Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
شاعری کے مختلف رنگکتاب کی بات

by adbimiras ستمبر 8, 2020
by adbimiras ستمبر 8, 2020 0 comment

اردو شاعری میں قنوطیت: ایک مطالعہ-ثاقب فریدی

قاضی عبدالستار کی یہ کتاب ’اردو شاعری میں قنوطیت‘ ان کے پی ایچ ڈی کا مقالہ ہے جسے انھوں نے رشید احمد صدیقی کی نگرانی میں لکھا تھا۔ یہ کتاب سات ابواب پر مشتمل ہے:

(1)  باب اول      :      قنوطیت کیا ہے؟

(2)  باب دوم      :      تصوف

(3)  باب سوم     :      ابتدائی عہد کے شاعر

(4)  باب چہارم    :      میر و سودا

(5)  باب پنجم      :      نظیراکبرآبادی

(6)  باب ششم    :      غالب و ظفر

(7)  باب ہفتم     :      لکھنؤ اسکول اور فانی

ابواب سے بخوبی اس بات کا اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ قاضی عبدالستار نے اردو شاعری میں قنوطیت کے حوالے سے کن امور کے متعلق بحث کی ہے اور کن چیزوں کو نظرانداز کیا ہے ممکن ہے اس موضوع کے تعلق سے آپ کچھ اور شاعروں کے اسماء بھی درج کریں لیکن قاضی عبدالستار نے قنوطیت کے تعلق سے اردو کے جن شعراء کا تذکرہ کیا ہے وہ اجتماعی طور پر تشفی بخش ہیں۔ عہدحاضر کی تنقید عموماً شاعری میں قنوطیت کے تعلق سے گفتگو نہیں کرتی خصوصاً میر تنقید نے کلام میر میں قنوطیت، دھیمے پن ا ور ساز زیر لبی جیسی قدیم اصطلاحات شعری کو یکسر مسترد کردیا ہے لیکن قنوطیت بہرحال اردو شاعری کا ایک جزو رہی ہے۔ اردو شاعری میں ایسے بہت سارے اشعار مل جائیں گے جنھیں قنوطیت پر محمول کیا جاسکتا ہے اور اس ضمن میں ہر ناقد کی اپنی ذاتی رائے بھی قائم ہوسکتی ہے کہ کون سا شعر قنوطیت کے درجے میں رکھا جائے اور کون سا شعر اس زمرے سے خارج شمار کیا جائے۔ اب ممکن ہے کسی ایک شخص کو کسی شعر میں قنوطی رنگ نظر آئے اور کوئی دوسرا شخص اسے رجائی قرار دے۔ یہی مسئلہ دراصل میر تنقید کے تعلق سے پیش آیا ہے۔ ایک زمانے تک میر کی شاعری حزن و ملال، درد و غم اور قنوطیت پر محمول کی گئی اور میر کی شاعری کے دیگر اوصاف کو نظرانداز کیا گیا لیکن پھر بعد میں شمس الرحمن فاروقی نے ایک نئے میر کو دریافت کیا جہاں شورانگریزی بھی ہے اور موضوعات کا تنوع بھی۔ یہ مقالہ 1957 میں پیش کیا گیا تھا ممکن ہے آج نئی تنقید کے تناظر میں اس کے بعض مباحث پرانے معلوم ہوں۔ مجموعی طور پر اس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ قاضی عبدالستار نے قنوطیت کی جو تھیسس Thesis قائم کی ہے وہ بہت دلچسپ ہے۔ قنوطیت کا جو رشتہ ہندوستانی مذاہب اور تصوف سے قائم کیا گیا ہے وہ تاریخی بھی ہے اور نظریاتی بھی۔ اس کتاب کے مطالعے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ قاضی عبدالستار نے قنوطیت کی اصطلاح کو بہت وسیع دائرے میں رکھ کر دیکھا ہے اور قنوطیت کو غزل میں بطور خاص دیکھنے کی کوشش کی ہے۔ قصیدہ اور مثنوی میں بھی قنوطیت کا رنگ دریافت کیا گیا ہے۔ چونکہ اس کتاب کا اصل محور قنوطیت ہے لہٰذا قاضی عبدالستار نے قنوطیت کے عنوان سے باضابطہ ایک باب قائم کیا ہے۔ یہ باب قنوطیت کی تعریف و توضیح سے شروع ہوتا ہے جہاں انھوں نے مختلف حوالوں سے قنوطیت کو سمجھانے کی کوشش کی ہے میں ان حوالوں کو یہاں رقم کرتا ہوں تاکہ قنوطیت کو سمجھنے میں آسانی ہوسکے:

(1)  قنوطیت کے نظریے کی رو سے یہ دنیا تمام امکانی دنیاؤں سے بدتر ہے۔ اگر کوئی اور دنیا ہوتی تو وہ اس سے زیادہ پرالم اور بھیانک نہ ہوتی۔

Encyclopedia of Religion and Philosophy, p. 814.

(2)  قنوطیت ایک رنجور اور مایوس انسان کا نظریہ ہے جس کے نزدیک یہ ساری دنیا دکھ کا کارخانہ ہے اور یہ دنیا ایسی دنیا ہے جہاں ہر شئے فریب اور جبر ہے۔

Galloway: Philosophy of Religion, p. 543.

(3)  قنوطیت کے نظریے کے مطابق یہ دنیا تمام ممکنہ دنیاؤں سے بدتر ہے یا مکمل طور پر الم اور شر مطلق ہے۔

Ward: The  Realm of Religion, P. 320.

(4)  قنوطیت ایک ایسا نظریہ حیات ہے جو یہ تسلیم کرتا ہے کہ یہ دنیا مطلق بدی، یکسر الم اور گرفتاری ہے۔                                      Suily: Pessimism, p. 90.

(اردو شاعری میں قنوطیت، ص 1)

انسان نے جب سے اس دنیا میں قدم رکھا ہے یہاں کے عوامل سے مسلسل سواجھ کیا ہے ایک طرف خوشی، مسرت، سکون، اطمینان اور ولادت جسے عوامل ہیں تو دوسری طرف، درد، غم، بیماری، موت اور دنیا کے دیگر عوامل— یہ بذات خود انسان پر منحصر ہے کہ وہ کسی طرف رخ کرتا ہے اور پھر مذاہب نے بھی دنیا کے مسئلے پر روشنی ڈالی ہے۔ قاضی عبدالستار قنوطیت کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:

’’عام طور سے جن سنگین حقائق پر قنوطیت کی بنیادیں رکھی جاتی ہیں۔ کوئی بھی رجائی فلسفۂ حیات ان کی الم ناکی اور ابدیت کو ختم نہیں کرسکا۔ بیماری، موت، بھوک، پیاس، دنیاوی دکھ درد اور جذباتی ناآسودگیاں وہ مسائل ہیں جن کی فراوانی انفرادی دماغوں میں قنوطیت کے بیج بوتی ہے۔ قنوطی اپنے غمگین ذاتی تجربات اور اپنی گذشتہ و موجودہ شکستوں سے اس درجہ متاثر اور مغلوب ہوجاتاہے کہ دنیا میں اسے ہر چیز دکھ بھری نظر آتی ہے۔ کرب و الم جب نقطۂ نظر بن جاتا ہے تو قنوطیت کہلاتا ہے۔‘‘

(اردو شاعری میں قنوطیت، ص 3)

بیماری، موت، بھوک، پیاس، دنیاوی دکھ درد، زندگی کی ایک تلخ سچائی ہے لیکن اسی کے ساتھ ساتھ خوشی، مسرت، اطمینان و سکون صحت یابی وغیرہ بھی زندگی سے گہرا سروکار رکھنے والی صفات ہیں۔ ایسا ممکن نہیں کہ کسی انسانی زندگی میں یہ عوامل درپیش نہ آئیں کم یا زیادہ مگر ان عوامل سے بھی انسان کا واسطہ پڑتا ہے ہاں اگر زندگی کے منفی عوامل کو باضابطہ نقطۂ نظر بنا لیا جائے تو بلاشبہ دنیاوی زندگی سخت اور دشوار ترین نظر آئے گی۔

قنوطیت کی تعریف و توضیح کرنے کے بعد قاضی عبدالستار ہندوستانی مذاہب میں قنوطیت تلاش کرتے ہیں اور اس ضمن میں وہ آریاؤں کی ہندوستان آمد اور اس کے اثرات، وید و اپنشد کی تعلیمات اور پھر مہاتما بدھ کے مذہبی فلسفوں پر روشنی ڈالتے ہیں جس کا ماحصل  دکھ، درد، رنج و الم، فکری تہذیبی جسمانی اور روحانی نا آسودگی قرار پاتا ہے۔ کتاب کے اس حصے کو آریاؤں کی آمد، ان کا تہذیبی اور مذہبی عہد، ویدی عہد، مہاتما بدھ کے عہد اور ان تمام مذاہب کی تعلیمات کے تاریخی واقعات نے خاصا دلچسپ بنا دیا ہے۔ ظاہر ہے کہ اپنشد کا آواگون کا نظریہ ہو یا بدھ مت کے نروان کا نظریہ یہ دونوں ہندی قنوطیت کا سرچشمہ اور منبع ہیں۔  قاضی عبدالستار نے اس موضوع پر بہت تفصیل کے ساتھ بحث کی ہے اور اس پوری بحث سے ہندوستان کے قنوطی ماحول کو سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے اس ضمن میں وہ شوپنہار کے قنوطی افکار و مزاج کا بھی تذکرہ کرتے ہیں اور اس سے قنوطی نظریات پر بالتفصیل گفتگو کرتے ہیں۔ شوپنہار دراصل زندگی کی صعوبتوں سے بیزار شخص تھا اور اس نے زندگی کی مثبت قدروں مثلاً خوشی مسرت وغیرہ کو منفی قرار دیا اور ان کی اہمیت سے انکار کیا۔ علامہ اقبال نے شوپنہار کے تعلق سے کہا تھا کہ:

مرغ ز آشیانہ بسیر چمن پرید

خارے ز شاخ گل بہ تن نازکش خلید

بدگفت فطرت چمن روزگار را

از درد خویش وہم زغم دیگراں تپید

تمام دنیا اور اس کے حصول کو فریب تصور کرنے کا نظریہ مہاتما بدھ اور شوپنہار کے مابین اشتراک قائم کرتاہے۔ اس ضمن میں شوپنہار کی قنوطیت اور اس کے اسباب کے تعلق سے قاضی عبدالستار کی مفصل گفتگو، ہندوستانی قنوطیت کی تفہیم میں آسانی پیداکردیتی ہے۔ قاضی عبدالستار نے لکھا ہے کہ قنوطیت کی فلسفیانہ اصطلاح سراسر مغربی ہے اور اردو شاعری میں قنوطیت فارسی کے علاوہ تصوف کی وساطت سے آئی تھی۔ مغربی ناقدین نے قنویت کی وضاحت کرنے میں بارہا بدھ مت کا سہارا لیا ہے۔و جہ یہ ہے کہ بدھ مت بذات خود ایک باضابطہ قنوطی فلسفۂ حیات ہے اور ویدانتی فلسفہ اس کا سرچشمہ ہے۔

اردو شعر و ادب نے اگرچہ بہت بعد میں قنوطیت کے مسئلے پر گفتگو کی ہے اور مغرب کو اس گفتگو میں اولیت حاصل ہے اور شوپنہار اگرچہ پہلا فلسفی ہے جس نے باضابطہ قنوطیت کے موضوع پر مدلل گفتگو کی لیکن قنوطیت کی تاریخ میں ہندوستان کو اولیت کا شرف حاصل ہے۔ لہٰذا اردو شاعری میں قنوطیت محض فارسی اور تصوف کی وساطت سے نہیں آئی بلکہ ہندوستانی ماحول میں جو قنوطیت موجود تھی ارودو شاعری نے بنیادی طور پر اس کے بھی اثرات قبول کیے شاید یہی وجہ ہے کہ قاضی عبدالستار نے قنوطیت کے ضمن میں بھی ویدانتی اور بدھ مت کے فلسفۂ حیات پر بالتفصیل گفتگو کی ہے۔

قاضی عبدالستار نے اس کتاب کا دوسرا باب تصوف کے عنوان سے قائم کیاہے۔ اس باب میں تصوف کی مکمل تاریخ اجمالی طور پر بیان کی گئی ہے۔ دنیا کے تعلق سے اسلام کی تعلیمات اور نبی پاک کا عمل کیا تھا اور تصوف نے دنیا کے تعلق سے کیا راہ اختیار کی۔ قاضی عبدالستار نے اجمالی طور پر اس موضوع کا احاطہ کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ:

’’اسلامی تصوف اور ویدانتی تصوف میں کئی باتیں مشترک ہیں۔ بعض علامتیں بھی ایک ہیں۔ دونوں میں فناکے ایک ہی معنی ہیں یعنی ذات باری میں شامل ہونا اور عرفان حاصل کرنا۔‘‘ (ص 21)

حضرت خواجہ حسن بصریؒ کے تعلق سے قاضی عبدالستار کا خیال ہے کہ:

’’خواجہ نے بھی مہاتما بدھ کی طرح دنیا کی بدیوں سے نجات پانے کے لیے دنیا ہی کو ترک کردینے کا حکم دیا ہے۔‘‘  (ص 22)

حضرت خواجہ حسن بصریؒ کے تعلق سے اس نوع کا اظہار خیال کرنے کے بعد قاضی عبدالستار براہ راست بغیر کسی حوالے کے حضرت خواجہ حسن بصری کی عبارت نقل کرتے ہیں۔ میں وہ عبارت یہاں نقل کرتا ہوں:

’’وہ عقلمند ہے جس نے اس دنیا کی نفی اور آئندہ دنیا کی فکر کی۔‘‘ (ص 22)

اوّل تو اس عبارت سے کہیں بھی رہبانیت کا اظہار نہیں ہوتا اور اگر اس عبارت کو قرآنی تعلیمات کی روشنی میں دیکھا جائے تو یہ عبارت قرآنی تعلیمات کا عکس اور نچوڑ قرار پائے گی۔ جگہ جگہ قرآن اور حدیث شریف میں آخرت کی زندگی کو ترجیح دی گئی ہے۔ عام طور سے تصوف کو اسلام سے علاحدہ کرکے دیکھنے کی کوشش کی گئی ہے جبکہ تصوف کے علم کا ماخذ قرآن و حدیث ہی ہیں۔ وہ عہد جب کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا میں موجود تھے اس عہد میں جن صحابہ کے پاس دولت کی فراوانی تھی انھوں نے دولت و دنیا کو بطور تعیشات اختیار نہیں کیا اور کسی بھی صحابی کو رہبانیت اختیار کرنے کی ضرورت نہیں پڑی اس کی سب سے بڑی وجہ تو بذات خود سرکار دوعالم کا وجود تھا اور پھر من جانب اللہ بھی سخت مواقع پر صحابہ کرام کے دل ثابت قدم رکھے گئے۔ لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رحلت فرما گئے تب حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ جیسے صحابہ نے دنیا سے کنارہ کشی اختیار کرلی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو منافقت و منافرت اور دین کے مابین حد فاصل قرار دیا گیا اور یہ پیش گوئی کی گئی کہ اس دیوارکے ٹوٹنے کے بعد اسلام کا منظرنامہ بہت مختلف ہوگا اور ظاہر ہ جب صحابہ کرام کا دور ختم ہوا تب مسلمان دنیاداری اور دنیا پرستی میں ملوث ہوگئے اور نفاق کا دروازہ بھی کھل گیا۔ مسلم حکمرانوں نے عیش پرستی کی تمام حدیں عبور کرلیں۔

