Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      جون 6, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      سنت ابراہیمی کی حقیقی روح اور اس کا…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      آبِ زمزم کے طبی ، روحانی اور سائنسی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قربانی صرف رسم نہیں، اللہ کے حکم کی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام بشیر بدر،…

      جون 7, 2026

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام بشیر بدر،…

      جون 7, 2026

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      جون 6, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      سنت ابراہیمی کی حقیقی روح اور اس کا…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      آبِ زمزم کے طبی ، روحانی اور سائنسی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قربانی صرف رسم نہیں، اللہ کے حکم کی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام بشیر بدر،…

      جون 7, 2026

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام بشیر بدر،…

      جون 7, 2026

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
افسانہ کی تفہیم

اختر اورینوی کی افسانہ نگاری-شاہ نواز فیاض

by adbimiras اگست 20, 2020
by adbimiras اگست 20, 2020 1 comment

بہار میں افسانہ نگاری کی روایت 1885ء میں ،ہفتہ وار ’’الپنچ‘‘کی اشاعت سے شروع ہوئی۔اور اس کے ابتدائی نقوش یہیں سے ملنے شروع ہوئے۔’الپنچ‘ کی اشاعت سے قبل ہی بہار میں خط تقدیر (1862)، صورت خیال (1876)جیسے قابلِ قدر ناول لکھے جا چکے تھے۔لیکن’الپنچ ‘کی اشاعت سے مختصر نویسی کی طرف لوگوں کی توجہ ہوئی۔حقیقت یہ ہے کہ اس میں لکھے گئے قصے افسانے نہیں تھے۔لیکن مختصر قصہ نگاری کی طرف لوگوں کا رجحان بڑھا۔اور ایک ایسی صنف ،جسے بعد میںافسانہ کا نام دیا گیا،اس کی زمین ہموار ہوئی۔1910 ء میں رسالہ’الپنچ‘بند ہو گیا۔اس کے بعد بہار میںدوسرے کئی رسالے منظرِ عام پر آئے اور بند بھی ہو گئے۔لیکن اسی بیچ 1924ء میں ایک رسالہ ’’نوید‘‘ کے نام سے جاری ہوا۔اس رسالے کی اشاعت بہار میں اردو افسانہ کے لئے بڑی اہم ثابت ہوئی۔کیونکہ بہار کے ابتدائی افسانے اسی رسالے میں شائع ہوئے۔’نوید‘کے علاوہ ’’ندیم‘‘اور’’سہیل‘‘میں بھی کئی بہت اہم طویل افسانے قسط وارشائع ہوئے۔جمیل مظہری کا مشہور طویل افسانہ ’’فرض کی قربان گاہ‘‘1935ء میں رسالہ’ندیم‘میں دو قسطوں میں شائع ہوا۔اس افسانے کا لوگوں پر بڑا گہرا اثر ہوا۔خاص طور سے افسانہ نگار اس سے بہت متاثر ہوئے۔اس کا اندازہ اس وقت کے افسانوں کے مطالعہ سے ہوتا ہے۔

طویل افسانے ہی سے مختصر افسانے کی بنیاد پڑی۔اس باب میں1930ء سے1946ء تک کا زمانہ کافی اہم ہے۔کیونکہ اس بیچ بہت سے مختصر افسانہ لکھنے والے سامنے آئے ۔اس عہد کے مشہور افسانہ نگار ،محسن عظیم آبادی ،اختر اور ینوی،سہیل عظیم آ بادی اورش۔اختر وغیرہ کافی اہم ہیں۔جس کو اردو افسانہ نگاری کی روایت میں بہت اہم تسلیم کیا جاتا ہے ۔اور اردو کے اہم ترین افسانہ نگاروں میں شمار کیا جاتا ہے۔سہیل عظیم آبادی کی پہچان پورے ملک میں ماہرِ نفسیات کی حیثیت سے ہوئی۔کیونکہ ان کے افسانوں میں نفسیاتی پہلو کو بڑے منظم طریقے سے بیان کیا گیاہے۔اسی زمانے میںایک ایسا افسانہ نگار منظرِ عام پر آیا، جس نے ادب میں اپنی پہچان بنائی۔کیونکہ اس سے پہلے اتر پردیش اور پنجاب میں دیہی زندگی کو افسانے کا موضاع بنایا جا چکا تھا۔اور اس شخص (اختر اورینوی)نے پہلی بار بہار کے دیہی زندگی اور وہاں کے طور طریقے اوررہن سہن کواپناموضوع بنایا۔

اختر اورینوی اردو کے مشہور افسانہ نگار ہیں۔انہوں نے1927ء سے لکھنا شروع کیا،اور یہ سلسلہ اخیر تک چلتا رہا۔ان کے افسانوں کے مجموعے کی تعداد کل چھ ہے،’منظر پس منظر‘’کلیاں اور کانٹے‘’انار کلی اور بھول بھلیا‘’سمینٹ اور ڈائنا میٹ‘’کیچلیاں اور بال جبریل‘اور’سپنوں کے دیس میں‘۔ان کے مزاج میں رومان اور حقیقت کا ایک بڑا اچھا تال میل ہے۔اور یہی پہلو ان کے افسانے کی اہم کڑی ہے۔انہوں نے ہمیشہ مزدور طبقہ کے لوگوں کو اپنا موضوع بنایا۔ان کے یہاں مزدور بہر صورت مزدور ہے،چاہے وہ شہر کا ہو یا پھر دیہات کا۔بلکہ شہر کے مزدور طبقہ کا حال دیہات سے کہیں برا ہے۔انہوں نے جس موضوع پر قلم اٹھایا ہے ،اس کی اس طرح سے منظر کشی کی ہے کہ ،وہ منظر پورے اپنے اصل وجود کے ساتھ نظروں کے سامنے آجاتا ہے۔انہوں نے بہار کے موسم ،وہاں کی فضا اور وہاںرہنے والے غریب لوگوں کے عادات واطوار کو اپنے افسانے کا موضوع بنایا ہے۔انہوں نے کسان اور زمیندارکے تعلقات کو بھی بیان کیا ہے۔گویا کہ غریب لوگوں سے متعلق ہر وہ چیز جس سے کہ وہ پریشان رہتا ہے ۔مثلاً،مال گذاری،خشک سالی ،قرض،کھانا،خانہ اور رہنا ،یہی وہ اصل چیز ہے جس کے گرد انسانی زندگی گھومتی ہوئی نظر آتی ہے،اور انسان کی بنیادی ضروریات بھی یہی ہیں۔ان ہی سب کو اختر اورینوی نے اپنے افسانے میں جگہ دی ہے۔

اختر اورینوی نے سماج کا مطالعہ ایک ادیب کی نظر سے کیا۔ انہوں نے اپنے لئے ایک ایسے موضوع کا انتخاب کیا ،جس کا ان سے پہلے کسی نے بھی ،خاص طور پربہار کے حوالے سے ،نہیں کیا تھا۔چونکہ یہ ایک حساس معاملہ ہے،یہ ایک ایسی دنیا ہے جہاں خوشی کبھی کبھی ہی ملتی ہے۔ورنہ عام طور پر تکلیف کے ہی بادل منڈلاتے نظر آتے ہیں۔اور ان ہی میں سے بہت سے ایسے لوگ ہوتے ہیں جو اپنی زندگی کے تین حصے سے زیادہ تکلیف میں گزار دیتے ہیں۔جب ایسے لوگوں پر کوئی ادیب قلم اٹھاتا ہے،اور پنے انداز میں اس پورے سماج کا نقشہ کھینچتا ہے ،تبھی اس پورے سماج کی اصلیت کا اندازہ ہوتا ہے۔کیونکہ اس طرح تفصیل سے ایک ادیب ہی لکھ سکتا ہے۔اور اس کام کو اختر اروینوی نے بہت بھر پور کیا ہے۔ان کے افسانے کے حوالے سے وقار عظیم نے لکھا ہے:

’’اختر اورینوی نے بہار کے دیہاتوں کی جو کہانیاںلکھی ہیںان سے یہاں کی زندگی کے کچھ پہلو اپنے اصلی خدوخال کے ساتھ ہمارے سامنے آجاتے ہیں۔ یہاں کے موسم،یہاں کی وہ خاص فضا جو یو۔پی اور پنجاب سے بالکل الگ ہے۔اور اس فضا میں رہنے  سہنے والے کسان،اور ان کی زندگی کے ناسور ،ان کے اخلاق اور عادتیں ۔کسان اور زمیندار کا تعلق ۔ کسان یہا ں بھی لگان،مال گذاری،خشک سالی اور مہاجن کے قرض میں مبتلا ہیں۔پیٹ خالی ہیں اور تن ڈھکنے کوکپڑا نہیں ۔پھر بھی بدن پر لنگوٹی لگانے والے اپنے من کی موج میںمگن  رہتے ہیں ۔‘‘

(نیا افسانہ۔وقار عظیم۔علی گڑھ ایجوکیشنل بک ہاؤس۔1975ص۔173-174)

 

اختر اورینوی نے نہ صرف دیہات میں بسے ہوئے مزدور اور نچلے طبقے کے لوگوں کو اپنی کہانی کا موضوع بنایا ہے،بلکہ انہوں نے شہر کے ان لوگوں کو بھی اپنی کہانی کا موضوع بنایاہے،جو گاؤں چھوڑ کر شہر میں آبسے۔حقیقت یہ ہے کہ غریبوں کے لئے شہر کی زندگی گاؤں کی زندگی سے کہیں زیادہ تکلیف دہ ہے۔شہر کی تکلیف زدہ زندگی اس سمندر کے مانندہے،جس کی گہرائی اوراس سمندر سے آنے والی تباہی سے لوگ یکسر ناواقف ہیں۔اور اوپری سطح کی ٹھنڈی ہوا کے ساتھ ہی زندگی کا لطف لیتے ہیں۔اسی طرح سے شہر کی بھاگ دوڑ بھری زندگی میں تکلیف زدہ لوگوں کے آنسوؤں کو پوچھنے والے اور ان سے ہمدردی کرنے والوں کی تعداد نا کے برابر ہے۔جہاں کسی کی نگاہ نہیں پہنچتی وہاں کی زندگی کا مشاہدہ ایک ادیب کرتا ہے۔اور اختر اورینوی نے اس کام کوبڑے اچھے اور منظم طریقے سے انجام دیا ہے۔انہوں نے شہر کے نچلے طبقے کے لوگوں کو اپنے افسانے کا موضوع بنایا۔جیسے:رکشا والے،ڈرائیور،باورچی اور اسی طرح کے دوسرے مزدور ،جوشہر میں رہتے ہوئے بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔اور یہی اختر اورینوی کا کمال ہے کہ انہوں نے بڑے سادے اور دل موہ لینے والے انداز میں یہ ساری باتیں کہی ہیں۔اور اسی تناظر میں انکا مشہور افسانہ’’کلیاں اور کانٹے‘‘کو پڑھا جائے تو،درج بالا لوگوں کی سچی تصویر نظروں کے سامنے ابھر آتی ہیـ:

’’تیسرے درجے کے معنی تھے ایک وسیع اور لانبا(لمبا)چوڑا کمرہ۔ایک کمرے میں آٹھ پلنگ ہوتے تھے اور جب حیات کے لعب و لہو کی رفتار میں زیادہ تیزی ہو جاتی تو سِل و دق کے جراثیم کے چند اور شکار آجاتے تھے اور کمرے کی آبادی بارہ تیرہ تک پہنچ جاتی تھی۔درجہ سوئم کا کرایہ پچیس روپے ماہوار تھا۔موت اورزندگی کے درمیان بھی انسانیت درجوں میں بٹی ہوئی  ہے۔گھر،اسپتال اور قبرستان ،ہر جگہ نمبر ایک نمبر دو اور نمبر تین کی تفریق ہوتی ہے۔کالوں کا قبرستان،گوروں کا قبرستان،شرفاء کے مدفن اور غریبوں کے گورستان ہر شہر ،ہر قصبے اور گاؤں میں پائے جاتے ہیں۔صحت گاہ اسی کرہ پر قائم تھی اور اسی کے بھلے برے قانون کی پابند۔‘‘

(اختر اورینوی کے افسانے،انتخاب مع مقدمہ۔م،عبدالمغنی۔بہار اردو اکادمی،پٹنہ۔1977ص۔88-89)

