تانیثیت کا تعارف ۔ عربی لفظ تانیث ،تانیثیت سے مشتق ہے.انگریزی متبادل ،feminism,لاطینی اصلاح Femina کا مترادف ہے جس کے معانی تحریک نسواں ،حقوق نسواں اور نسوانیت کے ہیں ابتدا 1871 میں فرنچ میڈیکل ٹیکسٹ میں لفظ Fiminista نسوانیت والے مردوں کے لیے استعمال کیا گیا تھا مغرب میں تحریک آزادی نسواں حامیوں کو بھی کہا گیا بعد میں باقاعدہ لفظ Feminism تحریک نسواں کی اصطلاح بن گیا اور حقوق نسواں آزادی نسواں یا ناری اندولن کے نام سے جانی جانےوالی تحریک کے بنیادی نظریات میں سیاسی ،سماجی،معاشی، معاشرتی ،تعلیمی،اخلاقی اور تہزیبی طور پر دونوں جنس کے لئے مساویانہ حقوق کے ہیں .بالخصوص نسانی حقوق سے جڑی تمام فکروں کا مرکب ہے. ظلم و استبداد سے آزاد زندگی فراہم کرنا انھیں انسان کی حیثیت دینا تاکہ سماج کو متحرک کر کہ ر شتوں کے درمیان امتیازات کو ختم کیا جا سکے حق تلفیاں اور ان پر ہونےوالے استحصال کے خلاف ایک مہیم چلاتی جائے . بین الاقوامی سطح پر سماجی و اقتصادی لائحہ عمل وجود ميں آئے نا روا سلوک ،جنسی جبر،دہشت غیر مساوی حقوق .فرسودہ خاندانی رشتوں کے علاوہ ،معاشرتی اقدار تک کی آگہئ پیدا کرنا تاکہ اجتماعی شعور پیدا ہو سکے. ووف کا خیال تھا کہ نسانی جدوجہد کا ایک مقصد مرانہ پن اور نسا ئیت کے زوجی تضادکو ڈی کنسٹرکٹ کیا جائے تاکہ عورت مرد کی طرح اپنی مرضی کے مطابق زندگى کے تمام فیصلے خود کرے. اس ضمن میں ابو الکلام قاسمی نے سیمون دی بوائے کی تصنیف ,The Second Sex میں مردوں کے اصول اور نفسیاتی فریم ورک کو اس طرح بیان کیا ہے.
"عورت پیدائشی طور پر ہمارے طے کردہ صفات کی حامل نہیں ہوتی ہیں بلکہ پدری معاشرہ میں وہ عورت بنا دی جاتی ہےاور رفتہ رفتہ وہ خود کو ان صفات سے متصف سمجھنے لگتی ہے جو مردوں کی طرف سے ان کے ساتھ وابستہ کر دی گئی ہیں”. سیمون نے خواتین کی ذہنی تربیت اس لیے کی ہے تاکہ وہ پدرانہ سماج کے خلاف مردوں کی تنک دہینت کو چیلنج کر سکے. اردو ادب ميں تانیثیت کی آواز بلند کرنے والی خواتین: اردو ادب میں تا نیثیت کی پہلی آواز رشید جہاں اور عصمت چغتائی سے ہوتی ہے جن کے موضوعات جزبات ،کیفیات،نفسیاتی ردعمل کے ہیں جو ایک وفادار بیو ی ،فرما روا بیٹی کسان و فردور خواتین کے مسائل لڑکیوں کی کم عمر ميں شادی ،جنسی استحصال کو موضوع بنایا ہے ہر رجحان عصمت چغتائی پر ہی نہیں ہوتا بلکہ قرت العین حیدر بشری رحمان جمیلہ ہاشمی جیلانی بانو جدید دور میں کشور ناہید ،فہمیدہ ریاض۔پروین شاکر،شہناز نبی، فاطمہ حسن نے اپنے فکشن میں خواتین کے مسائل کو موضوع بنایا ہے۔ اکیسویں صدی کی جن خواتین کے اپنے افسانوں میں تانیثیت کو موضوع بنایا ہے ان میں ایک نام ڈاکٹر حمیرا اشفاق کا بھی ہے۔ ڈاکٹر حمیرا اشفاق کا افسانہ "کتبوں کے درمیان” کا تانیثی مطالہ: کتبوں کے درمیان میں ڈاکٹر حمیرا اشفاق مرد حاوی معاشرے کو جس نے عورت کی شناخت کو ختم کر کہ ایک حاشے پر رکھا ہوا ہے . جہاں مردکے بغیر عورت کی اپنی کوئی شناخت نہیں ہے کو شد ید کا نشانہ بناتی ہیں ۔ ” خوف نے میرے اندر سناٹے کا بیج بو دیا تھا جس کا بوج اٹھانے میں اس شہر کی ویران گلیو ں میں پھر رہی تھی عجیب شہر تھا جس کی گلیوں اور گلیوں اور گھروں سے گھر جڑے ہوئے تھے دروازے پر مقفل اور زندگی موت پر نوحہ کتاں تھی گھروں پر نام کی تختیوں پر عورتوں کے نام درج تھے یہ بات مجھے حیرت میں ڈال رہی تھی کیونکہ عموماً گھر مرد کے نام سے جانا جاتا ہے. عورت تو بے شناخت پیدا ہوتی ہے.یہاں تک کہ وہ خود کو دوبارہ بھی جنم دے تو مرد کا نام اس کی پیشانی پر چپساں ہونا چاہیے.” ڈاکٹر حمیرا اشفاق نے اس معاشرے میں عورتوں کو بے نام کتبوں کی مانند قرار دیا ہے. جس کی اپنی کوئی حیثیت نہیں مرد کے بتائے ہوئے اصولوں پر چلتی ہے اور اگر کوئی اس سے بغاوت کر تو اس کو نشان عبرت بنا دیا جاتا ہے.
” آج اخبار میں چھپنے والی خبر نے مجھے اس کتبوں کے شہر میں لاکھڑا کیا تھا مقتولہ ثمینہ کی تصویر پہچانتی مشکل تھی مگر علاقے کا نام اور خبر کی تفصیل نے مجھے تمام واقعے کی جزبات سے آگاہ کر دیا وہ ثمینہ جس نے چادر اور چار دیواروں کی بھیک مانگنے سے انکار کر دیا تھا جس کی پیدائش میں جس ثمینہ آج کتبہ بن گئی تھی.”.
عورتوں کو غیرت کے نام پر قتل کر تے اور عورت کو بطو ٹیشو پیراستعمال کر کہ پھینک دیا جاتا ہے عورت کو باپ ،بھائی ،چچا جس کا دل چاہا قتل کر کہ پھینک دیتا ہے گویا ان کی نظر میں عورت کا کوئی وجود ہی نہیں. "اتنے میں دور سے زور زور کی رونے کی آواز بلند سے تر ہو رہی تھی گاوں کی ایک عورت دونوں ہاتھوں سے سر پیٹتی امی کی طرف بڑھی ظلم ہو گیا امام خاتون کو اس کے چچا نے قتل کر ڈالا.”.
اس وقت قتل کا لفظ پہلی مرتبہ میری سماعتوں سے ٹکرایا تھا سب اپنے آپ سے بے خبر. ٹو لیوں کی شکل میں لائینیں ہاتھوں میں اٹھائے ندی کے کنارے پر چل ریے تھے یوتھیو کو تھی کہ دور سے بلند ہوتی چیخ و پکار بہت سارے جنگلی بھڑیوں کی شکل میں ہمارے قریب آتی جا رہی تھی امام خاتون کی گردن ایک طرف ڈھلک گئی تھی اور گھنگرالے بالوں کا نقاب اس کے چہرے کو ڈھانپے ہوئے تھا میں اور امام خاتون کی بیٹی دونوں کچے صحن میں ایک کو نے میں بیٹھے ٹھکروں کے کنارے رگڑ رگڑ کر گول کر رہے تھے.
ڈاکٹر حمیرا اشفاق عورتوں کے حقوق کے لئے آواز بلند کرتی ہوئی دکھانی دیتی ہیں وہ خواتین کی صلاحیتوں کو نکھار نے اور جائزہ آزادنہ حقوق کی بحالی ہسانی خوشحالی اور ترقی کے مواقع کی فراہمی کو تمام شعبوں میں نسانی حقوق کی مساوات حاصل ہوں تاکہ انسانیت کی توہین نہ ہواس کے لیے کوشاں نظر آتی ہیں. ہمارے معاشرے میں جس نے سب سے زیادہ عورتوں کو تشددکا نشانہ بنایا ہے وہ وڈیرے اور جاگیر دار ہیں جو عورت کو محض ٹیشو پیپر کے طور پر استعمال کر کہ پھینک دیتے ہیں. کوشدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے.
‘‘ثمینہ نے ایک خط میں بتایا کہ ذینو سے ایک وڈیرے کے بیٹے نے زبردستی نکاح کر لیا وہ نکاح نہیں کتبہ کا جس پر اس نے اپنے ہاتھ سے انگوٹھے کا نشان لگایا تھا پھر کیا ہوا. وڈیرے کی بیٹی کی پاداش ميں سوکن آئی تو زنیوکو مجرم جان کر کم سے کم جو سزا تجو یز کی گئ تھی وہ موت تھی.”. عورتوں کو کبھی زمین کے بدلے قتل کردیا جاتا ہے تو کبھی کھبی جرگے ان کو ونی قرار دے دیتے ہیں وہ عورتون کے جینے مرنے کے فیصلے کرتے ہیں ان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے. ‘‘عورت کا خون بہا بھی اپسی فیصلوں میں طے ہوجاتا ہے کبھی زمین کے بدلے اور کبھی ایک اور معصوم کو ونی قرار دے کر،’’ ڈاکٹر حمیرا اشفاق اس معاشرے سے فرار چاہتی ہیں جہان بہن بیٹیوں کو ان کے جائز حقوق سے محروم رکھا جاتا ہے ان کو مٹی کی ڈھیری سمجھا جاتا ہے. اپ اپنے افسانوں میں عورتوں کے حقوق کے لیے نوحہ کناں ہیں. جہان عورتیں خریدی اور بیچی جاتی ہیں خواتین کو حوس کا نشانہ بنایا جاتا یے زنا بالجبر کیا جاتاہے اس کے لیے بد چلن اور رنڈی جیسے الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں وہ ان سب کا ذمہ دار مرد کو ٹھہراتی ہیں آپ عورت کو معاشرے میں با اختیار دیکھنا چاہتی ہیں.
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
بہترطالبعلمانہ کوشش ہے تاہم اسلوب عقیدت کے بجائے منطقی تقاضوں کا حامل ہونا چاہیے