ترقی پسند تحریک سے وابستہ کئی ادبا نے فلم انڈسٹری کے مختلف میدانوں میں قسمت آزمائی کرتے ہوئے طبع آزمائی کی اور متعد حضرات کامیاب بھی رہے- انھیں میں ایک نام راجندر سنگھ بیدی (1984-1915) کا بھی ہے ترقی پسند تحریک سے وابستہ فکشن نگاروں میں بیدی اپنی الگ شناخت رکھتے ہیں- ایک ناولٹ اور متعددافسانوں کے ذریعے متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد اور خاندان بالخصوص خواتین کی تصویر کشی بیدی کی اصل پہچان ہے۔ بیدی نے افسانوں کے علاوہ ڈرامے بھی لکھے – خاکے بھی تحریر کیے اور فلمی کہانیاں بھی خلق کیں- ان سب میں سر فہرست ان کے افسانے اور ناولٹ ہیں۔ انھوں نے جب فلمی دنیا میں قدم رکھا تووہاں بھی یہ شناخت ان کے ساتھ رہی اور ان کی تحریرکردہ فلم اسکرپٹ میں نظر آئی۔
راجندر سنگھ بیدی نے تقسیم ہند کے بعد بمبئی کی چکاچوند فلمی دنیا میں قدم رکھا اور ڈی ڈی کشیپ کے لیے مکالمہ نویسی شروع کی۔ 1949 میں پہلی بار کشیپ کی ہدایتکاری میں بنی فلم "بڑی بہن” کے لیے انھیں مکالمہ نویسی کا کریڈیٹ حاصل ہوا۔ اس کے بعد ان کی قسمت کا تارا فلم انڈسٹری میں بھی چمکنا شروع ہوا اور کئی برسوں تک انھوں نے مشہور فلمی ہستیوں کے ساتھ کام کیا۔ بیدی نے اپنی کمپنی One Cooperative بھی بنائی جس کے تحت 1955 میں افسانہ ’گرم کوٹ‘ پر مبنی ایک فلم ’’گرم کوٹ‘‘ لانچ کی مگر ناکامی ہاتھ آنے کے بعد پھر سے وہ لکھنے کے عمل میں مصروف ہوگئے۔ بیدی نے ایک بار پھر سے 1962 میں ’’رنگولی‘‘ فلم بنائی لیکن یہ بھی کامیاب نہ ہوسکی اور بیدی نے مکالمہ نویسی اور اسکرین پلے لکھنے کے عمل کو جاری رکھا تاہم بیدی کے ذہن کے کسی گوشے میں یہ بات بیٹھ گئی تھی کہ ایک کامیاب فلم جب تک پیش نہ کردیں وہ چین سے نہیں بیٹھیں گے اسی لیے 1970 میں انھوں نے حکومت ہند کے Film Finance Cooperation ادارے سے جزوی مالی تعاون حاصل کرکے ایک بار پھر ایک فلم تیار کی جس میں سنجیو کمار اور ریحانہ سلطان نے اداکاری کے جوہر دکھائے اور مجروح سلطان پوری نے نغمہ نگاری کے فرائض انجام دیے نیز مدن موہن کا موسیقی تھا۔ پردہ سیمیں پر بیدی کی اس’’ دستک‘‘ نے کامیاب قدم رکھا یہاں تک کہ چار نیشنل فلم اوارڈ بھی حاصل کیے۔ یہ فلم دراصل بیدی کے ریڈیائی ڈرامے’’ نقل مکانی‘‘ پر مبنی تھی ۔اس ڈرامے کو بیدی نے 1944 میں آل انڈیا ریڈیو کے لیے لاہور میں لکھا تھا،جب فلم کے روپ میں اسے پیش کیا تو اس کا نام "دستک” رکھا-
1944 میں لکھے گئے ڈرامے کو 1970 میں فلم کی صورت میں پیش کیے جانے میں کئی تبدیلیاں رونما ہوئیں جو بیدی کی ذہنی تبدیلی کی بھی غماز ہیں۔ لیکن جو تھیم ڈرامے کی تھی وہی تھیم فلم میں برقرار رکھی گئی- یعنی ممبئی میں اس عہد میں رہائشی مکانوں کی قلت کے جو مسائل تھے اسے فلم میں ہو بہو ویسے ہی پیش کیا گیا جیسا کہ ڈرامے میں موجود ہے، البتہ فلم میں کئی اضافے بھی کیے گئے ہیں- پروفیسر شمس الحق عثمانی لکھتے ہیں۔
"نقل مکانی” کو "دستک” بناتے وقت بیدی نے اس میں اتنی تبدیلیاں کی تھیں کہ اسے بلاترد ایک نیا فن پارہ کہا جاسکتا ہے۔ اس لحاظ سے ضروری محسوس ہوا کہ 1971 میں ہند پاکٹ بکس پرائیویٹ لمیٹیڈ، دہلی سے ناگری رسم الخط میں شائع شدہ فلم دستک کا مسودہ، راجندر سنگھ بیدی کی تخلیقی زبان میں منتقل کیا جائے تاکہ اردو زبان کو اس کا ایک فن پارہ واپس ملے اور بیدی کے قارئین،ایک اساس پر قائم ان کے دو فن پاروں کے موازنے کا لطف لے سکیں۔‘‘(باقیات بیدی، شمس الحق عثمانی، اردو اکادمی دہلی، ۲۰۰۱،ص:۵۱)
عثمانی صاحب نے فلم دستک کی اسکرپٹ کو ایک نیا فن پارہ کہا ہے چونکہ اسکرپٹ ہندی میں تھی لہذا شمس الحق عثمانی صاحب نے اسے اردو زبان میں بلکہ انھیں کے بقول بیدی کی تخلیقی زبان میں منتقل کرکے باقیات بیدی میں پیش کیا اور ترجمے کا جواز یہ پیش کیا ہے کہ بیدی کے قارئین ایک ہی اساس پر مبنی دو فن پاروں کے موازنے کا لطف لے سکیں۔
ڈراے اور فلم کے لوازمات اور ضروریات میں نمایاں فرق کو’نقل مکانی ‘اور’ دستک‘ میں دیکھا جاسکتا ہے۔ ’نقل مکانی‘ ایک نشری یا اسٹیج ڈرامے کے طور پر لکھا گیا تھا جس میں صرف تین مناظر تھے جبکہ دستک کی اسکرپٹ ایک فلم کی ہے۔ اس لحاظ سے دیکھیں تو دستک میں کرداروں اور مناظر کے اضافے کے ساتھ فلم کے اختتام کو بھی آگے بڑھایا گیا ہے۔ مزید برآں دونوں فن پاروں کے پس پردہ جو اساس اور بنیاد اور جو تصور اور فکر کار فرما ہے اس میں بھی تبدیلی کے ساتھ پختگی بھی آئی ہے۔ عثمانی صاحب لکھتے ہیں کہ:
"نقل مکانی” کو "دستک” بنانے تک بیدی کی تخلیقی و فن کارانہ عمر میں لگ بھگ بائیس برس کا اضافہ ہوچکا تھا۔ ان برسوں کے دوران میں بیدی کے وہ احساسات و تصورات کہیں زیادہ پختہ اور لطیف شکل اختیار کر چکے تھے جو ، از اول تا آخر، ان کی تخلیقی کائنات کی اساس رہے اور فلم "دستک” میں بھی پوری طرح کارفرما رہے ہیں۔(باقیات بیدی، عثمانی،ص:۵۱)
فلم’ دستک‘ بیدی کا ایک نیا فن پارہ ہے گرچہ اس کی بنیاد ایک ذرامہ ’نقل مکانی‘ ہے لیکن ڈرامے سے فلم تک کی نقل مکانی اس فن پارے کو ایک الگ شناخت عطا کرتی ہے۔ اس کی علیحدہ شناخت اور انفرادیت ہی ہے کہ اس میں کرداروں کے نام نئے ہیں ۔عذرا اور نفیس پردہ سیمیں پر جلوہ افروز ہوتے ہوئے سلمی اور حمید ہوگئے ہیں۔ نیز کئی کرداروں کا اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اسے نقل مکانی سے الگ رکھ کر دیکھا جائے۔ بیدی نے فلم میں بنیادی مسئلے کے ساتھ دیگر جزوی مسائل بھی شامل کیے ہیں خاص طور پر حمید اور سلمی کا دوسرا گھرتلاش کرنا یہ معلوم ہوجانے پر کہ اس فلیٹ کی پرانی کرایہ دار ایک طوائف تھی۔ سلمی کا حمید کے گاؤں جانااور حمید کے آفس کا ماحول فلم میں نیا منظر نامہ ہے۔ اسی طرح فلم میں سلمی کو تنبورہ بجانے اور نغمہ گانے کو دکھایا گیا جو کہ فلم کی ضروریات میں شامل ہے۔ اسی وجہ سے فلم کے اختتام پر سلمی ایک سیٹھ کے لیے گانا گاتی ہے جبکہ نقل مکانی کی عذرا صرف گانے کے لیے انتظار کرتے ہوئے بیٹھ جاتی ہے۔عثمانی صاحب لکھتے ہیں کہ:
۔۔۔ماحول کی گرفت نے انھیں بے دست و پا کردیا ہے۔ لہٰذا حمید و سلمیٰ کا باطن، ان کے نہ چاہتے ہوئے بھی تبدیل ہورہا ہے ۔ وہ ، وہ نہیں رہے جو پہلے کبھی تھے; سادہ و معصوم حمید، رفتہ رفتہ رشوت کے لیے ہاتھ پھیلانے تک پہنچ جاتا ہے اور سلمیٰ سیٹھ برج موہن کے لیے گنا گانے تک۔ ( یہ بھی پڑھیں اردو نثر میں طنز و مزاح – ڈاکٹر شیخ نگینوی )
’’ڈراما نقل مکانی کے اختتام پر عذرا و نفیس کی قلب ماہیت وہاں تک پہنچی تھی جہاں نفیس کو رشوت دینے والے کا انتظار تھا اور عذرا سیٹھ شیوبرت رائے کے لیے گانا گانے بیٹھ گئی تھی لیکن راجندر سنگھ بیدی کے فن کار ذہن نے ’’دستک‘‘ تک آتے آتے باطنی تبدیلی کی اس منزل کو بھی نشان زد کرنے کی قوت حاصل کرلی ہے جہاں سلمیٰ و حمید جیسے افراد میں بھی قوت مدافعت کا بیج پڑتا ہے ، منفی تبدیلیوں کا تسلسل رکتا ہے ، ہر اختتام کے بعد نیا آغاز مقدر ہے‘‘۔ (باقیات بیدی، عثمانی، ص:۵۲)
جو مسئلے ڈرامے میں اٹھائے گئے تھے بیدی نے ان کو فلم میں زیادہ صراحت کے ساتھ پیش کیا ہے بالخصوص عورتوں کے مسائل- ایک خاتون خانہ اور ایک طوائف میں جو فرق ہے وہ ڈرامے میں واضح نہیں جبکہ فلم میں سلمی اور شمشاد بائی کی ملاقات دونوں کی حیثیتوں کو مزید واضح کرتی ہے۔ لیکن پیسوں کی خاطر امیر تاجر کے سامنے سلمی کے گانے کی خواہش اس کو شمشاد بائی کے قریب بھی کرتی ہے۔ڈرامے اور اور فلم دونوں فن پاروں میں معاشرے کی جکڑبندیوں کو پیش کیا گیا ہے کہ انسان معاشرے کی بیڑیوں میں اس قدر مقید ہے کہ اس سے راہ فرار ممکن نہیں۔ بسا اوقات انسان نہ چاہتے ہوئے بھی وہ سب کچھ کر گزرنے لگتا ہے جسے کرنے کی خواہش کبھی بھی اس کے دل میں پید نہ ہوئی ہواور وہ کام جسے وہ اپنی عزت نفس کی خاطر ناپسند کرتا ہو بہ حالت مجبوری انجام دینے لگتا ہے۔ اُس عمل کے پس پردہ اس کی خواہش نہیں بلکہ سماج کی بندشیں اور معاشرے میں پھیلی ہوئی رسومات اور نظریات ہوتے ہیں۔ حمید و سلمی اور عذرا و نفیس کے ساتھ بھی یہی پیش آیا۔ اور اسی اہم نکتے کو بیدی نے ڈرامے اور فلم میں پیش کرنے کی بہترین کوشش کی ہے۔ فلم کا اختتام حمید کا چاقو لے کر سلمی پر وار کرنے کے لیے اس کے پیچھے کھڑے ہونا، گانے کے اختتام پر سلمی کا مراتب اور سیٹھ برج موہن پر تنبورہ پھینک مارنا، سلمی کا حمید کے پاؤں میں گرجانا اور پھر دونوں کا گلے لگ کر رونا نیز حمید کے کان میں سلمی کی سرگوشی کی صورت میں دونوں کی محبت کی نشانی کے وجود میں آنے کی نوید حمید و سلمی کے لیے ایک نئی صبح نمودار ہوتی ہے۔جس میں ان دونوں کا باطن جو تبدیل ہورہا تھا پھر سے اپنی پرانی روش پر لوٹنے کا اشارہ ہے۔
بیدی نے فلمی دنیا میں بہت پریشانیاں اٹھائی ہیں۔ ان کی کئی فلمیں ناکام رہی ہیں لیکن انھوں نے ہمت نہیں ہاری اور ۱۹۶۷ میں ایک بار پھر کمر کس کر دستک بنانی شروع کی۔ انھوں اوپیندر ناتھ اشک کے نام اپنے ایک خط میں لکھا ہے کہ ’’میں نے اپنی فلم دستک شروع کردی ہے۔‘‘ یہ خط ۱۹۶۷ کا ہے۔ جبکہ ۲۶ جنوری۱۹۷۰ کے ایک خط میں لکھتے ہیں کہ یہ فلم دستک جو میں بنا رہا ہوں اس نے کچھ خاصا پریشان کیا ہے۔‘‘ یہ دونوں خط قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان سے شائع کلیات راجند سنگھ بیدی کی جلد دوم میں شامل ہیں۔ فلم دستک کے تعلق سے ان کے علاوہ اور کسی قسم کا تذکرہ ان خطوط میں نہیں ملتا ہے۔ لیکن ۷۰ء کے خط سے واضح ہوتا ہے کہ دستک بنانے میں انھوں نے کافی پریشانی اٹھائی ہے تاہم ان کی محنت رنگ لائی اور سرکاری سطح پر چار سرکاری نیشنل فلم ایوارڈ حاصل کیے۔ بہترین اداکاری کے دو ایوارڈ کے علاوہ cinematography اور موسیقی ایوارڈ شامل ہیں۔
بہر حال اس کامیاب فلم میں ادبی ذوق کی تسکین کے سامان بھی موجود ہیں۔ بالخصوص اس کے مکالمے جنھیں خود بیدی نے تحریر کیے ہیں اور جن میں اردو تہذیب کی جھلک صاف دیکھی جاسکتی ہے گرچہ فلم ہندی زبان کی سند سے لیس ہے۔ اسی طرح فلم میں بمبئی کی تہذیب سے بھی ہم روشناس ہوتے ہیںاور مجروح کی نغمہ نگاری سے محظوظ ہوتے ہوئے بمبئی کی اُس صنعتی اور تاجرانہ تہذیب سے بھی رو بہ رو ہوتے ہیں کہ یہاں:
اٹھتی ہے ہر نگاہ خریدار کی طرح
٭٭٭٭٭
کتاب :صریرِ خامہ مصنف ڈاکٹر سلمان فیصل
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

