تازہ خون میں ملی ہوئی مٹی (افسانوی مجموعہ)/ مشتاق مومن-مبصر : نوشاد منظر
آزادی کے بعد ترقی پسندفکرسے ادیب کا ایک بڑا طبقہ بیزار ہوکر ادب میں جدید تصور کو فروغ دینے اور افسانوں میں کہانی پن سے انحراف کرنے لگا،افسانوی ادب میں اس رجحان نے کہانی پن کی لے کو مدھم کردیا،بعد میں اس رجحان کو ’ جدیدیت‘ کا نام دیا گیا۔جدیدیت والوں نے علامتی اور تجریدی افسانے لکھے۔1970 تک جدیدیت کا اثر اردو ادب پر واضح نظر آنے لگا تھا۔جدیدیت کے اس بڑھتے ہوئے رجحان کا اثر یہ ہوا کہ افسانوں میں کہانی پن سے با ضابطہ انحراف کیا جانے لگا، ایسے وقت میں چند ایسے افسانہ نگار سامنے آئے جنہوں نے افسانوں کے لیے کہانی پن کو ضروری قرار دیا،ان افسانہ نگاروں میں مشتاق مومن کا بھی شمار ہوتا ہے۔ مشتاق مومن1970 کے بعد افسانہ لکھنے والی اس نسل سے تعلق رکھتے ہیں جنہوں نے اپنے فن اور اسلوب سے فن افسانہ کو ایک نئی سمت عطا کی۔
زیر تبصرہ افسانوی مجموعہ’’تازہ خون میں ملی ہوئی مٹی ‘‘مشتاق مومن کا دوسرا افسانوی مجموعہ ہے جس کی اشاعت ان کے انتقال کے تقریباً دو برس بعد ان کی اہلیہ محترمہ فریدہ مشتاق مومن کی ذاتی دلچسپی سے عمل میں آیا۔مشتاق مومن کا پہلا افسانوی مجموعہ ’’رت جگوں کا زوال‘‘ 1985 میں منظر عام پر آیا تھا۔اس طرح تقریبا 30 برسوں تک ان کا کوئی بھی افسانوی مجموعہ منظر عام پر نہیں آیا،حالانکہ اس درمیان ان کے افسانے مختلف رسالوں میں شائع ہوتے رہے مگر مسلسل بیماری کی وجہ سے ان کا افسانوی مجموعہ شائع نہیں ہو سکا۔
’’تازہ خون میں ملی ہوئی مٹی ‘‘ میں چودہ افسانوں کے علاوہ دور حاضر کے اہم افسانہ نگار سلام بن رزاق کا دیباچہ بعنوان ’یادوں کی دھند میں لپٹے افسانے‘ اور فریدہ مشتاق مومن کی تحریر’’ بھولی بسری یادیں‘‘اس کتاب میں شامل ہیں۔فریدہ مشتاق مومن نے مشتاق مومن کی زندگی سے جڑی کہانیوں اور واقعات کو کچھ اس طرح پیش کیا ہے کہ مشتاق مومن کی شخصیت قاری پر عیاں ہوجاتی ہے،جب کہ سلام بن رزاق نے مشتاق مومن کے افسانوں کے موضوعات پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔
افسانوی مجموعہ’’تازہ خون میں ملی ہوئی مٹی ‘‘ میں شامل افسانے کئی لحاظ سے اہم اور منفرد ہیں ، ان افسانوں کی پہلی خوبی یہ ہے کہ افسانے کے مواد کو مصنف نے اپنے ارد گرد کے ماحول سے حاصل کیا ہے ،یہ افسانے محض تفریح کے لیے نہیں لکھے گئے ہیں بلکہ ان میں حقیقت پسندی کا احساس ہوتا ہے جس کی وجہ سے قاری کو یہ کہانیاں اپنی معلوم ہوتی ہیں۔ان کہانیوں میں ایک نامعلوم خوف اور عدم تحفظ کا احساس بھی نظر آتا ہے۔اس خوف سے انسانی زندگی کس قدر متاثر ہوتی ہے اس کی بہترین مثال مجموعے میں شامل افسانہ ’ترنت شور مچائیے اور انعام پائیے‘‘میں موجود ہے۔افسانہ ’ترنت شور مچائیے اور انعام پائیے‘ دراصل 2009 میں دہلی میں ہوئے بم دھماکوں کے بعد پیدا ہوئے صورت حال کو بیان کرتا ہے۔ان بم دھماکوں کے بعد جو صورت حال پیدا ہوتی ہے اس سے ہر کوئی واقف ہے۔ان بم دھماکوں کے بعد بہت سے بے قصور مسلم نوجوانوں کو پولیس نے گرفتار کرلیا،اس صورت حال سے مصنف کو بھی دوچار ہونا پڑا۔مصنف اپنے چند احباب سے ملاقات کے لیے دہلی آئے اور بس کے سفر میں ایک چھوٹے سے واقعے اور اس کے بعد پیدا ہوئی غلط فہمی نے انھیں منٹوں میں دہشت گرد ی اور بم دھماکہ کی سازش کے الزام میں جیل پہنچا دیا۔یہ کہانی ان سیکڑوں بے قصور نوجوانوں کی داستان ہے جوبغیر کسی جرم کے جیل کی صعوبتیں جھیلنے پر مجبور ہیں۔یہ کہانی اپنے موضوع کے لحاظ سے نئی ہے اور آخر تک قاری کو اپنی طرف متوجہ کئے رہتی ہے۔
مشتاق مومن نے عورتوں کے مسائل کو بھی اپنا موضوع بنایا حالانکہ ان کے یہاں عورتوں سے متعلق وہ رویہ نظر نہیں آتا جسے ہم تانیثیت کے نام سے جانتے ہیں۔ مشتاق مومن کے تانیثی کردار عام ہیں جو ہر مہذب سماج میں آسانی سے مل جاتی ہیں۔ ان کا ایک افسانہ ’’دو ہاجن‘‘ ہے۔یہ ایک ایسی عورت کی کہانی ہے جو اپنے شوہر سے بے انتہا محبت کرتی ہے مگر اچانک ایک حادثے میں اس کے شوہر کی موت ہوجاتی ہے۔ شوہر کی موت کے بعد اسے اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہوتا ہے اور وہ ایک اسکول میں نوکری کرنے لگتی ہے۔نوکری سے اس کی زندگی کی بہت سی پریشانیاں دور ہوجاتی ہیں مگر شوہر کی کمی کا احساس اسے بے چین کرنے لگتا ہے اور آخر ایک دن وہ کسی دوسرے مرد سے شادی کرلیتی ہے۔یہ ایک نفسیاتی افسانہ ہے جس میں عورتوں کی جنسی ضرورت کو نہایت سلیقے کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔اس عورت کے لیے شادی کا مسئلہ محض جنسی ضرورت کو پورا کرنا نہیں تھا بلکہ وہ ان لوگوں سے خود کو محفوظ بھی رکھنا چاہتی ہے جو مجبور اور بیوہ عورتوں کو اپنی ہوس کا شکار بنانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں ۔ گرچہ مشتاق مومن کے کردار احتجاجی قسم کے نہیں ہیں مگر وہ اپنے اوپر ہو رہے ظلم کو برداشت نہیں کرتے۔
بہرکیف ’’ تازہ خون میں ملی ہوئی مٹی‘‘ میں شامل بیشتر افسانے کا تعلق ہمارے ارد گرد کے ماحول سے ہے،مشتاق مومن کے افسانوں کی زبان نہایت شگفتہ اور آسان ہے انہوں نے تشبیہ و استعار ے اور ابہام سے اپنی نثر کو بچائے رکھنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔
مجموعی طور پر ’’ تازہ خون میں ملی ہوئی مٹی ‘‘میں شامل افسانے اچھے ہیں ،چند ایسی کہانی بھی اس میں شامل ہیں جن کی سحر کا اثر قاری پر بہت دیر تک رہتا ہے۔آج اگر چہ مشتاق مومن ہمارے درمیان موجود نہیں مگر ان کی تحریریں ایسی ہیں جو انھیں حیات جاودانی عطا کریں گی۔کتاب کی طباعت اچھی ہے،سرورق بھی اچھا اور معنی خیز ہے،قیمت تھوڑی زیادہ ہے۔
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

