Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
فکر و عمل

اکبر الہ آبادی: سر سید کے معترض یا معترف – رخسار پروین

by adbimiras اکتوبر 16, 2020
by adbimiras اکتوبر 16, 2020 1 comment

مرے مشاغل کی کچھ نہ پوچھو کہ میں ہوں دور فلک میں اکبرؔ

مقیمِ دیرومرید شیخ و اسیرِ قانون و محوِ مغرب

اکبرؔ الہ آبادی جس عہد میں شاعری کر رہے تھے، وہ ایک ایسا عہد تھا جس میں ایک تہذیب زوال پذیر ہو رہی تھی اور نئی تہذیب پورے آب و تاب کے ساتھ نمایاں ہو رہی تھی۔ یہ وہرع دور تھا جب پورے ہندوستان پر انگریزوں کا مکمل طور پر اقتدار قائم ہو چکا تھا اور زندگی کے تمام شعبہ ہائے زندگی پر ان کے اثرات مرتب ہو رہے تھے۔ چونکہ انگریزوں نے یہ اقتدار مسلمانوں سے ہی حاصل کیا تھا اس لیے ان کے ظلم و ستم کا شکار زیادہ تر مسلمان ہی بنے۔ اور یہ ظلم وستم ان کے اندر محرومی و محکومی کا جذبہ پیدا کر رہا تھا۔ ایک طرف تو مسلمانوں کو اپنے تشخص کو قائم رکھنے کا مسئلہ تھا تو دوسری طرف اپنے مذہبی اقدار کو برقرار رکھنا بھی ضروری تھا۔ چنانچہ ایسے پُرآشوب دور میں جہاں ایک قوم پستی و زوال کی طرف آمادہ تھی اور محرومی و محکومی کی زندگی گذارنے پر مجبور تھی، تو اس وقت قوم کو اس تنزلی سے باہر نکالنے کے لیے کچھ ایسے رہنما سامنے آئے جن میں سر سید احمد خاں کا نام سر فہرست ہے، جنہوں نے تمام عمر اپنی قوم خصوصی طور پر مسلمانوں کی اصلاح و فلاح کی اور آخر دم تک ان کو ترقی و کامیابی کی راہ پر گامزن کرنے کی اتھک کوشش کرتے رہے۔ سر سید احمد خاں درد مند دل کے ساتھ سوچنے سمجھنے والا دماغ رکھتے تھے اس لیے انھوں نے ان حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کافی غور و خوص کے بعد ان تمام مصیبتوں سے مقابلہ کرنے کی تدبیریں سوچیں کہ ایسے نازک وقت میں انگریزوں کے خلاف احتجاجانہ رویہ اختیار کرنے کے بجائے ان کا ساتھ دیا جائے لہٰذا ان کا بنیادی مقصد قوم کو جدید تعلیم سے آراستہ کرنا اور حاکم و محکوم کے درمیان (خصوصاً انگریزوں اور مسلمانوں کے درمیان) پائی جانے والی غلط فہمی اور دوری کو ختم کرنا تھا جس کے لیے جدید مغربی تہذیب و تعلیم سے آشنا ہونا ضروری تھا اور یہی ان کا بنیادی مقصد بھی تھا کہ ہندوستانی انگریزی تعلیم حاصل کیے بغیر ترقی نہیں کر سکتے۔

چونکہ سرسید احمد خاں نے ۱۸۵۷ کا پرآشوب زمانہ اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا وہ یہ محسوس کرتے تھے کہ اس وقت مسلمان انگریزوں کے خاص ظلم و ستم کا شکار ہیں اور وہ یہ بھی جانتے تھے کہ مسلمانوں کے دل میں حاکم قوم کی طرف سے سخت نفرت ہے۔ ان کا دل مسلمانوں کی تباہ حالی اور اپنی پستی پر کڑھتا ہے جن کے پاس نہ وہ علم تھا جو زمانے کا ساتھ دے، نہ تجارت تھی، نہ سرکاری نوکریوں کی اہلیت اور نہ روحانی و اخلاقی قوت، غرض سر سید کو اپنی ملت کا مستقبل تاریک نظر آرہا تھا اس لیے انھوں نے طے کر لیا کہ مسلمانوں کو ترقی کی راہ دکھائیں لہٰذا انھوں نے اس تحریک کی بنیاد ڈالی جس کا مقصد ہندوستانیوں خاص طور سے مسلمانوں اور انگریزوں کے درمیان مفاہمت پیدا کرنا، ان کو مغربی تعلیم حاصل کرنے اور مغربی تہذیب اختیار کرنے پر آمادہ کرنا تھا۔ چونکہ عام مسلمان یہ سمجھتے تھے کہ انگریزی زبان اور مغربی علوم سیکھنا مذہب کی رو سے جائز نہیں۔ اس لیے سر سید کی سب سے بڑی کوشش یہ تھی کہ مسلمانوں کے مذہبی خیالات میں اور ہر شعبۂ زندگی میں اصلاح کر کے ان کو ترقی یافتہ بنائیں۔

چنانچہ سر سید تحریک نے ہندوستانیوں خاص طور سے مسلمانوں کو وقت کے تقاضوں کو سمجھنا اور اس کے ساتھ چلنا سکھایا ۔ انہیں پرانے دور سے نکال کر نئے دور میں لا کھڑا کیا اور اپنی رہبری کے ذریعہ ان کی زندگی میں حرکت پیدا کر دی۔ بنیادی طور پر سرسید اور اکبر کے خیالات میں اختلافات کی وجہ یہ تھی کہ سرسید مغرب کی عقلیت پسندی اور مذہبی لبرل ازم سے بہت متاثر تھے اور ان خیالات کو بڑی شد و مد سے اپنی قوم میں تبلیغ کرنا چاہتے تھے لیکن اکبر الہ آبادی سر سید کی اسی شدت پسندی کو اسلام کی مذہبی اور تہذیبی اقدار کے لیے خطرناک سمجھتے تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سرسید کے دل میں قوم کا بے حد درد تھا اور وہ دل و جان سے اس کی ترقی میں کوشاں تھے لیکن کشمکش یہ ہے کہ وہ مغربی تہذیب کی بنیادی خوبیوں کے ساتھ اس کے ظاہری پہلوئوں پر بھی ضرورت سے زیادہ زور دیتے تھے۔و ہ انگریزی تہذیب و معاشرے کے ان عناصر اختیار کرنے پر زور دیتے تھے جو ’’جدید‘‘ نہ تھے محض مغربی تھے یعنی تہذیب اور اقدار کے ساتھ ان کے ظاہری ساز و سامان اور طور طریقوں کو بھی اختیار کرنے پر زور دیتے تھے اور اس کا نتیجہ وہی ہوا جس کا اکبر کو خدشتہ تھا یعنی لوگوں نے مغربی تہذیب کی ظاہری چیزوں کی نقالی کو ہی اپنا مقصد حیات بنا لیا۔ جس کے پیش نظر ملک کے بہت سے ادیب و شاعر نے اس مصنوعی طرز معاشرت کے مضر اثرات کو محسوس کیا او اس کے خلاف آواز اٹھائی جس میں ایک نام اکبرؔ الہ آبادی کا بھی ہے۔

اکبرؔ الہ آبادی اپنے طور پر سر سید کی مغربی تعلیم و تہذیب کی تعریف کی لَے کو دھیما کرنا چاہتے تھے اور اس کے مضر پہلوئوں کو بھی دکھانا چاہتے تھے۔ فرماتے ہیں   ؎

اور تہذیب یورپ کے چڑھائو خم کے خم

ایشیا کے شیشۂ تقویٰ کو کر دو پاش پاش

بار بار آتا ہے اکبرؔ میرے دل میں یہ خیال

حضرت سید سے جا کر عرض کرتا کوئی کاش

یہ عین ممکن ہے کہ اکبر نے تعلیمی مسائل پر ماہر تعلیم کی طرح نظر نہ ڈالی ہو لیکن انھوں نے تعلیم کے بنیادی محرکات پر اپنی مخصوص زبان میں ضرور اظہار خیال کیا ہے اور حتی الامکان بنیادی باتیں کہنے کی کوشش کی ہے۔ انھوں نے انگریزی نظام تعلیم پر اپنی رائے کا اظہار یوں کیا ہے   ؎

مغربی رنگ وروش پر کیوں نہ آئے اب قلوب

قوم ان کے ہاتھ میں تعلیم ان کے ہاتھ میں

 

ذی عقل و متقی ہوں جو ان کے منتظم

استاد اچھے ہوں مگر استاد جی نہ ہوں

مندرجہ بالا اشعار کی بنیاد پر اکبر کے تعلیمی خیالات کی وہ نشاندہی ہوتی ہے جن کی بنیاد پر انھیں رجعت پسند اور نئی روشنی اور نئے نظام سے بیزار سمجھا جاتا رہا ہے۔ حالانکہ ایسا سمجھنا درست نہیں کیونکہ اپنی نظم میں ایک جگہ یوں کہتے ہیں   ؎

سب جانتے ہیں علم سے ہے زندگی میں روح

بے علم ہے اگر تو وہ انسان ہے نا تمام

اس سلسلے میں طالب الہ آبادی نے چند الفاظ میں اکبرؔ کے تعلق سے یہ بات واضح کر دی ہے کہتے ہیں :

’’وہ (اکبر الہ آبادی)نہ انگریزی تعلیم کے دشمن تھے اور نہ نئی روشنی کے خلاف، بے اعتدالی اور گم شدگی البتہ ان کو بہت ناپسند تھی۔‘‘

(علی گڑھ میگزین، اکبر نمبر، ص۱۸۸)

اکبر ؔ کو دکھ اس بات کا تھا کہ انگریزی تعلیم کی روح کو پانے کے بجائے ہندوستانی محض ظاہری تعلیم حاصل کر کے پھولے نہیں سماتے اور یورپی وضع قطع اپنانے میں گم ہو جاتے تھے اور دوسری بات یہ کہ وہ علم تو حاصل کر لیتے ہیں لیکن نہ ہنر کی طرف مائل ہوتے ہیں، نہ سیکھتے ہیں اور نہ یورپی اقوام کی محنت و مشقت و حکمت اور دور اندیشی سے سبق لیتے ہیں۔ صرف انگریزوں کی نقالی میں مگن ہو کر اپنی فکری طبع کھو دیتے ہیں اور قومی جمعیت کو مجروح کر دیتے ہیں۔ اس ضمن میں یوں طنز کرتے ہیں   ؎

حاصل کرو علم، طبع کو تیز کرو

باتیں جو بری ہوں ان سے پرہیز کرو

قومی عزت ہے نیکوں سے اے اکبرؔ

اس میں کیا ہے کہ نقلِ انگریز کرو

مزید فرماتے ہیں   ؎

سوچو کہ آگے چل کر قسمت میں کیا لکھا ہے

دیکھو گھروں میں کیا تھا اور آج کیا رہا ہے

ہوشیار رہ کے پڑھنا اس جال میں نہ پھنسنا

یورپ نے یہ کہا ہے یورپ نے وہ کہا ہے

ان کی شاعری اس بات کی شہادت دیتی ہے کہ اکبرؔ علم کا بہت اعلیٰ نصب العین رکھتے تھے۔ وہ علم کی ذاتی رفعت کی جو نشانیاں دیکھ رہے تھے ان سے انہیں بڑی مایوسی ہو چکی تھی۔ وہ ایسے ذاتی علم سے نالاں تھے جس کا نتیجہ تنخواہ اور نوکری ہو حالانکہ وہ خود بھی سرکاری ملازم تھے پھر بھی وہ ان چیزوں کو قطعی برداشت نہیں کرتے تھے۔ اس سلسلے میں فرماتے ہیں   ؎

’’مذہب چھوڑ، ملت چھوڑو، صورت بدلو، عمر گنواؤ

صرف کلرکی کی امید اور اتنی مصیبت توبہ توبہ

ہم کیا کہیں احباب کیا کارنمایاں کر گئے

بی اے ہوئے، نوکر ہوئے، پنشن ملی، پھر مر گئے

یہی نہیں ان کا یہ بھی خیال تھا کہ مغربی تعلیم کے اثرات اخلاقی لحاظ سے بھی نوجوانوں کو غلط طور پر متاثر کر رہے تھے اور ان میں سستی اور سطحی عشق بازی جکڑ پکڑتی جا رہی تھی۔ ان نوجوانوں میں وہ خرابیاں پیدا ہو رہی تھیں جن سے ان کے کردار ذاتی اور اجتماعی طور پر مجروح ہوتے جا رہے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ مسلمان اپنی تہذیب کو نہ بھولیں اور جدید تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی مشرقی تہذیب و ثقافت کو بھی برقرار رکھیں اور ایسے ایک دو نہیں بے شمار اشعار ہیں جن میں کہیں عقائد سے دوری کا شکوہ ہے، کہیں شعائر اسلام سے عدم دلچسپی پر چوٹ ہے اورکہیں جدید تعلیم کے مسلمانوں کے مذہبی رجحان پر پڑنے والے منفی اثرات کی نشاندہی کی گئی ہے چند اشعار ملاحظہ کیجئے   ؎

نظر ان کی رہی کالج میں بس علمی فوائد پر

گرا کیں چپکے چپکے بجلیاں دینی عقائد پر

دل میں خاک اڑتی ہے خالی لہجہ و لب دیکھیے

مذہب اب رخصت ہے بس تاریخ مذہب دیکھیے

نئی تہذیب میں بھی مذہبی تعلیم شامل ہے

مگر یوں ہی کہ گویا آب زم زم مے میں داخل ہے

اکبر ایک کٹر مذہبی شخص تھے چنانچہ ان کی سیاست کا مرکز و محور بھی اسلام ہے، ان کے نزدیک ایک مسلمان اپنی پہچان گم کر کے ترقی کر لیتے ہیں تو یہ ترقی ان کے کسی کام کی نہیں کیونکہ اسلامی تشخص ہی ان کی اصل شناخت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اکبرؔ الہ آبادی سر سید کے جدید مذہبی نظریات اور طریقۂ کار سے بے زار تھے چنانچہ وہ ہر بات مغرب کے حوالے سے کہتے اور سمجھتے ہیں۔ ایک جگہ فرماتے ہیں   ؎

کہتی ہے یہ ہسٹری بہ آواز بلند

تم کچھ نہ رہے اگر مسلماں نہ رہے

اکبرؔ کو مشرق و مغرب کا یہ ملاپ اس اعتبار سے پسند نہ تھا کہ لوگ مغرب کی اندھی تقلید میں مذہب سے دور ہوتے جا رہے تھے، اکبر اور سر سید دونوں ہی نے مذہب کو موضوع بنا کر مختلف مسائل پر اظہار خیال کیا ہے اور دونوں ہی اپنے اپنے مذہبی نظریات کو قومی نجات کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ سر سید کے بعض مخالفین کی بہ نسبت اکبر کے اختلاف میں ان معنوں میں اخلاص تھا کہ دونوں اپنے اپنے نقطۂ نظر پر ڈٹے ہوئے تھے کہ ان کے نزدیک ایک کا نظریہ غلط تھا اور دوسرے کا قومی و مذہبی فلاح کا ضامن اور دونوں ہی اپنے ہی عقائد کو درست سمجھتے تھے۔ اکبر الہ آبادی کو سر سید احمد خاں کے مذہبی نظریات سے دہرا اختلاف تھا۔ اول تو وہ جس طرح مذہبی بنیادوں پر مسلمانوں اور انگریزوں کو قریب لانے کی کوشش کر رہے تھے اکبر اس کو ناپسند کرتے تھے اور وہ مسلمانوں کے اسلامی تشخص کو اہمیت دیتے تھے۔ کہتے ہیں   ؎

عقائد پر قیامت آگئی ترمیم ملت سے

نیا کعبہ بنے گا مغربی پتلے صنم ہوں گے

یہ عین ممکن ہے کہ اکبر کے وہ اعتراضات جو وہ سر سید پر کرتے ہیں مبالغہ آمیز ہوں مگر بے بنیاد نہیں۔ اس کا ذکر اتنے کم لفظوں میں یہاں پر کرنا ممکن نہیں۔چنانچہ اکبرؔ کے دل پر اپنی تہذیب کی عظمت کا نقش تھا اور ان کو اس سے والہانہ محبت تھی لہٰذا وہ سر سید کی اس قسم کی باتوں کے اندر چھپے ہوئے درد کو نہیں سمجھ پائے اور انھوں نے سر سید کے ان خیالات کو طنز و تضحیک کا نشانہ بنایا۔ مولانا عبدالماجد دریاآبادی اکبر کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار یوں کرتے ہیں:

’’اکبر بذات خود سر سید احمد خاں کے مخالف نہ تھے اور ان پر فتاوی کفر کی جو بارش ہوئی تھی ان کے قائل وہ بھی نہ تھے۔‘‘

لہٰذا کلامِ اکبر کے مطالعہ سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے جابجا سرسید اور ان کی تحریک پر اپنی کشمکش کا اظہارِ خیال کیا۔ وہ سر سید اور ان کی تحریک کے بڑے مخالف سمجھے جاتے ہیں لیکن اگر ان کے کلام کا غور سے مطالعہ کیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ وہ نہ سرسید کے مخالف تھے اور نہ ان کی تحریک کے بلکہ ان کے کمزور پہلوئوں کے نقاد تھے۔ا س سلسلے میں اشعار ملاحظہ ہوں   ؎

تکمیل میں ان علوم کے تم ہو مصروف

نیچر کی طاقتوں کو جو کر دیں مکشوف

لیکن تم سے امید کیا ہو کہ تمہیں

عہدہ مطلوب ہے وطن ہے مالوف

اکبرؔ ایک پڑھے لکھے انسان تھے۔ معزز سرکاری ملازمت کے ساتھ انگریزی زبان پر بھی خاصا عبور حاصل تھا۔ انگریزی اخبارات اور کتابیں بھی پڑھتے۔ لہٰذا اس پس منظر سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ تعلیم یافتہ تھے اور تعلیم کی اہمیت باالخصوص جدید مغربی تعلیم کی اہمیت سے بھی آگاہ تھے۔ بنیادی طور پر وہ نئی تعلیم کے خلاف نہیں تھے بلکہ برعظیم میں اس تعلیم کا جو سانحہ وجود پذیر ہوا اس کے فطری نقائص کی طرف سے بہت حساس تھے۔ اکبر کی یہ سوچ تھی کہ سرسید کے بنائے ہوئے مدرسے سے جاری کردہ تعلیم میں مذہبی تعلیم نیز اخلاقی تربیت کا ایسا سلسلہ جاری ہونا چاہیے جو مسلم طلبہ کا اسلامی تشخص قائم رکھے۔ لیکن یہ کہنا یا سمجھنا بھی غلط ہوگا کہ وہ سرسید کے مدرسہ اور ان کے طریقۂ تعلیم کے یکسر خلاف تھے۔ اس ضمن میں شیخ اسمٰعیل پانی پتی تو یہاں تک لکھ گئے ہیں۔

’’سید اکبر حسین ابتداء میں سر سید کے معترضین میں سے تھے اور ان کے خلاف ’’اودھ پنچ‘‘ میں لکھا کرتے تھے۔ مگر پھر مخالفت چھوڑ دی تھی اور معتقد بن گئے تھے۔‘‘

شیخ صاحب کے قول کے بظاہر تائید سرسید کے خط بنام اکبر الہ آبادی سے بھی ہوتی ہے جس میں سرسید لکھتے ہیں:

’’آپ کا عنایت نامہ مورخہ ۱۷؍جولائی مع مبلغ دو سو روپیہ اور چندہ مدرسۃ العلوم متعلقِ بلڈنگ فنڈ پہنچا۔‘‘

چنانچہ اکبر کا مدرسۃ العلوم کو چندہ دینا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ وہ سر سید کی تعلیمی پالیسی کے بالکل بھی خلاف نہیں تھے۔ اگر ان کو سر سید کے مدرسہ اور سر سید کی رائج کردہ تعلیم سے اختلاف تھا تو وہ محض اس کے تہذیبی حوالے سے تھا کیوں کہ اگر انھیں مغربی تعلیم کے حصول سے سرے سے اختلاف ہوتا تو وہ اپنے بیٹے کو مغربی تعلیم حاصل کرنے لیے لندن کبھی نہ بھیجتے۔ یہ اکبر کی اپنی انفرادیت ہے کہ نہ صرف وہ سرسید کی تعلیمی لگن کا قصیدہ پڑھتے ہیں بلکہ ان کے چندہ مانگنے کے فعل کو مستحسن گردانتے ہوئے نظام حیدرآباد کے فیض کرم کا ذکر بھی کرتے ہیں۔ چند اشعار ملاحظہ ہوں   ؎

تعلیم اگر نہیں ہے زمانہ کے حسبِ حال

پھر کیا امید دولت و آرام و احترام

سید کے دل میں نقش ہوا اس خیال کا

ڈالی بنائے مدرسہ لے کر خدا کا نام

صدمے اٹھائے، رنج سہے، گالیاں سنیں

لیکن نہ چھوڑا قوم کے خادم نے اپنا کام

دکھلا دیا زمانہ کو زورِ دل و دماغ

بتلا دیا کہ کرتے ہیں یوں کرنے والے کام

چنانچہ اکبر کی شاعری کا ایمانداری سے مطالعہ کیا جائے تو یہ بات جابجا ملتی کہ وہ جدید تعلیم اور سر سید احمد خاں کے مخالف نہیں تھے بلکہ ان کی عظمت کا اعتراف کرتے اور سر سید کی ادبی تحریک سے بڑی حد تک اکبر الہ آبادی متفق معلوم ہوتے ہیں۔ غرض کہ اکبر کو سرسید کے ادبی خیالات سے اتفاق تھا تاہم ان کے دل میں سر سید کے حب قومی، خلوص اور جوش کی بڑی قدر تھی جس کا اعتراف انھوں نے جابجا کیا ہے اور سرسید کی ہمت اور استقلال کی دل کھول کر داد دی ہے    ؎

واہ رے سید پاکیزہ گہر کیا کہنا

یہ دماغ اور حکیمانہ نظر کیا کہنا

قوم کے عشق میں یہ سوزِ جگر کیا کہنا

ایک ہی دھن میں ہوئی عمر بس کیا کہنا

بقول شمس الرحمن فاروقی:

’’اکبر کو اپنے طور پر سرسید سے محبت تھی۔ سر سید کے خلوص نیت، خلوص عمل، مشقت برائے قوم، تعلیم اور خاص کر ہندوستانی مسلمانوں کی تعلیم کے مقصود سے ان کے دلی لگائو کی وہ قدر کرتے تھے۔‘‘

(جدیدیت کل اور آج، ص۱۶۸)

میں اپنی بات اکبر الہ آبادی کے اُن اشعار کے ساتھ ختم کرتی ہوں جو انھوں نے سرسید کی موت کے بعد کہا تھا    ؎

ہماری باتیں ہی باتیں ہیں سید کام کرتا ہے

نہ بھولو فرق جو ہے کہنے والے کرنے والے میں

کوئی جو کچھ کہے میں تو یہی کہتا ہوں اے اکبرؔ

خدا بخشے بہت سی خوبیاں تھیں مرنے والے میں

 

٭٭٭

(ریسرچ اسکالر )

الہ آباد یونیورسٹی، الہ آباد

rukhsarparveen4974@yahoo.in

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔
ادبی میراثاکبر الہ آبادیسرسید احمد خان
1 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
سر سیدّ کی تاریخ نگاری- پروفیسر شہزاد انجم
اگلی پوسٹ
سر سید کانظریۂ تعلیم اور میری تربیت   -ڈاکٹرزاہد ندیم احسن

یہ بھی پڑھیں

حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –...

جنوری 20, 2025

کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

اکتوبر 8, 2024

حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی...

اکتوبر 7, 2024

نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام...

جولائی 23, 2024

مفتی عزیز الرحمن شاہدؔ چمپارنیؒ (یادوں کے چراغ)...

مئی 30, 2024

توقیتِ  علامہ محمد اقبال – پروفیسر محسن خالد...

مئی 29, 2024

تو نے اے خیر البشرؐ انساں کو انساں...

ستمبر 26, 2023

اور سایہ دار درخت کٹ گیا – منہاج الدین...

فروری 22, 2022

ابّو جان (شیخ الحدیث مولانا محمد الیاس بارہ...

فروری 22, 2022

 مولانا عتیق الرحمن سنبھلی – مفتی محمد ثناء الہدیٰ...

فروری 15, 2022

1 comment

راشد عالم راشد اکتوبر 17, 2024 - 9:11 صبح

بہت مفید اور معلوماتی مضمون ہے

Reply

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (120)
  • تخلیقی ادب (596)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (20)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,048)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (537)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (219)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (406)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (217)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (25)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں