یاد آتا ہے میرے ایک بزرگ کہاکرتے تھے اور اکثر بزرگ کہتے رہتے ہیں کہ راتوں کو کھیتوں کی رکھوالی کرتے وقت اگلے وقتوں میں آدمی دیکھ جان میں جان آتی تھی ۰۰۰ اب وہ وقت آن پڑا ہے کہ جان جاتی ہے۔ سید محمد اشرف کا افسانہ ’آدمی‘ بھی کچھ ایسا ہی کہتا نظر آتا ہے۔
’آدمی‘ سیّد محمداشرف کے افسانوی مجموعے ’’ڈار سے بچھڑے‘‘کا پہلا افسانہ ہے۔مجموعے کے آٹھ صفحات پر مشتمل اس افسانے کی ابتدامیں فساد سے قبل ہونے والے جلوس کا ذکر کیا ہے۔سرفراز اوراس کے بچپن کے دوست سیّد انوار علی کی،کمرے میں گفتگوہورہی ہے۔دونوںہی خوف میں مبتلاہیں:
’’کھڑکی کے نیچے انھیں گزرتا ہوا دیکھتا رہا۔پھر یکایک کھڑکی زور سے بند کی۔مڑکرپنکھے کابٹن آن کیا۔پھر پنکھے کا بٹن آف کیا۔میزکے پاس کرسی پہ ٹک کردھیمے سے بولا۔
آج تو کل سے بھی زیادہ ہیں۔روز بڑھتے ہی جارہے ہیں۔
سرفرازنے ہتھیلیوںپرسے سر اٹھایااور انوار کودیکھا تم نے تو دوہی دن دیکھاہے نامیں تو بہت دن سے دیکھ رہا ہوں۔کھڑی بند رکھوںتو گھٹن ہوتی ہے۔کھول دوں تو دل اور زیادہ گھبراتا ہے۔لگتا ہے سب ادھرہی آرہے ہوں۔سرفرازچپ ہوگیا۔‘‘
اس اقتباس سے یہ واضح نہیں ہوتاکہ فساد کی نوعیت کیا ہے لیکن قاری بالکنایہ کے لیے اس طرف اشارہ موجود ہے،جو کہ افسانے کی خوبی ہے انوار کہتا ہے:
ـ’’ویسےاپنی طرف سےبھی تیاریاں ٹھیک ٹھاک ہیں اس نےیہ بات رازداری کےلہجے میں بتائی۔‘‘
اس اوّلین گفتگو کے بعد افسانہ نگار سرفراز اور سیّد انوارعلی کی بچپن کی پہلی ملاقات اور ان کی دوستی کے متعلق بتاتا ہے۔سرفراز کو پڑھنے کے لیے اس کے خالو کے گھر بھیج دیا گیا تھا۔اس کے خالو کا گھر ایک بڑے دیہات میں ہے جہاں سے دو میل کے فاصلے پر قصبے میں واقع ایک انٹر کالج میں سرفراز کا داخلہ ہے۔اسکول کے پہلے دن ہی سرفراز کے ہم عمر ایک لڑکے نے بڑی بے تکلفی سے اس کی ربڑاستعمال کی۔حاضری کے وقت اس کا نام پکارا گیا:
’’سیّد انوار علی۔۔۔۔۔۔۔۔’’حاضر جناب‘‘۔۔۔۔۔۔۔
سرفراز ماضی سے نکل کر حال پہ آجاتاہے۔
سرفراز دھیرے سے بولا۔
’’سیّد انوار علی ــ‘‘
’’حاضر جناب تمھیں اسکول یاد آرہا ہوگا‘‘
’’ہاں تمھیں کیسے معلوم‘‘
یار تم اب بھی پہلے کی طرح گھامڑ باتیں کرتے ہو ۔میرا پورا نام حاضری کے وقت ڈرائنگ ماساب کے علاوہ اور کون پکارتاتھا۔‘‘
انوار کے اس جملے کا سرفراز پر یہ اثر ہوتا ہے کہ وہ اپنے بچپن کے دوست کے متعلق سوچنے لگتا ہے:
ــ’’سرفرازیہ سن کےمسکرایاحالانکہ گھامڑ والاجملہ اسے برا لگاتھالیکن وہ یہ سوچ کر مطمئن ہو گیاکہ آج میں افسر کی اونچی کرسی پہ بیٹھا ہوں۔میرا بچپن کا یہ دوست پرائمری اسکول میں اردو ٹیچر ہے ۔اپنے احساس کمتری پہ قابو پانے کے لیے اسے ایسے ہی جملے بولنے چاہیے۔‘‘
دراصل یہ اسکول ماسٹر سیّد انوار علی کا احساس کمتری نہیں بلکہ آفیسر سرفراز کا احساس برتری ہے جو اپنے بچپن کے دوست انوار کی بے تکلّفی کو احساس کمتری کا نام دے رہا ہے۔حالاں کہ یہ وہی انوار ہے جس نے اسکول کے پہلے ہی دن نہایت بے تکلّفی کے ساتھ اس کی ربڑ استعمال کی تھی بس اسی دوستانہ حقوق نے انوار کے منھ سے سرفراز کے لیے گھامڑ کہلوایا۔ سرفراز نے اپنے اس خیال کی تردیدکسی حد تک خودہی مندرجہ ذیل اقتباس میں کر دی۔
’’پھر اس نے سوچا انوارہی تو اسے اسکول سے واپسی پر حوصلہ دیتا تھاورنہ قصبے سے دیہات تک پھیلے جنگل،سنسان باغوں اور خاموش کھیتوں میں ہو کر گزرنے میں اس کی روح آدھی رہ جاتی تھی‘‘۔
سردیوں کے موسم میں اسکول کی چھٹی شام کے چار بجے ہوتی تھی سرفرازجس گاؤں سے پڑھنے آتا تھا وہاں سے دوسرا کوئی بچہ قصبے کے اسکول میں پڑھنے نہیں آتا تھا۔غالباًسرفراز کے علاوہ اسکول کے سبھی بچّے چھٹی کی گھنٹی بجنے کے بعد خوشی میں مست الست، غل غپاڑہ مچاتے ہوئے اپنے اپنے گھروں کی جانب چلے جاتے۔ لیکن چھٹی کا وقت جو کہ بچوں کے لیے سب سے زیادہ خوشی کا وقت ہوتاہے سرفراز کی خوشی کو راستے کی دہشت بن کر نگل جاتاتھا۔انوار کبھی سرفراز کے ساتھ ہوتا کبھی نہیں،لیکن جب ساتھ ہوتا تو سرفراز کو قصبے کے باہر تالاب تک چھوڑنے ضرور آتااور ہمّت بھی بڑھا تا:
’’تم ڈرنا مت سرفراز۔نہر کی پٹری پار کروگے تو باغ میں داخل ہونے پر کوئی نہ کوئی آدمی مل ہی جائے گا۔‘‘
سرفراز اس کی طرف بے بس نظروں سے دیکھتا اوراس خیال سے کہ انوار پر اس کا ڈر ظاہر نہ ہوچہرے پر بہادری کے تیورسجا کر جواب دیتا۔
’’نہیں ڈرنے کی کیا بات ہے باغ میں کبھی کبھی آدمی مل جاتا ہے تو ذرا طمنان رہتا ہے اور نہیں ملتاہے تب بھی میں گھبراتا نہیں ہوں۔‘‘
چہرے پہ بہادری کے تیور سجا کر سرفراز ،انوار کی نظروںمیں بہادر بننا چاہتا یاپھر اپنے دل کو سمجھا تا کیوں کہ:
’’سرفراز ،انوار کے اوجھل ہوتے ہی گردن کے تعویذ کو چھوکر محسوس کرتااورجلدی جلدی آیت الکرسی پڑھنے لگتا۔نہر کی پٹری پر مڑنے سے پہلے وہ چاروں قل پڑھ کر اپنے سینے پر پھونکتااور پھونک پھونک کرقدم رکھتاہوا باغ کی طرف بڑھنے لگتا۰۰۰
نہر کی پٹری پر مڑنے سے پہلے اکادکا آدمی سائیکل پہ آتے جاتے مل جاتے یاگھنٹیاں بجاتی بیل گاڑیاں گزرتیں تو اسے تقویت کا احساس رہتالیکن پٹری پہ مڑتے ہی بالکل سنّاٹاہو جاتا تھا۔اوپر شیشم کے درخت پہ بیٹھا کوئی گدھ شاخ بدلتایا پر کھول کر برابر کرتاتو وہ آوازاس سنّاٹے کو اور ڈراونا بنا دیتی۔ اور یہی وہ وقت ہوتاتھا جب وہ آیت الکرسی بھول جا تا تھا۔وہ قل ہو اللہ پڑھنا شروع کر دیتا۔اسی درمیان تیزی سے اول کلمہ طیب بھی پڑھ لیتا۔‘‘
ابھی تک یہ بات تو واضح ہو گئی کہ سرفراز کو قصبے کے باہر تالاب تک انوار ہمت دلاتا تھا۔ اس کے بعد نہر کی پٹری پر اسے اکا دکا آدمی ملنے سے تقویت کا احساس ہو تا تھا۔باوجود اس کے سرفراز کے لیے سب سے اہم باغ والا آدمی ہے۔اسکول سے گھر تک راستے میں سب سے زیادہ ڈرسرفراز کو باغ میں لگتا ہے کیونکہ اس باغ میں دوپہر میں بھی سورج ڈوبنے کے وقت جیسا اندھیرا رہتا تھا۔ شام کے وقت کہرے میں لپٹے ہوئے آموں کے باغ کا منظر بہت خوفناک ہوجاتا تھا۔
باغ والا آدمی ہندو تھا لیکن سرفراز کو اس کے مذہب سے کوئی تعلق نہ تھاوہ اپنے مذہب کے مطابق اس کو سلام کرتا تھا ’’آدمی سلام‘‘ جواب ملتا ’’رام رام بیٹا‘‘۔ یہ آدمی سرفراز کے لیے کتنا اہم تھا اس کا اندازہ مندرج اقتباس سے ہوتا ہے:
’’وہ روزانہ اسی بھروسے پہ کالج سے گھر آنے کی ہمّت کر پاتا تھاکہ شایدآج بھی آدمی مل جائے۔آگر یہ آسرا نہ ہوتاتو وہ رو پیٹ کر کالج سے نام کٹا کر اپنے گائوں واپس جا چکا ہوتا۔‘‘
لیکن یہ آدمی سرفرازکو روزانہ نہیں ملتا تھا۔ مہینے میں دوچار بار ہی باغ میں نظر آجاتا۔ سرفراز کو جہاں جہاں ڈر محسوس ہوتا وہیں وہ آیت الکرسی،چاروں قل اور اوّل کلمہ پڑھنے لگتا لیکن باغ اور باغ سے پرے گنّے کے کھیتوں کو پار کرنے کے بعد جب مسجد کے گنبداورمندر کے کلش نظر آنے لگتے تو وہ کوئی فلمی گانا گانے لگتا۔ جب کہ باغ میں آدمی نظر آجاتا تو سرفراز وہیں باغ ہی میں کوئی فلمی گیت گنگنانے لگتا۔ اسکول کی چھٹی کے وقت کی خوشی سے محروم یہ بچہ باغ والے آدمی کو دیکھ کر اپنی خوشی دو بالا کرلیتاتھا۔
افسانے میں آدمی کی اہمیت اس وقت اجاگر ہوتی ہے جب ایک دن بالی وال کا میچ دیکھنے میں سورج قصبے میں ہی زرد ہوگیا تھا۔ سرفرازکو جب دیر کا احساس ہوا تووہ تیزی سے اسکول کے گیٹ سے نکل کر دیہات کی طرف چل پڑا۔ راستے کی دہشت اور خوف کا احساس بھی اس رات کے منظر میں شدید ہو جاتاہے:
’’اس نے ماتھے کاپسینہ پونچھا اورشیشم کے درخت کے نیچے سے گزرا۔درخت کے نیچے سے نکلتے ہی اسے ایسا محسوس ہواجیسے کوئی درخت سے اترکراس کے پیچھے چل پڑا ہو ۔
پیچھے کی آہٹ اچانک تھم گئی۔ اسے ایسالگاجیسے جنّات بابا پیچھے سے اس کی کمر کا نشانہ لے کر جادو کی گیند مارنے والے ہیں۔ اس نے تیزی سے کلمہ پڑھااور کنکھیوں سے پیچھے دیکھا۔ وہ ایک بڑا بندر تھا جو چلتے چلتے ا چانک رک کر زمین پردونوں ہتھیلیاں ٹیکے اس کی طرف دیکھ کر خر خر کر رہا تھا۔اسے بندرسے بھی ڈر لگتاتھالیکن جنّات باباکے مقابلے میںکم ۰۰۰
آگے بوڑھے فجری کے پاس سے گزرتے ہوئے اس کا دل زور سے دھڑکا۔یہی جنّات باباکااصلی گھر ہے۔
دا ہنی سمت سے آوازآئی۔
آج بہت دیر کی بیٹا۔
ارے آدمی موجود ہیــ۔۔۔۔۔۔اسےاتنی خوشی اس دن بھی نہیں ہوئی تھی جس دن انگلش والے ماساب نے ’’مائی کاؤ‘‘ لکھنے پر اسے ویری گڈدیاتھا۔‘‘
سرفراز کے ذریعے افسانہ نگار نے بچّے کی ذہنی کیفیت اور فطری حسیت کودکھایا ہے ۔ سرفراز کو اَن دیکھی چیزوں کا خوف زیادہ ہے بمقابل مرئی چیزوں کے۔ افسانے میں دراصل اس دہشت کو محور بنایاگیاہے جو سرفراز پہ اسکول سے دیہات تک کاسفر طے کرتے وقت چھا جاتی اور آدمی کو دیکھ کر کافور ہوجایا کرتی تھی۔افسانہ نگار نے بچے کی ذہنی اور نفسیاتی کیفیات اور معصومیت کو بڑی خوبی سے استعمال کیا ہے اسی رات جب سرفراز کو اسکول سے لوٹنے میں دیر ہوجاتی ہے۔
’’رات کو دالان میں رضائی سے بدن اچھی طرح لپیٹ کر اس نے سوچا اگر وہ آدمی مر گیا تو میں اسکول سے کیسے واپس آیا کروں گا پھر یہ سوچ کر مطمئن ہو ا کہ وہ آدمی دیکھنے میں تو خالو سے بھی چھوٹالگتاہے، ابھی نہیں مرے گا۔‘‘
یہ بچے کی نفسیات ہے کہ جس کی نظر میں زندگی کا پیمانہ درازی عمر پر مبنی ہے،یعنی آدمی خالو سے چھوٹا ہے تو خالو کے بعد ہی مرے گا۔ ( یہ بھی پڑھیں طارق چھتاری کا ’’بَاغ کا دَروازہ‘‘: ایک تنقیدی تجزیہ – ڈاکٹر صفدر امام قادری)
اب تک افسانے میں آدمی کا تفصیلی ذکر دو بار آیا ہے افسانہ نگار نے دونوں مرتبہ آدمی کے ساتھ پھاوڑے کا ذکر بھی کیا ہے:
’’آدمی اس کا سلام سن کر پھاوڑا زمین پہ رکھ کر آنکھں مچمچا کراسے دیکھا۔‘‘
دوسری مرتبہ آدمی اور پھاوڑے کا ذکر کچھ اس طرح کیا ہے:
’’ اس نے آدمی کی طرف نگاہیں اٹھائیں۔وہ جھوپڑے کے قریب درختوں کے پاس کہرے میں کھڑا تھا۔اس نے غور سے دیکھا۔اس کا پھاوڑا اس کے ہاتھ میں تھاجسے وہ زمین پہ ٹکائے ہوئے ہوئے تھا۔‘‘
افسانہ ماضی کی کھڑکی پھلانگ کر حال پہ آجا تاہے۔ سرفراز کو اپنی خالہ کی بیٹی کی شادی میں شامل ہونے اسی دیہات میں جانا تھا جہاں سے وہ قصبے میں پڑھنے جایا کرتا تھا۔ جبکہ حالات نازک تھے تو خالہ نے اس نازک وقت میں شادی کی تاریخ کیوں طے کی۔ خالہ کی بھی مجبوری ہے کیونکہ ان کا ہونے والاداماد تین دن بعد جدہ جا رہا ہے۔ سرفراز اور انوار نے تقریبا ڈھائی تین سو کلو میڑکا سفر کار سے طے کیا۔ سفر کے دوران انھیں نہر کے پل پرجلوس ملتاہے، جلوس کیا ایک ہجومِ بے ہنگم اور طوفان بدتمیزی تھا جو ان کی گاڑی رکوا دیتا ہے۔یہ تو وہی نہر کا پل ہے جہاں اکا دکا سائیکل سواروں کو دیکھ کر سرفراز کو تقویت ملتی تھی لیکن سیکڑوں آدمیوں کو دیکھ کر اس کی یہ حالت ہو جاتی ہے کہ:
’’دونوں کے ذہنوں نے کام کرنا بند کر دیا ۔ دونوںگاڑی میں بیٹھے رہے۔جلوس برابرسے گزرتا رہا۔گاڑی رکوانے والے وہیں کھڑے کھڑے ناروں کا جواب دیتے رہے۔ سرفراز نے آیت الکرسی یاد کی ۔
’’سرفراز سخت ذہنی دبائوں میں تھا اس لیے گاڑی فوراً ـاسٹارٹ نہیں کرسکا۔دونوں بیٹھےایک دوسرےکاڈرمحسوس کرتےرہے۔‘‘
سرفراز کو بچپن میں بندر سے ڈر لگتا تھا لیکن آج بندر کو دیکھ کر وہ مسکرایا تھا کہرے میں لپٹا باغ جس سے اس کو بہت وہشت ہوتی تھی اسے دیکھ کر محسوس کرتا ہے:
’’کہرے میں لپٹا باغ بہت دنوں بعد دیکھا تھا۔آج اسے باغ سے کوئی خوف محسوس نہیں ہوالیکن ایک عجیب سا سنّاٹا دونوں کے اندر خاموشی سے اتر آیا تھا جو بات کرنے کے باو جود ٹوٹ نہیں رہا تھا۔‘‘
سرفراز اور انوار جب جنّات بابا والے درخت کے پاس سے گزرتے ہیں تواچانک سرفرازنے اس کاہاتھ اتنی زور سے دبایا کہ دکھن ہڈیوںتک پہنچ گئی۔ سرفرازنے آنکھ کے اشارے سے باغ کی مینڈ کی طرف اشارہ کیا لیکن اندھیرے کی وجہ سے انواردیکھ نہیں سکا۔ سرفراز نے دو بارہ انوار کا ہاتھ پکڑا اور کھینچتا ہواگرتا پڑتا اور سنبھلتا ہوا باغ سے باہر نکل کر انوار کو گاڑی میں ڈھکیلتا ہوا گاڑی اسٹارٹ کر کے پوری رفتار سے گاڑی چلا دی۔ سرفراز کے اس رویے کے متعلق جب انوار معلوم کرتا ہے تو انوار کا جواب افسانے کی آخری سطور پر مشتمل ہے:
’’باغ کی مینڈ پر درختوں کے درمیان ایک آدمی جھکا کھڑا تھا اس کے ہاتھ میں کوئی ہتھیار تھا جسے وہ زمین پر ٹکائے ہوئے تھا۔‘‘
آفیسر سرفراز بھلے ہی بھول گیا ہو کہ یہ آدمی کون تھا اور اس کے پاس کون سا ہتھیار تھالیکن افسانے کا قاری اچھی طرح جانتا ہے کہ وہ آدمی کون تھا اور اس کے پاس کیا ہتھیار تھاکیونکہ قاری کے ذہن میں آدمی کا وہ نقشہ ہے جس دن سرفراز کو اسکول سے گھر لوٹنے میں دیر ہو گئی تھی:
’’ارے آدمی موجود ہے۔۔۔۔۔۔۔ اس نے غور سے دیکھااس کا پھاوڑا ،اس کے ایک ہاتھ میں تھا جسے وہ زمین پہ ٹکائے ہوئے تھا۔‘‘
پورے افسانے میں تین بار پھاوڑے کا ذکر ہوا ہے ۔دو بار تو وہ پھاوڑا رہا تیسری بار ہتھیار کیسے بن گیا جبکہ سرفراز نے آدمی کو پہلی بار دیکھا تھا تب بھی وہ پھاوڑے کے ساتھ تھا۔ آج سرفراز کا ذہنی شعور بھی ارتقاء کر چکا ہے، وہ آفیسر ہے بچپن میں اسے جن چیزوں سے ڈر لگتا تھا جیسے بندر سے،باغ سے ،جنات بابا سے لیکن آج وہ ان سب چیزوں کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔ افسانے کی ابتدا میں اس نے ماضی کی دہشت کو یاد کرکے مزہ محسوس کیا تھا۔ بچپن کی دہشت دلچسپی کا سامان ہو گئی تھی۔
بچپن کی دہشت باغ والے آدمی کو دیکھ کر ختم ہو جاتی تھی لیکن آج اسے سب سے زیا دہ ڈر باغ والے آدمی سے لگا تھا، جس کی وجہ سے وہ اسکول سے گھر آنے کی ہمت کر تاتھا۔ کیا اس آدمی کا پھاوڑا ہتھیار بن گیا تھا یا پھر بیٹھے بٹھائے چونکانے والی لرزاں خیز تبدیلی نے اس کے ذہن میں آدمی پہ جان وارنے والے آدمی کی جگہ، آدمی کو تیغ سے مارنے والے آدمی نے لے لی تھی۔ افسانے کے اختتام پر محسوس ہوتا ہے کہ ڈر ،خوف یا دہشت آدمی کے ساتھ لگے رہتے ہیں۔ فطرت وہی، مناظر فطرت وہی، سب کچھ ویسے ہی ہے جیسا کہ تھا۔ کچھ بدلا ہے تو انسان۔
Dr. Mohd. Usman Ahmad
Mob: 9015732249
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

