Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
اسلامیاتگوشہ خواتین و اطفال

خوش گوار ازدواجی زندگی کے اصول قرآن و سنت کی روشنی میں-ساجدہ ابواللیث فلاحی

by adbimiras ستمبر 6, 2020
by adbimiras ستمبر 6, 2020 0 comment

انسانی تہذیب و تمدن کی ابتدا خاندان سے ہوئی اور اس کی بنیاد حضرت آدمؑ اور حضرت حواؑ کے ذریعہ پہلے گھراور خاندان کی شکل میں ڈالی گئی۔محبت اور انسیت جو انسانی نفس کے ضمیر میں شامل ہے،خاندان کے استحکام اور بقا کا باعث بنی۔ انسانی روح ہمیشہ اس کے لیے     بے تاب رہی ہے اور انسان اس کے بغیر جسمانی،ذہنی اور روحانی اذیت کا شکار رہا۔اکیسویں صدی کو انسانی ترقی کا عروج اور انتہا سمجھا جاتا ہے۔سائنس اور ٹکنالوجی کے ذریعہ انسان چاند اور مریخ تک پہنچ گیا اوراس نے زندگی کی آسائشوں کے لیے ایسی چیزیں ایجاد کر لی کہ عقل حیران ہو جاتی ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ جہاں یہ صدی انسانی دماغ کی ترقی کی انتہا کو ظاہر کرتی ہے وہیں یہ انسانی محبت کی تباہی کا آغاز بھی ہے اور اس نے مادی سہولتوں،آسانیوں اور مشینوں کے عوض انسانی وجود سے وابستہ رشتوں اور محبتوں کا خاتمہ بھی کر دیا۔موجودہ دور میں انہیں بنیاد پر مغرب میں خاندانی نظام تباہ و برباد ہو چکا ہے۔

خاندان مرد اور عورت کے نکاح کے ذریعے وجود میں آتا ہے جسے شوہراور بیوی کا نام دیا گیا۔اس کی بنیاد محبت پر ہوا کرتی ہے۔ اسلام زوجین کے درمیان محبت و شفقت،احترام و ہمدردی اور ایثار و اعتماد کا رشتہ قائم کرتا ہے۔اسی لیے اس نے شوہر اور بیوی کو ایک دوسرے کا حریف نہیں، بلکہ معاون و مددگار قرارد یااور اسے ’لباس‘ سے تعبیر کیا۔اللہ تعا لیٰ کا ارشاد ہے:

ہُنَّ لِبَاسٌ لَّکُمْ وَأَنتُمْ لِبَاسٌ لَّہُنَّ۔(البقرۃ:178)

”وہ تمہارے لیے لباس ہیں اور تم ان کے لیے۔“

مزید یہ کہ اللہ تعالیٰ نے دونوں کو ایک دوسرے کے لیے باعث ِ سکون بنایا۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:

وَمِنْ آیَاتِہِ أَنْ خَلَقَ لَکُم مِّنْ أَنفُسِکُمْ أَزْوَاجاً لِّتَسْکُنُوا إِلَیْْہَا وَجَعَلَ بَیْْنَکُم مَّوَدَّۃً وَرَحْمَۃً۔(الروم:21)

”اورا س کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری جنس سے بیویاں پید اکیں تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کر دی۔“

اسلام نے میاں بیوی کی سرگرمیوں کے دائرے متعین کر دیے ہیں کہ دونوں میں سے ہر ایک کا مخصوص کردار اور دائرہ عمل ہے،جس میں اس نے رہ کر کام کرنا ہے اور ہر ایک سے اسی کے تعلق سے سوال کیا جائے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

کلکم راع و کلکم مسؤل عن رعیتہ،والامیر راع،والرجل راع علیٰ اھل بیتہ و المراۃ راعیتہ علیٰ زوجھا و ولدہ،فکلکم راع و کلکم مسؤل عن رعیتہ۔(بخاری:5200)

”تم میں سے ہرشخص ذمہ دار ہے،اورہر شخص سے اس کے متعلقین اور ماتحت لوگوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔  حاکم ذمہ دار ہے،مرد اپنے گھر والوں کے متعلق ذمہ دار ہے اور عورت اپنے شوہر کے گھر اور اپنے بچوں کی ذمہ دار ہے،تم میں سے ہر شخص ذمہ دارہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔“

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی معاشرے میں بیوی،بچوں کی کفالت اور تعلیم و تربیت کا ذمہ دار مرد ہے اور بیوی کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ بچوں کی نگہداشت کرے اور ان کی بہترین تعلیم و تربیت کا اہتمام و انتظام کرے اور گھر کو خوش اسلوبی سے سنبھالے،لیکن ایسا تب ہی ممکن ہوگا جب زوجین کے درمیان محبت و الفت کی فضا قائم ودائم رہے اور ان کی ازدواجی زندگی خوش گوار رہے۔اس سلسلے میں اسلام نے واضح تعلیمات دیں،احکامات دیے اور عملی مثالیں قائم کیں کہ بیوی کے ساتھ کیسا معاملہ کرنا ہے اور خود بیوی سے کہا کہ کبھی اپنی حیثیت اور مقام و مرتبے سے غفلت نہ برتے۔حقیقت یہ ہے کہ خوش گوار ازدواجی زندگی کے لیے میاں اور بیوی دونوں کو ہی اسلامی تعلیمات پر عمل کرنا ضروری ہے۔وہ تعلیمات اور احکامات کیا ہیں؟اس کے لیے ہمیں قرآن و حدیث کی طرف رخ کرنا چاہیے۔

عورت کے ساتھ خیر کا معاملہ کرنا

اللہ تعالیٰ نے عورت کو انتہائی بلند مقام و مرتبہ عطا فرمایااور شوہر کو حکم دیا کہ وہ اس کے ساتھ اانصاف سے کام لے،اس کا احترام و اکرام کرے اور اچھے سلوک سے پیش آئے،خواہ وہ اسے ناپسند کرتا ہو۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

وَعَاشِرُوہُنَّ بِالْمَعْرُوفِ فَإِن کَرِہْتُمُوہُنَّ فَعَسَی أَن تَکْرَہُواْ شَیْْئاً وَیَجْعَلَ اللّہُ فِیْہِ خَیْْراً کَثِیْراً۔(النساء:19)

”اور ان کے ساتھ بھلے طریقے سے زندگی بسرکرو،اگر وہ ناپسند ہو تو ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں پسند نہ ہو مگر اللہ تعالیٰ نے اسی میں بہت کچھ بھلائی رکھ دی ہو۔“

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی عورت کے بارے میں خیر کی وصیت کی ہے۔مختلف احادیث اس طرف بحسن و خوبی اشارہ کرتی ہیں:

استوصوا بالنساء خیراً فان المراۃ خلقت من ضلع وان اعوج شئی فی الضلع اعلاہ فان ذھبت تقیمہ کسرتہ،و ان ترکتہ لم یزل اعوج،فاستوصوا بالنساء۔(بخاری:3331)

”عورت کے ساتھ اچھا سلوک کرو،عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے اور پسلیوں میں سب سے زیادہ ٹیڑھا حصہ اوپر کا ہے،اگر اس کو سیدھا کرو گے تو ٹوٹ جائے گی اور اگر چھوڑے رہو گے تو ٹیڑھی ہی رہے گی،پس عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔“

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ عورت شوہر خواہش و مرضی کے مطابق ہمیشہ ایک حال پر قائم نہیں رہ سکتی ہے،اس لیے شوہر کو یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ اس کی فطرت،عادت اور مزاج میں سے ہے اس لیے وہ اس پر اپنی مرضی کے مطابق زیادہ سختی نہ کرے،بلکہ اس کے نسوانی مزاج کا خیال رکھتے ہوئے اس کی لغزشوں،کوتاہیوں اور غلطیوں سے درگزراور چشم پوشی سے کام لے۔

عورت سے حسن سلوک کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کس قدر خیال تھا اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپؐ نے خطبۃ حجۃ الوداع میں بھی اس کا خیال رکھا اور فرمایا:

”لوگو!سنو!عورتوں کے ساتھ اچھے سلوک سے پیش آؤ،کیوں کہ وہ تمہارے پاس قیدیوں کی طرح ہیں،تمہیں ان کے ساتھ سختی کا برتاؤ کرنے کا کوئی حق نہیں،سوائے اس صور ت کے جب ان کی طرف سے کوئی کھلی ہوئی نافرمانی سامنے آئے۔اگر وہ ایسا کر بیٹھیں تو پھر خواب گاہوں میں ان سے علیحدہ رہو اور انہیں ماروتو ایسا نہ مارنا کہ کوئی شدید چوٹ آئے اور پھر جب وہ تمہارے کہنے پر چلنے لگیں تو ان کو خواہ مخواہ ستانے کے بہانے نہ ڈھونڈو۔دیکھو!تمہارے کچھ حقوق تمہاری بیویوں پر ہیں اور تمہاری بیویوں کے کچھ حقوق تم پر ہیں،ان پر تمہارا حق یہ ہے کہ وہ تمہارے بستروں کو غیروں سے محفوظ رکھیں اور تمہارے گھروں میں ایسے لوگوں کو ہرگزنہ گھسنے دیں جن کا آنا تمہیں ناگوار ہو اور سنو!ان کا تم پر یہ حق ہے کہ تم انہیں اچھا کھلاؤ اور پہناؤ۔“(ترمذی:۳۶۱۱)

عورت کے ساتھ محبت اور اخلاق سے پیش آنا

اسلام نے مسلمانوں کو اپنی بیویوں کے ساتھ محبت اور خوش اخلاقی سے پیش آنے کی تعلیم کی دی ہے۔اس کی ایک شکل یہ بھی ہے وہ جب گھروں میں داخل ہوں تو سلام کیا کریں۔اللہ تعالیٰ کا ارشادِ مبارک ہے:

فَإِذَا دَخَلْتُم بُیُوتاً فَسَلِّمُوا عَلَی أَنفُسِکُمْ تَحِیَّۃً مِّنْ عِندِ اللَّہِ مُبَارَکَۃً طَیِّبَۃً۔(النور:61)

”جب گھروں میں داخل ہوا کرو تو اپنے اہل خانہ کو سلام کیا کرو،اللہ تعالیٰ کی طرف سے مبارک اور پاکیزہ تحفہ ہے۔“

اگر بیوی کو تھکن،اکتاہٹ اور تنگی محسوس ہو تو شوہر بیوی کے کام میں ہاتھ بھی بٹائے اور نرم یا میٹھی باتوں سے اس کی دلجوئی کرے،تاکہ اسے احساس ہو کہ وہ ایک کریم اور حلیم و بردبار شوہر کے ساتھ زندگی بسر کر رہی ہے جو اس کی دیکھ بھال کرتا ہے اور اس کے معاملات پر توجہ بھی دیتا ہے۔اس میں کسی قسم کی عار یا شرمندگی محسوس نہیں کرنی چاہیے۔خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ ہمارے سامنے ہے۔

اسلام نے عورت کو شوہر سے لطف اندو ز ہونے کا پورا حق دیا ہے،اسی لیے شوہر کو اس بات کی اجازت نہیں دی کہ وہ ہر وقت عبادات میں مشغول رہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہمیشہ تعبدی زندگی اور ازدواجی زندگی کے درمیان اعتدال اور توازن قائم رکھنے کا حکم دیا کرتے تھے۔چناں چہ جب ان کو عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ کی عبادات میں غلو کی خبر ملی تو ان سے فرمایا:

”مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم دن میں مسلسل روزے رکھتے ہو اوررات میں نمازیں پڑھتے ہو،کیا یہ صحیح ہے؟عرض کیا:کیوں نہیں اے اللہ کے رسول:آپؐ نے فرمایا:ایسا نہ کرو،کبھی روزہ رکھو اور کبھی نہ رکھو،کچھ وقت سویا کرو اور کچھ وقت نماز پڑھا کرو،کیوں کہ تم پر تمہارے بدن کا بھی حق ہے،تمہاری آنکھوں کا بھی حق ہے،تمہاری بیوی کا بھی حق ہے اور تمہارے مہمانوں کا بھی حق ہے۔“(بخاری:1975

عورت کے ساتھ کھیل اورہنسی مذاق کرنا

خوش گوار ازدواجی زندگی کے لیے یہ عورت کے ساتھ ہنسی مذاق یا کھیل کود کرنا بہت اہمیت کا حامل ہے۔اس سلسلے میں بڑے بڑے دین دار اور علمائے کرام غلطی کر جاتے ہیں۔مردوں کا کچھ ایسا ذہن بن گیا ہے کہ وہ اسے غیر ضروری اور ’شوہرانہ رعب‘ کے خلاف سمجھتے ہیں۔جب کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنی پوری زندگی میں بلند مقام پر تھے،بڑی ذمہ داریاں انجام دیتے،دین کی بنیادیں راسخ کرتے،جہاد کے لیے فوج تیار کرتے اور دیگر عظیم کاموں میں مصروف رہتے تھے،پھر بھی اپنی ازواج کے ساتھ خوش طبعی،دل لگی،ہنسی مذاق کرتے تھے۔حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں:

”وہ ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھیں،انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دوڑ میں مقابلہ کیا تو وہ جیت گئیں،پھر جب بدن پر گوشت چڑھ گیا اور وہ فربہ ہو گئیں تو ایک سفر میں دوڑ کا مقابلہ ہوا،اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھ گئے۔آپؐ نے فرمایا یہ اس جیت کا بدلہ ہے۔“ (ابوداؤد:2578)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کے دلوں میں خوشی اور مسرت پیدا کرنے کے لیے مختلف قسم کے جائز کھیل دکھانے کے لیے لے جاتے تھے۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں:

”اللہ کی قسم!مجھے وہ منظر اب تک یاد ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے حجرے کے دروازے پر کھڑے ہیں،حبشی مسجد نبوی میں نیزوں کے ذریعے کھیل رہے ہیں۔آپؐ مجھے اپنی چادر میں چھپائے ہوئے ہیں اور آپؐ کے کندھے اور کان کے درمیان سر رکھے ان کا کھیل دیکھ رہی ہوں،پھر آپؐ میری ہی وجہ سے کھڑے رہتے ہیں اور اس وقت تک کھڑے رہتے ہیں جب تک میں خود نہ پلٹ جاؤں۔“(مسلم:892)

عورت کی تعریف کرنا اور نقص کی اصلاح کرنا

خوش گوار ازدواجی زندگی کے لیے یہ پہلو بھی بہت اہمیت کا حامل ہے،لیکن ہمارے معاشرے میں اس کا فقدان ہے۔ بیوی خواہ کتنا ہی اچھا کام کر دے یا کتنا ہی اچھا پکا دے لیکن شوہر جلدی بیوی کی تعریف نہیں کرتا ہے۔ہاں اگر اتفاقاً مزاج کے خلاف پک جائے یا کوئی اور بات ہو جائے تو غصے سے اس کی گردن کی رگیں پھول جاتی ہیں اور وہ آنکھوں سے غیظ و غضب کے شرارے نکلنے لگتے ہیں،جس سے میاں بیوی کے درمیان لڑائی جھگڑا شروع ہو جاتا ہے اور رشتوں میں تلخی آجاتی ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کھانے میں عیب نہیں نکالا:

ما عاب طعاماً قط:ان اشتھاہ اکلہ،و ان کرھہ ترکہ۔(بخاری:3563)

”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کھانے میں عیب نہیں نکالا،اگر پسند آیا تو کھا لیا ورنہ چھوڑ دیا۔“

ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر والوں سے سالن مانگا،انہوں نے کہا ہمارے پاس سرکہ ہے،آپ نے اس منگایا اور آپ اسے تناول فرماتے جاتے تھے اور کہتے جاتے تھے:

”سرکہ کیا ہی اچھا سالن ہے،سرکہ کیا ہی اچھا سالن ہے۔“(مسلم:2052)

اسی طرح عقلمند شوہر جب بیوی میں کوئی کمی،نقص اور خامی پاتا ہے تووہ اس کی اصلاح احسن طریقے سے کرتا ہے، اس کے لیے وہ لطیف،خوش گواراور کام یاب راستہ اختیار کرتا ہے اوروہ سب کے سامنے لعنت ملامت،طنزاور سرزنش نہیں کرتا ہے کیوں کہ عورت کو سب سے زیادہ تکلیف اسی صورت میں پہنچتی ہے جب اسے سب کے سامنے لعنت ملامت کی جائے۔حساس اور باشعور مرد اس کا خیال رکھتے ہیں۔

عورت پر اعتماد کرنا

ازدواجی زندگی میں ایک دوسرے پر اعتماد کرنا بہت ضروری ہے۔ضرورت سے زیادہ حساس اور شکی مزاج ہونے سے آپس میں نااتفاقی اور لڑائی ہوتی ہے اور فاصلے بڑھ جاتے ہیں جس سے غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں اور پھر وہ بھی سنائی دینے لگتا ہے جو کہا بھی نہ گیا ہو۔ایسے موقع پر معاشرے کے کچھ بدخواہوں (خواہ وہ رشتہ دار ہوں یا دیگر افراد)کا رویہ بڑا خراب ہوتا ہے اور وہ اختلافات کو ہوا دیتے ہوئے جھوٹی سچی بات ملا کر زوجین کو ایک دوسرے سے بدظن کرتے ہیں۔ایسے رویہ کی اسلام نے سخت مذمت کی ہے اور زوجین کو اس طرح کے لوگوں سے ہوشیار رہنا چاہیے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لیس منا من خبب امرأۃ علی زوجھا۔(ابوداؤد:2175)

”وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو کسی عورت کو اس کے شوہر سے ورغلائے۔“

اختلافات ازدواجی زندگی کا حصہ ہیں۔ایسے وقت میں قرآن و حدیث کی تعلیم یہ ہے کہ اختلافات کو دور کیا جائے اوراس میں نرمی کے ساتھ افہام و تفہیم سے کام لیا جائے۔اگر اس سے بھی بات نہ بنے تو دونوں خاندان کے ایک ایک مخلص فرد کو ساتھ بیٹھا کر مسئلہ کو حل کیا جائے۔اگر اخلاص و محبت سے کوشش کی جائے تو اللہ تعالیٰ سے امید ہوتی ہے کہ اختلافات ختم ہو جائیں گے۔قرآن کہتا ہے:

وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیْْنِہِمَا فَابْعَثُواْ حَکَماً مِّنْ أَہْلِہِ وَحَکَماً مِّنْ أَہْلِہَا إِن یُرِیْدَا إِصْلاَحاً یُوَفِّقِ اللّہُ بَیْْنَہُمَا۔(النساء:35)

”اور اگر کہیں تمہیں میاں بیوی کے تعلقات بگڑ جانے کا خطرہ ہو تو ایک منصف مرد کے خاندان میں سے اور ایک منصف عورت کے خاندان میں سے مقرر کرو،اگر یہ دونوں صلح کرنا چاہیں گے تو اللہ تعالیٰ ان دونوں میں موافقت کر دے گا۔“

عورت کے معاملات میں دور اندیشی سے کام لینا

باشعور اور زیرک شوہر اپنی بیوی کے معاملات میں عقلمندی اور دوراندیشی سے کام لیتا ہے اور اس کے احساسات وجذبات کا خیال رکھتے ہوئے اس کے گھر والوں کے سامنے ان کی برائی نہیں کرتا ہے اور نہ ہی وہ کوئی ایسی بات کہتا ہے جس سے اس کے رشتہ داروں کی بے عزتی ہو،چناں چہ وہ بھی اس کا خیال رکھتی ہے۔ایسے ہی وہ اپنی بیوی کے رازوں کو افشا نہیں کرتا کیوں کہ ان امور میں ذرا سی بد احتیاطی زوجین کے درمیان دوری اور نااتفاقی کا سبب بن جاتی ہے۔

بسا اوقات بیوی کو بھی کسی وجہ سے غصہ آجاتا ہے اور وہ شوہر سے روٹھ جاتی ہے اور اسے اپنے غصے کا احساس دلاتی ہے، اس وقت شوہرکو چاہیے کہ وہ دور اندیشی سے کام لیتے ہوئے اپنے پسندیدہ اخلاق،حلم و بردباری اوربیوی کے مزاج کو سمجھتے ہوئے اسے منا لے اور اس میں انا (Ego)کو نہ لائے۔جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل تھا:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیوی حضرت عائشہؓ سے فرماتے ہیں:

”مجھے معلوم ہو جاتا ہے کب تم مجھ سے خوش ہوتی ہو اور کب مجھ سے ناراض ہو جاتی ہو۔جب تم مجھ سے خوش ہوتی ہو تو کہتی ہو،محمد کے رب کی قسم،اور جب مجھ سے ناراض ہوتی ہوتو کہتی ہو،ابراہیم کے رب کی قسم۔حضرت عائشہؓ  فرماتی ہیں:ہاں تب بھی میں صرف آپ کا نام ہی چھوڑتی ہوں۔“(متفق علیہ)

ایک اور حدیث میں حضرت عمرؓ فرماتے ہیں:

”میں نے حضرت حفصہؓ سے پوچھا کیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کا جواب دیتی ہو؟انہوں نے کہا: ہاں۔میں نے پھر پوچھا اور تم میں سے کوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دن بھر روٹھی بھی رہتی ہے؟انہوں نے کہا:ہاں۔میں نے کہا:تم میں سے ایسا جو بھی کرے وہ ناکام ہو گئی اور خسارے میں پڑ گئی۔“ (بخاری:5191)

پھر حضرت عمرؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور اس کا ذکر کیا تو آپؐ  مسکرانے لگے اور آپؐ نے اس سے انکار نہیں کیا۔

عورت اور ماں کے ساتھ بیک وقت نیک برتاؤ کرنا

ازدواجی زندگی میں سب سے نازک اور حساس مسئلہ ساس اور بہو کا ہوتا ہے۔باشعور اور صالح شوہراگر اسلامی تعلیمات سے واقف ہو تو وہ بیک وقت دونوں کو خوش و خرم رکھ سکتا ہے،اس طرح سے کہ وہ نہ تو ماں کا نافرمان ہوتا ہے اور نہ ہی بیوی کے حقوق کا غاصب ہوتا ہے۔ اسلام نے ماں اور بیوی دونوں کے ساتھ انصاف کیا ہے اور دونوں کو ان کا صحیح مقام دیا ہے۔ بشرطیہ کہ انسان اس پر واقعی عمل کرے اور اس سلسلے میں ماں اور بیوی دونوں ہی اس میں اس کا ساتھ دیں۔

مادہ پرستی اور غیر ضروری ذرائع ابلاغ سے اجتناب

سائنس و ٹکنالوجی کے دور میں مختلف ذرائع ابلاغ نے ازدواجی زندگی کی تباہی و بربادی میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ سیریل، ڈراموں اور فلموں میں دکھائی جانے والی عیش و عشرت کی زندگی حقیقی زندگی سے بالکل ہی مختلف ہوتی ہے۔نوجوان طبقہ فلمی دنیا سے متاثر ہو کر ایک تصوراتی دنیاقائم کر لیتے ہیں،لیکن جب وہ شادی بعدسچ مچ عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں تو انہیں علم ہوتا ہے کہ زندگی تو اتنی حسین نہیں ہے جتنی فلموں میں دکھائی گئی تھی،چناں چہ وہ ڈپریشن،مایوسی،ذہنی دباؤ اور انتشار کا شکار ہوجاتے ہیں۔رہی سہی کثر فیس بک،واٹس اپ،سوشل میڈیااور انٹرنیٹ کی دنیا نے پوری کر دی ہے۔زوجین کے پاس ایک دوسرے کے لیے وقت ہی نہیں ہوتا اور ساتھ ہوکر بھی آپس میں بہت دوری ہوتی ہے۔جس کے نتیجے میں ازدواجی زندگی تلخ ہوتی جاتی ہے۔

مادہ پرستی کی دوڑ نے بھی ازدواجی زندگی کومشکل بنا دیاہے۔جہاں ضروری لوازمات کے ساتھ زندگی بسر کی جاسکتی ہے وہیں دوسروں کے مقابلے اوردیکھا دیکھی ’معیاری زندگی‘ کے لیے غیر ضروری برانڈیڈسازوسامان پر روپئے خرچ کر دیے جاتے ہیں۔اس کی تکمیل کے لیے مرد اور عورت دونوں ملازمت کرتے ہیں جس میں عموماً عورت کا مختلف طریقوں سے استحصال کیا جاتا ہے۔یہیں سے ازدواجی زندگی میں فساد و بگاڑپیدا ہو تا ہے۔جب کہ قرآن کریم نے فضول خرچی کرنے سے منع کیا ہے اور ایسا کرنے والے کو شیطان کا بھائی قرار دیا ہے:

إِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ کَانُواْ إِخْوَانَ الشَّیَاطِیْنِ وَکَانَ الشَّیْْطَانُ لِرَبِّہِ کَفُوراً۔(بنی اسرائیل:27)

”فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا بڑا ہی نا شکرا ہے۔“

اسلام نے جہاں شوہر سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ حسنِ سلوک کرے وہیں بیوی کو بھی حکم دیا کہ وہ عدل و انصاف اور جائز حدود میں رہتے ہوئے اپنے شوہر کی اطاعت کرے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

لوکنت آمراً احداً ان یسجد لاحد لامرت المرأۃ ان تسجد لزوجھا۔(ترمذی:1159)

”اگر میں کسی کو حکم دیتا کہ وہ کسی دوسرے انسان کو سجدہ کرے تو میں بیوی کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔“

اتنا ہی نہیں بلکہ عورت کے لیے شوہر کی خوشنودی کو جنت میں داخلے کا ذریعہ بنایا۔ارشادِ نبوی ہے:

”جس عورت نے اس حالت میں انتقال کیا کہ اس کا شوہر اس سے راضی اور خوش تھاتو وہ جنت میں داخل ہوگی۔“(ترمذی:1161)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی بیوی کے لیے وعید سنائی جو اپنے شوہر کی نافرمانی کرے اور اس سے الگ رہے۔حدیثِ نبوی ہے:

اذا باتت المرأۃ ھاجرۃ فراش زوجھا لعنتھا الملائکۃ حتیٰ تصبح۔(مسلم:1436)

”جب عورت اپنے شوہر سے ناراض ہو کر اس کے بستر سے الگ رات گزارے تو فرشتے صبح تک اس پر لعنت بھیجتے ہیں۔“

موجودہ دور میں زوجین انتشار و اضطراب،قلق و بے چینی کا شکار ہیں ان کا یہی سبب ہے کہ انہوں نے ان اسلامی تعلیمات کو چھوڑ دیا ہے یا انہیں اپنی مرضی کے مطابق کر لیا ہے جب کہ واقعہ یہ ہے کہ درج بالا قدریں بیش بہا اخلاقی قدریں ہیں،اگر زوجین اسے اختیار کر لیں تو ان کی ازدواجی زندگی بہت خوش گوار ہو جائے گی اور گھروں میں لڑائی جھگڑوں کی جگہ امن و سکون اور خوش حالی کی فضا چھائی رہے گی۔

 

 

نوٹ: مضمون نگار کلیۃ البنات،جامعۃ الفلاح بلریاگنج،اعظم گڑھ کی سابق صدر ہیں۔

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

 

٭٭٭٭

بخاریحدیثقرآنمسلم
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
اگلی پوسٹ
غزل ۔ شاد عظیم آبادی

یہ بھی پڑھیں

قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!...

اپریل 11, 2026

تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –...

جنوری 10, 2026

ہندوستانی معاشرے میں دین کے نام پر خواتین...

جنوری 3, 2026

بچوں کو تعطیلات میں مشغول رکھنے اور شخصیت...

جولائی 9, 2024

قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف...

جون 16, 2024

احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل...

اپریل 7, 2024

رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و...

مارچ 31, 2024

ہندوستان کی تاریخ کا ایک اہم کردار’بیگم سمرو‘...

دسمبر 16, 2023

پروین شاکر کی شاعری میں تانیثی آواز اور...

دسمبر 5, 2023

بھارت میں ماحولیاتی تبدیلی: بحران کے” "تخفیف میں...

اکتوبر 20, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (120)
  • تخلیقی ادب (596)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (20)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,049)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (537)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (219)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (407)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (218)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (25)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,135)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (34)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں