انیسویں صدی کا ہندوستان مسلمانوں کے لیے بہت پر آشوب دور تھا۔ ۱۸۵۷ کی بغاوت ایک ایسا سانحہ تھا جس کی و جہ سے مسلمانوں کے ذہن پر احساس مغلو بیت بری طرح چھا گیا تھا اس لیے وہ سیاسی،معا شی ،معاشرتی اور تہذیبی پستی میں گرتے جا رہے تھے۔کیونکہ غیر ملکی حکومت کے ساتھ غیر ملکی تہذیب و تمدن نے ہندوستان پر اپناقبضہ جما نا شروع کردیا تھااوریہاں کے مسلمان نہ صرف جسمانی طور پر انگریزوں کے غلام بنتے جارہے تھے بلکہ انھوں نے آزادانہ طور پر سوچنا و سمجھنا بھی تر ک کر دیا تھا۔انگریزی حکومت کے جبر و استحصال سے وہ مکمل طور پر ما یوس ہو کر ان کی غلامی کر نا اپنا فر ض سمجھ بیٹھے تھے۔اور ان کی تہذیب و تمدن کی نقالی میں ہی اپنی نجات سمجھنے لگے تھے۔صورت حال یہ ہو گئی تھی کہ مسلمان قوم کا ملک میں اپناکوئی مقام ہی باقی نہ رہا تھابلکہ وہ ملک میںسب سے زیادہ جاہل،پس ماندہ کمزور اور ذلیل شہری شمار کیے جانے لگے تھے۔اپنی قوم کی ایسی حا لت دیکھ کر اردو کے چند شعرا نے قوم کو بیدار کرنے ان کے اخلاق و اعمال کی اصلاح کرنے اور ان کو تر قی کی منزل کی طرف گامزن کر نے کی فکر کی۔ان میں الطاف حسین حالی،اکبرالہ آبادی اور علامہ اقبا ل کا نام اہمیت رکھتاہے۔میرایہاں’ اکبر الہ آبادی ایک مصلح قوم‘ سے متعلق بات کر نا مقصود ہے اس لیے غیرضروری باتوں سے احتراز کر تے ہوئے میں نے اپنا مضمون یہیں تک محدود رکھا ہے۔
اکبرالہ آبادی انگریزی دور اقتدار میں الہ آباد میں پیدا ہوئے۔ان کا اصل نام سیداکبرحسین تھا ۔ان کی ابتدائی تعلیم عام روایت کے تحت گھر پر ہی شروع کی گئی مگر اپنے شوقِ مطالعہ کے تحت نہ صرف انھوں نے انگریزی تعلیم سیکھی بلکہ مختلف شعرا کے کلام بھی پڑھ ڈالے۔اسی مطالعہ شوق نے بہت کم عمری ہی میں ان سے اشعار کہلوا ڈالے ۔انھوں نے مختلف اصناف سخن میں طبع آزما ئی کی۔ ان میںغزل،نظم،مثنوی،قطعہ اور رباعی وغیرہ شامل ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں نثری نظم : ہیئت اور تکنیک کی میزان- پروفیسر حنیف کیفی )
اکبر ا لہ آبادی نے اپنی شاعری کی ابتدا غزل گوئی سے کی۔ ان کے نزدیک شاعری کا مقصد زندگی کی تنقید اور اصلاح تھا۔ ہر اچھے شاعر کی طرح ان کے کلام کے بھی دو پہلو نظرآتے ہیں۔ جن میںایک پہلو کا تعلق ان کے ذاتی جذبات و احساسات سے ہے تو دوسرے کا قو می و ملی حسیات و کیفیات سے ہے۔انھوں نے جب اپنے ملک و قوم پرانگریزی حکومت کے اقتدار ، ان کے ظلم و ستم،جدید تعلیم کے رجحانات،ہندو مسلم اتحاد کے بکھراؤ اورخواتین کی بے پردگی دیکھی تو اپنے طنزیہ و مزاحیہ انداز میں اپنی شاعری کے ذریعے اپنی قوم پر تنقید کے تیر چلائے تاکہ اہل بصیرت اس سے عبرت حاصل کر یں اور اپنی اصلاح کر یں۔اس طرح اکبر ایک مصلح قوم ہو نے کے ساتھ ساتھ بحیثیت نقاد بھی ہمارے سامنے آتے ہیں۔کیو نکہ ان کے طنز و تمسخر تنقید کا کام کرتے ہیں۔اوران کی شاعری قوم کی رگوں میں دوڑرہے فاسد لہو کو نشترسے خارج کرنے کاکام کرتی ہے۔ اکبر چونکہ جانتے تھے کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو وہ لہو زہر بن کر رگوں میں گردش کرنے لگے گا۔ جس سے سرا سر نقصان خود اپنی قوم کا ہی ہوگا۔ کیونکہ انگریزوں کا مقصد تو اس لہو کو زہر ناک ہی بنانا تھا جبھی تو ان کا رعب و دبدبہ ہندوستانیوں پر اس قدر مسلط ہوتا جارہا تھا کہ اس کے زیر اثر ہندوستان کے لوگ کچھ بھی کر گزرنے کو ہمہ وقت تیار رہتے تھے :
طا قت فر یاد بھی مجھ میں نہ باقی رہ گئی
ظلم کرنا آپ کو مجھ پر اب آساں ہو گیا
انقلاب دہر دیکھا، بن گیا آقا غلام
قصر کا مالک جو تھا اب اس کا درباں ہو گیا
اکبر نے ان اشعار میں بتا یا کہ انگریزوں نے کس طرح لو گوں میں دہشت پھیلا کر ان کو خوف زدہ کر رکھا ہے۔اس لیے وہ ان کے ظلم و جبر کے خلاف کوئی آواز تک نہیں اٹھا تے ہیں۔اکبران اشعار کے ذریعے اپنی قوم کو واضح لفظوں میں یہ بتا دینا چاہتے ہیں کہ انگریز ہندوستان میں لوٹ مار مچا کر اپنی جیبیں بھر رہے ہیں مگر یہاں کے لوگ قحط کا شکار ہوکر بھو کے مر رہے ہیں۔اپنی قوم کی اس خستہ حالی سے اکبر کبھی کبھی اس قدر جذ باتی ہو جاتے ہیں کہ انھیں شاعری کے اصول و ضوابط بھی یاد نہیں رہتے:
جس روشنی میں لوٹ ہی کی آپ کو سو جھے
تہذیب کی میں اس کو تجلی نہ کہوں گا
لاکھوں کو مٹا کر جو ہزاروں کو ابھارے
اس کو تو میں دنیا میں تر قی نہ کہوں گا
اکبر سمجھتے ہیں کہ انگریزی حکمت عملی کی بدولت ہندوستانیوں نے اپنی بہت سے چیزوں کو ترک کر دیا ہے۔اپنا اخلاقی نظام جو بنی نوع انسان کے ہزاروں سال کے تجربات کا نچوڑ ہے وہ ختم ہوتا جا رہا ہے۔ اس کی جگہ زر پرستی،نفع اندوزی، رشوت خوری،بدیانتی،کینہ پروری اور غرض مندی نے لے لی ہے جس کی و جہ سے ہمارامعاشرہ علیل ہوگیاہے۔اس بیمار معاشرے کا علاج اکبر نے یہ بتایاکہ فرد کو ذاتی مفادات کو چھوڑکر قوم وملت کے لیے کام کرنا چاہیے۔لالچ، جھوٹ،حسد،کینہ وغیرہ سے خود کو پاک رکھنا چاہیے تبھی ایک مثالی معاشرے کا وجود عمل میں آسکتا ہے۔اس لیے اکبر جدید انگریزی تعلیم سے بھی معترض نظر آتے ہیںکیو نکہ مغربی فلسفے،مغربی شعرا اورمغربی تہذیب پڑھنے کے بعد ہندوستان کی قوم اپنے قدیم اثا ثے سے دور ہوگئی ہے:
باپ ماں سے شیخ سے اللہ سے کیا ان کو کام
ڈاکٹر جنوا گئے،تعلیم دی سرکار نے
انگریزی تعلیم نیہندوستانیوں کوانگریزوں کا ذ ہنی غلام بنا دیا۔یہ ایک خطرناک بیماری ثابت ہوئی ۔کیونکہ ہمیشہ حاکم قوم یہ چاہتی ہے کے محکوم قوم کا ذہن بدل دیا جائے۔انھیں اپنی روایات، نظریات اور تہذیب سے متنفر یا نا واقف کر دیا جائے۔عام طور پر طویل غلامی کے بعد یہ صورت حال پیدا ہو جاتی ہے جیسا کہ ہندوستان میں ہوا۔یہاں کی قوم جدیدانگریزی تعلیم حاصل کرنے اورانگریزوں کی تہذیب و ثقافت کی نقالی کر نے میں فخرمحسوس کرنے لگی۔اور قدیم تعلیم یافتہ لوگوں کو جاہل سمجھا جانے لگا اور ان کا مذاق اڑایاجاتا اپنے ابا و اجداد کی روایات سے بغاوت کی جاتی۔ اکبر انگریزوں کی اس سیاسی پالیسی کوبخوبی سمجھتے تھے۔ اپنی قوم کو اس پالیسی کا حصہ بنتے دیکھ کر ان کا دل افسردہ ہو جاتا ہے :
سینہ میرا ہے دل نہیں ہے میرا
میری نہیں بات گو زبان میری ہے
چند دیگر اشعار ملاحظہ ہو:
آپ اکبر لاکھ خوش کلامی کیجئے
کتنا ہی اظہار اعزاز دوامی کیجئے
دوستی کی آپ سے فرصت نہیں اس شوخ کو
یا کھسکئے سامنے سے یا غلامی کیجئے
اکبر کو اس بات کا اندازہ ہے کہ حا کم قوم محکوموں کے نفع یا ان کی اصلاح کے لیے کبھی کو ئی قدم نہیں اٹھاتی ہمیشہ حاکم قوم اپنی سلطنت کے مفاد ات کے لیے کو شاں رہتی ہے ۔چونکہ انگریزی حکومت کے نزدیک ہندوستانیوں کو جدید تعلیم دینے کا مقصد ان کے اجداد کے کارناموں سے غافل کرنا اور انھیں قوم یا جماعت کے بجائے انفرادیت پر زور دینا تھا۔ قوم کا صرف اپنی ذات کو بلندی پر لے جانے کی کو ششوں میں مشغول کرنا اور مفاد قوم کو پس ِپشت ڈال دینا ہی ان کے مقاصد میں شا مل تھا تا کہ یہ قوم دوبارہ ایک جٹ ہوکر بغاوت کا علم نہ بلند کر سکے۔اس پر اکبر اس انداز میں شعر کہتے ہیں ملاحظہ فر مائیں:
نقص تعلیم سے اب اس کی سمجھ ہی نہ رہی
دل تو بڑھ جا تا تھا اجداد کے افسانے سے
اکبر الہ آبادی کے نزدیک تعلیم ایسی ہو نی چا ہیے جو انسانوں کو تہذیب،دیانت اور شرافت سکھائے۔مگر ہندوستانیوں کو اپنی تہذیب و اقدار ،تاریخ ،مذہب سے بے اعتنائی بر تے دیکھ اکبر بہت دکھی ہو تے ہیں:
غزالی و رومی کا بھلا کون پڑھے گا
محفل میں چھڑا نغمہ اسپنسرو مل ہے
ایک شعر اور دیکھیں :
شیخ مر حوم کا قول اب مجھے یاد آتا ہے
دل بدل جا ئیں گے تعلیم بدل جانے سے
اکبر الہ آبادی نے اپنی شاعری میںان تمام برائیوں کا ذکر کیا ہے جو انگریزی دور حکومت نے لوگوں میں پیدا کیں ۔ کبھی کبھی ملک و قوم کو انحطا طی کی طرف بڑھتا دیکھ کر اکبر ما یوس بھی ہو جاتے ہیں اور انھیں ذرا بھی یہ امید نہ رہتی کہ قوم و ملت دوبارہ راہ راست پر آئے گی۔ان کا خیال تھا کہ حالات روز بروز خراب ترہو تے جائیں گے کیونکہ قوم کی پستی کے بعد یہ توقع کر نا فضول ہے کہ یہ دو بارہ تر قی کرے گی :
پستی قوم کے جب آگئے دن اے اکبر
اونچے درجوں میں ہوئے عقل کے دشمن پیدا
کسی حد تک اکبر کے یہ اندیشے درست بھی ثابت ہوئے کیونکہ مسلمان قوم ملک میں پھرسر ابھارنے کے قابل نہ رہی جیسا کہ ماضی میں مسلمان قوم کی شان و شوکت دنیا بھر میںرہی ہے۔ مگراپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے پھر وہ مقام حاصل نہ کر سکی۔ایک بہترین شاعر دور رس ہوتا ہے اوران تمام باتوں کو پہلے ہی محسوس کر لیتا ہے جو آگے پیش آنے والی ہوتی ہیں جیسا کہ اکبر کو احساس ہو گیا تھا۔اکبر مسلمان قوم کی ذہنیت کے علاوہ ہندو قوم کے ذہن سے بھی مکمل طور پر آشنا ہیں۔ہندؤوں کو مسلمانوں سے جو نفرت تھی اس کو وہ بخوبی سمجھتے ہیں۔ اورانگریزوں کے بعد ہندؤوں کا پورے ملک پر حکمرانی کر نے کا جو خواب تھا اس سے بھی اچھی طرح واقف ہیں۔مگر اس سب کے باوجود وہ انگریزوں کی خوشامد سے بہتر ہندو مسلم اتحاد کو سمجھتے ہیں:
حکم انگلش کا،ملک ہندو کا
اب خدا ہی ہے بھائی صلو کا
اکبر الہ آبادی مسلمان قوم کی نجات مذہب و اخلاق کی پاسداری میں مانتے ہیں ۔مگر اس کے لیے وہ ظاہری مذہب کو ناکافی سمجھتے ہیں بلکہ وہ عمل کے قائل ہیں یعنی عبادات کی پابندی ضروری سمجھتے ہیں۔نماز پڑھنے،روزہ رکھنے اور دوسرے دینی احکام پورے کرنے کے ساتھ ساتھ وہ حقوق العباد پر بھی زور دیتے ہیں:
اونچا نیت کا اپنی زینہ رکھنا
احباب سے صاف اپنا سینہ رکھنا
المختصر یہ کہ اکبر الہ آبادی نے بے شمار مو ضوعات کے ذریعے اپنے اصلاحی افکارونظریات ظا ہر کیے۔اگر چہ ان کے نظریات سے متعلق بہت سی غلط فہمیاں پھیلی ہوئی ہیں۔انھیں رجعت پسند،جدید نظریات اور جدید علوم کا دشمن،قدیم تہذیب و روایات کا دلدادہ اور جانے کیا کیا کہا گیا۔مگر اس سب کے باوجود یہ ایک مصلح قوم شاعر ہیں۔اور انھوں نے اپنی قوم و ملت کی اپنی شاعری کے ذریعے جو اصلاح کی وہ فراموش کرنے کے قابل نہیں ہے۔
ماخذ
۱۔ اردو شاعری پر ایک نظر،حصہ دوئم،کلیم الدین احمد،بک امپوریم،سبزی باغ ،
پٹنہ،۲۰۱۴
۲۔ اشعار اکبر،مر تب، سید حسن، کتاب منزل،سبزی باغ،پٹنہ
۳۔ اکبر الہ آبادی ایک سماجی و سیاسی مطالعہ،ڈاکٹر افصح ظفر،عر شیہ پبلی کیشنز،دہلی
۴۔ اکبر الہ آبادی تنقیدی و تحقیقی مطالعہ،خوا جہ محمد زکریا،سنگ میل پبلی کیشنز،
لا ہور،۲۰۰۳
۵۔ بزم اکبر،مولوی قمر الدین احمدبدایونی،انجمن تر قی اردو،(ہند) دہلی،۱۹۴۰
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