ایسی صورتِ حال میں صوفیا کرام نے دین کی نشر و اشاعت کے لیے جو طریقۂ کار اختیار کیا وہ بظاہر بہت مختلف تو تھا اور اس کی تفہیم ہر عام شخص کے لیے آسان نہ تھی اور پھر یہ صوفیا کرام اپنے وقت کے گراں قدر عالم بھی تھے۔ انھوں نے نفس کشی، خلوص، خشیت الٰہی اور ترک دنیا پر زور دیا لیکن یہ ترک دنیا برائے ترک دنیا نہ تھی بذات خود ہندوستان کے صوفیا کرام خصوصاً حضرت خواجہ معین الدین چشتی نے اس نوع کی تعلیمات اپنے حلقے کے صوفیا کو دیں۔ رشد و ہدایت اور اصلاح و تلقین کے بعد ان کی جماعت مختلف علاقوں میں دعوت دینے کے لیے بھیجیں۔ ظاہر ہے اس پورے طریقۂ کار کے مطالعے کے بعد اسے رہبانیت پرمحمول نہیں کیا جاسکتا بلکہ یہ وہی دین تھا جیسے حضور پاک نے اپنے عمل سے ثابت فرمایا تھا۔ اب یہاں قابل غور بات یہ ہے کہ قرآن و حدیث کے ساتھ ساتھ تصوف کا علم بھی دشوار ہے۔ تصوف کا علم غائر مطالعے کے بغیر نہیںا ٓسکتا اور قرآن و حدیث کے مسائل اور حضور پاک کی زندگی سے اس کی تطبیق سہل العمل نہیں ہے لہٰذا قاضی عبدالستار نے جو حضرت حسن بصری کے قول اور حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کے مابین فرق بیان کیا ہے وہ بظاہر فرق نظر آتا ہے حقیقتاً وہ عین اسلام ہے اور پھر حضرت خواجہ حسن بصری اپنے وقت کے بڑے عالم اور صوفی تھے۔ ان کے قول و عمل کو مہاتمابدھ کے قول و عمل سے مماثل قرار دینا  بعض لوگوں کی نگاہ میں مناسب نہ ہو لیکن اگر مماثلت کاکوئی پہلو نکلتا ہے تو اس کی نشاندہی بھی ضرور کی جانی چاہیے لیکن دونوں کا فکری سیاق بہت مختلف ہے اور حضرت حسن بصری کی شخصیت ایک صوفی اور بڑے عالم کی ہے۔

قاضی عبدالستار نے اس باب میں وحدۃ الوجود کے مسئلے پر بھی گفتگو کی ہے اور قنوطیت بمعنی ترک دنیا کے ساتھ وحدۃ الوجود کے نظریاتی انسلاک کو موضوع بحث بنایاہے۔ وحدۃ الوجود کی عالمانہ توضیح کا تو سہرا تو بلاشبہ محی الدین ابن عربی کے سر ہے لیکن بنیادی طور پر اس فلسفے کا رتہ افلاطون کے فلسفۂ اعیان سے قائم ہوجاتا ہے۔

افلاطون کا نظریۂ اعیان قنوطیت کو مستحکم کرتا ہے یعنی خدا کے علاوہ غیر خدا کا وجود ناپید ہے اور دنیا کے تمام معاملات و عمل فریب اور دھوکہ ہیں بہت بعد میں شیخ مجدد الف ثانی نے وحدۃ الوجود کے مقابلے میں وحدۃ الشہود کا نظریہ پیش کیا اور اس ضمن میں قاضی عبدالستار نے چشتیہ، قادریہ، سہروردیہ، صابریہ وغیرہ تمام طریقت کے سلسوں کا ذکر تاریخی ترتیب کے ساتھ کیا ہے اس کے علاوہ شطاریہ اور مہدویہ سلسلہ بھی ہے جسے انھوں نے تصوف کے حوالے سے بیان کیا ہے۔ ظاہر ہے ان تمام طریقت کے سلسوں نے ہندوستانی ماحول میں تصوف کا رنگ گھولا اور اردو کی ابتدائی نثر تصوف کے اظہار کا اولین وسیلہ بنی اور اردو کی ابتدائی منظومات میں متصوفانہ مسائل کثرت کے ساتھ برتے گئے۔ یہی وجہ ہے کہ اردُو کے اولین شعرا میں محمد قلی قطب شاہ ، وجہی، غواصی، ابن نشاطی، فیروز، نصرتی اور دیگر شعرا کی شاعری میں تصوف کا رنگ صاف نظر آتا ہے۔ قاضی عبدالستار نے ان مسائل پر مدلل روشنی ڈالی ہے اور ان شاعری میں متصوفانہ موضوعات کی بازیافت کی ہے۔

کتاب کا تیسرا باب ابتدائی عہد کے شاعروں پر مشتمل ہے جس میں قاضی عبدالستار نے ولیؔ، سراجؔ، حاتمؔ، خان آرزوؔ، آبروؔ، مرزا مظہر جانؔ جاناں اور میر دردؔ وغیرہ کو شامل کیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ اردو کی پوری کلاسیکی شاعری عشق پر مشتمل ہے اور دوسرے تمام مضامین ذیلی ہیں یا پھر ان کی حیثیت استثنائی ہے۔ عشق مجازی اور عشق حقیقی کے اظہار میں معنی کی یکسانیت کے تعلق سے وہ لکھتے ہیں کہ:

’’معنی کی یکسانیت کے سلسلے میں یہ کہنا بے محل نہ ہوگا کہ اردو شاعری میں تصوف اور اخلاق کے بھی مضامین نظم کیے گئے ہیں لیکن صوفی اور غیرصوفی شعرا  دونوں نہ صرف عشق پر ایمان رکھتے ہیں بلکہ ان کی زبان اور بیان یکساں ہے۔ یہ صحیح ہے کہ صوفی شعراء نے عشقیہ علامات کو اکثر مجاز و استعارہ کے طور پر استعمال کیا ہے لیکن چونکہ غیرصوفی شعرا ء نے بھی انھیںعلامات کو اسی مفہوم میںاستعمال کیاہے جنھیں صوفیا نے بطور مجاز رواج دیا تھا۔ اس لیے دونوں کے بیانات کا اثر سامع پر یکساں پڑتا ہے۔‘‘ (اردو شاعری میں قنوطیت، ص 52)

صوفی اور غیرصوفی شعراء دونوں بلا شبہ عشق پر ایمان رکھتے ہیں لیکن دونوں کے عشق میں بہت فرق ہے۔ ایک کا عشق حقیقی ہے اور دوسرے کا مجازی اور سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ کسے صوفی شاعر تصور کیا جائے اور کسے غیرصوفی شاعر مانا جائے وجہ یہ ہے کہ صوفی شعراء کے یہاں بھی بعض اوقات عشق مجازی کا مضمون مل جاتا ہے اور غیرصوفی شعراء کے یہاں بھی عشق حقیقی کے مضامین کثرت کے ساتھ ملتے ہیں۔ کلاسیکی اردو شاعری میں جس نوع کے استعارات ان دونوں طرح کے عشق کے لیے استعمال ہوئے ہیں بلاشبہ ان میں لفظیاتی یکسانیت تو ہے لیکن معنوی طور پر ان کی شناخت میں تامل نہیں ہوتا اور بعض اوقات تو عشق حقیقی کا مضمون بالکل واضح ہوجاتا ہے مثلاً میر کا یہ شعر:

تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا

خورشید میں بھی اس ہی کا ذرہ ظہور تھا

اس نوع کے شعر بھی کثرت کے ساتھ اردو کلاسیکی شاعری میں موجود ہیں جن کی قرأت کے بعد ہرگز عشق مجازی کا گمان نہیں گزرتا اس لیے قاضی عبدالستار نے جو یہ بات کہی ہے کہ دونوں کے بیانات کا اثر سامع پر یکساں ہوتا ہے۔ یہ پوری طرح قابل قبول نہیں ہے۔ ہاں اتنا ضرور ہے کہ بعض اوقات عشق حقیقی اور مجازی کے مابین قاری کو فرق مٹتا سا محسوس ہوتا ہے۔

ولی دکنی کے تعلق سے قاضی عبدالستار کا خیال ہے کہ ان کی شاعری میں تصوف کے وسیلے سے قنوطیت کے عناصر موجود ہیں اور ناکام عشق سے پیدا شدہ دل گرفتگی کی کیفیات بھی ہیں لیکن یاس و ناامیدی، ترک دنیا، حرماں نصیبی کا احساس اور قنوطیت پسندی کی وہ شدت نہیں جو بعد میں دہلوی شعراء کے یہاں نظر آتی ہے:

’’دکن کی اسلامی ریاستیں جنھیں عالمگیر نے نیست و نابود کردیا اپنے دردناک انجام سے ولی کو متاثر کرسکتی تھیں مگر ایسا بالکل نہیں ہوا۔ عالمگیر کے بعد ولی کافی دن زندہ رہے۔ پھر بھی ان کے لہجے میں واضح قنوطیت نہ پیدا ہوسکی کیونکہ ان کی عمر کا تمام حصہ دکن میں گزرا جو دہلی کی طرح مسلسل آفتوں اور سیاسی قیامتوں کا نشانہ نہ بن سکا….. سیاسی تباہی کے ابتدائی ایام میں ولی بوڑھے ہوچکے تھے۔ ان کا مزاج بن چکا تھا کاور شعور پختہ ہوچکا تھا اس لیے ان کی افتاد طبیعت کی تکمیل اور پختگی بنیادی طور پر کسی انقلاب کو آسانی سے قبول بھی نہیں کرسکتی تھی۔‘‘ (ص 54)

قاضی عبدالستار نے ولی کی شاعری اور ان کے لہجے میں قنوطیت کے فقدان کے تعلق سے جو دلائل پیش کیے ہیں وہ ناکافی ہیں۔ اول تو یہ کہ قاضی عبدالستار نے قنوطیت کی جو تعریف کی ہے اس کی رو سے ولی کے دیوان میں ایسے کئی اشعار مل جائیں گے جہاں قنوطیت کی لے تیز نظر آتی ہے۔ مثلاً:

جسے عشق کا تیر کاری لگے

اسے زندگی کیوں نہ بھاری لگے

 

مفلسی سب بہار کھوتی ہے

مرد کا اعتبار کھوتی ہے

اوّل الذکر شعر میں قاضی عبدالستار کے نزدیک عشق نامرادی اور دل گرفتگی کا باعث ہے اور اس کا ماحصل قنوطیت ہے۔ پھر زندگی کا بھاری لگنا ترک دنیا کی طرف واضح اشارہ ہے اور زندگی بھاری لگنا محاورہ بھی ہے جس کا مطلب زندگی سے بے رغبتی ہے۔ اس طرح شعر خالص قنوطی لہجہ کا متحمل نظر آتاہے۔ دوسرے شعر میں مفلسی زندگی کی ایک منفی قدر ہے اور زندگی کے روکھے پن کا علامیہ ہے اور شعر کا دوسرا مصرع بے روزگاری سے پیدا ہونے والے مسائل کی طرف اشارہ ہے اور بالآخر اس کا ماحصل بھی زندگی سے بے اعتنائی ہے۔ ولی کے یہ دونوں شعر ایک گہرے قنوطی جذبے کے ترجمان قرار پاتے ہیں۔

دوسری بات یہ ہے کہ قاضی عبدالستار نے قنوطیت کی تخلیق کے لیے ذاتی کرب اور گرد و پیش کے نامساعد حالات کو لازم تصور کیا ہے اور ان کی نظر میں ولی کے یہاں یہ دونوں اسباب ناپید ہیں۔ اس ضمن میںا یک بات تو یہ ہے کہ قاضی عبدالستار نے کتاب کے مقدمے میں یہ بات لکھی ہے کہ اردو شاعری میں قنوطیت فارسی کے علاوہ تصوف کی وساطت سے بھی آئی۔ لہٰذا اگر یہ بات مان لی جائے کہ ولی کی زندگی میں کوئی ذاتی نوعیت کا کرب اور گرد و پیش کے ماحول کا اثر نہ تھا تو بھی ولی نے تصوف اور فارسی ورثے کو بطور عقیدت اختیار تھا لہٰذا ان واسطوں سے ان کی شاعری میں قنوطیت کی لے کو تیز ہونا چاہیے تھا۔ میں نے ولی کی شاعری میں واضح قنوطیت کے حوالے سے جو اشعار پیش کیے ہیں اس سے قطع نظر ان کے یہاں قنوطیت واقعتاً بعد کے دہلوی شعراء کی طرح نہیں ہے لیکن اس کی وجہ ولی کا ذاتی مزاج ہے نہ کہ گرد و پیش کے نامساعد حالات کا فقدان۔ اٹھارہویں صدی کی دہلی میں کئی بڑے شعرا موجود ہیں سب نے دلی کے سخت ترین حالات دیکھے لیکن میر کے یہاں نشتر کی طرح چبھنے والی شاعری کسی اور کے بس کی بات نہیں۔ میر کی نشتریت کی ایک بڑی وجہ بذات خود ان کا مزاج تھا ہاں اتنی بات ضرور ہے کہ گرد و پیش کے حالات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

اردو شاعری میں قنوطیت کا ماخذ کیا ہے اس تعلق سے قاضی عبدالستار نے مختلف جگہوں پر مفصل گفتگو کی ہے ان تمام ماخذوں کو یکجا کیا جائے تو اس کی ترتیب اس طرح ہوگی:

(1)  اردو شاعری میں قنوطیت تصوف کے حوالے سے آئی۔

(2)  اردو شاعری میں قنوطیت قدیم ہندوستانی قنوطی حوالوں خصوصاً ویدانتی فلسفۂ حیات اور بدھ مت کے واسطے سے آئی۔

(3)  اردو شاعری میں قنوطیت عالمی قنوطی فلسفوں کی وساطت سے آئی۔

(4)  اردو شاعری میں قنوطیت فارسی شاعرانہ ورثے کے ذریعہ آئی۔

(5)  اردو شاعری میں قنوطیت انفرادیت تجربات خصوصاً عشق میں ناکامی و نامرادی اور ذاتی رنج و الم کی بنیاد پر آئی۔

(6)  مسلم حملہ آوروں کی ہندوستان میں آمد، مرہٹہ، جاٹ، سکھوں کی اندرونی خلفشار اور ہندوستانی سلاطین کی غیرمستحکم حکومت کے نتیجے میں دلی کی پے در پے تباہی نے اردو شاعری میں قنوطی ماحول سازگار کیا۔

اسی طرح اگر ان مضامین کا جائزہ لیا جائے جو قاضی عبدالستار کے نزدیک قنوطیت پر محمول کیے گئے ہیں تو ان میں فنا، ترک دنیا، نفی حیات، نفی کائنات، تصوف، غم و آلام، ناآسودگی، مسلسل کرب، دنیا سے بیزاری و بے اعتنائی، موت، زندگی کی بے ثباتی، معشوق کی بے وفائی، آسمان سے شکایت، زمین سے نالہ اور عشق کی تمام کیفیات وغیرہ کے مضامین یا پھر اس نوع کے مضامین قنوطی تصور کیے جائیں گے۔ خصوصاً وہ عشق کے معاملات کو قنوطیت سے تعبیر کرتے ہوئے۔ لکھتے ہیں کہ:

’’اردو شاعری کا عشق بحیثیت مجموعی افلاطونی ہے۔ نفسانی ہے، یا صوفیانہ اتنا البتہ مسلم ہے کہ اس کا انجام نامرادی اور سامع پر اس کا اثر دل گرفتگی کا ہوتا ہے….. عاشق ہمیشہ دشت محرومی میں گریباں چاک اور آبلہ پاہے۔ دوسری طرف تمام محبوب تغافل کش اور ستم شعار ملیں گے۔‘‘ (ص 52-53)

اسی طرح قاضی عبدالستار خان آرزو کے اردو کلام سے عاشقانہ اشعار پیش کرتے ہیں اور ان اشعار میں قنوطیت تلاش کرتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ:

’’خواب میں پریرو کے دیدار سے پاگل ہوجانا۔ عشق کی گریہ سامانی کو سمجھتے ہوئے صبر و شکر سے جھیلنے پر رضامند ہونا۔ زندگی کی بے ثباتی کی تبلیغ آسمان سے چشمک، معشوق کی بے وفائی، دست گلچیں کی شکایت یہ تمام کے تمام مضامین قنوطی ذہن و فکر کی غمازی کرتے ہیں۔‘‘ (ص73)

اردو شاعری کا عاشق بلاشبہ دشت محرومی میں گریباں چاک اور آبلہ پا ہے لیکن یہ بات حتمی طور پر اردو کے تمام شعراء کے ساتھ منسوب نہیں کی جاسکتی بذات خود اٹھارہویں صدی میں اگر میر کے عاشق کا کردار خود سپردگی پر آمادہ ہے اور معشوق کے دست ستم نے اس کی حالت غیر کررکھی ہے تو دوسری طرف اسی عہد میں سوداکی شاعری کا عاشق انانیت، کج کلاہی اور تیکھے و ترچھے مزاج کا حامل ہے معشوق کی کج ادائی اور ستم شعاری اس کے مزاج کو متاثر نہیں کرتی خصوصاً اس طرز مزاج کے تعلق سے سودا کا یہ شعر بہت مشہور بھی ہوا کہ:

سودا جو تیرا حال ہے اتنا تو نہیں وہ

کیا جانئے کہ تونے اسے کس آن میں دیکھا

میرتقی میرؔ کی شاعری میں قنوطیت کے تعلق سے قاضی عبدالستار نے جن اسباب و علل کی جانب اشارہ کیا ہے بلاشبہ وہ تمام واقعات ان کی زندگی میں وقوع پذیر ہوئے یعنی کم عمری میں والد اور چچا کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ روزگار نے انھیں پریشان کیا سوتیلے بھائی اور ماموں نے انھیں اذیت پہنچائی، عشق میں ناکام و نامراد ہوئے، دلی کی پے در پے تباہی اپنی آنکھوں سے دیکھیں روزگار کے سلسلے میں مارے مارے پھرے لکھنؤ کا سفر کیا، عشق میں ناکامی کے بعد جنون میں مبتلا ہوئے پابند قید و سلاسل کیے گئے، لکھنؤ کے سفر نے بھی اطمینان نہ بخشا۔ دلی یاد آتی رہی بالآخر لکھنؤ میں بھی گوشہ نشینی اختیار کی اور پھر وہیں رحلت فرمائی۔ ظاہر ہے ان تمام واقعات کا اثر میرؔ کی زندگی پر مرتب ہواا ور ان کی شاعری میں حزن و ملال کا مرجع بنا لیکن ان تمام باتوں کے باوجود میرؔ کی شاعری محض دل اور دلی کا مرثیہ نہ تھی۔ اس تعلق سے قاضی عبدالستار کا خیال ہے کہ :

’’میر کے کلیات کا شاید ہی کوئی صفحہ اور قابل ذکر غزل ایسی ہو جس میں انھوں نے آنسو کا ذکر نہ کیا ہو۔ کہیں رونے پر فخر کرتے ہیں کہیں رونے کی حسرت کرتے ہیں انتہا یہ ہے کہ اپنے خیال کی تشریح و تاثیر کے لیے دیدۂ نم سے تصویر میں رنگ بھرتے ہیں۔‘‘ (ص 95)

ایک دوسری جگہ قاضی عبدالستار میر کی مقبولیت کے اسباب کے تعلق سے رقمطراز ہیں کہ:

’’ان کی غزل لوگ دلی سے باہر بطور تحفہ بھیجنے لگے تھے۔ چند برسوں کی مشق سخن پر میر کی اتنی مقبولیت اس زمانے کے مزاج ہی کو آئینہ نہیں کرتی جو فطری طور پر یاس و قنوط کا شکار تھا بلکہ خود میر کی شاعری میں بھی قنوطیت کی شہادت دیتی تھی….. دلی کی حرماں نصیبی نے میر کے شیون میں اپنی پکار سنی۔‘‘ (ص 90)

(یہ بھی پڑھیں شوق نیموی کی غزل گوئی-ثاقب فریدی )

میر کی شاعری کے تعلق سے قاضی عبدالستار کی مکمل گفتگو اس طرف واضح اشارہ کرتی ہے کہ میر نے رونے اور رلوانے والی شاعری کی ہے اور ان کی زندگی کے تمام رنج و الم ان کی شخصیت و مزاج میں اس طور سے داخل ہوگئے تھے کہ رونے اور آنسو بہانے کے سوا کوئی اور مضمون ان کے ہاتھ نہ لگ سکا۔ دراصل قاضی عبدالستار نے جس میر کو دریافت کیا ہے وہ ان کی قائم کردہ قنوطیت کی توضیح و تشریح سے بہت حد تک مماثل قرار پاتا ہے۔ یعنی قاضی عبدالستار کے یہاں تصوف، سلوک و طریقت اور اس کے تناظر میں اخلاق، قناعت، صبر و شکر، دنیا کی کم مائیگی، بے ثباتی، کائنات اور مظاہر کائنات، موت و حیات، عشق اور اس کے تمام جزوی و کلی معاملات قنوطیت کے ذیل میں آتے ہیں یا پھر ان تمام مسائل کا ماحصل قنوطیت ہے لہٰذا قنوطیت کی اس تعبیر و تشریح کی رو سے میر پوری طرح قنوطی قرار پاتے ہیں جبکہ عہد حاضر کی میر تنقید نے جس میر کو دریات کیا ہے وہ قاضی عبدالستار کے میر سے بہت مختلف ہے اس نے رونے اور رلوانے کے علاوہ بھی بہت سارے مسائل اپنی شاعری میں برتے ہیں اس کے یہاں شورانگیزی بھی ہے جو ایک انقلابی ذہن کی ترجمانی کرتی ہے۔ رہی بات اس اقتباس کی جس میں میر کی مقبولیت کے اسباب میر کی قنوطیت اور اٹھارہویں صدی کی عام قنوطیت کے مابین ہم آہنگی ہے تو وہ پورا عہد شعری ذوق کے تئیں بہت حساس تھا اور پھر میر کی فنی ہنرمندیاں اس بات کاپورا استحقاق رکھتی تھیں کہ انھیں شرف قبولیت سے نوازا جائے۔ رہی قنوطی ہم آہنگی کی بات تو میر کے اس نوع کے شعر:

دل کی ویرانی کا کیا مذکور ہے

یہ نگر سو مرتبہ لوٹا گیا

یا پھر:

دیدنی ہے شکستگی دل کی

کیا عمارت غموں نے ڈھائی ہے

میر کے اس نوع کے دوچار اشعار قنوطی ہم آہنگی والی بات کے ذیل  میں کہے جاسکتے ہیں لیکن میر کی مکمل شاعری کی مقبولیت کا سبب میر اور اس عہد کی قنوطی آہنگی کو قرار نہیں دیا جاسکتا۔ میر کی عشقیہ شاعری میں سوز اور جلن تو بلاشبہ موجود ہے لیکن جب میر اس سوز اور جلن کی کیفیت سے باہر نکل کر معشوق سے اٹھکھیلیاں کرتے ہیں تب ان کے عاشق کا کردار اس عاشق سے بہت مختلف نظرآتا ہے جو عاشق قاضی عبدالستار نے پیش کیا ہے:

کیا لطف تن چھپا ہے مرے تنگ پوش کا

ابلا پڑے ہے جامے سے اس کا بدن تمام

 

دور بہت بھاگو ہو ہم سے سیکھ طریق غزالوں کا

وحشت کرنا شیوہ ہے کیا اچھی آنکھوں والوں کا

کیا تن نازک ہے کہ حسد جاں کو بھی جس تن پہ ہے

کیا بدن کا رنگ ہے تہہ جس کی پیراہن پہ ہے

جس جائے سراپا یہ نظر جانے ہے اس کی

آتا ہے یہی جی میں یہیں عمر بسر ہو

ہم نہ کہتے تھے کہ نقش اس کا نہیں نقاش سہل

چاند سارا کھپ گیا تب نیم رخ صورت ہوئی

وصل اس کا خدا نصیب کرے

میر جی چاہتا ہے کیا کیا کچھ

کھلنا کم کم کلی نے سیکھا ہے

اس کی آنکھوں کی نیم خوابی سے

گل ہو، آئینہ ہو، مہتاب ہو، خورشید ہو میرؔ

اپنا محبوب وہی ہے جو ادا رکھتا ہے

کیا رنگ میں شوخی ہے اس کے تن نازک کی

پیراہن اگر پہنے تو اس پہ بھی تہ بیٹھے

میر ہر اک موج میں ہے زلف ہی کا سا دماغ

جب وہ دریا پہ آکر بال اپنے دھوگیا

قاضی عبدالستار نے میر کی نشاطیہ شاعری سے اس نوع کا ایک شعر بھی پیش نہ کیا ہے جب کہ میر کی شاعری میںا یسی مثالیں کثرت کے ساتھ ملتی ہیں جن کا قنوطیت کے ساتھ دور کا بھی علاقہ نہیں ہے۔ قاضی عبدالستار نے بعض جگہ میر کے اشعار سے یہ بات ثابت کی ہے کہ اس میں درد و غم کے سوا کچھ بھی نہیں، مثلاً:

ہم کو شاعر نہ کہو میر کہ صاحب ہم نے

درد و غم کتنے کیے جمع تو دیوان کیا

یہاں یہ شعر تعلی کا ہے جس سے میر کی مراد یہی ہے کہ سب سے زیادہ درد و غم میرے ہی دیوان میں موجود ہے لہٰذا اسے پڑھا جائے۔ دراصل میرؔ بقول شمس الرحمن فاروقی بہت چالاک آدمی تھے۔ انھوں نے بارہا اس نوع کی چالاکی اختیار کی ہے مثلاً میر کا ایک شعر ہے کہ:

اگرچہ گوشہ نشیں ہوں میں شاعروں میں میر

پہ میرے شعر نے روئے زمیں تمام  لیا

اب میر کا قاری بخوبی واقف ہے کہ میر نے اپنی زندگی میں جس قدر اسفار کیے ہیں اس قدر اسفار کم شعراکو میسر آئے ہیں اور اس شعر میں گوشہ نشینی کا لفظ بطور رعایت لفظی بھی ہے اور میر کی چالاکی بھی ہے لہٰذا میر کے یہاں تعلی کے اشعار اصل زندگی پر محمول کرلینا غیرمناسب ہے۔

میر کے بعد قاضی عبدالستار نے سوداؔ کو قنوطی ثابت کرنے میں کافی توجہ صرف کی ہے۔ میرؔ کے کلام میں محض حزن و ملال تلاش کرلینا کوئی نئی بات نہیں تھی لیکن سوداؔ کی خوش مزاجی، خارجیت، نشاط آمیز آہنگ تو جگ ظاہر ہے لیکن قاضی عبدالستار کو سوداؔ کے قصیدہ، ہجو، مخمس اور غزل وغیرہ میں محض قنوطیت ہی نظر آتی ہے۔ قصیدہ حضرت سیدالمرسلین کے جو چار اشعار قاضی عبدالستار نے پیش کیے ہیں ان میں اس دور کی عکاسی تو موجود ہے لیکن بطور خاص آخر کے دو اشعار میں غمگین مضمون ناپید نظر آتا ہے۔ رہی بات ہجو، قصیدہ تضحیک روزگار اور ان ہجویات کی جن میں سودا نے سلطنت مغلیہ کی زبوں حالی اور دلی کے امراء و روساء کی بدحالی کا نقشہ کھینچا ہے تو یہ ہجویات موضوعاتی اعتبار سے بلاشبہ یاس و ناامیدی حزن و ملال کا اظہار اور رنج والم کے ترجمان ہیں لیکن مخمس شہر آشوب میں قنوطیت کی وہ لے مدھم نظر آتی ہے جسے قاضی عبدالستار باور کرانا چاہتے ہیں۔ اس میں احساس کی شدت اور جذبات کی گھلاوٹ کم اور فنی کاریگری پر توجہ زیادہ نظر آتی ہے۔ سودا نے اس مخمس میں جس نوع کے الفاظ اور قافیے استعمال کیے ہیں وہ اردو شاعری میں بہت کم دیکھنے کو ملتے ہیں اور ان کے شور میں مغل سلطنت کو سماجی اور معاشی بدحالی کی وہ تصویریں دب جاتی ہیں جنھیں قاضی عبدالستار نے ابھارنے کی کوشش کی ہے اور قاری کی تمام توجہ سودا کی فنی ہنرمندیوں پر مرکوز رہتی ہیں۔

مرزا محمد رفیع سودا کا زمانہ بھی دہلی کی تباہی اور بربادی کا زمانہ ہے۔ انھوں نے بھی دہلی کو اجڑتے ہوئے دیکھا اور پھر فارسی شعری روایت سے سودا کا بڑا گہرا تعلق تھا لہٰذا یہ تمام اثرات ان کی شاعری میں مرتب ہوئے ہیں لیکن قاضی عبدالستار نے سودا کے کلام میں قنوطیت کا جو ایک سبب بیان کیا ہے وہ قابل غور ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ:

’’سودا کو میر کے ریختے سے ٹکرانے کی بھی ہوس تھی اس لیے بھی اس کے کلام میں قنوطی اثرات کا پیدا ہوجانا یقینی تھا۔‘‘ (ص 111-12)

سودا نے میر کی زمین میں میر نے سودا کی زمین میں غزلیں کہی ہیں اور پھر اس عہد کی یہ عام روایت تھی کہ لوگ ایک دوسرے کے مضمون پر مضمون باندھتے ہیں۔ ایک دوسرے کی زمینوں میں غز۔لیں  کہتے تھے مثلاً سودا نے ایک شعر خان آرزو کو سنایا:

چمن میں صبح جب اس جنگجو کا نام لیا

صبا نے تیغ کا آب رواں سے کام لیا

خان آرزو نے جب میر کو یہ بتایا کہ سودا آئے تھے اور یہ مطلع سنا کر گئے ہیں تو میر نے بھی اس زمین میں برجستہ ایک مطلع کہا کہ:

ہمارے آگے ترا جب کسو نے نام لیا

دل ستم زدہ کو ہم نے تھام گھام لیا

اسی طرح میر کا مشہور شعر ہے کہ:

جم گیا خوں کف قاتل پہ ترا میر ز بس

ان نے رو رو دیا کل ہاتھ کو دھوتے دھوتے

اسی زمین میں مرزا مظہر نے اسی مضمون پر شعر باندھا ہے کہ :

داغ چھوٹا نہیں یہ کس کا لہو ہے قاتل

دکھ گئے ہاتھ بھی دامن ترا دھوتے دھوتے

میر کا ایک شعر:

شاید کسی کے دل کو لگی اس گلی میں چوٹ

میری بغل میں شیشۂ دل چور ہوگیا

سودا کا شعر:

 

آتی ہے اس گلی سے پریشاں صدائے آہ

شاید کسی کا شیشۂ دل چور ہوگیا

معاملہ یہ ہے کہ اگر کسی شاعر نے کسی کی زمین میں کوئی غزل کہی یا کسی شاعر کے مضمون پر مضمون باندھا ہے تو اس شعر میں اس کا اپنا ذاتی مزاج اور انفرادی رویہ بھی شامل ہوا ہے اور سودا کا معاملہ تو بہت مختلف ہے۔ انھوں نے بارہا قنوطی مضامین میں بھی نشاطیہ آہنگ پیدا کردیا ہے۔ سودا کے یہاں مضمون کوئی بھی ہو اس میں عموماً خارجیت کا عکس پڑنا لازمی ہے۔ سودا کا یہی وہ رویہ ہے جس نے میر کے مقابلہ ان کی غزل میں قنوطیت کی لے بہت مدھم کردی ہے۔ قاضی عبدالستار نے سودا کی غزلیات سے جن اشعار کا انتخاب کیا ہے اس میں حزن و یاس کا رنگ کچھ تیز ہے لیکن ان میں بھی سودا کی خارجیت کا بڑا دخل ہے۔ اردو غزل میں سودا کی شناخت کی بنا جن اوصاف پر قائم ہوئی ہے وہ ان کی خوش مزاجی اور نشاطیہ آہنگ ہے۔ پروفیسر محمد حسن سودا کی غزل کے انہی اوصاف کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ:

