Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
مرثیہ تنقید

کلیم عاجز کے شخصی مرثیے- ڈاکٹر سلمان فیصل

by adbimiras جنوری 1, 2021
by adbimiras جنوری 1, 2021 0 comment

پدم شری ڈاکٹر کلیم عاجز طرزِ خاص اور منفرد اسلوب کے حامل ایسے آفاقی شاعر ہیں جنھوں نے میرؔ کی سی زندگی گذاری اور جب سر میں سودا پیدا ہوا  اور دل میں تمنا بیدار ہوائی نیز ظاہری وباطنی چمن کی سیر کرنے لگے تو ان کے قلم سے شاعری کا جو چشمہ پھوٹا وہ بھی میرؔ کے بحرِ شاعری کا معلوم ہوا۔ گرچہ بقول کلیم عاجز انھوں نے میرؔ کی پیروی نہیں کی، انھوں نے کسی کی پیروی نہیں کی ،اگر پیروی ان کے مزاج میں ہوتی وہ غالبؔ کی پیروی کرتے۔ پھر بھی وہ کہہ گئے:

اس قدر سوز کہاں اور کسی ساز میں ہے

کون یہ نغمہ سرا میر کے انداز میں ہے

کلیم عاجز کی زندگی جس قدر میرؔ کی زندگی سے مشابہت رکھتی ہے اسی قدر ان کا فن بھی میر کے فن سے اپنا رشتہ ناطا جوڑنے کی کوشش کرتا ہے۔ کلیم عاجز نے اپنی نثر اور نظم دونوں میں میر کا ذکر بہت کیا ہے۔ بہر حال کلیم عاجز ایک الگ طرزِ خاص کے شاعر ہیں:

یہ طرز خاص ہے کوئی کہاں سے لائے گا

جو ہم کہیں گے کسی سے کہا نہ جائے گا

کلیم عاجز اپنی منفرد غزلوں اور غزل کے منفرد اسلوب کے باعث بہت مشہور و مقبول ہوئے۔ لیکن ان کی نظمیں بھی بلا کی پر کشش اور دلوں کو مسحور کرنے والی ہیں۔ انھوں نے اپنی غزلوں اور نظموں کے بارے میں لکھا ہے:

’’جو تعارف غزلوں کا ہے وہی نظموں کا بھی ہے۔ غزل اشارے ہیں نظم تفصیل ہے۔ نظم کسی خاص موضوع پر ہے مگر موضوع کی ٹکنک اس میں استعمال نہیں کی گئی ہے۔ بس خون جگر کو محدود نہ کرکے پھیلاد یا گیا ہے۔ غزل میں آپ تشبیہ دیکھتے ہیں۔ نظم میں آپ مکمل تصویر دیکھتے ہیں۔ جن الفاظ چراغ، شمع، درد، لہو سے غزلوں کا طلسم کھلتا ہے انھیں کلیدی الفاظ سے نظموں کا طلسم بھی ٹوٹے گا ۔۔۔۔۔خون جگر کی کارفرمائیاں یہاں بھی ہیں ۔ آپ غزل کا کوئی شعر پڑھ کر آنکھ بند کر لیں گے تو تصور میں ایک مکمل افسانہ یا کہانی کا نقشہ آجائے گا۔ نظموں میں آنکھیں بند کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی ۔ واقعات آپ کے سامنے ہوں گے اور الفاظ کے چوکھٹے میں صاف تصویریں آویزاں ہوںگی۔‘‘(کوچہ جاناںجاناں، کلیم عاجز ،عرشی پبلیکشنز انڈیا، اکتوبر ۲۰۰۲، ص:۷۹-۷۸)

کلیم عاجز کی شاعری کا جو ایک طرز خاص ہے اس میں خون جگر کو اولیت حاصل ہے۔ خون جگر اور نہاں خانے کا دردوغم ان کی شاعری کی معراج ہے۔ میرؔ کی طرح کلیم عاجز نے بھی درد وغم کی آپ بیتی کو جگ بیتی بنا یا ہے۔ کلیم عاجز کے دل میں درد ہر طرح کے تھے۔ اسی لیے وہ متعدد اہم شخصیات کی وفات پر دل برداشتہ بھی ہوئے اور دل کے اندر پیدا ہونے والی کشمکش ، تڑپ، حسرت و یاس اور کسک کو الفاظ کے سانچے میں ڈھال کر دل سے باہر نکالنے کی کوشش بھی کی ہے اور اسی کوشش میں انھوں نے کئی شخصی مرثیے لکھ ڈالے۔ ان کی کتاب ’’کوچہ جاناں جاناں‘‘میں یہ مرثیے شامل ہیں۔ یہ کتاب بھی اپنی نوعیت میں عجیب اور منفرد ہے۔ نہ تو مکمل شاعری اور نہ ہی مکمل نثر ہے۔ اس کتاب میں کلیم عاجز نے نعتوں، نظموں اور شخصی مرثیوں کو یکجا کیا ہے۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ ہر نعت اور نظم سے قبل اس کا تعارف اور پس منظر بھی بیان کیا ہے جس سے نظم کی تفہیم میں آسانی پیدا ہوتی ہے۔ اسی طرح نعتوں اور نظموں کا مقدمہ بھی الگ الگ تحریر کیا ہے۔  اس کتاب میں جن شخصیات پر  نظمیں شامل ہیں جنھیں شخصی مرثیے بھی کہا جاسکتا ہے وہ اہم شخصیات جگر مرادآبادی، مولانا ابواالکلام آزاد، امین احمد مرحوم، فضل حق آزاد، جواہر لال نہرو، سید حسن عسکری، وحشت کلکتوی، سہیل عظیم آبادی، جمیل مظہری، شاد عظیم آبادی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ان شخصیات پر آپ نے جو نظمیں لکھیں ہیں،در اصل دل کے اندر جو درد اٹھا اسے صفحہ قرطاس پر بکھیر دیا۔ اس کے علاوہ انھوں نے کچھ لوگوں پر فرمائشی نظمیں بھی لکھی ہیں جن میں قاسم صہبا جمیلی، کلیم الدین احمد، خورشید حسن، ٹیگور، منظور حسن اعجازی، ذاکر حسین وغیرہ شامل ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں جمیل مظہری کے مرثیوں میں قومی وملی عناصر – سمیہ محمدی )

دس دس مصرعوں والی تین بند پر مشتمل نظم ’’جگر مرادآبادی کی موت پر‘‘اس کتاب میں شامل پہلا شخصی مرثیہ ہے۔ اس نظم کو پیش کرنے سے قبل ایک طویل تمہید اور پس منظر ہے۔ تمہید میں فلسفیانہ بحث ہے جو تلاشِ حسن، طلبِ حسن، تخلیقِ حسن اور اظہارِ حسن کے اردگرد گھومتی ہے اور پس منظر میں جگر مرادآبادی کی شہرت اور اس دور میں غزل کے مخالفین کی دھمک کے دوران جگرؔ کی رحلت ، ان سب کا ذکر اور پھر تین بند کی نظم جس کی تاثیر دلوں کو جنجھوڑنے والی ہے۔ اس نظم میں غم کی شدت اور حرارت تیز و تند ہے۔ کلیم عاجز لکھتے ہیں:

اس نظم میں کہیں جگر صاحب کا نام نہیں لیکن اس وقت کے غزل کی مخالفت کا دور ترقی پسند شاعری کا ابھار عظمت اللہ خاں کا مطالبہ غزل کی گردن زدنی کا اور عندلیب شادانی کی مغربی شاعری کی صفات سے سجی ہوئی غزلیہ شاعری، اس ماحول میں عروس غزل کو اپنی پوری نکھار، پوری بہار، پوری سجاوٹ، پوری آرائش، پوری جھنکار کے ساتھ لیے جگر صاحب مشاعروں میں الاپتے پھرتے تھے۔ اس کی آنکھوں کی مستی، زلفوں کی مہک سے خود بھی مست رہتے تھے دوسروں کو بھی مست کرتے پھرتے تھے۔ یکایک عروس غزل کو بے یار و مدگار دشمنوں کے ماحول میں بے سنگار چھوڑ گئے۔ اس کی جوانی ،اس کا شباب، اس کی مستی، اس کا آب و تاب، اس کی شوخی، اس کا حجاب، اس کی آگ، اس کا سہاگ سب برباد ہو گیا۔(کوچہ جاناںجاناں، کلیم عاجز، ص:۱۳۹)

مذکورہ بالا اقتباس کے بعد نظم کے آخری بند کے آخری چارشعر ملاحظہ کیجیے جس میں کلیم عاجز نے غزل کے مخالفین کو للکارا بھی ہے :

شمع غزل بجھی جلا پروانۂ غزل

اب ہم ہیں اور لذت افسانۂ غزل

زلف سخن میں کون کرے شانۂ غزل

آئینہ توڑ کر گیا دیوانۂ غزل

اب کیا رہے گی حرمتِ کاشانۂ غزل

بے برہمن ہوا درِ بت خانۂ غزل

جتنے غزل شکن ہیں جہاں ہیں پکار دو

آجاؤ اب کھلی ہوئی گردن ہے ماردو

کلیم عاجز نے مولانا آزاد کو کبھی دیکھا نہیں کبھی سنا نہیں۔ جب مولانا آزاد کا ادبی دور عروج پر تھا اس وقت کلیم عاجز باشعور نہیں تھے جب کلیم عاجز باشعور ہوئے تو مولانا آزاد پوری طرح سیاست میں داخل ہوچکے تھے۔ لہٰذا کلیم عاجز نے ان کو ان کی تحریروں سے جانا جس کا ذکر انھوں نے ’’کوچہ جاناں جاناں‘‘ میںکیا ہے۔ مولانا آزاد کی وفات پر جو تصویر اخبارات میں شائع ہوئی اسی کو دیکھ کر کلیم عاجز کے دل میں جو طوفان برپاہوا اس کو انھوں نے رقم کردیا۔ وہ لکھتے ہیں:

’’جب وہ بستر مرگ پر تھے تو میں ان کے لیے دعائیں کر رہا تھا اور پھر آخر میں اخباروں میں جب ان کے انتقال کی خبر آئی اور خبر میں بستر مرگ کے آخری گھڑیوں کی جو مختصر لفظی تصویر اخبارمیں تھی۔ مولانا کے انتقال کے دوسری ہی صبح میں نے اپنے الفاظ میں منتقل کردی۔ شاید صبح صادق کے وقت مولانا کا سفر آخرت ہوااور اس وقت ان کے آس پاس اردگرد دائیں بائیں اور سرہانے جو لوگ تھے پنڈٹ جواہر لال نہرو اور مولانا حفظ الرحمن مرحوم اور ان کی اندرونی اور چہرے کی جو کیفیت اخبار میں تھی اور ان شخصیتوں کی ظاہری و باطنی کیفیات کی ایک تصویر ذہن میں بنائی اور انھیں الفاظ کے سانچے میں ڈھا ل دیا۔ (کوچہ جاناںجاناں، کلیم عاجز ، ص:۱۴۳)

مولانا آزاد پر لکھی گئی اس نظم کا ابتدائی بند ملاحظہ کیجیے:

رات کے پچھلے پہر کا وقت ہے

درد دل سوز جگر کا وقت ہے

امتحانِ چشمِ تر کا وقت ہے

کس کے سامان سفر کا وقت ہے؟

ایک عالم جب کہ محو خواب ہے

کون جانے کے لیے بیتاب ہے؟

مسدس میں کہی گئی اس پوری نظم میں کلیم عاجز نے اپنے اور لوگوں کے غم کی ترجمانی کی ہے۔ تصویر دیکھ کر تصویر کشی کی عمدہ مثال ہے۔ یہ بند ملاحظہ ہو:

سرنگوں بیٹھے ہیں احباب چمن

تابِ خاموشی نہ یارائے سخن

روشنی جس کی ہوئی ظلمت شکن

بجھتی جاتی ہے وہ شمع انجمن

اب جدا یہ ہمسفر ہونے کو ہے

قافلہ بے راہ بر ہونے کو ہے

’’امین احمد مرحوم کی موت پر ‘‘ تین بندوں پر مشتمل ایک مختصر سی نظم ہے۔ اس نظم سے قبل دو صفحے کا مختصر تعارف امین احمد مرحوم کا ہے جس میں کلیم عاجز نے ان کی شخصیت اور شبیہہ کی عکاسی کی ہے چونکہ کلیم عاجز امین احمد مرحوم سے متاثر تھے لہٰذا ان کی رحلت کی خبر ملتے ہی برجستہ اپنے خیالات کا اظہار اس نظم کی شکل میں کیا ہے۔ بہت ہی سہل اور آسان الفاظ و تراکیب پر مشتمل یہ نظم برجستگی میں کیا گیا اظہار عقیدت ہے۔

کلیم عاجز نے فضل حق آزاد پر ڈھائی تین گھنٹے کے مختصر سے وقفے میں ایک نظم کہی ہے جوان کے علم وفن کو محیط ہے۔ اس نظم میں فضل حق آزاد کے علم وکمالات اور فکروفن کو اختصار اور جامعیت کے ساتھ سمیٹنے کی کوشش کی گئی ہے۔ایک بندملاحظہ ہو:

نظر حسین تخیل وسیع فکر بلند

مشاہدات کی دنیا نظیرؔ سے دو چند

زبان عروض و قواعد کی ہر طرح پابند

بیاں کچھ ایسا سبک جیسے خوش خرام سمند

ہر اک قدم پہ صفائی کا سادگی کا لحاظ

جنچے تلے ہوئے جملے جنچے تلے الفاظ

فضل حق آزاد پر لکھی گئی اس نظم میں کلیم عاجز نے ان کی خوبیاں بیان کی ہیں اور ایک جگہ غلو سے بھی کام لیا ہے۔ مذکورہ بالا بند کے دوسرے مصرعے میں فضل حق آزاد کے مشاہدات اور قوت مشاہدہ کو نظیر اکبرآبادی سے دو چند بتایا ہے۔ یہ رائے کس حد تک صحیح ہے قابل غور اور محل نظرہے۔ اہل زبان وادب اچھی طرح جانتے ہیں کہ نظیر اکبرآبادی کا اردو ادب میں کیا رتبہ اور کیا مقام ہے ۔ ان کی قوت مشاہدہ کی غماز ان کی نظمیں ہیں جن میں پوری ہندوستانی تہذیب سمٹ آئی ہے۔ ( یہ بھی پڑھیں انیس کی عظمت – عتیق اللہ)

کلیم عاجز نے نہرو کا بھی مرثیہ برجستہ لکھا ہے۔ ریڈیو پر خبر سنی، شہر میں ہوٗ کا عالم دیکھا اور مرثیہ کہہ ڈالا۔

دیش کی دنیا کا رکھوالا دل کی دنیا لوٹ گیا

ایسا ساتھی پھر نہ ملے گا جیسا ساتھی چھوٹ گیا

نہرو پر لکھی گئی یہ نظم بھی کلیم عاجز کے دل پر لگی چوٹ کی غماز ہے۔ انھوں نے اس نظم کے تعارف میں لکھا ہے کہ ’’پوری پوری خارجی اور داخلی کیفیت جو میں نے خود محسوس کی اور دیکھی اور سنی وہ میرے قلم سے تقریباً قلم برداشتہ کاغذ پر ڈھل گئی جذبات اس نظم میں صرف ایک بند میں ہیں‘‘:

منزل تک پہنچاکر سب کو کس کا قدم منزل سے اٹھا

موجیں چھاتی پیٹ کے روئیں شور لب ساحل سے اٹھا

آنسو ہر ایک آنکھ سے ٹپکا اور دھواں ہر دل سے اٹھا

پیار کا بندھن کس نے توڑا کون بھری محفل سے اٹھا

آہوں کی آندھی چلتی ہے سنکھ پھنکا ہے نالوں کا

بازو تھر تھر کانپ رہاہے دامن تھامنے والوں کا

کلیم عاجز نے سہیل عظیم آبادی کا مرثیہ میرؔ کی زمین ’’کیا دوانے نے موت پائی ہے‘‘ میں کہا ہے۔ یہ مرثیہ سہل ممتنع کی عمدہ مثال ہے۔ عموماً کلیم عاجز کے تمام مرثیے سادگی وپرکاری کے حامل ہوتے ہیں لیکن اس مرثیہ کی سہل انگاری کچھ زیادہ ہی ہے جس کا مطلع ہے :

غم نے یوں گدگدی لگائی ہے          آنکھ ہر شخص کی بھر آئی ہے

پورا مرثیہ غزل کی ہیئت میں اسی سہل انگاری سے بھرا پڑا ہے اور مرثیے کا اختتام میرؔ کے مقطع پر ہوا ہے۔ دو چار اشعار ملاحظہ ہوں:

آنسوؤں کے ہیں قمقمے روشن

درد نے انجمن سجائی ہے

آب گنگ و جمن کے سنگم پر

آج ہنگامۂ جدائی ہے

پاس جیتے ہو دور مرتے ہو

کیا یہی رسم آشنائی ہے

تم نے مر کر پرائی بستی میں

چوٹ اپنوں کو جو لگائی ہے

علامہ جمیل مظہری کی رحلت پر ان کا مرثیہ کلیم عاجز نے انھیں کے مشہور شعر کی زمین میں کہا ہے۔ وہ مشہور شعر اس مرثیے کا آخری شعر بھی ہے۔ پورے مرثیے میں کہیں بھی جمیل مظہری کے نام کا تذکرہ نہیں اور نہ ہی ان کی طرف اشارہ ہے۔ صرف ایک شخصیت کے علم وکمالات کی پرتیں کھولی جارہی ہیں۔ اس شخصیت کے چلے جانے پر جو غم و اندوہ کی کیفیت کا عالم ہے اس کا بیان ہے اور آخر کے دو شعر کے ذریعے سارا بیان جمیل مظہری کی جانب موڑدیا جاتا ہے۔

جو نام پوچھا اک اجنبی نے کہا یہ بے ساختہ کسی نے

جنازہ یہ جارہا ہے جس کا یہ شعر مشہور ہے اسی کا

’’بقدر پیمانۂ تخیل سرور ہر دل میں ہے خودی کا

اگر نہ ہو یہ فریب پیہم تو دم نکل جائے آدمی کا‘‘

کلیم عاجز نے ان شخصیات کے علاوہ اور کئی شخصیتوں پر بھی نظمیں کہی ہیں۔ یوم شاد کے موقع پر شاد عظیم آبادی پر دو نظمیں کہی ہیں۔ اسی طرح پٹنہ یونیورسٹی میں اقبال صدی کے دوران یوم اقبال کے انعقاد کے موقع پر علامہ اقبال پر مولود اقبال کے عنوان سے ایک بہترین طویل نظم کہی تھی۔بالعموم کلیم عاجز کی ان تمام نظموں کا مطالعہ کیا جائے جو کسی شخصیت پر لکھی گئی ہیں تو وہ شخصی مرثیے کی صورت میں ظاہر ہوںگی۔ بالخصوص وہ نظمیں جو انھوں نے خود سے لکھی ہیں۔ جبکہ انھوں نے کئی نظمیں متعدد شخصیات پر فرمائش پر لکھی ہیں۔ اُن نظموں میں وہ بات نہیں جو ان مذکورہ بالا نظموں میں ہے۔ اس مختصرسے مضمون میں کلیم عاجز کی چند نظموں کا مختصراً تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔ ان کی نظموں کے تفصیلی تجزیے سے کئی جہتیں اور کئی زاویے ابھر کر سامنے آئیں گے ۔ضرورت ہے کہ ان کی نظمیہ شاعری کا بالاستعیاب مطالعہ کیا جائے جوکسی ایک مضمون میں ممکن نہیں ہے۔ بہر حال کلیم عاجز جس طرح غزل کے ایک منفرد شاعر تسلیم کیے گئے ہیں اسی طرح ان کی نظمیں بھی اپنی الگ شناخت رکھتی ہیں۔یہاں یہ بھی ذکر کردوں کہ کلیم عاجز کی نثر بھی بہت دلچسپ ہوتی ہے۔ ان کی نثر میں شعریت  کے لوازمات بھی پائے جاتے ہیں۔ اس کا مشاہدہ اس کتاب ’’کوچہ جاناں جاناں ‘‘ میں کیا جاسکتا ہے۔

٭٭٭٭٭

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔
adabi meerasadabi miraasadabi miraskaleem aajizتنقیدشاعریکلیم عاجز
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
قرأت اور مکالمہ – پروفیسر کوثر مظہری
اگلی پوسٹ
کبھی تو رنگ مِرے ہاتھ کاحنائی ہو – سفینہ عرفات فاطمہ

یہ بھی پڑھیں

غالب کا "سلام” – نسیم اشک

اپریل 21, 2022

’’مرثیہ‘‘ یعنی جذبۂ دردوغم کا شعوری اظہار(منظر وپس...

اگست 16, 2021

غالب کا ’مرثیۂ عارف‘: ایک تنقیدی تجزیہ –...

فروری 28, 2021

علامہ جمیل مظہری کی سلام نگاری – ڈاکٹر...

جنوری 8, 2021

محب اہلبیت گوپی ناتھ امن اور ان کا...

اگست 31, 2020

انیس کی عظمت – پروفیسر عتیق اللہ

اگست 12, 2020

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (119)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں