Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      جون 6, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      سنت ابراہیمی کی حقیقی روح اور اس کا…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      آبِ زمزم کے طبی ، روحانی اور سائنسی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قربانی صرف رسم نہیں، اللہ کے حکم کی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام بشیر بدر،…

      جون 7, 2026

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام بشیر بدر،…

      جون 7, 2026

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      جون 6, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      سنت ابراہیمی کی حقیقی روح اور اس کا…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      آبِ زمزم کے طبی ، روحانی اور سائنسی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قربانی صرف رسم نہیں، اللہ کے حکم کی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام بشیر بدر،…

      جون 7, 2026

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام بشیر بدر،…

      جون 7, 2026

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
غزل شناسی

پروفیسر لطف الرحمن کی غزلیہ شاعری کے فکری و فنی ابعاد (بوسۂ نم کے حوالے سے) ـ ڈاکٹراحمدعلی جوہر

by adbimiras دسمبر 17, 2020
by adbimiras دسمبر 17, 2020 0 comment

 

پروفیسر لطف الرحمن کی ہمہ گیر ادبی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔ وہ 2/فروری 1941ء کو موضع بنیاپور، ضلع چھپرہ میں پیدا ہوئے۔ ان کا آبائی وطن موضع ریونڈھا، ضلع دربھنگہ، بہار ہے۔ ان کی ابتدائی تعلیم سے لے کر گریجویشن تک کی تعلیم دربھنگہ میں ہوئی۔ بعدازاں وہ پٹنہ یونیورسٹی سے ڈبل ایم-اے (یعنی ایم-اے ان اردو اور ایم-ان فارسی) اور پی-ایچ-ڈی کرکے بھاگلپور یونیورسٹی کے شعبۂ اردو میں تدریس کے عہدہ پر فائز ہوئے۔ پروفیسر لطف الرحمن نے اپنے طویل علمی و ادبی سفر کے دوران اپنی متنوع تخلیقات اور تصنیفات و تالیفات کے ذریعے گراں قدر علمی و ادبی سرمایہ پیش کیا ہے اور اردو علم وادب کی دنیا میں گہرا اور یادگار اثر چھوڑا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اردو دنیا میں ان کی شناخت ایک منفرد و ممتاز ناقد اور قدآور ادیب کی حیثیت سے مسلم ہے۔ ان کی شخصیت علمی و ادبی اعتبار سے متعدد خصوصیات کی حامل ہے۔ سنجیدگی و متانت، مطالعہ کی وسعت، فکرونظر کی گہرائی و گیرائی، حق گوئی و بے باکی، جرأت اظہار، عالمانہ، فاضلانہ اور استدلالی انداز، ان کی شخصیت اور اسالیب اظہار کے نمایاں اوصاف ہیں۔ ان خوبیوں نے مل کر ان کی علمی و ادبی شخصیت کو "کرشمہ دامن دل می کشد کہ جااینجاست” کے مصداق بے پناہ پرکشش حیثیت کا مالک بنا دیا ہے۔ مولانا ولی رحمانی صاحب نے پروفیسر لطف الرحمن کی شخصیت کا خاکہ اپنے لفظوں میں اس طرح کھینچا ہے:
"پروفیسر لطف الرحمن صاحب آج کی تہذیب کے "مردآگاہ” ہونے کے باوجود عجلت کا شکار نہیں، نہ سطحیت کا مرض ان کے قریب سے گذرا ہے۔ وہ گہرےمطالعے، ڈوب کر پڑھنے، غوروفکر، تحلیل و تجزیہ اور نقد و نظر کا مزاج رکھتے ہیں۔ قدرت نے انہیں عقل کے وافر حصہ کے ساتھ عمدہ حافظہ سے نوازا ہے، جس کا وہ بہترین ایجابی مصرف لیتے ہیں۔ مرحلہ تحریر کا ہو یا تقریر کا، وہ کھرے اترتے ہیں اور پڑھنے اور سننے والوں پر گہرا اثر چھوڑتے ہیں۔ عام زندگی سے لےکر فکر و تحقیق کے مرحلوں تک ان میں جو بڑا وصف نظر آتا ہے، وہ قوت گفتار کے ساتھ جرأت اظہار بھی ہے جس سے ان کے جملے گوہر آبدار بن جاتے ہیں”۔ ( 1) ( یہ بھی پڑھیں گئی رُتوں کے زخم کی شاعرہ: سلمیٰ شاہین – پروفیسر خالد محمود )

