امام الہند محی الدین احمد مولانا ابو الکلام آزاد (۱۸۸۸ء-۱۹۵۸ء)کا شمار ان عظیم اور عہدسازشخصیتوں میں ہوتا ہے جن کے ورود کو کسی بھی ملک و قوم کے لیے باعث فخر و امتیاز کہا جا سکتا ہے۔مولانا آزاد ایک ہمہ گیر شخصیت کے مالک تھے۔جہاں وہ ایک مذہبی رہنما، جید عالمِ دین،بے باک صحافی،صاحب طرز ادیب،ماہرِقرآن و حدیث، دانائے تاریخِ عالم، شعلہ بیان خطیب،بلندپایہ سیاستداں اور ماہر تعلیم تھے وہیں وہ ایک سیکولر اقدارکے حامل عظیم انسان بھی تھے۔مولانا آزاد کے نزیک رنگ، نسل،مذہب،ملت سے اوپر اٹھ کر سارے انسان برابر تھے۔وہ تمام بنی نوع ِ انسان کو اور بالخصوص تمام ہندوستانیوں کو ایک نظر سے دیکھتے تھے خواہ وہ ہندو ہوں یا مسلمان،سکھ ہوں یا عیسائی۔یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ہمیشہ انسان دوستی ،قومی یکجہتی،فرقہ وارانہ ہم آہنگی،ہندو مسلم اتحاد اور متحدہ قومیت کے علم کو اُٹھائے رکھا۔بقول خلیق انجمـــ’’مولانانےہندو مسلمان کو ایک قوم سمجھا جس کے اتحاد کے لیےانھوں نے اپنی ساری زندگی وقف کردی۔‘‘ ۱؎
گاندھی جی کی طرح مولانا آزاد بھی قومی ایکتا اور ہندوستان کے مختلف مذہبی ،لسانی اور علاقائی فرقوں کے درمیان اتحاد و ہم آہنگی کو ملک کی خوشحالی کے لیے ضروری سمجھتے تھے۔بلکہ اگر بنظرِ غائر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مولانا آزاد کے تمام سیاسی کارناموں میں دو سیاسی کارنامے ایسے ہیں جنھیں ہندوستانی قومیت کی بڑی میراث کہا جا سکتا ہے۔ایک تو نظریاتی ہے اور دوسرا عملی یا ایک تو اجتہادی ہے اور دوسرا مجاہدانہ۔ان کانظریاتی کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے تعلیماتِ قرآنی،رسول کریم کے اسوۂ حسنہ اور تاریخ اسلام کی روشنی میں متحدہ قومیت کے شرعی اور مذہبی جواز کا ٰ ایک عالمانہ استدلال پیش کیا جو اپنے اجتہاد فکر،جرآت ایمانی اور سیاسی بصیرت کا ایک لاجواب نمونہ ہے۔ان کا عملی کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے متحدہ قومیت اور مشترکہ گنگا جمنی تہذیب(Composite Culture)کی روایات کو تحریک آزادی کے زمانے میں اجتماعی قومی زندگی کی اساس بنانے اور پھر آزادی کے بعد انھیں ہندوستان کے نئے سیکولر جمہوری نظام سے وابستہ و منسلک کرنے پر اپنی تمام تر توجہ مر تکز کر دی تاکہ وہ ہندوستانی قوم کو خوابِ غفلت سے بیدار کر سکیں۔ملک کی آزادی کی جدو جہد کے لیے انھیں تیار کر سکیں اور آزاد ی کے بعد انھیں ان کا کھویا ہوا وقار واپس دلا سکیں۔ انھیں اس قابل بنا سکیں کہ وہ ایک زندہ قوم کی حیثیت سے زندگی بسر کر سکیں۔
مولانا آزاد کے اس تصور قومیت کو سمجھنے کے لیے مناسب معلو م ہوتا ہے کہ لفظِ ’’قوم‘‘ کی وضاحت کردی جائے تاکہ قومیت کے مفہوم کو سمجھنے میں آسانی ہو۔ لفظ قوم (Nation)کے معنی انگریزی زبان میں جماعت یاگروہ کے ہیں جو ایک مذہب رکھتے ہوں،ایک زبان بولتے ہوں،جو ایک خطۂ زمین پر بستے ہوں،جن کے رسم و رواج ایک ہوں،آپس میں شادی بیاہ کرتے ہوں اور جن کی ایک تہذیب اور کلچر ہو۔لیکن قومیت کے دائرے میں مزید وسعت پیدا کرتے ہوئے مشہور مؤرخ ڈاکٹر تارا چند اس کی جامع تعریف ان الفاظ میں بیا ن کرتے ہیں:
ـ’’قومیت افرادکےایک ذہنی رویےکانام ہے۔جس کےذریعےایک ایسےسماج کی تشکیل ہوتی ہےجسےقوم سمجھاجائے۔اس ذہنی رویے سےمراد افراد، جماعتوں یا فرقوں کے درمیان اس ہم آہنگی سے ہے جس نے ایک ساتھ مل جل کر رہنے ،ایک دوسرے کا دکھ سکھ بانٹنے اور باہمی مفادات،خواہ وہ مادی ہوں یا اخلاقی دونوں کو فروغ دینے اور ایک آزاد متحدہ حکومت قائم کرنے کی آرزو کی ہو۔‘‘ ۲؎
مولانا آزاد کے ذہن میں بھی قومیت کی وہی تعریف تھی جو تارا چند نے بیان کی ہے۔وہ قومیت کی تشکیل میں مذہب کو اساس کا درجہ نہیں دیتے تھے بلکہ وہ اس کو ایک فروعی چیز تصور کرتے تھے اور ہندوستان کی سطح پر ہو یا اس کے علاوہ وہ ہندو اور مسلمان کو دو ایسے فرقے مانتے تھے جن کو ملا کر ہی ہندوستانی قوم کی تشکیل ہوتی ہے۔ان کا یہ عقیدہ تھا کہ کسی بھی انسان کا ہندو ہونا یا مسلمان ہونا اس کاذاتی عقیدہ ہے اور اس کایہ عقیدہ متحدہ قومیت کے راستے میں کبھی کوئی رکاوٹ پیدا نہیں کرسکتا ہے۔ان کے خیال میں مذہب ایک دوسرے سے الگ نہیں کرتاہے بلکہ وہ تو ملاتا ہے اور مذہب ہی ایک ایسا راستہ ہے جو ذات ِ باری تک پہنچاتا ہے خواہ وہ کوئی بھی مذہب ہو۔ لہذا مذہب کی بنیاد پر قومیت کا فیصلہ نہیں کیا جاسکتا ہے کیونکہ قومیت اور تہذیب اس سے ہٹ کر اور ان تمام سے بلند تر ہے۔۱۹۴۰ء کے صدارتی خطبے میں مولانا نے اپنے اس موقف کا اظہار ان لفظوں میں کیاہے:
’’میں مسلمان ہوں اور فخر کے ساتھ محسوس کرتاہوں کہ میں مسلمان ہوں۔اسلام کے تیرہ سو برس کی شاندار روایتیں میرے ورثے میں آئی ہیں۔ میں تیار نہیں کہ اس کا چھوٹے سا چھوٹا حصہ بھی ضائع ہونے دوں۔اسلام کی تعلیم ، اسلام کی تاریخ،اسلام کے علوم و فنون ،اسلام کی تہذیب میری دولت کا سرمایہ ہے۔اور میرا فرض ہے کہ اس کی حفاظت کروں۔بحیثیت مسلمان ہونے کے میں مذہبی اور کلچرل دائرے میں اپنی ایک خاص ہستی رکھتا ہوں اور میں بر داشت نہیں کرسکتا کہ اس میں کوئی مداخلت کرے۔لیکن ان تمام احساسات کے ساتھ میں ایک اور احساس بھی رکھتا ہوں جسے میری زندگی کی حقیقتون نے پیدا کیا ہے۔اسلام کی روح مجھے اس سے نہیں روکتی ، وہ اس راہ میں میری راہنمائی کرتی ہے ۔میں فخر کے ساتھ محسوس کرتا ہوں کہ میں ہندوستانی ہوں۔میں ہندوستان کی ایک ناقابلِ تقسیم متحدہ قومیت کا ایک عنصر ہوں۔میں اس متحدہ قومیت کا ایک ایسااہم عنصر ہوں جس کے بغیر اس کی عظمت کا ہیکل ادھورا رہ جاتا ہے،میں اس کی تکوین (بناوٹ) کا ایک ناگزیر عامل ہوں،میں اپنے اس دعویٰ سے کبھی دست بر دار نہیں ہو سکتا ۔‘‘ ۳؎
مولانا آزاد کے نزدیک اسلام ،نیشنل ازم،سیکولرزم،متحدہ قومیت اور مشترکہ تہذیب سب ایک ہیں اور ان میں سے کوئی بھی دوسرے کا متضاد نہیں۔ اسلام کبھی بھی اپنے وطن سے محبت کرنے اور اس کے لیے قربانی دینے سے منع نہیں کرتا۔ان کا یہی وہ نظر یہ ہے جس کی وجہ سے انھوں نے بارہا دہرایا کہ ’’مسلمان ہندوستان میں رہتے ہیں۔ہندوستان کی خدمت ان کا دینی فرض ہے۔‘‘ ۴؎
۲۵/اگست۱۹۲۱ء کو آگرہ میں منعقدہ مجلس ِ خلافت کے خطبے میں انھوں نے اپنے اس عقیدے کا اظہار ان الفاظ میں کیا ہے:
’’میرا عقیدہ ہے کہ ہندوستان میں ہندوستان کے مسلمان اپنے بہتر فرائض انجام نہیں دے سکتے،جب تک کہ وہ احکام اسلامیہ کے ماتحت ہندوستان کے ہندوئو ں سے سچائی کے ساتھ اتحاد و اتفاق نہ کر لیں۔‘‘ ۵؎
لیکن ہندو مسلم اتحاد اورمتحدہ قومیت کے سلسلے میں مولانا آزاد کا یہ عقیدہ خود ساختہ نہیں تھا بلکہ وہ نصوصِ شر عیہ پر مبنی تھا اور انھوں نے اپنے اس موقف کا اعلان و اظہار تقریر و تحریر دونوں ہی میں کیا ہے۔۱۹۱۲ء میں مولانا نے ہفت روزہ ’الہلال‘جاری کیا اور اس سے مسلمانوں کے درمیان اتحاد پید اکرنے کاغیرمعمولی کارنامہ بھی انجام دیا۔۲۵/اگست ۱۹۲۱ء کو آگرے میں مجلس خلافت کا خطبہ پڑھتے ہوئے انھوںنے کہا تھا:
’’’الہلال ‘کے پہلے نمبر میں جس بڑے نمایاں مقصد کا اعلا ن کیا گیا تھا۔کیا تھا؟میں فخر کے ساتھ اعلان کرنا چاہتا ہوں کہ وہ ہندو مسلمانوں کا اتفاق تھا،میں نے مسلمانوں کو دعوت دی تھی کہ احکام شرع کی رو سے مسلمانوں کے لیے اگر کوئی فریق ہو سکتا ہے،جو نہ صرف ایشیا کو ،مشرق کو بلکہ اس تما م کرۂ ارضی کی سچائی کو آج چیلنج دے رہا ہے۔اس کو مٹا رہا ہے۔جس کے غرور سے اللہ کی عالمگیر صدا قت کو سب سے بڑا خطرہ ہے،وہ بر ٹش گورنمنٹ کے سوا کوئی دوسری طاقت نہیں ہے۔اس لیے ہندوستان کے مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ احکام شرع کو سامنے رکھ کر ، حضور پیغمبر اسلام ﷺکے اسوۂ حسنہ کو پیشِ نظر رکھ کر،جو انھوں نے اہلِ مدینہ اور بت پرست لوگوں سے مصالحت کرتے ہوئے دکھایا ۔وہ نمونہ جو خود جناب سرور کائنات نے عملا پیش کیا ہے اور عملا و حکما جو تعلیم قرآن نے دی ہے۔ہندوستان کے مسلمانوں کایہ فرض شرعی ہے کہ وہ ہندوستان کے ہندوؤں سے کامل سچائی کے ساتھ عہدومحبت کا پیمان باندھ لیں اور ان کے ساتھ مل کرایک نیشن بن جائیں۔۔۔ہندوستان کے ساتھ کروڑ مسلمان ہندوستان کے بائیس کروڑ ہندو بھائیوں کے ساتھ مل کر ایسے ہو جائیں کہ دونوں مل کر ہندوستان کی ایک قوم اور نیشن بن جائیں۔اب میں مسلمان بھائیوں کوسنانا چاہتا ہوںکہ خدا کی آواز کے بعد سب سے بڑ ی آواز جو ہوتی ہے وہ محمد ﷺ کی آواز تھی، اس وجودِ مقدس نے عہد نامہ لکھا ، بجنسہ یہ اس کے الفاظ ہیں انہ امۃ واحدۃ۔ہم ان قبیلوں سے جو مدینہ کے اطراف میں بستے ہیں،صلح کرتے ہیں، اتفاق کرتے ہیں اور ہم سب مل کر ایک امۃواحدۃ بننا چاہتے ہیں۔امۃ کے معنی ہیں قوم اور نیشن اور واحدۃ کے معنیٰ ہیں ایک۔ــ‘‘۶؎
مولانا آزاد ہندو مسلم اتحاد اور متحدہ قومیت کے اس مسئلے کو اسی پر ختم نہیں کرتے ہیں بلکہ اپنے اس عقیدے کی پختگی کے لیے وہ ایک تاریخی واقعہ کا سہارا لیتے ہیں اور ایک قدم بڑھ کر مسلمانوں سے اپیل کرتے ہیں :
’’اگر میں نے اپنی اپیل میں کہہ دیا کہ ہندوستان کے مسلمان اپنا بہتر ین فرض اس وقت انجام دیں گے جب وہ ہندوؤں کے ساتھ ایک ہوجائیں گے تو یہ وہ لفظ ہے جو اللہ کے رسول نے اس وقت لکھوایا تھا جب ہم سب مل کر قریش کے مقابل ایک نیشن بن جانا چاہتے تھے۔‘‘۷؎
اس طرح مولانا آزاد نے ہزاروں جگہ اپنے خطبات ، تقریروں اور تحریروں میں اس تعلق سے اپنے افکار و خیالات کا اظہار کیا ہے اور طرح طرح سے اس پیغام کو لوگوں تک پہنچایا ہے ۔وقتاً فوقتاً اپنے ان خیالات کے ذریعہ بہت سی ایسی باتوں کو صاف بھی کرنے کی کوشش کی ہے جو ہم وطنوں کے درمیان غلط فہمیاں پیداکرکے باہمی اتفاق و اتحاد کو نقصان پہنچار ہی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ مولانا نے اپنے ان تصورات و خیالات کے اظہار کے لیے اسلام ، مذہبیت،قومیت،وطنیت، سیاست غرض کہ ان سبھی موضوعات پر قلم اٹھائے ، ہر ایک پر موقع بموقع اظہار خیال کرتے رہے اور سارے ہندوستانیوں کو یہ پیغام دیتے رہے کہ اسلام اور نیشنل ازم ایک دوسرے کی ضد نہیں ہیں بلکہ یہ دونوں ایک ہی ہیں۔مسلمانوں کے لیے اپنے وطن کی خدمت اورترقی کی فکر کرنا عین اسلام کے احکامات میں داخل ہے۔اس طرح مذہب اور سیاست ،وطنیت اور اسلامیت کے درمیان کوئی فرق و تضاد نہیں ہے۔ایک ہندوستانی اگر ہندوستانی ہونے پر فخر کرتاہے تو اسے اپنے مسلمان ہونے پر بھی اتنا ہی فخر ہونا چاہئے۔ مولانا آزاد کے عقیدے کے مطابق ان کی سیاست بھی مذہب ہی کے راستے سے آئی تھی۔ وہ ملک کی جدوجہد آزادی میں اس لیے لگے تھے کیونکہ یہ ان کے نزدیک فریضۂ اسلام سے کم نہ تھا۔ ۱۹۱۳ء میں انھوں نے لکھا تھا:
’’مسلمان ہندوؤں میں رہتے ہیں ۔ہندوستان کی خدمت ان کا دینی فرض ہے۔ انھوں نے جس جوش و ایثار سے جنگِ طرابلس و بلقان اور مسجد کانپور کے معاملے میں حصہ لیا تھا اس معاملے میں بھی اسی طرح حصہ لیں۔۔۔مسلمانوں کا نصب العین خدمت عالم ہے۔وہ انسانیت کے خادم ہیں ان کے لیے خدا کی زمین کا ہر ٹکڑا مقدس اور اس کے بندوں کا ہر گروہ محترم ہے۔‘‘۸؎
اس طرح ہندو مسلم اتحاد ، متحدہ قومیت اور مشترکہ تہذیب کے سلسلے میں مولانا آزاد کے خیالات بالکل واضح اور صاف تھے اور ان کے فروغ ،تحفظ اور تشہیر کے لیے وہ ہر طرح کی قربانی پیش کرنے کے لیے تیار تھے۔ مولانا آزاد کی پوری زندگی کے مطالعے سے جو بات نکل کر سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ انھوں نے اپنے فکر ونظر، قول وعمل اور گفتار وکردار سے متحدہ قومیت اور مشترکہ تہذیب کی تعمیر و ترقی میں جس قدر حصہ لیا اس کا شاہد ان کی زندگی کا ایک ایک لمحہ ہے۔ قومی اتحاد انھیں ملک کی آزادی سے بھی زیادہ عزیز تھا اور وہ قومی نا انصافی کو پورے عالم انسانیت کا نقصان تصور کرتے تھے۔۱۹۲۳ کے صدارتی خطبہ میں مولانا نے کہاتھا:
’’آج اگر ایک فرشتہ آسمان کی بدلیو ں میں سے اُتر آئے اور دہلی کے قطب مینار پر کھڑے ہوکر یہ اعلان کرے کہ سوراج چوبیس گھنٹے کے اندر مل سکتا ہے بشرطیکہ ہندومسلمان اتحاد سے دست بردار ہوا جائے تو میں سوراج سے دست بر دار ہو جاؤں گا مگر اس سے دست بردار نہ ہوں گا کیو نکہ اگر سوراج ملنے میں تاخیر ہوئی تو یہ ہندوستان کا نقصان ہوگا لیکن اگر ہمارا اتحاد جاتا رہا تو عالم انسانیت کا نقصان ہوگا۔‘‘۹؎
غرض یہ کہ مولانا اسی کے لیے جئے، اسی کے لیے سر گرمِ عمل رہے اور اسی کے پروان چڑھتے رہنے کی امید و آرزو لے کر اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔پنڈت جواہر لعل نہرو ، جو کہ مولانا کے بڑے قریبی اور عزیز تھے اور وہ بھی ان سے حد درجہ محبت و عقیدت رکھتے تھے، مولانا کے ان خیالات و تصورات پر روشنی ڈالتے ہو ئے لکھتے ہیں:
’’ہندوستان کی رنگا رنگ زندگی میں کچھ لوگو ں کو تصادم کی جھلک نظر آتی ہے لیکن مولانا آزاد کی نظر اس بنیادی یک جہتی پر جمی رہتی تھی جو مجموعی طور سے ہندوستان اور اس میں بسنے والے قومی دھاروں میں پائی جاتی ہے۔یہ بات بڑی عجیب سی لگتی ہے لیکن کبھی کبھی تو ان کی تحریروں اور تقریروں سے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ قومی اتحاد انھیں ملک کی آزادی سے بھی زیادہ عزیز ہے۔ وہ فرقہ پرستی کو دنیا کابد ترین گناہ سمجھتے تھے چاہے وہ ہندوؤ کی فرقہ پرستی ہو یا مسلمانوں کی ۔واقعہ یہ ہے کہ انھوں نے قومی ایکتا او ر ملک کی آزادی کو اپنی زندگی کا مقصد بنالیا تھا۔گاندھی جی کی طرح وہ بھی مذہبی انسان تھے لیکن سماجی اور سیاسی معاملات میں دونوں کا نقطۂ نظر سیکولر تھا۔وہ ہندوستان کی آزادی اور ترقی کے نقیب تھے۔ ایسے ہندوستان کے نقیب جس میں مذہب، ذات اور نسل کی تفریق نہ ہو،جس میں سماجی نابرابری نہ ہو، جس میں انسان ،انسان کا استحصال نہ کر سکے۔ان کی نظر ہندوستان کے روشن مستقبل پر جمی ہوئی تھی۔وہ ہر قسم کے بھید بھاؤ ، ہر طرح کے اختلافات کو ختم کرنا چاہتے تھے اور ہندوستان کو ایک خوشحال ملک دیکھنا چاہتے تھے۔‘‘۱۰؎
مولانا آزاد نے اپنی پوری زندگی ہندومسلم اتحاد، متحدہ قومیت کے مشن کو کامیاب بنانے اور فرقہ پرستی کے خلاف جہاد کرنے کے لیے وقف کردی تھی۔بقول مہاتماگاندھی قوم پرستی پر مولانا آزاد کاایمان اتنا ہی پختہ تھا جتنا اسلام پر۔ان کے نزدیک ہر فرقہ پرست چاہے وہ ہندو ہو یا مسلمان،سکھ ہو یا عیسائی نہ صر ف ملک بلکہ پوری انسانیت کا دشمن ہے۔مولانا آزاد کو اپنے انھیں تصورات اور خیالات کی وجہ سے جہاں ایک طرف مسلم فر قہ پرستی سے مقابلہ کرنا پڑا وہیں دوسری طرف انھیں ہندو فرقہ پرستی سے بھی ٹکر لینی پڑی۔ ان کا خیال تھا کہ سیاسی طاقت چھن جانے کے بعد مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان رواداری اور خود اعتمادی باقی نہیں رہی ہے جو قومی یکجہتی کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔لیکن باوجود اس کے وہ مایوس نہیں ہوئے اور امید کا دامن تھامے ہوئے قومی اتحاد کے لیے مسلسل کوشش کرتے رہے۔ مولانا آزاد کے اس مشن کو کامیاب بنانے میں ان کے کچھ ہم نوا ہندو مسلم اکابرین قوم بھی شریک تھے۔ ان میں گاندھی جی اور جواہر لعل نہرو کے نام خاص طورپر قابلِ ذکر ہیں۔ ان کی نظر میں ہندوستان اور ہندوستانیوں کی فلاح و بہبود ،کامیابی و کامرانی اور خیر و برکت مولانا کے مشن کو کامیاب بنانے ہی میں پوشیدہ تھی۔مہاتما گاندھی اپنی پرارتھنا سبھاؤں میں اس کا پر چار کرتے رہتے اور پنڈت نہرو اور مولانا آزاد تو خود اپنی شخصیتوں کے اعتبار سے متحدہ قومیت اور مشترکہ تہذیب کی جیتی جاگتی یاد گار بن چکے تھے ۔ اس امر کی تصدیق معروف ماہرِ تعلیم اور اسکالر خواجہ غلام السیدین کے اس قول سے بھی ہوتی ہے۔وہ رقمطراز ہیں:
’’قدرت کی فیاضی سے تاریخ میں کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک تہذیب کی تمام یا بہت سی قدریں کسی غیر معمولی شخصیت میں نشیمن تلاش کر لیتی ہیں جیسے اٹلی میں لیو نارڈوونچی،جرمنی میں گو ئٹے، امریکہ میں ابراہیم لنکن، ہندوستان میں ٹیگور ، گاندھی اور مولانا آزاد اس ہندو مسلم تہذیب کا ایک شاہکار تھے۔‘‘۱۱؎
متحدہ قومیت ، ہندومسلم اتحاد،مشترکہ تہذیب اور ہندوستانی مسلمانوںکے سلسلہ میں مولانا نے جو تصورات و خیالات پیش کیے ہیں انھیں صر ف مولانا کے زمانے ہی کے لیے نہیں بلکہ ہر دور اور ہر زمانے کے لیے وقت کے اہم ترین مطالبات سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔متحدہ قومیت ہندوستان کا مشترکہ ورثہ تھی۔مولانا جس وقت ہندوستان کے سیاسی منظر نامے پر جلوہ گر ہوئے تھے اس وقت ہندوئو اور مسلمانوں میں وہ باہمی ربط وتعلق نہیں تھا جو انھیں ملک کی آزادی کی جدو جہد کے لیے تیار کر سکے لیکن ہندوستانی سیاست کے میدان میں اتر تے ہی مولانا اپنی تحریروں اور تقریروں کے ذریعہ ایک خوشگوار اور متحدہ ماحول پیدا کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ملک کے بدلتے ہوئے حالات کے ساتھ ساتھ تحریک خلافت اور تحریک تر موالات کے دوران ایک غیر معمولی قومی اتحاد کا مظاہرہ یہاں کے ہندوئو ں اور مسلمانوں نے مل کرکیا تھا اور ایک ہی پلیٹ فارم پر مہاتما گاندھی ، علی برادران، مولانا آزاد اور دوسرے بہت سے نامور رہبران قوم جمع ہوگئے تھے۔ان کے اتحاد سے انگریزی طاقت لرز گئی تھی لیکن پھر اس نے اپنی حکمت عملی سے ہندوئو ں اور مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنے کے لیے سازش شروع کر دی اور کچھ ہی زمانے کے بعد وہ اتحاد پارہ پارہ ہو کر رہ گیا۔جیسے جیسے آزادی کی جدوجہد تیز ہوتی گئی انگریز نے ہندوستانیوں کے باہمی اتفاق کو ختم کرنے کی کوشش میں بھی تیزی کر دی اور وہ ہندومسلمان جو ابھی تک مشترکہ جدوجہد سے آزادی حاصل کرنے کے لیے انگریزی طاقت کے سامنے صف آرا تھے طبقوں اور گروہوں میں بٹ گئے۔ متحدہ ہندوستان کے بجائے ملک کی تقسیم کا نعرہ بلند ہونا شروع ہوگیا اور اس طرح دو قومی نظریہ وجود میں آیا۔کانگریس کا نظریہ تھا کہ ہندومسلمان اپنی ثقافت اور ہندوستانیت کے اعتبار سے ایک قوم ہیں۔اس لیے ہندوستان کو متحدرہ کر آزادی کی جدو جہد کرنی چاہئے اور لوگوں کو فرقوں میں نہیں بٹنا چاہئے۔ مسلم لیگ کا دعویٰ تھا کہ ہندو اور مسلمان اپنے کلچر ، زبان اور معاشرت کے اعتبار سے دو مختلف قومیں ہیں اس لیے ملک کی تقسیم ضروری ہے۔ ادھر ہندوئوں کے احیا ء پرست طبقوں کا رد عمل بھی مسلمانوں کے حق میں نہیں تھا۔مولانا آزاد کا موقف تھا کہ ہندو مسلمان دونوں کا فر ض ہے کہ وہ سب سے پہلے انگریزوں کو ملک سے باہر نکالیں اور آزادی حاصل کرنے کے بعد ایک کنبے کی طرح اپنے لیے کوئی لائحہ عمل مر تب کریں۔
مولانا آزاد، مہاتما گاندھی اور پنڈت نہرو کسی بھی حال میں ہندوستان کی تقسیم کے حق میں نہیں تھے لیکن دوسری جنگ عظیم کے دوران حالات کی تیزی کے ساتھ ساتھ ملک کی صورت حال بھی برابر بدلتی رہی اور مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے پاکستان کا مطالبہ پیش کر دیا گیا جس میں رفتہ رفتہ اس قدر شدت پیدا ہوئی کہ اس کے نعم البدل کے طور پر دوسری تجویز پیش کرنے کے باوجود مطالبہ زور پکڑتا گیا اور انجام کا ر یہ محسوس کر لیا گیا کہ مسلم لیگ جو پاکستان کی دعویدار ہے وہ کسی طرح بھی ملک کی تقسیم اور پاکستان کے اپنے مطالبے کے حق سے دستبر دار ہونے کو تیار نہیں تو تبادلۂ خیال اور باہمی افہام و تفہیم کی کوشش کی گئی۔کر پس مشن اور شملہ کانفرنس وغیرہ کا سلسلہ جاری ہوا، گاندھی جی اور مسٹر جناح کی ملاقاتوں کا اہتمام ہوا۔ مولانا آزاد نے لیگی مسلمانوں کو پاکستان کے قیام اور اس کے خطرناک نتائج سے مسلسل اپنی تحریر و تقریر کے ذریعہ آگاہ کیا۔ اس دوران انھیں اپنی قوم کی بری بھلی باتیں بھی سننی پڑیں۔طعنہ کشی،بے عزتی اور یہاں تک کہ گالیاں برداشت کرنی پڑیں۔ علی گڑھ کے طلباء نے ان کے ساتھ بد سلوکی کی۔مسلم لیگ کی قیادت عظمیٰ نے انھیں شو بوائے کہا۔انھیں کالے جھنڈے دکھائے گئے،ان کے خلاف نعرے لگائے گئے اور کون سا ایسا حربہ تھا جو انھیں ذلیل کرنے کے لیے قوم نے استعمال نہیں کیا۔ لیکن ان سب کے باوجود وہ مایوس نہیں ہوئے۔انھوں نے ثابت قدمی کامظاہرہ کیا اور اپنے موقف پر ڈٹے رہے۔مولانا آزاد کی خواہش یہی تھی کہ ملک کی تقسیم نہ ہو کیونکہ اس کی تقسیم ہندوستان کو کمزور کر دے گی۔وہ آخری دم تک یہ لڑائی لڑنے کا عزم رکھتے تھے۔۔لیکن ملک میں عبوری حکومت کے نا خوشگوار نتائج دیکھ کر کانگریس نے فیصلہ کر لیا کہ ملک کی تقسیم ہو جائے اور پاکستان کا مطالبہ مان لیا جائے۔سردار پٹیل، پنڈت نہرو اور حد تو یہ ہے کہ مہاتما گاندھی نے بھی تقسیم کو تسلیم کر لی لیکن پھر بھی مولانا آزاد اپنے موقف پر اڑے رہے اور اسے کبھی تسلیم نہیں کیا اور ہمیشہ وہ اس کے خلاف ہی رہے۔تقسیم سے پہلے گاندھی جی کے سوال پر کہ پاکستان کے سلسلے میں تمہار ا کیا خیال ہے ؟کے جواب میں مولانا آزاد کہتے ہیں:
’’میں پاکستان کے خلاف ہوں اور اب بھی ہوں۔کبھی بھی مسئلہ پاکستان سے میری مخالفت اتنی زیادہ نہیں رہی جتنی آج ہے۔‘‘۱۲؎
لیکن چونکہ بٹوارہ ہندوستان کامقدر تھا اس لیے وہ ہو گیا۔ یہ مولانا کی زندگی کی سب سے منحوس گھڑی اور تاریک دن تھا۔وہ تاحیات اس صدمے سے دو چار رہے اور اخیر وقت تک کہتے رہے کہ ہندو اور مسلمان کو بانٹا جانا فطرتاً خلاف ہے۔ لیکن اس تقسیم کے باوجود بھی مولانا متحدہ قومیت اور مشتر کہ تہذیب کے بارے میں سوچتے رہے اور ہمیشہ اس بات کے خواہاں رہے کہ لوگوں کو اب بھی اپنی معاشرت وتہذیب تقسیم نہیں کرنا چاہئے۔بلکہ اس کی حفاظت کرنا سب کا مقدس فریضہ ہے۔ ہندو مسلم اتحاد ، متحدہ قومیت اور مشترکہ تہذیب میں تقسیم کو وہ پانی پر چھڑی مارنے،اس کے دو حصوں میں بٹ جانے اور پھر اس کی انفرادیت کے غائب ہو جانے سے تشبیہ دیتے ہیں۔ایک جگہ وہ لکھتے ہیں:
’’پانی پر چھڑی رکھ دینے سے ایسا معلوم ہو سکتا ہے کہ وہ حصوں میں تقسیم ہو گیا ہے لیکن پانی جوں کا توں رہتا ہے چھڑی کے ہٹتے ہی ظاہری تقسیم بھی غائب ہو جاتی ہے۔‘‘۱۳؎
غر ض یہ کہ مولانا آزاد نے ہندومسلم اتحاد، متحدہ قومیت اور مشترکہ تہذیب کے لیے جو راستہ متعین کیا تھا اس پر وہ پوری اولوالعزمی کے ساتھ تاحیات گامزن رہے،اس کی تشہیر و فروغ اور حفاظت و استواری کے لیے ہمہ وقت سر گرم عمل رہے اور اس سلسلے میں ہمیشہ بے خوف وخطر اپنے افکار و نظریات کو پیش کرتے رہے جو نہ صرف مسلمانوں کے لیے بلکہ تمام ہندوستانیوں کے لیے امن و آشتی،فلاح و بہبود اور تعمیر و تر قی کی راہ میں سنگ میل کی حیثیت رکھتے تھے۔ آج بھی ایک صالح اور روشن ذہن رکھنے والا اس بات کو محسوس کر تا ہے اور وہ اسے تسلیم کیے بغیر نہیں رہ پاتا ہے کہ مولانا ابو الکلام آزاد کے سیاسی تصورات و نظر یات میں ہندو مسلم اتحاد اور متحدہ قومیت کا تصور و نظریہ وہ ہے جسے تمام نظریوں پر فوقیت اور اولیت کا درجہ حاصل ہے۔کیونکہ اسی مشن کو کامیاب بنانے کے لیے انھوں نے اپنی پوری زندگی وقف کر دی تھی۔ اگر چہ وہ اس مشن میں خاطر خواہ کامیاب نہیں ہو سکے اور انھیں مختلف مسائل و مشکلات کا سامنا کرنا پڑا لیکن باوجود اس کے ان کا یہ ہندو مسلم اتحاد اور متحدہ قومیت کا تصور ونظریہ جنگ آزادی کی راہ میں روشن چراغ کا کام انجام دیتا رہا اور آئندہ بھی ملک کی حفاظت و سالمیت،امن و آشتی اور تعمیر و ترقی کے لیے ملک کو اس کی ضرورت پڑتی رہے گی اور یہ نظریہ ملک کو مظبوط و مستحکم بنانے میں معاون و مدد گار ثابت ہوتا رہے گا۔
حواشی :
۱۔ ابوالکلام آزاد ایک ہمہ گیر شخصیت،مرتبہ رشید الدین خان، ترقی اردو بیورو،نئی دہلی،ص:۴۴۴
بحوالہ :مولانا ابو الکلام آزاد شخصیت اور کارنامے،مرتبہ خلیق انجم ، انجمن ترقی اردو(ہند)دلی۔ ص:۱۔۳۹
۲۔ قومی یکجہتی اور سیکو لر ازم، تاراچند(مترجم شمیم حنفی)انجمن ترقی اردو(ہند)دلی،ص:۲۳۷
۳۔ رسالہ جامعہ(ابوالکلام آزاد:ایک شخص،ایک روایت)ذاکر حسین انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز جامعہ ملیہ اسلامیہ ، نئی دہلی,ص:۸۳
۴۔ مولانا ابوالکلام آزاد شخصیت اور کارنامے،مرتبہ خلیق انجم،انجمن ترقی اردو(ہند)دلی، ص:۲۰۳
۵۔ ایضاً، ص:۲۰۲
۶- خطبات آزاد(مرتبہ مالک رام)ساہتیہ اکادمی دہلی، مولانا ابوالکلام آزاد ،خواجہ غلام السیدین ’’ابوالکلام آزاد نمبر‘‘ص:۸۲۔۸۳ص:۵۰۔۵۱
۷۔ مولانا ابوالکلام آزاد شخصیت اور کارنامے،مرتبہ خلیق انجم،انجمن ترقی اردو(ہند)دلی، ص:۲۰۲
۸۔ ایضاً، ص:۲۰۳۔۲۰۴
۹۔ ابوا۹لکلام آزاد ایک ہمہ گیر شخصیت،مرتبہ رشید الدین خان، ترقی اردو بیورو،نئی دہلی،ص:۴۵۰
بحوالہ:خطبۂ صدارت کانگریس،۱۹۲۳ء
۱۰ ایضاً:ص:۴۶۳
۱۱۔ مولانا ابو الکلام آزاد شخصیت اور کارنامے،مرتبہ خلیق انجم ، انجمن ترقی اردو(ہند)دلی۔ ص:۲۰۶
بحوالہ :(ابو الکلام آزاد نمبر) پبلی کیشنزڈویژن ، منسٹری آف انفارمیشن اینڈ براڈکاسٹنگ اولڈسکریٹریٹ،دہلی
۱۲۔ ابوالکلام آزاد ایک ہمہ گیر شخصیت،مرتبہ رشید الدین خان، ترقی اردو بیورو،نئی دہلی،ص:۴۵۵
۱۳۔ مولانا ابو الکلام آزاد شخصیت اور کارنامے،مرتبہ خلیق انجم ، انجمن ترقی اردو(ہند)دلی۔ ص:۲۱۱
بحوالہ :’’ہماری آزادی‘‘ مولانا ابوالکلام آزاد
٭ ٭ ٭
ڈاکٹرعبدا لرزاق زیادی
جواہر لعل نہرو یو نیورسٹی،
نئی دہلی۔67
E-mail: arziyadi@gmail.com,
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
[…] فکر و عمل […]