تقریباً ایک صدی قبل اپریل 1917کوجس یونیورسٹی(عثمانیہ یونیورسٹی)کو بڑے تزک واحتشام سے قائم کیا گیا تھا،اور اس کے تحت بڑے بڑے منصوبے تیار کیے گیے تھے،وہ منصوبے ایک صدی بھی پورے آب وتاب کے ساتھ قائم نہ رہ سکے۔جس ادارے کا اپنے قیام کے ابتدائی تیس سال کی تاریخ ترجمہ کے حوالے سے عہد زریں کا دور کہا جا سکتا ہے،وہ ادارہ ہر دن کے ساتھ زوال پذیر ہے۔ادارہ اب بھی اپنی خدمت کر رہا ہے، لیکن وہ شان کہاں باقی، جس کا ذکر کتابوں میں ملتا ہے۔ آزادی کے بعد سیاسی لوگوں نے ہر چیز کا بٹوارہ کرنا اپنا فریضہ سمجھا۔اس فریضے کی ا دائیگی میں کتنوں کے پیر جھلس گئے،کتنے گلے کٹ گیے،کتنوں کے گھر اجڑ گیے،اس کا اندازہ بھی کرنا مشکل ہے۔اس بٹوارے میں ہم نے اپنا ذریعۂ اظہار بھی باٹنے کی کوشش کی۔کاغذ پر فرمان بھی ظاہر کر دیا گیا۔لیکن دلوں سے نہیں نکال سکے۔روح نکال لی گئی۔جسم کو چھوڑ دیا گیا۔بے روح جسم کی مثال کیا ہو سکتی ہے؟اس کا واضح ثبوت عثمانیہ یونیورسٹی کے روپ میں دیکھا جا سکتا ہے۔نظام حیدرآبادی نے جا معہ عثمانیہ کو بہت منظم طریقے سے قائم کیا تھا۔لیکن اس ادارے کو آزاد ہندوستان نے کسی بھی اعتبار سے سنبھالنے کی کوشش نہیں کی۔کیونکہ اس ادارے کو جس مقصد کے تحت قائم کیا گیا تھا،آزادی کے بعد اس کو اپنے مقصد سے الگ کر دیا گیا۔لیکن غلام ہندوستان میں اس ادارہ نے ترجمے کے حوالے سے جو کارنامہ انجام دیا،وہ کسی سے مخفی نہیں۔ دارالترجمہ کے تحت تقریبا پانچ سو کتابیں ترجمہ اور تالیف ہوئیں۔لیکن اشاعت کے مراحل سے گزرنے والی کتابوں کی تعداد اس سے کم ہے۔یعنی کہ اب بھی بہت سی کتابیں غیر مطبوعہ ہیں۔اس کی پوری تفصیل مجیب الاسلام نے اپنی کتاب’’ دارالترجمہ عثمانیہ کی علمی اور ادبی خدمات‘‘میں دی ہے۔ (یہ بھی پڑھیں عہدرسالت میں طبیب خواتین-ڈاکٹرمحمد رضی الاسلام ندوی )
عثمانیہ یونیورسٹی کے قیام کے چند مہینے بعد ہی اگست1917 میں دارالترجمہ کا قیام عمل میں آیا۔1948 کے آخر تک دارالترجمہ قائم رہا،اور اپنے مقصد کی آبیاری میں اپنا کردار آتا کرتارہا۔لیکن آزاد ی کے بعد یہ ادارہ ہندوستان کی تمام یونیورسٹیوں کے ایکٹ سے منسلک کر دیا گیا۔واضح ہو کہ آزادی سے پہلے یہ ادارہ خود مختار تھا۔ آزادی کے بعد جامعہ عثمانیہ کا ذریعۂ تعلیم اردو سے چھین کر انگریزی کو دے دیا گیا۔اس وقت کیا اب بھی اردو سیاست دانوں کو غیر ملکی زبان لگتی ہے اور انگریزی ملکی۔ان دونوں زبانوں کا بنیادی فرق تلاش کریں تو بہت واضح فرق نظر آتا ہے۔اردو نے لوگوں کو جوڑنے کا کام کیا ہے۔باوجود اس کے لوگ انگریزی زبان کو اپنی ترقی اور کامیابی کا ضامن سمجھتے ہیں۔ دارالترجمہ حیدرآباد کے تحت انجینرنگ، قانون، سائنس،فزکس، کیمسٹری، حیوانیات، ریاضی، میڈیسن، تعلیم، اسلامیات، ارضیات، فلسفہ اور طب جیسے اہم مضامین کی کتابوں کا اردو میں ترجمہ کرایاگیا۔یقینا ذکر بالا موضوعات کی کتابوں کا اردو میں ترجمہ کرانا کسی بھی صورت آسان نہیں رہا ہوگا۔کیونکہ یہ وہ موضوعات ہیں،جن میں اصطلاحات کا ترجمہ کرنا انتہائی مشکل ہوتاہے،بسا اوقات یہ مشکل ناممکن میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
