Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
تحقیق و تنقید

معاصر تنقیدی رویے – ڈاکٹر جاوید رحمانی

by adbimiras دسمبر 17, 2020
by adbimiras دسمبر 17, 2020 0 comment

پروفیسر ابو الکلام قاسمی کا نام محتاج تعارف نہیں۔ وہ اردو کے ممتاز نقاد ہیں اور ہمارے زمانے کی ادبی تنقید میں شمس الرحمن فاروقی، شمیم حنفی، وارث علوی اور وزیر آغا کے بعد سب سے پہلے جس نقاد پر نظر ٹھہرتی ہے وہ ابو الکلام قاسمی ہی ہیں۔قاضی افضال حسین اور قاضی جمال حسین بھی ان سے کم اہم نہیں ہیں مگر ان کی طرف فورا نظر اس لیے نہیں جاتی کہ وہ بہت کم لکھتے ہیں اور قاسمی صاحب کی طرح مجلسی بھی نہیں ہیں۔ ابو الکلام قاسمی کی حالیہ کتاب ’’معاصر تنقیدی رویے‘‘ہے۔یہ پہلے ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس سے شائع ہوئی تھی پھر قومی اردو کونسل سے .اس کتاب پر ان کو ساہتیہ اکیڈمی کا انعام بھی ملا .میری نظر میں قاسمی صاحب کی اس سے بہتر کتاب’’شاعری کی تنقید‘‘اور ’’تخلیقی تجربہ‘‘ ہے۔ حالاںکہ ’’شاعری کی تنقید‘‘ کے ابتدا ئیہ میں بھی انھوں نے ’’تنقیدی تصورات‘‘کو مشرق و مغرب کی تخصیص سے قطع نظر اپنی دلچسپی کا محور بتایا ہے مگر کامیاب وہ نظری تنقید کے مقابلے میں عملی تنقید میں زیادہ نظر آتے ہیں۔ان کے شعری تجزیے زیادہ کامیاب شاید اس لیے ہیں کہ ایک تو ان کا ذہن تجزیاتی ہے اور دوسرے یہ کہ بیشتر ان کے تنقیدی سفر کا آغاز تفہیم شعر کے عمل سے ہوتا ہے۔ انھوں نے ’’شاعری کی تنقید‘‘ میں لکھا بھی ہے کہ ’’اکثر ایسا ہوا ہے کہ میرا یہ ذہنی سفر تنقیدی اصطلاحات سے شروع نہ ہو کر تفہیم شعر سے شروع ہونے والا تھا۔میری بیشتر تنقیدی رائیں متن کی متنوع قرأت کے بعد مناسب اور موزوں تنقیدی تصورات سے اس کی ہم آہنگی کی صورت میں بنی اور بگڑی ہیں۔‘‘ ’’شاعری کی تنقید‘‘ اور ’’تخلیقی تجربہ‘‘اسی لیے زیادہ کامیاب کتابیں ہیں ۔ ’’معاصر تنقیدی رویے‘‘ میں انیس (۱۹)مضامین شامل ہیں جن میں چھ (۶) مضامین ایسے ہیں جو ادبی تنقید کی نظری بنیادوں اور اس کے مختلف اسکول سے متعلق ہیں۔ ایک قدیم شعر ی متون کے جدید تعبیری رویوں سے ،ایک تانیثی تنقید سے اور بقیہ مضامین میں حالی سے وہاب اشرفی تک مختلف نقادوں کے تنقیدی رویوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔یہ الگ الگ مضامین کا مجموعہ ہے جو مختلف وقتوں میں مختلف ضرورتوں کے تحت لکھے گئے اور مختلف انداز سے لکھے گئے مگر قاسمی صاحب اسے ’’ایک مربوط یک موضوعی کتاب‘‘کی حیثیت سے پڑھنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ان کو یہ احساس بھی ہے کہ ’’اس کتاب میں شامل مضامین اردو تنقید کی تاریخ کی بعض کڑیوں کے غیاب کا احساس دلا سکتے ہیں۔‘‘ مگر اس احساس کو وہ یہ لکھ کر بہلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ’’حقیقت یہ ہے کہ عنوان میں نظر نہ آنے والے بعض نقاد یا رویوں کی شناخت متعدد مضامین کے مطالعے کے دوران کی جاسکتی ہے۔‘‘ اس کتاب کا بڑا حصہ معاصر ادبی تنقید سے متعلق ہے اور معاصر تنقید کو نظریاتی مباحث سے کچھ زیادہ ہی دلچسپی ہے ۔ ابو الکلام قاسمی ،قاضی افضال حسین، گوپی چند نارنگ ،عتیق اﷲ، وزیر آغا، حامدی کاشمیری، وہاب اشرفی اور ناصر عباس نیر سب معاصر علوم کی بصیرتوں سے ادب کی تعبیر اور تجزیے میں مدد لینے کے مدعی ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ ادبی تنقید معاصر ہی نہیں بلکہ تمام علوم کی بصیرتوں سے ادب کی تعبیر اور تجزیے میں نہ صرف یہ کہ مدد لیتی ہے بلکہ ہمیشہ مدد لیتی رہی ہے مگر ایسے نقاد اردو میں انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں۔ عمومی منظرنامہ اردو تنقید کا بہرحال یہ ہے کہ ہمارے نقاد اپنی فکری قلاشی سے پیدا ہونے والے ابہام کو معاصر علوم کی بصیرتوں سے قارئین کی بے خبری کا نتیجہ بتادیتے ہیں۔ معاصر تنقید کے مفہوم اور مقصد کا دائرہ خواہ کتنا بھی وسیع کیوں نہ ہو وہ ادب کی اور ادیب کی تعیّنِ قدر کی ذمہ داری سے فرار حاصل نہیں کرسکتی۔ ناصر عباس نیّر بھی تعیّنِ قدر کو تنقید کا اولین فریضہ مانتے ہیں۔ انھوں نے اپنے مضمون ’لسانیات اور تنقید‘ میں لکھا ہے:

’’تعیّنِ قدر، تنقید کا اولین فریضہ ہے، مگر واحد فریضہ نہیں۔ توضیح، تعبیر اور تجزیہ بھی تنقید کے فرائض میں شامل ہیں۔ تنقید ان فرائض سے آگاہ تو ہوتی ہے مگر انھیں پورا کرنے کے وسائل نہیں رکھتی۔ یہ وسائل جن کی نوعیت باقاعدہ نظریات، عمومی بصیرتوں اور طریقِ کار کی ہے، تنقید کو اِدھر اْدھر سے، یعنی دیگر علوم سے حاصل کرنے پڑتے ہیں۔ لہٰذا ارسطو سے لے کر دریدا تک اور ہمارے یہاں حالی سے وزیر آغا اور گوپی چند نارنگ تک تنقید اپنے فرائضِ منصبی کی ادائیگی کے سلسلے میں معاصر علوم کی بصیرتوں کی طرف برابر راجع رہی ہے۔‘‘

(ص:۶۶، لسانیات اور تنقید)

ناصر عباس نیّر صاحب کا یہ فرمان سر آنکھوں پر، مگر پچھلے چند برسوں میں منظرِعام پر آنے والی تنقید کا بیش از بیش حصہ ایسا ہے جو ادب کی تفہیم میں معاون نہیں اور تعیّنِ قدر کا فریضہ بھی انجام نہیں دے سکتا اور مختلف قسم کے ادبی و سماجی نظریات سے اس حد تک بوجھل ہے کہ ادب کا عام قاری ہی اس سے خوف زدہ نہیں بلکہ ہمارے بڑے نقاد بھی اس فضا میں گھٹن کے تجربے سے دوچار ہوتے ہیں۔ اسی لیے شمیم حنفی صاحب نے ضرورت سے زیادہ نظری مباحث اور ادبی تصورات پر توجّہ صرف کرنے کو تنقید کا المیہ بتایا ہے۔ ابوالکلام قاسمی کہتے ہیں کہ بیسویں صدی کے نصف سے زیادہ عرصے تک جس تنقیدی طریقِ کار کا چلن عام رہا وہ ہیئتی تنقید کے مختلف رویّے ہیں۔ ان کی نظر میں گزشتہ برسوں میں یعنی مابعد جدید تنقید میں جو تنقیدی مباحث عام رہے ہیں ان میں ہیئتی تنقید کے حد سے بڑھے ہوئے میکانکی طریقِ کار کے خلاف ردِّعمل کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ یہاں پر سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ اگر کلیم الدین احمد اور شمس الرحمن فاروقی نے ہیئتی تنقید کے ’’اصولوں کو حتمیت اور قطعیت کے ساتھ اپنی تقریباً تمام تحریروں میں برتنے کی کوشش کی ہے‘‘ اور آل احمد سرور، اسلوب احمد انصاری، شمیم حنفی اور مغنی تبسم ’’ان سب کی تحریروں کا بڑا حصہ ہیئتی تنقید کے مختلف اصولوں اور پیمانوں کے انطباق پر مبنی ہے‘‘ تو مابعد جدید تنقید کے پاس ابھی تک کون سا ایسا بڑا نام ہے جو ان کے مقابلے میں پیش کیا جاسکے اور جس کا قد ان کی طرح نکلتا ہوا ہو؟ اگر ایسے دو ایک نام بھی نہیں تو کیا یہ مابعد جدید اردو تنقید کی کم مائیگی نہیں؟ ہیئتی تنقید کے جن قدآور نمائندوں کا حوالہ قاسمی صاحب نے دیا ان میں سے بیش تر کے بڑے کارنامے ۳۵۔۴۰سال کی عمر تک منظرِ عام پر آچکے تھے اور اس تنقیدی فکر کے علی الرغم جن تنقیدی مباحث کو رکھنے کا دعویٰ کیا جارہا ہے ان کے نمائندوں میں دور دور تک کوئی قابلِ ذکر نام نظر نہیں آتا۔ اس تنقید کے نظری مباحث پر تو بہت لکھا جارہا ہے مگر اس تنقید کے عملی نمونے کہاں ہیں؟ اور کس معیار کے ہیں؟ ابوالکلام قاسمی صاحب اس مسئلے پر غور نہیں کرتے اور اس تنقید کی نارسائی کا شکوہ کرنے والے نقادوں کے بارے میں لکھتے ہیں:

’’معاصر تنقید اور نظری مباحث کے اس ردِّعمل میں شمیم حنفی اکیلے نہیں ہیں۔ شمیم حنفی کے ساتھ وارث علوی اور فضیل جعفری کو بھی تنقید کی نئی تھیوریٹکل بحث و تمحیص سے اکتاہٹ ہوتی ہے۔ نئے ادبی نظریات اور علمی و فکری مسائل سے ان بالغ نظر نقادوں کا معاندانہ رویہ خود ان کی اپنی تنقیدی سرگرمی کو محدود کرنے کے مترادف بھی ہے اور تجسّس کے فقدان کا بھی پتا دیتا ہے۔‘‘ (ص:۲۸، معاصر تنقیدی رویّے، ۲۰۱۲ء، قومی اردو کونسل، نئی دہلی)

اگر وارث علوی اور شمیم حنفی کے یہاں تجسّس کا فقدان ہے تو ان کے بعد کے وہ کون سے نقاد ہیں جن کے یہاں تجسّس کی نشان دہی کی جاسکتی ہے اور جن کی تنقیدی سرگرمی ان کی طرح محدود نہیں؟ ظاہر ہے کہ دور دور تک ایسا کوئی نام نظر نہیں آتا۔ اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ قاسمی صاحب اپنے مضامین ’جدید اور مابعد جدید تنقید کی کش مکش‘، ’مابعد جدید تنقید: اصول اور طریقِ کار‘ وغیرہ میں طول طویل خیال آفرینیوں کے باوجود دو چار نمائندہ نقادوں کے نام بھی نہیں گنوا پاتے جن کے تنقیدی سرمایے سے مابعد جدید تنقید کے وزن و وقار میں اضافہ ہوا ہو۔ ایک گوپی چند نارنگ اور دوسرے دیویندر اسّر کا نام وہ ضرور لیتے ہیں مگر یہ نام مابعد جدید تنقید سے پہلے ہی اعتبار حاصل کرچکے تھے (جو کچھ بھی اعتبار ان کو حاصل ہے)۔ ان کو اعتبار ان تحریروں نے عطا نہیں کیا جو اس نام نہاد مابعد جدیدیت کی نمائندگی کرتی ہیں اور عرفان صدیقی اور اظہار الحق کے اشعار کا تجزیہ قاسمی صاحب نے جس انداز میں کیا ہے وہ بھی کچھ ایسا نیا اور بامعنی نہیں۔ قاضی افضال حسین نے بھی ’نصف صدی کی اردو شاعری میں مابعد جدید عناصر‘ کے عنوان سے 2001 میں جو مضمون لکھا تھا اس میں وہ ساسیور کے اس تصور پر کہ زبان ایک من مانا اور تفریقی نظام ہے، بہت زور دیا ہے اور یہ لکھتے ہیں:

’’دریدا کے نزدیک زبان کے اجزا کا یہ افتراقی ربط اصلاً زرخیز ہے۔ اس ربط سے معنی خیزی کی وہ جہات نمو کرتی ہیں جو لسانی نظام سے باہر کسی منصرم قوت کی پابند نہیں ہوتیں اور چوں کہ متن کی یہ لسانی منطق، سائنس یا فکر کی مستقیم اور مقصود اساس تعقلی منطق سے بالکل مختلف سطح پر فعال ہوتی ہے، اس لیے فرد یا معاشرے کے حوالے سے اس کی تحدید بھی ممکن نہیں ہوتی۔‘‘ (ص:۱۸۴، تحریر اساس تنقید، ۲۰۰۹ء، ایجوکیشنل بک ہاؤس، علی گڑھ)

یہاں پر سب سے پہلی بات تو یہ ذہن میں آتی ہے کہ ساسیور سے بہت پہلے جرجانی زبان کے نظام کو من مانا کہہ چکے ہیں۔ دوسری بات یہ کہ متن کی جس لسانی منطق کی فعالیت کو یہاں فرد یا معاشرے کی تحدید سے آزاد کہا گیا ہے اس کی رو سے تو تمام متون ایک معیار کے ٹھہریں گے جو ظاہر ہے کہ کسی نقاد کے لیے قابلِ قبول نہیں ہوسکتا۔ انھوں نے اس مضمون میں میراجی، ظفر اقبال، منیر نیازی، عرفان صدیقی، فرحت احساس، شفیق فاطمہ شعریٰ، سارا شگفتہ اور افتخار نسیم کی شاعری میں مابعد جدید عناصر کی نشان دہی کی ہے۔ ان ناموں کو مابعد جدیدیت کا نمائندہ تسلیم کرنا ہم میں سے بہت سے لوگوں کے لیے قابلِ قبول نہ ہوگا۔ اسی مضمون میں وہ لکھتے ہیں:

’’پچھلی نصف صدی میں نمائندگی کے بجاے متن کی تشکیلی قوت پر توجہ، وراے متن کسی منصرم قوت کی مرکزیت پر انحصار کے بجاے متن کے لسانی رابطوں سے نمو کرنے والی کثرت، تنوع اور ہمہ جہتی کو جو اہمیت بہ تدریج حاصل ہوتی جارہی ہے، وہ کسی بھی زبان کے لیے اطمینان بلکہ افتخار کی بات ہے۔ احتیاط صرف اس کی کرنی چاہیے کہ بہ قول دریدا فوقیت کی تمام شکلوں کا انکار کرتے ہوئے ہم تفوق کے نئے سلسلے نہ مرتّب کرلیں کہ متن کو التوا اور تفریق میں قائم کرنا بہت بیدار ذہن اور گہرے لسانی شعور کا تقاضا کرتا ہے۔‘‘ (ص:۲۰۰، تحریر اساس تنقید، ۲۰۰۹، ایجوکیشنل بک ہاؤس، علی گڑھ) ( یہ بھی پڑھیں ابوالکلام قاسمی کا تنقیدی اختصاص – ڈاکٹر امام اعظم   )

یہاں پہلی بات تو یہ کہ اردو کی حد تک اس رویّے کو پچھلی نصف صدی تک پھیلانا بہت مشکل ہے۔ دوسری بات یہ کہ جیسے بیدار ذہن اور گہرے لسانی شعور کا تقاضا یہ کام کرتاہے وہ ہمارے یہاں کتنے لوگوں کے پاس ہے؟ اس سلسلے میں اب تک جو تحریریں منظرِعام پر آئی ہیں ان سے تو اس سوال کا بہت حوصلہ شکن جواب ملتا ہے۔ قاضی افضال حسین بھی اپنی کتاب ’’تحریر اساس تنقید‘‘ کے ’سرتحریر‘ میں لکھتے ہیں:

’’اردو میں چوں کہ ساختیاتی فکر اور اس سے منسوب طرزِ مطالعہ پر کبھی باقاعدہ گفتگو نہیں ہوئی اور جو ہوئی وہ اتنی مبتدیانہ تھی کہ پس ساختیاتی فکر اور اس سے مربوط لاتشکیلی تصورات کا سمجھنا سمجھانا ممکن ہی نہ تھا۔ البتہ لاتشکیلی موقف سے ماقبل کی ادبی تحریک ’جدیدیت‘ کے بیش تر مقدمات کی نفی ہوتی تھی تو دوستوں نے اس انتہائی زرخیز فکر کے اطلاقی تصور سے جدیدیت مخالف Camp کی شکل بنالی اور اپنی استعداد/ استطاعت سے بے خبر، ہر وہ شخص جسے اب تک اس کے حسبِ ہوس صلہ/ معاوضہ نہ ملا تھا، اس Camp کا حصہ ہوا۔‘‘ (ایضاً،ص:۹)

دنیا کی کوئی بھی فکر جب ایسے ہاتھوں کا کھلونا بن جائے، جن کی طرف قاضی افضال حسین صاحب نے اشارہ کیا، تو ہلاکت خیز ہی ہوتی ہے۔ اپنی اسی تحریر میں قاضی افضال حسین یہ بھی لکھتے ہیں:

’’اس میں شبہ نہیں کہ جدیدیت (Modernism) کی طرح، پس ساختیاتی فکر کے معاشرتی علوم پر اطلاق (مابعد جدیدیت) سے برآمد ہونے والے نتائج ہماری تہذیبی روایت اور اقداری نظام کے تصور سے ہم آہنگ نہیں معلوم ہوتے اور اس میں کوئی شک بھی نہیں کہ مغرب کے مقابلے میں مشرق کی تہذیبی روایت کہیں زیادہ زرخیز اور اخلاقی اقدار بہت مربوط اور ہمارے تصورِ کائنات کا منطقی نتیجہ ہیں۔‘‘

(ایضاً،ص ص:۹۔۱۰)

پھر محض اس لیے کہ ’’یہ پہلا موقع ہے، جب ساری دنیا کے معاشرتی علوم کو علم لسان سے مستعار تصورات/ signifiers کے ذریعے سمجھا اور بیان کیا جارہا ہے‘‘ کیا ضرور ہے کہ ہم ان ناقدین کو اس نظریے کی تفہیم و تعبیر کی ذمہ داری سونپ دیں جو بیدار ذہن اور لسانی شعور دونوں سے محروم ہیں اور مشرق و مغرب کی تہذیبی روایات سے بھی بیگانہ محض ہیں۔ زبان کی اس فکری قیادت پر خوش ہونے میں کوئی مضائقہ نہیں مگر اس قیادت کے لیے جیسا ذہن اور جیسی نظر چاہیے، پہلے وہ تو ڈھونڈ لیں۔ اس سے پہلے زبان کی اس فکری قیادت کا دعویٰ کیا ممولے کو شہباز سے لڑانے جیسا عمل نہیں ہے؟ اس میں شک نہیں کہ ان نظریات کی موجودگی سے کسی بھی تنقیدی تحریر میں ایک خاص قسم کی فکری دبازت کا احساس ہوتا ہے اور کسی تنقیدی تحریر میں فکری دبازت کی موجودگی نقاد کے وزن و وقار میں اضافہ بھی کرتی ہے مگر فکری دبازت ہی نقاد کی کامیابی کا واحد معیار نہیں۔ اس سے صرف اور صرف اس نقاد میں قاری کے زندہ ہونے کا ثبوت ملتا ہے اور بس۔ مگر اس قاری کو نقاد بننے کے لیے اس سے آگے بھی بڑھنا پڑتا ہے۔ اردو میں ہی نہیں عالمی منظرنامے پر بھی مابعد جدید نظریہ سازوں کے تمام بلند بانگ دعووں کے باوجود کتنے ایسے ادبی نقاد ہیں جن کے ادبی کارنامے آئی اے رچرڈس، ایف آر لیوس اور ایمپسن کے مقابلے میں رکھے جاسکتے ہیں؟ کیا صرف مقامی ثقافتوں پر اصرار اور دیسی واد کے نعرے کسی ادبی نظریے کی بزرگی کی ضمانت ہوسکتے ہیں؟ ثقافتی حوالوں پر اصرار کی بھی کوئی حد تو متعین ہونی چاہیے۔ ابوالکلام قاسمی لکھتے ہیں:

’’اردو میں ادبی تنقید کا آغاز ہی چوں کہ نوآبادیاتی مرعوبیت کے زیرِاثر ہوا تھا، اور چوں کہ مغرب میں ادب ہی کیا تمام علوم و فنون میں آفاقیت کا نعرہ سب سے زیادہ مقبول اور پسندیدہ رہ چکا تھا۔ اس لیے اس کے زیرِ اثر الطاف حسین حالی ہوں یا محمد حسین آزاد ان دونوں کے یہاں آفاقی اصولوں کی تلاش بنیادی، علمی اور ادبی مطالبہ بن کر ابھری تھی۔ مگر عبرت انگیز صورت تب سامنے آئی جب نصف صدی سے زیادہ عرصے کے بعد جدیدیت نے نوآبادیاتی ذہن کے مثالی معیارات کو آفاقی اصولوں کی حیثیت سے قبول کرلیا، گزشتہ دو تین دہائیوں میں نئے ادبی نظریات اور بعد جدید رویوں نے آفاقیت کے تصور پر محض سوالیہ نشان قائم نہیں کیے بلکہ اس کو مغرب کی تہذیبی برتری اور اپنے بنائے ہوئے اصولوں کو تسلط کی حدتک حاوی دیکھنے کی مغربی بالادستی کا نام دے کر یکسر مسترد کرنے کی کوشش کی ہے… مابعد جدید نقطۂ نظر رکھنے والے دانشور اور نقاد آفاقیت کے اس تصور کو بے معنی بھی قرار دیتے ہیں اور اس کے ممکنہ منفی نتائج کے اندیشوں سے بھی بے خبر نہیں ہیں۔ وہ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ علوم و فنون کے حوالے سے آفاقیت کا کوئی بھی تصور محض گورے امریکیوں کا اجارہ بن کر رہ گیا ہے، جو دوسری زبانوں، دوسری ثقافتوں، دوسری نسلوں اور دوسرے علاقے سے تعلق رکھنے والی اکائیوں کے تخلیق کردہ ادب کے لیے یکسر لایعنی ہے۔ چنانچہ یہیں سے مقامیت کے ساتھ ساتھ تہذیبی، جنسی اور نسلی سطحوں پر مختلف وحدتوں کی اہمیت پر اصرار بڑھ جاتا ہے اور ثقافتی سیاق و سباق ہر وحدت اور اکائی کے مطالعہ کا ادبی تناظر بن جاتا ہے… نوآبادیاتی عہد میں تقریباً سو سال سے زیادہ عرصے تک ہندستانی زبانوں میں بالعموم اور اردو میں بالخصوص مغربی حکمرانوں کی مرضی، رہنمائی اور بالادستی کا ادب لکھا جاتا رہا، چناں چہ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس نوع کی ساری ادبی تحریروں کے سلسلے میں ایسے تنقیدی پیمانوں کی گنجائش نکالی جائے جن کی مدد سے نوآبادیاتی افراط و تفریط کی نشان دہی کی جاسکے اور فکری اور تہذیبی مرعوبیت کے عناصر کو پوری طرح بے نقاب کیا جاسکے۔‘‘ (جدید اور مابعد جدید تنقید کی کشمکش: معاصر تنقیدی رویے، ۲۰۱۲ء، قومی اردو کونسل، نئی دہلی، ص ص :۳۷ تا ۳۹)

اردو اور ہندی میں اِن دنوں نوآبادیاتی مباحث اور ڈی کولو نائزیشن کا آسیب کم و بیش ہر دوسرے یا تیسرے لکھنے والے کے اعصاب پر سوار ہے۔اس کی روشنی میں ’’فوقیت کی تمام شکلوں کا انکار‘‘ ہی نہیں کیا جارہا بلکہ تفوق کے نئے سلسلے بھی مرتّب کیے جارہے ہیں اور یہ کام بیش تر وہ لوگ کررہے ہیں جو اس کے اہل نہیں ہیں۔ پروفیسر شمیم حنفی نے بہت صحیح لکھاہے:

’’پندرہویں صدی کے یورپ کی تاریخ اور (۱۴۵۳ کی) اطالوی نشاۃِ ثانیہ کے سلسلے میں ایسا کوئی خلط مبحث یا اختلاف دکھائی نہیں دیتا، مگر ہندستان کی جدید تہذیبی نشاۃِثانیہ معنی کی ایک ساتھ کئی سمتیں رکھتی ہے۔ یہاں تک کہ بعض اصحاب اسے انیسویں صدی کے دائرے سے نکال کر قدیم ہندستان تک لے جاتے ہیں اور اس کی تہ میں کارفرما بعض بنیادی تصورات مثلاً لبرل ازم اور فکری رواداری سے دست بردار ہونے میں بھی انھیں کوئی قباحت نظر نہیں آتی اس ذہنیت نے ابھی حال ہی میں سر اٹھایا ہے، ہندی اور اردو دونوں زبانوں میں اور اس کی وجہ سے آزاد کے شعور کو پس منظر مہیا کرنے والا، ذہنی بیداری کا وہ دور جو ہندستانی زبانوں کے ادب میں نثر و نظم کی کئی صنفوں کے علاوہ ایک نئی ادبی حسّیت کے فروغ کا سبب بنا تھا، ایک طرح کی جذباتی انتہا پسندی اور عصبیت کا شکار ہوچلا ہے۔ فراق صاحب کا خیال تھا کہ ہندستانی زبانوں کے جدید دور کے ادب (جس کی شروعات انیسویں صدی سے ہوتی ہے) اپنے معیار اور محاسن کے لحاظ سے یورپ کے جدید ادب کی بہ نسبت یقینی طور پر کم مایہ اور حقیر ہے۔ اس دور کے سیاق میں ایک استثنائی صورت غالب کی شاعری بے شک فراہم کرتی ہے جو اپنے عالمی معاصرین یعنی فرانس کے بودلیر، روس کے پشکن، جرمنی کے ہائنے، انگلستان کے ورڈس ورتھ، شیلے اور کیٹس سے کسی بھی سطح پر کمزور نہیں ٹھہرتے۔ ورنہ تو ایک غالب کے علاوہ ہندستان کے جنوب یا شمال میں کسی بھی زبان کا کوئی لکھنے والا یورپ کے دوسرے اور تیسرے درجے کے مصنّفین کے سامنے بھی نہیں ٹھہرتا۔ لیکن پچھلے کچھ برسوں سے ایک جھوٹے افتخار یا پندار کو سہارا دینے اور اپنی کم مایگی پر پردہ ڈالنے کا جو رجحان سامنے آیا ہے اس نے اپنے دیسی واد کا ثبوت دینے اور کولونیل شعور کے جنجال سے نکلنے کی ایک آسان ترکیب یہ اپنائی ہے کہ جدید تہذیبی نشاۃِثانیہ کو بیداری کی جگہ ایک طرح کی غفلت کا نام دے دیا ہے۔ اس رویّے کا تعلق احیا پرستی اور قدامت پسندی کے میلانات سے ہوتے ہوئے، ایک نہایت محدود قسم کی قومیت سے جوڑا جاسکتا ہے۔‘‘ (شمیم حنفی، بازدید: مولانا محمد حسین آزاد کے لکچر نظم اردو اور کلام موزوں کے باب میں خیال پر‘ اردو ادب، جولائی تا ستمبر ۲۰۰۱ء، ص ص:۴۳۔۴۴)

شمیم حنفی صاحب نے اسی مضمون میں نشاۃِثانیہ کی تعبیرات کے سلسلے میں نامور سنگھ کی ایک دلچسپ تحریر سے یہ حصہ نقل کیا ہے:

’’نشاۃِثانیہ کا خیال آیا نہیں کہ تاریخی تخیّل نے پنکھ پھیلائے اور آنکھوں کے سامنے ہندستانی تاریخ کے اْفق پر ست رنگی دھنک کھل اْٹھی۔ یورپ کے پاس صرف ایک Renaissance ہے تو بھارت میں ذہنی بیداریوں (uotkxj.kksa) کی ایک لمبی قطار ہے۔ یہی نہیں بلکہ یورپ کے نوجاگرن میں بھارتیہ نوجاگرن کا ہی ہاتھ ہے جسے خود یورپ کے علما بھی تسلیم کرتے ہیں۔‘‘ (ایضاً، ص:۴۴)

یہاں نامور سنگھ رام بلاس شرما کے مقدمات پر طنز کررہے ہیں، جن کے خیال میں:

’’ہندی نشاۃِثانیہ کے پہلے مرحلے کا تعلق رگ وید سے ہے۔ نشاۃِثانیہ کی دوسری شکل اپنشدوں سے متعلق ہے۔ تیسری بھگتی تحریک سے اور چوتھی انیسویں صدی کی قومی بیداری کی تحریک سے جس کے دائرے میں برہمو سماج سے لے کر آریہ سماج، پرارتھنا سماج، رام کرشن مشن اور علی گڑھ تحریک تک، جدید تہذیبی نشاۃِثانیہ کے کئی رنگ سمٹ آئے ہیں۔‘‘ (ایضاً ص:۴۳)

ڈاکٹر رام بلاس شرما کے نشاۃِ ثانیہ کے تصور میں گوتم بدھ اور سنت کبیر کے لیے کوئی گنجائش نہیں، کیوں کہ ان کی وسیع المشربی اور آزاد خیالی کی تاب وہ مذہبی شدت پسندی اور تنگ نظری نہیں لاسکتی جس کے سائے میں رام بلاس شرما کی تربیت ہوئی ہے، جس کی عینک سے رام بلاس شرما اور ان کی طرح کے لوگ ہر چیز کو دیکھتے ہیں۔ ناصر عباس نیّر اپنی اس کتاب کے مقدمے (’شعریات اور تھیوری‘) میں لکھتے ہیں:

’’تھیوری اسی آزادانہ غور و فکر، آزاد مشربی کی نظری طور پر حامی ہے، جو ادب کی شعریات میں، اس کی روح میں جاری و ساری ہے۔ ادب مطلقات پر جس جرأت کے ساتھ سوال قائم کرتا ہے اور ہمارے لیے ایک نئی، تیسری دنیا ایجاد کرتا ہے، تھیوری نہ صرف ان سوالات کو، ان کے حقیقی سیاق میں نمایاں کرتی ہے، بلکہ خود بھی یقین رکھتی ہے کہ ہماری دنیا میں کوئی نظریہ طاقت کی جستجو سے خالی نہیں … تھیوری کا بڑا مقصد آزادی و نجات ہے، جسے ادبی متن کی معنی سازی کی جمالیاتی، لسانی، تہذیبی جڑوں کی دریافت سے انجام دیا جاتا ہے۔‘‘

(لسانیات اور تنقید۔ ص:۲۹)

اس خیال میں کشش تو بہت ہے مگر تہذیبی جڑوں کی نام نہاد دریافت پوری دنیا کو جس طرف لے جارہی ہے، جس کی ایک مثال آپ نے رام بلاس شرما کے نشاۃِثانیہ کے تصور میں ملاحظہ فرمایا، وہ بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ تھیوری کے مبلّغین کی شخصیتیں طاقت اور اقتدار کی جستجو سے کس حد تک خالی یا آزاد ہیں، یہ بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔ کیایہ محض اتفاق ہے کہ تھیوری کا غلغلہ جیسے جیسے بلند ہوتا جاتا ہے فسطائی طاقتیں ویسے ویسے مضبوط ہوتی جاتی ہیں حتیٰ کہ ہندستان جیسے ملک میں انتہائی فرقہ پرست اور فسطائی قوتیں مسند ِاقتدار پر قابض ہوجاتی ہیں؟ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ تھیوری کی طرف جیسے جیسے رجحان بڑھتا جاتا ہے فکری رواداری اور لبرل ازم کا رجحان کمزور پڑتا جاتا ہے؟ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ تھیوری کے بیش تر بڑے نمائندے ہندستان کی حد تک مذہبی شدت پسندی بلکہ تنگ نظری کی علمبردار ان تنظیموں کے حاشیہ بردار رہے ہیں جن تنظیموں نے حکومت بنانے کے لیے مذہب کی آڑمیں انسانی خون کی ندیاں بہائی ہیں اور انسانی لاشوں کے پہاڑ کھڑے کیے ہیں؟ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ دنیا ان لوگوں/ اداروں پر تنگ ہوتی جارہی ہے تھیوری کے پھیلاؤ کے ساتھ، جو انسانی حقوق کے انسانی مساوات کے داعی، علم بردار رہے ہیں؟ اگر یہ سب اتفاقات سے زیادہ کچھ نہیں تو بھی کیا یہ تغیر حال کو کافی نہیں ہیں اور ان کی موجودگی میں کیا ہمیں تھیوری کے تفاعل پر ازسرِنو غور نہیں کرنا چاہیے؟ یہ بھی دیکھیے کہ تھیوری کے علم برداروں کو بھی معتزلہ تفسیری روایت بالخصوص زمخشری میں بہت دلچسپی ہے (دیکھیے ص:۲۲، لسانیات اور تنقید) اور سرسیّد نے بھی معتزلہ تفسیری روایت بالخصوص زمخشری کی ’الکشّاف‘ کو اپنے جواز کے لیے استعمال کیا تھا (دیکھیے ص:۶۰، معاصر تنقیدی رویّے، ابوالکلام قاسمی) اور سرسیّد (جن کو بالعموم نوآبادیاتی نظام کا تابع مہمل بتایاگیا ہے) اور تھیوری کے علمبرداروں کا یہ اجتماع کیا تھیوری کے بھی نوآبادیاتی فکر سے رشتے اور مضبوط رشتے کی طرف اشارہ نہیں کرتا؟ ناصر عباس نیّر نے لکھا ہے:

’’معاصر تنقید کی امتیازی جہت، اس کا بین العلومی ہونا ہے۔ بین العلومیت ایک اعتبار سے موجودہ زمانے کی ’اے پس ٹیم‘ کی بھی امتیازی جہت ہے۔ لہٰذا آپ اْس وقت تک تنقید سے انصاف نہیں کرسکتے جب تک مختلف علوم کی ممتاز بصیرتوں اور ان کے طریقِ کار کا فہم نہیں رکھتے اور یہ فہم بھی تنقیدی ہونا چاہیے تاکہ بصیرتوں کو ادب کی تعبیر اور تجزیے میں اس طور استعمال کیا جاسکے کہ ادب کی بنیادی نہاد بھی قائم رہے اور بصیرتیں بھی مسخ نہ ہوں۔‘‘

قاضی افضال حسین بھی دنیا میں بین العلومی مطالعات کی مقبولیت کو انتہا پر بتاتے ہیں مگر اردو کی حد تک بہت کم لوگ تنقید کے موجودہ منظرنامے پر ایسے ہیں جو ادب کی بنیادی نہاد سے بھی واقف ہوں اور مختلف علوم کی ممتاز بصیرتوں اور ان کے طریقِ کار کا فہم بھی رکھتے ہوں، اسی لیے وہ بصیرتیں مسخ ہوجاتی ہیں جن کے مختلف علوم سے اخذ کرنے کا ہمارے یہاں ہرشخص مدعی ہے۔ تنقید کا مختلف علوم اور ان کی بصیرتوں سے شغف بڑھا ہے مگر ہمارے نقادوں کا کم ہوا ہے یا اگر بڑھا ہے تو اپنی زبان اور ادب کی قیمتوں پر! اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ اردو معاشرے میں اب سے ذرا پہلے تک جیسی قاموسی شخصیات کی گہماگہمی تھی، ویسی شخصیتیں اب نظر نہیں آتیں! اختصاص کا تصور ادب کے حصے بخرے کرنے کے درپے ہے۔ بین العلومیت کے نام لیوا اور ’موجودہ زمانے کی اے پس ٹیم‘ کا ورد کرنے والے تو بہت ہیں مگر کتنے ہیں جو ان کے مطالبات سے عہدہ بر آ ہو سکتے ہوں ،اپنے ادب سے اور معاصر علوم کی بصیرتوں سے عالمانہ واقفیت رکھتے ہوں؟ زیادہ تر ہمارے نوجوان ادب سے اور زبان سے اپنی عدمِ واقفیت کے پردے کے طور پر ان کا استعمال کرتے ہیں۔ اسی لیے تنقید کے نام پر مختلف و متضاد قسم کے نظریات کے ملغوبے نظر آتے ہیں جن میں قاری کا دم گھْٹتا ہے۔ جو ادب سے ہمارے رشتے کو مضبوط نہیں، کمزور کرتا ہے۔یہ نظریات سے ہمارا غیر معمولی شغف ہی ہے جو قاسمی صاحب سے کہلواتا ہے کہ ’’تقریباً سو سال سے زیادہ عرصے تک ہندستانی زبانوں میں بالعموم اور اردو میں بالخصوص مغربی حکمرانوں کی مرضی، رہنمائی اور بالادستی کا ادب لکھا جاتا رہا‘‘ اور جعفر زٹلی سے مولوی محمد باقر تک اردو شاعروں اور ادیبوں کی جو لمبی قطار ہے اس کی طرف دیکھنے اور ذرا رک کر یہ سوچنے نہیں دیتا کہ اگر ’’اردو میں بالخصوص مغربی حکمرانوں کی مرضی، رہنمائی اور بالادستی کا ادب لکھا جاتا رہا‘‘ توسب سے زیادہ اردو کے شاعر و ادیب ہی رسن و دار کی آزمائشوں میں کیوں مبتلا رہے؟ کس بات کی قیمت وہ اپنی جان دے دے کرچکاتے رہے ؟ پوری تحریک آزادی کی قیادت جس ایک زبان نے سب سے زیادہ کی وہ اردو ہے مگر اردو کا ایک ادیب یہ کہے کہ ’’اردو میں بالخصوص مغربی حکمرانوں کی مرضی، رہنمائی اور بالادستی کا ادب لکھا جاتا رہا‘‘ تو یہ بدنصیب زبان کس سے فریاد کرے ؟کلیم الدین احمد پر اپنے بے حد عمدہ مضمون ’’کلیم الدین احمد کی ناقدانہ انفرادیت‘‘ میں وہ کلیم الدین احمد کو ’’نوآبادیاتی ذہن کا مالک‘‘ بتانے کی غلطی بھی اسی لیے کرتے ہیں کہ تنقیدی نظریات خصوصاً جدید مغربی تنقیدی نظریات سے غیرمعمولی شغف انھیں غور و فکر کی مہلت نہیں دیتا اور ایک خاص زمانے کے کسی نقاد کے یہاں مغربی اصولوں پر اصرار یا مغربی نظریات کا کثرت سے حوالہ ان کے ذہن کو فوراً ’’نوآبادیاتی جارحیت‘‘ کا حکم لگانے کی طرف مائل کر دیتا ہے خواہ ان اصولوں اور حوالوں کی کتنی ہی مضبوط ادبی و جمالیاتی بنیادیں کیوں نہ موجود ہوں۔ انھوں نے ’’سردار جعفری کے تنقیدی رویّے‘‘ کے عنوان سے بھی ایک بہت عمدہ مضمون لکھا ہے جو ان کی اس کتاب میں بھی شامل ہے اور پروفیسر اصغر عباس کی کتاب ’سردار جعفری شخصیت اور فن‘ میں بھی۔ اس مضمون میں انھوں نے سردار جعفری کی تنقیدی تحریروں کو دو بڑے ادوار میں تقسیم کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’سردار جعفری کی تنقیدی تحریروں کو بڑی آسانی سے دو ادوار میں تقسیم کیا جاسکتا ہے، پہلا دور ترقی پسند تحریک کی ابتدا اور اس کے بعد کے بیس پچیس برسوں کا احاطہ کرتا ہے، جب کہ دوسرے دور میں ان کی ان تنقیدی تحریروں کو شمار کرنا چاہیے جو ’ترقی پسند ادب‘ کی اشاعتِ دوم (۱۹۵۷ء) کے بعد یعنی چھٹی دہائی کے آغاز سے ماضی قریب تک کی تقریباً چاردہائیوں پر مشتمل ہیں [ہے]۔‘‘ ( سردار جعفری کے تنقیدی رویے، ص ص:۱۵۷۔۱۵۸)

اس تقسیم کا سب سے بڑا منطقی جواز وہ سردار جعفری کے تنقیدی رویّے کا نمایاں فرق بتاتے ہیں۔ سردار جعفری کے تنقیدی رویّوں کے فرق پر روشنی ڈالتے ہوئے وہ لکھتے ہیں:

’’وہی تصوف، جو سردار جعفری کی پرانی تحریروں میں جاگیردارانہ معاشرے کی فرسودہ اقدار اور مابعد الطبیعیاتی حوالوں کے باعث وجدان اور دروں بینی کا زائیدہ نظر آتا تھا، ان شعرا کے حوالے سے عوامی اقدار کی بنیاد بن جاتا ہے… ترقی پسند ادب میں انھوں نے ’تصوف کو بے وقت کی راگنی قرار دیا تھا، اور ان کا خیال تھا کہ تصوف میں عوامی بھلائی کا کوئی تصور نہیں ملتا۔‘ مگر جب وہ کبیر اور میر کے حوالے سے تصوف اور بھگتی پر گفتگو کرتے ہیں تو ان کو تصوف، قرونِ وسطیٰ کی ایک اہم اور ہمہ گیر تحریک نظر آتا ہے۔ … سردار جعفری کی اس فکری تبدیلی سے اندازہ ہوتاہے کہ اردو شاعری کی روایت کے تئیں ان کے رویّے میں وسعت پیدا ہوئی ہے۔‘‘ ( سردار جعفری، تنقیدی رویّے، ص ص:۱۶۶۔۱۶۷)

یہاں پر میں مودبانہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ پروفیسر ابوالکلام قاسمی صاحب سے سہو ہوا ہے۔ سردار جعفری نے اصغر گونڈوی کی متصوفانہ شاعری کو بے وقت کی راگنی کہا تھا اس لیے کہ ان کی دانست میں اصغر کا عہد اشتراکیت کا عہد تھا جس میں تصوف کا سہارا لینا گویا اپنی ذمہ داریوں سے فرار حاصل کرنا تھا۔ چنانچہ ان کا کبیر اور میر کے حوالے سے تصوف اور بھگتی پر گفتگو کرنا اور تصوف کو قرونِ وسطیٰ کی ایک اہم اور ہمہ گیر تحریک بتانا ان کے رویّے یا نظریے میں تبدیلی کا اشاریہ نہیں۔ ’ترقی پسند ادب‘ کی دوسری اشاعت کے لیے انھوں نے جو دیباچہ لکھا ہے اس میں بھی انھوں نے لکھا ہے کہ:

’’تصوف قرونِ وسطیٰ میں جاگیرداری کے خلاف دست کاروں اور کسانوں کی فکری بغاوت ہے اور چوںکہ سرمایہ داری دور سے پہلے کی ساری بغاوتیں اور فکری نظام مذہبی لباس اختیا رکرتے تھے اس لیے تصوف کی بھی ظاہری شکل مذہبی ہے۔‘‘  (ترقی پسند ادب، ص:۱۴)

یہاں پر انھوں نے تصوف کی جو تعبیر کی ہے اس سے اختلاف کیا جاسکتا ہے مگر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ تصوف کی اہمیت کے ہی منکر تھے۔ یہ دیباچہ ۱۹۵۶ء میں لکھا گیا جس میں انھوں نے ۱۹۵۳ء کے اپنے چار توسیعی خطبوں کا بھی حوالہ دیا ہے کہ ان میں بھی اسی قسم کی باتیں کہی گئی ہیں۔ اسی دیباچے میں وہ یہ بھی لکھتے ہیں:

’’آج کا سماجی نظام کچھ اور ہے، طبقاتی کش مکش کی شکلیں مختلف ہیں… نصف دنیا اشتراکی نظام کے حلقے میں آچکی ہے۔ باقی دنیا میں اضطراب برپا ہے… ایسی صورت میں تصوف کی ساری قدریں جوں کی توں ہمارے لیے نئے نظامِ فکر کا حصہ نہیں بن سکتیں … میں تصوف کی عظمت کو تسلیم کرنے کے بعد بھی آج کے عہد میں تصوف کی اہمیت کا قائل نہیں ہوں۔‘‘ ( ترقی پسند ادب، ص:۱۵)

اس سے ظاہر ہے کہ سردار جعفری کا اعتراض فی نفسہٖ تصوف یا متصوفانہ شاعری پر نہیں بلکہ اصغر کی صوفیانہ شاعری پر تھا۔ اس سیاق و سباق میں کبیر اور میر کے حوالے سے تصوف کی اہمیت کا اعتراف ان کے رویّے کی تبدیلی نہیں۔ نیاز فتح پوری کو البتہ صوفیانہ شاعری سے بیر تھا۔ انھوں نے اصغر گونڈوی کے مجموعے ’سرودِ زندگی‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے صاف لفظوں میں لکھا کہ ’’یہ جھاڑ پھونک والی شاعری مجھے کبھی پسند نہیں آئی اور باوجود انتہائی غور و فکر کے آج تک اس کا مصرف میری سمجھ میں نہیں آیا۔‘‘ نیاز فتح پوری نے یہ بھی لکھا:

’’میں سچ کہتا ہوں کہ فارسی کے صوفی شعرا کی غزلوں میں بھی مجھے کوئی لطف نہیں آیا۔ اردو والوں کا کیا ذکر ہے کہ یہاں تو سوائے نقل و اتباع کے وہ برخود غلط جوش بھی نہیں جو ان کے یہاں پایا جاتاہے۔‘‘

(اصغر گونڈوی کا جدید مجموعۂ کلام ’سرودِ زندگی‘، انتقادیات، حصّہ اوّل، ص ص:۲۰۰۔۲۰۱)

نیاز فتح پوری کی رائے سے اتفاق بہت مشکل ہے مگر یہاں صرف یہ ظاہر کرنے کے لیے ان کی ان آرا کو نقل کیا گیا ہے کہ ان کے اور سردار جعفری کے تصوف یا صوفیانہ شاعری پر اعتراضات میں فرق یہ ہے کہ نیاز فتح پوری سرے سے صوفیانہ شاعری کے ہی قائل نہ تھے جب کہ سردار جعفری صوفیانہ شاعری کے تو قائل تھے مگر اپنے زمانے میں جس کو وہ اشتراکیت کازمانہ کہنا پسند کرتے تھے، صوفیانہ شاعری کی اہمیت کے قائل نہیں تھے۔

پروفیسر ابوالکلام قاسمی نے سردار جعفری کی جس فکری تبدیلی کا سراغ ۱۹۵۷ء کے بعد کی ان کی تحریروں میں لگایا ہے اس کے تسلیم کرنے میں سردار جعفری کی کتاب ’’سرمایۂ سخن‘‘ بھی مانع آتی ہے، اس کتاب/ لغت کا منصوبہ تو کچھ پہلے کا تھا لیکن سردار جعفری نے ’’پہلی جنوری ۱۹۶۹ء کو اس لغت کا پہلا لفظ لکھا۔‘‘ ( سرمایۂ سخن، ص:۴۰)

یہ کتاب بھی پوری طرح ترقی پسند نظریۂ ادب کی ترویج و اشاعت کا فریضہ انجام دینے کی کوشش کرتی ہے۔ اس کتاب کی ابتدا ’ترقی پسند ادب‘ کے ایک طویل اقتباس سے ہوتی ہے اس میں یہ حصہ بھی ملتا ہے:

’’اگر تجزیہ کیا جائے تو آخر میں ہر حسین چیز انسان کے مجموعی مفاد سے وابستہ نظر آئے گی (خواہ وہ سماجی اور جسمانی مفاد ہو خواہ ذہنی اور اخلاقی) جو چیز مفید نہیں وہ حسین نہیں ہوسکتی۔ پھول سے انسان نے بیج حاصل کیے ہیں اور بیج سے غذا (رنگ اور عطر بہت دیر میں حاصل کیے گئے ہیں) دریاؤں سے اس نے اپنی پیاس بجھائی ہے اور اپنے کھیتوں کو سینچا ہے اور موجوں کی روش پر سوار ہوکر مسافت طے کی ہے۔ شفق نور کی پہلی علامت ہے۔ وحشی انسان کی راتیں بڑی بھیانک ہوتی تھیں اور وہ اجالے کے لیے شفق کی پہلی سرخ لکیر کا منتظر رہتا تھا۔ قوس قزح (اندر دھنش) میں کمان کا لوچ اور خم ہے اور کمان کی ایجاد انسان کے تہذیبی، تمدنی اور سماجی ارتقا میں بہت اہمیت رکھتی ہے۔‘‘

(ص :۵۳، سرمایۂ سخن)

اس کو بعض لوگ پریم چند کے خطبۂ صدارت کی صدائے بازگشت بھی کہہ سکتے ہیں مگر وہ سخن بے موقع نہ تھا یہ بے موقع ہے۔ اور اس میں انسان کی جمالیاتی حس کی جیسی سطحی تعبیر کی گئی ہے وہ محتاجِ بیان نہیں۔ میں یہ بتانے سے قاصر ہوں کہ آپ میں سے کتنے لوگ قوس قزح کا نظارہ کرتے وقت کمان کے لوچ سے اس کے رشتے اور انسان کے تہذیبی، تمدنی اور سماجی ارتقا میں کمان کی ایجاد کو مدِنظر رکھتے ہیں یا آج جب راتوں کا تصور وحشی انسانوں کی راتوں کی طرح بھیانک نہیں، شفق کی پہلی سرخ لکیر سے کیوں مسرت کی کرنیں پھوٹتی ہیں۔ مگر اتنا ضرور کہہ سکتا ہوں کہ انسانی جمالیات اور افادیت کے جس راست رشتے پر یہاں اتنا زور دیاگیا ہے وہ اتنا سادہ اور راست نہیں ہے۔ اس اقتباس کا ایک حصہ یہ بھی ہے:

’’کارل مارکس نے یونانی آرٹ کے سلسلے میں بڑی حسین بات کہی ہے کہ ہم بچوں کی معصوم اور تصنّع سے خالی حرکتیں دیکھ کر بہت خوش ہوتے ہیں لیکن خود بچے نہیں بن سکتے۔ دوبارہ بچہ بننے کی کوشش بچکانہ اور مضحکہ خیز حرکت ہے۔‘‘ ( سرمایۂ سخن، ص:۵۱)

مارکس کے اس بیان کو وہ حسین تو پاتے ہیں مگر اپنے عزائم کے لیے شاید مفید نہیں۔ اسی لیے اس پر عمل بالکل نہیں کرتے جیساکہ اس اقتباس سے ظاہر ہے جو ہم نے اس سے پہلے نقل کیا۔ ’سرمایۂ سخن‘ میں اس کے فوراً بعد جو تحریر ملتی ہے وہ ’لحنِ داؤدی‘ کے عنوان سے ہے۔ اس کتاب میں تو اس پر تاریخِ تحریر درج نہیں مگر یہی تحریر ڈاکٹر محمد فیروز کی مرتّبہ کتاب ’’سردار جعفری کی نادر تحریریں‘‘ میں بھی شامل ہے اور اس میں اس کو ۱۹۶۷ء کی تحریر بتایا گیاہے۔ چند دل نواز نکتے اس سے بھی ملاحظہ فرمالیں:

’’جب شاعر اپنا کلام سنا سناکر … داد اور سند حاصل کرلیتا تھا تب کہیں جاکر دیوان مرتّب کرنے کی ہمت کرتا تھا۔ میرؔ اور غالبؔ کے دیوان ان کے شہرت حاصل کرلینے کے بعد لکھے اور چھاپے گئے ہیں۔۔۔ انیس اور دبیر کے مرثیے شائع ہونے سے پہلے منبر سے سنائے جاتے تھے اور ان کے سننے والے عام لوگ تھے۔ داغ اور امیر مینائی ہی نہیں اقبال بھی اپنا ابتدائی کلام مشاعروں میں سناتے تھے … اگر بعد میں انھوں نے اپنا کلام محفلوں میں سنانا ترک کردیا تو گانے والوں نے اسے عام کیا … صرف جگرؔ ہی نہیں بلکہ فراق گورکھپوری نے بھی اپنی شہرت مشاعروں سے حاصل کی۔ دراصل شاعری بنیادی طور سے گانے، سننے اور سنانے کے [کی] چیز ہے۔ (ترنم کے ساتھ اور بغیر ترنم کے) جو شاعری اس قابل نہیں ہے اس کا رشتہ عام انسانوں اور زندگی سے کٹ چکا ہے اور وہ اپنے جواز کے لیے یہ دلیل لارہی ہے کہ شاعری دراصل کتاب میں پڑھنے کی چیز ہے۔ وہ معمہ اور چیستاں ہے، جسے حل کرنے کے لیے سرکھپانے کی ضرورت ہے۔ چوںکہ وہ دلوں میں نہیں اْتر سکتی اس لیے دلیلوں کے سہارے زندہ رہنا چاہتی ہے‘‘۔ (ص ص:۶۷۔۶۸، سرمایۂ سخن)

اس اقتباس میں جو واقعات بیان کیے گئے ہیں ان کی صحت میں شک کی گنجائش نہیں مگر ان سے جو نتیجہ اخذ کرنے کی کوشش کی گئی ہے وہ درست نہیں۔ اور اگر اسے بطورِ کلّیہ تسلیم کرلیا جائے تو سب سے پہلے غالب کی شاعری اس الزام کی زد میں آجائے گی کہ اس کا رشتہ عام انسانوں اور زندگی سے کٹ چکا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس بات کو قبول کرنے پر کوئی آمادہ نہ ہوگا۔ یوں اس اقتباس میں بھی سردار جعفری کی طلاقتِ لسانی کی داد نہ دینا ناانصافی ہوگی۔ اور یہ سردار جعفری کی طلاقتِ لسانی اور ان کا زورِ خطابت ہی ہے جس نے اتنے لمبے عرصے تک ان کا طلسم قائم رکھا ہے۔ ان کی نثر جیسی شگفتہ اور دل نشیں ہوتی ہے اس کی مثال ان کے ہم عصروں میں مشکل سے ملے گی۔ ان مثالوں سے ظاہر ہے کہ سردار جعفری کی فکری تبدیلی اور اردو شاعری کی روایت کے تئیں ان کے رویّے میں وسعت و کشادگی کے تصورات مفروضہ محض ہیں اور ان کی پشت پناہی سردار جعفری کی تحریریں نہیں کرتیں۔ ہاں یہ ضرور ہوا کہ جب ترقی پسند ادبی تحریک کا شیرازہ بکھر گیا تو سردار جعفری کے رویّے میں بھی وہ اول عشق کی شدت باقی نہ رہ گئی اور انھوں نے یہ اعتراف بھی کیا کہ:

’’ترقی پسند تحریک اور انجمن نے اپنی انتہاپسندی کے دور میں جو غلطی کی وہ یہی تھی۔ وہاں (مثلاً ۱۹۴۹ء کی بھیمڑی کانفرنس میں) جو تجویزیں منظور ہوئیں اور جو بیان شائع کیا گیا اس میں مخصوص الفاظ کے بغیر یہ مفہوم تھا کہ ترقی پسند ادیب کے لیے مارکسسٹ ہونا ضروری ہے۔ اس نے اس قوس قزح کے رنگوں کو بکھیر دیا جس کے ایک سرے پر کمیونسٹ سجاد ظہیر تھے اور دوسرے سرے پر گاندھی وادی منشی پریم چند اور درمیان میں بہت سے اور رنگ۔ اس رجحان کے نظریاتی رہنما اردو میں ڈاکٹر عبدالعلیم اور ہندی میں ڈاکٹر رام بلاس شرما تھے۔‘‘

( ترقی پسند تحریک کی نصف صدی، ص :۱۰۴)

یہ اعتراف بھی سردار جعفری نے بہت دیر میں کیا، ان سے پہلے فیض، احمد ندیم قاسمی حتیٰ کہ سبط حسن بھی کرچکے تھے۔ اس اعتراف کے بعد ان کے رویّے میں اس حد تک نرمی البتہ آگئی کہ اب وہ جوش اور کیفی ہی نہیں بلکہ مجروح، زہرہ نگاہ، فہمیدہ ریاض، وحید اختر، افتخارعارف اور احمد فراز کی شاعری میں بھی ’’نیا خون جمال‘‘ دیکھنے لگے اور ترقی پسند افسانوی ادب پاروں میں پریم چند، علی عباس حسینی اور قاضی عبدالغفار ہی نہیں بلکہ کرشن چندر، راجندر سنگھ بیدی، احمد ندیم قاسمی، عصمت چغتائی، اوپندر ناتھ اشک، سہیل عظیم آبادی، خواجہ احمد عباس، سریندر پرکاش اور مہندر ناتھ وغیرہ کی کئی کہانیاں بھی انھیں ’نئے نظریۂ جمال‘ کی حامل معلوم ہونے لگیں۔ اقبال کے سلسلے میں ان کے رویّے کی تبدیلی کا تصور بھی حقیقی کم اور مفروضہ زیادہ ہے۔ اقبال کے ساتھ ترقی پسند ادب تک ہی نہیں بلکہ آخری وقت تک سردار جعفری کا رویّہ وہ تھا جس کو Love & hate relation کہہ سکتے ہیں۔ ’ترقی پسند ادب‘  میں بھی وہ اقبال کے قائل بہت تھے اور انھیں اقبال سے شکایتیں بھی بہت تھیں۔ ’اقبال شناسی‘ میں اس اقبال کے بیان پر سارا زور صرف کیا گیا ہے سردار جعفری جس کے قائل بہت ہیں اور شکایتیں شاید کچھ کم ہوئی ہیں لیکن بالکل ختم نہیں ہوئیں چنانچہ ’ترقی پسند تحریک کی نصف صدی‘ میں دبی زبان سے یہ شکوہ بہرحال کرتے ہیں:

’’اقبال کے یہاں مستقبل کی یہ بشارت یوٹوپیا کی خیالی جنت ہے۔ اپنی جوانی کے زمانے میں ان کا انداز رومانٹک تھا۔‘‘

( ترقی پسند تحریک کی نصف صدی، ص:۱۰۰)

اور اس اعتراف کے باوجود کہ نظم میں اقبال نے بلند تر مقام حاصل کیا، یہ شکایت بھی کرتے ہیں کہ:

’’خدا کے لیے بھی وہ داغ اور ذوق کی زبان استعمال کرلیتے ہیں۔۔۔ روایتی عاشقانہ اور رندانہ زبان نئے تخلیقی محاوروں اور شعری پیکروں کے مقابلے میں زیادہ مقبول ہے۔ اس مقبولیت نے شاعری کو بلند منزلوں کی طرف نہیں جانے دیا اور فکری عظمت کے دروازے بند کردیے۔‘‘ ( ترقی پسند تحریک کی نصف صدی، ص:۷۹)

یہاں یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ اقبال روایتی عاشقانہ اور رندانہ زبان کونئے تخلیقی محاوروں اور شعری پیکروں سے زیادہ اہمیت دیتے تھے، یہ سردار جعفری کا ایک ایسا مفروضہ ہے جس کی تائید اقبال کا معصوم سے معصوم قاری بھی نہیں کرسکتا اور سردار جعفری اردو اور فارسی شاعری کے پورے سرمایے پر نہایت گہری نظر رکھنے کے باوجود اس مفروضے کے اظہار میں عار محسوس نہیں کرتے۔ ’اقبال شناسی‘ میں اقبال پر جو تین مضامین شامل ہیں ان میں سب سے اہم وہ مضمون ہے جو ’شاعرِ مشرق‘ کے عنوان سے لکھا گیا ہے۔ اس سے سردار جعفری کی نہ صرف ادب بلکہ تہذیب و ثقافت اور اس کے جملہ مظاہر پر گہری نظر کا ثبوت ملتا ہے۔ وہ مسلمانوں کے تعلیمی اور معاشی مسائل پر ٹیگور کے تبصرے کا حوالہ دیتے ہیں اور ہندو اور مسلم احیا پرستی کے عمل پر بھی گفتگو کرتے ہیں اور لکھتے ہیں:

’’اس تاریخی صورتِ حال کا اثر اقبال کی ذہنی کیفیت پر ناگزیر تھا۔ جس طرح سوامی وویکانند اور آربندو گھوش کی حب الوطنی میں ہندو روحانیت کی آمیز ش تھی اسی طرح اقبال کی حب الوطنی میں اسلامی روحانیت کی آمیزش تھی۔ اس کے برعکس عمل ممکن نہیں تھا۔‘‘

( شاعرِ مشرق، اقبال شناسی، ص:۲۶)

اس مضمون میں وہ یہ بھی لکھتے ہیں:

’’اقبال نے فلسفے اور مذہب کی طرح اعلیٰ شاعری پر انسان اور کائنات کے باہمی رشتے کو تلاش کرنے کی ذمہ داری عائد کی تھی اس لیے زندگی کا کوئی پہلو ان کی شاعری سے خارج نہیں تھا۔ وہ ساری دنیا کو مخاطب کرنا چاہتے تھے۔‘‘  ( ایضاً۔ ص:۵۰)

اور اقبال کو ایک ایسا پیغمبر بتاتے ہیں جو بھلا دیا گیا لیکن اب اسے سمجھنے کی کوشش ساری دنیا کررہی ہے۔ وہ سردار جعفری کے خیال میں ’ہندوستان کا بھی اور پاکستان کا بھی اور سارے عالم انسانیت کا‘ شاعر ہے۔

اس کتاب کا دوسرا مضمون ’اقبال اور فرنگی‘ ہے، یہ مضمون حیدرآباد کے اقبال سمینار کے لیے لکھا گیا تھا اور عالم خوندمیری اور مغنی تبسم کی کتاب ’فکرِ اقبال‘ میں بھی شامل ہے۔ ڈاکٹر امتیاز احمد نے اقبال کے سلسلے میں سردار جعفری کی تحریروں میں ’ایک ارتقائی کیفیت‘ کا ذکر کیا ہے اور لکھا ہے:

’’ابتدائی تحریروں میں سردار کا رویہ اقبال کو رد کرنے کا ہے۔‘‘

اور ’ترقی پسند ادب‘ کا حوالہ دے کر بتاتے ہیں کہ اس کتاب میں سردار جعفری اقبال کو رد کرتے ہیں۔ یہ درست نہیں ہے۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے میں ’ترقی پسند ادب‘ کے حوالے سے   بتا چکا ہوں کہ اس میں بھی سردار جعفری نے اقبال کی اتنی ہی تعریف کی ہے جتنی وہ بعد میں کرتے رہے یا اقبال کا کوئی بھی شیدائی کرسکتا ہے مگر انھیں اقبال سے شکایت بھی بہت تھی اور ’ترقی پسند تحریک کی نصف صدی‘ میں بھی، جو اقبال شناسی کے بہت بعد لکھی گئی ہے، وہ اقبال سے شکوہ بھی کرتے ہیں۔ یعنی ان کا اقبال سے رشتہ ہمیشہ سے Love-hate relation جیسا ہی رہا ہے۔ ہاں! یہ ضرور ہوا کہ جیسے جیسے ادب اور ثقافت کا مطالعہ گہرا ہوتا گیا اقبال سے ان کی شکایتیں کم ہوتی گئیں۔ اس کتاب کا تیسرا مضمون ’اقبال کا تصورِ وقت‘ ہے۔ ہم نے حیدرآباد کے جس سمینار کا ابھی ذکر کیا تھا کہ اس کے لیے سردار جعفری نے اپنا مضمون ’اقبال اور فرنگی‘ لکھا تھا، اسی سمینار میں عالم خوندمیری نے اپنا مضمون ’انسانی تقدیر اور وقت اقبال کی نظر میں‘ پیش کیا تھا۔ بہت ممکن ہے کہ اس نے سردار جعفری کو اس موضوع پر مضمون لکھنے کی تحریک دی ہو۔ ان مضامین میں سردار جعفری کا جو رویہ رہا ہے اس کو ان کے اس بیان کی روشنی میں سمجھنا چاہیے:

’’اقبال مسلم بیداری کے شاعر تھے، اس میں ایشیائی بیداری شامل ہے۔ اقبال ہندوستان کی بیداری کے شاعر تھے، اس میں پوری تحریکِ آزادی شامل ہے اور اقبال عالم انسانیت کی بیداری کے شاعر تھے۔ اس میں اشتراکیت کی فتح اور کارل مارکس اور لینن کے افکار کی عظمت شامل ہے۔ اقبال کی دوسری اور تیسری حیثیت ان کی پہلی حیثیت کی تردید نہیں کرتی بلکہ ’میرے نزدیک‘ اس کی توثیق اور توسیع کرتی ہے کیوںکہ ہندوستان اور ایشیا کی مسلم بیداری عالم انسانیت کی بیداری کا ایک حصہ ہے۔‘‘ ( اقبال شناسی، ص:۱۱)

اسی کے ساتھ وہ یہ بھی ظاہر کردیتے ہیں کہ:

’’شاعرِ مشرق کی فکر میں بہت سے تضادات ہیں جو ان کے عہد کی دین ہیں۔ ان کا مطالعہ میری پیش نظر کتاب میں شامل نہیں ہے۔ یہاں صرف اتنا اشارہ کرنا چاہتا ہوں کہ ان تضادات سے اقبال کی عظمت اور اہمیت میں کمی نہیں ہوئی۔ اس قسم کے تضادات طالسطائی کے یہاں بھی ملتے ہیں جن کی طرف لینن نے اشارہ کیا ہے اور اقبال کے عظیم ہم عصروں کے یہاں بھی عام ہیں، لیکن ان پر کام نہیں کیا گیا ہے۔ میری کتاب کے تین مقالات میں اقبال کی فکر و شعر کے ان ترقی پسند پہلوؤں کی نشان دہی کی گئی ہے جن کے بغیر اقبال کی عظمت کا پورا راز سمجھ میں نہیں آسکتا۔‘‘ ( ایضاً۔ص:۱۲)

یعنی جو تبدیلی ہوئی ہے وہ یہ نہیں کہ سردار جعفری نے ان تضادات کو حل کرلیا جو ابتدائے عشق میں انھیں برافروختہ کرتے تھے بلکہ یہ ہے کہ وہ ان تضادات کو اقبال کے عہد کی دین سمجھنے لگے اور یہ تسلیم کرنے لگے کہ ان تضادات سے اقبال کی عظمت میں کمی نہیں آتی جیسا وہ پہلے سمجھتے تھے اور یہ کہ یہ تضادات دنیا کی بیش تر عظیم ترین شخصیات کی فکر میں موجود ہیں مگر ان کو اہمیت دے کر ان شخصیات کی نفی کا رویہ صحت مندانہ نہیں۔ اس بیان میں ’ترقی پسند پہلوؤں کی نشان دہی‘ کا فقرہ بھی توجّہ چاہتا ہے۔ اس کتاب کے دیباچے میں سردار جعفری نے ’اسرارِ خودی‘ کا دیباچہ بھی نقل کیا ہے ’جس سے اقبال کی فکری وسعت پر روشنی پڑتی ہے‘۔ ان تمام باتوں کی روشنی میں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اقبال کے بارے میں سردار جعفری کا رویّہ پہلے سے کچھ بہت مختلف ہوگیا تھا، ہاں یہ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ تجربات و مشاہدات کی گہرائی اور ترقی پسند ادبی تحریک کے بکھراؤ بلکہ تنظیمی سطح پر شکست نے سردار جعفری کے مطالبے کو خالص سیاسی نہ رہنے دیا اور وہ شاعری کا مطالعہ سیاسی کے ساتھ ساتھ ثقافتی زاویے سے بھی کرنے کی طرف مائل ہوئے اس طرح پارٹی لائن والی سختی کی جگہ تھوڑے سے لوچ نے لے لی۔ سردار جعفری میں اور دوسرے ترقی پسند ادبی نظریہ سازوں میں جو فرق ہے وہ یہ نہیں کہ سردار جعفری کے یہاں شدت بہت تھی اور ان نظریہ سازوں کے یہاں اعتدال بلکہ جو فرق ہے وہ یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک نے اسی نظریاتی شدت سے اپنا سفر شروع کیا جو کسی مبلغ میں پائی جاتی ہے مگر سردار جعفری نے اسی اول عشق کی شدت کو اپنا شعار بنائے رکھا اْس وقت تک جب تک کہ ترقی پسند تنظیم کا ڈھانچہ بکھر نہ گیا۔ ترقی پسند ادبی تحریک کی ابتدا میں فیض جیسا شاعر اور معتدل مزاج انسان بھی اس مبلغانہ جوش کا مظاہرہ کرتا ہے جو اس وقت اور اس تحریک کا تقاضا تھا۔ فیض نے ۱۹۳۸ء میں ادب کا ترقی پسند نظریہ کے عنوان سے ایک مضمون لکھا تھا، اس میں صرف ترقی پسند ادب کو نہیں بلکہ تمام ادب کو انھوں نے پروپیگنڈہ بتایا۔

فیض کے اس بیان سے کوئی اتفاق نہیں کرسکتا اور اس بیان میں وہی مبلغانہ جوش ملتا ہے جس کے لیے بعض ترقی پسند نقاد موردِ الزام ٹھہرائے جاتے رہے ہیں، لیکن ان میں اور فیض میں فرق یہ ہے کہ فیض کے یہاں صرف یہ مبلغانہ جوش ہی نہیں بلکہ یہ احساس بھی ہے کہ:

’’کیا ادب اور پراپگنڈا میں کوئی فرق نہیں ہے۔ پھر ہم سیاسی تقریروں اور صحافتی مقالوں کو ادب کیوں نہیں کہتے۔ اس لئے نہیں کہتے کہ ان میں ادب کی فنّی خوبیاں نہیں پائی جاتیں، ان میں بہ نفسہٖ کوئی ایسی چیز نہیں جو انھیں ادب بننے سے روکے۔۔۔ لیکن لکھنے والوں یا بولنے والوں کی بے احتیاطی، خامیِ اظہار یا قلتِ خلوص کی وجہ سے انھیں ادبی حیثیت نصیب نہیں ہوئی اسی لئے میں نے ترقی پسند ادب کی تعریف میں یہ بات شامل کرلی تھی کہ ترقی پسند ادب ترقی پسند ہی نہیں، ادب بھی ہے۔‘‘ ( ایضاً۔ ص:۲۲)

فیض نے نثر بہت تھوڑی لکھی ہے لیکن جو مضامین ان کے موجود ہیں وہ ادب اور ادبی مسائل پر فیض کی گہری نظر کا ثبوت دیتے ہیں۔ یہ جس زمانے میں لکھے گئے اس کو نظر میں رکھیں تو ان کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے۔ انھوں نے نظیر اور حالی کا جس طرح موازنہ کیا وہ ترقی پسندانہ ہوتے ہوئے بھی خالص ادبی بھی ہے، انھوں نے اقبال اور جوش پر جس طرح لکھا اس کی مثال نہ صرف یہ کہ اس زمانے میں بلکہ پوری ترقی پسند ادبی تنقید میں مشکل سے ملے گی۔ انھوں نے موضوع اور طرزِ ادا کے مسئلے پر جس طرح غور کیا اس کی مثال اب بھی کم یاب ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’اچھے ادب میں موضوع اور طرزِ ادا اصل میں ایک ہی شے کے دو پہلو ہوتے ہیں اور ان میں دوئی کا تصور غلط ہے، الفاظ اور ان کے معانی الگ الگ اور یکے بعد دیگرے نہیں ایک ساتھ اور بہ یک وقت ہم تک پہنچتے ہیں۔‘‘ ( میزان۔ ص:۶۵)

ترقی پسند ادبی نظریہ سازوں میں یہ بصیرت عام نہیں۔ فیض کے ساتھ ممتاز حسین اور سجاد ظہیر کے ہی نام ہم لے سکتے ہیں یا بہ مشکل دو ایک اور نام جن میں یہ بصیرت ملتی ہو۔ یہی دو تین نام ایسے بھی ہیں ترقی پسند ادبی تحریک میں جو ماضی کے ادب پر بھی گہری نظر رکھتے تھے۔ ڈاکٹر عبدالعلیم نے بھی لکھا ہے کہ:

’’مارکسی نقطۂ نظر کے مطابق موضوع اور ہیئت ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔ ان کو الگ کرکے اچھی طرح سمجھنا مشکل ہے۔ اگر ہیئت کو موضوع سے الگ کردیں تو اس کی خوبی پوری طرح ظاہر نہیں ہوتی، اسی طرح موضوع کے حسین اظہار کے لیے فنکارانہ ہیئت کا ہونا لازم ہے۔ یہ دونوں عناصر ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔‘‘

( مارکسی تنقید، مشمولہ تنقیدی نظریات، مرتّبہ احتشام حسین، ص:۲۲۹)

سرور صاحب کی اقبال شناسی اور احتشام صاحب کے تنقیدی رویے سے متعلق قاسمی صاحب کے مضامین یوںہی سے ہیں اور ان کے لیے بہت نرمی بھی اختیار کی جائے تو بھی کہنا چاہیے کہ ان کی شان کے شایاں نہیں ’’قدیم شعری متن اور جدید تعبیری رویے‘‘ بھی تشنہ مضمون ہے یہ نظم طباطبائی اور شمس الرحمن فاروقی کے گرد گھومتا معلوم ہوتا ہے اور اس میں صرف اس بنا پر کہ جعفر علی خاں اثر ،سید عبد اﷲ حتی کہ کلیم الدین احمد کے یہاں بھی میر کی سوانح کا حوالہ ملتا ہے ان سب کو محمد حسین آزاد کے انداز تعبیر کا اسیر بتا دینا کسی بھی زاویے سے مناسب نہیں معلوم ہوتا۔ اردو میں علم تشریح پر کچھ بہت اچھے مضامین لکھے جا چکے ہیں ان کی موجودگی میں قاسمی صاحب کا یہ مضمون بہت ہلکا معلوم ہوتا ہے۔حالاںکہ وہ عربی- فارسی بیک گراؤنڈ کے آدمی ہیں۔ اس لحاظ سے اس موضوع پر ان کے مضمون کو زیادہ بہتر ہونا چاہیے تھا۔ ’’نقد میر کے بدلتے ہوئے رویے‘‘ میں وہ شمس الرحمن فاروقی سے زیادہ اہمیت گوپی چند نارنگ کو دیتے ہیں جب کہ فاروقی کا میر پر کام (تمام اختلافات کے باوجود) نارنگ کے مقابلے میں بہت زیادہ وقیع ہے۔ نارنگ اور وہاب اشرفی پر لکھتے ہوئے قاسمی صاحب قلم کو علم بنالینے کا رویہ اختیار کر لیتے ہیں !یہ رویہ کسی بھی قابل ذکر نقاد کو زیب نہیں دیتا اور قاسمی صاحب کو تو با لکل ہی نہیں۔

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔
adabi meerasadabi miraasadabi mirasابو الکلام قاسمیادبی میراث
0 comment
1
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
پروفیسر لطف الرحمن کی غزلیہ شاعری کے فکری و فنی ابعاد (بوسۂ نم کے حوالے سے) ـ ڈاکٹراحمدعلی جوہر
اگلی پوسٹ
ہاؤس ہوسٹس – پروفیسر غضنفر علی

یہ بھی پڑھیں

کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس...

مئی 5, 2026

تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –...

جنوری 10, 2026

دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –...

جولائی 10, 2025

جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

جون 20, 2025

شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

دسمبر 5, 2024

کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –...

نومبر 19, 2024

کوثرمظہری کے نصف درجن مونوگراف پر ایک نظر...

نومبر 17, 2024

کوثرمظہری کا زاویۂ تنقید – محمد اکرام

نومبر 3, 2024

علامت کی پہچان – شمس الرحمن فاروقی

مئی 27, 2024

رولاں بارتھ،غالب  اور شمس الرحمان فاروقی – ڈاکٹر...

فروری 25, 2024

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (119)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں