Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
کتاب کی بات

by adbimiras نومبر 23, 2020
by adbimiras نومبر 23, 2020 1 comment

زَاویے‘:  ایک مطالعہ/ ناز قادری  – ڈاکٹر انوار الحق

 

ہر ادب اپنے زمانے کا عکاس ہوتا ہے۔ شاعری ہو، افسانے، ناول، مثنویاں، حکایات ہوں یا پھر مصوری یا نقاشی، چند فن پارے اُن میں سے ہر عہد میں ایسے ہوتے ہیں جو زمان ومکان کے حدود میں مقید نہیں کیے جاسکتے۔ مثنوی’ سحر البیان‘ ایک ایسی مثنوی ہے جس میں مزاج کے اعتبار سے وہ تمام خوبیاں موجود ہیں جو پُرانی حکایتوں، داستانوں اور مثنویوں میں پائی جاتی ہیں تاہم اس مثنوی سے آج کی نسل بھی لطف اندوز ہوتی ہے۔

اگر آج کا ناقد اِس فن پارے کو پرکھنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کے تقاضے اور اس کے پرکھنے کے ’’زاویے‘‘ بھی آج کے ہی ہوتے ہیں۔ ناز قادری نے بھی ’’سحر البیان‘‘کا مطالعہ کیا ہے البتہ انہوں نے جن زاویوں کو ملحوظ رکھا ہے وہ زاویے ’مثنوی‘ کے زمانے اور آج کے عہد دونوں کے درمیان ایک کڑی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ کوئی بھی فن پارہ اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتا جب تک اس میں احساسات وجذبات کی کارفرمائی نہ ہو۔ فن کار کی پروازِ تخیل جتنی بلند ہوگی اوراس کے قلبی احساسات کے سمندر میں جتنا زیادہ تموج ہوگا اتنی ہی خوبی اور پُرکاری کے ساتھ اس کے الفاظ صفحہ قرطاس پر جلوہ بکھیریں گے۔

دوسری بڑی خصوصیت جو فن پارے کی تنقید کے وقت ایک ناقد مدّ نظر رکھتا ہے وہ ہے طریقۂ اظہاراور لفظوں کا انتخاب۔ جو جذبات کی ترجمانی کو سحر انگیز یا پھر سحر البیان بنا دیتا ہے۔

’’سحر البیان‘‘ پر بات کرتے وقت نازؔ قادری کی تنقیدی بصیرت اور ان کے تنقیدی زاویوں کی نشاندہی کرنے کے لیے ان کا یہ خیال کافی ہے :

’’اس مثنوی (سحر البیان) میں خاصہ تنوع اور رنگا رنگی ہے۔ شاعر نے اپنے رنگ و روغن سے نقوش کو ایسا تابناک بنایا ہے کہ آج بھی اس کے نقوش مدھم نہیں پڑے ہیں۔‘‘

(زاویے: ص۱۱)

نازؔ قادری کے تازہ ترین مجموعۂ مضامین ’’زاویے‘‘ میں شامل مضمون ’مثنوی سحر البیان ایک مطالعہ‘  کے لئے موضوع کا انتخاب ہی ناقد کی شخصیت کا پتہ دیتا ہے۔ مثنوی ایک ایسی صنف ہے جو افسانوی ادب اور شعری ادب کے درمیان پُل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس مجموعہ مضامین ’’زاویے‘‘ میں کل چودہ مضامین شامل ہیں جن میں اولیت مذکورہ مضمون کو حاصل ہے۔ پروفیسر نازؔ قادری کا دوسرا مضمون ’’اردو میں جدید نظم نگاری اور حالی‘‘ بھی اردو ادب کے اہم موضوعات میں ہے۔ یہ ایک ایسا عنوان ہے جس کو شاید ہی کسی نظم کے ذی ہوش ناقد نے نظر انداز کیا ہو۔ باوجود اس کے کہ جدید نظم نگاری پر نظم کے ہر ناقد نے لکھا ہے۔ مگر ’’جدید سے کیا مراد ہے؟ اور کس سن سے کس سن تک کی تحریر کو جدید کہنا چاہیے؟ اور آیا ادوار کا تعین سنین اور شہور سے ممکن ہے بھی یا نہیں۔ اِن تمام سوالات کے سلسلے میں نازؔ قادری کی بحث عالمانہ ہے۔ دور اور زمانے کے بارے میںاُن کا خیال ہے کہ ’’صحیح معنوں میں ادوار کا تعین سنین اور شہور سے ہو بھی نہیں سکتا، اورنہ کوئی دور اچانک شروع ہوتا ہے۔‘‘ پروفیسر نازؔ قادری کے خیال سے اتفاق کرنا ناگزیر ہے کیونکہ یہ جگ ظاہر ہے کہ ادب میں یہ قطعی ممکن نہیں کہ تمام ناقدین ایک میٹنگ کریں اور یہ طے کرلیا جائے کہ بھئی فلاں تاریخ کے بعد جو بھی نظم نگاری ہوئی ہے اُن کو اب سے جدید نظم کہاجاوے گا۔ ادب میں کوئی بھی اصول، کوئی بھی نظریہ یا کوئی بھی رائے آخری نہیں ہوتی۔ ہاں! البتہ جس خیال کو بیش تر نقاد تسلیم کرلیتے ہیں اُس کو عموماً مان ہی لیا جاتا ہے۔جدید نظم کے حوالے سے بیش تر ناقدین کا خیال یہ ہے کہ حالی اور آزاد کے بعد جدید شاعری وجود میں آئی اور نظم نگاری بھی شاعری کے دائرے میں آتی ہے۔ پروفیسر گوپی چند نارنگ بھی جدید اردو شاعری کی ابتدا آزاد اور حالی ہی سے مانتے ہیں۔وہ لکھتے ہیں:

’’جدید اردو شاعری کی حد بندی آزاد اور حالی کے کلام سے ہوتی ہے۔ جدید شاعری میں آزاد کی اہمیت جتنی تاریخی ہے اتنی ادبی نہیں۔ حالی نظم کے امام ہیں۔ انہوں نے زبان وبیان کے نئے سانچے بنائے ۔۔۔‘‘

(ہندوستان کی تحریک آزادی اور اردو شاعری، ص:۳۲۱)

نئی نسل سے تعلق رکھنے والے جدید اردو نظم کے ناقد کوثر مظہری کے خیال کو اگر تسلیم کیا جائے تو ۱۸۷۴ء میںجدید نظم کی پیدائش ہوئی اور آزاد نے پہلی جدید نظم ’شب قدر‘ کہی۔ کوثر مظہری کا ماننا ہے:

’’انجمن پنجاب کے قیام کے بعد (آزاد نے) ۱۵؍ اگست ۱۸۶۷ء کو اپنا ایک لکچر بعنوان ’’نظم اور کلام موزوں کے باب میں خیالات پیش کیا۔ اس لکچر کے سات برسوں بعد ۱۸۷۴ء میں پہلی نششت ہوئی جس میں آزاد نے لکچر کے بعد نمونے کے طور پر اپنی نظم ’’شب قدر‘‘ سنائی۔‘‘

(جدید نظم حالی سے میراجی تک، ص۱۰)

حاصل کلام یہ کہ اکثر ناقدین کا خیال ادب میں جمہوریت کے قانون کی طرح مجموعی خیال تصور کر لیاجاتا ہے۔ سو پروفیسر نازؔ قادری بھی اسی خیال سے متفق نظر آتے ہیں:

’’عام طور سے جس بات پر اکثر ناقدین اتفاق کرتے ہیں، وہ یہ ہے کہ اردو شاعری کا نیا دور انیسویں صدی عیسوی کے آخری ربع میں رونما ہوا۔‘‘   (زاویے، ص:۲۹)

جدیدنظم نگاری پر بات کرتے ہوئے نازؔ قادری کا ’زاویہ تنقید‘ آزاد، حالی، اسماعیل میرٹھی، عبد الحلیم شرر اور عبد الحق وغیرہ کے نظم معریٰ اور مدّ وجزرِ اسلام پر مرکوز ہے۔ مصنف نے اِن حضرات پر الزام عاید کیا ہے کہ ان لوگوں نے مغرب سے خوب خوب استفادہ کیا اور یہ الزام بہت حد تک درست بھی ہے۔ نازؔ صاحب کا خیال ہے کہ حالی نے انگریزی ادب سے استفادے کی تعلیم تو دی مگر خود انگریزی شاعری سے بہت کم متاثر ہوئے بمقابلہ دوسرے معاصرین کے۔ حالی کے جن معاصرین کی فہرست نازؔ قادری نے دی ہے جنہوں نے مغرب سے ترجمے اور استفادے کیے وہ بھی توجہ طلب ہے۔ ملاحظہ کیجیے:

’’حالی کے ہم عصروں میں جن لوگوں نے انگریزی سے ترجمے کیے ہیں ان میں آزاد اور اسماعیل میرٹھی کے علاوہ نادر کاکوروی، ظفرعلی خاں، سرور جہان آبادی، عبدالحلیم شرر لکھنوی، سجاد حیدر یلدرم، ضامن کشوری وغیرہ ہیں۔ آخر الذکر نے اپنے ترجموں کا ایک مجموعہ بھی ’’ارمغان فرہنگ‘‘ کے نام سے شائع کیا ہے۔ حالیؔ کے مابعد آنے والے شاعروں میں جن مشاہیر نے انگریزی سے ترجمے کیے ہیں ان میں متعدد دوسروں کے علاوہ اقبال، حسرت موہانی، حافظ محمود شیرانی اور عزیز لکھنوی وغیرہ ہیں۔‘‘                                   (زاویے، ص:۳۶)

کل ملاکر ڈاکٹر نازؔ قادری نے اس مختصر سے مضمون میں جدید نظم کی ادبی تاریخ رقم کرنے کی کوشش کی ہے۔ ساتھ ہی جدید نظم کے حوالے سے مسدس حالی کی اہمیت پر بھی مدلل بحث کی ہے۔ نازؔ قادری پوری بحث کے بعد اس مفروضے کی تردید کرتے ہیں کہ جدید نظم کا Conceptاردو ادب میں مغرب سے آیا۔ اُن کے مطابق جدید نظم کا Concept نہ مغرب کی دین ہے نہ مشرق کے کسی مصنف کا عطیہ۔ یہ در اصل حالی کے تخیل کی فطری اپج ہے جو ان کے مشاہدات وتجربات کی بنیادوں پر استوار ہے۔جدید شاعری کو نازؔ قادری نے ایک لمبی تاریکی کے بعد حد نظر تک پھیل جانے والا اجالا کہا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’اصل میں حالی کے افکار نہ کسی مغرب کے فلسفی کی دین ہیں اور نہ کسی مشرق کے مصنف کا عطیہ، خود حالی کو زمانے نے جو کچھ سمجھایا اور مستزاد کے طور پر سر سید کی تشویق و ترغیب نے جو اثر دکھایا وہ مسدس حالی کی صورت میں نئے عہد کی شاعری کا ابھرنے والا آفتاب بن گیا۔ ہمیں تسلیم ہے کہ طویل رات کی تیرگی نے فضا میںجو دھندلکے چھوڑے تھے اُن سے اس آفتاب کی کرنین بارہا کجلا گئیں لیکن یہ کرنیں بہر حال کرنیں تھیں، تیز اور تاریکی کا جگر چاک کردینے والی جب پھیلیں تو حد نظر اجالا ہوگیا۔‘‘

(زاویے، ص:۵۰)

’’اقبال کا نظریہ دین وسیاست‘‘ کے عنوان سے اس مجموعہ مضامین کا ایک اور مضمون بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ اقبالیات کے شعبہ میں یہ مضمون ایک گراں قدر اضافہ ہے۔ اقبال سے پہلے اردو شاعری میں فلسفے کا چلن بہت کم تھا اور اشعار میں ادیان کا فلسفہ سوچنا بھی محال تھا۔ اقبال سے پہلے فن پر زور دیا جاتا تھا فکر کی اہمیت نہیں تھی۔ فکر وفن کا حسین امتزاج اردو شاعری میں سب سے پہلے اقبال کے یہاں ہی نظر آتا ہے۔ اقبال کی شاعری شعبہ حیات کے بہت سے ان چھوئے پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہے۔ زندگی کے دوسرے اہم نکات کی طرح اقبال نے اپنی شاعری میں دین وسیاست کو بھی موضوع بنایا۔ اقبال نے مسلمانوں کو قرآن پر عمل کرنے کی تلقین کرتے ہوئے شعر کو ایک مستحسن آلہ اصلاح کے طور پر استعمال کیا اور دنیا کو یہ پیغام دیا کہ شاعری محض لا یعنی شغل نہیںبلکہ اس سے معاشرہ تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ یہ سچ ہے کہ اقبال کی شاعری کا بیشتر حصہ دین وسیاست کے گرد گھومتا ہے۔ نازؔ قادری نے جن ان چھوئے موضوعات پر قلم اٹھایا ہے ان میں اقبال کی شاعری کے حوالے سے یہ موضوع بے حد اہم ہے۔ مصنف نے اس مضمون میں اقبال کے فن اور فکر پر پُر مغز بحث کی ہے۔ اقبال کی پوری شاعری کااگر بنظرغائر مطالعہ کیا جائے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی شاعری میں ہر چند کہ دیگر موضوعات موجود ہیںتاہم دین اور سیاست پر فوکس بہت زیادہ ہے لہذا اقبال کی شاعری میں سب سے زیادہ موضوع بحث رہنے والے نظریۂ خودی، مرد مومن، جمہوریت وغیرہ میںسارے نظریات یا تو دینی ہیں یا سیاسی۔ اس طرح سے ناز قادری نے جو موضوع منتخب کیا وہ تنقید کے حوالے سے بہت ہوش مندانہ ہے اس لیے کہ وہ تمام نظریات کا احاطہ کرجاتا ہے۔

نازؔ قادری چوں کہ شاعر بھی ہیں، افسانہ نویس بھی ہیںاور ناقد بھی تو جب بھی وہ کسی فن پارے پر تنقید کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو ان کی تخلیقی صلابت قدم بہ قدم ان کی رہبری کرتی ہے۔ ’جو ایک اچھا تخلیق کار نہیں وہ ایک اچھا ناقد نہیں ہوسکتا‘ البتہ اس قول سے اختلاف کی گنجائش ہے پھر بھی یہ بات نوٹ کرنے کی ہے کہ ایک تخلیق کار جب ناقد ہوتا ہے تو وہ دیگر غیر تخلیق کارنقادوں کے مقابلہ میں ادب کی تفہیم میں زیادہ ہمدردانہ رویہ رکھتا ہے۔ جب نازؔ صاحب کسی شعری فن پارے پر قلم اٹھاتے ہیں تو ان کے اندر کا شاعر ان کی یعنی ناقد کی انگلی پکڑ کر رہبری کرتا ہے اور جب کسی افسانوی ادب پر تنقید کرتے ہیں تو ان کے اندر کا افسانہ نگار منصب رہبری پر فائز ہوکر ان کے تنقیدی ’’زوایے‘‘ کا تانا بانہ بننے میں ان کی مدد کرتا ہے۔

نازؔ قادری نے ادب کے تینوں ادوار ترقی پسند، جدید اور مابعد جدید میں اردو کی خدمت کی مگر اپنے قلم پر کسی خاص فلسفے کو حاوی نہ ہونے دیا۔ فن پاروں کی تنقید کے دوران کسی بھی عینک کا استعمال نہیں کیا۔ پروفیسر نازؔ قادری عملی تنقید کو تنقید کے دبستانوں میں سب سے زیادہ ترجیح دیتے ہیں۔ مندرجہ بالا خصوصیات ایک اچھے ناقد کی پہچان ہوا کرتی ہیں۔ نئی نسل کے ناقد ڈاکٹر مولا بخش ایک اچھے ناقد کی خصوصیت یوں بیان کرتے ہیں:

’’در اصل ادب کی تفہیم کا جس دن سے مجھے ایک اندازِ نظر ملا اسی دن سے میں نے اردو کے ایک نقاد کی تلاش شروع کردی جس کے تنقیدی کارناموں میں لچک ہو، ادعائیہ نہ ہو، اس کے اقداری فیصلوں میں متن کی تفہیم کا ایک ہمدردانہ رویہ نظر آتا ہو ، جس کے یہاں ایک عینک سے ادب کو پرکھنے کی جگالی نظر نہیں آتی ہو اور اس کے یہاں متن کی قرات پر کھلا ڈلا زاویہ ہو۔‘‘

(جدید ادبی تھیوری اور گوپی چند نارنگ، ص:۲۰)

مندرجہ بالا معیار پر نازؔ قادری کی تنقید کھری اترتی ہے۔ کبیر داس کے کلام میں عصری آگہی کے عنوان سے اگر ہم ڈاکٹر نازؔ قادری کے تنقیدی ’’زاویے‘‘ پر بحث کریںتو یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کبیر نے جس عہد میں جنم لیا وہ عہد مذہب، سیاست اور سماج کے مختلف مفروضوں کو بنیاد بناکر غریبوں کے استحصال کا زمانہ تھا، اور پورا کا پورا سماج ریاکاریوں میں مبتلا تھا۔ نازؔ صاحب نے کبیر پر بات کرتے ہوئے کسی نظریاتی ڈکشن کا سہارا نہیں لیا بلکہ جو بھی اُن کا اپنا تاثر کبیر کے بارے میں تھا اس کو پیش کیا۔ یعنی Original thoughtنہ مستعار نظریہ اور نہ مانگے کے اجالے کا فلسفہ۔  ( یہ بھی پڑھیں ترقی پسند افسانے میں ہئیت اور تکنیک کے تجربے/ ڈاکٹر مخمور صدری – ڈاکٹر نوشاد منظر )

پروفیسر نازؔ قادری کا ایمان ہے کہ کسی بھی فلسفے کو قبول یا رد کرنے میںجلد بازی دکھانا محض بیوقوفی ہے۔ ’’سقوطِ ماسکو اور ترقی پسند ادب‘‘ پر بحث کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں:

’’کسی نظریہ یا فلسفہ کو بہ یک جنبشِ قلم ردّ نہیںکرنا چاہیے۔ اس کے محاسن اور معائب کا غائر مطالعہ کرنے کے بعد ہی کوئی فیصلہ صادر کرنا چاہیے اور ہر فیصلہ کو حق بجانب یا حرفِ آخر نہیں کہا جاسکتا۔‘‘

(زاویے، ص:۱۷۴)

نازؔ قادری کو اس بات کا اقرار ہے کہ ترقی پسند تحریک اپنے مقصد سے بھٹک گئی تھی اور بعد میں کچھ انتہا پسند اشتراکیوں نے اس کی شبیہ بگاڑدی اور مخصوص فکر وفلسفہ کو اس قدر منوانے کی کوشش کی کہ وہ دیگر مصنفین کے لیے گلے کا طوق بن گیا۔ پروفیسر قادری اس سلسلے میں بالکل صاف شفاف نظریہ رکھتے ہیں۔ ایک اچھا ادب کیسا ہونا چاہیے اِس بارے میں اُن کی یہ رائے ملاحظہ کیجیے:

’’ادب میں دل آویزی ہی نہیں انقلاب آفرینی کا وصف ہوتا ہے۔ ادب کے لیے جمالیاتی عنصر بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ لیکن محض جمالیات سے ادب کا فریضہ ادا نہیں ہوتا۔ فن کی عظمت اسی میں ہے کہ جمالِ فن کے اندر متاثر کرنے اور انقلاب برپا کرنے کا جوہر پوشیدہ ہو۔‘‘(۹)

’’زاویے‘‘ میں شامل تمام مضامین دلچسپ، عالمانہ اور پڑھنے کے لائق ہیں۔ اس کتاب کو پڑھنے کے بعد میں تو یہی کہوں گا کہ اگر انہوں نے پہلے اس کتاب کو شائع کرایا ہوتا تو آج اُن کے چاہنے والوں کی تعداد اور زیادہ ہوتی۔ ویسے ابھی بھی اُن کے چاہنے والے کم نہیں ہیں۔ ہندوستان کا شاید ہی کوئی صوبہ ایسا ہو جہاں اُن کی نعتیں اور غزلیں نہ گنگنائی جاتی ہوں۔ ’زاویے‘‘ کی اشاعت کے ساتھ ہی یہ بات بھی ثابت ہوگئی کہ نازؔ قادری کا جو قد میدانِ شاعری میں ہے اس سے کم تنقید کے میدان میں بھی نہیں۔ انتظار تو اس دن کا ہے جب اُن کے افسانوں کا مجموعہ ’’وہ ایک بات‘‘ منظرِ عام پر آئے گا۔

کل ملاکر یہ کہا جاسکتا ہے کہ نازؔ قادری ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک ہیں۔ ’’زاویے‘‘ اُن کے تنقیدی اور تحقیقی مضامین کا مجموعہ ہے جس سے اُن کی تنقیدی بصیرت کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔

 

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

1 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
لڑکی کی پیدائش میں عورت کا کردار – ڈاکٹرمحمدرضی الاسلام ندوی
اگلی پوسٹ
ٹیپو سلطان کی شخصیت کی مختلف جہتیں – ڈاکٹر امتیاز احمد علیمی

یہ بھی پڑھیں

فروری 2, 2026

فروری 1, 2026

دسمبر 14, 2025

ستمبر 29, 2025

جولائی 12, 2025

جولائی 12, 2025

فروری 5, 2025

جنوری 26, 2025

ظ ایک شخص تھا – ڈاکٹر نسیم احمد...

جنوری 23, 2025

جنوری 18, 2025

1 comment

- Adbi Miras نومبر 24, 2020 - 7:52 شام

[…] کتاب کی بات […]

Reply

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں