیوں میں زمین سے آسمان تک علائم اور اشارے پھیلے ہوئے ہیں۔ ذہین قاری جب تک محمد مظہر الزماں خاں کی کہانیوں کو ٹھہر ٹھہر کر اور بار بار نہیں پڑھتا، ان کے علائم، اشارے، استعارے صاف نظر نہیں آتے اور وہ سربستہ راز جو اُن کی کہانیوں یا ناول میں موجود ہوتے ہیں ، کھلتے ہی نہیں۔ان کے افسانوی مجموعہ ’’شورہ پشتوں کی آماج گاہ‘‘میں ’’آسمان ‘‘کی رائے بھی کچھ اسی جانب اشارہ کرتی ہے۔وہ اپنی رائے میں اس بات کا اظہار کرتا ہے کہ ’’تمہاری کہانیاں میں پورے انہماک سے پڑھتا ہوں کہ تم لکھنے کے لیے اوپر سے اتارے گئے ہو۔ تمہاری تخلیقات میںاشارے ، علائم، اشیا، موسم، ماحول، حالات اور اسمات ، حاضر اور غائب، غائب اور حاضر کی صورت میں نمودار ہوتے ہیںکیوں کہ تمام کائناتیں اور اس میں آباد ساری چیزیں جیسے دکھائی دیتی ہیں، در اصل من وعن ویسی نہیں ہوتیں کہ ہر شے کے اندر کئی اسرار اور بے پناہ راز پوشیدہ ہوتے ہیں۔ چناںچہ تمہاری بیش تر کہانیاں رازوں اور بھیدوں سے بھرا بستہ ہیں کہ ان میں افکار ، مسائل اور معنی کاایک بڑا ہجوم ہے اور پھر یہ مجھ سے جڑی ہوئی بھی ہیں۔ لہٰذا میں تمہاری کہانیوں کاراوی بھی ہوں اور قاری بھی کہ ان کا تعلق مجھ سے بھی ہے‘‘۔

آسمان کی رائے کے بعد مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مظہر الزماں خاں کی چند افسانوں کا بہ غور تجزیہ کیا جائے تاکہ اُن کی علامات واضح ہو سکیں۔علامتی افسانوں کے ضمن میںمحمد مظہر الزماں کا افسانہ ’’گلدار‘‘شاہ کار کی حیثیت رکھتا ہے۔اس افسانے میں بیا نیہ ،اسلوب،کردار نگاری،پلاٹ،مکالمے اور ماحول کی تصویر کشی،زندگی سے اخذ کردہ ہے۔افسانے میں بہ ظاہر دو کردار نمایاں طور پر محوِ گفت گو ہیں لیکن اس کے عقب میں پورا معاشرہ سرگرم عمل ہے۔پورے معاشرے میں وہی کیفیت طاری ہے جو دونوں دوستوں کے ما بین گفت گو ہو رہی ہے۔دونوں دوست ایک طویل عرصے کے بعد ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔میزبان دوست،مسافر دوست سے اتنے دنوں تک ملاقات نہ ہونے کا سبب دریافت کرتا ہے تو مسافر دوست وقت،سفر اور زمین کے متعلق فلسفیانہ نقطہ نظر ظاہر کرتا ہے۔وہ کہتا ہے:

’’دنیا نے اپنا پاؤں ،ہمارے پاؤں پر رکھ دیا تھا اور جب اُس نے اپنا پاؤں ہمارے پاؤں سے اٹھا لیا تو حالات بد ل گئے کہ دنیا جب بھی اپنا پاؤں کسی کے پاؤں پر رکھ دیتی ہے،وہ زمین ہو جاتا ہے اور جب اٹھا لیتی ہے تو وہ آسمان ہو جاتا ہے کہ یہی اس کی تاریخ ہے،یہی اس کی فطرت اور یہی اس کا مزاج ہے‘‘۔

گفت گو کے دوران ہی مہمان دوست کی نظر چیتے پر جا ٹکتی ہے جو اُس کی طرف غور سے دیکھ رہا اور غرّا رہا ہوتا ہے۔یہ صورتِ حال دیکھ کر سعید بن سعد کی حالت غیر ہو جاتی ہے،وہ کانپنے لگتا ہے اور اپنے میز بان دوست سے ملتجی ہوتا ہے کہ برائے مہربانی اس چیتے کو یہاں سے دور رکھو لیکن میزبان دوست مسکراتے ہوئے تسلی دیتا ہے کہ ڈرو نہیں میرے دوست!یہ ہمارے گھر کا محافظ ہے۔یہ تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا کیوں کہ ہم نے بڑے جی جان سے اس کی پرورش کی ہے اور ہم اس کی ہر بات کا خیال رکھتے ہیں۔

اس افسانے میں ’’چیتا‘‘استعارہ کے طور پر استعمال ہوا ہے جو عرب ممالک کی حفاظت کر رہا ہے اور عربوں نے اپنی سر زمین پر فرنگیوں کو آزادانہ طور پر گھومنے پھرنے کی سہولت دے رکھی ہے اور انہیں فوج میں داخل کیا ہے الغرض تمام معاملات میں اُن سے مشورہ بھی کرتے ہیں۔اگر چیتے کی خصوصیات کی طرف نظر ڈالی جائے تو متن کے مفاہیم اور زیادہ واضح ہوجائیں گے۔

۱۔چیتا پورے گھر میں آزاد اور بے فکری سے گھوم رہاہے۔

۲۔وہ پالتو ہے اور قربت اتنی ہوچکی ہے کہ گھر کا فرد بن چکا ہے۔

۳۔چیتاکسی کو نقصان نہیں پہنچاتا جب کہ اس کے وجود کا ہونا ہی خطرے کی نشانی ہے۔اس بات کا عربوں کو احساس تک نہیں ہے۔

۴۔وہ مخلص ہے۔

۵۔وہ گلے میں کسی بھی زنجیر کو برداشت نہیں کرتا بلکہ اسے غلامی تصور کرتا ہے۔

۶۔چیتاگوشت بہت کھاتا ہے۔

مندرجہ بالا خصائص سے چیتے کی علامت کو سمجھنے میں دشواری نہیں ہوتی بلکہ آج کی صورت حال کی عکاسی بہتر طور پر ہوتی ہے۔استعاراتی پرتوں کو چاک کیا جائے تو یہ افسانہ مشرق وسطیٰ اور افریقہ کی سیاسی افواج کی رسّہ کشی ،سرمایہ دارانہ قوتوں کا استحصال ،اسرائیل اور صہیونی قوتوں کی مکاریاں ،روس کے زوال ،ترقی پذیر ممالک کی مجبوریاں الغرض تمام ممالک کی صورت ِ حال کو اجاگر کرتا ہے۔اس کے علاوہ افسانے کے کئی مفاہیم نکالے جا سکتے ہیں۔محمد مظہر الزماںخاں نے اس افسانے میں تہہ داری پیدا کرنے کے لیے جو حکایتی اسلوب اختیار کیا ہے اُس کے اندر معنویت کی کئی لہریں ایک کے پیچھے ڈوڑتی ہیں۔پروفیسر قاضی افضال حسین ’’چیتے ‘‘ معنویت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:

’’افسانے کا عنوان’’گلدار‘‘ میں زیر سطح ایک اقداری فیصلہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ چیتے کو گلدار اِس لیے بھی کہتے ہیں کہ اس کی جلد پر ایک خاص طرح کے گل بنے ہوتے ہیں ۔یہی صورتِ حال جزام کے مرض کی بھی ہوتی ہے کہ جلد پر جگہ جگہ ’گل‘ پڑ جاتے ہیں۔تو گویا عرب ملکوں میں امریکے کا عمل دخل ایک مکروہ صورتِ حال ہے اور اس خطۂ ارض کے سڑنے گلنے کی طرف اشارہ کرتی ہے‘‘۔

علامت نگاری کے ضمن میں ہی ایک افسانہ ’’سوانح حیات‘‘ ہے۔افسانہ ’’گلدار ‘‘میں توافسانہ نگار نے عرب ممالک کی سادہ لوحی اور فرنگیوں کی عیّاری کو پیش کیا ہے لیکن اس افسانے میں انہوں نے مسلمانوں کے ماضی کو کریدا ہے اور انہی واقعات کے سہارے اُن کے سوانح حیات کو آج کے تنا ظر میں دیکھنے کی سعی کی ہے۔محمد مظہر الزماں خاں کا یہ افسانہ دراصل مسلمانوں کی سوانح حیات ہے اور اونٹنی کو بہ طورِ استعارہ پیش کیا ہے۔جس کی وضاحت کرداروں کے مابین گفت گو سے ہوتی ہے۔اس کہانی کا ایک کردار یوں کہتا ہے:

’’یہ اونٹنی ہماری علامت ہے۔ہماری نشانی اور اس کے معصوم بچے ہم ہیںکہ وہ ہماری کہانی ہے یا ہم اس کی کہانی ہیں اور دونوں کہانیاں چل رہی ہیں۔اس راستے پر جو معلوم اور نا معلوم کے بیچ ایک دکھائی نہ دینے والی بنی ہوئی ہے۔چناں چہ ہم سب اس سے بے خبر اونٹنی کی طرح راستے میں ہیں اور راستا ،راستے پر نہیں ہے تاہم چل رہے ہیں،بس چل رہے ہیںکہ چراغ کہیں نہیں ہیں‘‘۔

اس کہانی میں اونٹنی کو قطعاً احساس نہیں ہے کہ اس کا انجام کیا ہونے والا ہے۔ بالآخر مذبح میں اونٹنی کا پیٹ کھول دیا جاتا ہے تو اس کے اندر سے اونٹنی کا ایک بچہ بر آمد ہوتا ہے اور پھر وہ بچہ باہر آکر اپنی ماں کے خون میں لت پت پیٹ کو حیرت واستعجاب سے دیکھنے لگتا ہے۔وہ بچہ دراصل نئی نسل کی بشارت ہے۔اب اس کے ساتھ بھی وہی ہوگا جو اس کی ماں کے ساتھ ہوا اور یہ سلسلہ تا قیامت چلتا رہے گا،مسلمانوں کو یوں ہی نست و نابود کرنے کی کوشش کی جائے گی لیکن اس کا وارث اپنے آبا واجداد سے زیادہ متحرّک ثابت ہوگا۔عرب ممالک میں چوں کہ اونٹ کو اہمیت حاصل ہے اِسی لیے اونٹنی کو بہ طورِ علامت استعمال کیا گیا ہے اور یہ ’’اونٹنی‘‘ پورے امّتِ مسلمہ کی علامت بن جاتی ہے جو اپنے انجام سے غافل ہے۔

اس تسلسل میں محمد مظہر الزماں خاں کا ایک اور افسانہ ’’سفاری پارک ‘‘ ہے۔اس افسانے کے شروع میں یہ دکھایا گیا ہے کہ ایک شیشے کا گھر ہے جس میں ایک ہی قوم کے لوگ سفر کر رہے ہیں ۔اُن کی قوم تو ایک ہے لیکن نسلیں الگ الگ ہیں جو مختلف لباس ،مختلف رنگ اور مختلف اصول و نظریات کے حامل ہیں اور ان کا بنیادی نقطۂ نظر ایک ہے۔وہ خوش و خرم اپنے سفر پر گامزن ہیں کہ اُن کا گذر ایک خطر ناک جنگل سے ہوتا ہے اور شیشے کا بنا ہوا گھر اچانک درندوں کے نرغے میں جا پھنستا ہے اور اس چلتے پھرتے شیشے کے گھر کے مکیں ،غراتے ہوئے درندوں کو حیرت و خوف کی ملی جلی کیفیت دیکھ دیکھ کر سہم رہے ہیں ۔درندوں کا یہ عالم ہے کہ وہ شیشے کے گھر پر اپنے پنجے مار رہے ہیں۔اندر بیٹھے بوڑھے مرد،بوڑھی عورتیں،جوان عورتیں،بالغ لڑکیاں اور معصوم بچے بلک بلک کر رو رہے ہیں جب کہ شیشے کا گھر چلانے والا ڈرائیور انہیں اطمینان دلا رہا ہے اور ’’خوف‘‘ سے متعلق نہایت معقول باتیں کہہ رہا ہے۔اس کے بہ قول:

’’آپ خوف نہ کھائیے کہ خوف ،نسلوں اور قوموں کی نیند حرام کر دیتا ہے کہ خوف ،بیج کو کونپل بننے نہیں دیتا کہ خوف ،بچّوں کو ٹھٹھرا دیتا ہے کہ خوف،زمینوں کو بیدار نہیں ہونے دیتا کہ خوف سے دلوں پر رات آکر ٹھہر جاتی ہے کہ خوف،صریرِ خامہ کی روشنی پی جاتا ہے کہ خوف،درختوں پر پھل پیدا ہونے نہیں دیتا کہ خوف،ہتھیلیوں سے دستکیں نکال لیتا ہے کہ خوف،پستانوں میں دودھ کو خشک کر دیتا ہے کہ خوف،مرغانِ سحر سے اذان چھین لیتا ہے کہ خوف،مَردوں کو نا مرد بنا دیتا ہے۔اس لیے خوف نہ کھاؤ کہ خوف ،مجاہدین کی دہلیزوں پر اپنا ماتھا رگڑتا ہے‘‘۔

اس فصیح و بلیغ تقریر کے بعد بھی وہ خوف زدہ ہیں اور بوڑھے شیر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’وہ دیکھو شیر،جس کے گلے میں بڑے بڑے موتیوں کی مالا ہے اور بھوری آنکھوں والا چیتا دیکھ دیکھ کر ایسے غرا رہے ہیں کہ اُن کے ہر دانت میں ایک لہو لہان رات پھنسی ہوئی ہے جو صبح ہونے نہیں دیتی‘‘۔اس گاڑی میں سوار لوگوں کو یہ احساس ہو گیا ہے کہ وہ آج لقمۂ اجل بن جائیں گے کیوں کہ خوف ،اُن کے دلوں میں ،ان کے دماغ میں الغرض ہر ہر عضو میں سرایت کر چکا ہے۔اس بات کا احساس اُس ڈرائیور کو بھی ہے جو انہیں دلاسے دے رہا ہے۔جب جب بھی وہ اس طرح کے دلاسے دیتا ہے تو فوراًیہ آواز دوسری جانب سے اٹھتی ہے کہ ’’بلاؤ ! اُن محافظوں کو جنہوں نے ہمارے تحفظ کا یقین دلایا تھا ‘‘۔اُن کی خواہش سن کر وہ کہنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ میں بھی تمہاری طرح مجبور اور بے بس ہوں اور ہمارے شیشے کے یہ گھر بیچ جنگل میں آکر ٹھہر گیا ہے اور ساتھ ہی ساتھ یہ دلاسا بھی دیتا ہے کہ چپ چاپ وقت کا انتظار کرو کہ کوئی نہ کوئی آنکھ والا ضرور آئے گا لیکن دلاسا تو دلاسا ہی ہوتا ہے،اس کا حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا لہٰذا انجام ظاہر ہے کہ شیشے کے مکیں کے بر خلاف ہی ہوتا ہے۔

محمد مظہر الزماں خاں کے افسانہ ’’سوانح حیات ‘‘ کی طرح اس افسانے کا موضوع بھی ۱۸۵۷ء سے اب تک جاری مسلمانوں کی زبوں حالی ہے لیکن اس افسانے کا دائرہ سابقہ افسانے سے زیادہ وسیع ہے۔یہ کہانی ملکی مسائل کے ساتھ غیر ممالک مسائل کی طرف توجہ دلاتی ہے جیسا کہ افسانے کے متن سے ظاہر ہے۔اس افسانے میں ۱۸۵۷ء سے لے کر ۱۹۴۷ء تک اور اُس سے بھی آگے یعنی سویت یونین کے خاتمے سے آگے آج تک ہونے والے تمام واقعات و حادثات کو موضوع بنایا گیا ہے۔اس ضمن میں اگر افسانے میں علائم کو حذف کر دیا جائے تو کہانی کا اسقاط ہوجائے گا۔افسانے میں ’’شیشے کا گھر‘‘مسلمانوں کی بستیوں اور اُن کے ممالک کی طرف اشارہ کرتا ہے اور شیر ،جس کے گلے میں بڑے بڑے منکوں کی مالا ہے،یہ شیو سینا کے صدر کی طرف اشارہ ہے اور جو شیشے کے گھر کی کھڑکیوں پر با ر بار پنجے مار رہا ہے وہ بھوری آنکھوں والا چیتا امریکی صدر بُش ہے اور شیشے کے اندر مختلف عمر،مختلف لباس اور مختلف رنگ کے لوگ پھنسے ہوئے ہیں وہ نہ صرف ہند وپاک کے مسلمان ہیں بل کہ عراق،بغداد،فلسطین وغیرہ کے بھی مسلمان ہیں جن رنگت تو مختلف ہے لیکن عقائد کے اعتبار سے وہ ایک ہیں۔

کہانی کی ابتدا میں افسانہ نگار نے اس بات کی توضیح کی ہے کہ انہوں نے یہ کہانی ۱۸۵۷ء میں شروع کیا تھا پھر کئی سال کے وقفے کے بعد ۱۹۴۷ء سے دوبارہ لکھنا شروع کیا ۔اس لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ سلسلہ تا ہنوز جاری ہے ۔یہ تسلسل کا افسانہ ہے جو اب تک جاری ہے۔اسی بات کو سکندر احمد نے نہایت موزوں طریقے سے کہی ہے۔ان کے بہ قول:

’’میرے خیال سے کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔۱۸۵۷ء سے ۱۹۴۷ء اور اس سے آگے بڑھتی ہوئی اور اب ۲۰۰۶ء ہے۔۔۔۔۔لمحۂ موجود۔۔۔۔۔ یہ تو تسلسل کا افسانہ ہے یعنی اب تک جاری ہے۔علامت و تجرید ایسا ہی شخص استعمال کرتا ہے جو ذہنی طور پر ماحول کو محسوس کرتا ہے،وقت اور حالات کو عمیق نگاہوں سے دیکھتا ہے اور مظہر الزماں نے کہانی’’سفاری پارک‘‘میں دیڑھ سو سالہ تاریخ کو پرکھا ،محسوس کیا،دیکھا ہے اور دکھا رہے ہیں‘‘۔

محمد مظہر الزماں خاں نے زمین اور اس سے جڑے مسائل کی کہانیاں نہایت چابک دستی سے پیش کی ہیں۔معاشی ،معاشرتی ،سیاسی الغرض تمام مسائل کا احاطہ اُن کے افسانوں کا خاصہ ہے۔اس ضمن میں ان کا افسانہ’’دستاویز‘‘ ہے جو موجودہ دور کے عدالتی نظام پر گہرا طنز ہے۔ایسا نظام جو بہ ظاہر صحیح سالم نظر آئے لیکن اس کا باطن کھوکھلا ہو اور اس کے قول وفعل میں تضاد ہو۔عدالت ،منصف،کٹہرا جیسے اصطلا حات کا نام سنتے ہی ذہن پر اچھا تأثر قائم ہوتا ہے ساتھ ہی اس بات کی وضاحت بھی ہوتی ہے کہ یہ تمام اصطلاحات اسم با مسمیٰ ہیں لیکن جب ہم اُن کے باطن میں جھانکنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہمیں مایوسی کے سوا کوئی اور چیز ہاتھ نہیں آتی بل کہ ان تمام اصول و ضوابط سے نفرت سی ہوجاتی ہے اور انسان اُن سے پناہ مانگنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

اس افسانے میں عدالت میں ہونے والے جرائم کی طرف اشارہ ہے۔جرائم کی طرف اشارہ کے لیے افسانہ نگار کو ’’عدالت‘‘ سے بہتر جگہ نظر نہیں آتی ہے۔وہ اس لیے کہ ہر شخص وہاں محض انصاف کے لیے رجوع کرتاہے اور اس کے دل میں اس مقدس جگہ کے لیے عزت بھی ہوتی ہے لیکن جب وہ اس سے نبرد آزما ہوتا ہے تو اُسے حد درجہ مایوسی ہوتی ہے ۔اب اسی شخص کے لیے وہ جگہ قابلِ نفریں بن جاتی ہے۔اس افسانے میں عدالت کے کٹہرے میں چپ چاپ کھڑا مجرم ایک ایسا بے رحم ظالم ہے جس کی مثال پوری زمین پر نہیں ملتی جب کہ اس کا وکیل اپنے مجرم کو بے گناہ ثابت کرنے کی حتیٰ الامکان کوشش کرتا ہے لیکن ہتھیار پر اُسی کی انگلیوں کے نشان ہیں لہٰذا اُسے اپنی صفائی میں کہنے کے لیے کچھ باقی نہیں رہتا ۔مجرم اپنی آخری بات کہہ کر عدالت میں ہلچل مچا دیتا ہے۔وہ بار بار یہی اصرار کرتا ہے کہ اس نے یہ قتل نہیں کیا ہے اور وہ بے قصور ہے۔وہ اپنی صفائی میں بس یہی کہتا ہے:

’’یور آنر! آج ہم سبھوں کے ہاتھ ایک جیسے ہی ہوچکے ہیں اور اگر میری بات پر یقین نہ آئے سب سے پہلے وکیل سرکاری کی انگلیوں کے فنگر پرنٹ نکال کر دیکھی جائیں اور میرا دعویٰ ہے کہ اس قتل میں وکیل سرکاری بھی شامل ہیں‘‘۔

قاتل کی آخری خواہش پوری کرتے ہوئے جب وکیل سرکاری کے فنگر پرنٹ نکالے جاتے ہیں تو اُ ن ہتھیاروں پر آنے والے سرکاری وکیل کی انگلیوں کے نشانات بھی ہوٗ بہ ہوٗ قاتل کی انگلیوں کے نشانات جیسے ہوتے ہیں ۔اس طرح عدالت میں موجود تمام لوگوں حتیٰ کہ مجسٹریٹ کی انگلیوں کے نشانات بھی اس سے میل کھاتے ہیں اور مقدمہ نیا موڑ اختیار کر لیتا ہے۔ساتھ ہی چمگادڑوں کے شور سے پورے عدالت میں کھل بَلی مچ جاتی ہے اور کٹہرا خود بہ خود پھیل جاتا ہے حتیٰ کہ مجسٹریٹ یہ حکم نامہ صادر فرماتا ہے کہ ’’ان ہتھیاروں کو پھانسی دی جائے جن کی کوئی زبان نہیں جانتا اور حقیقی معنوں میں مجرم ہیں اور اگر انہیں پھانسی نہ دی گئی تو یہ ہتھیار ایک دن پوری زمین کو قتل کر دیں گے‘‘۔

اس افسانے میں ’’چمگادڑ‘‘پوری نسل انسانی کی علامت ہے جو انصاف کی متقاضی ہے۔صحیح حکم نامہ صادر نہ ہونے پر اُن چمگادڑوں کی آوازیں سر اٹھانے لگتی ہیں ،جن آوازوں سے صرفِ نظر کرنا محال ہے۔اس کہانی میں افسانہ نگار نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ عہد موجودہ میں ہر شخص کسی نہ کسی جرم میں مبتلا ہے تاہم لوگوں کے فنگر پرنٹس ایک جیسے ہیں لہٰذا انصاف کرنے کا حق کسی کو حاصل نہیں ہے ۔میانوالی میں مقیم موجودہ عہد کے فن کارمحمد حامد سراج نے اس کہانی کو بیس ویں صدی کی سب سے بڑی کہانی کہا ہے۔

مندرجہ بالا افسانوں کی روشنی میں یہ بات بلا تأمل کہی جاسکتی ہے کہ مظہر الزماں خاں نے غیر دانستہ طور پر علامتوں اور استعاروں کا استعمال نہیں کیا ہے بل کہ اُن متون میں معنی کی تہیں پوشیدہ ہوتی ہیں۔قاری جب ان تہوں تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے تو نئے نئے امکانات روشن ہونے لگتے ہیں ۔قاری اس مقام پر پہنچ کر عالم ِ اسرار کی سیر کرنے لگتا ہے تب کہانی معما نہ بن کر حقیقت کا روپ اختیار کر لیتی ہے۔ایک ایسی حقیقت جس کا ظہور ہماری زندگی میں ہوتارہتا ہے اور وہ تمام مسائل جو فن کار نے بیان کیے ہوتے ہیں ،اُس کے اپنے لگنے لگتے ہیں اور قاری اس حصار سے باہر نہیں نکلتا۔ان کا فکشن داستان،اسطور،اشارے و علائم کا ایسا منتھن ہے جس میں روشنی کے مختلف شیڈس اپنے چہروں کے ساتھ نظر آتے ہیں جیسے پرچھائیاں اور صورتیں ایک دوسرے میں مدغم ہو گئی ہوں۔اُن کی کہانیوں میں فردِ واحد کا اظہار نہیں ہوتا بل کہ اجتماعی انسانوں کا کرب ،ان کی زندگی کا چہرہ اور اس کے احساس کا سفر نظر آتا ہے مثلاًان کی کہانی ــ’’ہاراہواپرندہ‘‘ کاتھیم ایک بھٹکے ہوئے آدمی کی کہانی ہےلیکن اس کاکردار نہ صرف بھٹکا ہوا آدمی ہےبلکہ ہمارےعہد کا نمائندہ بھی ہےجو ہمارے عہد میں اپنی اصل کو یعنی ذات کو حاصل کرنے کے لیے جنگل میں گھوم رہا ہے۔یہاں جنگل پورے عہد کا استعارہ ہے اور وہ شخص جو خودی کو حاصل کرنا چاہتا ہے،مسلسل اس راستے کی تلاش میں لگا ہوا ہے جو آدمی کی اصل بنیاد ہے لیکن عصر ِحاضر جو ایک جنگل میں تبدیل ہو گیا ہے،اسے اپنے میں ضم کرلینا چاہتا ہے لیکن اُس کے اندر بیٹھا ہوا روشنی کا وہ چھلکا (جو آدمی کے اندر اصل ہے) اس وقت تک جنگل کو نہیں قبو ل کرتا جب تک کہ وہ روشنی باقی ہے۔یعنی اس کہانی کا کردار ایک ایسا کردار ہے جو دور ِحاضر کی تیز و تند آندھیوں میں مسلسل چراغ جلانے کی کوشش کرتا ہے لیکن ہر مرتبہ ہار جاتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ اس کے اندر کی روشنی معدوم ہونے لگتی ہے۔آخرکار اس کا احساس یعنی اس کی ذات کا حاصل تاریکی کو قبول کرنے کا عادی بن جاتا ہے اور پھر جب اس کی آنکھیں،جنگل اور اس کی تاریکی کو قبول کر لیتی ہیں تو اندر کا حباب سیاہ ہو جاتا ہے اور روشنی سے ڈرنے لگتا ہے۔چناں چہ ایک لمبے عرصے کے بعد جب پوری طرح جنگل کو وہ اپنا لیتا ہے تو روشنی کو دیکھتے ہی جنگل کا حصہ بن جاتا ہے۔ اس کہانی میں کئی اوراستعارے و علائم موجود ہیں جن تک رسائی قرأت کے بعدہی ممکن ہوتی ہے۔

فسادات کے حوالے سے اردو ادب کی مختلف اصناف میں وافر ذخیرہ موجود ہے اور اکثر فن کاروں نے اِس حوالے سے ادب تخلیق کیا ہے ۔یہ بات الگ ہے کہ اکثروں کی تحریروں میں یکسانیت پائی جاتی ہے لیکن محمد مظہر الزماں خاں کی کہانی ’’دن ‘‘ کا موضوع فسادات پر لکھے جانے والے افسانوں سے بالکل مختلف ہے۔آزادی کے بعد سے ہمارے ملک میں ان گنت فسادات ہوئے ہیں اور ان بے شمار فسادات میں کئی معصوم اور بے گناہ جانیں تلف ہوچکی ہیں۔اس کہانی میں یہ بتایا گیا ہے کہ ایک شخص اپنے گھر میں بیٹھا ہوا مسلسل روئے جا رہا ہے اور اس گھر کی تمام چیزیں بکھری پڑی ہیں۔اس کے رونے کی آواز سن کر لوگ اُسے آآکر دیکھتے ہیں اورکسی بھی ہم دردی کا اظہار کیے بغیر چپ چاپ چلے جاتے ہیں کیوں کہ سبھوں کے اندر ایک خوف چھپا بیٹھا ہے اور وہ اپنی اپنی زبانوں کوکھولنے سے گھبرا تے ہیں کہ پتا نہیں ان کی زبان سے کیا نکل جائے اور نکلنے والی آواز کہاں کہاں تک پہنچ جائے۔چناں چہ وہ اسے دیکھتے ہیں اور پھر اپنی کلائیوں پر لپٹے ہوئے وقت پر نظر ڈالتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔

اس کہانی میں شہتیر پر بیٹھا ہوا ایک بچھّو جو شہتیر پر مسلسل ڈنک مار رہا ہے وہ حالات،ماحول،علاقہ اورگھر کے خطے کا استعارہ ہے جو مسلسل ڈنک مارنے سے یہ ثابت کر رہا ہے کہ اس فرد کے سارے افراد ڈنک کا نشانہ بن چکے ہیں۔اس کہانی میں بہت سے اشارے اور علائم موجود ہیں مثلاً کاغذ کی کشتی جو پرنالے کے نیچے رکھی ہے،جگنوؤں اور بلبلوں کے بچوّں کے نچے ہوئے پَر ،کنویں کی منڈیروں پر لکھی ہوئی باتیں ،بکھرے ہوئے برتن،بے ترتیب بستر،گزری ہوئی طوفانی ہوائیں،درختوں کے بکھرے ہوئے پتّے،یہ سب اشارے ان علاقوں کے ہیں جہاں جہاں ظلم ہوا ہے مثلاًبھاگل پور،جمشید پور،احمد آ با د ، پنجا ب ، گجر ا ت ، حیدرآباد، افغانستان،عراق وغیرہ۔آدمی جب مجبور ہوجاتا ہے اور اس میں مدافعت کی قوت باقی نہیں رہتی اور وہ انتقام کی قوت نہیں رکھتا تو اس کے اندر انتقام اور بدلے کا جذبہ ایک دوسری شکل میں ظاہر ہوتا ہے اور اس شکل کو ظاہر کرنے کے لیے مختلف حرکتیں کرنے لگتا ہے اور وقتی طور پر کچھ حد تک مطمئن ہو جاتا ہے یا دہشت پسند بن جاتا ہے۔’’دن‘‘ بھی ایسے ہی ایک شخص کی کہانی ہے جس نے اس کے گھر کو برباد کیا ہے وہ رو رو کر اپنی بھڑاس نکال رہا ہے(گھر کی علامت مکاں کی طرف اشارہ ہے) اور جب رونے کے بعد بھی اس کی بھڑاس نہیں نکلتی تو ایک تیز دھار چاقو لے کر جنگل کی طرف نکل جاتا ہے اور ان انکھؤوں(کونپل) کو نکال نکال کر پھینکنا شروع کر دیتا ہے اور اپنے تیٔں یہ سمجھتا ہے کہ جنہوں نے اس کی زندگی اور گھر کو تباہ کیا ہے وہ ان کی نسل کو برباد کر رہا ہے چناں چہ وہ تقریباً تمام کو نپلیں نکال کر پھینک دیتا ہے۔یہی کہانی’’دن‘‘ کا موضوع ہے جو نہ صرف ایک فرد کی تباہی کا حال بیان کرتی ہے بل کہ کرّہ ارض پر ہونے والی ہر تباہی کی طرف اشارہ بھی کرتی ہے کہ کم زوروں پر جہاں جہاں ظلم ہوتا ہے وہاں وہاں مختلف صورتوں میں انتقام کا جذبہ بھی پیدا ہوتا ہے۔کہیں شدت پسندی کا اظہار ہوتا ہے تو کہیں اندر ہی اندر انتقام لینے کا جذبہ تیزابی بارش کی طرح گرنے لگتا ہے یعنی جب ظلم کی آندھی چلتی ہے اور خونِ ناحق بہتا ہے اس وقت بغاوت ہوتی ہے،تب جاکر باغی پیدا ہوتا ہے۔چناں چہ محمد مظہرالزماں خاںکی کہانی بہت سے نئے سوالات قائم کرتی ہے۔انہی خصائص کو مدِّ نظر رکھتے ہوے شمس الرحمن فاروقی نے نہا یت موزوں بات کہی ہے:

’’محمد مظہرالزماں خاں نے افسانے میں نئے پن کو اضطراری طور پر نہیں اوڑھا ہے بل کہ اُن کا نیا پن داخلی تقاضوں اور مروجہ اسا لیب سے سنجیدہ بے اطمینانی کے باعث ہے‘‘۔

اس کے علاوہ ان کی کہانیوں میں مذہبی حسّیت اور زیریں لہریں جب تیزی سے بہنے لگتی ہیں تو سطحِ آب پر ان کی صورتیں ایسی نظر آتی ہیں جیسے شفاف پانی کے اندر رکھے ہوئے مختلف قسم کے آئینے۔محمد مظہر الزماں خاں کی کہانیوں کے علائم اور استعاروں کے اندر ایک نئی دنیا آباد ہے۔قاری ،مطالعہ کے بعد نئے مفاہیم سے آشنا ہوتا ہے اور جوں جوں اس کا ذوق بالیدہ ہوتا جاتا ہے،اس کی تفہیم میں وسعت آتی رہتی ہے اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ انہی علائم کے سمندر میں غوطہ زن ہو جاتا ہے۔یہ صورتِ حال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب متن میں دِل چسپی اور تسلسل قائم رہے اور قاری افسانہ ختم کرکے ہی دَم لے۔یہ فنّی خوبیاں بہت کم ہی افسانہ نگاروں کے حصے میں آئی ہے۔محمد مظہر الزماں خاں ان خوش نصیب فن کاروں میں ہیں۔اُن کی زبان اور اسلوب میں اعتدال ہے جس سے قاری کا ذہن نہیں بھٹکتا۔اس ضمن کی ایک کہانی ’’چیونٹی‘‘ ہے جو در اصل انسانی جبلت اور ایذا رسانی کی ایسی کہانی ہے جو اپنے اندر کے آدمی کو باہر نکال کر پوری زمین پر پھیل جاتی ہے۔یہ افسانہ صیغۂ واحد متکلم میں ہے۔اس افسانے کے کردار ’’میں ‘‘ کے ساتھ یہ پریشانی ہے کہ اسے رات میں نیند نہیں آتی اور گذشتہ ایام کی طرح آج رات بھی اس کی آنکھ کھل چکی ہے۔معاً اس کا ذہن مذبح کی طرف منتقل ہو جاتا ہے اور ساتھ ہی اس پڑوسی پر بھی جو روز صبح ایک مرغ پر چاقو پھیرتا ہے۔ان خیالات کے آتے ہی اس کے اندر یہ وہم پنپنے لگتا ہے کہ اس رات کی تنہائی میں یہی باتیں اس کے ذہن میں کیوں آئیں؟ اس کے بعد وہ وہسکی کا پیگ لگا کر سونے کی ناکام کوشش کرتا ہے ۔یکایک اس کی نظر مکھی اور مکڑی پر ایک ساتھ پڑتی ہے جو ایک دوسرے کے ساتھ عیاّری کر رہے ہیں لیکن انسان ،جو اشرف المخلوقات ہے کہ اس سے بڑھ کر کوئی عیار نہیں، اپنی بر تری ثابت کرنے کے لیے دونوں کی عیاری کو کام یاب ہونے نہیں دیتا ہے اور دونوں کو الگ کر کے ہی دم لیتا ہے۔اس کے بعد بھی جب اسے نیند نہیں آتی تو پڑوسی کی دیوار پر پیشاب کرنے کے لیے نکل کھڑا ہوتا ہے کہ اس کی نظر مکان نمبر ۲۸ کی طرف اٹھ جاتی ہے جو روز کی طرح آج بھی اپنی بیوی کے لیے گاہک فراہم کرنے میں کام یاب ہو چکا ہے۔اس منظر کو دیکھ کر اس کے اندر کا انسان جاگ اٹھتا ہے اور مکان نمبر ۲۸ اور اجنبی کی طرف تھوکتا ہے جو اسی کے بدن پر آگرتا ہے۔اسی عالم میں وہ کمرے میں داخل ہوکر وہسکی کا پورا گلاس انڈیل کر سونے کی ناکام کوشش کرتا ہے مگر اس کی نگاہ چیونٹیوں کے قافلے پر جاکر ٹھہر جاتی ہے جو قطار در قطار ریل کی شکل میں چلی جارہی ہیں۔وہ بستر سے اٹھتا ہے اور ایک چیونٹی کو پکڑ کر اپنی ہتھیلی کی پشت پر رکھ کر کٹواتا ہے جس سے اسے ذہنی آسودگی حاصل ہوتی ہے ،وہ اس چیونٹی کو مسل دیتا ہے اور نیند کی آغوش میں چلا جاتا ہے۔

اس افسانے میں چیونٹی در اصل Black Humour   ہے۔متکلم ،خود اپنی اذیّت دہند گی کا مذاق اڑاتا ہے بل کہ پورے کرہ ارض پر پھیلے ہوئے صفات کا،جو اس کے اندر دونوں ’’روشنی اور تاریکی ‘‘شکلوں میں موجود ہے،بیان کرتا ہے۔اس طرح وہ پورے معاشرے پر طنز کرتا ہے جو افسانے میں غیر معمولی کیفیت پیدا کرتا ہے۔افسانہ ’’ہارا ہوا پرندہ ‘‘میں ایک ایسے فرد کی کہانی بیان کی گئی ہے جو اجتماعیت کی نمائندگی کرتا ہے اور وہ ایک ایسے جنگل میں بھٹک چکا ہے جو خاردار بھی ہے اور پُر اسرار بھی۔جنگل کے چرند،پرند،درخت اور دوسرے اشیا اُسے اپنے اندر جذب کرنے کی نا کام کوشش کررہے ہیں اور اس سے کہہ رہی ہیں کہ آؤ! ہم میں شریک ہوجاو ٔ کہ ہم سب یہیں کے مکیں ہیں،ہمارے اعضا اندھیرے سے مانوس ہو چکے ہیں۔اب یہاں سے فرا ر ہونا محض ایک وہم ہے کیوں کہ تمام راستے مسدود ہو چکے ہیں،روشنی مرچکی ہے اور چاروں سمتوں میں جنگل اگا دیے گئے ہیں،اس سے خلاصی نا ممکن ہے کہ یہی ہمارا نصب العین بن چکے ہیں۔چپ چاپ اپنے آپ کو ہمارے حوالے کردو کیوں کہ تمہاری ساری مساعی لا حاصل ہے لیکن وہ یہ کہ کر ان کی دعوت کو مسترد کر دیتا ہے کہ ہم کسی بھی قیمت پر اس جنگل کے عادی نہیں ہو سکتے کہ یہاں کے تمام درخت ہزاروں امراض میں مبتلا ہیں اور یہاں کی زمین کے دانت پیدا ہوگئے ہیں جو لمحہ لمحہ میرے تلوؤں کو کتر رہے ہیں۔لیکن اس کی زندگی میں ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب اُسے جنگل کی ہر شے سے انسیت ہونے لگتی ہے اور وہ اُسی جنگل کا حصہ بن جاتا ہے۔

اصل میں یہ کہانی صوفیوں کے نظریے سے اخذ کردہ ہے۔ان کا یہ قول کہ انسان کی بنیاد میں ایک چراغ ہوتا ہے جسے علم کہتے ہیں۔اس علم کی وجہ سے وہ صحیح و غلط، مثبت و منفی اور اندھیرے و اجالے کی تمیز کر سکتا ہے۔فرد،کرہّ ارض میں پھیلے اشرف المخلوقات کا نمائندہ ہے اور کرہّ ارض،صوفیوں کی نظر میں ایک خاردار جنگل ہے۔اس فرد کے اندر جو دھوپ کا چھلکا ہے،وہ بار بار اکساتا ہے کہ اندھیرے جنگل سے فرار ہوجا۔یہی انسان کی بنیاد کا چراغ ہے۔تاہم وہ مسلسل جنگل میں بھٹکتا رہتا ہے اور آہستہ آہستہ جنگل اور اندھیرے دونوں کا عادی ہو جاتا ہے۔یہی انسان کی فطرت ہے۔لیکن جب وہ اصل کو بھول جاتا ہے تو روشنی کے بہ جائے ابلیسی مزاج کو اپنا نے لگتا ہے اور اندھیرا اسے اپنے اندر شامل کر لیتا ہے۔’’ہارا ہوا پرندہ‘‘اسی اجتماعی کرب پر مشتمل کہانی ہے۔

محمد مظہر الزماں خاں کے مندرجہ بالا افسانوں میں علامتی پیرے کی نشان دہی کی گئی ہے جب کہ محمد مظہرالزماں کے اوربھی قابل ذکرافسانے ایسے ہیں جن میں علامتی نظام شدّومدکے ساتھ ظاہرہواہے۔ اس کی ایک توجیہہ یہ ہوسکتی ہے کہ انہوں نے جس عہدمیں افسانہ نویسی کی ابتداکی اس عہدمیں علامات واستعارات کااستعمال کرناناگزیرتھاحتیٰ کہ بہت سے افسانہ نگارایسے بھی تھے جنہوں نے بلاضرورت اصطلاحات کااستعمال کیااورنتیجہ کیاہوا،اس کا نتیجہ سب کو معلوم ہے ۔جب کہ مظہرالزماں خاں کامعاملہ دوسرے فن کاروں سے قدرے مختلف ہے ۔انہوں نے اندھیرے میں تیرنہیں چلائی ہے بلکہ سمجھ بوجھ کران علائم کااستعمال کیاہے اوریہی وجہ ہے کہ ان افسانوں میں گہرائی اورگیرائی دونوں موجود ہیں اور اُن میں معنی کی تہیں پوشیدہ ہیں۔ان کے یہاں موضوعات ومسائل کااژدحام ہے۔ وہ زمین اس سے جڑے مسائل پرکہانیاں لکھتے ہیں۔انہوں نے زمین میں رونما ہونے والے واقعات وحادثات کواتنی چابک دستی سے فن پارے میں سمودیا ہے کہ قاری سوچ کی اتھاہ گہرائیوں میں اترتا چلا جاتاہے اور اِس طرح ان کاافسانہ آفاقی ہوجاتاہے ۔انہی وجوہات کی بنا پر یہ بات بلاتردد کہی جاسکتی ہے کہ محمد مظہرالزماں خاں آفاقی اور اپنے طرز کا آخری کہانی کار ہے۔

٭٭٭

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں۔
استعارےعلامتغالب نشترمظہر
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
نظم ’سراب‘کا تجزیاتی مطالعہ-عائشہ پروین
اگلی پوسٹ
اختر اورینوی کی افسانہ نگاری-شاہ نواز فیاض

یہ بھی پڑھیں

منو بھنڈاری: ہندی افسانوی ادب کامقبول ترین کردار...

مئی 26, 2026

بیدی کا فن – پروفیسر محمد حسن

مئی 15, 2026

آج کی اردو کہانی: زبان اور ساخت –...

فروری 2, 2026

شموئل احمد کا افسانہ ’’سنگھار دان‘‘ – طارق...

فروری 1, 2026

منٹو اور نیا افسانہ – پروفیسر شمیم حنفی

اکتوبر 11, 2025

عزیز احمد کی افسانہ نگاری! وارث علوی

اپریل 12, 2025

اکیسویں صدی کی افسانہ نگارخواتین اور عصری مسائل...

مارچ 21, 2025

ہمہ جہت افسانہ نگار: نسیم اشک – یوسف...

جنوری 15, 2025

ڈاکٹر رُوحی قاضی : ایک فراموش کردہ افسانہ...

نومبر 25, 2024

اکیسویں صدی کے افسانے – ڈاکٹر عظیم اللہ...

ستمبر 15, 2024

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (186)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (120)
  • تخلیقی ادب (596)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (20)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,049)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (537)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (219)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (407)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (218)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (25)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (478)
  • گوشہ خواتین و اطفال (100)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,135)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (34)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں