اسپ کشت مات کا قاری۔جس قاری کا یہاں ذکر ہے وہ قاری بھلے ہی قاری بالکنایہ نہ ہو لیکن ایسا قاری بھی نہیں جو افسانوں کے نام پر محض رومانوی افسانے پڑھنا پسند کرتا ہو۔ اسپ کشت مات کے قاری کو اس بات سے بھی کوئی مطلب نہیں کہ یہ افسانہ کس تحریک اور رجحان کے تحت لکھا گیا ہے۔قاری کا ماننا ہے کہ یہ افسانہ تخئیل اور حقیقت کا تصادم ہے یا یوں کہہ لیجیے کہ سائنس اور فکشن کا تصادم۔ تخئیل اور حقیقت کے تصادم میں ’اسپ کشت مات ‘میں ،تجرید ،علامت ،نفسیات کے مسائل در آئے ہیں۔ اسپ کشت مات قمر احسن کے افسانوی مجموعے ’’شیر آہو خانہ‘‘ میں دو حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلا ’اسپ کشت مات ۱،دوسرا ’اسپ کشت مات ۲‘ہے۔
افسانے کی اولین سطروں میں ، اسٹو پر تیار ہوتی چائے۔۔۔ فائل نمبر ۷۹۔۱۰۔۳، کا ریمائنڈر ، فسادات کی رپورٹ کا پروفارما، نیلم کے خط کا جواب ، ابا کو خط اور ایمی بیاسس۔ شاید چائے اور سگریٹ پھر بڑھ گئی۔افسانہ نگار نے واضح کیا ہے کہ مرکزی کردار چائے اور سگریٹ نوشی کا عادی ہے وہ خود’’ ایمی بیاسس ‘‘کے بڑھنے کی وجہ دریافت کر لیتا ہے، لیکن باوجود اس کے افسانے میں بار بار مرکزی کردار کے ذریعے اسٹو پر چائے پکانے کا عمل دکھایا گیا ہے۔اس کے ذہن میں آفس کا کام ، ابا کو خط لکھنا وغیرہ کی گتھیاں بھی دکھائی ہیں۔نیلم کے خط کا جواب اور فساد کی فائل نے اس کے ذہن میں اس درجہ انتشار پیدا کر دیا تھا کہ جب وہ ڈسپنسری سے اپنا معائنہ کروا کر لوٹتا ہے تو:
ڈسپنسری سے واپسی میں اس کے دماغ میں پھر فائل نمبر ۷۹۔۱۰۔۳ کا رمائنڈر۔ فسادات کی رپورٹ کا پروفارما۔ نیلم کے خط کا جواب ناچنے لگا۔ اس کا دل چاہا کہ یہیں سڑک پر چیخ چیخ کر رونے لگے۔ اور کپڑے اتار کے چیختا ہوا بھاگ کھڑا ہو۔
فساد کے فائل اور’’ نیلم کے خط کا جواب‘‘ کا ناچنا جو کہ پریشانی کے وقت اور بھی بڑھ جاتا ہے ، زندگی کی یکسانیت اور مسلسل کام کرنے کی وجہ سے اس کا ذہن، فرار چاہتا ہے، آفس کے نزدیک آنے سے اس کا دل تیز دھڑکنے لگتاہے، اور ایک نامعلوم سا خوف اسے جکڑنے لگتاتھا ، اسپ کشت مات کے دوسرے حصے میں بھی یہی ہوتا ہے۔ آفس کی عمارت دیکھ کر اس کی بیماری بڑھ جاتی ہے۔ پہلی نظر میں جو بات سمجھ میں آتی ہے ،وہ یہ ہے کہ مرکزی کردار آفس اور آفس کے کام سے بے زار ہے۔ اس کے ذہن میں آفس کے کاموں کو لے کر کچھ نہ کچھ چل رہا ہے، وہ ذہنی اذیتیں جھیل رہا ہے اس کی وجہ مسلسل بیمار رہنا بھی ہو سکتی ہے یا مسلسل ذہنی دبائو کی وجہ سے اس میں جسمانی بیماریاں ہوگئی ہیں ۔ مرکزی کردار پیٹ کی بیماری میں ایسا مبتلا ہے کہ اس کو بارہا یہ احساس ہوتا ہے کہ اس کے پیٹ میں کوئی جاندار شے دوڑ رہی ہے جب وہ بھوکا ہوتا ہے تو اس کی آنتیں کترنے لگتی ہے۔ جب وہ بھوکا ہوتا ہے تو آنتیں کترنے کے عمل کو وید پیٹ میں کیڑے ہونا سمجھتا ہے کیڑوں کی دوا سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا۔ دراصل اس کے ذہن میں اس بات نے جڑ پکڑ لی تھی کہ اس کے پیٹ میں کوئی جاندار شے ہے اور اس شے کو اس نے گھوڑا سمجھ لیا ۔وہ ریس کورس میں گھوڑوں کو دیکھتا ، تانگے میں جتے گھوڑوں کو دیکھتا، پھر یکا یک اس کے اندر ایسی تبدیلی آنے لگی جس کے نتیجے میں اس کو یہ احساس ہونے لگا کہ اس کا پیٹ پھول رہا ہے گویا کردار کی فہم کے مطابق اس کے پیٹ میںایک گھوڑا پرورش پا رہا ہے۔اس کے اندرایسے جذبات ابھرنے لگے جیسے پہلی بار ہونے والی حاملہ عورت کے اندر جذبات ابھرتے ہیں ،وہ اپنی بڑی بوڑھیوں سے جس طرح کی گفتگو کرتی ہے ایسی ہی گفتگو وہ بھی لوگوں سے کرتا ہے:
یہ اچھاکیا کہ پھل لے آئے۔ آپ کے لیے پھل بہت ضروری تھے۔
جی ہاں میں بھی سوچتا ہوں کہ اب مجھے بہت احتیاط برتنی پڑے گی۔ اپنے لیے نہ سہی اس گھوڑے کے لیے مجھے پھل وغیرہ استعمال کرنا پڑے گا۔ آپ دودھ والے سے کہہ دیجیے گاکہ صبح سے ایک کلو کردے۔ میرا خیال ہے کہ اب مجھے وزن وغیرہ اٹھانے اور دوڑنے یا تیز چلنے سے بھی پرہیز کرنا چاہیے۔
’’جی میں نہیں سمجھا ۔‘‘
کیا آپ کو پتہ ہے کہ گھوڑا کب پیدا ہوتا ہے یعنی کتنے مہینے میں؟ میرا مطلب ہے کہ گھوڑا۔
درج بالا گفتگو سے اندازہ ہوتاہے کہ اس کو یہ لگنے لگا ہے کہ اس کے اندر کا گھوڑا بالکل اسی طرح پیدا ہوگا جیسے ایک بچہ پیدا ہوتا ہے۔ وہ بالکل حاملہ عورتوں کی طرح احتیاط اور تغذیہ سے بھرپور غذا کا استعمال کرناچاہتا ہے۔وہ بار بار اپنا پیٹ آئینے میں دیکھتا ہے اور اس کے علاوہ کسی اور کواس کا پیٹ بڑھا ہو دکھائی نہیں دیتا۔یہ بات بھی قابل غور ہے کہ افسانے کامرکزی کردار اپنا پیٹ ، صرف ڈاکٹروں کو یا ایسے لوگوںکو دکھا تا ہے جن سے وہ بے تکلف ہے لیکن جس رات اس کا باپ اس کے پاس چارپائی پر لیٹا ہوتا ہے تو اس رات اپنا پیٹ دیکھنے کے لیے وہ بہت بے چین رہتا ہے اوراپنی اس خواہش کو وہ باتھ روم میں جاکر پورا کرتا ہے۔ باتھ روم میں نصب چھوٹے سے آئینے میں اپنے پیٹ کا جائزہ لینے لگتا ہے۔ اس کو اپنے باپ سے شرم محسوس ہوتی ہے بالکل حاملہ عورت کی طرح۔
اسپ کشت مات کے دوسرے حصے میں بھی اس کی اس کیفیت کو اور واضح کیا ہے:
اس نے آئنے کے سامنے جاکر دیکھا۔ پیٹ کا ورم بہت بڑھ گیا تھا۔ جلن اور شدید امتلائی کیفیت کے دوران وہ جھک کر دیوار کے کونے میں جمع ترش نمکین مٹی چاٹنے لگا۔ پھر مٹی کے پکے ہوئے ٹکڑوں کو تلاش کرکے چبانے لگا۔
جب اس کو ماہر نفسیات کو دکھایا جاتا ہے، تو ماہر نفسیات تحلیل نفسی کے ذریعہ اس کی بیماری کی وجہ معلوم کرنا چاہتا ہے اس سے گھوڑے کے متعلق تمام باتیں پوچھتا ہے، آخر ڈاکٹر اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ اس کو وہم ہے، اس کا وہم دور کرنے کے لیے ماہر نفسیات یہ حل نکالتا ہے کہ اس کے پیٹ کا آپریشن کر دیا جائے اور اس کو ایک گھوڑا یہ کہہ کر دکھا دیا جائے کہ یہ تمھارے پیٹ سے نکلا ہے۔ڈاکٹر نے اس کے وہم کے علاج کا جو طریقہ اختیا ر کیا تھا اس سے کسی کو انکار نہیں ہوسکتا بہترین طریقہ ٔعلاج تھا ، سائنس اپنا کام کر رہی تھی اور بہتر طریقے سے کر رہی تھی، لیکن کیا یہ طریقہ مریض کے حساب سے اتنا ہی کارگر تھا جتنا ڈاکٹر نے اور اس کے گھر والوں نے سمجھا تھا؟ ایسا بالکل نہیں ہوا مریض ان کی ساری تدبیروں پر یہ کہہ کر پانی پھیر دیتا ہے:
اس گھوڑے کا رنگ مشکی ہے۔ میرے پیٹ میں جو گھوڑا ہے وہ تو سفید رنگ کا ہے۔
یہ ہے افسانے کا کمال اس سے قبل پورے افسانے میں مرکزی کردار بار بار گھوڑے کا ذکر کرتا ہے، اس کی ہر بات بتاتا ہے، یہ بھی کہتا ہے کہ ابھی وہ میرے اشارے نہیں سمجھتا لیکن کہیں بھی گھوڑے کے رنگ کا ذکر نہیں کرتا ، عدم ذکر کے اس پہلو سے کام لے کر قمر احسن نے اسپ کشت مات کے اگلے حصے کی بنیاد رکھی ہے۔ اسپ کشت مات کے دوسرے حصے میں بھی مرکزی کردارکی بیماری کی وہی کیفیت رہتی ہے جو پہلے حصے میں ہے ۔وہی فائل نمبر ، وہی نیلم کے خط کا جواب ،وہی آفس وہی مکان وہی اس کی امتلائی کیفیت جس سے وہ دو چار رہتا ہے۔ڈاکٹروں کی وہی تجویز کہ وہم اور اس کا علاج یہ ہے کہ آپریشن کرکے اس کو گھوڑا دکھایا جائے اور کہا جائے کہ یہ تمھارے پیٹ سے نکلاہے۔ افسانے کے اس حصے میں بھی اس کا آپریشن ہوتا ہے ڈاکٹروں کا طریق کا ر اپنی جگہ درست لیکن آپریشن کے بعد :
ماحول پر عجیب سی مضحکہ خیز دہشت طاری تھی کہ اچانک آپریشن روم سے بہت سی زنانہ،مردانہ چیخوں کی آواز ابھری۔ ابھی ان چیخوں کی بازگشت بھی ختم نہ ہوئی تھی کہ آپریشن روم کا دروازہ آواز کے ساتھ کھل گیا۔
سب سے پہلے نفسیاتی معالج اورڈاکٹر مہروترا بر آمدے کی سیڑھی سے ٹکرائے پھر ان کے پیچھے نرسیں چیخ مارتی ہوئی انھیں پھلانگ پھلانگ کر آگے نکل گئیں ۔ ایک دو تو لڑکھڑا کر وہیں ڈھیر ہو گئیں لیکن ان کے سنبھلنے کا انتظار کیے بغیر اس کا باپ لان میں کھڑے گھوڑے کی لگام چھوڑ کر کمرے میں گھس گیا۔
سامنے آپریشن ٹیبل پر اس کا لہو لہان پیٹ کھلا ہواتھا۔ چاروں طرف خون بہہ رہا تھا اور خون میں سرخ تر بتر ایک توانا گھوڑے کا لمبوترا سر اس کے پیٹ میں سے جھانک رہا تھا۔ بھنچے ہوئے دانتوں کی قطاریں کھلی بانچھوں سے باہر نکلی آرہی تھیں۔
گھوڑا ذرا سا گردن گھمائے اپنی زردی مائل آنکھوں سے باپ کو گھوررہا تھا۔
ڈاکٹروں کے ذہن میں کیاتھا انھوں نے اپنی دانست میں مریض کے لیے جو طریق علاج اختیا ر کیا تھا وہ بالکل صحیح تھا ۔ لیکن غیر متوقع طور پرجو ظہور میں آیا اس کا اندازہ کسی کو بھی نہ تھا۔اس افسانے میں نفسیات بھی ہے اور نفسیاتی مریض بھی اورماہر نفسیات بھی ہے جو تحلیل نفسی بھی کرتا ہے اور آپریشن کے ذریعے وہم کا حل بھی تلاش کرتا ہے، لیکن تمام تدابیر پر فکشن حاوی رہتا ہے۔ پورے افسانے میں فکشن تدابیر سے دو ہاتھ آگے رہتا ہے، وہ پہلی بار یہ کہہ کر حاوی ہوتا ہے کہ’’اس گھوڑے کا رنگ مشکی ہے میرے پیٹ میں جو گھوڑا ہے وہ تو سفید رنگ کا ہے‘‘۔ دوسری بار اس کے پیٹ سے سچ مچ کے گھوڑے کا سر برآمد کرا کر فکشن تمام چیزوں پر حاوی ہو جا تا ہے۔
اسپ کشت مات کے قاری کی کچھ دن قبل ایک شناسا سے گفتگو ہو رہی تھی وہ اس وقت غالب اکیڈمی نظام الدین میں موجود تھے جب یہ افسانہ قمر احسن نے سنایا تھا۔یہ بات ۱۷ تا۲۱ مارچ ۱۹۸۵ء کی ہے (واضح رہے کہ اس وقت اسپ کشت مات ایک حصے میں تھا گوپی چند نارنگ کی مرتبہ کتاب ’نیا اردو افسانہ انتخاب،تجزیے اور مباحث‘ میں بھی اس کا ایک حصہ ہے) ۔ انھوں نے بتایا کہ قمر احسن سے سوال کیا گیا کہ گھوڑا کس چیز کی علامت ہے قمر احسن کا جواب تھا کہ مجھے نہیں پتہ میں نے تو افسانہ لکھ دیا (واللہ اعلم اس وقت قاری شیر خوار تھا) قاری کے شناسا کی یہ رائے بھی تھی کہ اس طرح کا ادب قاری کو بے زار کرتا ہے، ادب سے دور کرتاہے۔سوال یہ ہے کہ اگر کسی قاری کو گھوڑے کا استعارہ، یا علامت سمجھ میں نہ آئے تو کیا اس سے قمر احسن کی تخلیقی حسیت پر کوئی حرف آتا ہے؟ کیاعلامت نہ سمجھنے سے قمر احسن کا اسلوب ، تکنیک ، مرکزی کردارکی ذہنی کشمکش ریت کی دیوار کی طرح ڈھیر ہو جائے گی؟۔ اگر قاری کے شناسا سے اتفاق کر لیاجائے (کچھ وقت کے لیے) کہ اسپ کشت مات میں گھوڑے کی علامت کا پتہ نہ چلنے سے یہ افسانہ قاری کو ادب سے دور لے جاتا ہے تو مجھے کہنے دیجیے ،اردوکے نہ جانے کتنے افسانے ایسے ہیں جو قاری کو ادب سے دور کر دیں گے ۔ منشی پریم چند کے بہترین افسانے کفن کی مثال لیجے اس افسانے میںپریم چند نے مادھو اور گھیسو کو شراب کے نشے میں مست ہوکر گرتے دکھایا ہے اور افسانہ ختم کر دیا۔ پریم چند نے یہ تو بتایا نہیں کہ دوسری بار کفن کے پیسے کس نے دیے زمین دار نے یا گائوں کے کسی اور آدمی نے ۔ دھنیا کی چتاکو اس کے پتی نے آگ لگائی تھی یا کسی اور نے۔
میرے خیال سے قاری کو اگر علامت کا پتہ نہ بھی چلے تب بھی اس افسانے کی قرأت پر کوئی حرف نہیں آتا ۔ اگر ہم یہ بات مان لیں کہ مافوق الفطری عناصر ادب کوکمزور بنا دیتے ہیں یا قاری کو ادب سے دور کردیتے ہیں ،پھر ہم شیکسپئیر کے مشہور ڈرامے میکبیتھ کی اتنی تعریف کیوں کرتے ہیں جبکہ اس کی ابتداہی مافوق الفطری عناصر سے ہوتی ہے۔ Three witchesکی پیشن گوئی پر ہی پورے ڈرامے کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ایک قاری کی حیثیت سے میرا ماننا ہے کہ قاری ادب کا مطالعہ کرتا ہے ذہنی آسودگی حاصل کرنے کے لیے ،مسرت حاصل کرنے کے لیے اور ان کے بیچ کہیں بصیرت بھی حاصل ہو جاتی ہے۔ ذہنی آسودگی اور مسرت تو دل و دماغ کے حصے میں آتی ہے اور بصیرت عموماً تنقیدی عمل کے ذریعے کا غذات کی نذرہو جاتی ہے۔ ادب العالیہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ قاری کے ذہن اور فکر کو مہمیز کرتا ہے۔ یہاں یہ سوال بھی کیا جا سکتا ہے کہ کیا افسانہ ’اسپ کشت مات‘ قاری کے ذہن اور اس کی سوچ کو جھنجھوڑنے میں ناکام ہے۔؟ کیا ہر وہ شئے اور عقدہ جسے ہم حل کرنے میں ناکام ہوجائیں ،لایعنی اور مہمل ہوگی؟۔
Dr. Mohd. Usman Ahmad
R/O mohalla Qazizadgan
karal Road chandpur
Dist. Bijnor U.P, 246725
Mob: 9015732249


2 comments
یہ افسانہ آج تک ایک معمہ سمجھا جاتا ہے اور اسی بنا پر اسے ترسیل میں ناکام افسانہ بھی سمجھا جاتا ہے. لیکن ڈاکٹر محمد عثمان احمد نے جس طرح اس کا تجزیہ کیا ہے. اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ افسانے کے موضوع سے انھیں کس قدر ذہنی ہم آہنگی ہے. ایک بات اور معلوم ہوئی کہ ترسیل کی ناکامی کا رونا رونے کے بجائے فن کے تعلق سے ذہنی تربیت ضروری ہے. ایک اچھے مضمون کے لئے ڈاکٹر محمد عثمان کو مبارک باد
بہت شکریہ ڈاکٹر محمد مقیم