نظم’سراب‘۱۹۵۳میں عمیر ثاقب نے لکھی تھی۔یہ نظم کل اٹھارہ مصرعوں پر مشتمل ہے۔جسے موضوع کے اعتبار سے کم و بیش چار چار مصرعوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔نظم میں شاعر کے جذبات کی ترجمانی کے ساتھ ساتھ اس دور کے حالات اور اس سے وابستہ لوگوں کے خیالات کا اظہار ملتا ہے۔ نہ آیا دور عوامی نہ جا سکی شاہی
ملی تو کیا ملی انساں کو،صرف گمراہی
پرانی قدروں کو چھوڑا سمجھ کے فرسودہ
ملمع سازیٔ تہذیب کا ہوا ہے گرویدہ
پہلے بند میں شاعر ایک شکایتی لہجہ میں گویا ہوتا ہے کہ آزادی کے اتنے برسوںبعد بھی آزادی کا وہ دور نہیں آیا جس کی دلوں کو آرزو تھی۔آزادی سے قبل عوام کے دل ایک جوش اور امنگ سے بھرے تھے۔اور ایک امید تھی کہ آزادی کے بعد وطن کا نقشہ بدل جائے گا اور وہ دور آئے گا جس میں عوام کا راج ہوگا۔لیکن صد ا فسوس کہ آج تک عوام کے دلوں میںیہ خواہشات پنہاں ہیں۔آزادی کے اڑسٹھ (۶۸)سال پورے ہو چکے ہیں ،حالات میں تبدیلی آچکی ہے۔لوگ پرانی قدروں کو فرسودہ سمجھ کر نئی سمت میںاپنی بقا کا راستہ تلاش کر رہے ہیں،لیکن وہ اس میں بھی تو کامیاب نہیں ہیں بلکہ اپنی پرانی قدروں کو گنوا چکے ہیں ۔اور اگر یوں کہا جائے کہ وہ گمراہی میں مبتلا ہو چکے ہیں تو بے جا نہ ہوگا۔کیونکہ گمراہی عام طور پر سود مند نہیں گھاٹے کا سودا ہوتی ہے۔
مشین برق و بخارات و جوہری طاقت
کھلے ہیں عقل پہ کیا کیا نہ عقدۂ فطرت
تلاشِ عشرتِ فانی میں عقل ہے حیراں
سکون ِ روح کا کچھ بھی نہ کر سکی ساماں
طلسمِ علت و معلول میں الجھ گیا انساں
ان تمام کے باجود دوسرا بند شاعر انسان کی ذہنی وسعتوں اور سربلندی سے متعلق پیش کرتا ہے۔انسانوں نے جنگلوں اور غاروں میں زندگی بسر کرنے سے اب تک کن کن رموز کو جانا ہے ،کیسی کیسی گرہیں کھولی ہیں ۔ انسانی عقل نے نئی طاقتیں ایجاد کیں،جن سے ہر کام میں آسانی پیدا ہو گئی ہے ۔یہ نئی توانائی برق و بخار ات(vapour)اور جوہری توانائی (atomic energy)ہے۔جس سے ممالک اپنے دفاع(defence)کا سامان کرتے ہیں ۔توانائی کا استعمال نہ صرف اعلیٰ پیمانے پر انسان کا مدد گار ہے بلکہ ہم روز مرہ زندگی میں ہر قدم پر اس کے مرہون منت ہیں ۔انسان اتنی ترقی کے باوجود کتنے ہی ایسے فطری عقیدے ہیں جنہیں اب تک حل نہیں کر سکا ہے۔ایک طرح سے یہ طنزیہ مصرعہ بھی کہا سکتا ہے، کہ انسان مشینی چیزوں میں اتنا غرق ہے کہ وہ روحانی سکون سے محروم ہو گیا ہے۔انسان کی یہی تیز رفتاری اور مشینی زندگی اسے زندگی کا حظ حاصل کرنے نہیں دیتی ۔اور انسان ہے کہ دن رات ان خوشیوں کی جستجو میں میں پریشان و حیران رہتا ہے جو دراصل فانی ہیں ۔انہی خواہشات میں انسان آج اتنا مستغرق ہو چکا ہے کہ وہ روحانی تسکین کی طرف توجہ نہیں دیتا ، جب کہ وہ جن خوشیوں کے تعاقب میں بھاگ رہا ہے وہ سکونِ روح ہے ،جس کے لیے آج تک وہ کچھ نہیں کر سکا ہے۔نہ ہی کوئی ایسا آلہ بنانے میں کامیاب ہو سکا ہے جو انسان کو تسکین دے ۔وہ محض وجوہات واسباب کی تلاش میں الجھا ہوا ہے ۔
سراب دشت کو سمجھا ہے چشمۂ حیواں
حیات و موت کی گتھی کبھی سلجھ نہ سکی
یہ راز عقل ابھی تک بھی کچھ سمجھ نہ سکی
کہاں سے آیا ہے جائے گا پھر کہاں انساں
نہ حل ہوا اب تک یہ عقدۂ پیچاں
متذکرہ بالاوجوہات کے سبب انسان ایک قسم کے سراب میں مبتلا ہو گیا ہے ،وہ دشت(جو جنگل کے معنی میں اور کبھی کبھی حسب ِ ضرورت صحرا کے معنی میںبھی مراد لیا جاتا ہے) میں پیدا ہونے وا لے سراب کو ایک رواں دواں چشمہ (چشمۂ حیوانی )سمجھ لیتا ہے۔یعنی کہ وہ پوری طرح فریبِ نظر کا شکار ہے ۔ اسی طرح انسان اب تک حیات و موت کی گتھی کو بھی سلجھانے سے قاصر ہے ۔وہ اب تک یہ نہیں جان سکا ہے کہ انسان کہاں سے آیا ہے ؟ اور کہاں جائے گا؟زندگی کیا ہے ؟اور موت کیا ہے؟ مذہبی طور پر تو انسان ان سوالوں کے جوابات پا چکا ہے ، اور وہ تشفی بخش بھی ہے ،لیکن عقلی طور پر اب تک اس سے یہ باتیں ثابت نہیں کی جا سکی ہیں ، اور نہ اس کی کوئی پختہ سائنسی دلیل ہی موجو د ہے۔شاعر کے مطابق بھی کہ اب تک یہ عقدۂ پیچاں حل نہیں ہو سکاہے۔
الجھ کے رہ گیا سقراط پا نہ سکا
پتہ وہ منزل مقصود کا لگا نہ سکا
خرد پہ کھل نہیں سکتے حیات کے اسرار
کلید اس کی ہے انسان کا دلِ بیدار
سقراط جو یونان کا مشہور مفکر اور فلسفی تھا۔ ساری دنیا اس کے فلسفوں سے مستفیض ہوتی ہے ، اس کا لوہا مانتی ہے اور مشعل ِراہ سمجھتی ہے ۔ لیکن سقراط بھی لاکھ کوششوں کے باوجود ان رموز کو نہیں جان سکا ۔چونکہ شاعر کے نزدیک عقل ان معاملات کو سلجھانے سے قاصر ہے ۔ یہ سب سمجھنے کے لیے انسان کا بیدار دل ہے،اور شاعر کے نزدیک یہی تمام رموز کی کلید ہے۔
یہ نظم’سراب ‘کے موضوع سے معنون ہے،جس کا مطلب دھوکا ہے۔ یہ دھوکہ انسانی زندگی میں موجود ہوتا ہے،کبھی وہ ہمارے جذبات کی عدم تکمیل کی صور ت میں سامنے آ تاہے ،جیسا کہ شاعر اس مصرعہ میں کہہ رہا ہے کہ’’نہ آیا دور عوامی نہ جا سکی شاہی‘‘۔اور کبھی انسان اس دنیا کی فانی عشرتوں میںکھو کر روحانی خوشی کی علتوں کی تلاش کرتا رہتا ہے۔ تمام تر کامیابیوں کے باو جود وہ اپنی ذات سے متعلق خاطر خواہ جانکاری اکٹھا نہیں کر سکا ہے ، جس میں سب سے بنیادی سوال تو یہی ہیں کہ وہ کہاں سے آیا ہے ؟اور کہاں جائے گا ؟لیکن یہ اتنے غیر معمولی سوالات ہیں کہ عقل وخرد سے اس کی امید عبث ہے ۔ اس کی کلید دلِ بیدار ہے۔ اور دل کا تعلق جذبات سے وابستہ ہے، اور مجروح دل کبھی کسی مذہب سے پورے طور سے وابستہ نہیں ہوسکتا ، اور مذہب میں تعقل پسندی کا گذر نہیں ہے۔اس لیے ہمیں دلی بیداری سے کام لے کر مذہبی راستہ ا ختیارکرنا چاہیے،چونکہ مذہب ہی ہے جو ہمیں صبر و قناعت کی راہ دکھاتا ہے۔مذہبیت سے ہٹ کر ان رموز کا تسلی بخش جواب اب تک پیش نہیں کیا جا سکا ہے ۔چنانچہ عقلیت کو اولیت عطا کرنے والوں کو جواب ملنے تک مزید انتظار درکار ہے ۔

