عہد ساز شخصیت سرسید احمد خاں:ایک جائزہ/ پروفیسر شہزاد انجم۔ مبصر ڈاکٹر خان رضوان
سرسید احمد خاں کا شمار19ویں صدی کی عبقری شخصیات میں ہوتاہے- مگر صرف اتنا کہہ دینا سرسید جیسے بالغ النظر، دور رس،نکتہ داں،دانشور،اورنابغہ روزگارانسان کے لیے کافی نہیں ہے-
اگرانیسویں صدی میں سرسید کا تقابل عالم انسانیت کی اہم شخصیات سے کیاجائے تو بیجا نہیں ہوگا-
وہ ان میں طاق نظرآئیں گے-
چوں کہ سر سید وہ واحد داناں وبینا
انسان ہیں جو اپنی فکر،قومی جذبہ اور تعلیمی نظریات کی
بدولت دوسو سال سے اپنی قوم کی رہنمائی کر رہے ہیں- سرسید کی مختلف الجہات اورمتنوع شخصیت کے مختلف گوشے سے متعلق انگنت کتابیں شائع ہو کر مقبول ہو چکی ہیں-
پروفیسر شہزاد انجم کی مرتبہ کتاب "عہد ساز شخصیت سرسید احمد خاں” اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے-پروفیسر شہزاد انجم کاشمار اردو کے ان معدودےچند ممتاز، اور فعال ادیبوں میں ہوتاہے۔جنہوں نے اپنا مقام اپنی وساطت سے خود بنایاہے- ان کا تعلق صوبہ بہار کے مردم خیز ضلع "گیا” سے ہے-اہم بات یہ ہے کہ ان کی فکری اورعلمی پرداخت پروفیسر تاج انور کے زیر تربیت ہوئی- اس سے قبل ان کی کئی اہم کتابیں منظر عام پر آکر مقبول ہوچکی ہیں- ان میں دیدہ ور نقاد:گوپی چند نارنگ، آزادی کے بعد اردو شاعری، اظہر عنایتی:ایک سخنور، احتشام حسین کی تخلیقی نگارشات،تنقیدی ہات،رابندرناتھ ٹیگور:فکروفن،رابندرناتھ ٹیگور:شاعر اور دانشور اور دیوان شیدا وغیرہ قابل ذکر ہیں-ان کے علاوہ کئی اہم مونوگراف بھی منظر عام پر آچکے ہیں-ان میں محمد علی جوہر، احتشام حسین،پروفیسر سید محمد حسنین(ساہتیہ اکادمی)،خواجہ الطاف حسین حالی(دہلی اردو اکادمی) اور غالب مونوگراف(مغربی بنگال اردو اکادمی)،خاص ہیں-ساتھ ہی سینکڑوں ادبی کالمز روزنامہ انقلاب میں شائع ہوکر داد وصول چکے ہیں- توقع ہے وہ جلدہی کتابی صورت میں شائع ہوکر نظر قارئین ہوں گے-
پروفیسر شہزادانجم کی ذاتی زندگی کافی مشقت بھری رہی ہے-انہوں نے اپنے آپ کو اس مقام پر لانے کے لیے صبح وشام جدجہد کی اور خون پسینہ ایک کیا، یہی وجہ ہے کہ ماضی ہمہ آن ان نظرکے سامنے رہتاہے، خاص بات یہ ہے کہ ان کی زندگی ایک کھلی کتاب ہے،وہ بےحد مخلص،ہمدرد، بامروت،انسان دوست،مردم شناس اور حالات پر گہری نظر رکھنے والے انسان ہیں- وہ ایک ادیب،ناقد اور محقق ہونے کے ساتھ ایک بہترین منتظم بھی ہیں،کسی بھی کام کو سنجیدگی اور دلجمعی کے ساتھ کرنا ان کی فطرت خاصہ ہے-
یہ کتاب ان کی اسی سنجیدہ کاوش کا بے بہا ثمرہ ہے-اس کی ضخامت 784صفحات اور قیمت 448روپے ہے-یہ کتاب باب نثر اور باب نظم پر مشتمل ہے،باب نثر کو سرسید کے سات عنوانات میں منقسم کیاگیاہے- وہ اس طرح ہیں-سرسید احمد خاں:سوانح اورشخصیت-اس کے ذیل نو اہم مضامین ہیں-
2،علمی،ادبی اور دینی خدمات-
اس عنوان کےتحت تیرہ مضامین ہیں- 3-افکار و نظریات-اس موضوع کے تحت سات مضامین ہیں،4-سرسید احمد خاں اورعلی گڑھ-اس کے تحت نو مضامین ہیں،5-تعلیم،تاریخ،تہذیب،ثقافت-اس کے ذیل میں سات عنوانات ہیں- 6-سرسید احمد خاں کی معنویت اور ضرورت-اس عنوان کے تحت پانچ مضامین ہیں-اسی طرح باب نظم کے تحت اٹھارہ نظم نگاروں کے منظوم خراج عقیدت شامل ہیں-
اس کتاب کا مقدمہ 33صفحات پر محیط ہے،دیباچہ دراصل ایک ایسا مضمون ہوتاہے جو اصل متن سے پہلے فہم مطالب میں معاون ہوتاہے-بایں طوراس کا خیال رکھتے ہوئے جامع اورمفصل مقدمہ تحریر کیاگیاہے-یوں تو سرسیداحمد خاں کی زندگی اور ان کے کارنامے پر لکھنے والوں کی کمی نہیں ہے باوجود اس کے اس کتاب کی اشاعت اپنی الگ اہمیت رکھتی ہے-پہلی بات تو یہ کہ پروفیسر شہزاد انجم کا سرسید احمد خاں سے قلبی لگاؤ ہے- وہ اپنی ذہنی،فکری وعلمی ارتباط کے سبب انہیں اپناپیش رو اور رول ماڈل مانتے ہیں-اس تعلق خاطر کی وجہ سے سرسیدکے جو قوم پر بے انتہا احسانات ہیں اس کے اعتراف میں ان پرعلمی کام کرنا نہ صرف ثواب حاصل کرنا ہےبلکہ ان کے مشن کو جاری رکھنا بھی ہے-
پروفیسر شہزاد انجم پاک طینت اور صاف دل انسان ہیں ان کا دل ریا اور دکھاوے سے پاک ہے- وہ صاف گو، صاف دل اور حساس طبیعت انسان ہیں، انہوں نے مقدمہ میں سرسید سے اپنے دلی، جذباتی اور قلبی لگاؤ کا اظہارکچھ اس طرح کیاہے:
"یہ کتاب دراصل میری روحانی مسرت کا باعث ہے اور اورمیں ایک عجیب قسم کی مسرت کے جذبے سے سرشارہوں، سرسید احمد خاں کا ملک وقوم پر جواحسان ہے اور ہم سبھوں کی ذات پر ان کا جو قرض ہےوہ شاید کبھی ادا نہیں ہوسکتا-وہ ایک عجیب وغریب قوت وطاقت اورصلاحیتوں سے بھرے پرے انسان تھے-انہوں نے ہوری زندگی ملک وقوم کی بہتری کے لیے صرف کی-”
وہ مزید لکھتے ہیں کہ:
اس کتاب کے ذریعہ میری کوشش یہ ہے کہ سرسید کی زندگی کے گوناگوں پہلوؤں کو اجاگر کیاجائے اور نئی نسل کو ان کی خدمات سے واقف بھی کرایا جائے کیوں کہ خود سرسید نے فرمایا تھا” کسی قوم کے لیے اس سے زیادہ بے عزتی کی بات نہیں کہ وہ اپنی قومی تاریخ کوبھول جائے اور اپنے بزرگوں کی کمائی کھودے-”
وہ اپنے دلی جذبات واحساسات اور گہری کیفیت کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
"سرسید دھن کے پکے اور عملی انسان تھے، جنہوں نے قوم کوپستی سے بلندی تک اٹھانےکاارادہ کر رکھا تھا اور انہوں نے انتہائی نازک دور میں قوم کی عظیم خدمت اور رہنمائی کی-سرسید سائنس کی تعلیم کو پھیلانا چاہتے تھےتہذیبی علوم کا ارادہ قائم کرنا چاہتے تھے اور حب انسان کا جذبہ صادق ان کامسلک تھا-”
اس باطنی احساس کے اظہار سے اندازہ ہوتاہے کہ پروفیسر شہزاد انجم اپنے آپ کو سرسید احمد خاں کے فکری زاویے سے کتنا قریب پاتے ہیں-
یہ سچ ہے کہ انسان دنیا سے چلا جاتا ہے مگر اس کےکام اور اعمال آنے والی نسلوں کےلیے منارہ نور بن جاتےہیں-
سرسید کی زندگی قیامت تک مسلمانوں کے لیے رہنما رہے گی- مقدمہ میں انہوں نےسرسیدکے علمی،ادبی، سماجی اورمعاشرتی میدان میں متحیرکن کام کاذکربہت ہی ڈوب کرکیاہے ساتھ ہی حالی کی رفاقت اور شبلی کی معیت کابھی دل پذیر انداز میں ذکر کیا ہے اور جگہ جگہ حالی کی حیات جاوید کے دیباچے سے پیرگراف حوالے کے طور پر نقل کیاہے، چوں کہ حالی سرسید کے بہت قریبی تھے اور سرسید کے کارناموں کے معترف بھی تھے-حالی سرسید کے افکار وخیالات کے حامی ہونےکے ساتھ ان کے تعلیمی اور سماجی کارناموں کے قدر داں بھی تھے-حیات جاوید حالی کی ایسی معرکتہ الاراء اور جامع کتاب ہے جس میں انہوں نے سرسید کی زندگی کا نقشہ ہوبہو کھینچا ہےاور کوشش کی ہے کہ زندگی کا کوئی گوشہ تشنہ نہ رہ جائے- یہی وجہ ہے کہ پروفیسر شہزاد انجم نے حیات جاوید کے دیباچہ کے کئی پیراگراف دلیل کے طورپر پیش کیےہیں- دراصل سرسید احمد خاں عالبا وہ پہلے ادیب اورمصلح قوم ہیں جن کی زندگی بے شمار کارناموں اور غیر معمولی خدمات سے عبارت ہے- یہی وجہ ہے کہ حالی نے ان کی اولوالعزمی،اعلی صفات،روشن ضمیری،دانش مندی، دانشوری، بصیرت افروزی اور مدبرانہ افکار وخیالات کاذکر جابجادیباچے میں کیاہے-حیات جاوید سرسیدکی حیات پرایسی پہلی کتاب ہے جس میں سرسید کی زندگی کی ایک ایک چیز کو اس طرح ضبط تحریر میں لایاہےکہ چلتاپھرتا انسان قاری کے سامنے کھڑانظر آتاہے-جس کی وجہ سے اس کتاب کی قدروقیمت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے-حالی لکھتے ہیں:
"وہ(سرسید کی لائف)ہم کو آگاہ کرتی ہےکہ اگر دنیا میں بڑا بننا چاہو توحرص، طمع، خودغرضی،جھوٹ، آرام طلبی اور عیش وعشرت سے ہمیشہ کےلیےدست بردارہوجاؤ-وہ ہم کویقین دلاتی ہے کہ تھوڑی سی تعلیم اوربہت ساتجربہ اور بالکل سچائی، یہ تینوں مل کر ایسے ایسےعظیم الشان کام انجام کرسکتی ہےجو بڑے بڑے حکیموں اور مدبروں سے انجام نہیں ہوسکتے-وہ ہم کو تعصبات سے متنفر کرتی ہے،غیرقوموں کے ساتھ حسن معاشرت سکھاتی ہے،دوستوں کے ساتھ خواہ وہ ہندوہوں یامسلمان،عیسائی ہوں یایہودی،
خلوص اورسچائی سے ملنابتاتی ہے-وہ ہم کو ہدایت کرتی ہے کہ جیسا دل میں سمجھو ویساہی زبان سے کہو-اور جوکچھ کہو،اس کو کردکھاؤ، وہ بہ آواز بلند کہتی ہے کہ وقت کی قدر کرو،ڈیوٹی کاخیال رکھو،ایک لمحہ بے کار نہ ہو اور کام کرتے کرتے مرجاؤ-”
مقدمہ میں مرتب نے سرسید کی کتابوں کے حوالے سے بھی گفتگو کی ہے،اور جن کتابوں کاذکر کیا ہے اس تعلق سے کوشش کی ہے کہ چھوٹی سے چھوٹی چیز کا ذکر بھی چھوٹنے نہ پائے، جیسے،” جام جم” کےمتعلق معلومات فراہم کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ یہ کتاب 1840ء میں شائع ہوئی اور اس میں سرسید نے تیس صفحات پر امیر تیمور صاحب قراں سے بہادر شاہ ظفر تک پینتالیس مغل بادشاہوں کے حالات جدول کی شکل میں مختلف خانے بنائے گئے ہیں اور ان خانوں میں نام پدر،نام مادر،قوم،مسائل وحالات، محل جلوس،عمر بہ وقت جلوس،سال جلوس،تاریخ جلوس، مدت سلطنت،مدت عمر،سال وفات،مدفن،کیفیت وغیرہ رقم کیے گئے ہیں-
اسی طرح کتاب "سلسلتہ الملوک” 1852ءمیں شائع ہوئی اس میں سر سید نے دلی کے ان راجاؤں اور بادشاہوں کی فہرست مرتب کی ہے جنہوں نے گزشتہ پانچ ہزار سال میں ہندستان پر حکومت کی تھی- اس میں دوسوحکمرانوں کے نام درج ہیں جن میں پہلا نام راجا بودھشٹ اورآخری نام ملکہ وکٹوریہ کاہے-
1855-56می سرسید نے”آئین اکبری” لکھی یہ کتاب ان کے غیر معمولی کارنامے کا حصہ ہے-اس کتاب میں شامل عربی، فارسی، ترکی،سنسکرت اورہندی کے وہ الفاظ جو عام فہم نہیں تھے ان کی تشریح کی-سکوں،پھلدار اور پھولدار درختوں، ہتھیاروں،زیوروں اور مختلف سازوسامان کی تصویریں بھی شامل کیں-ایک کتاب "تاریخ سرکشی ضلع بجنور” 1858ء میں لکھی- یہ کتاب سرسید کی سیاسی بصیرت اور فہم وفراست پردال ہے-اسی طرح ایک اور اہم کتاب” اسباب بغاوت ہند”ہے، یہ 1859ء میں لکھی گئی، اس کتاب کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ اس کے ذریعہ انگریز حکمران کے دل میں مسلمانوں کے تئیں جو نفرت اور بدگمانی تھی اس کو انہوں نے اس کتاب کے ذریعہ دور کیا-
اس کتاب سے سرسید کی سیاسی بصیرت اور فہم وفراست کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتاہے-1862ءمیں سرسید نے "تاریخ فیروزشاہی” مدون کی یہ کتاب تدوین کےمعیار اور سائنٹفک طرز تدوین پر دلالت کرتی ہے، اس کی تدوین میں انہوں نے مغربی تحقیق کے جدید طریقہ کار کو ملحوظ رکھا ہے، اور اس میں اس عہدکے سماجی ومعاشی تبدیلیوں، امراء کے کارناموں، علماءوفضلا کے تاریخی رول، فنون اور صنعتوں سے متعلق اہل حرفہ کے علوم وفنون کی ترقی کا ذکر بھی بڑے سلیقے سے کیا ہے-
"توزک جہانگیری” جو1864ء میں شائع ہوئی. یہ کتاب 466صفحات پر مشتمل ہے،یہ بھی سرسید کی اعلی علمی اور تاریخی کارنامے کابین ثبوت ہے-اسی طرح "آثار الصنادید”1847ءمیں شائع ہوئی، یہ کتاب سرسید کی تصانیف میں غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے- یہ کتاب چار ابواب پر مشتمل ہے، پہلے باب میں بیرون شہر کی عمارتوں کا ذکر کیاگیاہے،دوسرے باب میں شہر کی عمارتوں کا ذکر ہے اور تیسرے باب میں قلعے کی عمارتوں کاذکر کیاگیاہے،جب کہ چوتھے باب میں مشاہیر دلی کاذکر ہے،جس میں ایک سو بیس مشاہیر کے حالات درج ہیں-
اس طرح مقدمہ میں سرسید احمد خاں کی کتابوں کے مختصر تعارف کا مقصد یہ سمجھ میں آتاہےکہ اس کے ذریعہ سے نئی نسل کو سرسید کی زندگی اور ان کی علمی کاوشوں سے آشنا کرایا جاسکے تاکہ نئی نسل سرسید کے مشن کو جان سکےاوریہ بھی کہ ان کا تاریخی تصور کس قدر پختہ تھااور انہیں تواریخ سے کس قدر دلچسپی تھی-اور تواریخ سے ان کے شغف کا راز کیاتھا؟دراصل سرسید پوری قوم کے سامنے تابناک تاریخ پیش کرناچاہتے تھے-یہی وجہ ہے کہ سر سید ایک شخص کا نام نہیں بلکہ ایک مشن اور ایک تحریک کا نام ہے-
ابن ماجہ کی ایک حدیث جس میں علماکے تعلق سے کہا گیاہے کہ”العلماء ورثتہ الانبیاء” علماءیا وہ صاحب علم وفضل جنہیں اللہ تعالی نے تفقہ فی الدین عطاکیاہے-وہ لوگ انبیاء کے وارث ہیں-دراصل سرسید احمد خاں نے اپنے اسی فریضے کو اداکیا ہے- صلحا اورصالحین کی زندگیاں نمایاں اور بے نظیر اسی لیے ہوتی ہیں کہ وہ عطائی امور کو مدت کار میں انجام دےکر دنیاکو خیر آباد کہہ جاتے ہیں-سرسید احمد خان کو میں نے وارثین انبیاء کے اس سلسلۃ الذہب کی اہم کڑی سے اس لیےتعبیرکیا ہے کہ ہم یہ جانیں کہ انبیائی کام ہے کیا؟دراصل انبیاء کا کام اپنی قوم کو رشد ہدایت اور راہ راست کی رہنمائی کرناہوتاہے-اور نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہی کام انجام دیا- یہی وجہ ہے کہ قران کریم کی سب سے پہلی وحی”اقراءباسم ربک الذی خلق” نازل ہوئی-قران مجید نے اس آیت کریمہ کے ذریعہ علم کی اہمیت اور فضیلت کو واضح کیا- نبی صلی اللہ علیہ وسلم پوری زندگی اس کارعظیم کو انجام دیتے رہے-سرسید بھی ودیعت الہی کے مطابق اپنی قوم کو علم وعمل سے آراستہ کرنے کے لیے کوشاں رہے-سرسید چاہتے تھے کہ ان کی قوم دنیا میں ترقی کا راز جانے- اوردونوں جہان میں سرخروئی حاصل کرے-یہی وجہ تھی کہ انہوں نے 1875ء میں ایک چھوٹا سامدرسہ”مدرستہ العلوم”کے نام سے قائم کیا،جو محض تین سال کے عرصہ 1878ء میں”اینگلو اورینٹل کالج”یا”مدرستہ العلوم مسلمانان ہند”کہلایا اور بیالس سال بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے نام سے تابندہ ستارہ بن کر روشن ہوا-ساتھ ہی انہوں نے محمڈن اینگلو اورینٹل کالج، سائنٹفک سوسائٹی،محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس،علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ اور تہذیب الاخلاق جیسے عظیم الشان کارنامے انجام دیے- یہ سچ ہے کہ سر سید کی فکر آفاقی،کارنامے لافانی اور بصیرت لاثانی تھی-وہ بیک وقت مصلح قوم، مفکرومدبر،روشن خیال اور روشن دماغ انسان تھے-ساتھ ہی وہ تاریخ ساز شخصیت ،مایہ ناز مصنف،مستند تاریخ داں،بلند پایہ ادیب اور جدید اردو نثر کے بانی تھے- یہ سچ ہے کہ سرسیدجیسے لوگ صدیوں میں پیداہوتے ہیں، ایسے لوگ خداکی جانب سے ایک مشن کی تکمیل کے لیے دنیائے ارضی پر بھیجے جاتے ہیں-سرسیدنے تنے تنہا اپنی قوم کے لیےجتناکچھ اورجو کچھ کیا وہ کسی ایک انسان کے کرنے کا کام نہیں بلکہ پوری قوم کے کرنے کا کام ہے-اگر سرسید کے دنیاسے گزرجانے کے بعد سرسید مشن کا جائزہ لیا جائے
تو یہ کہنا بھی ناشکری ہوگی کہ ان کے بعد اس مشن کو آگے نہیں بڑھایا گیا-کیوں کہ 1920ء میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کا قیام عمل میں آیا اس کے بعد جامعہ ہمدر کاقیام عمل میں آیا ایسے ہی اور بھی چھوٹے بڑے ادارے قائم کیے گئے یہ سب سرسید کی فکر کاہی نتیجہ تھے- مگر افسوس اس بات کا ہے کہ اس مشن کو جس تیزی اور برق رفتاری سے آگے بڑھایا جاناچاہیے تھاوہ نہ ہوسکا-ایک دو ادارے کے قیام کے بعد پوری ملت خواب غفلت میں چلی گئی،جب کہ ہوناتو یہ چاہیے تھاکہ مسلمانان ہند سرسید کے اس مشن سے جڑجاتے اور اپنی زندگی کا مقصد بنالیتے اور کمیٹیڈ ہوکر تن من دھن سے اس کام میں لگ جاتے، اور ملک کے گوشے گوشے میں سرسید مشن کاعلم بلندکرتے یا کم ازکم مسلم اکثریتی صوبے کے اضلاع میں اس طرزکے دوچار اور ادارے قائم کیے جاتے- مگر یہ کام دوسو سال گزرجانے کے بعد بھی نہ ہوسکا- ہمارے پاس اب بھی مہلت ہے، ہم چاہیں تو قوم کے بیدار لوگ اس کام کو انجام دے سکتے ہیں-چوں کہ مسلمانوں کو تعلیم اور نوکری کی آج بھی اتنی ہی زیادہ ضرورت ہے جتنی سرسید کے عہد میں تھی بلکہ آج اس سے کہیں زیادہ ہے-ورنہ ملک کے حالات بتارہے ہیں کہ اگر ہم نے اپنی قوم کو زیور تعلیم سے آراستہ نہ کیا اورانہیں ہنرمند نہ بنایا تو ہماری قوم کو1857ء سے برے دور دیکھنے پڑیں گے-آپ تصور کیجے کہ ملک کی تقسیم کے وقت مسلمانوں کی کیاحالت تھی،ایسے ناگفتہ بہ حالات میں سرسید نے قوم کو سیاست سے دوررہنے کا مشورہ دیا اور تعلیم کی راہ دکھائی- سرسید خود بھی اپنے ارادے پرجمے رہے اور کام کرتے رہے مگر زرا غور کیجئے کہ ملک کو انگریزی تسلط سے آزاد کرانےکے بعد ہم کس طرح مطمئن ہوگئے اور اندرونی خطرات سے بے خبررہے باوجود اس کہ فسطائی طاقتیں جوکل انگریزوں کے ساتھ تھیں وہ آج بھی ان کے ساتھ ہیں اور مسلمانوں کی دشمنی بنی ہوئی ہیں-اگر ہم سرسید کے مشن کو تھوڑا تھوڑا بھی کرتے رہتے یااس مشن کے تئیں مخلص ہوکر سنجیدہ رہتے توآج ہمارے پاس درجنوں تعلیمی اورتکنیکی ادارے ہوتے-
مگر ہم ایسا نہ کرسکے-دراصل ہم اپنے دشمن خود ہیں اور اپنی تباہی کےسبب بھی ہم ہی ہیں- یادرکھنا چاہیے کہ قوم مسلم دنیا کمانے کے لیے برپا نہیں کی گئی ہے، بلکہ یہ قوم دنیا سنوارنےکے لیے برپاکی گئی ہے-مسلم امت کو اسی لیے نبی کاوارث کہا گیاہے کہ امت مسلمہ کا مشن وہی ہے جو انبیا کا تھا-اگر سوسال پہلے ہم اپنے مشن کےلیے فکر مند ہوجاتے تو آج مسلمانوں کی حالت کچھ اور ہوتی-
پنڈت جواہر لال نہرو نے اپنے ایک مضمون”سرسید”میں لکھا ہے کہ:” مسلمانوں کی ابتر حالت اوربالخصوص تعلیمی پستی کودیکھ کر سرسید کو بڑاافسوس ہوتاتھا-سچ یہ ہے کہ سرسید اپنی قوم کو خواب غفلت سے بیدار کرناچاہتے تھے-وہ چاہتے تھے کہ مسلمان قوم بھی تعلیمی اور معاشی میدان میں ہندؤں کی طرح ترقی کرے اور آگے بڑھے کیوں کہ انگریزی تعلیم کے بغیر نوکری حاصل کرنا ناممکن تھا-
سرسیداس لیے اپنی قوم کو انگریزی تعلیم دلاناچاہتے تھےکہ جب مسلمان پڑھ لکھ کرتعلیم یافتہ ہوجائیں گےتو ملازمت حاصل کرکے سکھ چین کی زندگی بسر کریں گے”-جواہرلال نہرو ایک جگہ مزید لکھتے ہیں کہ:”سرسید کایہ فیصلہ کہ تمام کوشش مسلمانوں کوجدید قسم کی تعلیم سے آراستہ کرنے پرصرف کرناچاہئیں یقینادرست اورصحیح تھا-بغیر اس تعلیم کے میرا خیال ہےکہ مسلمان جدید طرز تعلیم کی قومیت کی تعمیر میں کوئی موثر حصہ نہیں لے سکتے تھے-بلکہ یہ اندیشہ تھاکہ وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہندؤں کے غلام بن جائیں گے جوتعلیم میں بھی ان سے آگے تھے اور معاشی اعتبار سے بھی زیادہ مضبوط تھے”-
جواہر لال نہرو ایک جگہ کچھ اس طرح رقم طراز ہیں کہ:” سرسید کاپیغام بھی اسی طرح اس وقت کےلیے مناسب حال اور ضروری تھا لیکن ایک ترقی کرنے والی جماعت کے لیے وہ آخری نصب العین قرارنہیں دیا جاسکتا تھا-”
جواہرلال نہرو کا اظہار تشویش بالکل بجا تھا اور ہوا بھی وہی کہ مسلمان اپنی ذمے داری سے یکسر غافل ہوگئے اور سرسید کے مشن کو پس پشت ڈال دیا-
اس کتاب میں ایک اہم مضمون”سرسید احمد خاں”کے عنوان سے شیخ اسمعیل پانی پتی کا ہے-
شیخ صاحب درویش صفت انسان، ادیب وقلم کار،
نامور مصنف ومحقق تھے-اس مضمون میں انہوں نےسرسید کے تعلق سے اہم اور بنیادی معلومات فراہم کی ہیں- مضمون کی ابتدامیں سرسید کا ہوبہوحلیہ پیش کیاہے،پھر ان کا مایہ ناز مترجم،کثیرالتصانیف مصنف،انشاءپرداز اور مورخ کے طور پر تعارف پیش کیاہے-ساتھ ہی شمس العلماءمولوی ذکاءاللہ دہلوی کے فرزند کے اقوال اور ان کے خطوط کےذریعہ سرسید کی گھریلو زندگی کی حقیقی تصویر پیش کی ہے-جوانہوں نے دہلی سے علی گڑھ زامانہ طفولیت میں والد محترم کےساتھ رہ کرسرسید کو بہ چشم خود دیکھاتھا،بیان کیاہے-جس سے اندازہ ہوتاہے کہ سرسید کس قدر مخلص ،ذہین اوروجیہ شخصیت کے مالک تھے-چوں کہ مولوی عنایت اللہ سحرطراز قلم کار تھے،یہی وجہ ہے کہ انہوں نے سرسید کوجیسادیکھا اسی سحر انگیزی کےساتھ قلم بند کردیا-اسی ضمن میں وہ ایک جگہ لکھتے ہیں کہ:”ان مشاہیر میں سرسیدمرحوم اپنی خوبیوں،اپنی لیاقتوں اوراپنے مہتم بالشان کارناموں کی بدولت بلاشبہ ایک خاص حیثیت رکھتے ہیں-وہ ملک کے خیر خواہ، قوم کے ہمدرد،م اور مسلمانوں کے حقیقی غم خوار تھے-اپنی ساری عمر انہوں نےقوم کی بھلائی،بہبودی اورترقی کی فکر میں گزار دی-نتیجے میں قوم کی جانب سے نیچری،مرتد،کافراوربےایمان کے معزز خطاب سے نوازاگیا-”
ساتھ ہی انہوں نے سرسیدکی خطابت اورکتابت کادل پذیرانداز میں اعتراف بھی کیاہے-اور اس بات کا بھی اظہار کیا ہے کہ وہ صرف مسلمانوں کی تعلیمی ترقی ہی نہیں چاہتے تھے بلکہ وہ یہ بھی چاہتے تھے کہ مسلمان مذہنی اعتبار سے پر عقیدہ اور سچاپکامسلمان ہو،ساتھ ہی مولوی سید وحیدالدین سلیم جوکہ سرسید کے لٹریری اسسٹنٹ تھے ان کے تعلق سے بتایا کہ معراج سے متعلق جب سرسیدکتاب لکھ رہے تھے،اس وقت مجھے ان کی کتب احادیث سے گہری واقفیت کا احساس ہوا-اور یہ بھی لکھاہےکہ سرسید جیسا انسان کسی بھی قوم میں کم ہی پیدا ہواہے،اور جب ایسا انسان کسی قوم میں پیداہوتاہے توانقلاب برپاہوتاہے-کیوں کہ سرسید 1857ء کے حالات میں جہاں مسلمانوں کے لیے صرف گولی اورسولی کی سزاتھی سرسید نے اپنی جرات وہمت اور جواں مردی کامظاہرہ کیا،اور اسی اثنا میں "اسباب بغاوت ہند” جیسی معرکتہ الارا کتاب تصنیف کی-اسی کے ساتھ سرسید کے خطوط کو بطور نمونہ پیش بھی کیاہے-جس سے ان کے حالات سے واقفیت ہوتی ہے-اور یہ بھی پتاچلتاہے کہ ان کاطرز تحریر کیساتھا اور ان کی فکر کیاتھی- سرویلیم میورلفٹینینٹ گورنر
یوپی کی کتاب”لائف آف محمد”کے جواب میں سرسید کی کتاب "خطبات احمدیہ” کاشاندار موازنہ بھی پیش کیا ہے-جب کہ اس کتاب کی تصنیف کی غرض سے انہیں لندن کا سفر کرناپڑا،سفر میں ہونے والے اخراجات کی رقم سرسید کے پاس نہیں تھی انہوں نے اس کے لیے اپنے گھر کا اثاثہ فروخت کیا اور اپنے دوستوں سے دست تعاون طلب کیا-اپنے دوست نواب محسن المک کو اس تعلق سے انہوں نے ایک خط بھی لکھاتھا- اس میں وہ لکھتے ہیں کہ”میں نے مصمم ارادہ کرلیاہے کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت میں کتاب لکھی جائے-اگر تمام روپیہ خرچ ہوجائے اور میں فقیر بھیک مانگنے کے قابل ہوجاؤں تو بلا سے-قیامت میں یہ کہہ کر پکارا جاؤں گا اس فقیر مسکین احمد کو جو اپنے نانامحمدصلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر فقیر ہوکر مرگیا-حاضرکرو-”
سرسید عمل کے پکے اور عزم بالجزم پر یقین رکھنے والے انسان تھے-ان کاماننا تھا کہ خط کا جواب دینا” السلام علیکم” کا جواب دیناجیسا ہی ہے-علامہ حالی اس تعلق سے لکھتے ہیں کہ” مجھے پانی پت میں ہمیشہ تیسرے دن خط کاجواب مل جاتاتھا”-اس سے اندازہ ہوتاہے کہ وہ قول وفعل اور معاملات میں کس حد تک کھرے انسان تھے- سرسید کے لندن سے لکھے گئے خطوط کوبھی اس مضمون میں شامل کرکے مضمون کو دلچسپ اوروقیع بنانے کی سعی کی گئی ہے-جن میں محسن المک،مولوی مہدی علی،خان بہادرسید ذین العابدین اور مولاناذکاءاللہ کے نام قابل ذکر ہیں- ساتھ ہی اس میں سرسید کافارسی رسم الخط میں لکھاہواخط بھی شامل کیاگیاہے-اس اعتبار سے یہ مضمون معلوماتی،دلچسپ اورسرسید کی حیات کا مکمل احاطہ کرتاہواجامع مضمون ہے-
اس کتاب میں سرسید کےحوالے سے دو مضامین پروفیسر خلیق احمدنظامی کاہے-ایک "سرسید ایک تعارف”دوسرا”سرسید احمدخاں:شخصیت اورکارنامے” کے عموان سے ہے-دونوں مضامین معلوماتی ہیں-خلیق احمدنظامی اپنے انوکھے طرز تحریر اور ایک خاص طرزکے لیے جانے جاتے ہیں-ان میں انہوں نے اپنے اسی خاص انداز اورطرز تحریر کا مظاہرہ کرتے ہوئے سرسید کا تعارف پیش کیاہے-ان کے مضمون کی خاص بات یہ ہے کہ انہوں نے اپنے مضمون کو دلائل کی بنیاد پر استوار کیاہے اوراپنی ہربات کی اثبات میں ایک دلیل پیش کی ہے-ان کے مضمون کاایک خاص وصف یہ بھی ہے کہ مضمون کے مالہ اورماعلیہ کا وہ بھرپور خاکہ پہلے ہی کھینچ دیتے ہیں-جیسے اس مضمون میں سرسید کا تعارف پیش کرنے سے پیشتر سرسید کے ناگفتہ بہ حالات اورپر آشوب دور کانقشہ اسی کرب ناکی کے ساتھ کھینچاہے-ایک جگہ لکھتے ہیں کہ”شمالی ہندوستان کے دیہاتوں میں جگہ جگہ درختوں پر نعشیں لٹکی ہوئی ہیں اوران کے گرد کوے اورچیلیں منڈلارہی ہیں-دہلی کے بے شمارکنوئیں نعشوں سے پٹ گئے ہیں بازاروں کاعالم یہ ہےکہ:
گھروں سےکھینچ کے کشتوں پہ کشتے ڈالتےہیں
نہ گورہے،نہ کفن ہے،نہ رونے والے
ہیں-
مندرجہ بالاشعر سے بالخصوص یہ اندازہ ہوجاتا ہے کہ اس عہد کامنظرنامہ کس قدر دردناک اوردلخراش تھا-خلیق احمدنظامی کااعجازتحریر ہی یہی ہے کہ وہ کوزے میں سمدر سمادیتے ہیں -اسی طرح سرسید کے تعلق سے انہوں نے لکھاہے
کہ”سہولت پسندی چپکے سے کان میں کہتی ہےکہ یہاں سے ہجرت کرجاؤ اور ان مصیبتوں سے نجات پاؤ لیکن وہ الوالعزم انسان نامساعدے حالات کے سامنے سپر ڈالنے سے انکار کردیتاہے اورفیصلہ کرتاہے کہ اپنی قوم کی ذلت اورکلبت سے نکالنے میں اپنی زندگی کے آخری لمحات تک صرف کردے گا-”
اس مضمون میں انہوں نے بہت ہی خوبی کے ساتھ یہ واضح کیا ہے کہ سرسید اپنی قوم کےلیے کتنادردمند دل رکھتے تھےاور قوم کےلیے کس قدر گریہ شبانہ میں مصروف رہاکرتے تھے-ایک جگہ انہوں نے لکھاہےکہ سرسید نے اپنے دوست محسن المک کو” کمپنی خواستگارترقی تعلیم مسلمانان”کی مٹنگ میں ایک دن قبل ہی بنارس بلالیاتھامحسن المک نے لکھاہےکہ سرسیدنے میراپلنگ بھی اپنے ہی کمرے میں لگوایا اورتعلیم سے متعلق رات میں گفتگو ہوتی رہی مٹنگ کے بعد اچانک میری آنکھ لگ گئی جب میں بیدار ہواتو دیکھا سرسید موجود نہیں ہیں-مجھے اندیشہ ہوا جب میں باہر نکلا تودیکھاکہ سرسید برآمدے میں ٹہل رہے ہیں اورزار وقطار رورہے ہیں-میں نے پوچھا کیاکوئی حادثہ پیش آگیاہے کیا؟آخر کیابات ہے کہ آپ اس قدر رو رہے ہیں-سرسید نے کہا کہ اس سے بڑاحادثہ اور کیا ہوگا کہ ہماری قوم بگڑ گئی ہے-سرسید کو ہرلمحہ یہ فکر رہتی تھی کہ ہماری قوم پڑھ لکھ کر برادران وطن کے مقابلے میں گھڑی ہوجائے-نظامی صاحب نے بڑی خوبصورتی سے ان میں سرسید کی زندگی اور اس عہد کے حالات کو پیش کیاہے-اسی طرح اس کتاب کے باقی مضامین بھی جامع،معلوماتی اوراہمیت کے حامل ہیں-اس کتاب کے مضامین کاجائزہ لیتے ہوئے یہ کہاجائے توبےجانہ ہوگاکہ یہ کتاب سرسید کے تحریری سرمائیے میں گراں قدراضافہ ہے-اور مرتب اس بات کے لیے مبارک باد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے سرسید پرلکھے گئے اہم اور نادر مضامین کو یکجا کیا اورایک دستاویزی صورت میں ان کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کردیا-
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