دارالترجمہ حیدرآباد کا قیام بہت منظم طریقے سے کیا گیا تھا۔اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ،مختلف کمیٹیوں کو بنا کر ان کے کام کواس طرح سپرد کیا گیا کہ کوئی بھی غلطی نہ رہ جائے،جس سے معلم یا متعلم کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑے۔اسی لیے سب سے پہلے نصابی کمیٹی بنائی گئی۔یہ کمیٹی نصاب کا تعین کرتی تھی،اور دارالترجمہ کو اصل تصنیف فراہم کرتی تھی۔اس کمیٹی میں بیشتر حضرات کا تعلق دکن کے مختلف کالجوں سے تھا۔اس کے بعد انتظامی کمیٹی کا نمبر آتا ہے۔اس کمیٹی کو اس لیے بنایا گیا تھاکہ مترجمین کو اگر کسی مسئلے پر اتفاق نہ ہو، تو یہ لوگ اس کمیٹی کے لوگوں سے رجوع کر کے اپنے نظریات کو ان کے سامنے رکھ کر تشفی حاصل کر سکیں۔لیکن ان سب کمیٹیوں میں سب سے مشکل اور اہم ’’وضع اصطلاحات‘‘کمیٹی تھی۔اس کمیٹی کا کام یہ تھا کہ اردو میں علمی اصطلاحات فراہم کرنا یا وضع کرنا تھا۔جتنی بھی کمیٹیاں دارالترجمہ کے تحت بنائی گئی تھیں،ان سب میں ایسے اشخاص کو رکھا گیا تھا ،جو ماہر تھے۔وضع اصطلاحات کمیٹی میں جہاں وحید الدین سلیم اور مولوی عبدالحق تھے،وہیں نظم طباطبائی،عبداللہ عمادی،مرزا ہادی رسوااور پروفیسر عبد الواسع جیسے ذی علم حضرات اس کمیٹی کے اراکین تھے۔
دارالترجمہ میں 1925 سے لیکر 1927 کے درمیان مختلف مضامین کے ترجمے ہوئے۔ ساتھ ہی ساتھ میڈیسن اور طب کی کتابیں بھی ترجمہ کرائی گئیں۔جب ان میں سے کچھ کتابوں کی اشاعت عمل میں آگئی،تب عثمانیہ یونیورسٹی میں طبیہ کالج کا قیام علم میں آیا۔اس سے اس بات کی طرف بھی اشارہ ہوتا ہے کہ کسی بھی کورس کو عملی طور پر تبھی شروع کیا جائے،جب اس مضمون کی کتابیں شائع ہو جائیں۔طب کی کتابوں کے مترجمین کون کون تھے،اور اس مضمون کی کتنی کتابیں شائع ہوئیں،اس تعلق سے مجیب الاسلام نے لکھا ہے:
’’دارالترجمہ میں طب اور میڈیسن کے مترجمین ڈاکٹر محمد عثمان، ڈاکٹر غلام دستگیر، ڈاکٹر مفتی شاہ نواز، ڈاکٹر محمد حسین، ڈاکٹر محمد شرف الحق، ڈاکٹر فضل کریم، ڈاکٹر خلیل الرحمن، ڈاکٹر مختارحسین، ڈاکٹر حیدر علی،ڈاکٹر حسن علی خاں، ڈاکٹر حامد حسن، ڈاکٹر خورشیدحسن اور علامہ حکیم کبیرالدین نے جن موضوعات کے ترجمے کیے ان کی تعداد پینتالیس(45)ہے۔ان میں سے چونتیس(34)تراجم شائع ہوئے دو کتابیں تالیف کی گئیں جن میں سے ایک کتاب مصطلحات کی بھی شامل ہے۔یہ دونو ں تالیف شائع ہوئیں۔اس طرح چھتیس(36)تراجم و تالیفات شائع ہوئے۔
ان تمام تراجم میں امراض ان کی پیدائش ،ان کا بڑھنا، ان کی مختلف صورتیں ان کی نوعیت، ان کی تشخیص،امراض کی روک تھام اور ان کے علاج وغیرہ سے متعلق تمام باتوں کو واضح طور پر تحریر کیا گیا ہے۔‘‘
)دارالترجمہ عثمانیہ کی علمی اور ادبی خدمات۔مجیب الاسلام۔ثمر آفسیٹ پرنٹرز،دہلی۔1987۔ص، (123-124
درج بالااقتباس سے اندازہ ہوتا ہے کہ طبی تراجم کے حوالے سے دارالترجمہ حیدرآباد کافی اہمیت کا حامل ہے۔کیونکہ اس ادارے سے جہاں اتنے اہم لوگ وابستہ رہے،اور اپنی گرانقدر خدمات انجام دیں،اس سے اردو میں طبی تراجم کی اہم بنیاد پڑی۔ایسا نہیں ہے کہ اس سے پہلے اردو میں طبی تراجم نہیں ہوئے۔اس ادارے سے پہلے کلکتہ میں اس حوالے سے کچھ کام ہوا تھا،لیکن اس کی بہت زیادہ تفصیل حاصل نہیں ہو سکی۔دارالترجمہ حیدرآباد نے جتنی تعداد میں کتابوں کااردو میں ترجمہ کرایا تھا،یہ بہت بڑا المیہ کہا جائے گا کہ ساری کتابیں شائع نہیں ہوئیں۔ممکن ہے کہ کچھ کتابوں کی اشاعت کا لائحہ عمل بھی تیار کیا گیاہو،لیکن ذریعۂ تعلیم اردو کے بجائے انگریزی ہو جانے کی وجہ سے انتظامیہ نے اس طرف توجہ نہ کی ہو۔ترجمے اس لیے کرائے گیے تھے کہ اردو زبان میں آسانی سے تعلیم دی جا سکے۔لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ تراجم ناپید ہوتے جا رہے ہیں۔کیونکہ بہت ساری لائبریریوں میں ایک بھی اس سلسلے کی کتاب نہیں ہے۔طبی ادارے یا کوئی اردو اکیڈمی اس سمت توجہ دے، تو بہت سے سرمایے ضائع ہونے سے بچ جائیں گے۔
کسی بھی فن کا ترجمہ کرنا یہ بہت مشکل کام ہے۔اگر ترجمہ ادبی فن پارے کا ہے تو اس اعتبار سے وہ دوسرے فن سے آسان ہوتا ہے کہ ادب میں عام طور پر اصطلاحات کا استعمال نہیں ہوتا ہے۔جب کہ دوسرے کسی بھی متن کا ترجمہ کرتے وقت سب سے مشکل کام اصطلاحات کا ترجمہ کرنا ہوتا ہے۔دارالترجمہ حیدرآباد میں ایک کمیٹی’’وضع اصطلاحات‘‘کے نام سے بنائی گئی تھی،جس کا ذکر اوپر آچکا ہے۔اس کمیٹی کے اراکین وہ کئی اعتبار سے بہت ماہر تھے۔کیونکہ ترجمہ میں سب سے زیادہ دشواری اصطلاحات کو لیکر ہی ہوتی ہے۔لیکن اس کمیٹی نے جو بھی اصطلاحیںوضع کیں،وہ اصل سے قریب ترہیں۔کچھ اصطلاحوںکا ذکر مجیب الاسلام نے اپنی کتاب میںکیا ہے،جیسے:
Deficiency Anaemias کی اصطلاح اردو میں’’قلتی عدم دموتیں‘‘وضع کی گئی ہیں۔لیکن اس اصطلاح کو سمجھنا یہ کو ئی آسان کام نہیں۔باوجود اس کے وضاحت کرنے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ یہ اصطلاح کئی اعتبار سے موزوں ہے،لیکن جو اصطلاحیں وضع کی گئی ہیں،ان میں سے عام طور پر عربی آمیز ہیں۔یہ ایک الگ مسئلہ ہے کہ طب کا براہ راست تعلق عربی سے ہی ہے۔اور عربی کو اس اعتبار سے اولیت بھی حاصل ہے۔ دارالترجمہ حیدرآبادکی اہم خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ بھی تھی کہ وہاںسے شائع شدہ تراجم آسان اور عام فہم زبان میں ہوتے تھے۔جسے ہر کوئی آسانی سے سمجھ سکتا تھا۔اس سلسلے کاایک اقتباس ملاحظہ ہو:
’’ تولید کا انحصار مرد کی طبعی فعالیت پر بھی اتنا ہی ہے جتنا کہ عورت کی طبعی صنفی فعالیت پر۔لہذاعقم ہمیشہ عورت ہی کی طرف سے پیدا نہیں ہوتا، اگرچہ وہ حالتیں جن سے اس کے پیدا ہونے کاامکان ہوتا ہے مرد کی نسبت عورت میں زیادہ کثرت سے پائی جاتی ہیں۔یہ اندازہ کیا گیا ہے کہ جو ازدواجات بار آوار ثابت نہیں ہوتی ان میں سے 20تا 25فیصدمیں اولاد نہ پیدا ہونے کی ذمہ داری مرد پر عائد ہوتی ہے۔ایسی مثالیں بھی دیکھنے میں آئی ہیں جن میں بالکل تندرست افراد عقد عقم ثابت ہوا مگر بعدازدواج ثانی سے ہر ایک کے ہاں اولاد پیدا ہوئی۔جن خاندانوں میں استعداد نسبتا کم یا رو بہ تنزل ہو اولاد پیدا ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔اس بیان کا اطلاق کثیر العیال خاندانوں کے کلاں تر افراد پر غالبا زیادہ ہوتا ہے کیونکہ اس امر کے متعلق کسی قدر ثبوت مہیا ہو چکا ہے کہ خِرد ترین ارکان کے ازدواج سے قوت تولید میں تخفیف پیدا ہوجانے کا امکان ہوتا ہے۔بعض خاندانوں کارجحان بعض نسلوں کی طرح معدوم ہو جانے کی طرف ہوتا ہے اور عمل یا تو فعالیت تولید میں مترقی نقص ہو جانے یا کسی موروثی مرض کی وجہ سے وقوع میں آتا ہے۔‘‘
(علم امراض النساء۔مترجم،ڈاکٹر غلام دستگیر۔ جامعہ عثمانیہ،حیدرآباد۔1939ص،322)
درج بالا اقتباس سے یہ بات واضح معلوم ہوتی ہے کہ اگر کوئی ماہر ترجمہ کرتا ہے تو وہ اس لیے بھی دوسروں سے بہترکر سکتا ہے،کیونکہ اس کے پیش نظر دونوں زبان کی لفظیات ہوتی ہیں۔کیونکہ کون سا لفظ کس کے لیے زیادہ مناسب ہے،اس کا انتخاب کوئی ماہر زبان ہی کر سکتا ہے۔درج بالا اقتبا س کا اصل متن سامنے تو نہیں ہے،جس سے یقینی طور پر کوئی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔البتہ اس اقتباس کو پڑھ کر مفہوم سمجھنے میں نہ تو کوئی دقت آئی اور نہ ہی ایسا لگا کہ کسی متن کا ترجمہ پڑھا جا رہا ہے۔غلام دستگیر نے بجز چند الفاظ کے عام فہم الفاظ ہی کا استعمال کیا ہے۔اسی طرح ڈاکٹر محمد عثمان کے ترجمہ کا ایک حصہ جو کالی کھانسی کے تعلق سے ہے، ملاحظہ ہو:
’’یہ ایک متعدی بیماری ہوتی ہے،جس میں عام طور پر کسی قدر قریبی تماس کی ضرورت ہوتی ہے۔لیکن کبھی کبھی بظاہر ہر کپڑوں اور کبھی یقینی طور پر بساق Sputumسے منتقل ہوتی ہے۔بچے اس سے بہت حس پذیر ہوتے ہیںاور بیشتر اشخاص کویہ مرض اوائل عمر میں ہوتا ہے لیکن بالکل شاد طور پر اس کا بالغوں پر حملہ ہوتا ہے۔امراض طفحیہExanthems کی نسبت اس کا دوسرا حملہ ایک ہی مریض میں اور بھی زیادہ شاذ ہے۔یہ ایک اور آٹھ سال کی عمروں کے درمیان نہایت عام ہے اور لڑکوں کی نسبت لڑکیاں اس میں زیادہ مبتلا ہونے کا رجحان رکھتی ہیں۔یہ وبائی صورتوں میں واقع ہوا کرتی ہے،لیکن اس امر کی زیادہ شہادت موجود نہیں ہے کہ آب وہوا یاموسم اس کی وبا کا باعث ہوتا ہے اکثر مشاہدہ کیا گیا ہے کی کالی کھانسی کی وبا کھسرا کی وبا کے بعد فی الفور واقع ہوتی ہے۔‘‘
(بحوالہ:دارالترجمہ عثمانیہ کی علمی اور ادبی خدمات۔مجیب الاسلام۔ص،123)
درج بالااقتباس سے سے اندازہ ہوتا ہے کہ مترجم نے متن کا ترجمہ اس طرح کیا ہے کہ عام قاری بھی اس کو سمجھ سکے۔البتہ زبان وادب کے حوالے سے یہ اقتباس دیکھا جائے تو کہیں کہیں ترمیم و اضافہ کی گنجائش نظر آتی ہے۔جیسے’’لڑکوں کی نسبت لڑکیاں اس میں زیادہ مبتلا ہونے کا رجحان رکھتی ہیں‘‘اس جملے کو یوں بھی لکھا جا سکتا تھا کہ’’لڑکوں کی بہ نسبت لڑکیاں اس سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔‘‘رجحان رکھتی ہیں،ایسا لگتا ہے کہ کسی چیز کو اپنی جانب آمادہ کیا جا رہا ہے۔امراض طفحیہ اور بساق کا انگریزی لفظ بھی درج کر دیا گیا ہے۔اس سے اس لفظ کو سمجھنے میں آسانی ہوگی۔اس ادارے کے تحت کئی اہم کتا بوں کا ترجمہ کیا گیا ہے،جن میں چند ’ابتدائی حیوانات برائے طلبہ طب‘کو محمد سعید نے انگریزی کتابL.A-Elementary Zoology for Medical students) (سے ترجمہ کیا۔یہ کتاب 1949میں شائع ہوئی۔اصول صحت اور صحت عامہ،کو ڈاکٹر محمد عثمان نے انگریزی کتاب(A Treatise on hygiene and public helth) سے ترجمہ کیا۔لیکن یہ کتاب شائع نہیں ہو سکی۔امراض اطفال کو ڈاکٹر غلام دستگیر نے انگریزی کتاب (James-manual of diseases of children)سے اردو میں ترجمہ کیا۔یہ کتاب بھی شائع نہیں ہوئی۔امراض چشم کو ڈاکٹر خورشید حسن نے انگریزی کتاب(Cworth mannual of diseases of the eye) سے ترجمہ کیا۔یہ کتاب1941میں شائع ہوئی۔اسی طرح کی اور بھی بہت سی ایسی کتابیں ہیں جن کا ذکر کیا جا سکتا ہے۔
بحیثیت مجموعی کہا جا سکتا ہے کہ طبی تراجم کے حوالے سے دارالترجمہ حیدرآباد نے بہت اہم کارنامہ انجام دیا۔ضرورت اس بات کی ہے کہ اس طرح کی کتابوں کو کسی طرح سے محفوظ کرنے کی طرف توجہ کی جائے،تاکہ ایسی اہم کتابیں ضائع ہونے سے بچ جائیں۔یہ ایک ایسا سرمایہ ہے،جس سے اردو زبان کے متنوع ہونے کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔تراجم کے ذریعے بڑے اہم اہم کام کیے گیے۔ہم دنیا سے جو اتنے قریب ہوئے ہیں،اس میں ترجمہ کا سب سے بڑا عمل دخل رہاہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ جو کام دارالترجمہ حیدرآباد نے شروع کیا تھا،اسے آگے بڑھایاجائے۔ترجمے اب بھی ہو رہے ہیں،اور ہوتے رہیں گے،لیکن کئی اعتبار سے دارالترجمہ حیدرآباد طبی تراجم کے حوالے اب بھی جانا جاتا ہے۔اس اعتبار سے اس کی انفرادیت مسلم ہے۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