’’ایسا نہیں ہے کہ سودا کو اپنے دور سے شکوہ نہ ہو یا اپنے دور کے نشیب و فراز کو یا باہر کی دنیا کے درد و کرب کو سودا نے جھیلا نہ ہو یا اس دکھ کو قلمبند نہ کیا ہو….. مگر یہ ضرور ہے کہ اس دکھ درد اور کرب و بلا کے جھگڑوں نے سودا کو دھندلایا نہیں دل ٹکرے ہوجانے پر بھی اس نے قنوطیت اور مایوسی کو گلے نہیں لگایا اور خود رحمی کا شکار ہوئے بغیر کجکلاہی اور بانکپن ہی کو اپنی غزل کی پہچان بنایاا ور یہی اس کی غزل کی قلندرانہ لے کی کشش کا راز ہے۔‘‘ (اردو غزل، ص 101-102)

سودا کے کلام سے اسی نوع کی بے شمار مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔ میں یہاں ان میں سے کچھ پیش کرتا ہوں تاکہ سوداکے نشاطیہ لہجے کو بخوبی سمجھنے میں آسانی پیدا ہوسکے:

جوں غنچہ ہو گرہ میں تو کر اس چمن کی سیر

جھمکا ہزار رنگ کا اک مشت زر میں ہے

ساقی ہے اک تبسم گل فرصت بہار

ظالم بھرے ہے جام تو جلدی سے بھر کہیں

اپنا ہنر دکھاویں گے ہم تجھ کو شیشہ گر

ٹوٹا ہوا کسی کا اگر ہم سے دل بنا

کس نے کیا خرام چمن میں کہ اب صبا

لاتی ہے بوئے ناز سے بھربھر کے جھولیاں

نکل کے چوکھٹ سے گھر کی پیارے جو پٹ کے اوجھل ٹھٹک رہا ہے

سمٹ کے گھٹ سے ترے درس کو نین میں جیرا اٹک رہا ہے

ساون کے بادلوں کی طرح سے بھرے ہوئے

یہ وہ نین ہیں جن سے کہ جنگل ہرے ہوئے

خط کے آنے سے غم نہ کھا پیارے

لکھا قسمت کا کوئی مٹاتا ہے

دیکھے اگر صفائے بدن کو ترے صبا

کھولے کبھو نہ شرم سے بند قبائے گل

نازک اندامی کروں کیا اس کی اے سودا بیاں

شمع ساں جس کے بدن پر ہو پسینے سے خراش

سودا جو تیرا حال ہے اتنا تو نہیں وہ

کیا جانئے تونے اسے کس آن میں دیکھا

سودا کی جو بالیں پہ ہوا شور قیامت

خدام ادب بولے ابھی آنکھ لگی ہے

ہجو ہے اس زلف کی تشبیہ دینا مشک سے

شاعروں پہ بات پہنچے گی دراز و دور تک

قاضی عبدالستار نے سودا کے متعلق جتنی باتیں کہیں ہے۔ ان میں واقعیت تو ضرور ہے لیکن مجموعی طور پر سودا قنوطی شاعر نہیں۔

بہادر شاہ ظفر مغلیہ سلطنت کے آخری تاجدار تھے۔ انھوں نے اپنی آنکھوں سے اس سلطنت کی بساط سمٹتی ہوئی دیکھی اور اس کرب کو داخلی سطح پر محسوس کیا لہٰذا ایسا ممکن نہ تھا کہ اس پورے منظرنامے کا دردناک عکس ان کی غزلوں میں نہ آئے۔ قاضی عبدالستار نے انہی مسائل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:

’’ظفر کے ضخیم کلیات میں تصوف اور عشق کے عام پامال مضامین کا انبار موجود ہے لیکن ذاتی کوائف اور عصری حادثات کے امتزاج نے ان کی شاعری میں قنوطی رنگ کو تیز کردیا ہے… ظفرکیوہیغزلیںمشہورہیںجواسرنگمیں ڈوبی ہوئی ہیں۔‘‘ (ص 144)

یعنی تصوف اور عشق کے مضامین بجائے خودقنوطی رویے کے حامل ہیںا ور ان میں قنوطی عناصر موجود ہیں لیکن ان کی غزل کے وہ مضامین جن میں ظفر کے ذاتی کرب کا اظہار عمل میں آیا ہے وہاں قنوطیت کی لے تیز ہوگئی ہے اس ضمن میں ظفر کے کلام کے تعلق سے قاضی عبدالستار نے دنیا کی بے ثباتی، آنسو، یاس و ناامیدی اور حرماں نصیبی جیسے مسائل پر روشنی ڈالی ہے اور بہادر شاہ ظفر کے کلام میںقنوطی استعاروں پر مدلل بحث کی ہے وہ لکھتے ہیں کہ:

’’ظفر کے کلام میں صیاد، دام اور بے بال و پری کے استعارے صرف روایتی نہیں ہیں بلکہ دیسی حکومتوں کے خلاف انگریزی سامراج کی اس پالیسی  کے متعلق شاعرانہ اشارے ہیں جن کا شکار خود ظفر تھا۔‘‘(ص147)

بلاشبہ ظفر کی آواز درد انگیز ہے جس میں شکایت بذات خود اپنی بدقسمتی سے ہے اور ان کی ان تمام غزلوں میں گھلاوٹ اور دلسوزی تیز تر ہوجاتی ہے جہاں وہ اپنی بدقسمتی اور حرماں نصیبی کا گلہ کرتے ہیں:

بلبل کو پاسباں سے نہ صیاد سے گلہ

قسمت میں قید تھی لکھی اجڑے دیار میں

غالب کے تعلق سے قاضی عبدالستار کی آرا بہت حد تک مختلف فیہ ہیں۔ غالب کا عہد سیاسی اعتبار سے بلاشبہ پرحول تھا۔ مغلیہ سلطنت کا چراغ بجھ رہا تھا اور پھر غالب کی ذاتی زندگی بھی کچھ کم پریشان کن نہ تھی۔ پینشن کے مقدمے نے غالب کی زندگی بہت حد تک متاثر کی اس صورت حال میںا موات اولاد کا غم مزید سنگین مسئلہ تھا۔ غالب کی شاعری میں بلاشبہ ان تمام باتوں کا اظہار ہواہے لیکن غالب کی شاعری اظہار کی سطح پر محض ان ذاتی واقعات و حالات کا بیان نہیں ہے بلکہ اس میں غالب کے تخئیل اور مزاج کا بھی اہم حصہ ہے جس نے ان کی شاعری کو معنی آفرینی کی ایک نئی سمت عطا کی ہے اس کے برعکس غالب کے تعلق سے قاضی عبدالستار کا خیال ہے کہ :

’’غالب کا دیوان عام اور پامال مضامین سے آباد ہے…. ولی سے ظفر تک اگر ساری کلاسیکی شاعری کا معنی کی تخصیص کے ساتھ مطالعہ کیا جائے تو غالب بھی انہی مضامین کے متنوع اظہار پر شاکر نظر آتا ہے جو حالی کے الفاظ میں تین چار صفحات میں سما جاتے ہیں۔ غنائی شاعری میں عموماً اور غزل میں خصوصاً معنی کے لحاظ سے کسی انقلاب کا تصور کیا ہی نہیں جاسکتا جب تک شاعر شعوری طور پر اقبال کی طرح جذبات و احساسات کے بجائے کسی پیغام یا کسی فلسفے کو اپنی افتاد شعری پر غالب نہ کرلے۔ مواد میں انقلاب تو ایک طرف تنگنائے غزل کا شکوہ کرنے کے باوجود وہ غزل کی عام مروجہ ہیئت میں کوئی تغیر نہ کرسکے جدت کی انتہائی پروازمیں وہ صرف چند مضامین پر حاشیہ آرائی کرسکے یعنی مسلمات ثابتہ میں چند گوشے نکالے ہیں شعری حقائق میں کچھ شوشے پیدا کیے ہیں۔‘‘ (ص 159-60)

قاضی عبدالستار اسی صفحے پر آگے غالب کے تعلق سے رقمطراز ہیں کہ:

’’غالب کاکارنامہ صرف یہ ہے کہ اس نے ان مضامین کے پیدا کردہ عام نتائج پر نادر تصرف کرکے نئے معنی دیے ہیں اور ایسے اشعار کی تعداد دس بیس سے زیادہ نہیں۔ ندرت کی اس روش میں بھی غالب یکتا نہیں ہیں میرؔ ان سے بہت پہلے یہی حربہ استعمال کرچکے ہیں۔‘‘ (ص 160)

قاضی عبدالستار کے اس خیال کے مطابق غالب کی شاعری انہی عام اور پامال مضامین کا چربہ ہے جنھیں کلاسیکی شعراء نے اختیارکیا تھا اور انھوں نے انہی مضامین کے متنوع اظہار پر قناعت اختیار کی ہے حالانکہ ایسا بالکل بھی نہیں ہے۔ غالب ایک جدید فکر انگریز شاعر ہیں جنھوں نے حیات و کائنات کے مسائل کو ازسر نو محسوس کیا اور اس کے اظہار و ترسیل کے لیے ایک ایسا اسلوب وضع کیا جس کی مثال آج بھی ممکن نہیں ہے۔ غالب کی شاعری کو دل کی نہیں بلکہ دماغ کی شاعری کہا گیا۔ بقول پروفیسر آل احمد سرور غالب نے اردو شاعری کو ایک سوچنے والا ذہن عطا کیا ہے۔ اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ غالب کے نزدیک شاعری محض قافیہ پیمائی نہیں بلکہ معنی آفرینی کا ایک وقیع عمل ہے۔ غالب الفاظ کے بجائے صوتیات اور اسلوبیات کے ذریعہ معنی آفرینی میں کامیاب گزرتا ہے۔ ساخت و ہیئت کے ذریعہ اندرونی تہہ اور داخل میں معنوی جہات پیدا کرتا ہے۔ محض ایک یا دو سرسری قرأت غالب کی معنی آفرینی تک رسائی نہیں کرپاتی۔ شعر کے اصل مضمون کی دریافتگی مسلسل غور و خوض کا مطالبہ کرتی ہے ایسی صورت میں غالب کے معاصرین شعراء اور اٹھارویں صدی کے ماقبل کے شعراء کو غالب کے ساتھ ایک صف میں کھڑا نہیں کیا جاسکتا۔ غالب نے بلاشبہ کلاسیکی مضامین میں اپنی شاعرانہ قوت صرف کی ہے اس میں بھی غالب کے انفرادی تفاعل، مزاج، پیرایۂ اظہار اور پرواز تخئیل کا بڑا دخل ہے جس نے غالب کی کلاسیکی شاعری سے بہت مختلف شخصیت قائم کی ہے یہی وجہ ہے کہ غالب کلاسیکی ہونے کے باوجود جدید شاعر ہیں اور دوسرے کلاسیکی شعراء کے مقابلے غالب کی شاعری میں معنوی امکانات بہت زیادہ ہیں۔ رہی بات غالب کے شاعرانہ انقلاب کی تو غالب کا اسلوب ماقبل کی تمام اسلوبیات سے انحراف کی بہترین مثال ہے۔ غالب کا تخیل ماقبل کے تمام شاعرانہ تخئیل سے جدید تر ہے۔ غالب کا انداز بیان بلاشبہ حیران کن ہے۔ غالب نے جس طرح حیات و کائنات کو نگاہ تشکیک سے دیکھا ہے اور سوالات قائم کیے ہیں وہ باضابطہ ایک فلسفۂ حیات ہے۔ پوری کلاسیکی شاعری میں اس کی کوئی مثال موجود نہیں ہے۔ غالب کی معنی آفرینی اور شاعرانہ کمال کے تعلق سے ابوالکلام قاسمی نے اپنے مضمون ’عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایا‘ میں لکھا ہے کہ:

’’اکثر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ غالب اپنے موضوع اور مدعا سے کہیں زیادہ اس سے پیدا ہونے والے کسی نکتے، جمالیاتی تجربے کی کسی نئی جہت، کسی عبرت انگیز منظرنامے یا بصیرت افروز صورت حال کو نمایاں کرنے پر پوری توجہ صرف کردیتے ہیں۔ اس عمل میں زبان میں پہلے سے موجود ساختوں میں تبدیلی، کسی تمثیل استعارے یا امیجری کا غیرمعمولی طور پر تخلیقی استعمال اور بعض تلازموں پر پوری توجہ کرکے انھیں بالکل نیا سیاق و سباق دینا ان کے طرز اظہار کے بنیادی وسائل بن جاتے ہیں۔‘‘ (مونوگراف مرزا غالب، ص 51)

غالب کی شاعری کلاسیکی شاعری سے کس طرح مختلف ہے اور کن معنوںمیں جدید ہے اس تعلق سے ابوالکلام قاسمی ایک دوسرے مضمون گنجینۂ معنی کا طلسم میں تحریر کرتے ہیں کہ:

’’مرزا غالب کی غزل میں کلاسیکی اقدار کے تسلسل کا احساس تو ضرور ہوتا ہے لیکن ان کو پوری طرح ایک کلاسیکی شاعر قرار دینا آسان نہیں۔ اس لیے کہ کلاسیکیت کی بنیادیں جس نوع کی اجتماعیت اور مسلمہ اقدار کی پاسداری پر قائم ہوتی ہے۔ مرزا غالب کا استفہامیہ اندازِ کلام ان پر طرح طرح کے سوالات قائم کرتا ہے اور اکثر روایتی تصورات سے یا تو انحراف کرنے کا رویہ اختیار کرتا ہے یا کم ازکم تشکیک اور بے اطمینانی کے رویے کا اظہار ضرور کرتا ہے۔‘‘ (مونوگراف، مرزا غالب، ص 53)

کلاسیکی شاعری اور نئی شاعری سے غالب کا رشتہ کیا ہے۔ ابوالکلام قاسمی کے یہ دونوں اقتباسات اسی مسئلہ پر روشنی ڈالتے ہیں اور ان سے یہ بات بالکل صاف ہوجاتی ہے کہ غالب کا کلام محض ماقبل کی اردو شاعری کا متنوع اظہار نہیں ہے بلکہ وہ ماقبل کی شاعری سے بہت حد تک مختلف بھی ہے۔ غالب نے ماقبل کے جس مضمون کو چھوا اس میں ایک رخنہ پیدا کیا ہے۔ وہ تمام مضامین جسے قاضی عبدالستار قنوطیت سے تعبیر کرتے ہیں بلاشبہ وہ کلام غالب میں موجود ہیں ان میں تصوف، وحدۃ الوجود، فنا، ترک دنیا، یاس وناامیدی، حرماں نصیبی، گریہ وزاری، زندگی کی بے ثباتی، ذاتی اور انفرادی غم کا اظہار اور دنیا سے کنارہ کشی سب کچھ موجود ہے لیکن غالب کا قنوطی رویہ بہت حد تک بے اختیار جذبات و کیفیات کا حامل نہیں ہے۔ اس میں غالب کے بالارادہ تصنع اور بناوٹ کا بھی بڑا دخل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ غالب کے یہاں بہت سارے مضامین قنوطی ہونے کے باوجود اس آنچ سے آشنا نظر نہیں آتے جو میر کے یہاں گھلاوٹ اور دل گرفتگی کا سبب بنتے ہیں بلکہ ان جیسے قنوطی مضامین میں غالب کی  انانیت، طنز اور شوخی بناؤٹی رویے کو پوری طرح واضح کردیتی ہے۔ اس طور سے غالب کا شاعرانہ حربہ میرؔ اور دوسرے کلاسیکی شعراء سے بہت مختلف ہوجاتا ہے۔

 

نوٹ: مضمون نگار شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی میں ریسرچ اسکالر ہیں

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔
abdus sattaradbi mirasadbimirasqunutiyatsaquib faridiادبی میراثثاقب فریدیشاعریقاضی عبد الستارقنوطیت
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
مرزا غالب غزل نمبر 7- ڈاکٹر رضی الدین عقیل
اگلی پوسٹ
حبیب تنویر: لوک تھیٹر کی بازیافت-محمدشاہ نواز قمر

یہ بھی پڑھیں

فروری 2, 2026

فروری 1, 2026

دسمبر 14, 2025

 اردو شاعری میں سہرا نگاری اور’’ضیائے حنا‘‘ کا...

دسمبر 7, 2025

ستمبر 29, 2025

جولائی 12, 2025

جولائی 12, 2025

فروری 5, 2025

جنوری 26, 2025

ظ ایک شخص تھا – ڈاکٹر نسیم احمد...

جنوری 23, 2025

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (119)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں