بلگرام کی شعری و ادبی خدمات/ فرید بلگرامی – ڈاکٹر داؤد احمد
بلگرام علمی و ادبی ،ثقافتی اور تاریخی اعتبار سے صوبہ اتر پردیش کا مردم خیز قصبہ ہے جو ضلع ہردوئی سے متعلق ہے۔علماء، ادباء، شعراء،محققین اور دانشوروں کی کثیر تعداد نے اس کی عظمت کے آفاق کو روشن کیا ہے اور ہر چہار دانگ عالم میں اس کی شہرت کی کرنوں کو پھیلایا ہے۔بلگرام سے ہی بعض ایسی شخصیات کا تعلق ہے جن کے افکار سے اردو ادب کا منظر نامہ روشن ہے۔ بطور خاص میر عبد الجلیل بلگرامی،غلام علی آزاد بلگرامی،مرتضیٰ زبیدی بلگرامی،قاضی اوحد الدین بلگرامی، سید محمد عارف جان ؔ بلگرامی ،سید فرزنداحمد صفیرؔ بلگرامی،سید اولاد حیدر فوق بلگرامی،سید اولاد حسین شاداں ؔبلگرامی ، سید علی بلگرامی،سید مرتضیٰ حسین بلگرامی اور ڈاکٹر تحسین بلگرامی وغیرہ مقتدر ادیب و شاعر نے اردو ادب کو گرانقدر سرمایہ دیا۔
ادب بڑی مشکل سے تخلیق پاتا ہے۔خون جگر جلا کر اس بزم میں روشنی ہوتی ہے ۔اس روشنی میں صرف لوگ اپنے چہرے نہیں دیکھتے بلکہ قومیں اپنا مقدر تلاشتی ہیں۔ماضی و حال کے جھروکوں سے لوگ اپنی تہذیب اور اپنے تمدن کا مشاہدہ کرتے ہیں۔نسلیں اپنے ماضی سے حال اور اپنے بہتر مستقبل کے لئے رہنما اصول حاصل کرتی ہیں۔
زیر تبصرہ کتاب’’ بلگرام کی شعری و ادبی خدمات‘‘ اردو کے قابل فخر مورخ، ناقد و محقق فرید بلگرامی کی تازہ ترین کتاب ہے جو ادبی تحقیق کا ایک نمونہ ہے جس میں انھوں نے بلگرام کے ادباء،شعراء اور محققین کے جملہ کارناموں کا عرق ریزی سے تنقیدی اور تحقیقی جائزہ لیا ہے۔اس سے قبل موصوف کی پانچ کتابیں’’ آقائے سخن وسیم خیرآبادی حیات اور کارنامے‘‘ ’’متاع وسیم خیرآبادی‘‘ (مشاہیر کے خطوط کا مجموعہ)’’ ایک گوریا کا گرنا‘‘ ’’حکیم عابد علی کوثر خیرآبادی حیات اور شاعری‘‘ ’’بلگرام: راجنیتک ایوم ساہتیک اتہاس‘‘(ہندی)منظر عام پر آکر قارئین اور ناقدین سے داد و تحسین وصول کر چکی ہیں۔فرید بلگرامی نے اس سے قبل بلگرام کی ادبی اور سیاسی تاریخ ہندی زبان میں لکھ کر اردو فارسی سے نابلد حلقہ جو ہندی جانتا ہے سے تعریف و توصیف حاصل کر چکے ہیں۔صاحب فکر سامعین اور دیگر احباب گرامی کی فرمائش پروہ اس کا اردو ایڈیشن (جلد اول) بلگرام کے شعری اور ادبی اثاثے کو قاری کے سامنے لے کر آئے ہیں۔انھوں نے اس کتاب میں محمود غزنوی کے دور سے آج تک کے تمام بلگرامی شعرا،ادیب ،ناول نگار،ترجمہ نگار ،بلگرام کے مسلمان ہندی شاعر،بلگرام کے ہندو شاعر،بلگرام کی خواتین شاعرات اور ادیبہ اور اس ضمن میں دوسرے کام کرنے والے بلگرامی قلم کاروں کو ایک جگہ جمع کیا ہے۔فرید بلگرامی نے کوشش کی ہے کہ بلگرامیوں کے تمام ادبی کارنامے عوام کے سامنے آجائیں۔ اس میں انھوں نے عنوانات قائم کر کے اپنی باتوں کو وضاحت سے بیان کیا ہے جیسے بلگرام کے بھانٹ، بلگرامیوں کے اخبار،بلگرامیوں کے کتب خانے ،بلگرام پر لکھی کتابیں،بلگرامیوں کی لکھی کتابیں،بلگرامیوں پر پی ایچ ڈی،بلگرامیوں کی لکھی اہم کتابیں،بلگرامیوں کے مخطوطات وغیرہ ہر موضوع پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے اور ایک نئے گیٹ اپ کے ساتھ کتابی شکل میں پیش کیا ہے جو نہایت دیدہ زیب ،فکر انگیز،ظاہری و معنوی اعتبار سے لائق ستائش ہے۔ اس کی مقبولیت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس کتاب کا ہندی ایڈیشن 2017 میںمنظر عام پر آیا۔محض تین برسوں میں اس کا اردو ایڈیشن ترمیم و اضافے کے ساتھ بازار میں آچکا ہے۔ اس کتاب کی وجہ تصنیف کا ذکر کرتے ہوئے کتاب کے ابتدا میں عرض مصنف کے حوالے سے فرید بلگرامی رقمطراز ہیں :
’’ مجھے بلگرام سے متعلق جو کتاب ،جو دستاویز،فرمان یا قبالہ، مجموعہ کلام،منتشر اوراق کچھ بھی میرے ہاتھ آتا ،میں اسے محفوظ رکھتا رہا۔ میں نے بلگرام سے متعلق بہت سی کتابیں گھروں سے خریدیں،اندھے کوؤں سے نکالیں،پرچون کی دوکان سے خریدیں۔مجھے ایک گھر سے علامہ عبد الجلیل بلگرامی کے ہاتھ کی لکھی ان کی دستخط شدہ ۱۱۱۱ ھ کا ایک قلمی نسخہ نائکہ بھید کا ملا جو آج بھی میرے پاس موجود ہے۔یہ سارا مواد بلگرام کی تاریخ ہندی میں لکھنے میں بہت کام آیاجو 2017 میں بلگرام کا راجنیتک ایوم ساہتیک اتہاس کے نام سے منظر عام پر آئی‘‘۔ (صفحہ۔23)
زیر نظر کتاب’’ بلگرام کی شعری و ادبی خدمات‘‘ فرید بلگرامی کے مختلف اوقات میں لکھے گئے نادر و نایاب تحقیقی تذکرے ہیں جو بڑی عرق ریزی سے لکھے گئے ہیں۔موصوف میں تحقیقی تلاش کا ذوق بدرجہ اتم موجود ہے۔ان کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ جب تک کسی بات کی تحقیق اور تصدیق نہیں کر لیتے وہ اس بات کوضا بطہ ٔتحریر میں نہیں لاتے۔زیر تبصرہ کتاب میں بلگرام کی تقریباً ایک ہزار سال کی تاریخ ہے ، اسے بلگرام کا انسائیکلو پیڈیا کہا جائے تو شاعرانہ تعلی نہ ہوگی۔شعرا اور مصنفین کے تذکرے کے علاوہ اس کتاب میں مستقل عنوانات نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔یہ سب ایک ساتھ اور اتنا زیادہ جمع کرکے فرید بلگرامی نے دریا کو کوزے میں بند کرنے کی کوشش کی ہے۔ ( یہ بھی پڑھیں زَاویے‘: ایک مطالعہ/ ناز قادری – ڈاکٹر انوار الحق
فرید بلگرامی بلگرام کے ایسے محقق ہیں جنھوں نے وقیع علمی اور تحقیقی کاموں کو سر انجام دے کر بلگرام کی مستحکم علمی روایت کو مزید استحکام بخشا ہے۔سر زمین بلگرام کے ایک خوش فکر محقق نے یہ ثابت کر دکھایا کہ سچی علمی لگن ہر طرح کی پابندیوں کے باوجود بھی کارہائے نمایاں انجام دینے میں مکمل آزاد ہوتی ہے۔فرید بلگرامی کو یہ شرف حاصل ہے کہ ان کو اودھ کے دو اہم قصبات خیرآباد اور بلگرام سے سیدھا تعلق ہے۔بلگرامی کی پیدائش خیرآباد میں ہوئی اور وہ بسلسلۂ ملازمت 1972 میں بلگرام میونسپل بورڈ میں تقرر ہوئے اور 2006 تک وہاں اپنی خدمات انجام دیتے ہوئے بلگرام کے ادبی ماحول کا خوب خوب مطالعہ کیا اور وہاں سے خوب کتابیں ،مخطوطات حاصل کئے جن کی مدد اور وساطت سے آج وہ یہ کتاب لکھ سکنے کی حیثیت میں آئے۔بلگرام کا سارا قدیم ادب فارسی زبان میں ہے۔ انھوں نے اردو فارسی اور انگریزی زبانوں میں حاصل اپنی صلاحیتوں کی بنیاد پر اس کتاب کو لکھنے کا عزم کیا اور دور غزنوی سے آج تک کے شعرائے کرام ،ادیب ،مورخ،ناول نگار اور دیگر اصناف سخن میں نمایاں کارہائے انجام دینے والے بلگرامیوں کو اس کتاب میں ان کے سوانحی خاکہ ، ان کے نمونۂ کلام اور ان کی تصنیفات کے نام کے ساتھ شامل کیا گیا ہے۔ہندوستانی تو شامل ہیں ہی ،برطانیہ،امریکہ اور پاکستان کے بلگرامی تلاش کر لائے ہیں ۔سیکڑوں بلگرامی ادیب و شاعر اس سے پہلے شائد ہی کہیں ایک ساتھ ایک جگہ پائے گئے ہوں۔بلگرام کی تاریخ سے متعلق شائد ہی کوئی گوشہ چھوٹا ہو جس پر فرید بلگرامی نے خامہ فرسائی نہ کی ہو۔ ہر عنوان پر نہایت محققانہ تفصیل درج کی گئی ہے۔
زیر تبصرہ کتاب ’’ بلگرام کی شعری و ادبی خدمات‘‘ فرید بلگرامی کی ادبی،علمی اور تحقیقی کاوشوں کا ثمرہ ہے۔ اس کتاب میں مصنف نے بلگرام کے اہل قلم حضرات کے شعری و ادبی کارناموں کو موضوع بنا کر ایک خاص خطے کے شعرا ء و ادباء کے فنی و فکری بصیرت کا احاطہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ مبارکباد کے مستحق ہیں فرید بلگرامی صاحب جنھوں نے تحقیق جیسے خشک موضوع پر قلم اٹھا کراپنی صلاحیت اور قابلیت کو دنیائے ادب کے سامنے پیش کیا۔مضامین کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے کتاب کی فہرست پر نظر ڈالنا ضروری ہے کہ یہ مضامین کتنے اہم موضوعات پر مشتمل ہیں۔اس کتاب میں مصنف نے معیاری اور غیر معیاری کی درجہ بندی نہ کر کے فیصلہ قاری پر چھوڑ دیا ہے ۔مصنف کی اس کتاب کے مطالعے کے بعد بلگرام کی موجودہ ادبی صورت حال کا بھی بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے۔
بلگرام کی سرزمین میں اردو ادب کے حوالے سے فرید بلگرامی کے ذریعہ جو کام ہو رہا ہے وہ اس بات کا متقاضی ہے کہ اسے دنیا کے سامنے لایا جائے۔ موصوف نے خاصی محنت کے بعد یہ کتاب تصنیف کی ہے۔اس کتاب میں زیادہ تر ایسی شخصیات ہیں جو ابھی بقید حیات ہیں اور علمی و ادبی سفر جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس کتاب سے بعض ایسی شخصیات ضرور سامنے آئی ہیں جنھیں لوگ کم جانتے ہیںجو اپنی نو عمری کے مراحل میں ہیں۔حالانکہ اپنے کارناموں کی وجہ سے وہ اس بات کی مستحق ہیں کہ انھیں جانا اور پہچانا جائے۔پوری کتاب میں نقد و تحقیق کے معیار و وقار کو جس طرح برقرار رکھنے کی کوشش کی گئی ہے وہ بھی قابل توجہ ہے۔
اس طرح یہ کتاب ’’بلگرام کی شعری و ادبی خدمات‘‘ کے حوالے سے دستاویزی اہمیت رکھتی ہے۔اس کتاب کا مطالعہ کرنا چاہیے تاکہ ہمیں خصوصاً نئی نسل کو معلوم ہو کہ اردو شعر و ادب کے میدان میں کیسے کیسے لعل و گہر ہمارے درمیان رہے ہیں اور انھوں نے ادبی و فنی خدمات کے ذریعے سماج و زندگی کے کن کن مراحل سے واقفیت کرائی۔
کتاب کے آخر میں مصنف نے کتابیات کی فہرست،تشکر نامہ اور معروف شعراء و ادباء کی عکس تحریر،عکس قبالہ ساتھ ہی موصوف نے اپنے کتب کی تقریب رسم اجراء کی تصاویر قارئین و ناظرین کے سپرد کیا ہے جو دید کے قابل ہے۔
مجموعی طور پر یہ کتاب معیاری ہے۔فرید بلگرامی صاحب قابل مبارکباد ہیں کہ انھوں نے بلگرام کی شعری و ادبی خدمات کو کتابی شکل میں یکجا کر دیا ہے تاکہ قارئین اس سے استفادہ کرسکیں۔آج کے عہد میں علاقائی تذکروں کی ضرورت کا احساس شدت سے ہونے لگا ہے اور اس تعلق سے کتابیں بھی شائع ہو رہی ہیں۔یہ کتاب بھی اسی ضرورت کی تکمیل کرتی ہے۔مصنف کی محنت قابل ستائش ہے ۔ امید ہے کہ ادبی حلقے میں اس کی خاطر خواہ پذیرائی ہوگی۔
ڈاکٹر داؤد احمد،اسسٹنٹ پروفیسر
شعبۂ اردو،
فخر الدین علی احمد گورنمنٹ پی۔جی کالج
محمودآباد سیتاپور(یو۔پی)
Email : daudahmad786.gdc@gmail.com
(تبصرے میں پیش کردہ آرا مبصر کے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