پروفیسر لطف الرحمن اردو کے ایسے ادیب ہیں جو اردو ادب میں کئی پہلوؤں سے اپنی ممتاز شناخت رکھتے ہیں۔ وہ ایک منفرد و ممتاز شاعر کی حیثیت سے معروف ہیں۔ اس کے علاوہ وہ ایک اچھے اور صاحب نظر ناقد و محقق کے طور پر بھی جانے جاتے ہیں۔ ایک زمانے میں وہ صحافی کی حیثیت سے بھی کام کرچکے اور اپنا لوہا منوا چکے ہیں‌۔ ان کی خطوط نگاری بھی علمی اعتبار سے خاصے کی چیز ہے۔ اس طرح ان کی شخصیت کے چھوٹے بڑے کئی پہلو ہیں۔ ان کی تخلیقات اور تصنیفات و تالیفات میں "تازگئ برگ نوا”, "بوسۂ نم” (غزلوں کے مجموعے), "صنم آشنا”, "راگ بیراگ”, (نظموں کے مجموعے), "نقدنگاہ”, "تنقیدی مکالمے”, "تعبیر و تنقید”, "جدیدیت کی جمالیات”, "نثر کی شعریات”, (تنقیدی مضامین کے مجموعے), "تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو”, (خطوط کا مجموعہ), "راسخ عظیم آبادی”, (مونوگراف), "بہاری” (ترجمہ) وغیرہ شامل ہیں۔

پروفیسر لطف الرحمن نے اپنے تخلیقی سفر کا آغاز غزل گوئی سے کیا لیکن آگے چل کر خاصی غزلیں کہنے کے بعد انھیں تنگنائے غزل کا احساس ہوا اور وسعت بیاں کی ضرورت محسوس ہوئی۔ مرزا غالب کو بھی تنگنائے غزل کا احساس ہوا تھا:
بہ قدر شوق نہیں ظرف تنگنائے غزل
کچھ اور چاہئے وسعت مرے بیاں کے لئے
مرزا غالب نے احساس تنگنائے غزل کے اظہار پر ہی اکتفا کیا۔ انھوں نے نظموں کو وسیلۂ اظہار کے طور پر نہیں اپنایا لیکن پروفیسر لطف الرحمن وسعت بیاں کے لئے نظم خصوصا نثری نظم کی طرف متوجہ ہوئے۔ نتیجتا "صنم آشنا” اور "راگ بیراگ” کی شکلوں میں ان کی نظموں کے مجموعے شائع ہوئے۔ یہاں یہ بات ملحوظ خاطر رہے کہ پروفیسر لطف الرحمن نے بھلے ہی نظم کو تخلیقی اظہار کا وسیلہ بنایا اور خوبصورت و موثر نظمیں بھی لکھیں، لیکن اس کے باوجود ان کی بنیادی اور اہم شناخت ایک غزل گو شاعر کی ہے۔ ان کی غزلوں کے دو مجموعے شائع ہوئے۔ ایک "تازگی برگ نوا”۔ اس کی اشاعت 1977ء میں عمل میں آئی۔ دوسرا "بوسۂ نم”۔ یہ مجموعہ 2007ء میں شائع ہوا۔ میرے پیش نگاہ ان کا یہی دوسرا مجموعہ ہے۔
یہ مجموعہ یعنی "بوسۂ نم” 258/صفحات پر مشتمل ہے۔ اس میں ڈیڑھ سو سے زائد غزلیں شامل ہیں۔ ان غزلوں کے مطالعے سے جو تاثر قائم ہوتا ہے، وہ یہ کہ پروفیسر لطف الرحمن اپنے عہد کے منفرد طرز کے ممتاز غزل گو شاعر ہیں۔
پروفیسر لطف الرحمن کا شمار 1960ء کے بعد کے جدید غزل گو شعراء میں ہوتا ہے۔ جدید شاعری پر ہمیشہ سے یہ اعتراضات کئے جاتے رہے ہیں کہ جدید شاعری یعنی 1960ء کے بعد کی شاعری تنہائی، اداسی، افسردگی، ویرانی، ذات کا خلا، زندگی کی لغویت و مہملیت، بے سمتیت اور بے معنویت جیسے چند موضوعات تک محدود ہوگئی تھی اور نامانوس علامتوں و استعاروں میں گھر کر غیرضروری ابہام کا شکار ہوگئی تھی۔ یہی وہ عہد ہے جب کچھ شعراء نے فیشن زدہ جدیدیت کو اپنایا اور اپنی شاعری کو معمہ اور چیستاں بنادیا، لیکن پروفیسر لطف الرحمن کا کمال یہ ہے کہ انھوں نے اپنی شاعری کو نام نہاد جدیدیت کی بھینٹ چڑھنے نہیں دیا۔ دراصل پروفیسر لطف الرحمن تخلیق کار کی حیثیت سے آزاد اور کھلے ذہن کے حامی تھے۔ وہ سکہ بند جدیدیت کے مطلق قائل نہیں تھے۔ زندگی کو ایک خاص عینک سے دیکھنا اور اپنی شاعری کو چند مخصوص موضوعات و اسالیب تک محدود رکھنا انہیں قطعی گوارا نہیں تھا۔ انھوں نے ایک جینوئن تخلیقی فنکار کی نظر سے زندگی کو دیکھا اور ہر پہلو، ہر زاویہ سے اس پر غوروفکر کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی غزلیہ شاعری کے موضوعات و اسالیب میں وہ فکری و فنی تنوع پایا جاتا ہے جو انہیں اپنے ہم عصروں میں انفراد و اختصاص عطا کرتا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں ذرا سی بات پہ آنگن کا کٹ گیا تھا درخت [راشد انور را شد کا شاعرانہ اجتہاد]- ڈاکٹر صفدر امام قادری )

پروفیسر لطف الرحمن کی غزلیہ شاعری میں روایت کا احترام، کلاسیکی رچاؤ، عصری حسیت، جدت و ندرت، معنویت و تہ داری، فکری گہرائی و گیرائی، سلاست و روانی، تہذیب و شائستگی، اظہار بیان کی پاکیزگی و سادگی، یہ تمام عناصر موجود ہیں جو ان کے لہجے کو وقار عطا کرتے ہیں اور انہیں ایک معتبر و ممتاز غزل گو شاعر کی حیثیت سے روشناس کراتے ہیں۔
پروفیسر لطف الرحمن 1960ء کے بعد کے اہم شاعروں میں ہیں۔ اس عہد کی سماجی زندگی کے تمام نشیب و فراز ان کی شعری فکر کے مرکز و محور رہے ہیں۔
پروفیسر لطف الرحمن کی غزلیہ شاعری کا امتیاز یہ ہے کہ ان کی شاعری میں سماجی مسائل نے بڑی خوبصورتی سے جگہ پائی ہے۔ عہد حاضر کا اضطراب و انتشار، اخلاقی اور مذہبی قدروں کازوال، رشتوں کا انہدام، انسانیت کا قتل عام، اس پر انسانی سماج کی مجرمانہ خاموشی، اجتماعی بے حسی و بے ضمیری، مصنوعی اور مشینی زندگی، غیر حقیقی سطح پر جینے کی مجبوری، باطل کی غیرمعمولی فتح، حق کی شکست، ظلم و ناانصافی، عدم مساوات و نابرابری، انسانیت کے خلاف بربریت و بہیمیت، یہ وہ سنگین سماجی مسائل ہیں جس نے شاعر لطف الرحمن کے دل کو زخمی کرکے انھیں شدید دکھ پہنچایا ہے۔ شاعر لطف الرحمن نے اپنی غزلوں میں اسی درد و کرب کا اظہار اپنے مخصوص اسلوب یعنی بوسۂ نم کے اسلوب میں کیا ہے۔

پروفیسر لطف الرحمن نے اپنے غزلیہ مجموعہ "بوسۂ نم” کی غزلوں کے حوالے سے ایک جگہ لکھا ہے:

"میری غزلیں میری باطنی خودکلامی کی صدائے بازگشت اور میرے تلخ و شیریں تجربات کی پردۂ سخن ہیں۔ میں نے اس صدی میں اپنی آواز کی تہذیب و تحسین کا بارگراں اٹھایا جو کامیو کے لفظوں میں مکروہ ترین انسانی جرائم کے ارتکاب کی صدی ہے۔ تشدد، انتشار، بے انصافی اور انسانی جرائم کے جو ڈرامے مسلسل کھیلے جارہے ہیں، انھوں نے میرے باطن کو مسلسل عذاب میں رکھا ہے۔ اس لئے میری غزلوں میں دکھ اور انتشار کا احساس زیادہ نمایاں اور گہرا ہے۔ میرے دکھوں کی نوعیتیں مختلف رہی ہیں، کچھ بے حد ذاتی دکھ جو مجھے بے حد عزیز رہے ہیں۔ کچھ انسانیت کے انتشار کا دکھ، اخلاقی اور مذہبی قدروں کے زوال کا دکھ، کچھ ضمیر حاضر کی موت کا دکھ، باطل کی فتح اور حق کی شکست کا دکھ، کردار کی کرائسس کا دکھ، چیز اور شئے کی سطح پر جینے والے اس پورے عہد کا دکھ جو مجھے بے جان مشین کا ایک بے جان پرزہ بنانے کی مسلسل کوشش کرتا رہا ہے۔ لمحہ لمحہ ٹوٹتے بکھرتے رشتوں اور ناطوں کے اس عہد میں حقیقی سطح پر جینے کی کوشش، ہر پل صلیب کو چومنے کا دکھ، تقلید اور پروکسی (Proxy) میں جینے والوں کی اس بے پناہ بھیڑ میں لہولہان ذائقوں کے ساتھ غیر حقیقی سطح پر جینے سے انکار اور اس کی مشکلوں سے مسلسل نبردآزمائی اور اس کے دردناک نتائج کا زخمی احساس- یہ سب کچھ اور سارا کچھ- غرض یہ کہ تلخ و شیریں تجربات کا ایک امتزاج ہے میری آواز، کہ میں نے ہر چیلینج کو قبول کیا ہے اور مثبت سطح پر اپنے منفرد ہونے کا ثبوت پیش کیا ہے جس نے مجھے روحانی مسرت و بصیرت عطا کی ہے”۔ (2)

پروفیسر لطف الرحمن کے اس طویل اقتباس کو نقل کرنے کا مقصد ان کی غزلیہ شاعری کے فکری ابعاد کو دکھانا ہے کہ ان کی غزلیہ شاعری کا شعری تانابانا جدید عصری حسیت سے بنا گیا ہے اور اس کا خمیر عہد حاضر کی ویران، زخمی اور جھلسی ہوئی انسانی زندگی سے تیار ہوا ہے۔
پروفیسر لطف الرحمن نے اپنی غزلیہ شاعری میں عہد حاضر کی انسانی زندگی کے گوناگوں پہلوؤں کی ترجمانی کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی غزلیہ شاعری ہمیں سماجی زندگی سے فرار نہیں سکھاتی، بلکہ عہد حاضر کی معاشرتی زندگی اور اس کی قدروں سے روبرو کراتی ہے۔ دیکھئے ان کی غزلیہ شاعری سماج کی تلخ حقیقتوں کو کس موثر پیرائے میں بیان کرتی ہے۔ ہمارے سماج میں بظاہر انسان، انسان سے قریب نظر آتا ہے لیکن حقیقتاً وہ بہت دور ہے۔ انسان، انسان کی محبت و قربت کے لئے ترس گیا ہے۔ اب انسانی تعلقات میں پہلے جیسی استواری اور گرمجوشی نہیں رہی۔ دیکھئے شاعر لطف الرحمن نے اس تلخ حقیقت اور درد وکسک کا اظہار کس خوبصورت اور موثر غزلیہ پیرائے میں کیا ہے۔

اب اتنی محبت بھی غنیمت کی طرح ہے

ہر ایک ملاقات، عنایت کی طرح ہے

وہ بھی تو اسی شہر میں رہتا ہے رفیقو!

لیکن یہ تعلق جو مسافت کی طرح ہے

آج انسانی زندگی سے اپنائیت ختم ہوگئی ہے۔ اس کی جگہ بیگانگی نے لے لی ہے۔ شاعر لطف الرحمن کے یہاں طنز کی آمیزش کے ساتھ اس پہلو کا اظہار ملاحظہ ہو:

اتنی بے گانہ وشی کس سے ہے لطف الرحمن

آشنا لوگ وہی شہر کا منظر ہے وہی

آج کی مصنوعی، میکانکی اور مشینی زندگی نے انسان کو غیر حقیقی سطح پر جینے پر مجبور کردیا ہے۔ انسان اس طرح بھیڑ کا حصہ بن گیا ہے کہ اس کی اپنی کوئی ذات، کوئی ہستی نظر نہیں آتی۔ اس کرداری بحران کی اذیت پروفیسر لطف الرحمن کے غزلیہ پیرائے میں ملاحظہ فرمائیں:

اپنی آواز بھی اب لوٹ کے آتی کب ہے

ہم سا اس شہر میں بے نام و نشاں کیا ہوگا

ہمارے معاشرے کا اس سے بڑا المیہ کیا ہوگا کہ اس میں بے ضمیری و بے حسی عام ہوگئی ہے۔ مکاری و عیاری کو مقبولیت و محبوبیت حاصل ہے۔ وفاداری جو عظیم انسانی قدروں میں ہے، خسارہ کا سامان بن گئی ہے۔ دیکھئے پروفیسر لطف الرحمن نے اس المناک سماجی پہلو کو کس طرح غزل کا پیرہن عطا کیا ہے۔

لوٹا کے بھی لے جاؤں کہاں جنس وفا کو

مایوس خریدار ہوں، رہزن مجھے دینا

باطل طاقتیں ہمیشہ سے حق و صداقت سے برسرپیکار رہی ہیں۔ آج بھی ہمارے سماج میں باطل طاقتوں کا اس قدر بول بالا ہے اور وہ حق و صداقت کو اس طرح کچلنے میں مصروف ہیں کہ ارباب علم و دانش انگشت بدنداں ہیں۔ باطل کے حق سے برسرپیکار ہونے کے نتیجہ میں کرب و بلا کا معرکہ آج بھی جاری ہے۔

پھر وہی معرکۂ کرب و بلا ہے کہ جو تھا

سینۂ حق ہے وہی، ظلم کا خنجر ہے وہی

دست قاتل بھی پشیماں، سرمقتل بھی نگوں

نوک نیزہ وہی، سج دھج وہی، تیور ہے وہی

آج یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ ہمارے عالمی سماج میں بے انصافی عام ہوگئی ہے اور اس قدر سنگین رخ اختیار کرگئی ہے کہ لفظ انصاف، خود انصاف کی بھیک مانگتا ہوا نظر آرہا ہے۔ دنیا کی عدالتوں میں عدل و ا‌نصاف کی کھلے عام دھجیاں اڑائی جارہی ہیں۔ اس دردناک صورت حال کی تصویرکشی پروفیسر لطف الرحمن کے غزلیہ اشعار میں ملاحظہ فرمائیں۔

اب کج کلاہیوں کو بھی روئیں گے حرف حق

اب ہر ہوس پرست ہوا صاحب کلاہ

دیکھ ایوان عدالت کی سیہ پوشی بھی دیکھ

جرم کی بنیاد تھی دستور میں ڈالی ہوئی

آج ہم اس تلخ سچائی سے بھی آنکھیں نہیں چراسکتے کہ آج کے عالمی معاشرے میں کئی وجوہ سے انسانی زندگی غیرمحفوظ نظر آتی ہے۔ ہر جگہ اور ہر سماج میں تشدد پسند عناصر کا غلبہ ہوتا جارہا ہے۔ اس کی وجہ سے انسانی معاشرہ میں فتنہ و فساد کا ایسا سیلاب آتا ہے کہ شہر کے شہر کو تباہ و برباد کرکے اس کی تہذیب کو بھی ملیامیٹ کردیتا ہے۔ اس تباہی و تاراجی کے منظر کو دیکھنے اور اس پر رونے کے لئے اب انسان کی آنکھوں میں آنسو بھی نہیں بچے ہیں۔ اس صورت حال کی مرقع کشی شاعر لطف الرحمن کے درج ذیل غزلیہ اشعار میں ملاحظہ ہو۔

کیا کیا نہ میرے شہر سے سیلاب لے گیا

تہذیب لے گیا، مرے آداب لے گیا

آنکھوں کو ایک عمر سے آنسو نہ مل سکے

ان پتھروں کے رخ سے کوئی آب لے گیا

آج انسانی زندگی کی نوعیت و حقیقت کیا ہے؟ انسان کس طرح اور کن اذیتوں کے ساتھ زندگی سہنے پر مجبور ہے؟ اس کی دلچسپ مصوری پروفیسر لطف الرحمن کے درج ذیل غزلیہ اشعار میں ملاحظہ ہو۔

کردہ ناکردہ گناہوں کی سزا ہو جیسے

زندگی قرض کی صورت میں ادا ہو جیسے

اتنے تاراج نہ تھے آنکھ کے منظر پہلے

یہ شب درد، مرا شہر وفا ہو جیسے

مجھ سے ہرگام پہ سجدوں کی طلب کرتے ہیں

تیری دنیا میں ہراک شخص خدا ہو جیسے

پروفیسر لطف الرحمن کے یہاں غم اور دکھ پر مبنی اشعار کے پہلو بہ پہلو حسین رومانی اشعار بھی ملتے ہیں جن میں زندگی کی خوبصورت ادائیں نظر آتی ہیں۔

جو کچھ ہے اس عارض و گیسو کا عکس ہے

جو دل کشی جو حسن مری داستاں میں ہے

سوجائے گا دل پھر تری یادوں سے لپٹ کر

بام و در و دیوار پہ تنہائی رہے گی

پروفیسر لطف الرحمن کے یہاں کچھ ایسے اشعار بھی ملتے ہیں جو آج کے سماجی سیاق میں بے حد تازہ اور معنی خیز نظر آتے ہیں۔

خلق پر جانے کیا گذر جاتی

وہ اگر واقعی خدا ہوتا

ہم کہ سادہ دل سہی لیکن سمجھتے خوب ہیں

اس نے کس عنوان کس پہلو سے کب دھوکا دیا

پروفیسر لطف الرحمن کی غزلیہ شاعری کے مطالعہ سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ ان کی شاعری کا مرکزی تصور، انسانی تباہی کے خوف کا احساس ہے۔ پروفیسر لطف الرحمن بہ حیثیت شاعر انسانیت کی مثبت سرشت کے قائل ہیں۔ اس لئے وہ اپنی شاعری میں انسانیت کو گھن لگانے والے عناصر کی نشاندہی کرکے، بڑی طاقتوں کی لائی ہوئی بیماریوں کے علاج کے لئے بڑی سنجیدگی سے فکرمند دکھائی دیتے ہیں۔ اسی بات کو یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ بقائے انسانیت ان کے شعری فن کا بنیادی مسئلہ ہے۔
پروفیسر لطف الرحمن کی غزلیہ شاعری میں اخلاقی قدروں کا احترام ایک ایسی روشن لکیر ہے جس کی شکست و ریخت حقیقتا انسان کی تباہی و بربادی ہے۔ انہوں نے اپنی غزلیہ شاعری کے ذریعے اسی احساس کو جگانے اور انسان، انسانیت اور دنیا کی سالمیت کے خطرات کو آئینہ دکھا کر ذی ہوش اور دانش مند بنانے کا مشکل کام سرانجام دیا ہے۔

پروفیسر لطف الرحمن کی غزلیہ شاعری عصر حاضر کی میکانکی زندگی اور منتشر معاشرے میں مثبت اقدار حیات کی نایابی کی نوحہ خواں اور ان کی ازسر نو بازیافت اور ترویج و توسیع کی نغمہ گر ہے۔ ان کی غزلیہ شاعری جدید عصری حسیت سے لبریز ہے جو معاشرتی و تہذیبی تغیرات کی نشاندہی کرتے ہوئے قاری کو سماجی قدروں اور سماجی مسائل سے روبرو کراتی ہے۔

فنی اعتبار سے پروفیسر لطف الرحمن کی غزلیہ شاعری جداگانہ انداز و اسلوب کی حامل ہے۔ ان کی غزلیہ شاعری کا اسلوب، فطری پن اور بے ساختہ طرز اظہار سے عبارت ہے جس میں تصنع و تکلف کا کوئی گذر نہیں۔ سادگی، اظہار و بیان کی پاکیزگی اور سلاست و روانی ان کے اسلوب کے نمایاں اوصاف ہیں۔ ان کا لہجہ سنجیدہ ہے جو دھیما اور مدھم ضرور ہے مگر گمبھیر کیفیت کا حامل ہے۔ ان کے اسلوب میں سلگنے کی کیفیت ہے جو دھیرے دھیرے فکر کو آنچ دے کر سلگاتی اور منور و تاباں بناتی ہے۔

جدید غزل گو شعراء میں پروفیسر لطف الرحمن کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے نئے شعری تلازموں، نئی علامتوں اور استعاروں کا استعمال کرکے اظہار وبیان کے نئے امکانات کو روشن کیا اور اردو شعر و ادب کو فکر واحساس کی نئی منزلوں اور نئی وادیوں سے روشناس کرایا۔ ان کا شاعرانہ امتیاز یہ بھی ہے کہ ان کی غزلیہ شاعری کا مطالعہ کرتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ وہ سماجی سیاق کا ایک دلچسپ حوالہ ہے۔

پروفیسر لطف الرحمن کی غزلیہ شاعری میں فکر و نظر کی وسعت، انسان دوستی کا خمیر، تعمیر و ترقی کا آفاقی اور عالمگیر احساس، تعصب و تنگ نظری اور نفرت و حقارت کی تردید، یہ تمام ایسے عناصر ہیں جن سے ان کی شاعری مفکرانہ شان کی حامل نظر آتی ہے۔
پروفیسر لطف الرحمن کی غزلیہ شاعری کے مطالعہ سے یہ بات ابھر کر سامنے آتی ہے کہ ان کی غزلیہ شاعری میں فنی لطافت و دلکشی بھی ہے اور فکری توانائی بھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی غزلیہ شاعری فکری و فنی دونوں اعتبار سے قاری کی توجہ اپنی جانب مبذول کرنے میں کامیاب ہے اور یہی ان کی غزلیہ شاعری کی کامیابی بھی ہے اور اس کا امتیاز بھی۔ پروفیسر لطف الرحمن کی غزلیہ شاعری، انفرادی و امتیازی شان کی حامل ہے جو انھیں جدید غزل گو شعراء میں ایک اہم اور معتبر غزل گو شاعر ثابت کرتی ہے۔

حوالے:

(1) مولانا محمد ولی رحمانی، حرفے چند، مشمولہ، نقد نگاہ، از پروفیسر لطف الرحمن، تخلیق کار پبلشرز، نئی دہلی، 2006ء، ص: 12،13۔
(2) پروفیسر لطف الرحمن، دیباچہ، بعنوان: "حرف اور حکایت کے درمیان”، مشمولہ، بوسۂ نم، ناشر: حافظ محمد امتیاز رحمانی، اشرف نگر، مونگیر، 2007ء، ص:11، 12۔

 

 

(بہ شکریہ۔ قندیل آن لائن (https://qindeelonline.com/professor-lutfurrahman-ki-gazliya-shayeri-ke-fikri-wa-fanni-abaad-dr-ahmad-ali/))

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔
adabi meerasadabi miraasadabi mirasادبی میراثشاعریغزللطف الرحمن
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
ڈاکٹر حنیف ترین کی یاد میں : اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا – سہیل انجم
اگلی پوسٹ
معاصر تنقیدی رویے – ڈاکٹر جاوید رحمانی

یہ بھی پڑھیں

برگِ سخن کی بات ہے دل تھام لیجیے...

جنوری 31, 2026

نوجوان شعراء کی نئی نسل: سفر، سفیر اور...

اکتوبر 11, 2025

صاحب ذوق قاری اور شعر کی سمجھ –...

مئی 5, 2025

 ایک اسلوب ساز شاعر اور نثر نگار شمیم...

جنوری 20, 2025

حسرت کی سیاسی شاعری – پروفیسر شمیم حنفی

جنوری 15, 2025

غالب اور تشکیک – باقر مہدی

جنوری 15, 2025

غالب: شخصیت اور شاعری: نئے مطالعے کے امکانات...

دسمبر 17, 2024

غالب اور جدید فکر – پروفیسر شمیم حنفی

دسمبر 9, 2024

اردو شاعری میں تصوف کی روایت – آل...

دسمبر 5, 2024

غالب کی شاعری کی معنویت – آل احمد...

دسمبر 5, 2024

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (186)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (120)
  • تخلیقی ادب (596)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (20)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,049)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (537)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (219)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (407)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (218)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (25)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (478)
  • گوشہ خواتین و اطفال (100)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,136)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (34)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (899)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں