مولانا الطاف حسین حالی (۱۸۳۷۔۱۹۱۴)کی شخصیت اور فن کا بنیادی جوہر درد مندی سے عبارت ہے ۔ان کی تصنیفات میں قومی درد مندی اور سماجی بیداری کاعنصربھی پایا جاتا ہے ۔مجالس النسا(اشاعت : ۱۸۷۴) حالی کی ابتدائی کتابوں میں سے ہے ۔مسدس حالی (۱۸۷۹)مناجات بیوہ (۱۸۸۴)،مسلمانوں کی تعلیم(۱۸۸۹)اور چپ کی داد(۱۹۱۶) تک کا تخلیقی سفر اسی درد مندی کا غماز کہا جاسکتاہے ۔اودھ پنچ کے مزاحیہ تخلیق کار ہوں یا حیات جاوید کے تناظر میں حالی پر نقد کرنے والے صاحبانِ نظر یہ بات سب پر عیاں ہے کہ حالی جو کچھ لکھ رہے ہیں اس کے پیچھے درد مندی اور دلسوزی کا جذبہ ہے ۔اس جذبے کو قومی ،ملی اور ادبی تناظر میں دیکھا اور سمجھا جاسکتا ہے ۔ان کی درد مندی کی ایک جہت ’’حیات جاوید‘‘کے وہ صفحات ہیں ،جہاں وہ سرسید کی مذہبی فکر پر تنقید کرتے ہیں’’یعنی آیات قرآنی کے وہ ایسے معنی بیان کرتے تھے جن کو سن کر تعجب ہوتا تھا کہ کیوں کر ایسا اعلی دماغ آدمی کمزور اور بودی تاویلوں کو صحیح سمجھتا ہے ۔‘‘مگر اسلوب ایسا اختیار کرتے ہیں کہ اس میں طعن و تشنیع کے بجائے اس بات پر حسرت کا اظہار کیا گیا ہے کہ ایسا اعلی دماغ کمزور اور بودی تاویلوں کو کیوں صحیح سمجھتا ہے ۔
’’ مجالس النسا‘‘ حالی کی درد مندی اور قومی غیرت کی آئینہ دار ہے ۔حالی نے اپنے سے پیش رو لکھنے والوں کی طرح صرف لڑکیوں کی تعلیم پر زور نہیں دیا اور نہ قصے کہانی کو اصل اساس قرار دیا بلکہ تربیت اور افادیت کے پہلو کو ترجیح دی ۔یہ پہلی کتاب ہے جس میں لڑکیوں کے ساتھ ساتھ لڑکوں کی تعلیم پر بھی زور دیا گیا۔تاکہ آنے والی نسلیں اپنی زبان اور ثقافت سے محروم نہ ہوجائیں ۔ ان کی خواہش تھی کہ پورا معاشرہ تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو ۔حالی کی عمومی تعلیم کی یہ مہم سرسید تحریک سے مربوط ہوکر مزید بارآورثابت ہوئی ۔
مجالس النسا دو حصو ں پر مشتمل ہے اور اس میں کل نو (۹)مجلسیں یعنی باب ہیں۔پہلے حصہ میں لڑکیوں کی تعلیم و تربیت اور اس کی اہمیت و ضرورت کو بتایا گیا ہے اور دوسرے حصے میں لڑکوں کی تربیت پر روشنی ڈالی گئی ہے ۔بچے کی تعلیم وتربیت میں ماں کے کردار کو بھی نمایاں کیا گیا ہے ۔ یعنی یہ کہ کس طرح ابتدائی ایام میں ماں اپنے بچے کی عمدہ تربیت کرسکتی ہے ۔جمیل جالبی نے لکھا ہے :
مجالس النسا کے دو حصے ہیں ۔پہلے حصے میں بتایا گیا ہے کہ خواجہ فضیل کی بیٹی زبیدہ کی تربیت کیسی اور کیسے ہوئی ۔دوسرے حصے میں بتایا گیا ہے کہ زبیدہ نے اپنے بیٹے سید عباس کی تربیت کس طرح کی۔لڑکے اور لڑکی کی مثالی تربیت کا بیان ہی حالی کی اس تصنیف کا مقصد ہے ۔(تاریخ ادب اردو ،جمیل جالبی جلد چہارم حصہ دوم ص:۹۴۳)
مجالس النسا کا قصہ سیدھااور عام فہم ہے ۔چونکہ حالی کے پیش نظر ادب خلق کرنے سے کہیں زیادہ سماجی ضرورت کی تکمیل تھا۔ اسی لیے وہ جو کچھ لکھ رہے تھے اس میں تربیت کا پہلو غالب تھا ۔جمیل جالبی کا خیال ہے کہ ’’ مجالس النسا کی کہانی بے ربط ہے۔حالی قصہ بنانے کی تو کوشش کرتے ہیںلیکن قصہ ہرجگہ اصلاح میں گم ہوجاتا ہے‘‘ (تاریخ ادب اردو ،جمیل جالبی جلد چہارم حصہ دوم ص:۹۴۳)۔ پہلے حصے میں سید عباس نے اپنی ماں کی تعلیم و تربیت کی روداد بیان کی ہے اس کے بعد اپنی تعلیم کا حال لکھا ہے ۔آتو جی یعنی استانی نے یہ سارا حال سید عباس کی زبانی ادا کیا ہے ۔
سید عباس کی ماں زبیدہ دلی کے ایک رئیس خواجہ فضیل کی صاحبزادی تھیں ۔ان کے دوسرے بھائی خواجہ کمیل تیس پینتیس برس کی عمر میں دلی سے لاپتہ ہوگئے تھے۔خواجہ فضیل جائیداد کے اکیلے وارث تھے ۔دولت و ثروت کی فراوانی کے باوجود اولاد سے محروم تھے۔ منتوں اورمرادوں کے بعد پیدا بھی ہوئی تو بیٹی یعنی زبیدہ ۔والدین نے لاڈ پیار میں کوئی کمی نہیں کی ۔شادی سے پہلے ہی ماں کاانتقال ہوگیا ۔اس کے بعد زبیدہ پر گھرکی تمام ذمہ داریاں آگئیں ۔زبیدہ نے ان ذمہ داریوں کو نہایت عمدگی سے سنبھالا۔خواجہ فضیل نے امجد علی نامی ایک نوجوان سے جو کہ تجارت پیشہ ہونے کے ساتھ ساتھ علم و ہنر کی دولت سے بھی مالا مال تھا بیٹی کی شادی کردی ۔ازدواجی زندگی کے دن گزرتے گئے یہاں تک کہ انیس برس بیت گئے ۔ انیسویں برس سید عباس پیدا ہوئے مگر ابھی یہ چار برس کے ہی ہوئے تھے کہ باپ کا سایہ سرسے جاتارہا ۔بیوہ ماں نے سید عباس کی تعلیم و ترتیب کی ذمہ داریاں اٹھائیں ۔
دوسرے حصہ میں سید عباس کی تعلیم و تربیت کا ذکرہے یعنی یہ حصہ لڑکوں کی تعلیم و تربیت سے متعلق ہے ۔نوبرس تک سید عباس نے گھر پر تعلیم حاصل کی پھر مدرسے میں داخل کیے گئے ،تعلیم جاری تھی کہ کہیں سے یہ خبر ملی کہ لاپتہ خواجہ کمیل کے صاحبزادے خواجہ ہزیل حیدر آباد میں ہیں ۔اس خبر کے بعد ماں نے اکلوتے بیٹے سید عباس کو تشویش و خوف کی پرواہ کیے بغیر دکن روانہ کردیا ۔جب یہ حیدرآباد پہنچے تو معلوم ہوا کہ ہزیل حج کو جاچکے ہیں ۔سید عباس اپنے دو ہمراہیوں کے ساتھ بمبئی کو روانہ ہوگئے مگر راہ میں ایک عجیب ماجرا ہوا کہ عباس دلدل میں پھنس کر ساتھیوں سے الگ ہوگئے ۔ان دونوں نے سمجھا کہ عباس مرگئے اب یہ کیا کریں اس پریشانی میں وہ دلی جانے کے بجائے عراق و عرب اور روم و شام گھومتے رہے کہ اچانک ایک روز ان کی ملاقات وہیں عباس سے ہوگئی ۔عباس کو دیکھتے ہی ان کی ساری کلفت دور ہوگئی پھر عباس نے بتایا کہ وہ ماموں کی تلاش میں تنہا مکہ تک گئے اور وہاں سے ان کو ساتھ لے کر مختلف شہروں کی سیر کرتے ترکی (استنبول)کی حکومت میں ملازم ہوگئے ہیں ۔ان کے ہمراہیوں(غلام امام ۔اسلام بیگ ) نے ماں کی یاد دلائی ۔اور کہا کہ :
کیوں جی !بیگم صاحب نے آپ کو اسی لیے بھیجا تھا کہ ماموں جان کو لے کر استنبول چلے جانا اور وہاں امتحان دے کر ترجمانی کی نوکری کرلینا ؟
(مجالس النسا،مولانا الطاف حسین حالی ،ص:۱۵۱)
سید عباس نے دو مہنے کے بعد اسلام بیگ ،غلام امام اورہزیل کو ہندستان روانہ کیاکہ وہ زبیدہ بیگم کو لے کر پہلے حج کریں اور پھر استنبول پہنچ جائیں ۔فریضہ حج کی ادائیگی اور پھر مدینہ کی زیارت وغیرہ سے فارغ ہوکر یہ قافلہ استنبول پہنچتا ہے ۔ان کے آنے کے چند روز بعد سید عباس کی شادی ایک بہت بڑے امیر کی بیٹی سے ہوگئی اور پھر سب وہیں آباد ہوگئے ۔مجالس النسا کے قصے کی یہ مختصر تلخیص ہے ۔
اس کے مطالعہ کے بہت سے پہلو ہیں۔یہ مجلسیں گرچہ الگ الگ ہیںمگر ہر مجلس کسی نہ کسی ایک مرکزی موضوع کے تحت ہے ۔ پہلی مجلس میں علم کی اہمیت اور افادیت کو نمایاں کیا گیا ہے ۔اور اس میں یہ بھی ہے کہ علم عورتوں کے لیے کس قدر ضروری ہے جبکہ دوسری مجلس سے یہ پہلو ابھرتاہے کہ ہنستے کھیلتے کس طر ح بچوں کی اخلاقی تربیت کی جائے ۔تیسری مجلس میں ان توہمات اور رسومیات کا ذکر ہے جس میں عام ہندستانی معاشرہ غلطاں تھا ۔وغیرہ ۔
جیسا کہ آغاز میں لکھا گیا ہے کہ یہ قصہ اصلاً تربیت کے پیش نظر لکھا گیا ہے ۔اس سے پہلے نذیر احمد ،شاد عظیم آبادی (صورت الخیال،ہیئت المفال اور حلیتہ الکمال)اور مرزا عباس حسین ہوش (فسانہ طاہر )کہانی قصوں کی صورت میں بچوں اور بچیوں کے لیے کتابیں لکھ چکے تھے البتہ حالی کے یہاں سارا زورتعلیم اور تربیت پر ہے نہ کہ قصے اور کہانیوں پر ۔انھوں نے جس ماحول کی عکاسی کی ہے اور اس کے لیے جن مثالوں اور زبان کا استعمال کیا ہے، اس میں وسعت اور عمومیت کا پہلو زیاد ہے، جس کی وجہ سے دیگر کتابوں کی بہ نسبت حالی کی’’ مجالس النسا‘‘ کو جو عمومی شہرت ملی اور جس طرح اس کتاب سے استفادہ کیا گیا وہ اس موضوع سے متعلق دیگر کتابوں کو نصیب نہ ہوسکی ۔
چھوٹے چھوٹے بچوں کی تعلیم و تربیت سے متعلق جو تعلیمی نظام اس وقت رائج ہے اور جس بستے کے بوجھ سے نہ صرف بچے بلکہ بچوں کے بڑے بھی پریشان ہیں۔حالی نے سید عباس کی تربیت کے لیے جو نسخہ تجویز کیا ہے وہ اس کی بیوہ ماں نے ابتدائی تعلیم گھر پر دی اور پھر نوسال کی عمر میں بچے کو مدرسے بھیجا:
آٹھ نو برس کی عمر تک میری والدہ نے مجھ کو مکتب میں نہیں بٹھایابلکہ آپ ہی پڑھاتی لکھاتی رہیں۔تین گھنٹے دوپہر سے پہلے اور دو گھنٹے دوپہر کے بعد ،یہ پانچ گھنٹے تو میرے پڑھنے لکھنے کے تھے ۔اس کے سوا صبح سے لے کر رات کے دس بجے تک میرے تمام اوقات ،اور کاموں میں صرف ہوتے تھے ۔(ایضاًص:۱۰۰)
سید عباس کا ایک بیان جو انھوں نے اپنی ماں کے متعلق دیا ہے سماعت فرمائیں
جب تک میں مکتب میں نہیں بیٹھا تھا،اماں جان کو زیادہ خیال میری خصلتیں درست کرنے کا رہتا تھا ۔حق یہ ہے کہ اولاد کے اخلاق اور عادات سنوارنے سے زیادہ مشکل کام نہیں ،مگر ان کو ایسا گر ہاتھ لگا تھا کہ اگر میں کسی قابل ہوتاتو ان کی تربیت سے بہت کچھ فائدہ اٹھاتا۔اول تو ان کی عادتیں اور خصلتیں ایسی تھیں کہ جن کے دیکھنے سے خود بخود آدمیت آتی تھی ۔دوسرے انھوں نے باہر اور اندر کے نوکر بدلتے بدلتے ایسے آدمی چھانٹ لیے تھے کیا مرد اور کیا عورت سب خیرخواہی کے پتلے بنے ہوئے تھے ۔ (ایضاً ص :۱۰۵)
بچوں سے پیار و محبت کی جو حدیں اس کتاب میں متعین کی گئی ہیں وہ تربیت کی شاہ کلید ہیں ۔حالی لکھتے ہیں :
بچے کو پیار کرنا ایسا ہے جیسے کھیتی کو پانی دینا ،جس طرح پانی کی طغیانی کھیتی کو نقصان پہنچاتی ہے اسی طرح حد سے زیادہ پیار بچے کو خراب کردیتا ہے ۔(ایضاًص:۲۹)
سید عباس کی ماں زبیدہ نے اپنی تعلیم و تربیت کا جو حال لکھا ہے اب اس جیسا اہتمام کہا ں نظرآتا ہے ۔اول تو یہی کہ زبیدہ کے لیے ایسی انا تلاش کی گئی تھی جو قوم سے شریف ہو اور خوش مزاج و غیرت دار ہو ۔اس کے علاوہ جو مغلانی نوکر تھی وہ سینے پرونے کے کام میں نہایت ہوشیار تھی اس نے کپڑے کے جو کھلونے زبیدہ کے لیے تیار کیے تھے ان کے عجیب وغریب نام تھے ۔بقول حالی :
جو بہت بری صورت کے تھے اور ان کے دیکھنے سے نفرت آتی تھی ان میںسے کسی کانام غصہ تھا تو کسی کانام بدزبانی ،کسی کانام غیبت ،کسی کانام جھوٹ،کسی کانام شوخی ،کسی کانام لتری،کسی کانام پھوہڑ،کسی کانام ہٹ،کسی کا نام زبان دراز ،کسی کانام کام چور ،کسی کانام سستی ،کسی کانام کاہلی۔انھیں میں ایک کھلونا دو پچھلپائیوں کی شکل کا تھا اس کانام لڑائی جھگڑا تھا ۔اس کی صورت سے صاف یہ معلوم ہوتا تھا کہ دو بھتنیاں لڑرہی ہیں ،اِس کے جھونٹے اُس کے ہاتھ میںہیں،اُس کے جھونٹے اِس کے ہاتھ میں۔اور ایک گھوڑا بھی انھیں میں تھا،اس کی عجب صورت تھی ،پھٹی پھٹی آنکھیں،بھیانک صورت،بال بکھرے ہوئے ،زبان باہر کو نکلی ہوئی ،اُس میںایک کل لگی ہوئی تھی،جہاں اُسے دبایا اور وہ بھاگا،دوگز تک تو وہ ایسا جاتاجیسے ناوک کا تیر اور پھر منھ کے بل گر کرلوٹ پوٹ ہوجاتا،اس کانام جلد بازتھا۔(ایضاًص۳۱۔۳۲)
اچھی صورتوں کے نام یہ تھے :
ان میں کسی کا نام تو حیاتھا،کسی کانام غیرت،کسی کانام سلیقہ،کسی کانام ستھرائی،کسی کانام پارسائی،کسی کانام تحمل،کسی کانام صبر،کسی کانام قناعت،کسی کانام سلوک،کسی کانام ملاپ،کسی کانام فرماں بردار،انھیں میں ایک کھلونا ہرن کی صورت کا تھا ،اس کے تیور سے صاف یہ معلوم ہوتا تھا کہ اب اڑجائے گا،اس کانام چستی تھا۔اور انھیں میں ایک نہایت خوب صورت پری تھی ،وہ ایسی معلوم ہوتی تھی کہ جیسے کوئی مسکراتا ہو ،اور بے اختیار یہ جی چاہتا تھا کہ اسے دیکھے جائیے،اُس کانام ہنس مکھ تھا (ایضاًص:۳۲)
یہ کھلونے اسی مقصد سے بنوائے گئے تھے کہ اچھی عادت اختیار کی جائے اور بری عادتوں سے نفرت ہوجائے۔وہ تربیت کے نئے نئے پہلو اختیار کرتیں ۔ انھوں نے سارا زور تعلیم اور تربیت پر ہی دیا ۔وہ چاہتے تھے کہ معاشرتی رسموں کی وقتی ادائیگی کے بجائے ایسے کاموں پر توجہ دی جائے جن کا فائدہ دائمی ہو اور جن سے پورا معاشرہ مستفید ہو ۔انھوں نے بطور مثال لکھا ہے یہ کہیں دیکھنے میں نہیں آیا کہ مفلس سے مفلس باپ نے بھی اپنی بیٹی کو شربت کے پیالے اور چھواروں پررخصت کیا ہو ۔تو ایسا کیوں نہ ہوتا کہ لوگ لڑکیوں کو جاہل رکھنے میں عیب سمجھیں ۔ان کا خیال یہی تھا کہ اگر لڑکیاں تعلیم حاصل کرلیں تووہ پھر اپنی اولاد کی تعلیم خود دلادیں گی جیسا کہ زبیدہ نے کیا ۔تعلیم کی کمی سے معاشرتی کج روی اور رسم و رواج کی جو نئی نئی دیواریں کھڑی ہوتی ہیں وہ کسی سماج کے لیے انتہائی بھیانک ہوتی ہیں ۔حالی نے تیسری مجلس میں نحوستوں کی تفصیل بیان کی ہے ۔
قینچی نہ بجاؤ،دسینا نہ بجاؤ،چاقوں سے ناخن نہ لو ،ٹھلیاپر ہاتھ دھر کے پانی نے پیو ،یہ سب باتیں نحوست کی نشانی ہیں ،ننگے سر پانی پیو تو سر ہاتھ پر رکھ لو ،چوکھٹ پر ہاتھ رکھ کر کھڑے نہ ہو اور بھولے سے رکھ دیا تو دونوں ہاتھوں کو چوم لو ،دوآدمیوں کے بیچ میں سے آگ نہ نکالو نہیں تو ان میں لڑائی ہوجائے گی ،چھلنی سر پر نہ رکھو نہیں تو گنج ہوجائے گا ،ترازو سے کھڑے ہوکر نہ تو لو نہیںتو برکت جاتی رہے گی کھانا کھاکر انگڑائی نہ لو نہیں تو کھایا پیا سب کتے کے پیٹ میں چلا جائے گا ،جھاڑو کو بدن سے نہ لگنے دو نہیں تو بدن سینک سا ہوجائے گا ،وغیرہ (ایضاً ص:۴۶۔۴۷)
اسی میں یہ بھی لکھا ہے کہ بدھ کے دن کسی کے یہاں نہ جاؤ ،رات کو کتّے بھونکیں تو سمجھو کہ انھیں شیطان دکھائی دیتے ہیں اور کپڑا بیونتو تو زمین کو چھوا لو ۔وغیرہ اس کے علاوہ بھی بہت سی ایسی بدعات و خرافات کا ذکر کتاب میں موجود ہے جن سے عام معاشرہ کی بد عقیدگی کا پتا چلتا ہے ظاہر ہے یہ سب تعلیم کی کمی کا نتیجہ ہے ۔حالی نے لکھا ہے کہ جب بچے کی انکھیں دکھیں گی تو حکیم یا کحال سے علاج نہیں کروائیں گے ۔
جس عورت کی اولاد نہیں جیتی ،اس کے کچھ اور ہی اور علاج ہیں ،کہیں گڑہنت ہے ،کہیں نہان ہے ،کہیں یہ روک ٹوک ہے کہ کڑھائی کا پکانہ کھائے ،انڈا نہ کھائے ،مچھلی نہ کھائے ،گڑیا دودھ دہی نہ کھائے ،میت میں نہ جائے،چھٹی میں نہ جائے ۔اس کے سوا اور بیسیوں خرافات ہیں ۔…خدا کو چھوڑ کر کوئی اللہ بخش کو مانتی ہے ،کوئی شیخ سدوکا بکرا دیتی یہ ،کوئی سید احمد کبیر کی گائے چڑھاتی ہے ،کہیں بالے میاں پجتے ہیں ،کہیں ننھے میاں مانے جاتے ہیں ،کہیں دریاخاں کا عمل دخل ہے ۔غرض اسی طرح جسے دیکھو ایک نہ ایک بلا میں پھنسی ہوئی ہے ۔(ایضاً۵۳۔۵۴)
جن لوگوں نے اس طرح کا ماحول نہیں دیکھا ہے انھی ان باتوں پر مشکل سے ہی یقین آئے گا ۔مگر قصے اور کہانی کی شکل میں حالی کا یہ بیان دہلی اور اطرارف دہلی کے معاشروں کی حقیقت کا عکاس ہے ۔مشتاق احمدیوسفی نے ایک جگہ اسی بات کو اپنے انداز میں لکھاہے کہ :
مجھے اس پر قطعاً تعجب نہیں ہوتاکہ ہمارے ملک میں پڑھے لکھے لوگ خونی پیجش کا علاج گنڈے تعویذوںسے کرتے ہیں۔غصہ اس بات پر آتا ہے کہ وہ واقعی اچھے ہوجاتے ہیں ۔ (چراغ تلے ،مشتاق احمدیوسفی ص :۲۴)
مجالس النسا کی ان سطروں کو پڑھے ہوئے مسدس کے یہ بند اگر یادآجائیں تو کوئی تعجب نہیں ۔حالی نے مسدس میں لکھا ہے کہ :
کرے غیر گر بت کی پوجا تو کافر
جو ٹھہرائے بیٹاخدا کا تو کافر
جھکے آگ پر بہر سجدہ تو کافر
کواکب میں مانے کرشمہ تو کافر
مگر مومنوں پر کشادہ ہیں راہیں
پرستش کریں شوق سے جس کی چاہیں
نبی کو جو چاہیں خدا کردکھائیں
اماموں کا رتبہ نبی سے بڑھائیں
مزاروں پہ دن رات نذریں چڑھائیں
شہیدوں سے جاجاکے مانگیں دعائیں
نہ توحیدمیں کچھ خلل اس سے آئے
نہ اسلام بگڑے نہ ایمان جائے
حالی نے جن رسومیا ت کا ذکر یہاں کیا ہے اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اس وقت معاشرہ کن حالات سے گزر رہا تھا اور حالی نے اس کی ترقی اور کامرانی کا جو نسخہ تجویز کیا تھا وہ کس قدر کارگر تھا ۔انھوں نے ایک ایک چیز کا جس باریک بینی سے مشاہدہ کیا اور اس پر قلم اٹھایا وہ صرف علمیت یا قابلیت کی نتیجہ نہیں کہا جاسکتا بلکہ سوسائٹی سے گہرے ربط و ضوابط کا غماز ہے ۔ عیاں رہے اس سے حالی کی درد مندی اور ان کی جرأت دونوں کا پتا چلتا ہے ۔اس زمانے میں معاشرہ کی کج روی کو اس قدر شرح و بسط کے ساتھ کون لکھ سکتا ہے یہ کتاب تو اس عہد کے معاشرہ کا آئینہ کہی جاسکتی ہے اور یہی کیا بلکہ مناجات بیوہ ،چپ کی داد یہ عام ہندستانی معاشرت اور سماج کی آئینہ دار ہیں تو مسد س حالی سے ہر سطح پر مسلمانوں کے رویے کا اندازہ کیا جاسکتا ہے ۔ترقی پسند حلقہ چاہے جو بھی کہے مگرحالی اور اس عہد کے بعض دوسرے بزرگوں میں جوسماجی شعور اوراحساس تھا اس کی گرد بھی دوسرے لوگ نہیں پا سکے ۔
عورتوں میں تعلیمی بیداری کا آج جس قدر ہوا کھڑا کیا جارہا ہے اور حکومتی سطح پر لڑکیوں اور خواتین کی جو جو اسکیمیں انھیں خود کفیل اور بااختیار بنانے کے لیے تیار کی جارہی ہیں۔وہ ایک صدی پہلے حالی اور شبلی بنا چکے تھے ۔شبلی لڑکیوں اور لڑکوں کے لیے یکساں نصاب تعلیم کے حامی تھے ۔وہ لڑکیوں کی ایسی تعلیم کے حامی تھے جس سے وہ خود کفیل ہوسکیں ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ مجالس النسا تعلیم و تربیت کا ایک بہتر ین خاکہ ہے اور آج کے زمانے کے لحاظ سے بھی اس کو رہنما بنایا جاسکتا ہے ۔
مجالس النسا کا اسلوب بیان بالکل سادہ اور آسان ہے ۔کسی طرح کی بناوٹ اور پیچیدگی نہ تو قصے میں ہی ہے اور زبان و بیان میں ۔ماں بیٹی اور بیٹے کے گرد ہی سار قصہ گھومتا ہے ،حسن و عشق کا دور دور تک گزر نہیں اس کے باوجود کتاب کی دلکشی اور مقبولیت کا عالم یہ ہے کہ مدتوں یہ پنجاب میں لڑکیوں کے مدرسے میں داخل نصاب رہی اور ۱۸۷۴ ہی میں ہی لارڈ ناتھ بروک نے ایک تعلیمی جشن میں مولانا کو چار سو روپے انعام کے طور پر دیے تھے۔اس وقت سے لے کر آج تک اس کتاب کے کتنے ایڈیشن شائع ہوئے اندازہ لگانا مشکل ہے ۔جب تک یہ کتاب شامل رہی اس کی اشاعت زیادہ تھی مگر اب بھی اس کتاب کا شمار نایاب یا کمیاب کتابوں میں نہیں ہوتا۔
یہ حالی کی عظمت ہی کہی جائے گی کہ انھوں نے جس چیز کو غلط سمجھا اس پر کس قدر نرمی اور ملائمیت کے ساتھ ہاتھ رکھا ۔طنزوتعریض کے بجائے درد مندی اور دلسوزی کے ساتھ ان امور کی نشاندہی کی جو تنزل کا سبب تھے اور انھیں ایک بہتر سماج کی تشکیل کے بہت سے عناصر کی نشاندہی کی ۔یہ کام سماجی مصلح یا سماج سے غیر معمولی ربط و تعلق رکھنے والا شخص ہی کرسکتا تھا ۔
کتابیات :
۱۔تاریخ ادب اردو جلد چہارم (حصہ دوم )ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس ۔دہلی ۲۰۱۳
۲۔چراغ تلے،مشتاق احمد یوسفی ،ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس۔دلی ۲۰۱۲
۳۔مجالس النسا،خواجہ الطاف حسین حالی ،مکتبہ جامعہ لمٹیڈ ۔نئی دہلی ۱۹۷۱
۴۔مسد حالی ،خواجہ الطاف حسین حالی ،
نوٹ: مضمون نگار شعبۂ اردو، مولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی ۔لکھنؤ کیمپس میں اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدے پر فائز ہیں۔
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