درج بالا اقتباس سے اختر اورینوی کی باریک بینی کا تو اندازہ ہوتا ہی ہے ،ساتھ ہی ساتھ سماجی زندگی اور انسانی فطرت پر جس طرح کا طنز ہے وہ اختراورینوی ہی کا خاصا ہے۔ان کے اس طرح کے افسانے میں ایسا لگتا ہے کہ ایک چھوٹی سی دنیا آباد ہے۔جہاں ایک طرف زندگی کی سچائیاں دکھائی پڑتی ہیں،تو دوسری طرف اسی سے پیدا شدہ بہت سی فنی باتیںاور زندگی کا فلسفہ بھی نظر آتا ہے۔اگراختر اورینوی کی زندگی کا نچوڑ د یکھنا چاہیں تواس باب میں ان کے دو افسانے خصوصیت کے ساتھ پیش کئے جا سکتے ہیں ۔’کیچلیاں اور بالِ جبریل‘دوسرے’سپنوں کے دیس میں‘۔حقیقت یہ ہے کہ اختر اورینوی کے فن کی جب ،جہاں بات آئے گی ان کے یہ دونوں افسانے بطور خاص پیش کئے جائیں گے۔بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ ان افسانوں میں ان کی زندگی اور تجربے کا نچوڑ ہے۔ان دونوں کو پڑھنے سے معلوم ہوتا کہ دونوں میں فلسفیانہ باتیں کہی گئی ہیں۔ایسا فلسفہ جس کا تعلق صرف اور صرف زندگی اور سماج سے ہے۔اور ایسی تصویر ابھرکر ہمارے سامنے آتی ہے جیسے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی خواب دیکھا جا رہاہو،اور اسی طرح کے رنگ برنگ ِمنظرابھر کر سامنے آتے رہتے ہیں۔دونوں افسانے کا ایک ایک اقتباس مثال کے لئے درج کیے جاتے ہیں ،تاکہ بہ آسانی اندازہ لگایا جا سکے کہ ان کا فن کس طرح سے اصل زندگی کے فلسفے کی ترجمانی کرتا ہے۔’’کیچلیاں اور بالِ جبریل ‘‘کااقتباس ملاحظہ ہو:

’’۔۔۔۔میں نے پھرخدائی کا دعوی کر دیا۔اورا ب کے مجھے سانپ نے نگل لیا۔اور یوں ہوا کہ پہاڑ روشنی سے بھر گئے۔میری روح کے بے شمار اجزائنے میرے خلاف سر اٹھایا۔اور وہ مجھ سیرو گرداں ہو گئے۔میں نے ان کا تعاقب کیا۔اور میں نے دیکھا کہ سمندردو حصوں میں منٹ گیا۔یا میں دو حصوں میں بنٹ گیا۔ایک حصہ ڈوبا اور ایک سلامت نکل گیا۔ میں’’غرقِ دریا ‘‘ ہو کر بھی ’’رسوا‘‘ہوا۔پزاروں سال بعد میرا جنازہ شاہانہ طور پر تو نہ اٹھا۔لیکن ایک عجائب خانہ میں مجھے مزار کی جگہ مل گئی۔‘‘

ایضاً۔ص،165

’سپنوں کے دیس میں‘کا اقتباس ملاحظہ ہو:

’’پتلوں میں تو روح اسی وقت روح پھنک گئی تھی جب پتلے اٹھ بیٹھے تھے۔اور اس لمبے سفر کی لغزش وافتاد اور مقابلہ و تعاون نے پتلوں کی روحوں کو اور بالیدہ وپیچیدہ بنا دیا۔روح کے ہر بیچ میں نت نئے تجربوں کے عکس مرتسم ہوتے جاتے تھے اور ان سے روحوں کی تہ داری بڑھتی جاتی تھی۔نئے تجربوں کی آزادی نے پتلوں میں بڑا اپنا پن پیدا کر دیا۔ہر پتلا ایک فرد بن گیا۔پہلے وہ محض ایک وجودتھا۔پتلوں سے جب جوڑے بنے اور ان جوڑوںسے جب خاندان پیدا ہوئے توپتلوں کی انفرادیت اور بڑھ گئی۔‘‘

ایضاً۔ص۔208-209

دونوں افسانوں کے درج بالا اقتباس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اختر اورینوی کی ذہنی افق کس حد تک تھی۔ایک ایک جملہ اپنے آپ میں ایک پورا واقعہ بیان کرتا ہوا نظر آرہا ہے۔یہاں بات صرف انسان ہی تک محدود نہیں رہی۔بلکہ بھگوان کی بھی بات کہی گئی ہے۔اور جب وہ اپنی ہی بنائی ہوئی چیز کے نشیب وفراز سے گزرتا ہے،تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ کوئی حقیقت نہیں بلکہ خواب دیکھ رہا ہے۔اور یہ پوری فضا خواب ناک بن جاتی ہے۔اختر اورینوی کا کمال یہی ہے کہ وہ قصے کو ایسا ڈرامائی ماحول بنا کر پیش کرتے ہیں کہ تجسس اخیر تک بنا رہتا ہے۔یہی ان کی امتیازی خصوصیت ہے۔

اختر اورینوی کا کوئی بھی افسانہ پڑھنے کے بعد یہ محسوس نہیں ہوتا ہے کہ ،محض وہ ایک قصہ یا کہانی  ہے،اور اس کہانی کی دلچسپی ہی اس کی پوری کائنات ہے ۔ پڑھنے کے ساتھ ہی یہ احساس ہونے لگتا ہے کہ یہ صرف قصے کی حد تک محدود نہیں ہے،بلکہ اس میں ایک درد،ایک قسم کی پکار اور ایک نغمہ ہے۔جس کی وجہ سے قاری بہت دیر تک اسی میں کھویا رہتا ہے۔اسی سلسلے کا ایک اقتباس(کلیاں اور کانٹے)سے ملا حضہ ہو:

’’میں نے ان آنسوؤں میں ماضی کے کانٹوں کی چبھن محسوس کی اور زندگی کے کمیاب حسن کی چند نورانی کلیاں کھلتی ہوئی دکھائی دیں۔انوکھے طور ہر میں نے یہ محسوس کیا کہ عورت ہی مرد کی ابدیت کا ذریعہ ہے۔فانی انسان عورت ہی کی مدد اورربوبیت سے چند قطروں کو ناپید اکنار سمندر بنا دیاہے۔میں نے دیکھا کہ انسانیت کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر عورت کی آغوش سے نکل کر ازل اور ابد کو گھیرے ہوئے ہے۔‘‘

ایضاً۔ص۔122

اختر اورینوی کا کوئی ایک یا دو افسانہ نہیں،بلکہ ان کے بیشتر افسانے اسی طرح کے مضامین پر مشتمل ہے ۔جہاں تک موضوعات اور اجتماعی دلچسپی اور ہمدردی کا تعلق ہے تو اختر اورینوی کے افسانے انہیں چیزوں کے ارد گرد طواف کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ان کے افسانے کے موضوع اتنے چست اور درست ہوتے ہیں کہ قاری خود بخود اسی میں کھو جاتا ہے۔ان کے افسانے ’’شادی کے تحفے‘‘۔’’زودِ پشیمانی‘‘۔’’شکور دادا‘‘۔’’کوئلے والا‘‘۔بہت بے آبرو ہوکر‘‘اور ’’کلیاں اور کانتے‘‘ایسے افسانے ہیں جہاں زندگی کی سچی منظر کشی ملتی ہے ۔ان میں آپ بیتی کے ساتھ ساتھ جگ بیتی بھی ہے۔فنکار نے اپنے آس پاس کی چیزوں کو بغور دیکھا ہے،اور بارہا مشاہدہ کے نتیجے میں اس طرح کی کہانی کولفظوں کے پیرائے میں ڈھالا ہے۔اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ افسانہ نگار کا اپنے کردار کے ساتھ ایک مخصوص رویہ ہے،جیسے کہ فنکار کود اپنی کہانی اس کردار کے توسط سے سنا رہا ہے۔اختر اورینوی کی افسانہ نگاری کے حوالے سے وقارعظیم نے لکھا ہے:

’’اختر اورینوی نے جب دیہاتی زندگی کی کہانیاں لکھی ہیں یا شہری زندگی کے ان پہلوؤں کو اپنی کہانی کا موضوع بنایاہے،جنہیں انہوں نے اپنے تخیل میں سمو لیا ہے،تو ان کے طرز میں حد درجہ سادگی اور شیرنی پیدا ہو جاتی ہے۔اور اس سادہ اور شیریں زبان میں لکھے ہوئے افسانوں میں وہ ساری باتیں آجاتی ہیں جو افسانہ کو صرف اچھا ہی نہیں،بلکہ بہت اچھا بنا دیتی ہیں۔ایسے افسانوں میں جب کسی شخصیت کا تعارف ہم سے ہوتا ہے تو ہم جیسے اس خاص شخص کو اپنے آپ سے بغل گیر ہوتے محسوس ہوتے ہیں۔‘

نیا افسانہ۔وقار عظیم ۔علی گڑھ ایجوکیشنل بک ہاؤس۔1975ص۔177

اختر اورینوی کے افسانوںکے مجموعے،’’سمینٹ اور ڈائنامیٹ‘‘۔کیچلیاں اور کلیاں‘‘۔اور’’ سپنوں کے دیس میں‘‘۔یہ تینوں مجموعے بحیثیت مجموعی اختر اورینوی کی افسانہ نگاری کے عروج اور کمالِ فن کا واضح نقش پیش کرتے ہیں۔ان کے افسانوں میں بنایا ہوا سماں اور ان کی منظر کشی اس طرح حقیقت پر مبنی ہوتی ہیں کہ،پڑھنے کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ ساری چیزیں آنکھو ں دیکھی ہیں۔ہر لفظ اپنے اندر ایک گہری معنویت رکھتا ہے،اور ہر جملہ ایک پوری داستان بیان کرتا ہوا نظر آتا ہے۔یہی وہ ساری خصوصیات ہیں جن کی وجہ سے اختر اورینوی اردو افسانے میں ایک خاص مقام رکھتے ہیں ۔لہذا یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ جدید اردو افسانہ نگاری کے صفِ اول کے چند افسانہ نگاروں میں اختر اورینوی کا بھی شمار ہوتا ہے۔جب کہ ان کے افسانہ نگاری کے فنی امتیازات کو بہت لوگوں نے اعتراف کیاہے۔ البتہ ان کے کارناموں کی نوعیت مزید غور وخوض اور مطالعے کی متقاضی ہے۔

 

SHAHNEWAZ FAIYAZ

Department of Urdu

Jamia Millia Islamia

New Delhi-110025

Mob: +91 9891438766

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں۔

 

1 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
علامتی اسلوب میں لپٹی مظہر الزماں خاں کی کہانیاں-محمد غالب نشتر
اگلی پوسٹ
کیکٹس کے پھول (تنقیدی مضامین کا مجموعہ)- ڈاکٹر نوشاد منظر

یہ بھی پڑھیں

منو بھنڈاری: ہندی افسانوی ادب کامقبول ترین کردار...

مئی 26, 2026

بیدی کا فن – پروفیسر محمد حسن

مئی 15, 2026

آج کی اردو کہانی: زبان اور ساخت –...

فروری 2, 2026

شموئل احمد کا افسانہ ’’سنگھار دان‘‘ – طارق...

فروری 1, 2026

منٹو اور نیا افسانہ – پروفیسر شمیم حنفی

اکتوبر 11, 2025

عزیز احمد کی افسانہ نگاری! وارث علوی

اپریل 12, 2025

اکیسویں صدی کی افسانہ نگارخواتین اور عصری مسائل...

مارچ 21, 2025

ہمہ جہت افسانہ نگار: نسیم اشک – یوسف...

جنوری 15, 2025

ڈاکٹر رُوحی قاضی : ایک فراموش کردہ افسانہ...

نومبر 25, 2024

اکیسویں صدی کے افسانے – ڈاکٹر عظیم اللہ...

ستمبر 15, 2024

1 comment

محمد مقیم MOHD. MUKEEM اگست 21, 2020 - 3:54 شام

اختر اورینوی کی افسانہ نگاری کے بارے میں ایک عمدہ مضمون ہے. مضمون کی ابتدا میں بہار میں افسانہ نگاری کے آغاز کے تعلق سے مختصر لیکن جامع تاریخ کو پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ مضمون نگار بہار میں افسانہ نگاری کی روایت پر بھی قابل قدر نظر رکھتے ہیں. اختر اورینوی کی افسانہ نگاری پر مشتمل مضمون میں یہ تمہیدی گفتگو لاتعلق اور غیر ضروری نہیں معلوم پڑتی. بلکہ اپنے اختصار کی وجہ سے مضمون کا لازمی جزو محسوس ہوتی ہے. اچھا مضمون ہے. البتہ ایک بات تشنہ رہ گئی. طویل افسانہ نگاری اور مختصر افسانہ نگاری کی وضاحت نہیں ہوسکی. یہ اس لیے بھی ضروری تھی تاکہ کسی قسم کا مغالطہ راہ نہ پائے.

Reply

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (186)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (120)
  • تخلیقی ادب (600)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (203)
    • انشائیہ (20)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (143)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,050)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (537)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (219)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (19)
    • فکشن (407)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (218)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (25)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (478)
  • گوشہ خواتین و اطفال (100)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,136)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (34)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (899)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں