احمد رشید کی کہانیاں اِدھر چند متعدد رسائل میں یکے بعد دیگرے پڑھنے کو ملیں تو حیرت کی انتہا نہ رہی ۔ان کی کہانیوں سے حصار سے نکلا ہی تھا کہ ’’بائیں پہلو کی پسلی‘‘نے آدبوچا۔یہ افسانہ نگار کا دوسرا مجموعہ ہے جو ۲۰۱۴ء میں شائع ہوا تھا۔واضح رہے کہ اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ ’’وہ اور پرندہ‘‘ کے عنوان سے اشاعت سے ہمکنار ہوکر داد تحسین وصول کر چکا تھا۔عام خیال ہے کہ احمد رشید کے قارئین کا حلقہ وسیع ہے لیکن ان کے افسانوی فن پر لوگوں نے بہت کم توجہ دی ہے۔اس کی ایک بنیادی وجہ یہ سمجھ میں آتی ہے کہ احمد رشید کے افسانوں کے علائم و استعارات کی تفہیم کے لیے جس بارک بینی،وسیع القلبی اور مطالعۂ کائنات کی ضرورت ہے ،اس سے آج کا قاری تقریباً عاری ہے۔احمد رشید نے بلا ضرورت یا علمیت بگھارنے کے لیے علائم کا استعمال نہیں کیاہے اور نہ ہی انہوں نے اندھیرے میں استعارات کی تیر چلائی ہے بلکہ مناسب و موزوں علائم کا استعمال کرکے فن پارے کو تہہ دار بنایا ہے۔یہی وجہ ہے کہ قاری کی نظر دونوں مجموعوں کے افسانوں پر جاتی ہے تو علائم کی گرہ کھولنے کی نا کام کوشش کرتا ہے اور تھوڑی بہت کام یابی ہاتھ لگتی ہے تو وہ خوشی سے پھولے نہیں سماتا۔اسی خوش فہمی کو ظاہر کرنے کے لیے افسانہ’’وہ اور پرندہ‘‘کا انتخاب کیا گیا ہے تاکہ اس علامتی افسانے کی حتیٰ المقدور تفہیم ممکن ہوسکے۔اس افسانے کا فنی محاسبہ کرنے سے قبل ضروری معلوم ہوتا ہے کہ پروفیسر شافع قدوائی کے مضمون’’احمد رشید کے افسانے‘‘سے ایک اقتباس نقل کیا جائے۔ان کے خیال میں:
’’زندگی کے مختلف مظاہر، اس کی رنگا رنگی، بو قلمونی اور ارتقا و افزونی کے مختلف مراحل کو تخلیق ِ کائنات کے قدیم آرکی ٹائپ سے مربوط کرنا اور تخلیق کے ازلی متھ کی معنویت عصری تناظر میں واضح کرنا ایک تازہ کار افسانہ نگار احمد رشید کے جن بعض افسانے بر صغیر کے مقتدر جرائد مثلاً ’’جواز‘‘، ’’شاعر‘‘ اور ’’آہنگ‘‘ میں شائع ہوکر خراجِ تحسین وصول کر چکے ہیں، فن کار کا بنیادی رمز ہے۔‘‘
افسانہ ’’وہ اور پرندہ‘‘ تخلیق کائنات اور تخلیق انسان سے متعلق اساطیری اور مذہبی کرداروں کی معنویت کو عصری تناظر میں واضح کرتے ہوئے کہانی کی ابتدا اس طرح ہوتی ہے:
’’یہ کہانی’’ وہ‘‘ کی ہے۔’’وہ‘‘ کی تخلیق ایک قطرے میں پوشیدہ تھی۔ جس نے قطرے سے سمندر تک کے سفر میں نہ جانے کتنے سورجوں کو چڑھتے دیکھا اور پھر اُن کو اُترتے دیکھا۔ یہ سفر جو یگوں پر مشتمل ہے، آج بھی جاری ہے۔ اس سورج کو پانے کی جستجو میں جو اس تنگ وتاریک مقام سے شروع ہوا تھا،جہاں اس کی خوراک گندہ خون تھی اور برہنگی اس کا لباس ۔۔۔۔۔۔‘‘
حضرت آدم ؑ کی پسلی سے حوّا ؑ کی تخلیق کے بعد انسانیت اور کائنات کا یہ سلسلہ آگے بڑھا۔ تہذیب و تمدن کایہ ارتقائی سفر بہ تدریج جاری ہے۔ ’’وہ‘‘ کی تخلیق قطرے سے سمندر تک سفر میں اس نے قوموں کے عروج و زوال کی تاریخ دیکھی اورانسان کے رحم مادر سے ولادت کے عمل تک کی داستان کا ذکر کرتے ہوئے تہذیبی ارتقاکی طرف رمز ہے۔ساتھ ہی تہذیبی ارتقا دائروی شکل میں اس طرح کہ انسان کایہ سفر جو بے لباسی اور بے شعوری سے شروع ہوا تھاجو اَب اپنی ابتدا کی جانب لوٹ رہا ہے اور اس بے منزل سفر کو اندھا سفر کا استعارہ کہا ہے۔ یہاں بھی دیگر کہانیوں جیسے ’’کہانی کہتی ہے‘‘،’’ صدیوں پر پھیلی کہانی‘‘کی طرح سمندر وقت کی علامت ہے۔ کہانی کا متذکر اقتباس ایجاز و اختصار کی بہترین مثال ہے۔ تمام یگوں کی تاریخ اس میں سمٹ گئی ہے۔ حیات و کائنات کے وسیع وعریض حدود اربعہ میں ’’وہ‘‘ زندگی کا سفر طے کرتے ہوئے تھک گیا ہے ۔جس طرح سورج پورے آب وتاب کے ساتھ دن کی مسافت بے کرکے تھکاماندہ پرند کی مانند اپنے پر سمیٹ لیتاہے۔ سورج وقت کا پیمانہ ، روز و شب ،عمر کا حساب و کتاب ، سمندر وقت کی علامت__ان سب ہی علائم کا با معنی امتزاج افسانہ کو گہرائی اور گیرائی بخشتاہے۔مثال ملاحظہ ہو:
’’تھکا ماندہ سورج نے پرند کی طرح اپنے پر سمیٹ لیے اور کائنات جو کچھ دیر پہلے ست رنگ تھی،یک رنگی ہوگئی۔‘‘
مذکورہ کہانی کی علامتیں ’’سورج‘‘،’’پرند‘‘، ’’ست رنگی‘‘ اور’’یک رنگی‘‘ ایک دوسرے میں اس طرح مدغم گئی ہیں کہ معنی خیزی میں شعریت کی کیفیت تخلیق ہو گئی ہے۔ ایسی مثالیں افسانہ کی تمہید سے ہی نظر آتی ہیں۔جیسے’’ابھی بے لباسی، بے شعوری سے اس کا رشتہ نہیں ٹوٹا ہے بلکہ دائروں کی طرح یہ سفر ، مسلسل سفر، قطرے سے سمندر کا سفر، بے کراں لہروں کا سفر، بے پایاں طوفانوں کا سفر، یگوں کا سفر ، قرنوں کا سفر، ابھی مسلسل جاری ہے۔ رنگ بدلتے اس آسمان کے نیچے۔‘‘
انسان کا بہ وقت ِ ولادت بے لباس اور بے شعور ہونا انسان کے تہذیبی ارتقا کی بنیاد بے لباسی اور بے شعور ی اور آج کے جدید دور میں انسان کا جسمانی اور تہذیبی طور پر ننگا ہونا، اس کا اخلاقی اور معاشرتی اعتبار سے زوال پذیر ہونا،وقت کے سمندر میں دائروی صورت اختیار کرنے کی علامت ہے۔یہ انسانی تہذیب کا اندھا سفر مسلسل جاری ہے___ ’’وہ‘‘ یعنی انسان کی زندگی ایک قطرہ میں پوشیدہ ہے۔ اسے سمندر ہونے تک ایک عمر درکار ہوتی ہے۔ انسانی کی تہذیب کا عہد طفل سے پیران سال تک یگوں اور قرنوں کا سفر جھیلنا پڑا۔ جس میں اس نے نہ جانے کتنے طوفانوں اور پریشانیوں کو برداشت کیا۔رنگ بدلتے اس آسمان کے نیچے اس کا اندھا سفراب بھی جاری ہے۔ آسمان کا رنگ بدلنا،ستاروں کا گردش میں آنا،خود تقدیر کے خوش رنگ اور بدرنگ ہونے کا استعارہ ہے۔ انسان کے اس تہذیبی سفر سے گریز کرتے ہوئے افسانہ نگار نے کردار کے ظاہری عوامل سے اس چلنے کو جوڑ دیا ہے___ ’’وہ چل رہا۔۔۔۔۔۔‘‘ یہیں سے افسانہ کا بنیادی کردار فلمی اسکرین کے فارم پر متحرک اور فعال نظر آنے لگتاہے۔
کہانی کا عنوان ’’وہ اور پرندہ‘‘ ایک بامعنی عنوان ہے۔ ’’وہ ‘‘ اور ’’پرندہ‘‘ دراصل ایک ہی کردار ہے۔ وہ کی تکمیل پرندہ کے بغیر نامکمل ہے۔ پرندہ انسان کے ضمیر اور اس کے نفس کا موتیف ہے جو انسان کی رہ نمائی بھی کرتاہے اور اس کو برائی کی طرف بھی لے جاتاہے۔ پرندہ آزادی کا Symbolبھی ہے۔ کہانی تکنیکی سطح سے بھی عجیب و غریب ہے۔ اردو افسانہ کی تاریخ میں پہلی بار یہ تکنیک متعارف ہوئی ،جو مصنف نے اختیار کی ہے۔ مذکورہ کہانی میں زماں و مکاں کی قیود ٹوٹ گئی ہیں۔جس طرح ’’شعور کی رو‘‘ میں وقت کی تقسیم اور حدود بکھرتی نظر آتی ہیں۔ ایک نئی تکنیک کے حوالے سے کہانی کہنے کا یہ انداز نرالا اور انوکھا ہے۔ اردو ادب میں ایسی کہانیاں بہت کم لکھی گئی ہیں جو کردار کے مختلف پہلوئوںکو ایک ساتھ مجموعی طور پر اُجاگر کرے ۔ فنِ افسانہ میں اس کی گنجائش بھی کم ہے، حیات و کائنات اور زماں و مکاں کے متعدد گوشوں کو پیش کرنے کے لیے ناول درکار ہے۔ عام طور پر زندگی کے کسی ایک پہلو یا ایک احساس کو موضوع بنا کر افسانہ تخلیق ہوتاہے اور افسانہ نگار کو کردار کے اسی پہلوکو پیش کرنے میں ہمدردی اور دلچسپی ہوتی ہے۔اگر وہی جذبہ یا احساس افسانہ کے دوسرے کردار میں بھی موجود ہو تو اُسے قطعاً ہمدردی نہیں ہوتی۔ اس کے جذباتی پہلوئوں کو نظر انداز کرنا افسانہ کے فن کا تقاضابھی ہے لیکن’’وہ اور پرندہ‘‘ میں افسانہ کے کردار کے زندگی کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرنے کے لیے اس انوکھی تکنیک کا استعمال آخر تک کامیابی سے برتاگیا ہے کہ افسانہ نگار کے کمالِ فن کی داد دینی پڑتی ہے۔ فنی اعتبار سے یہ کہانی اس قدر چست اور مکمل ہے کہ افسانہ نگار نے دوسری کوئی کہانی نہ لکھی ہوتی تو افسانہ نگار کو زندہ رکھنے کے لیے یہ کہانی کافی تھی۔
جیسا کہ مذکور ہوا کہ ’’پرندہ‘‘ آزادی کی علامت بھی ہے۔ افسانہ میں بنیادی کردار مذہبی پابندیوں ، رسم و رواج کے ڈھکوسلوں ، تہذیبی سختیوں اور دیگر سماجی ممانعتوں کے خلاف صدائے احتجاج زیرِ لب بلند کرتاہوا نظر آتاہے جو انسان کی فطری آزادی میں مخل ہیں ۔ خود انسان باہری یا بیرونی دباؤ سے انکار کر بھی دے تب بھی اس کا باطن اور اندرون تہذیبی ، سماجی اور مذہبی اقدار کا اسیر ہے۔ اس سے رہائی کس طرح حاصل کرے۔ ان بیرونی اور اندرونی دباؤ سے آزادی حاصل کرنے کے لیے وہ کوشاں نظر آتاہے۔ (یہ بھی پڑھیں پاکستان میں اردو افسانہ(ساٹھ کی دہائی میں) – محمد غالب نشتر )
انسان کی شخصیت کی تشکیل و تعمیر میں جو تہذیبی ، مذہبی ، جغرافیائی اور سماجی عناصر کام کر رہے ہوتے ہیں، انسان چاہتے ہوئے بھی ان سے نجات حاصل نہیں کر پاتا۔بہ قول روسو ’’آزادی انسان کا پیدائشی حق ہے۔‘‘فلسفۂ وجودیت کے سب سے بڑے حامی سارتر کے مقلد البرٹ کامو کے ناول ’’بیگانہ‘‘ کا کردار مرسال Reasoning کا قائل ہے اور زندگی کے حوالے سے ہر جگہ بے حس نظر آتاہے۔ جذباتیت کا قطعاً منکر ہے۔ مگر ناول کے آخری حصہ میں قتل کے جرم میں جب وہ جیل پہنچ جاتاہے تو اس کی تمام معشوقائیں اس کے خواب و خیال میں آتی ہیں اور ان کی اس کو یادیں ستاتی ہیں۔ باوجود اس کو سزائے موت کا حکم ہو جاتاہے۔ انسانی کردار کا یہ پہلو جذبہ و احساس سے تعلق رکھتاہے۔ مجموعی طور پر انسان کی شخصیت کی تکمیل عقلیت اور جذباتیت کی آمیزش سے ہوئی ہے نہ تو وہ نراReasoning ہو سکتاہے اور نہ ہی Sentimental۔
اس افسانہ میں کردار کے ساتھ زندگی کے مختلف واقعات جڑے ہیں۔ جہاں ’’وہ‘‘ کے ساتھ پلنے والا پرندہ’’ وہ‘‘ کی رہ نمائی بھی کرتاہے۔ کبھی کبھی صدائے احتجاج بلند کرتاہے۔ کہیں سفاک اور بے رحم ، کہیں نرم طبیعت اور رحم دل نظر آتاہے۔ بعض مواقع پر Reasonableاور کبھی کبھی Sentimental دکھائی دیتاہے۔
اس کہانی کا بنیادی موضوع بہ قول پروفیسر شافع قدوائی ’’وہ اور پرندہ ایک گہرے مذہبی احساس اور روحانی تجربے کی کہانی ہے جس میں مذہب یا عقیدہ اپنے آخری تجزیے میں ایک عافیت کوش تجربے میں متقلب ہو جاتاہے۔‘‘مطلب ظاہر ہوا کہ ’’وہ اور پرندہ‘‘ گہرے مذہبی احساس اور روحانی کرب پر مبنی افسانہ ہے۔ انسان کی ذہنی نشو نما اور اس کی شخصیت کی تعمیر و تشکیل میں مذہبی تعلیمات ، سیاسی رجحانات، سماجی اقدار، معاشرتی بودوباش ، معاشی فراوانی، تنگیِ معاش اور تعلیمی اثرات کا مکمل دخل ہوتاہے جو زندگی کرنے کے مخصوص انداز میں اور گزارنے میں ہر پل شعوری اور غیر شعور ی طور سے انسان کے قول و عمل اور افعال و کردار میں نمایاں نقوش چھوڑتے ہیں، جہاں انسان کہیں بے بس اور مجبور نظر آتاہے، جو اس کی جبلی خواہشات اور فطری آزادی پر دباؤ بنائے رکھتی ہیں اور احساسِ محرومی کو شدید تر کردیتی ہیںاور اس افسانہ میں ہمیںلمحہ بہ لمحہ نظر آتی ہیں۔مثال ملاحظہ ہو:
’’وہ‘‘ بار میں بلیک نائٹ کے شغل میں مصروف ہے کہ پرندہ احساس دلاتاہے’’نہیں۔۔۔۔۔ نہیں یہ بُری ہے، اس کی ممانعت ہے۔‘‘
نشہ کی حالت میں بار کے اندھیرے میں تنگ و تاریک گڑھا ہونے کا احساس ، مرنے کے بعد زمین کو زبان مل جانا، زمین پر اکڑ کر نہ چلنے کا حکم، قبر میں منکر نکیر کے سوالات، قبر کے عذابات کا خیال اور وہ تمام کیفیات جو مذہب کے حوالے سے ہمیں ملی ہیں، اس کے احساس و ادراک میں عود کر آجاتی ہیں مگر یہی پرندہ نفس امّارہ کی صورت اختیار کر لیتاہے اور ’’وہ‘‘ کو یہ کہہ کر مطمئن کر نے کی کوشش کرتاہے کہ ’’اگر بھاگتی ہوئی زندگی سے چند لمحات مسرتوں کے چرا لیے جائیں تو پوری زندگی پر بھاری ہوتے ہیں۔۔۔۔۔اور ۔۔۔۔۔پھر تم۔۔۔۔۔تم تھکے ہوئے بھی تو ہو۔۔۔۔۔آخراس کا علاج کیا ہے؟‘‘جب کہ یہی پرندہ تھوڑی دیر پہلے ضمیر کی متشکل میں شراب کی ممانعت پر زور دیتا ہے اور قبر کے عذاب کا احساس کراتا ہے۔ یہاں فطرتِ انسانی کے اس گوشہ کی طرف اشارہ کرنا بھی ضروری ہے کہ ارتکابِ گناہ سے پہلے ضمیر صراطِ مستقیم کے لیے رہ نمائی کرتاہے لیکن اگر اس لمحہ اس کو نظر انداز کر دیا جائے تو وہی ضمیر نفس امارہ کی شکل اختیار کرکے احساس گناہ کو دبا دیتاہے۔
شراب پینے کے بعد جب ’’وہ‘‘ سڑک پر ڈگمگاتے قدموں کے سہارے چلتا ہے تو اس منظر کو افسانہ میں اس طرح بیان کیا گیا ہے۔ ’’جیسے سڑک بال سے زیادہ باریک ہو اور تلوار سے زیادہ تیزدھار رکھتی ہو۔‘‘ آگے افسانہ نگار اس طرح پیش کرتا ہے___ ’’اور سڑک پر اس طرح چلنے لگا جیسے نٹ تار پر چل رہا ہو۔ ہر قدم کو ناپ تول کر رکھ رہا ہوکہ غلط قدم رکھا اورنیچے گرا۔‘‘___ ا س بیانیہ سے ظاہر ہوتاہے کہ شراب پینے کے بعد سڑک پر احتیاط سے چلنے کے پیچھے دنیا کی نظروں سے اپنے آپ کو چھپانا مقصد ہے کیوں کہ پتا چلنے پر بدنامی اور بے عزتی ہو جائے گی۔اقتباسات ملاحظہ ہوں:
’’کیوں کہ پان کی دوکان پر ابھی تو ایک آدمی ملا ہے۔۔۔۔۔ا۔۔۔۔۔و۔۔۔۔۔ر۔۔راستا ابھی بہت طویل ہے۔ ناک سکیڑنے والوں کی کمی نہیں۔ پھراس خوشبو کے پان کا کیا مطلب؟‘‘
بین الالفاظ میں پل صراط کے منظر کا ذکر ہے جس پر ہر قدم کو ناپ تول کر رکھنے کی وجہ دوزخ کا لقمہ بننے کا خوف پوشیدہ ہے۔ چوں کہ پل صراط کا راستا دوزخ کے اوپر سے گزرتاہے لہٰذا پورے افسانے میں اسی طرح کے مذہبی تصورات ہر جگہ نظر آتے ہیں۔
’’پڑوس کی عورتیں چار پائی کے ارد گرد بیٹھی تھیں۔ رشتہ کی عورتیں رو رہی تھیں، لیکن تمہاری ماں کا مردد ور دوٗر خاموش نظر آرہا تھا۔‘‘
مذہبی نقطۂ نظر سے شوہر اور بیوی کا رشتہ دائمی نہیں ہوتا۔ نکاح کا رشتہ زندگی تک ہی قائم رہتاہے۔ موت آنے کے بعد یہ رشتہ ٹوٹ جاتا ہے ۔ موت کا منظر کس قدر اندوہ ناک ، کرب انگیز اور مذہبی ماحول میں رچا ہواہے۔
’’میں سورہ یٰسین کی تلاوت کر رہا تھا، آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے، ہچکیوں کا طویل سلسلہ ۔۔غیں ۔۔۔ غیں ۔۔ اچانک سانسوں کی ڈور ٹوٹ گئی۔’’لا اِلہ الااللہ‘‘ ایک بلند آواز گونجی اور پھر رونے کا ایک شور۔۔ہاں ہا ۔ ۔ ۔ ۔ ایں۔۔۔ایں۔۔۔۔آں ۔۔۔۔آں۔‘‘
قرآن حکیم کی ایک مختصر آیت میں حیات و ممات کی حقیقت کاذکر ہے اور یہاں افسانہ نگار ایک سوالیہ نشان قائم کرتا ہے کہ سب جانتے ہیں کہ ہر نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے پھر کیوں لوگوں کو اپنی زندگی سے اتنا پیار کیوں ہے؟آگے چل کر افسانہ میں موت کے بارے میں ایک ٹھوس حقیقت کی طرف اشارہ بھی موجودہے:
’’اچھا خاموش ہو جاؤ۔ جتنا زندگی سے انسان کو پیار ہوگا۔ آدمی موت سے اتنا ہی ڈرے گا۔ اور پھر زندگی کیوں کر حسین ہو سکتی ہے جب کہ اس کے دامن پر موت جیسا بھیانک دھبّہ لگا ہے۔‘‘
فلسفۂ زندگی وموت کے حوالے سے افسانہ نگار نے اور بھی کئی مقامات پر وضاحت کی ہے اور افسانے میں مذہبی عناصر کا بیان شعوری کوشش کا نتیجہ نہیں بلکہ غیر شعوری طور پر اس کا اظہار اس طرح ہوا ہے کہ جیسے وہ زندگی کا ایک نا قابلِ تقسیم جز ہو۔اس ضمن میں ایک اور مثال ملاحظہ ہو:
’’پل صراط جیسی سڑک کو عبور کر لیا تھا اور اس کمرے میں اپنے بوجھل قدم کو رکھا جس میں گورستان جیسی خاموشی طاری تھی۔جو اسرافیل علیہ السلام کی دوسری صور کا انتظار کر رہی تھی۔‘‘
اسلامی نقطۂ نظر سے حضرت اسرافیل علیہ السلام کی پہلی صور کے خوف سے پوری کائنات نیست و نابود ہو جائے گی۔ آسمان روئی کے گالوں کی طرح اُڑنے لگے گا ۔ زمین پھٹ جائے گی۔ سورج سوا نیزہ پرآجائے گا۔پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے۔ روئے کائنات میں بسنے والے تمام جان دار مر جائیں گے۔ دوسری صور پر پوری کائنات زندہ ہو جائے گی۔ چاروں طرف نفسا نفسی کا عالم ہو گا۔ انسانوں کا جم غفیر بھاگنا شروع کر دے گا۔ قیامت کا منظر بڑاہی ہولناک ہوگا۔ قیامت اور روزِ حشر کے اس منظر کو افسانہ نگار نے اپنی ایک دوسری کہانی ’’سراب‘‘ میں موضوع بنایا ہے اور اس کائنات کو قیامت کا استعارہ بنا دیاہے۔
افسانہ کی شروعا ت شام کے جھٹ پٹے کے وقت سے ہوتی ہے۔ پوری رات کہانی چلتی ہے۔ کردار کی پوری زندگی ایک رات میں سمٹ گئی ہے۔ اسی لیے رات روزِ محشر کی طرح سخت اور طویل ہو گئی ہے۔ روزِ محشر کو سب ہی پیدا ہونے والے انسان اللہ کے دربار میں حاضر ہوں گے۔ وہ یوم دین ہوگا۔ اس کو یومِ میزان بھی کہا جاتاہے۔ ہر شخص کے اعمال کا حساب و کتاب ہوگا۔ ہر شخص اللہ کی پکڑ سے ہراساں اور پریشان حال ہوگا۔ تمام رشتے ناطے بکھر جائیں گے۔ کوئی کسی کا پرسانِ حال نہیں ہوگا۔ ایک عجیب و غریب منظر ہو گا۔__’’ذرا سا غور کرو، یہ کائنات کی تخلیق بھی ارتکابِ جرم کا سبب ہے۔جس میں مشیت ایزدی بھی شامل تھی اور پھر یہ گناہ و سزا کا نہ ختم ہونے کا سلسلہ کسی نہ کسی شکل میں آج بھی جاری ہے۔‘‘
افسانہ کا فن غزل کی طرح نازک فن ہے۔زائد الفاظ کا بوجھ برداشت نہیں کرتا۔ایجاز واختصار ،کفایت لفظی،علائم نگاری،زبان و بیان،میں استعارات وتمثیلات کے ذریعہ افسانہ کی ساخت میں معنی خیزی پیدا کی جاتی ہے۔ مابعد جدید تصور ادب میں جہاں کہانی،کہانی کے جوہر کی طرف لوٹی ہے وہیں پیچیدہ علامت نگاری،خود فراریت ’’میں‘‘کی پاسراریت اور اندرون میں اپنے وجود کی تلاش سے بھی نجات ملی اور سماجی سروکاروں سے ربط و ضبط ہموار ہوا۔افسانہ نگار objects سے جوڑ کر ذہنی کیفیات اور دلی جذبات کو بیان کرنے میں کمال کا درجہ رکھتا ہے۔چند مثالیں ملاحظہ ہوں:
’’فضا اس لیے رنگین ہوئی کیوں کہ تمہاری پھولی ہوئی جیب سکڑی اور اگر لوگوں کی ناک سکڑی ہے تو یہ ان کی جیب خالی ہونے کا رد عمل ہے۔‘‘
’’اچانک اس کی بائیں آنکھ میں کیڑا آکر گرا اور وہ تلملا گیا اور جلدی جلدی آنکھ میڑنے لگا ۔اس کی آنکھوں میں پانی آگیا۔‘‘
’’اس کی نگاہیں چھت پر لگے کنڈے پر ٹنگ گئیں۔‘‘
’’روشنی پر پھیلائے تھی مگر اس کے ذہن میں سمندر کے طوفان جیسا شور تھا اور کمرے میں سمندر تہہ جیسی خاموشی تھی۔‘‘
افسانہ ’’وہ اور پرندہ‘‘مجموعہ کا نمائندہ افسانہ ہے۔یہ ایک ایسے کردار کہانی ہے جو مذہب کا گہرا احساس رکھنے کے ساتھ ساتھ روحانی کرب،نفسیاتی اذیت اور ذہنی انتشار سے اس قدر دوچار ہے کہ اسے ہر قدم پر روحانی محرومی اور جذباتی تشنگی کا سامنا کرنا پڑ تا ہے،وہ اپنی توقعات و خواہشات کو جان سے زیادہ عزیز رکھتا ہے لیکن سماجی و مذہبی بندشیں اس کی آسودگی کا ہر اقدام ناکارہ بنا دیتی ہیں۔رنج و فرحت کے ممزوج پرچھائیاں ،حیات وموت کی تلخ ترین سچائیاں مہیب سایوں کی طرح ہر آن اس کا تعاقب کرتی ہیں۔پرندہ دراصل اس کا ضمیر یا نفس ہے جو اس کی زندگی میں ’’دخل در معقولات‘‘کا مرتکب ہوکر طرح طرح سے دِق کرتا ہے۔کہیں تو اعمال ممنوعہ کو مزین و آراستہ کر کے نفس امارہ (گناہ کا حکم کرنے کرنے والا نفس ) کا مصداق ہے۔پرندہ کا ’’وہ‘‘کی زندگی میں داخلہ ایک الگ کردار کی حیثیت سے ہوتا ہے جب کہ وہ ’’وہ‘‘کی شخصیت کا ایک عنصر ہے۔یہ افسانہ کی تکنیک میں خود ایک نیا اور کام یاب تجربہ ہے۔افسانہ نگار اس کی موجودگی اور توانائی کا احساس علامتی انداز میں اس طرح کراتا ہے :
’’اور اس پرندے کی اڑان کا مجھے ا س وقت احساس ہوا جب میں نے عزرہ کو فطری حالت میں اچانک نہاتے ہوئے دیکھا تو میرے جسم میں چیونٹیوں نے اپنے ڈنک گاڑ دیے پھر تو میں نے اس کے مکان اور اپنے مکان کا فاصلہ اس قدر تیزی سے طے کیا کہ گھر آتے آتے ہانپ گیا۔‘‘
افسانہ کے اختتام تک پرندہ اپنی شمولیت کا احساس کراتا ہے ۔افسانہ نگار نے ایک غیر مرئی تصور کو پرندے کے حوالے سے کہانی کو بیان کرتا ہے۔افسانہ کے آخر میں پرند کی تمثیل ،حقیقی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ اچانک پرندہ اس طرح نمودار ہوتا ہے کہ جیسے وہ ایک تصور یا خیال نہ ہو بلکہ حقیقت ہو۔
’’اچانک اس کے بستر کے سرہانے بنے روشن دان کے گھونسلے سے چڑیا کا ایک جوڑا۔۔۔۔باہر نکلا۔۔۔۔پھڑ پھڑ پھڑ۔۔۔۔۔‘‘
یہاں موتیف کو حقیقی شکل دینے سے افسانہ فطرت اور حقیقت کے قریب ہو گیا ہے۔مذکورہ افسانہ فنی نقطۂ نظر سے کامیاب اور اہم افسانہ ہے۔افسانہ کی منظر کشی اور فضا بندی کو علامتی زبان و بیان دے کر واقعیت سے جوڑنے میں افسانہ نگار کے کمالِ فن کی داد دینی پڑتی ہے۔مکالمہ نگاری میں برجستگی اور موزونیت ،قاری کو چونکا تی ہے۔معنی آفرینی ،گہرائی اور گیرائی مکالموں کی جان ہے۔اندازِ گفتگو میں طنز اور نشتر کی کاٹ ملتی ہے۔کرداروں کے ناموں کو معنی خیز بنانے میں پورا پورا اہتمام کیا گیا ہے اور ان ناموں کو موضوع سے ہم آہنگ کرکے افسانہ کی ساخت کا ایک ناقابل تقسیم جز بنایا ہے۔مذکورہ افسانہ میں ’’سمن‘‘پھول کے معنی میں ’’نکہت‘‘خوشبو کے معنی میں ’’رضیہ ‘‘تسلیم و رضا کے معنی میں اپنی مخصوص معنویت کے ساتھ وارد ہوئے ہیں۔
افسانہ نگار نے کرداروں کے ناموں کے مفاہیم سے نہ صرف فائدہ اٹھا یا بلکہ اپنی علامتی لب و لہجہ اور زبان و بیان کے وسیلے سے افسانہ نگار میں معنی خیزی پیدا کی ہے لیکن افسانہ کی واقعیت پر کوئی اثر نہیں پڑا۔مندرجہ اقتباس میں نکہت کا ورود ملاحظہ ہو:
’’تم نے نکہت کو مشت میں قید کرنا چاہا لیکن باد صبا کا جھونکا اُسے اڑا کر لے گیا۔۔۔۔یکایک دروازہ کی کنڈی کی آواز ہوئی ۔وہ چونک گئی۔نہیں ۔۔۔۔۔نہیں۔کہہ کر نکہت پیچھے ہٹ گئی۔۔۔۔۔اور پھر وہ اپنے ہی خول میں قید ہو گئی ۔ میزدرمیان میں رکھی تھی ۔اس پر کتابوں کا بوجھ تھا ۔۔۔۔رضیہ کی معصومیت تم نے نکہت کے اندر تلاش کرنی چاہی ۔۔۔۔اور نکہت تمہیں کتابوں میں تلاش کرتی رہی۔۔۔۔۔۔حقیقت ’’زندگی‘‘میں ملتی ہے،کتابوں میں نہیں۔۔۔۔‘‘پرندہ نے یاد دلایا ۔ ‘ ‘
طویل افسانہ’’وہ اور پرندہ‘‘میں مختلف واقعاتی تأ ثرات کو منطقی ربط اور شعوری طور سے وحدت قائم کرنے کی کوشش ملتی ہے۔اس کہانی میں خارجی کردار نگاری اور ان کے افعال و اعمال کے ساتھ ساتھ داخلی کرب اور باطنی عمل پر زیادہ زور ملتا ہے۔افسانہ نگار نے اندرون میں داخل ہوکر ہمیں اس کے ذہنی رویوں اور روحانی کوائف کی سیر کرائی ہے۔عمومی طور پر موضوع کی مناسبت سے مرکزی کردار کے رویے ظاہر کیے جاتے ہیں لیکن کردار کے کسی فعل و عمل کا ضمنی کرداروں کا کیا ردّ عمل ہوا،اس پہلو پر افسانہ نگار وں کی کم ہی توجہ جاتی ہے چوں کہ فنِ افسانہ کا موضوعی احاطہ اور افسانہ نگار کے دائرۂ اختیار کے یہ بس سے باہر ہے۔چوں کہ کہانی کار کو کردار کے مخصوص رویہ اور جذبہ سے غرض ہوتی ہے۔اس جذبہ اور رویہ کا ضمنی کردار پر کیا تأثر قائم ہے،اس سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔یہاں اس گوشہ کو اجاگر کرنے میں افسانہ نگار نے ایک نئی تکنیکی،ہیئتی اور اسلوبیاتی تجربہ کے حوالے سے بہت ہی کام یاب افسانہ تخلیق کیا ہے۔
افسانہ حیات و ممات کا تخلیقی استعارہ ہے۔یہ استعارہ انسانی نفسیات ،جنسیات کے پیچ و خم کا ،پیکار حیات کے نکات و رموز جاننے کا ،حیات و کائنات کے مسلسل تصادم کی فتح و شکست کی روداد سنانے کا،انسان کے افعال و اعمال کے پس پشت جو عوامل کام کررہے ہوتے ہیں،ان کی تلاش کا،فرد اور اجتماع کے ذہنی او جذباتی رشتوں کی کہانی سنانے کا ،انسان کی اجتماعی اور انفرادی زندگی کی تعمیر وتشکیل میں جو سماجی ، نفسیاتی،تاریخی و جغرائیائی اور مذہبی عناصر کام کررہے ہوتے ہیں،ان پر غور و فکر کرنے کا رول افسانہ ادا کرتا ہے اوراسی روشنی میں احمد رشید (علیگ) نے افسانے لکھے ہیں۔ ( یہ بھی دیکھیں ’’مرکز کا دل اورحاشیے کا درد‘‘ – پروفیسر غضنفر علی )
افسانہ نگار کے لیے یہ ضروری نہیں کہ اس کا ادب کے کسی رجحان ،انفرادی یا اجتماعی نقطۂ نظر سے جڑنا نا گزیر ہو۔اس طور پر احمد ر شید کی کہانیاں زمانی قیود سے آزاد ہیں۔اس لیے انہیں کسی مخصوص نقطۂ نظر سے جوڑ کر سمجھنا مناسب نہیں ہوگا۔ان کے افسانوں میں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ سامنے نظر آنے والے واقعات کو اس طرح سے پیش کرتے ہیں کہ اس میں تخلیق مکرّر جیسی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے اور ان میں معنی کی نئی سطح ابھر کر سامنے آتی ہے کہ سامنے کے دیکھے بھالے واقعات بھی انوکھے اور نئے نظر آنے لگتے ہیں۔زیریں سطح پر ایک اور کہانی غور وفکر کے بعد دکھائی دیتی ہے۔اس طرح ان کی کہانیاں مابعد جدید تصور ادب ’’بین المتونیت‘‘سے تخلیقی سطح پر استفادے کی خبر دیتی ہیں۔
یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ مابعد جدیدیت تخلیقی آزادی کا کھلا رویّہ ہے،ادبی جبر توڑنے کا ،معنی کے چھپے ہوئے رخ کو دیکھنے اور دکھانے کا،ثقافتی صداقت اور تہذیبی حقیقت کو تلاش کرنے کا۔ادب کو انسانی کلچر سے جوڑنے کا رجحان ان کہانیوں میں ملتا ہے۔احمد رشید نے بھی اپنے افسانوں کو ماورائی تصورات و ثقافت کی ابتدا اور ارتقا کو عوامی مسائل سے جوڑنے کی کوشش کی ہے۔ان کے ہاں ایک طرف ماورائیت ،دوسری طرف زمینی مسائل سے ارتباط فنی چابک دستی کی نشان دہی کرتا ہے۔ان کی کہانیاں پس ساختیات ،ایک متن پر دوسرے متن کی تخلیقی سطح پر پتا دیتی ہیں۔افسانہ نگارنے انسان اور کائنات کے رشتے کو تخلیقی سطح پر جوڑکر کہانیاں لکھی ہیں،ان کے افسانوں میں تہذیب و شعور کی جڑوں کی تلاش،اس تلاش کی لا محدودیت ہمیں نظر آتی ہیں۔انہوں نے معنی کی مرکزیت سے انحراف کرتے ہوئے معنی کی تہہ داری موضوعاتی سطح کے علاوہ مکالموں اور جملوں کی ساخت تک میں نظر آتی ہے۔انہوں نے اسلوب و زبان ،تکنیک ،موضوع اور کرداروں کو فنی وحدت میں اس طرح مدغم کیا ہے کہ ان کی کہانیاں پڑھتے ہوئے نئے ذائقے کا احساس ہوتا ہے اور افسانہ ’’وہ اور پرندہ‘‘ان کی تخلیقیت کی عمدہ مثال ہے۔
٭٭٭
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

